اے پی ایس کے شہید بچے کی ماں کا احسان اللہ احسان کے نام خط

اے درندہ صفت! پیشگی میں، میری بے انتہا نفرت اور حقارت قبول ہو! ساتھ ایک دعا بھی ہے کہ آپ کا بچہ سلامت ہو۔ میں ایک ماں کے ناتے اس کے سینے میں لگی سنگین نہیں دیکھ سکتی، ایک ماں ہوں اس پھٹے چہرے کے چیتھڑے نہیں دیکھ سکتی، میں ماں ہوں۔ کسی بچے کی کٹی گردن کی صراحی سے چھلکتا خون نہیں دیکھ سکتی، نہیں سوچ سکتی کی کبھی اس کا کلیجا گولیاں چیر دیں اور اس کی آخری

Read more

لکھنے والی کا آخری سفر

کسی نے کہا تھا کہ ”ایک افسانہ نگار اپنے قارئین کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائے تو وہ بہترین افسانہ نگار کہلانے کا حقدار ہوتا ہے“ ۔ مگر وہ تو چھوٹی چھوٹی حقیقتوں پر کہانیاں لکھتی تھی اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ قاری کیا سوچے گا؟ اس کی اپنی منطق اور فلسفہ تھا وہ اپنی کہانیوں کا اپنی مرضی سے اختتا م کرتی تھی۔ پچھلی دہائیوں میں اکثر افسانوں کی آخری لائنیں یا انجام

Read more

بچہ گود لینا – پاکستانی تناظر میں 

پہلے حصے میں بچہ گود لینے کی بات مغربی ملکوں کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کی تھی۔ اب کچھ بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچہ گود لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں مغربی طریقے پر بچہ گود لیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اسی لیئے اس پر قانون سازی بھی نہیں ہوئی۔ کسی لاوارث بچے کا سر پرست تو بنا جا سکتا لیکن بچے کو اپنی اولاد نہیں بنا سکتے۔ 1989 میں

Read more

نرگس بیمار کا احوال اور رشک پری پیش چشم کی حکایت

(برادر محترم محمد اقبال دیوان پار سال اپنے ایک قریبی عزیز کی تیمارداری کے ضمن میں تین ماہ امریکہ میں مقیم رہے۔ ہر چند کہ وجہ سفر اضطراب اور تشویش سے عبارت تھی، دیوان صاحب کے مشاہدات امید اور انسانی ہمدردی کا ایک حوصلہ افزا باب معلوم ہوئے۔ طے پایا کہ ہم سب کے پڑھنے والوں کو اس دنیا کے کچھ قصے سنائے جائیں اور جہاں ممکن ہو، لفظ کے نقش کو تصویر کی مدد سے مزید گہرائی دی جائے۔

Read more

ادب اور معاشرہ

ادب ہمیشہ سے ہی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ پڑھے لکھے ان پڑھ سب کی زندگی کا، یہ بڑے بوڑھوں کی کہانیاں ہوں، شعرا کی شاعری ہو، ناول نگار کی داستان ہو، مضمون نگار کا مضمون ہو، پردے کے پیچھے کا اسٹیج ہو، پردہ سکرین ہو، یا پھر آج کا میڈیا، ہر حال میں معاشرہ کا خیال ساز و کردار ساز رہا ہے۔ اپنی کردارنگاری، رومانویت، مکالمہ بازی اور باقی ادبی لوازمات کے ساتھ یہ اپنے پڑھنے

Read more

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح قتل یا طبعی موت؟

”وہ اپنے عظیم بھائی کی ہو بہو تصویر تھیں۔ بلند و بالا قد، بہتر برس کی عمر میں بھی کشیدہ قامت، گلابی چہرہ، ستواں ناک، آنکھوں میں بلا کی چمک، ہر چیز کو ٹٹولتی ہوئی نظر، سفید بال، ماتھے پر جھریوں کی چنٹ، آواز میں جلال و جمال، چال میں کمال، مزاج میں بڑے آدمیوں سا جلال، سرتاپا استقلال، رفتار میں سطوت، کردار میں عظمت، قائداعظم کی شخصیت کا آئینہ، صبا اور سنبل کی طرح نرم، رعد کی طرح گرم،

Read more

محمد حنیف اور پرویز ہودبھائی پر غداری کا الزام لگانے والے صحافی کا اپنا کردار

1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام کے ساتھ ملک کی اہم اپوزیشن سیاسی قوتیں ’پاکستان نیشنل الائنس‘ (پی این اے ) کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دے کر مشترکہ پلیٹ فارم سے ”اینٹی بھٹو موومنٹ“ کا آغاز کر چکی تھیں جو دراصل یک نکاتی ایجنڈے پر امریکی سی آئی اے سپانسرڈ تحریک تھی، جس کا واحد مقصد ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہ ہونے کی امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار پر پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم

Read more

ایلف شفق کا ناول: دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں

ایلف شفق ؔ ایک ایوارڈ یافتہ برٹش ٹرکش ناولسٹ ہیں اور ترکی میں سب زیادہ پڑھے جانے والی خاتون لکھاری ہیں ان کا کام پچاس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ایلف ؔ کا ناول، ’‘ دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں ”، ایک حیرت انگیز ناول ہے۔ اس کی قرات کے بعد آپ خود کو مجبور پاتے ہیں کہ اس پہ بات کی جائے۔ یہ ناول سن دو ہزار انیس عیسوی کے بکر پرائز کے لئے شارٹ

Read more

لاہور گرامر کی بچیاں اور مجید امجد کی نظم

”سنو! یہ جو ہم نے Straight As والی لڑکیاں اپنے سکول کے A لیول میں لی ہیں یہ تو ہمارے سکول کا نام روشن کریں گی اور یہ جو درمیانے قسم کے رزلٹ لے کر لڑکیاں آئی ہیں یہ بھی ٹھیک ہیں۔ اب آتے ہیں تیسرے نمبر کی ان لڑکیوں پہ جو C، D، Eگریڈ لے کر آئی ہیں اور ان کو پڑھنے سے کوئی خاص شغف نہیں۔ ان کی فیسوں سے ہمارے سٹاف کی تنخواہیں نکلتی ہیں۔ لہٰذا وہ

Read more

مادر ملت یا غدار وطن؟

نو جولائی کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے شہریوں نے مادر ملت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مگر میں ایک اضطراب کی حالت میں تھا کہ میں فاطمہ جناح کو کیا مانوں مادر ملت یا ایک سنگین غدار۔ آپ یہ حملہ پڑھ کر چونک گئے ہوں گے اور میرے بارے میں ایک رائے اپنے ذہن میں ضرور قائم کریں گے کہ کس قسم کا شخص ہے یہ۔ مادر

Read more

داستان گوئی خیال یا حقیقت

داستان گوئی ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو اردو ادب میں رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ناپید ہو چکی ہے وجہ یہ بتائٰ جاتی ہے کہ چوں کہ یہ دور حقیقت پسندی کا دور ہے لہذا اایسی چیزیں بے کا ر تضیح اوقات ہیں یعنی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایسی باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں آئیے دیکھتے ہیں کہ داستان گوئی ہے کیا۔ داستان گوئی دراصل قدیم ہندوستانی فن

Read more

ہمارا بنیادی سیاسی مسئلہ: ’’کوئز لنگ لیگ‘‘

2020ء کے پانچ جولائی نے پھر وہی سوال دہرایا ہے۔ کیا سیاستدانوں کی نا اہلی کے باعث وردی والے آتے ہیں یا پھر وردی والوں کی نا اہلی کے باعث اہل سیاست کو موقع مل جاتا ہے۔ 1950ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی امریکی سفارتخانہ کی خفیہ خط و کتابت ایوب خاں کی اقتدار کی شدید خواہش ظاہر کرتی ہے۔ ایک موقع پر وہ امریکی سفیر سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم اس ملک کو سیاستدانوں کے

Read more

پینشن ہولڈر بزرگ اور قومی بچت سکیموں کے دفاتر کے باہر کھڑے خزانے

یہ شدید گرمی کی دوپہر تھی۔ فیروز پور روڈ پہ ٹریفک نے اسے اور گرم بنا رکھا تھا۔ ابھی تک ہم سگنل فری ٹریفک کو ’فری، ہی لے رہے ہیں اتنی معصوم قوم ہیں۔ ہم اپنے کسی کام سے جا رہے تھے کہ اچانک بزرگ خواتین و حضرات کا ایک گروہ گرمی اور عمر سے جھگڑتا ہوا دکھائی دیا۔ کوئی حکومت کو گالیاں بک رہا تھا۔ کوئی کرونا کو کوس رہا تھا، کوئی دفتر کے عملے پہ اپنا غصہ نچھاور کر رہا تھا۔ کوئی معمر خاتون ایک گارڈ سے لڑ رہی تھی کہ بھئی میں صبح گیارہ بجے سے آئی ہوئی ہوں ۔ اور میرے بعد آنے والوں کو تم اندر بھیج دیتے ہو۔ کوئی آس پاس کی دکانوں سے کر سیاں مانگ تانگ کر اپنے بزرگوں کو رتی بھر چھاؤں میں بیٹھا رہا تھا اور خود جلتی دھوپ میں کھڑا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا۔ کوئی اپنی ماں کو سہارے سے لا رہا ہے۔ جو چل بھی نہیں سکتی تو کوئی میم صاب اپنا نام لکھوا کر اپنی گاڑی میں جا بیٹھتی ہے۔ اور اے سی آن کر لیتی ہے۔

Read more

ایک گھریلو سا خراج عقیدت اور ایک گھریلو سی نصیحت

لائلپور سے ایک بزرگ ریٹائرڈ سکول ٹیچر حلیمہ صاحبہ کی ای میل آئی کہ ”آپ سماجی اور خاندانی رویوں پر زیادہ بات کیا کریں کہ آپ جیسی، انسان پرست اور وسیع سوچ کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے، اور معاشرے کی بنیاد تب ہی اچھی پڑے گی جب اچھے خاندان بنیں گے۔ ۔ ۔“

میں کچھ اور لکھ رہی تھی، ان کا حکم سر آنکھوں پر رکھا (ایک ان کی بزرگی، دوسرا میری جنم بھومی کا حوالہ اور ”کچھ اور“ کے ساتھ وہ سب بھی لکھنے کی کوشش کی جن کی ان خاتون نے فرمائش کی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے ”کچھ اور“ پڑھ لیں!

Read more

کھٹا میٹھا

چھوٹا بھائی علی احمد سرگودھا شہر میں ایک بجلی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ایک اور پارٹنر (چاچا حفیظ) کام کرتا ہے۔ چاچے حفیظ کی ماں بہن چاہے ایک کر دو چاہے الگ الگ کر دو وہ غصہ نہیں کرتا۔ لیکن اگر کسی نے شریف خاندان کی شان میں ذرا بھی گستاخی کی چاچے حفیظ نے اسے نہیں چھوڑنا۔ شریف خاندان کے خلاف کوئی بات کرنے سے چاچا حفیظ ایسے غصے میں آتا ہے جیسے ملک میں کوئی اونچ نیچ ہونے سے بابا رحمتا ایکشن میں آتا تھا۔

افسوس کہ شریف خاندان کو اتنے چاہنے والے لوگ ملے مگر شریف خاندان نے انہیں ایسے لوٹا جیسے کسی کی عزت لوٹی جاتی ہے۔ خیر بات یہ ہے کہ چاچے حفیظ کا بہنوئی فوت ہو گیا اور وہ چھٹی پر چلا گیا۔ اب اس کی جگہ پے علی بھائی نے مجھے کام پہ گھسیٹ لیا۔ اور وہاں پہ ہاتھ ایسے چلانا پڑتا تھا جیسے کچھ لوگوں کی زبان چلتی ہے۔ یعنی بغیر رکے۔ سب سے اہم بات جس نے مجھے پریشان کیا وہ یہ تھی کہ ہمیں سارا دن ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر کام کرنا پڑتا تھا۔ جس طرح تلوک چند محروم نے ملکہ نور جہاں کے مزار کے متعلق تھا کہ

Read more

چند کنجوس لوگوں کے قصے

ہم کنجوس کسے کہتے ہیں؟ کوئی ایسا شخص جو اپنی اشیا (مال و دولت، چیزیں ) خرچ نہ کرتا ہو۔ مگر کنجوسوں کی بڑی اقسام ہیں، بعض کنجوس ایسے ہیں جو اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں لیکن کسی اور پر خرچ نہیں کرتے۔ کچھ ایسے ہیں جو اپنی ذات پر بھی ایک پائی خرچ نہیں کرتے۔ کنجوسی کی بڑی شکلیں اور بڑے درجات ہیں۔ اس بارے میں کچھ حیرت انگیز مشاہدات قارئین کی پیش خدمت ہیں۔

2015 کے وسط کی بات ہے۔ جامعہ کراچی میں سیمسٹر امتحانات جاری تھے۔ شعبہ نفسیات کی ایک لکچرار صاحبہ اپنے دفتر میں بیٹھی دوپہر کا انتظار کر رہی تھیں۔ دو بجے ان کو امتحان لینا تھا۔ پوری جامعہ خالی تھی۔ ایسے میں ایک سینئر اسسٹنٹ پروفیسر وہاں آئیں ان کے لیکچرار صاحبہ سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ انہوں تجویز دی کہ ”ابھی تو دو بجنے میں کافی دیر ہے، تم میرے ساتھ میرے گھر چلو میں تو یونیورسٹی کے اندر کالونی میں ہی رہتی ہوں۔ وہاں گپ شپ ہو جائے گی۔ دو بجے مجھے بھی پیپر لینے آنا ہے میں تم کو اپنے ساتھ گاڑی پر ہی لے آؤں گی۔“

Read more

مار، عورت کا اصل زیور؟

ہمارے ہاں سونے کی قیمت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے چو نکہ مرد حضرات اپنی خواتین کو سونے سے سجا تو نہیں سکتے، اس لئے وہ ان کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے جسم، چہروں پر نیل کے نشانات سے دن بدن ان کو سجا لیتے ہیں۔ حق ہے بھئی مرد کا کہ وہ جیسے چاہے جس طرح چاہے اپنے گھر میں رہنے والی عورت کی خدمت سیوا کر سکتا ہے۔ کیو نکہ وہ ہی تو عورت کا اصل محافظ ہو تا ہے اور محافظ بہتر طریقے سے جانتا ہے کہ اسے اپنی چار دیواری میں رہنے والی عورت کو کیسے اس کی اصل ”جگہ“ پر رکھنا ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک صاحب اپنی گھر والی کو بہت مارتے تھے اتنا تشدد کرتے تھے کہ گھر والی بے چاری مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جایا کر تی تھی۔ تب صاحب بہادر کو اپنی گھر والی پر ترس آ تا تھا اور وہ ان کی جان بخشی کر دیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی میرے ساتھ میری کلاس میں پڑھتی تھی تو جس دن اس کی ماں کو مار پڑتی تھی وہ بچی دوسرے دن کلاس میں سارا دن مسکراتے ہوئے رہتی تھی۔ مجھے اس کے رویے پر بڑی حیرت ہو تی تھی کہ ماں کو کل ہی اتنی مار پڑی ہے اور آج اس کی بیٹی خوش ہو رہی ہے۔

Read more

صدف زہرہ گھر بچانے کی کوشش میں موت کے گھاٹ اتر گئی

عورت مارچ، عورت مارچ، ان عورتوں کو کیا خبر مسائل کی۔ بس آزادی چاہیے، گھروں سے نکلنے کی، گھر میں کوئی ٹوکے نہ روکے، بس اپنی من مانیاں کرتی رہیں۔

صحیح تو کہتے ہیں لوگ، صدف نے بھی تو من مانی ہی کی۔ ایسے شوہر کو ایک آخری موقع دینے کی من مانی، جس کے بارے میں اسے سب خبر تھی۔ آئے روز گالیوں لاتوں مکوں سے تواضع ہونے سے لے کر، اس کے گھناؤنے کردار تک، خواتین کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بیٹی کا باپ ہوتے ہوئے بھی غیر خواتین سے تعلقات تک، صدف کو سب خبر تھی۔ ماں نے روکا، اب مت جاؤ، یہ شخص نہیں سدھرے گا۔ بہن نے بھی سمجھایا، لیکن اسے تو دھن سوار تھی، ماں کو جواب دیا، اماں آخری چانس دینے میں حرج نہیں اس نے عدہ کیا ہے اب وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا، بیٹی کی ماں ہوں، کل کو کوئی میری بیٹی کو طعنہ نہ دے کہ ماں کو طلاق لینے کا بڑا شوق تھا۔

Read more

صدف زہرہ: چلو ایک قصہ اور تمام ہوا

وہ مرد ہے اس کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ تم کہاں جاؤگی سوچا ہے؟
اس کو وقت دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آج کل تو کنواری لڑکیوں کو کوئی نہیں پوچھتا تم طلاق لوگی؟
ہنسی خوشی آتی ہو تو آؤ ورنہ مت آؤ۔
ہمارے خاندان میں بیٹیوں کے جنازے بھی میکے سے نہیں اٹھتے ہیں۔
سر کا سائیں تو سلامت ہے بس کافی ہے۔

Read more

شہر بانو اور شہر زاد!

اماں کا ڈنڈا سر پہ تھا اور بیٹی کی دہائیاں! کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان دو محبت کرنے والیوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرمئی شام کا جھٹپٹا رات کی تاریکی میں ضم ہونے کو ہے، تبھی تو کہانیوں کی پٹاری سے کوئی دھیرے دھیرے سر اٹھا رہا ہے۔ وہ سب شامیں یاد آنے لگی ہیں جب ملتان کی فورٹ کالونی میں پانچ چھ سالہ ماہم گلی میں

Read more

سوشل میڈیا کا طوفان اور شہرت یافتہ تعلیمی ادارے

سوشل میڈیا کے جتنے بھی پلیٹ فارمز ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق بھی وضع ہے یا نہیں۔ ہاں البتہ سائبر کرائمز کے لیے ضرور کچھ سزائیں ہیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ دور جدید کی یہ سوغاتیں ہمیں ویسٹ سے ملی ہیں۔ ان کے ساتھ جو اچھائیاں اور غلاظتیں لپٹی ہوئی ہیں وہ ویسٹ کی لیے تو قابل قبول ہیں کیونکہ یہ ان کی چیزیں ہیں۔ ان کے ہاں کے کھلے ڈلے معاملات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ بڑے رجے پجے سے لوگ ہیں۔ خود کو اپنے حالات اور ماحول کے مطابق چوڑا کرنے اور تنگ کرنے کا شعوری ادراک رکھتے ہیں۔

Read more

منو بھائی اور دیگر ماؤں کے بارے میں

جن بلاؤں کو میر سنتے تھے، ان کو اس روزگار میں دیکھا۔ وبا کاہے کی ہے، فلک کو ہمارے ہاتھ کاٹنے کا بہانہ منظور تھا۔ اگتے تھے جس میں شعر، وہ کھیتی اجڑ گئی۔ جن بستیوں سے ہواؤں کے دوش پر سُروں کے جھونکے موصول ہوتے تھے، جہاں خوشبو کا ڈیرا تھا، جہاں ہم دلی کے چھتنار پیڑوں کی سہایتا تھی، وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں۔ باہر گلی میں بے بسی کی لو کے تھپیڑے ہیں، پچھلے موسم

Read more

بیٹی کی شادی اور ٹوٹی ہوئی چھت

ساجدہ کا شوہر جو کہ ایک دیہاڑی دار مزدور تھا شادی کے تقریباً بیس سال بعد ہی کام کے دوران ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ چار بیٹیوں کی ماں ہونے کے ناتے ساجدہ پر ذمہ داری بھی سخت تھی اور آزمائش بھی کڑی۔ مگر اس امتحان کی گھڑی میں بھی مضبوط اعصاب کی عورت نے ہمت نہ ہاری۔ گھروں میں برتن مانجھ کر تو کبھی کپڑوں کی سلائی کا کام کر کے جو بھی ہو سکا کیا۔ باپ کا سایہ اٹھنے کے بعد انہیں ممتا کی چھاؤں میں پالتی رہی۔

اب بیٹیوں کا قد گھر کی دیوار سے اونچا دکھائی دینے لگا۔ ساجدہ کو ان کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ایک دن وہ چارپائی پر لیٹی اسی فکر میں چھت پہ ٹکٹکی باندھے سوچ رہی تھی کہ اس کی بڑی بیٹی زینت نے کہا ”اماں چھت کی دراڑ میں کیا تلاش کر رہی ہے“ ۔

Read more

محترمہ بے نظیر بھٹو بنام میاں نواز شریف

میاں صاحب۔
امید ہے آپ کے مزاج اچھے ہوں گے اور طبیعت پہلے سے بہتر ہوگی۔ میرے علم میں ہے کہ کیسے آپ کو ایک بار پھر مقدمات میں گھیر لیا اور سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا۔ جس کے دوران بیگم کلثوم کی علالت اور اسی حالت میں ان کی وفات کا ایک گہرا صدمہ آپ کی زندگی کو متاثر کر گیا۔ میں سمجھ سکتی ہوں یہ بہت دکھ اور تکلیف کی گھڑی ہوتی ہے، آپ اپنی شریک حیات کے پاس نہیں تھے، کیسے آپ کو اجازت دی گئی اور میں اندازہ لگا سکتی ہوں، یہ بھی سیاستدانوں کو پہنچائی جانے والی اذیت کی ایک شکل ہے، جس میں اپنوں کی بیماری اور دنیا سے رخصت جیسے المناک مواقع پر دور رکھا جائے۔

Read more

ہیروشیما: اس دشت میں اک شہر تھا

ہیروشیما بہت خوبصورت شہر ہے۔ عمارتیں شاندار اور سڑکیں جاپانیوں کے دل کی طرح کشادہ ہیں۔ شہر دریائے اوتا کے ڈیلٹا میں واقع ہے جس سے سات شاخیں نکلتی ہیں جو اس شہر کے اندر سے گزرتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے چھ جزیرے بناتی ہوئی اور ان جزیروں پر ہیروشیما کا شہر آباد ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کی وجہ سے اس شہر کو بے شمار پلوں کے ساتھ آپس میں ملایا گیا ہے۔ سات دریاؤں اور چھ جزیروں پر مشتمل

Read more

عورت اور تشدد

دوستوں کے ہمراہ چائے کی نشست پر دوران گفتگو بات نکل پڑی کہ کیا ابھی بھی ہمارے علاقے (جنوبی پنجاب) میں مرد حضرات اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں؟ اسی روز رات کو والدہ محترمہ کو بات کرتے سنا کہ کسی دور کے رشتہ دار نے اپنی بیوی کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا کہ وہ تین دن تک آنکھوں پر سوجن باعث دیکھ نہ سکی۔ والدہ کی بات سنتے ہی نگاہیں اپنی بہنوں پر مرکوز ہو گئیں اور بے شمار خدشات دماغ میں رقص کرنے لگے۔ جنوبی پنجاب ہی کیوں، پورے پنجاب بلکہ پاکستانی سماج کے مختلف حصوں اور علاقوں میں ظلم و ستم کی یہ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ ظالمانہ نظام کے ہاتھوں بے بس ہو جانے والا مرد جب ہر جگہ اپنی طاقت کو کمزور اور خود کو لاچار پاتا ہے تو اپنی بے بسی دور کرنے خاطر تمام تر مردانگی بیوی پر ہاتھ اٹھانے میں صرف کرتا ہے۔

Read more

بچہ گود لینا

بے اولاد جوڑے اگر شدید تمنا رکھتے ہوئے بھی اولاد سے محروم ہوں اور سارے علاج، دعایں اور ٹوٹکے بے کار ہو چکے ہوں وقت کی ٹک ٹک آگے ہی بڑھتی جائے تو یہ ایک گہرا دکھ ہے۔ ایسے میں کوئی بچہ گود لینے کا خیال آتا ہے۔ لیکن کیا بچہ گود لینا ایک آسان سا کام ہے؟ والدین نے پیپر سائن کیے، چند ماہ انتظار کیا اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ ان کی گود میں آ گیا۔ سونا آنگن

Read more

مردہ بیٹی سے طلاق یافتہ بیٹی بہتر ہے

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم پدرسری معاشرے کے باسی ہیں۔ یہاں پہ مردوں کی جانب سے عورتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان کے غیرت کے نام پہ قتل، کاری اور ونی جیسی رسمیں اور صرف روٹی گول نہ پکا سکنے پہ قتل جیسی حرکتیں عام ہیں۔ عورتوں کی جانب سے مردوں کے ساتھ ان سب واقعات میں سے سوائے قتل کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بھی بہت کم سنا ہو گا۔ آج تک نہ سنا نہ پڑھا کہ کسی مرد کا قتل غیرت کے نام پہ ہوا ہو۔ جائیداد بچانے کے لیے کسی مرد کی شادی خاندان کی کسی بچی، کسی بزرگ عورت حتی کہ قرآن تک سے کی گئی ہو۔

Read more

’میں سب سے بڑے ایڈونچر کے لیے تیار ہوں‘ – مستنصر حسین تارڑ کا انٹرویو

کچھ خواتین و حضرات چہل قدمی کر رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے اور کچھ موٹی توندوں والے بابو ٹائپ حضرات وہاں لگے بینچوں پر سویرے سویرے ملکی سیاست پر تبصرے کرنے میں مصروف تھے۔

لیکن ماڈل ٹاؤن پارک کے اس جاگنگ ٹریک پر ہماری نظریں صرف مستنصر حسین تارڑ صاحب کو تلاش کر رہی تھیں، سچ پوچھیے تو میں اپنے بچپن کے ’چاچا جی‘ کی تلاش میں تھا، جن کی آواز کے ساتھ ہماری صبح ہوتی تھی۔

آنکھوں کی چمک آج بھی ویسی ہی تھی، جیسی پچیس برس پہلے ہوا کرتی تھی، لیکن بڑھاپے کی چار دیواری میں گھری ان آنکھوں میں ہلکی سرخ ڈوریاں ماضی کی ان گنت جاگتی راتوں کا پتا دے رہی تھیں۔ ’پانامہ ہیٹ‘ کے نیچے سے سفید بال چمک رہے تھے، نیلے ٹراؤزر کے اوپر کیسری رنگ کی فلیس کی شرٹ، اپر نارتھ فیس کا تھا، پاؤں میں جاگنگ شوز اور گلے میں سرمئی رنگ کا مفلر۔

Read more

فاطمہ جناح کا یومِ وفات: پاکستانیوں کا ’مادرِ ملت‘ کو سوشل میڈیا پر خراج تحسین

صبح سے ہی #FatimaJinnah پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے اور اس اگر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کی گئی ٹویٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر صارفین اپنی ’مادرِ ملت‘ کو سابق فوجی آمر اور صدر جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے اور ان کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے یاد کررہے تھے۔

Read more

ویلڈن۔ ۔ ۔ گیریزن یونیورسٹی

پچھلے کئی مہینوں سے اس عالمی وبا کورونا کی وجہ سے سب کچھ ٹھپ پڑا ہے، کاروبار زندگی مفلوج ہے، طویل لاک ڈاؤن اور پھر سمارٹ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے عوام گھروں تک محدود ہیں، لمبے عرصے تک سڑکیں سنسان، پارکس ویران، گلیاں خالی دیکھنے کو ملیں۔ ملکی معیشت شدید نقصان کی زد میں اور روزگار نہ ہونے کے برابر، اس تمام منظرنامہ میں تعلیم کے شعبہ کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، چاہے وہ معاشی نقصان

Read more

میرا بیٹا آیان پاکستان میں آرٹسٹ ڈھونڈ رہا ہے

میرا بیٹا آیان کلاس تھری میں پڑھتا ہے۔ آرٹ اور میوزک کا شوق اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ آواز بھی سریلی پائی ہے اور رنگوں میں زندگی بھر دینے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ مجھے اس کے ان دونوں مشاغل کا صحیح علم لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز میں ہوا۔ جب اس کو میں نے میوزک کلاسز میں گاتے اور آرٹ کلاس میں خوبصورت تصاویر بناتے دیکھا۔ گزشتہ روز کینوس پر رنگ بکھیرتے ہوئے اچانک

Read more

لاک ڈاؤن اور یوتھ کے مسئلے

لاک ڈاؤن، قرنطینہ اور کو وڈ۔ 19 جیسے کئی اور الفاظ شاید ہی ہماری نسل نے کبھی سنے ہوں۔ ان تین الفاظ کے بارے میں میں نے بچوں کو ان کے بڑوں سے پوچھتے سنا اور اسی دوران ان بڑوں کے منہ پر آنے والے سوالیہ نشان جیسے ایک تاثر کو میں نے دیکھا۔ ہوا میں پھیلے ہوئے ایک سنگین ڈر کو میں نے روز اپنے جسم کو چھوتے ہوئے بھی دیکھا۔ بہت سے لوگوں کو ان الفاظ کی حقیقت

Read more

کورونا وائرس: حاملہ یا ماں بننے والی خواتین پلازما کیوں عطیہ نہیں کر سکتیں؟

ماہرین کے مطابق حاملہ یا ماں بن چکی خواتین کے پلازما میں ایسی مخصوص اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو کورونا کے مریضوں کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر ان کے سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتی ہیں۔

Read more

عبدالستار ایدھی اور کراچی کے ایک ’لاوارث بچے‘ کی کہانی جو اب خود چار بچیوں کا باپ ہے

معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی آج چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ ایدھی سینٹر کراچی میں پل کر جوان ہونے والے بدر نامی نوجوان آج خود چار بچوں کے باپ ہیں مگر ایدھی صاحب کی یاد آج بھی ان کے دل میں سمائی ہے۔

Read more

یادیں سفر حجاز کی (آخری قسط)

جتنے دن مکہ معظمہ میں گزرے، کم و بیش روزانہ حطیم میں داخلے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ کے فضل سے میں گھنٹوں اس مقام مقدس میں بیٹھی رہتی۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حطیم بیت اللہ کا جزو ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے گزارش کی کہ میں بھی کعبہ میں داخل ہونا چاہتی ہوں۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ حجر (حطیم ) میں داخل ہو جاو، یہ بیت اللہ ہی

Read more

عورت جذباتی طور پر مرد سے زیادہ طاقتور ہے

گزشتہ دنوں ڈاکٹر سارہ نقوی کا مضمون پڑھا اور پھر اسی موضوع پر ڈاکٹر سہیل کے ایک مضمون میں بھی اظہار خیال کیا گیا کہ خواتین جذباتی طور پر مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سارہ نقوی نے خواتین کی بے چارگی اور بے بسی پر کافی سیر حاصل گفتگو کی اور بتایا کہ معاشرتی تار و پود میں خواتین کو کیا درجہ حاصل ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ دونوں مضامین پڑھ کر اس بات پر خوشی ہوئی کہ

Read more

حیرتوں کو للکارنا ضروری ہے

نوبل انعام یافتہ ترک مصنف اورہان پاموک کی ایک کتاب ہے، اے سٹرینگنس ان مائی مائنڈ۔ اکثر ہمارے دماغ میں ایک اجنبی ہوتا ہے، جس سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ جو شرارتیں کرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ اتنا مختلف ہوتا ہے کہ دماغ میں رہنے کے باوجود ہم اس کی شناخت نہیں کر پاتے۔ ’برف‘ ، ’میرا نام ہے کہ سرخ‘ اور ’دی بلیک بک‘ جیسی کتابوں کا مصنف بار بار

Read more

لٹکتا انصاف اور ام رباب کی پروان چڑھتی سیاست

اپنے خلاف ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف الم بلند کرنا انصاف کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا زیادتی کرنے والے حق دبانے والے قتل کرنے والے ہاتھوں کو اپنے حوصلے اور ہمت سے زنجیروں میں جکڑ کر کیفر کردار تک پہچانا بے شک جہاد کی افضل ترین قسم ہے۔

جب کوئی غاصب و جابر کسی کمزور و ناتواں پر اپنی طاقت و حاکمیت کا مظاہرہ کرنے کے لئے خون کی ہولی کھیلتا ہے تو اس ماں جیسی ریاست کا اولین فرض بن جاتا ہے کہ ان سرکش سپوتوں کو ایسا سبق سکھائے کے وہ ہاتھ پھر کبھی کسی مظلوم کے کمزور جسم پر نہ پڑیں، لیکن کبھی مظلوم کی جدوجہد انصاف کے حصول میں چھپ کر ذاتی مفاد بن جاتی ہے جس میں پیسہ شہرت سیاست یا دوسرا کوئی مقصد شامل ہوجاتا ہے اور پھر مظلومیت بھی کیش ہونے لگتی ہے۔ آہ و پکار آنسوؤں میں ڈوبی سرخ آنکھیں سب بناوٹی بن جاتی ہیں۔ ایسے میں دھرتی ماں بھی مظلوم کی کہانی میں چھپے تہہ در تہہ جھوٹ اور مکر کو پہچان نہیں پاتی اور دھوکہ کھا جاتی ہے۔

Read more

بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر

سات مارچ 1975 بروز جمعہ کی شام مرنے والی میری دادی غلام فاطمہ کشمیر کے کسی نامعلوم قصبے سے آنے والی یتیم بچی تھی جو لدھیانہ میں دادا کی موجودگی میں باپ کی موت کے باعث جائیداد سے محروم ہونے والے یتیم و یسیر پنجابی راجپوت محمد علی خان سے 1911 میں بیاہی گئی۔ مجھے تفصیل ٹھیک سے معلوم نہیں کہ سفید پوش گھرانوں میں ماضی چھپانے کی ثقافت ہوتی ہے۔ غربت، ذلت اور بے بسی کے سلسلہ وار المیے

Read more

سلطانہ ڈاکو اور برصغیر کے چند مشہور ’لٹیروں‘ کی داستانِ حیات

سلطانہ ہر ڈاکے کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط کے ساتھ کرتا اور ہمیشہ کامیاب لوٹتا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے نڈر طریقے سے ڈاکہ ڈالتا تھا۔ وہ خون بہانے سے حتیٰ المقدور گریز کرتا لیکن اگر کوئی شکار مزاحمت کرتا تو وہ ان کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔

Read more

معاف کیجیے گا میں ایک انسان ہوں

دیکھیں جی بات سیدھی سی ہے ریاست کے کہنے پر آپ نے جو خواب دیکھ رکھے ہیں وہ میں نہیں دیکھتا۔ آپ شاید پورا برصغیر فتح کرنے کے چکر ہوں لیکن میں نہیں ہوں اور ہو سکتا ہے آپ اس یقین کامل سے ہوں کہ صبح کا ناشتہ ممبئی، دہلی یا پھر امرتسر میں کریں گے اور فلمی اداکاروں کے ساتھ سیلفیاں لے گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں میں ایسا سوچتا بھی نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ سمجھتے ہوں کہ دنیا آپ کی جاسوسی کر رہی ہے جب کہ آپ کی جیب میں ایک دھیلا تک نہیں اور میرا ماننا ہے دنیا اتنی فارغ نہیں ہے۔

آپ اپنے مذہب کو برتر سمجھتے ہوں گے اور چاہتے ہوں گے کہ دوسرے اس مذہب کو تسلیم کر لیں یا پھر آپ اپنا مذہب کسی پر زبردستی مسلط کرنے کے حق میں ہوں گے لیکن میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا اور نہ کبھی چاہوں گا۔ عین ممکن ہے آپ ثواب کی نیت سے یہ سب کر رہے ہوں معاف کیجیے گا ایسے ثواب کمانے کی میری نیت نہیں ہے۔

Read more

سچ کی قیمت اور دانشور

حالیہ دنوں میں کچھ خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان کا کنٹریکٹ بڑھانے سے انکار کر دیا گیا۔ بظاہر اس کی جو بھی توجیہہ پیش کی جائے لیکن حقیقت سب جانتے ہیں کہ ان کا جرم کیا تھا۔ ہمارے ہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرے میں ہمیشہ اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ دانشوروں، آرٹسٹوں، لکھاریوں، یا مفکروں کو رائے کے اظہار کی آزادی دی جائے۔

لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ہم سب سے زیادہ پابندی اسی طبقے پر لگاتے ہیں۔ ہم نے اکیڈیمیا تک کو قابو کیا ہوا ہے۔ جہاں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ان کے مقصد کو بڑھانے اور ان کے مطلب کی بات کہنے میں سرگرم ہوں وہاں ایسے لوگوں کے لیے حق بات کہنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ کیا اس سب کے باوجود بھی اپنی بات پر ڈٹے رہنا ضروری ہے یا پھر اسی بھیڑ کا حصہ بن جائیں جو کم از کم آپ کو ایک پرسکون اور پر آسائش زندگی تو فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں پروفیسر نوم چومسکی لکھتے ہیں کہ ”دانشوروں کی ذمہ داری ہے وہ سچ بولیں اور جھوٹ کا پردہ چاک کریں“

Read more

فریڈا کاہلو: رنگوں کے جھولے میں بیٹھ کر آسمان چھونے والی عورت

پولیو کے ننھے وائرس سے ہونے والی جسمانی معذوری سے ابھی تن من سنبھلا نہ ہو کہ ٹریفک حادثہ جسم کو ادھیڑ ڈالے، خستہ حال رگ و ریشہ اور سوختہ بدن، کیسے جئیں اب؟ اور اس نے جواب ڈھونڈھ لیا! "اماں، چلیے فریڈا کوہلو کی تصاویر کی نمائش پہ چلتے ہیں” "ضرور، مجھے فریدہ کاہلوں سے ملنا ہے، نام تو بالکل پاکستانی ہے” ہم شرارت سے مسکرائے، "کیا کہہ رہی ہیں، کون فریدہ کاہلوں؟” "تم نہیں سمجھو گی، تم کیا

Read more

پاکستانی عورت کی جہد مسلسل

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا مسلم ملک ہے جہاں مذہب نظریہ اور دستور میں تو موجود ہے، لیکن عملی زندگی میں ذاتی عبادات اور گناہ اور ثواب کے بھنور میں کہیں کھو سا گیا ہے۔ بات جب انسانی حقوق کی ہو، (خاص طور پر خواتین کے حقوق کی) تو اس حوالے سے نام نہاد مذہبی پیشوا ان حقوق کی تشریح صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے کرتے ہیں۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ آزادی کے 72 سال

Read more

Transsexuality (شعوری جنسیت)

ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے ہی بادلوں میں چھپ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ بھڑک رہا تھا۔ دونوں کنچنیاں پسینے سی بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرے لال سرخ اورجسم تپایا ہوا کندن بن چکے تھے۔ جوں جوں شعلے ٹوٹ رہے تھے، روپ سوا ہوا جا رہا تھا۔ یوں لگتا کہ گھٹائیں امڈ آئیں، بجلیاں کوند

Read more

تقدیراور تدبیر سے متعلقہ سوالات

تقدیر اور تدبیر کے حوالے سے کوئٹہ سے اجمل کاسی کا ایک سوال تھا، سوچا انفرادی جواب دینے کی بجائے افاد عامہ کے لئے جوابی کالم ہی تحریر کر دیا جائے۔ تقدیر اور تدبیر کی بحث اتنی ہی قدیم ہے جتنا قدیم خود انسانی شعور۔ تدبیر اور تقدیر کے تقابل سے پہلے تقدیر کے بنیادی تصور سے آگاہی لازم ہے۔ دراصل تقدیر تخلیق کا ایک جزو لاینفک ہے۔ بساط تخلیق پر تقدیر کا نقشہ پہلے کھینچا جاتا ہے اور تخلیق

Read more

وقت بے درد مسیحا ہے

میں اس بات پر بالکل بھی راضی نہیں تھا کہ اس سے ملوں کیوں کہ اس وقت میں بالکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ میری بیٹی اس سے شادی کرے۔ میرا خیال تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلے پھر عملی زندگی میں کسی عملی قسم کے آدمی کوپسند کرکے اس سے شادی کرے۔ یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرے گی جو صرف میری پسند کا ہو۔ ارینج میرج

Read more

یہ عمران خان کا ساتھ دینے کا وقت ہے

لارڈز لندن ہے۔ ۔ ۔ اس اگست 2020 میں اس بات کو پورے دس سال ہو جائیں گے، ہو سکے تو اس بدنامی کی سالگرہ منالیں اور اس وقت کے صدر پاکستان آصف زرداری کے وژن کے مطابق، ”مل کے کھاؤ اور مٹی پاؤ“ پالیسی پر قائم رہنے کا تجدید عہد بھی کر لیں۔ جب، ”نیوز آف دی ورلڈ“ کے انڈر کور رپورٹر نے بکی مظہر مجید کو میچ فکسنگ کرتے ہوئے ویڈیو ٹیپ کر لیا تھا، اس میچ فکسنگ

Read more

کشمیر کا دکھ بتائے ، ایسا کوئی شاعر ادیب اب زندہ نہیں

سوپور کے 65سالہ بشیر احمد کو بھارتی پیرا ملٹری فورس نے گولی ماری۔ بشیر احمد کے ہمراہ تین سالہ نواسے کی تصویر دیکھ کر کوئی پتھر دل ہی ہوگا جو تڑپا نہ ہو ۔بشیر کا نواسہ رات کو نانا کے سینے کے ساتھ چمٹ کر سوتا اور اکثر ان کا کان پکڑ لیتاتھا۔ ماں نے بتایا کہ اب وہ رات کورو روکر بستر سے اٹھ جاتاہے۔نانا کی یاد اسے کسی کل چین نہیں لینے دیتی۔ نانا کی نعش پر بیٹھے

Read more

دہشت گردی پر امریکا کی عالمگیر رپورٹ 2019: غیر متوازن اور جانبدارانہ

امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمگیردہشت گردی 2019 پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی، جس میں مختلف ممالک کے حوالے سے امریکا اپنی پالیسی کے تحت موقف سامنے لایا۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان سرد تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ جس میں پاکستان پر مختلف نوعیت کے الزامات عاید کرنا امریکی حکام کا وتیرہ رہا ہے۔ تاہم متذکرہ رپورٹ میں امریکا کی جانب سے ایک بار پھر جانبدار پالیسی کا عنصر نمایاں نظر آیا، جب مملکت کے خلاف زمینی

Read more

سب رنگ کہانیاں۔ سب رنگ کا عشق مشترک

سب رنگ ہم نے اس کی اشاعت کے پہلے یا شاید دوسرے سال میں پڑھنا شروع کیاتھا اور اس کی اشاعت کے آخری سال تک پڑھا۔ اس میں تب کی پڑھی ہوئی کہانیاں آج چالیس پینتالیس سال بعد بھی یاد ہیں۔ پرانی کتابوں کی الماری سے اگست 1971 کا سب رنگ کا شمارا چند دن قبل ملا تو اس میں ماں پر موپساں اور ولیم سمرسٹ ماہم کی کہانیاں پڑھ کر ماضی میں سب رنگ میں پڑھی ہوئی بہت سارے

Read more

ڈی موٹیویشنل منجن

انہوں نے چند منٹ کی ویڈیو میں کوئی اتنے کام، ان میں کامیابیاں گنوائیں کہ مجھے لگا بس اب یہ کہیں گے اور پھر میں حاملہ ہوگیا۔ پھر روداد حمل سنائیں گے لیکن نہیں وہ اب اپنے ساتھ گزرے مزید واقعات بتا رہے تھے۔ جس سے پتا چلا کہ حاملہ ہونے کے علاوہ دنیا کا ہر واقعہ ان صاحب کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ میرے تو ارمانوں پر پانی کیا کیچڑ پڑ گیا۔ ناکامی کا سایہ چہرے پر پھیلا

Read more

نئے مذہب کے پیروکاروں کا اجلاس: ایک رپورتاژ

خواتین و حضرات! میرا نام کرن کرونائی ہے اورمیرا تعلق کرونائی مذہب سے ہے۔ میں مذاہب عالم کی اس 2120 کی بین الاقوامی کانفرنس میں آپ سب مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ مجھ سے پہلے آپ جن مذاہب کے نمائندوں کی تقریریں سن چکے ہیں ان میں یہودی بھی تھے عیسائی بھی ’مسلمان بھی تھے ہندو بھی‘ سکھ بھی تھے اور بدھسٹ بھی۔ ان میں سیاہ فام افریقی قبائل کے رہنما بھی تھے اور سرخ فام انڈین قبائل کے

Read more

وہ ایک جیتی جاگتی حسین و خوبصورت انسان ہے

کتنی خوش تھی وہ جب اس کی شادی ہوئی۔ جب اس کو مایوں کا پیلا جوڑا پہنایا گیا اورپھوپھو جو فیصل آباد کے مشہور کپڑا بازار سے اس کے لیے گوٹے کناری سے کڑھے ہوئے مہندی کے جوڑے کے لیے ست رنگی دوپٹہ لائی۔ اس دوپٹے پر تو جیسے اس کا دل ہی رک گیا ہو۔ کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا فیشن ایبل دوپٹہ وہ ٹی وی ڈراموں میں ہی نہیں اپنی زندگانی میں اور وہ بھی اتنے خاص

Read more

لگڑ بگے صفت انسان

جب تک آپ اپنے دوست، ساتھ کام کرنے والے یا ساتھی سے اس کی جنسی فتوحات یا عورتوں کے ساتھ روا رکھی ہوئی دیگر بد تمیزیوں کا ذکر سن کے لطف لینے کی بجائے اس کے منھ پہ طمانچہ مارنے کی ہمت پیدا نہیں کریں گے یہ معاشرہ نہیں سنور پائے گا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

یادیں آصف فرخی کی

میرے ہاتھ میں نوائے معانی زندگی کا مسودہ تھا اور آصف فرخی کا ایک ایک افسانوی مجموعہ میری نظروں سے گزر رہا تھا۔ شام کے سائے ڈھل چکے تھے، میں چھت پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ بہت دن ہوئے ڈاکٹر آصف فرخی سے بات نہیں ہوئی وہ نئے لکھے جانے والے دس افسانے کب بھیجیں گے اور میں ان کے افسانوں کا یہ مجموعہ کب مرتب کروں گی۔ انہوں نے تو 22 اپریل 2020 کو فون پر بتایا تھا

Read more

ڈاکٹر جسے قسمت نے جوہری بنا دیا

وہ بنا تو ڈاکٹر تھا مگر اب جواہرات کا تاجر ہے۔ 56 ملکوں میں آتا جاتا ہے۔ خاصا امیر ہو چکا ہے، باتیں بہت سناتا ہے شاید بناتا بھی ہوگا۔

کہتا ہے کہ لاہور کے ایک ہسپتال میں ہاؤس جاب کے دوران کسی فوجی افسر کے باپ کا زیادہ خیال رکھا ( فوجی افسر کا باپ سی ایم ایچ میں کیوں نہیں داخل ہوا، میں نے نہیں پوچھا ) تو افسر نے گرمیوں میں چھٹیاں گزارنے کو اسے کشمیر آنے کی دعوت دی جہاں افسر تعینات تھا۔

بتاتا ہے افسر کے دفتر کی میز پر ایک نیلگوں پتھر دھرا تھا جسے ہاتھ میں لے کر میں کھیلتا رہا۔ پوچھا کہ یہ پتھر کیا ہے تو اس نے لاپرواہی سے کہا معلوم نہیں۔ ایک شخص کو ایل او سی پار کرنے کے جرم میں حراست میں لیا تھا جس نے یہ پتھر دیا۔ میں نے میز پر رکھ دیا۔ تمہیں پسند ہے تو تم لے لو۔

Read more

1947ء ۔۔۔ پناہ گزین کیمپ کے چند روز

دو بہنوں تین بھائیوں اور خیمہ نما برقعہ میں ملبوس ایک خیمہ ہی کی طرح ہماری حفاظت بنے چاروں طرف دیکھتی ہماری والدہ ہمیں ساتھ لئے تعلیم الاسلام سکول پہنچ چکی تھیں۔ فوراً رضاکار خواتین ہمیں ایک کمرہ میں پہنچا آئیں۔ بڑے بھائی تیرہ سال کے ہونے کی وجہ سے مردانہ کیمپ (جو غالباً ملحقہ کالج کی عمارت میں تھا) میں موجود ہمارے بہنوئی کے پاس پہنچا دیے گئے۔ کمرے سے فرنیچر نکال پرالی بچھا دی گئی تھی۔ جہاں ہر

Read more

بلاول بھٹو کی جدوجہد کیا ہے؟

وہ جب پیدا ہوا تھا تو پوری دنیا کے اخبارات میں اس کی پیدائش کی خبریں شہ سرخیوں میں لگی تھیں۔ وہ جب ایک سال کا تھا تو امریکی کانگریس میں اپنی والدہ کے ہمراہ خصوصی مہمان تھا جہاں اس کی آمد پر اس کے نام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ وہ جب دو سال کا ہوا تو اس کے والد جیل چلے گئے جہاں وہ اپنی ماں کی گود میں اپنے والد سے ملنے جاتا تھا۔ وہ جب چار سال کا ہوا تو وزیراعظم ہاؤس کے لان میں ملکی سیاست کے بڑے فیصلے ہوتے دیکھا کرتا تھا۔ وہ جب آٹھ سال کا ہوا تو پھر اس کے والد جیل چلے گئے اور وہ اپنی والدہ کی انگلی پکڑ کر بے بسی کے وہ مناظر دیکھا کرتا تھا کہ جن کے تصور سے بھی کلیجہ منہ کو آ جائے اور پھر اسی ننھی سی عمر میں اس نے اپنے پیارے ماموں کا بہیمانہ قتل دیکھا۔

Read more

وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے

کتاب ”وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے“ ( 2018 ء) ڈاکٹر جوناتھن ڈی کوئیک کے خیالات۔ ”اگر آپ یا آپ سے محبت کرنے والے لاکھوں افراد میں سے کوئی ایک مہلک بیماری سے ہلاک ہو سکتا ہے تو کیا ہوگا؟ آپ کو نمبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ میں نے بھی دیے ہیں، میں آپ کی آنکھوں کو قریب سے دیکھتا ہوں، تو آپ بھی میری آنکھوں میں دیکھیں، نمبر

Read more

نسیم یوسفزئی: آسمانوں کو چھونے والے پاکستانی آرٹسٹ کباڑ سے کیا کچھ نہیں بنا سکتے

نسیم یوسفزئی نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز قلم سے کیا، کام کرتے کرتے وہ بجلی سے کھیلنے لگے اور اب وہ کباڑ خانے پہنچ گئے ہیں۔ نسیم کی عمر اب 50 برس سے زیادہ ہو چکی ہے لیکن ان کے شوق کا کوئی مول نہیں اور آج بھی وہ اپنا کام اتنی ہی چستی اور لگن کے ساتھ کرتے ہیں جیسے وہ اپنی جوانی میں کیا کرتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1995 کی یومِ پاکستان کی

Read more

بلوچستان: آوازیں تو اٹھتی ہیں

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ 2017 ء کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 نفوس پر ہے۔ وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے مگر افسوس یو، این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے پوری دنیا پر یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کے ریونیو میں ایک بڑا حصہ بلوچستان دیتا ہے ساتھ ساتھ بلوچستان کے وسائل کو کس بیدردی کے ساتھ کسی یتیم کی جائیداد کی طرح لوٹا جا رہا ہے۔

اس وقت صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت ہے جو کہ پی ٹی آئی کی حمایتی و اتحادی ہے باوجود اس کے پاکستان کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو خاص خاطر میں نہیں لایا گیا بلکہ ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ملنے والے بلوچستان کا حصہ مزید کم کر دیا گیا ہے جب نا انصافیاں حد سے بڑھ جائیں گی تو آوازیں اٹھیں گی۔

Read more

ڈانلڈ ٹرمپ کی آئینے کے سامنے تقریر

وائٹ ہاؤس اوول آفس۔
” مسٹر پریذیڈنٹ آپ چار جولائی یعنی امریکہ کی آزادی کے دن پر تقریر کریں گے۔ اس کی تیاری کر لیجیے۔ “
” اوہ یس۔ یس۔ یس۔ اچھا یاد دلایا۔ بس ابھی“

Read more

زہر کا ٹیکا اور ہم ڈاکٹر

دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری تمازت سے چمک رہا تھا۔ گرمی اور حبس سے برا حال تھا۔ میری ڈیوٹی میڈیکل ایمرجنسی میں تھی۔ ایمرجنسی میں داخل ہو کہ کرونا کے باعث سب سے پہلے حفاظتی لباس پہنا پھر چہرے پہ ڈبل ماسک اور حفاظتی عینک پہننے کے بعد سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا۔ شدید گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی سائڈ کے مریض جا کہ دیکھنے شروع کیے۔ دوسرے ہی بیڈ پر ایک بابا جی لیٹے ہوئے تھے جو کہ غنودگی کی حالت میں تھے ان کی تفصیل سے ہسٹری لینے اور معائنہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پچھلے ایک سال سے بیمار ہیں دو دفعہ فالج کا اٹیک ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو مہینے سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور بستر تک ہی محدود ہیں۔ مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے ان کی کمر پہ ایک زخم بھی بن چکا تھا۔ جو کہ اب انفیکٹ ہو چکا تھا۔ ابھی دو دن سے انھیں بخار بھی تھا اور وہ کھانا پینا بھی چھوڑ چکے تھے۔ ان کے ساتھ تین خواتین اور کچھ مرد بھی تھے۔ ان کا معائنہ کر کے چند ضروری ٹیسٹ کروا کہ انھیں دوائیں شروع کروا دیں۔

Read more

جج ارشد ملک کی آواز سزا سناتے ہوئے لرز گئی

”پتھر کا انسان ہوں ہر ظلم سہہ لیں گے“ فیصلہ آنے کے فوری بعد میاں نواز شریف نے کمرہ عدالت میں شعر پڑھا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کی طرف جانے والے تمام راستے سیل تھے۔ صبح تڑکے عدالت جا پہنچا، سیکیورٹی اہلکاروں نے عدالت کو اہنے حصار میں لے رکھا تھا۔ سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ ایک کلو میٹر گھوم کر عدالت کے داخلی گیٹ پر آنا پڑے گا۔

داخلی دروازے پر پہنچا تو دیکھا کہ میڈیا کے دوست کھڑے تھے جو احاطہ عدالت میں جانے کی تگ و دو کر رہے تھے۔ سیکیورٹی اہلکار دیوار بن کے سامنے کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ اچھی بھلی تو تکار ہو گئی۔

Read more

عزیز احمد کے ناول ’آگ‘ میں سلگتا ہوا کشمیر

ایک جہنم وہ ہے جو افلاطون کے بیان کردہ عالم امثال میں ہے اور جو ہمارے اجتماعی لاشعور سے منعکس ہوتا ہوا ہمارے شعوری تصورات میں مبہم طور پر موجود رہتا ہے۔ مختلف اقوام کی اساطیر سے لے کر الہامی کتب تک جابجا اس جہنم کا بیان نافرمانی کے مرتکب لوگوں کے لیے سامان عبرت کے طور پر موجود ہے۔ مغرب میں نشاۃ ثانیہ کے اریب قریب دانتے نے ”ڈیوائنا کامیڈیا“ میں اپنے پر بہار تخلیق کے زور پر اس

Read more

یہاں پارسا بننا جتنا مشکل ہے دکھنا اتنا ہی آسان

گھر کی خواتین نے پابندی لگائی تو مردوں نے مجھے ان سے چھپ کر بلانا شروع کر دیا۔ مجھے توجہ چاہیے تھی کوئی بھی ہو۔ آنٹیاں نہ سہی انکل اور بھائی سہی۔ کچھ صرف مجھ سے باتیں کرتے کچھ گود میں بٹھا لیتے کچھ بہانے بہانے سے چھوتے۔ ایجڈ انکل ٹائپ زیادہ دیدہ دلیری دکھاتے تھے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیویوں سے چھپ کر تحفے بھی دیتے۔ مجھے ان کے پاس الجھن ہوتی مگر تحفے بھی توجہ کا ہی نعم

Read more

حقیقت موت و حیات

موت برحق ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ مگر موت ہے کیا؟ بعض کے نزدیک یہ ایک ناقابل حل معمہ ہے تو چند اس کا سراغ لگانے میں بھی لگے ہیں۔ بعض اسے انسانی حیات کا ایک پروسیس مانتے ہیں کہ یہ ایک واقعہ ہے جیسے جلد یا با دیر رونما ہونا ہی ہے۔ کون کیا سوچتا ہے کیا سمجھتا ہے موت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ موت و حیات نظام

Read more

کتابیں: محبت کی پیامبر

میری کتابوں سے محبت بہت چھوٹی عمر سے شروع ہویٰ اور شاید اس کی وجہ تھی کہانی کی کتابیں، کہانی کی کتابیں جو پڑھنے والے کو کسی اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔ اس دنیا میں جہاں تصور کی سلطنت میں مادی رکاوٹیں اس حیثیت کی حامل نہیں ہوتیں جو کہ حقیقی دنیا میں وہ رکھتی ہیں۔ کہانی کی دنیا تو تصور کی آزادی اور خیال کی پرواز کی دنیا ہے، جہاں آپ وہ سوچتے اور پڑھتے ہیں جس کا

Read more

بستی والوں اور سیاست والوں کے درمیان پڑا پردہ

ہماری سیاست اور سیاست دانوں کے اندرونی حالات کا موازنہ برصغیر کے لٹریچر کی تقریباً سو برس پرانی ایک کہانی ”پردہ“ سے کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق بخشو کے دادا محصول کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدنی مناسب تھی۔ ان کے دو بیٹے تھے جو ریلوے اور ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ دونوں کی شادیاں ہوئیں، بچے ہوئے اور خاندان بڑھتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد آبائی گھر سے نکل کر دور دراز علاقوں میں چلے گئے۔

Read more

ناول” خوشبو کی ہجرت” کے بارے میں

بظاہر ایک ناول کا مطالعہ نامعلوم سے معلوم کے سفر جیسا ہے۔ یعنی مطالعے سے پہلے وہ ہمارے لیے ایک نامعلوم جزیرے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ہی ہم اسے پڑھنا شروع کرتے ہیں، نامعلوم ہمارے لیے دھیرے دھیرےمعلوم میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور مزید کچھ وقت گزرنے کے بعد ہم اس معلوم کے اس درجہ عادی ہوتے چلے جاتے ہیں کہ ہم یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ ناول کے صفحات پرلفظوں کی قطاروں کے پیچھے حرکت کرتا

Read more

نسل پرستی حماقت ہے

گھر کے آنگن میں کھیلتے بچوں کو دیکھ کر اکثر گھر کے بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ ”پوت کے پیر تو پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں“۔ یعنی اس کے مستقبل کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے لیکن افسوس کہ کہاوت کے لیے بھی آنگن میں کھیلتا صرف پوت ہی نطر آتا ہے۔ کیا اس کے ساتھ کھیلتی ”دھی“ بغیر پیروں کے جنم لیتی ہے یا پھر وہ پالنے کے بنا ہی پل جاتی ہے؟ بیٹے کے پیدا ہونے پر سینہ

Read more

سستا فمینزم: عورت کی مظلومیت کا ایک اور رخ

بیٹی پیدا ہونا شاید اس معاشرے میں اعزاز نا ہو، پر عورت ہونا اس معاشرے میں کسی اعزاز سے کم نہیں ہے وہ بھی آج کی عورت ہو، اور آج کی دنیا کے ساتھ چلنا جانتی ہو تب تو وہ کسی بلا سے کم نہیں ۔ آج کی دنیا ہے کیا ایک فمینسٹ عورت کی نظر سے می ٹو کا سستا استعمال، ہاے میری عزت میری چادر، میں پاکیزہ، میں حیادار وفادار، باکردار وغیرہ میں آج کی ڈیجیٹل دنیا ملا

Read more

پنجاب کی سرزمین اور بلونت سنگھ

وہی زمین۔ وہی مٹی۔ وہی خوشبو۔ جگا سے کالے کوس تک کے فاصلے کو بلونت سنگھے کے افکار وخیالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ مطالعہ اوران کے تجربات ومشاہدات نے ان کے تخلیقی سفر میں نئی نئی راہیں کھولیں اور وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پنجاب، پنجاب کے رہن سہن، رسم ورواج کوموضوع تحریر بنانے والوں کی کمی نہیں رہی۔ مگرمیراخیال ہے کہ بلونت سنگھ کا پنجاب اورتھا اور وہ انوکھا پنجاب جو ان کی تخلیقات میں نظرآتا ہے صرف اورصرف

Read more

خدا کے لیے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں

آج کل ایک پروگرام دیکھا جو نہایت دردناک سچے واقعے پر مبنی تھا۔ اس میں دکھایا گیا کہ ایک غریب ماں کو اپنے بیٹے کے سر پر سہرا باندھنے کی خواہش کتنی مہنگی پڑی۔ اس کے دو بیٹے تھے جو رنگ روغن کا کام کرتے تھے۔ کام کبھی ملتا تھا اور کبھی نہیں ملتا تھا۔ لڑکا تنگدستی کی وجہ سے شادی کے لیے نہیں مان رہا تھا۔ لیکن ماں کے بار بار اصرار اور شادی کے لیے اپنی ماں کا

Read more

بے نظیر۔ ایک سوانحی ناول

سوانح عمری ایک انسان کی پیدائش سے موت تک کے افعال کا بیان ہے۔ یا یوں کہیے کہ ایک انسان کی حیات یا تاریخ ہے۔ سوانح نگاری کے سلسلے میں اردو ادب میں نیا تجربہ سوانحی ناول کی صورت میں کیا گیا جو کا میاب رہا۔ سوانحی ناول، سوانح اور ناول کا حسین امتزاج ہے۔ کسی سوانح کو جب افسانوی رنگ دے کر ناول کی تکنیک برتتے ہوئے پیش کیا جائے تو وہ سوانحی ناول کہلاتی ہے۔ سوانحی ناول میں

Read more

لاہور کے حبس زدہ موسم میں مہکتی بہار کی آمد۔ ۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف

کون کہتا ہے کہ پرستان سے پریاں نہیں اترتیں۔ ۔ ۔ ؟ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ درویشوں اور محبت کرنے والوں سے یہ دنیا پاک ہو گئی۔ ۔ ۔ ؟ ۔ ۔ ۔ ہم ان سے لڑ لیتے تھے، گلہ کر لیتے تھے، روٹھ جاتے تھے لیکن وہ ہمیں منانے کی ماہر۔ ۔ ۔ ہماری دکھتی رگوں کو جانتی، سمجھتی، پہچانتی ہنستی مسکراتی پاس سے گزر جاتی۔ ۔ ۔ ہم اندر سے سمجھتے تھے کہ جب تک یہ

Read more

حسن نثار کے بیٹوں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

اس سال اپریل میں مشہور پاکستانی صحافی حسن نثار، جو جنگ گروپ اور جیو ٹی وی سے وابستہ ہیں، کے بیٹوں کی انتہائی غصہ اوردشنام سے بھرپور ویڈیو وائرل ہوئیں۔ گو چہرے مہرے اور حلیہ کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ حسن نثار جیسے خوش لباس اور صحتمند شخص کے بیٹے ہیں، مگر دو باتوں کی وجہ سے اس حقیقت کو قبول کرنے میں تامل نہیں ہوا۔ ایک تو ان کے شناختی کارڈزپہ درج کوائف اور

Read more

اماں بمقابلہ بشریٰ انصاری، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔

پنجابی زبان کے وہ کھلے ڈلے الفاظ جو عموماً مائیں گھر میں اپنے بچوں کے لیے بولتی ہے بلاگر ‘اماں’ انہی الفاظ میں ڈرامے کے کرداروں کی ‘کلاس’ لیتی ہیں۔ جس کردار پر پیار آ جائے اس کی بلائیں بھی خوب لیتی ہیں۔۔۔ بالکل کسی ماں کی طرح۔ اسی لیے بلاگر ’اماں‘ کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک عام گھریلو عورت ہیں، کوئی نقاد نہیں۔ ایسے میں جب یو ٹیوب پر ان کے ایک بے لاگ تبصرے کے بعد

Read more

انتہائی سیاسی رویے اور سہولت کا ایکٹو ازم

وطن عزیز میں ہر شخص انتہا کے ممبر پر براجمان ہے، ہر ایک کا ”سچ“ وہی ہے جو اس کی انتہائی سیاسی پوزیشن یا مذہبی فکر کو سوٹ کرتا ہے۔ ادھر کوئی قومی سانحہ ہوتا ہے اور ادھر رویوں کی یہ دراڑیں سوشل میڈیا پر منہ چڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔ اعتدال نہ رکھنے کے باعث حق بات کرتے ہوئے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے یا دوبارہ سوچنا نہ پڑتا ہے کہ آپ کے سپورٹر اور فالورز کیا سوچیں گے۔ جب آپ انتہائی پوزیشن پر الفاظ کے ذریعے یا اعمال کے زور پر جا بیٹھتے ہیں تو اکثر آپ گفتگو یا پراسس میں شمولیت کے اہل نہیں رہتے۔

Read more

انیس سو سینتالیس: جب مہاجروں کے قافلے ہمارے ہمارے پچھواڑے جمع تھے۔ ۔ ۔

کوئی سہ پہر کا وقت ہوگا جب یک دم بھگدڑ اور سراسیمگی کے عالم میں ”گورداسپور ہندوستان کو دے دیا گیا“ کا شور مچاتے لوگ دوڑنا شروع ہوئے۔ ۔ ۔ ماں نے سب بچوں کو گلے لگایا اور پاس بٹھا سختی سے آئندہ خطرے سے آگاہ کرتے باہر جانے روکنے کے علاوہ فوری طور پر وہ جو ہم بچے گلیوں میں پاکستان زندہ باد۔ مسلمان لکھ روپے دا اک جوان۔ سکھ پیسے دا اک۔ ۔ ۔ قسم کے نعرے لگاتے تھے۔ سے منع کیا۔ ایک دو روز بعد ہی مضافات سے سکھوں کی لوٹ مار اور فسادات کی خبریں آنے لگیں۔

راتوں کو گولیوں کی آوازیں اور دور آگ کے شعلے دکھائی دیتے۔ قادیان کی انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر اور حفاظت کے سامان کے ساتھ ٹھیکری پہرہ اور مدافعت کے لئے جوانوں بچوں لڑکیوں اور عورتوں کو خصوصاً ٹریننگ کے بندوبست شروع کر دیے۔ مجھے یاد ہے گھر کے صحن میں پڑی مٹی سے ہم بہن بھائی روزانہ غلے بناتے۔ دونوں بڑے بھائی غلیلیں بنا رہے تھے۔ سارا گھر غلیل چلانے کی مشق کرتا۔ لکڑی کی سیڑھی لگا چھت پر گھڑا بھر کے غلے رکھ دیے گئے۔

Read more

کورونائی آفات اور کورونائی عمرانیات دونوں کی مناعات لاک ڈاؤن ہے

کورونائی عفریات یا آفات تو وبائی شکل میں رونما ہوتی ہیں جو نظام زندگی کے طبعی اور قدرتی عوامل کے لئے ہیجان اور بحران کا باعث بن اٹھتی ہیں۔ ایسی وبائیں اگر متعدی یعنی ایک متاثرہ زندگی سے آگے دیگر زندگیوں کی طرف پھیلنے والی ہوں تو ان کی وسعت پذیری کے تدارک کا فوری اور انتظامی حل ایک دوسرے سے دوری اور نقل و حمل پر پابندی اپنانے سے ہی نکالا جا سکتا ہے اور جو لاک ڈاؤن کے طریقے سے متعارف ہوتا ہے۔ ان کے طبی یا سائنسی علاج کا میدان متعلقہ شعبوں کی تحقیق کا مرہون منت ہو جاتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر کے گھر کا خرچہ بھی پیسے سے چلتا ہے دعا سے نہیں

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک خبر سوشل میڈیا پر بہت گرم تھی کہ ایک ڈاکٹر کو محض اس لئے ٹانگ میں گولی ماری گئی کہ اس نے ایک مریض کو ایک ایسی دوا نہیں دی جس کی اس کو ضرورت ہی نا تھی۔ اس ایک خبر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں اس وقت عدم برداشت کا کیا عالم ہے اور ایک ڈاکٹر کو یہاں کتنا تحفظ حاصل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بچے کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ بلکہ پورا خاندان یہ خواب دیکھنا شروع کر دیتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اک قابل ڈاکٹر بنے گا۔

Read more

ندامت

اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اس پر یہ سوچ قبضہ جمائے رکھتی جب بھی یہ سوچ اس پر حاوی ہوتی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی تیز نوک دار ہتھیار اس کی کھوپڑی میں جا دھنسا ہو اس کا جسم کانپ اٹھتا۔ بدن کے ایک ایک حصے سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر بہنے لگتے۔ اس نے سر کو جنبش دی عین اسی وقت اس کے ذہن کی سکرین پہ ایک سالہ نور اور اس کی ماں عالیہ کا عکس ابھرا۔ عالیہ، نور کو سلا نے کی کوشش کر رہی تھی اور نور سونے کے بجائے عالیہ کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ اس خیال کے آتے ہی اس کے جسم کا تناؤ بڑھ جاتا۔ میرا وارث میری زندگی کا سہارا یہ خیال اس کے دماغ کو نچوڑ کر رکھ دیتا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ سوچوں اور خیالوں سے کیسے پیچھا چھڑا یا جائے اگر انسان پیچھا چھڑا نا بھی چاہے تو نہیں چھڑا سکتا۔ کہیں یہ سوچیں مجھے شکست نہ دے دیں۔

Read more

ہم صرف قبرستانوں میں ہی متحرک ہوں گے

اس خطے میں جبر کی مرقع کشی کی جائے تو ناممکن ہے کیونکہ ہمارے محافظ ہماری خیالی وسعت سے زیادہ ہمارے وجود پر ظلم مسلط کرچکے ہیں۔ ہماری مائیں بہنیں اسی لئے دوپٹہ اتارنا زیادہ پسند کرتی ہیں گویا پہنا ہوا دوپٹہ کسی بھی ناکے پر جفاکشی سے اتار لیا جاتا ہے۔ وردی پر لگے ستاروں کی تیز چمک سے مسافروں کی آنکھیں دھندلی ہوتی چلی جا رہی ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ ہر آنے جانے والے اندھا کر گزرے گی۔ بہ جائے حیرت کے اب تو جبر و ستم کے واقعات سننا اور دیکھنا عادت بن گیا ہے۔ دن بہ دن بے حسی ہمارے سروں کا تاج بنتی جا رہی ہے اور اب تو بصارت بھی بنجر ہوتی جا رہی ہے کہ سامنے سڑک پر کسی بشر کی خون کی دھار بھی دیکھو تو گاڑی کی رفتار تیز کیے دیتے ہیں البتہ کہ ہم جانتے ہیں گر اس بندے کو ہسپتال پہنچا بھی دیا تو باوردی افراد اپنے ہی گریبان تک آن پہنچتے ہیں۔ بہ قول شخصے

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے
اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

Read more

انڈیا چین سرحدی تنازع: چین کا مارشل آرٹ ٹرینرز کو تبت بھیجنے کا فیصلہ، انڈیا بھی جواب دینے کے لیے تیار

چین نے کہا ہے کہ وہ اپنی افواج کی تربیت کے لیے 20 مارشل آرٹ ٹرینرز کو تبت کی طرف بھیج رہا ہے جبکہ دوسری جانب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ریڈیو پیغام میں کہا ہے کہ انڈیا کی سرزمیں پر آنکھ اٹھا کر دیکھنے والوں کو جواب دیا جائے گا۔

چینی فیصلے کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے لیکن یہ فیصلہ چینی سرحدی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1996 میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اس علاقے میں کوئی بھی فریق، انڈیا یا چین کے فوجی وہاں بندوق اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ نہیں جاتے ہیں۔

Read more

استاد اور معاشرہ

ادنیٰ جماعت سے پانچویں جماعت تک کا زمانہ گویا قابل رشک زمانہ تھا۔ ہم صبح اٹھتے، منہ ہاتھ دھو کر پہلے ”تختی“ چھاپتے، پھر سلیٹ دھوتے اور اس کے بعد کاپی مکمل ہے یا نہیں یقین دھانی کے لئے چیک ضرور کرتے تھے۔ یہ کام کر لینے کے بعد ہم اپنا بستہ لیکر، بستے میں موجود تمام چیزیں چیک کرتے، اور ٹھیک وقت سے پانچ منٹ پہلے سکول پہنچ جایا کرتے تھے۔ یہ گاؤں کا سرکاری، پرائمری سکول تھا، جس

Read more

کرونا بیتی اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

آج سے سولہ دن قبل مجھے میری ہمشیرہ کا فون آیا جس نے انتہائی پریشانی کی حالت میں مجھے بتایا کہ اس کے میاں کو کرونا ہو گیا ہے۔ بات پریشانی کی تھی لیکن متوقع تھی کہ میرا بہنوئی ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہے اور ان دنوں ڈاکٹرز کے بھی کرونا سے متاثر ہونے کے کیسز اسی تواتر سے سامنے آرہے ہیں جتنے کہ عام لوگوں کے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ میرے بہنوئی کو کرونا ہو گیا مسئلہ یہ تھا ان کا گھرانا جو پانچ افراد پر مشتمل ہے، میں ان کے تین بچے دو بیٹیاں جن کی عمر 6 برس اور 4 برس اور ایک بیٹا جس کی عمر محض 6 ماہ تھی شامل ہیں، میں سے کس کس کو کرونا ہوا ہوگا؟

خیر سرکاری ادارہ تھا انہوں نے بہنوئی کو داخل کر لیا اور باقی گھر والوں کا ٹیسٹ لے لیا۔ ٹیسٹ کی رپورٹ دوسرے دن آئی جس سے معلوم ہوا کہ میری بہن اور اس کے 6 ماہ کے بیٹے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور دونوں چھوٹی بچیوں کا منفی یعنی انہیں کرونا نہیں۔ بہنوئی ہسپتال سے گھر آ گیا تاکہ اپنا قرنطینہ مکمل کرسکے۔ اب یہاں ننھیال اور ددھیال کا ایک امتحان شروع ہو گیا کہ ان دو چھوٹی بچیوں کا کیا کیا جائے جو ماں باپ سے الگ تو نہیں رہ سکیں گی۔

کیا انہیں ننھیال میں لے جایا جائے یا ددھیال میں، ابھی ہم اسی کشمکش میں تھے کہ بہن اور بہنوئی نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو آپ لوگ نہ لے کے جائیں کہ ٹیسٹ چوبیس گھنٹے پہلے لیا گیا تھا ممکن ہے ان چوبیس گھنٹوں میں بچے کرونا کیریئر بن چکے ہوں یعنی آپ لوگ رسک نہ لیں۔ ہم کسی طرح مینیج کر لیں

Read more

عمران خان ایک بزدل حکمران ہے: خلیل الرحمان قمر

ڈرامہ نویس خلیل الرحمان قمر نے وزیر اعظم عمران خان کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ سیاستدانوں میں وہ مائی کا لال پیدا ہی نہیں ہوتا جو حکومت بچانے کی بجائے غریب کے ساتھ کھڑا ہو جائے، تم نے ثابت کیا ہے عمران خان تم ایک بزدل حکمران اور ہم ایک بدقسمت قوم ہیں۔ خلیل الرحمان قمر نے وزیر اعظم سے

Read more

پولیس اور عوام: کیا تبدیلی آئی؟

ریاست ہوگی ماں کے جیسی، یہ ہمیں 2007 میں جناب اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور بہت سے قد آور وکلاء نے بتایا تھا، عوام جوق در جوق باہر نکلے تاکہ ریاست کو ماں جیسا بنایا جا سکے، اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر افتخار چوہدری نے چوبیس گھنٹوں میں طٰے کیا، جس گاؤں شہر سے موصوف گزرتے عوام کا ایک جم غفیر استقبال کے لیے موجود ہوتا، اور پھر آخر کار محترم بحال ہوگئے، لیکن ریاست ویسی کی

Read more

بڑی تمکنت سے اہل دل اٹھ کے جا رہے ہیں!

کیسا وقت آن پڑا ہے، کوئی دن نہیں جاتا جب اہل علم کے اٹھ جانے کی خبر سننے کو نہ ملتی ہو۔ علم کی روشنی پھیلاتے، جہالت کی تاریکیاں کم کرتے اور سماج میں معتدل رویوں کو فروغ دیتے روشنیوں کے شہر کراچی کے مختلف مکاتب فکر کے دو آفتاب علم غروب ہو چلے ہیں۔ بادہ کش تھے جو پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس مفتی محمد نعیم جدوجہد کا استعارہ تھے

Read more

گمنام پتا والی بستی کی سیر

آپ کو ایک بڑے جدید شہر کے ایک ایسے پتے پہ لے چلتا ہوں جو گمنام ہے جس کے بارے میں آپ لوگ شاید نہیں جانتے۔ چلئے چلتے ہیں۔ گاڑی سے اتریئے۔ اب آپ سڑک پر ہیں۔ چلتے لوگ، بھاگتی گاڑیاں، کئی منزلہ عمارتیں، شاپنگ مال اور بڑی چمچماتی دکانیں اور غضب کی ہلچل ہے۔ اپنے پیروں کو تکلیف دیجئے، آگے بڑھئے، تھوڑا اور۔ سیدھا چلتے رہئے۔ بس اب دائیں یا بائیں کسی بھی طرف مڑ جائیے۔ کیا ہوا؟ راستہ

Read more

ایک خط: کشمیر میں چلتی گولی کے نام

ننھی گولی سلام آج تیرے دادا دھماکہ خان نے پورے شہر پہ لرزہ طاری کر دیا۔ نقصان اور لاشیں دیکھ کر فوراً تو یاد آئی۔ توروز ہی چلتی تھی مگر اتنا نقصان تو نے کبھی نہ کیا، لیکن تیرا دادا بڑا سفاک نکلا تجھ سے بھی بڑ کر۔ وہ بڑے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تو چھوٹی تھی تجھے ایسی حرکتیں شوبھا نہیں دیتی۔ تو بھی اپنے دادا کی طرح نقصان کرتی ہے۔ ہرے بھرے اور ہنستے مسکراتے گھروں

Read more

بے یقینی سے بے یقینی تک

بہت دنوں کی بات ہے ’اتنے بہت دنوں کی کہ اب شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون تھا، اطمینان اور یکسوئی۔ تب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے، گنتی کسے کہتے ہیں۔ دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی نہ ہو تو دنوں اور ان کے شمار کا کیا سوال؟ وہ وقت سے خالی جگہ تھی۔ نہ صبح تھی ’نہ شام‘ رات اور دوپہر۔ نہ سورج

Read more

زرتاج گل بمقابلہ فواد چوہدری

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی رائے یا اندازہ قائم کرنا قطعی ممکن نہیں کہ کب تک سوشل میڈیا کی حکمرانی انسانی اقدار اور اقوام کی سوچ پر حاوی رہے گی، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حقیقتاً بہت پرانے گم ہوئے روابط اسی سوشل میڈیا کی مرہون منت بحال ہوئے۔ بچپن کے ساتھی پچپن برس میں دوبارہ سے ایک

Read more

جوائنٹ فیملی کا عذاب اور ہماری عورت

پروین بی بی کی عمر تئیس برس ہے اس کی شادی کو سات سال ہو گئے ہیں۔ اس کے تین بچے ہیں۔ بڑی بیٹی چھ سال کی ہے اور سکول جاتی ہے۔ پروین ایک جوائنٹ فیملی میں رہتی ہے۔ اس کی دو نندیں، ایک دیور اور ساس سسر بھی ساتھ رہتے ہیں۔ پروین کی اپنی سسرال کے ساتھ نہیں بنتی۔ اس کا سسر اکثر اسے ڈانٹ دیتا ہے اور گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ اس نے کئی دفعہ پروین

Read more

مراد بھائی ‘ شازیہ بہن

عمران حکومت کے تیار کردہ بجٹ پر قومی اسمبلی میں بحث کے آغاز سے قبل حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں کے مابین یہ طے ہوا کہ ان ایام میں دونوں جانب سے فقط تقاریر ہوں گی۔تحاریک استحقاق یا التواء پیش نہیں کی جائیں گی۔پوائنٹ آف آرڈر اٹھا کر بھی ایوان کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔اس معاہدہ پر سختی سے عملدرآمد ہورہا تھا۔ بدھ کی سہ پہر تحریک انصاف کے جواں سال وزیر مراد سعید صاحب مگر ایوان میں نمودار

Read more

ڈھاڈری۔۔۔ ایک سوانحی ناول

اردو ادب میں سوانح نگاری اور ناول نگاری دو الگ اصناف نثر ہیں۔ سوانح ناول کی گنجائش قارئین کی دلچسپی کے عنصرکو بڑھانے کے لیے نکالی گئی لیکن کسی ناول کو سوانح قرار دینا ایسا کچھ آسان بھی نہیں جب تک متن میں ہر دو اصناف کے بنیادی اجزا دکھائی نہ دیں۔ ناول نگار کا نقطہ نظر ہی ناول کی ہیئت کا تعین کرتا ہے۔ آپ بیتی کے اسلوب میں ناول ڈرامائی فارم اختیار کرلیتا ہے تب جس زاویے سے

Read more

کیا عورت کا کوئی گھر نہیں؟

عرصے بعد جب کسی پرانی دوست یا کسی عزیز و اقارب سے بات ہو۔ تو سلام دعا اور حال احوال دریافت کر لینے کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اور سناؤ کیا رہی ہو آج کل؟ جب میں عرض کرتی ہوں کہ جناب میں جاب کر رہی ہوں اور ساتھ ایم فل کر رہی ہوں۔ آگے سے فٹ سے یہ جواب ملتا ہے کہ آئے ہائے بس بھی کرو کتنا پڑھنا ہے اور تم نے! اب

Read more