وہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون آرٹسٹ جن کے فن پارے ملکہ کے شاہی محل میں سج گئے

امینہ آرٹ انصاری کہتی ہیں وہ پاکستان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں اور وہ خواتین کی ارطغرل ہیں۔

امینہ آرٹ انصاری ایک ایسی پاکستانی نژاد برطانوی آرٹسٹ ہیں جن کی ملکہ الزبیتھ دوئم اور ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا، پرنس فلپ کی بنائی ہوئی دو پینٹگز، پہلے برطانوی پارلیمنٹ میں نمائش کے لیے رکھی گئیں اور اب ملکہ کے ونڈسر محل میں سجائی گئی ہیں۔

Read more

ترک ڈرامہ ارطغرل، طیب اردوان اور عمران خان

بحری جہاز ٹائٹینک پر 2230 لوگ سوار تھے، جن میں سے 706 کو بچا لیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 1500 سے زیادہ لوگ ڈوب گئے تھے۔ جبکہ ہالی وڈ فلم ٹائٹینک میں تقریباً تمام لوگ ڈوب کر اور ہیرو چند گھنٹے بعد سردی کی شدت سے مرتا ہے۔ جس نے بھی یہ فلم دیکھی، ان میں سے ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں، بوڑھوں، مردوں یا خواتین کے ساتھ کسی کو بھی کبھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے

Read more

”دل بھٹکے گا“ تک دل کیسے پہنچا!

کوئی خاص چیز جو آپ خرید کر کھاتے ہیں، پہنتے و اوڑھتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ رات خواب میں جھلک آوارد ہوئی اور اگلی صبح آپ تکمیل کو پہنچ گئے، ہاں معاملہ محبوب کو اس میں استثناء حاصل ہے۔ کچھ چیزیں آپ تبھی خرید اور دیکھ لیتے ہیں کہ چلو میاں یہ تو پوری قوم کر رہی۔ کھادی کے کپڑے، ارطغرل غازی اور گیم آف تھرانز کا سیزن، کچھ چیزیں صرف اس اس لیے چل رہی ہیں کہ کوئی

Read more

عظیم سلجوق: ایک تاریخی ڈرامہ

کہتے ہیں کہ نظالم الملک طوسی، عمر خیام اور حسن بن صباح نوجوانی میں دوست تھے۔ ان کے درمیان شرط لگی کہ کون پہلے بڑے مقام تک پہنچتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، تینوں دوستوں نے اپنی اپنی جگہ شہرت پائی اور تاریخ میں نام پیدا کیا۔ نظام الملک طوسی طاقتور سلجوق سلطان الپ ارسلان کا وزیر اعظم بن گیا، عمرخیام نے شاعری، فلکیات اور ریاضی میں نام پیدا کیا اور حسن بن صباح نے ”حشاشین“ کی بنیاد رکھ دی۔ سلجوقوں

Read more

یوم یکجہتی کشمیر اور ہم

جانے کیوں دبائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز میں پوچھتا ہوں کہاں اٹھائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز طارق، ایوبی اور قاسم کو یاد کرو ہم سے کیوں بھلائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز آگے بڑھو ساتھ دو سرفروشوں کا جاؤ وہاں جہاں لگائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز سید یوسف نسیم کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 1990 ء میں شروع ہونے والی

Read more

لارنس آف عربیہ نے کیسے ایک عظیم الشان سلطنت کا شیرازہ بکھیرا؟

لارنس نے 1911 میں بصرہ کے ایک ہوٹل میں اپنا خفیہ ادارہ قائم کیا ، وہ مسلسل اہم معلومات راز برطانیہ منتقل کرتا۔ لارنس عربی زبان بولنے میں بھی مہارت رکھتا تھا ، اس نے اپنے مشن کو کامیاب بنانے کی غرض سے ڈرامہ کیا ، وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور قبول اسلام کا جعلی اعتراف کر لیا۔ اب وہ عربوں میں ایک نیک شخصیت کے طور پر مشہور ہو گیا۔ لارنس نے عربوں میں غدار سرداروں اور دیگر باغی لوگوں کو تلاش کر کے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ جو ساتھ شامل نہیں ہونا چاہتے تھے ان کو قوم پرستی کے جذبات میں الجھا کر اپنے ساتھ ملا لیا۔

Read more

ارطغرل ڈرامہ اور ماضی پرستوں کا جوش

آحرکار یکم رمضان 2020 کی وہ متبرک گھڑی آن پہنچی جب سرکاری چینل پر سیدی ارطغرل کی زیارت ہوئی۔ بس دل باغ باغ ہو گیا، خوشی کے عالم میں رخساروں پر آنسو بہہ نکلے اور یہ سوچ کر تو میں زار و قطار رو پڑا کہ اس سلسلے میں ہمارے ہردلعزیز وزیراعظم کی کتنی کاوشیں ہیں، کیسے خون پسینہ ایک کر کے انہوں نے یہ ڈرامہ سرکاری چینل پر نشر کروایا، بس پھر کیا تھا یہ سوچ ذہن میں آتے

Read more

ارطغرل ڈرامے کا ایک سین اور دوسری شادی

یہ تحریر شادی شدہ مرد حضرات کے لئے ہے البتہ ان کی بیگمات بھی پڑھ سکتی ہیں۔ پاکستان میں کثرت ازدواج کی ہمیشہ سے حوصلہ شکنی رہی ہے اور اس بابت یار دوستوں نے کئی لطیفے اور طریقے بھی گھڑ رکھے ہیں لیکن ان پر عمل کرنے سے سبھی قاصر ہیں اور وجہ شاید نامعلوم خوف ہے۔ ہمارے ایک استاد محترم کہا کرتے تھے کہ دنیا کے 99 فیصد مرد زن مرید ہیں لیکن جو ایک فیصد اس بات سے

Read more

ارطغرل ڈرامہ میں چھپا سبق

پاکستان میں ارطغرل ڈرامہ بڑے شوق سے دیکھا جا رہا ہے، اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈرامے کے مرکزی کردار ارطغرل (انگین التان) سمیت دیگر اداکار جو حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں ہیں انھیں پاکستانیوں کی طرف سے بے پناہ پیار اور محبت ملا اور ابھی بھی مل رہا ہے۔ یہ بات بتانے کی وجہ یہ ہے ارطغرل ڈرامہ کو دیکھ کر ہم جذبہ ایمانی توتازہ کرلیتے ہیں لیکن اس

Read more

ملکہ حسن کہلانے والی اداکارہ صابرہ سلطانہ

میری خوش قسمتی تھی کہ پاکستانی فلمی صنعت کی نامور اداکارہ صابرہ سلطانہ سے پچھلے دنوں زرین پنا کی معرفت ایک نشست ہوئی۔ بہت سی باتیں ہوئیں۔ انہوں نے کچھ پیغامات بھی دیے اور تلخ حقیقتیں بھی بتائیں جو ان کے مطابق سامنے آنا چاہئیں : ”سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ صابرہ سلطانہ میرا اصلی نام ہے۔ بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے میرا نام رابعہ بتلایا گیا ہے جو صحیح نہیں۔ میرا بابائے اردو کے

Read more

سوات میں خوشی پر پرچہ کاٹنے والے

پختون روایات کے تحت مکمل پختون، پشتو بولنے والے صرف اس فرد کو کہا جاتا تھا جس کی جائیداد یعنی زمین ہوتی تھی۔
زمین کے بغیر پشتون ہمسایہ اور کسی فن (لوہاری، ترکھانی، کمہاری، کپڑا سازی وغیرہ) میں طاق ہونے کی بناء پر کسب گر کہلاتا تھا۔ یہ لوگ زمیندار پشتون کے ہاں رشتے کے اہل نہیں تھے نہ ان کے گھر سے وہاں رشتے لئے جاتے تھے۔ مُلا بھی اسی معاشرتی درجہ بندی کا حامل تھا، جو غیر زمیندار پشتون کے لئے مقرر تھی، البتہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں عزت کا تھوڑا زیادہ حقدار تھا، لیکن مکمل پشتون کے برابر تھا نہ اس کی بات کی کوئی اہمیت تھی، البتہ عالم اور خصوصاً وہ جو زمیندار ہوتا، اس کا رتبہ دینی علم اور خاندانی نجابت کی بنا پر باقی زمینداروں کے برابر تھا، بلکہ بعض اوقات ان کی بات مذہبی معاملات میں راجح ہوتی۔

Read more

قسطنطنیہ کی فتح اور سلطان محمد فاتح

21 سالہ عثمانی سلطان محمد فاتح سپہ سالار بن کر غیر متوقع طور پر اپنی فوج کے اگلے مورچوں پر پہنچ گئے اور شہر پر زبردست حملہ کیا۔ توپوں کی گولہ باری کی وجہ سے جس جگہ سے شگاف تھا۔ وہاں گھمسان کا رن پڑا۔ سلطان محمد بھی عزم و حوصلے کی اعلیٰ مثال تھے۔ خود کمان سنبھال کر ایک شدید اور تازہ دم حملہ کروایا۔ ادھر رومی بھی بڑی بے جگری سے لڑے۔ لیکن ادھر سلطان محمد بذات خود بھی بہادری اور شجاعت کی زندہ مثال بن گئے۔ سلطان محمد کے شاہی دستے نے سلطان کی کمان میں آ کر ایسا کاری حملہ کیا اور شاہی دستہ شہر میں داخل ہو گیا۔ اس کے پیچھے عثمانی فوج داخل ہوتی چلی گئی۔ دیوار پر حسن (جو کہ شاہی دستے کا کمانڈر تھا) نے عثمانی پرچم لہرا دیا۔

Read more

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

ہمارے وقت کے حکمرانوں کو بڑی فکر لگی رہتی ہے کہ، مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پہ ظلم و ستم ہو رہا ہے، بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، لوگوں کو صرف اپنے حقوق کی مانگنے پر جسمانی اذیتیں دے کر مارا جا رہا ہے۔ ان تخت پہ بیٹھے تاجداروں کو یہ بھی رنج ہے کہ، فلسطین میں اسرائیلی بربریت کے سبب، بے گناہ فلسطینی روز ہلاک کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی ہمارے حکمراں برما اور انڈیا کے

Read more

حاکم کے مردہ ضمیر کی لاش بھی دفنا دیں

کیا کسی حاکم وقت کی بے حسی، سنگدلی اور بے رحمی اس درجے کو بھی پہنچ سکتی ہے کہ وہ بے دردی سے شہید کیے جانے والوں کی لاشوں کو بلیک میلر کہہ دے۔ خان اعظم فرماتے ہیں کہ دنیا میں اس طرح کبھی کسی وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاتا۔ جناب خاقان اعظم صاحب دنیا میں اس قدر سفاک، پتھر دل اور بے رحم وزیراعظم بھی کوئی نہیں ہوتا جو اتنے بڑے سانحے کے فوراً بعد وہاں پہنچنے کے بجائے دارالحکومت میں بیٹھا اپنے پالتوں کتوں سے کھیلتا رہے اور ارطغرل ڈرامے کی ٹیم کے ناز اٹھاتا رہے اور جب اسے سانحۂ مچھ کی لاشوں کے بارے میں اطلاع دی جائے تو وہ اسے بلیک میلنگ سے تعبیر کرے۔

Read more

ہزارہ والو تم نڈر وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کر سکتے

اتوار کو مچھ میں ہزارہ کان کن مزدوروں کو گلے کاٹ کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ چھٹا دن ہے کہ مظاہرین ان کی میتیں سامنے رکھے بیٹھے ہیں اور اس وقت تک تدفین سے انکاری ہیں جب تک وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی وہاں تشریف نہیں لے جاتے۔ وزیراعظم نے فوراً اپنے اہم ترین مشیر خاص زلفی بخاری کو بھیجا۔ زلفی بخاری مظاہرین سے ملے اور وزیراعظم کے آنے کے مطالبے پر نہایت دلگیر انداز میں ان سے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو کیا فائدہ دیں گے جب وہ آئیں گے۔

یہ ایک کلیدی سوال ہے۔ ہزارہ والے کمزور سی اقلیت ہیں، وہ بھلا کسی کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ دنیا کی چھٹی بڑی ایٹمی قوت کا وزیراعظم ان سے ملنے کا سوچے؟ وزیراعظم ایک مصروف شخص ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہزارہ والوں کے متعلق تین چار ٹویٹس کر دی ہیں، وہ مزید کیا چاہتے ہیں؟

Read more

کورونا پر سنجیدہ دانشوری

ساقی نے سینی ٹائزر کی بجائے ڈیٹول صابن کا پانی بنا کر رکھا ہوا تھا جس سے وہ عالمی وبا کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ساقی نے ہاتھوں کو وائرس سے پاک کیا اور کہنے لگا یہ حکومتی لوگوں کو اپوزیشن کے جلسوں کے ساتھ کورونا ایسے یاد آتا ہے جیسے کڑاہی کے ساتھ چٹنی یاد آتی ہے اور خود یہ ایسے کام کر رہے ہیں کہ وبا پھیلے نہ پھیلے عوام ان کے گرد ضرور پھیل جائے گی۔ میں نے کہا ساقی یہ عمران خان تو کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک جا رہی ہے۔ ساقی کہنے لگا یہ باتیں اسحاق ڈار بھی کرتا تھا وہ تو ہارڈ ٹاک والے نے انیل کپور بن کر نائیک کی طرح اس کا ڈراپ سین کیا۔ ورنہ یہاں کچھ لوگ ابھی بھی کہہ رہے تھے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو لے آؤ۔

Read more

معاہدہ لوزان: کیا 2023ء میں خلافت بحال ہو جائے گی؟

ہمارا ملک بھی کمال کا ملک ہے وقتاً فوقتاً لوگوں کی ”نشو و نما“ کے لیے ہماری ریاست، سیاستدان، علماء اور صحافی حضرات مختلف ”پروگراموں“ کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا کہ ”طاغوت“ کی ”سازشوں“ کی وجہ سے ہمارے لوگوں خاص طور پر نوجوان نسل کی ”تخلیقی صلاحیتوں“ پر زد نہ پڑے۔ کبھی انہیں بتایا جاتا آپنے لال لال لہرانا ہے، تو کبھی لال قلعہ پر سبز لہرانا ہے ہر ”مقصد“ کے حساب سے ”پروگرام“ ترتیب دیا

Read more

ترکش ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی اور اس پر ہونے والی تنقید

چند ماہ بیشتر ترکی کا ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی دیکھنے کا آغاز کیا، اس ڈرامہ کو کسی حد تک افسانوی اور تاریخ کا بہترین امتزاج کہیں تو یہ زیادتی نہیں ہوگی، یہ ڈرامہ دیکھتے وقت آپ محسوس کریں گے کہ اس کی کہانی، ایکٹنگ، لوکیشن اور کیمرہ ورک پر کس قدر محنت کی گئی ہے، ایک دو اقساط کو دیکھنے کے بعد آپ اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو مزید دیکھنے سے روک نہیں

Read more

اپنا وقت کب آئے گا

”اچھے وقت اچھی یادیں بن جاتے ہیں اور برے وقت اچھے سبق بن جاتے ہیں“ ۔
”کبھی کبھی زندگی میں آپ کی صورتحال اپنے آپ کو دہراتی رہے گی جب تک کہ آپ اپنا سبق نہ سیکھیں“ ۔

ہماری ملکی صورتحال اب تک نازک مراحل میں ہے اور مزید رہنے کے قوی امکانات ہیں۔ افسوس ہم اپنے وقت سے کچھ نہیں سیکھتے، آج کے حاکم کل کے محکوم تاحد نگاہ حماقتوں کے شاہکار ہیں، مزید آنے کی امید پر دنیا قائم ہے۔ بقول حزب اختلاف لاہور جلسہ ہو گا چاہے عوام کی جانوں کا ضیاع ہی کیوں نا ہو، یہ وہی حزب اختلاف ہے جو لاک ڈاؤن نا لگانے پر میرے کپتان کا تمسخر اڑاتی تھی۔ اب بضد ہیں کہ جینا ہو گا مرنا ہو گا جلسہ ہو گا جلسہ ہو گا۔

Read more

ارطغرل کے ہیرو اینگن التن کی پاکستان آمد، کسی کو بے حد خوشی تو کسی کو خبر ہی نہ ہوئی

اینگن التن کے دورہ پاکستان پر سوشل میڈیا پر جہاں ان کے شائقین بھرپور خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیے تو وہیں کچھ لوگ تو یہ بھی پوچھ بیٹھے کہ یہ آخر پاکستان آئے کب؟

Read more

فرانسیسی ملکہ انٹونیٹ کا کیک اور ترک ڈرامہ یونس ایمرے

تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کے رویے ہمیشہ سے ایک جیسے رہے ہیں۔ بادشاہت ہو یا شخصی آمریت یاپھر نیم جمہوری نظام جو بھی مسند نشیں ہوا اس کا لب ولہجہ عام انسانوں جیسا نہیں رہا۔ فرانسیسی عوام روٹی کو ترس رہے تھے اور آٹے کی قلت کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ ملکہ میری انٹونٹ نے عوامی احتجاج کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کم نصیب بھوکے ہیں اور آٹے کی قلت کے

Read more

دیوار سے لگے وزیر اعظم روحانیت میں پناہ لیں گے!

ایک ایسے وقت میں جب سوچ سمجھ رکھنے والا ہر شخص پاکستان میں جاری سیاسی تصادم کو ختم کرنے، بات چیت کے ذریعے غلط فہمیاں دور کرنے کی اور مستقبل کا راستہ تراشنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ہم نیوز کے لئے حمزہ علی عباسی کو انٹرویو میں جلتی پر تیل پھینکا ہے۔ ملکی سیاست کو اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر اعظم کے پاس نہ دلائل نئے ہیں اور نہ ہی وہ ملکی مسائل کے بارے میں سائنٹیفک طرز عمل اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی ہیں۔ انٹرویو کا آغاز ہی عمران خان کے روحانی سفر سے ہوتا ہے اور اس سفر کی تفصیل بتاتے ہوئے وہ خود ستائی کی بار بار دہرائی ہوئی کہانی سنانے کے بعد ملک کو دینیات، روحانیت اور اخلاقیات کے ایسے راستے پر گامزن کرنے کی بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے پہلے ہی ملک میں سماجی انتشار، فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرتوں کے بوجھ سے توازن تلاش کرنا مشکل ہو چکا ہے۔

Read more

’محبتیں چاہتیں‘ کی اداکارہ ارمینا رانا خان: ’انگلینڈ میں ہونے کی وجہ سے میں اچھے کرداروں کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہوں‘

اداکارہ ارمینا خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فلم سے بڑا میڈیم ٹی وی ہے جس سے دور رہنا اپنے مداحوں اور کیریئر دونوں کے ساتھ ناانصافی کرنے کے مترادف ہے، میری کوشش تھی کہ خواتین کے حقوق پر کوئی ڈرامہ کروں لیکن ہمارے ہاں ایسی سکرپٹس نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی ہیں تو اس کے لیے اداکاراؤں میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے۔

Read more

پاکستانی اقلیتیں اور اسلامو فوبیا

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک فقیر کے آگے آگے ایک عورت چلتی جا رہی تھی۔ بناؤ سنگھار سے تو لگ رہا تھا کہ وہ کسی شادی یا خوشی کی تقریب پر جا رہی ہوگی ورنہ عام حالات میں عورتیں اتنا سجتی سنورتی ہی کب ہیں۔ عورت کے پیچھے پیچھے ایک بچہ جس کے تن پر کپڑے بھی پورے نہیں اور پاؤں میں جوتا بھی نہیں تھا۔ بچہ ماں کے پلو پکڑے عورت کے ساتھ ساتھ رہا تھا اور رو

Read more

خادم رضوی اور مذہبی شدت پسندی

انسان کا عقیدہ، اس کی اندرونی و بیرونی شخصیت کو تشکیل دیتا ہے۔ عقیدہ یعنی وہ افکار و نظریات جن کا انسان معتقد ہو۔ یہ افکار و نظریات چونکہ انسان پر غالب ہوتے ہیں اس لیے اس کا عمل انہی کا عکس ہوتا ہے۔ عقیدہ و نظریہ ٹھیک ہو تو عمل ٹھیک، عقیدہ و نظریہ خراب ہو تو عمل خراب۔ خاص طور پر جب مذہبی عقائد کی بات آ جائے تو انسان جس چیز پر ایمان رکھتا ہے اسی کو

Read more

ارطغرل کی چار چاند ریٹنگ اور بڑھتی ہوئی فحاشی

یقین جانیں میں پاکستان کے سیاسی حالات کو دیکھ کر تھک چکا ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہماری سیاست کس طرف جا رہی ہے۔ روزانہ سیاستدان اپنے حریفوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ مگر نہیں جانتے کہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں۔ آپ ایک پل کو ہمارے سیاستدانوں کی باتوں کا مشاہدہ تو کریں۔ سوائے مخالفیں کو لتاڑنے، ایک دوسرے کی تذلیل کرنے، اور سوائے ایک دوسرے کو جھوٹا مکار ثابت کرنے کے

Read more

ہماری حالیہ تاریخ کے سات بڑے قومی المیے

قوموں کی تاریخ بے شمار نشیب و فراز کا مجموعہ ہوتی ہے۔ وطن عزیز بھی کبھی کامیابیوں تو کبھی المیوں کا شکار رہا۔ مگر ہم ایشوز کو نان ایشوز اور نان ایشوزکو ایشوز بنانے میں کمال کا ملکہ رکھتے ہیں۔ ویسے بھی پریم چند کے مطابق تاریخ میں سوائے کردار کے کچھ بھی سچ نہیں ہوتا۔ آئیے چند مضحکہ خیز ایشوز کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں ہماری قوم نے قومی المییے بنا دیا ہے۔ 1۔ دانش کی موت۔

Read more

طیب اردوغان: خطے میں دھاک بٹھانے کی اردوغان کی کوششیں اور ترک کرنسی کی قدر میں کمی

ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کے ممالک لیبیا، شام اور قبرص کے آس پاس ترکی کی دخل اندازی نے سرمایہ کاروں کو بدظن کر دیا ہے۔

Read more

ہم چودھویں صدی میں زندہ ہیں

ناطقہ سر بہ گریباں ہے، عقل محو حیرت ہے، ہوش و خرد انگشت بدنداں ہے، فہم و فراست سر پیٹ رہی ہے، شعور و آگہی سراپا احتجاج ہے اور احترام آدمیت و شرف انسانیت رو پیٹ رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم کدھر جا رہے ہیں۔ نئے پاکستان والوں نے اقتدار کے نشے میں قائد اعظم کے لگائے گئے باغ آزادی میں قومی مفاد، ملکی وقار اور تبدیلی کے نام پر ایسے ایسے گل کھلائے ہیں کہ اقبال و قائد کی روحیں بھی تڑپ اٹھی ہوں گی۔

کراچی میں رو نما ہونے والے واقعے نے ملک عزیز میں برائے نام جمہوریت کا پردہ بھی بری طرح چاک کر دیا۔ نام نہاد جمہوریت کی حقیقت سے یوں تو ہر شخص آشنا تھا، مگر دنیا کو دکھانے کے لیے جمہور اور جمہوریت کا یہ چہرہ بھی غنیمت تھا۔ مگر ہائبرڈ سیٹ اپ نے اس چہرے سے بھی جمہوریت کے مصنوعی غازے کو اتار کر اس کی اصلیت ظاہر کر دی۔ غضب خدا کا اکیسویں صدی میں بھی ہمارا چلن تیرھویں صدی کے فاتحین کی طرح ہے۔ بھارت سے تو ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اس نے 65ء میں رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کر کے بزدلی کا ثبوت دیا، مگر ہم نے بھی تو نیم شب کے اندھیرے میں پورے صوبے کی پولیس چیف کو یرغمال بنا کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پائے مال کرتے ہوئے ہوٹل کے دروازے توڑ کر ووٹ کو عزت دینے اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگانے والے ”باغی“ اور ”غدار“ کو گرفتار کر کے، ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سر حدوں کی حفاظت کرنے کی نہایت بھونڈی کوشش کی۔

Read more

مالک اشتر کی جنوں پاشی

فیسبک کی جگمگاتی دنیا میں جو سنجیدہ نوجوان حلقۂ احباب میں شامل ہوئے یا جنہوں سے اپنی منفرد تحریروں سے متاثر کیا انہیں میں ایک نام مالک اشتر کا بھی ہے۔ پیشے سے ایک پروفیشنل صحافی ہیں اور حالات حاضرہ، مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر ان کا رخش قلم ایک رفتار سے رواں دواں رہتا ہے۔ میری اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ میں نے جانا ہے اس حوالے

Read more

میرے دیس کا بسکٹ اور سانڈے کا تیل

پچھلے دنوں وطن عزیز میں ٹیلی وژن پر چلنے والے بسکٹ کے ایک اشتہار کو لے کر خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسئلہ بسکٹ کی کوالٹی، ذائقے یا قیمت کا نہیں تھا مگر ہماری صحافت کے ایک سرخیل کو بسکٹ بیچنے کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔ ان کو لگا کہ اشتہار میں بسکٹ کی مٹھاس اور اس کو پیش کرنے والی محترمہ کے خد و خال اور ان کی لطافت کو گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ ان کو اعتراض تھا کہ اب اس موئے بسکٹ کو کون دیکھے گا، سبھی اس رنگین اور تھرتھراتی ہوئی پیسٹری کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ بس پھر کیا تھا ان کے ایمان نے جوش مارا اور انہوں نے پیمرا کو للکارا اور اس کے ایمان کو جھنجوڑا کہ وہ اس بے ہودہ اور فحاشی کے علم بردار اشتہار کو فوری طور پر بند کرے۔

خدا جانتا ہے جب تک محترم صحافی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی تھی میں ٹی وی پر چلنے والے بسکٹ کے اس اشتہار میں صرف بسکٹ کو ہی دیکھتا تھا۔ ایک عام میڈیا صارف کی طرح میرے ذہن میں بھی یہی تھا کہ بسکٹ کا نیا اشتہار آیا ہے۔ پھر اس میں دیس کا بھی تو ذکر تھا، اب اتنے محب وطن تو ہم ہیں ہی کہ کہیں دیس کا ذکر ہو رہا ہو تو توجہ کر لیتے ہیں۔ میں داد دیتا ہوں اس مرد مجاہد کو جس نے بر وقت اپنی عقابی اور ایکسرے سے مزین نظروں سے اشتہار میں وہ عنصر دیکھ لیا، جو آگے چل کر معاشرتی انتشار، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی کا باعث بنتا۔

Read more

شجر الدر: ایوبی خاندان کے آخری فرمانروا کی بیوہ کا غلام سے طاقتور ملکہ بننے تک کا سفر

مؤرخ کہتے ہیں کہ شجر الدر آغاز میں ایک پُرعزم اور خوبصورت روپ میں مصر میں نمودار ہوتی ہیں۔ لیکن بعد میں یورپ کی ایک طاقتور صلیبی فوج کو ناکام بنا کر خود کو ایک ذہین سیاستدان میں بدل لیتی ہیں۔

Read more

سلطنت عثمانیہ: کیا ترکی اپنے ’اسلامی عہد زریں‘ کی تاریخ دہرانے کی کوشش کر رہا ہے؟

اگر آپ دنیا کے نقشے پر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، مشرقی بحیرہ روم اور وسطی ایشیا کے علاقوں کو دیکھیں تو آپ شاید تقریباً تمام جنگ زدہ یا کشیدگی کے شکار علاقوں میں ترکی کی موجودگی دیکھ کر حیران ہوں گے۔

Read more

سلطنت عثمانیہ: کیا ترکی اپنے ’اسلامی عہد زریں‘ کی تاریخ دہرانے کی کوشش کر رہا ہے؟

اگر آپ دنیا کے نقشے پر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، مشرقی بحیرہ روم اور وسطی ایشیا کے علاقوں کو دیکھیں تو آپ شاید تقریباً تمام جنگ زدہ یا کشیدگی کے شکار علاقوں میں ترکی کی موجودگی دیکھ کر حیران ہوں گے۔

Read more

پنجاب کا سورما، دلا بھٹی

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ یہ صاحب اقتدار کی مرضی و منشا کے مطابق لکھی جاتی رہی ہے، جس کے باعث اکثر ہیرو کو ولن کا روپ دے دیا گیا۔ بسا اوقات یہ کارروائی بھی کی گئی کہ مخالف کرداروں کا ذکر ہی لوح تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ تاریخ کی نفی در اصل اخلاقی کمزوری ہے۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کے بیش تر ہیرو سے نا واقف ہیں۔ جس معاشرے میں سکندر یونانی کو ہیرو گردانا جائے، وہاں عجب نہیں کہ مقامی ہیرو کے متعلق لا علمی موجود ہو۔

ایک زندگی طبعی ہے جو اوسطاً ستر سال پہ محیط ہوتی ہے، مگر ایک زندگی وہ ہے جو انسان پس مرگ جیتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کے ایک ایک لمحہ کا خراج دینا ہے یا جواں مردی سے جینا ہے۔ یہاں پنجاب کے ایک ایسے جنگجو کا ذکر ہے جسے تاریخ کے صفحات اتنی سطریں نہ دے سکے، جتنی اس کے شایان شان تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے تاریخ دانوں نے تو اس کی بہادری و جواں مردی کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا، مگر اس کا کردار زندہ رہا۔ جس نے شاہی صحیفوں میں جگہ نہ پائی، وہ عوام کے دلوں میں جگہ پا کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

Read more

رام کوٹ کی سیر

معلوم ہوا کہ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ کے زیر سر پرستی، سینیئر اور جونئیر صحافیوں

کا وفد، یوم سیاحت کے عالمی دن کے موقع پہ رام کوٹ کی سیر کو جائے گا۔ فوراً انٹرنیٹ سے مدد لی اور رام کوٹ کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور اس کے بعد اسے دیکھے بنا جی کو کہاں سکون ملنا تھا۔ دل اتنا بے قرار تھا کہ قدرت کے اس شاہکار کو دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ شدت طلب چشم کا یہ عالم تھا، جیسے سات سمندر پار سے محبوب اپنی محبوبہ کو دہایوں بعد ملنے چلا ہو۔ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ صحافیوں کے لئے ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے، تا کہ پیارے وطن کے ان علاقوں کو دریافت کیا جائے، جو عام طور پہ عوام کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ اس کا مقصد میڈیا کے پلیٹ فارم سے، دنیا کو پاکستان کی جھلک دکھلانا ہے کہ ہماری دھرتی کیسی دل کش اور خوش نما ہے۔

Read more

گالا بسکٹ کے اشتہار ہر بحث: ’کیا اس معاشرے کو ہنستی، مسکراتی، گاتی، جھومتی خواتین سے نفرت ہے؟‘

گذشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹی وی پر چلنے والا بسکٹ کا ایک اشتہار زیرِ بحث ہے جس میں دکھائے جانے والے رقص کو ’مجرے‘ کا نام دیتے ہوئے اس اشتہار اور پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) کے کردار پر تنقید جاری ہے۔

Read more

سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک

جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔

Read more

یہ آگ لگنے سے پہلے کا وقت ہے لوگو!

میں نے جب 2016 میں ملٹری ایتھکس میں اپنی پی ایچ ڈی شروع کی تو COIN ( کاؤنٹر انسرجنسی) کے پہلے پہلے ٹریننگ سٹیشنز میں سے ایک یو ایس ملٹری اور نیوی کی ورکشاپس کا تھا جس میں لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے پیش لفظ میں نے اپنی نوٹ بک میں لکھ لئے۔ وہ پیراگراف انسرجنسی اور سیاسی طاقت کی تفریق کا تھا۔ پاکستان میں کتابیں زیادہ نہیں پڑھی جاتیں لیکن ترکی کا ایک شو ارطغرل بہت مشہور ہوا ہے۔ اس شو میں ایک بات کو زور دے کے سمجھایا گیا ہے کہ گورنمنٹ ریاست سے مختلف ہے۔ ریاست سے وفاداری کا مطلب گورنمنٹ کی اطاعت نہیں ہے۔ ارطغرل ریاست یعنی کہ سلطان کا وفادار ہے لیکن وزیر کی گورننس کے خلاف اس نے انت مچایا ہوتا ہے۔ اور پاکستان میں یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کو حکومت کا مخالف ہونا ریاست سے بغاوت نہیں ہے۔ یہ بات اگر ”ان“ کی سمجھ میں آجاتی تو آج پاکستان میں کوئی غدار نہ ہوتا نہ ہی ملک دو لخت ہوا ہوتا۔

Read more

انصار عباسی بھی ریپ شیپ کی شکایت کرنے کے قائل نہیں

ویک اینڈ کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت خوبصورت شام تھی لیکن مجھ سے بڑی سستی ہوئی۔ کمپیوٹر کے ساتھ چپکا رہا اور اٹھ کر کچن تک بھی نہیں گیا۔ نتیجہ یہ کہ سکون کے چند لمحے بھی ہاتھ نہ آئے اور شام حقیقی ماحول میں گزار دی۔ اپنی تعلیم و تربیت کے لیے انصار عباسی صاحب کے ٹویٹر پر گیا کہ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر ان کا ٹویٹ تو دیکھوں لیکن ابھی وہاں پہنچا ہی نہیں تھا کہ عباسی صاحب کا بالکل تازہ ولاگ سامنے آ گیا۔ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر اس ولاگ میں جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ صاحب کا ذکر پہلے چار منٹ تک کہیں نہیں تھا۔

انصار عباسی صاحب نے بتایا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب پاکستان میں فحاشی اور عریانی کے بہت بڑے مخالف ہیں لیکن وہ، یعنی جنرل صاحب، مایوس نہیں ہیں۔ جنرل صاحب کا حوصلہ وزیراعظم صاحب کی باتوں کی وجہ سے بلند ہے۔ وزیراعظم صاحب پرعزم ہیں کہ وہ پاکستان سے فحاشی اور عریانی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔ جنرل صاحب کا اس بات پر خوش ہونا ان کے نیک آدمی اور اچھے مسلمان ہونے کی بہت مضبوط دلیل ہے۔ اور اس سلسلے میں جنرل صاحب نے عباسی کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

Read more

شکیل پٹھان کی بائیسویں برسی کے موقع پر

پاکستان کے اقتداری ڈھانچے کے دو ادوار ہیں۔ پہلے ڈھانچے میں بھارت کے اترپردیش سے آئی بیوروکریسی نے پنجاب کی بیوروکریسی سے اتحاد کیا، جاگیردار اور مذہبی قوتیں اس کی فطری اتحادی بن گئیں، پچاس کی دہائی میں فوج اس اتحاد کا حصہ بنی، جس نے تیزی سے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا، بعد کے آنے والے برسوں میں شہری صنعت کار بھی اس گروہ کا حصہ بن گئے۔

دوسرا دور بھٹو کا دور تھا۔ ان کی حکومت صرف دو سال ہی اپنے اختیار کے تحت چلی، جس کے بعد پاکستان کی فوج نے خود ملکی معاملات کو سنبھالنا شروع کر دیا، اور اگلے چند سالوں میں مکمل طور پر واپس اسی قوت سے موجود نظر آتی ہے۔

Read more

برصغیر میں سامراجیت کی لاشعوری یا شعوری پذیرائی

تاریخ میں اس بات کا حتمی سراغ پانا مشکل ہے کہ طاقتور انسان کے کمزور انسان پر قابو پانے کی روایت کتنی قدیم ہے۔ شاید یہ ایک حیوانی جبلت ہے جو انسان میں روز ازل سے موجود ہے۔ اکثر علما نے طاقتور کے کمزور پر غالب آنے کے عمل کو سامراجیت (Imperialism) کی اصطلاح سے متعارف کروایا ہے۔ بادشاہت، شہنشاہیت، ریاستیں اور مذہبی اشرافیہ بھی کمزور پر طاقتور کے غالب آنے کی مثالیں ہیں۔ نوآبادیات (Colonialism) کی اصطلاح بھی سامراجیت کی طرح زیر دست پر زبردست کی بالا دستی کی تشریح کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

سامراجیت اور نوآبادیات بہت سی خصوصیات کی بنا پر ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کا تعلق مقبوضہ علاقوں یا مقبوضہ اقوام کے سیاسی، معاشی اور مذہبی معاملات سے ہے۔ نوآبادیات کی اصطلاح لاطینی لفظ کو لونس (Colonus) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب مویشی پالنے والے یا کاشت کاری کرنے والے کسان ہیں۔ اس لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسان اپنے مویشیوں سمیت جب کسی نئے علاقے میں وارد ہوں تو وہاں کے مقامی باشندوں کی مدد، تعاون اور اتحاد (اکثر اوقات طاقت کے بل پر ) کے ذریعے معیشت کی بڑھوتی پر توجہ دیں جو ان کے آبائی علاقے کی معیشت کو استحکام عطا کرسکے۔

Read more

ڈراما چینلز ہوش کے ناخن لے لیں

مشتری ہوشیار باش! اے آر وائی کے ڈراما ”جلن“ پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف عوام کی طرف سے پیمرا کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ تنبیہ کے باوجود پروڈیوسر، ڈائریکٹر، اور چینل نے کہانی کے مواد میں تبدیلی نہ کی لہذاٰ اخلاقی اور معاشرتی اقدار و روایات سے متصادم ہونے کی بنا پر اسے آن ائر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

پیمرا نے یہ اعلان ایک پریس ریلیز کی صورت میں نو ستمبر کو ڈرامے کی تازہ قسط آن ائر جانے کے بعد کیا۔

Read more

کردار کا کردار

اشرف المخلوقات کا وجود بدن اور روح کا مجموعہ ہے۔ بدنی ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لیے انسان دن رات ان تھک محنت میں مشغول رہتا ہے، لیکن انسان کی روح جو کہ اس کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس طرح کی فطرت کی حامل ہے، اس کے لیے دین اسلام عبادات اور حقوق العباد پورے کرنے کا درس دیتا ہے۔ خشوع و خضوع سے لبریز عبادت و سجود عبد خدا میں عاجزی سی پیدا کردیتے

Read more

یاسر حسین: ’باہر کا کچرا مال برابر‘ کہنے پر پاکستانی اداکار ارطغرل کے پرستاروں کی طرف سے تنقید کی زد میں

کامیڈین یاسر حسین کے ایک بیان پر انھیں ارطغرل کے فینز کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’گھر کی مرغی دال برابر اور باہر کا کچرا بھی مال برابر۔’ لیکن بعد میں انھوں نے واضح کیا تھا کہ ان کا اشارہ ارطغرل کی کاسٹ کی طرف نہیں تھا۔

Read more

اسرائیل امارات معاہدہ دوستی کی حقیقت

آخر کارعرب قوم پرستی (Nationalism) کا فریب بھی تمام ہوا۔ ‎مسلمانوں کی متحدہ قوت کو لارنس آف عریبیہ تتربتر کرکے بیت المقدس قبلہ اول چھین لیا اب مسلمانوں نے اپنے علاقے بھی پلیٹ میں رکھ کر صیہونیوں کو پیش کردیے گئے۔ اللہ تعالی، کے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیؑ سمیت دیگر رسولوں اور انبیاءکرام سے وفا نہ کرنے والے عربوں سے کیا عہد نبھائیں گے؟ متحدہ امارات کچھ بھی نہیں اس مکروہ کھیل کا مرکزی کردار آل سعود ہیں جن

Read more

اظہر علی: ’کوئی بھی کھلاڑی ایسا نہیں جو ارطغرل ڈرامہ نہ دیکھ رہا ہو‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک ایسی صورتحال میں انگلینڈ کا دورہ کر رہی ہے جس میں کووڈ 19 کی وجہ سے کرکٹرز کو ایک خاص ماحول میں محدود رہنا پڑ رہا ہے۔ وہ آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتے اور نہ ہی کسی باہر کے شخص سے مل سکتے ہیں۔

Read more

مسجد وزیر خان میں گانے کی شوٹنگ

پاکستانی اداکار اور اداکارائیں کسی نہ کسی بہانے سے اکثر اوقات خبروں میں رہتے ہیں۔ چاہے اس کے لیے انہیں اپنی عزت کا جنازہ کیوں نہ نکالنا پڑ جائے۔ ان کے نزدیک شہرت سے زیادہ کوئی بھی چیز اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بعض اداکار اور اداکارائیں دینی شعائر کا مذاق تک اڑانے کے لیے یا مذہبی شخصیات کی توہین تک کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ بہرحال پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران نکاح

Read more

آئیے اور پاکستانی ڈرامے کو چار چاند لگائیے!

عید الاضحیٰ کے ایام کے دوران پی ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل پر دو ترک اداکاروں سے انٹرویو میں یہ سوال نہایت ذوق و شوق اور عاشقانہ چاہت سے پوچھا گیا: کیا آپ پاکستانی ڈرامے اور فلموں میں کام کرنا چاہیں گے؟ کچھ ان دونوں کے بھی جذبات امڈ آئے اور وہ کہنے لگے : جی ہاں، کیوں نہیں؟ اگر ہمیں سکرپٹ پسند آیا تو ضرور پاکستانی ڈراما (یا فلم) میں کام کریں گے۔ انٹرویوز میں پوچھے گئے

Read more

ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے اینگن التن دزیتن کا انٹرویو: ’پاکستان سے کوئی اچھی آفر آئی تو ضرور قبول کروں گا‘

ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اینگن التن دزیتن کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بھی ڈرامہ یا فلم بار بار نہیں دیکھتے تاہم انھوں نے ارطغرل کی شوٹنگ کے دوران اپنی پرفارمنس کو بار بار ضرور دیکھا تھے تاکہ وہ کوئی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں۔

Read more

عثمانی نشاۃ ثانیہ

ترکی کے صدر طیب اردگان کو نماز جمعہ میں لاکھوں نمازیوں کے جم غفیر میں تلاوت کرتے دیکھا اور اسی دوران ذہن میں ترکی کے ہردلعزیز ڈرامہ ارطغرل کا خیال بھی ذہن میں آیا۔ یادداشت کے پردے پر کچھ نقش ابھرے اور فیصل مسجد میں نماز ادا کرتے ایک پاکستانی صدر مملکت کی یاد تازہ ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ نسیم حجازی اور سلیم احمد کے تحریر کردہ پی ٹی وی کے اردو سیریل آخری چٹان اور شا ہین بھی

Read more

ارتغرل نہیں، عبدالسلام ہمارا ہیرو ہے

زندہ قومیں اپنے قومی ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ انہیں زبان، ذات، رنگ، نسل، مذہب و مسلک سے بالاتر ہوکر عزت بخشتی ہیں اور ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں کئی جنگجوؤں کو اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کے دفاع اور ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر قوم میں جذبہ محب وطنی سے سرشار لوگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے وقت آنے پر

Read more

ارطغرل: کیا ترکی کے صدر طیب اردوغان کی اسلامی قوم پرستی کا ہدف سلطنتِ عثمانیہ کی بحالی ہے؟

ترک رہنما اسلام کے شاندار ماضی کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس ڈرامے کے ذریعے چاہے اپنے حامیوں کو متحرک کر لیں لیکن وہ عثمانیہ سلطنت کو پھر سے زندہ نہیں کر سکتے۔

Read more

ارطغرل غازی شوق سے دیکھیں: نام نہاد فتوؤں کی کوئی دینی وقعت نہیں

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی روایتی فلموں میں میرے لیے دلچسپی اور کشش کا کوئی سامان کبھی نہیں رہا۔ زمانہ طالب علمی میں بھی نہیں۔ ہاں البتہ تاریخی اور سماجی موضوعات پر ہندی اور انگریزی کی بعض فلمیں میری آل ٹائم فیورٹ بھی رہی ہیں۔ اور لندن میں دور ان طالب علمی اوپر ا ہاؤس کے تھیٹر شوز، شیکسپیئر کے ڈراموں اور عظیم رومن ایمپائر کی تاریخ اور یونان کی اساطیری کہانیوں اور فلسفوں پر مبنی دستاویزی فلموں نے

Read more

پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے پھر ٹی وی اور پٹرول ٹیکس کیوں؟

حکومت نے بجلی کے بل میں پی ٹی وی لائسنس فیس 35 روپے سے بڑھا کر سو روپے کر دی ہے۔ کیا مسلمانان ہند نے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی قربانی دے کر یہ اسلامی ملک اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں لوگوں سے زبردستی کی جائے اور انہیں بہ صد جبر و اکراہ پی ٹی وی دکھایا جائے؟ یا پھر حکومت حرام کے پیسے لے رہی ہے اور ان لوگوں سے بھی زبردستی ٹیکس وصول کر رہی ہے جو پی ٹی وی دیکھتے ہی نہیں؟

اب امت کو ضرورت ہے تو مولوی لوگ کہاں ہیں؟ اتنا بڑا غیر اسلامی کام ہو رہا ہے تو وہ نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ کیوں دھرنا نہیں دیتے؟ کیوں حکومت کے خلاف احتجاج نہیں کرتے؟ اس اسلامی جمہوریہ کے آئین نے انہیں پرامن احتجاج کا حق دیا ہے، وہ حق کب استعمال کیا جائے گا؟ کہاں ہیں مولانا فضل الرحمان، مولانا سراج الحق اور مولانا خادم رضوی؟

Read more

دیرلیش ارطغرل، ایک عظیم الشان سلطنت کا ابتدائیہ

تاریخ کو افسانے کی شکل میں ڈھالنے کا ایک مقصد ہوتا ہے کہ تاریخ کی اہم شخصیات کو اعلی خوبیوں کی علامت بنا دیا جائے اور کردار نگاری، ماجرہ سازی اور رومانیت کی آمیزش سے سے قارئین کے لیے ایک دلچسپ اور پر اثرداستان ترتیب دی جائے، اس سے ایک طرح کی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر قوموں کے زوال کے دور میں ان کے شاندار ماضی کو افسانوی رنگ میں رنگ کر مرقع اور

Read more

چور سے مافیا تک

حکمرانی کرنا بھی ایک فن ہے اور اکثریت اس فن سے بے بہرہ ہے۔ آپ موجودہ حکومت کی مثال دیں گے تو وہ ناراض ہوں گے مگر اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہو گا۔ ہر وہ بات جو وہ کرتے ہیں ان کے اپنے عمل سے متصادم ہے۔ کوئی بھی وعدہ لے لیں، کوئی بھی سبز باغ دیکھ لیں ابھی تک ویسے کا ویسے ہی ہے۔ حالاں کہ درختوں کی سونامی کا وعدہ بھی ابھی وفا ہونے سے قاصر

Read more

سرمد کھوسٹ کی فلم اور مجھے ’’بکری‘‘ بنانے والا ماحول

ترکی کے صدر نے پندرہ سو برس قبل تعمیر ہوئی ایک عمارت میں خلافتِ عثمانیہ کے دوران بنائی مسجد کی ”بحالی“ کا اعلان کیا تو اس کی بابت کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔متعلقہ کالم کے آغاز ہی میں نہایت دیانت داری سے اعتراف کیا کہ فیصلہ تاریخی ہے۔اس کا مثبت اور منفی ردعمل بھی شدید ترین ہوگا۔ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط اس کے بارے میں ذاتی رائے دینے سے البتہ گریز کیا۔زیادہ توجہ یہ سمجھنے پر مرکوز

Read more

آیا صوفیہ اور امت مسلمہ

عدالتی فیصلے کی روشنی میں صدارتی فرمان کے ذریعے ہم نے آیا صوفیہ کی بطور مسجد حیثیت کو بحال کر دیا ہے۔ اس طرح 86 سال بعد آیا صوفیہ ایک بار پھر سے بطور مسجد استعمال ہو سکے گی جیسا کہ فاتح سلطان محمد کے دور میں تھی۔ چونکہ اس کی حیثیت تبدیل کردی گئی ہے، لہذا ہم داخلے کی فیس منسوخ کر رہے ہیں۔ ”ہماری تمام مساجد کی طرح، اس کے دروازے بھی مسلم اور غیر مسلم سب کے

Read more

کیا مودی ہمارے بھی ہیرو ہیں؟

حضرت وجاہت مسعود صاحب کا پچھلے ہفتے کا نوحہ ”بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر“ مجھے دو، تین دن تک عجیب سی کیفیت میں مبتلا کیے رکھا۔ میں وجاہت صاحب کی قلمی طاقت اور معاشرتی درد و فکر کے بارے سوچ رہا تھا۔ وہ مجھے پرندوں کے اس جھنڈ میں دکھ رہے تھے جس کا ذکر فقیہہ حیدر اس شعر میں کرتے ہیں،

ہوا میں نوحہ کناں ہیں تھکے پروں کے ساتھ
پرندے جلتے شجر کا طواف کرتے ہوئے

Read more

ارطغرل غازی کے پاکستانی مداحوں کے لئے ایک اور مایوسی: ’’روشنی خاتون‘ کی بے باک تصاویر وائرل

ترک ڈرامے ارطغرل غازی نے پاکستان میں شہرت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں۔ اس ڈرامے کے کرداروں میں مذہب اور  عسکری فتوحات کی آمیزش نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں۔ تاہم اس ڈرامے مین مختلف کردار نبھانے والے اداکاروں اور اداکاراﺅں کی حقیقی زندگی کی تصاویر سامنے آتی ہیں تو پاکستانیوں کے ارمانوں پر پانی پھر جاتا ہے اور وہ ان پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ چند دن قبل حلیمہ سلطان کا کردار نبھانے والی اداکارہ

Read more

آیا صوفیہ جامعی

جیسے ہی آیا صوفیہ پر نگاہ پڑی،کیمسٹری کے ایک بزرگ استاد یاد آگئے۔ نام تو ذہن میں نہیں لیکن وہ بڑے باکمال بزرگ تھے۔ ان کی خدمت میں جب بھی حاضر ہوئے، کوئی نہ کوئی بات سیکھ کرہی نکلے۔ ایک روز انھوں نے بتایا کہ یہ جو بارہ مہنیوں کا کیلنڈر ہے، اس میں بڑی خرابی ہے۔کسی مہینے کے دن برابر نہیں۔ پوچھیں کہ ایساکیوں ہے تو عقل کا کوئی جواب نہیں ملتا: ’’پھر اس کا حل کیا ہے؟‘‘فرمایا کہ

Read more

تعلیمی نظام، لاک ڈاؤن اور والدین کی الجھنیں

لاک ڈاؤن کے آغاز سے ہی سکولوں کی آنلائن کلاسز کے بارے میں کچھ مبہم سی آوازیں سننے کو ملیں، جیسے جیسے لاک ڈاؤن کا دورانیہ بڑھتا گیا تو ہوم سکولنگ کی اصطلاح بھی سنائی دینے لگی۔ ہوم سکولنگ میں والدین بچوں کو سکول کی آنلائن کلاسز کی بجائے گھر پہ خود یا کسی ٹیوٹر سے پڑھوانے پر ترجیح دیتے ہیں اور سکول سے بچے کا نام خارج کروا دیتے ہیں۔

Read more

راجا داہر کی محبت میں مقدس ہستیوں کو چارہ نہ بنائیں!

محمد بن قاسم دریائے سندھ کے کنارے کھڑا تھا اور اس کی نظریں دریا کے اس پار موجود ایک عظیم الشان قلعے پر گڑی ہوئی تھیں۔ یہ قلعہ اس کے لیے مزید فتوحات کی راہ میں مزاحم ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ وہ جب بھی پیش قدمی کا ارادہ کرتا اس قلعے سے ان پر آگ کے گولوں اور پتھروں کی بارش شروع ہو جاتی۔ اس پار جانے کا راستہ بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی پل بنانے کا وقت اور موقع۔ آخرکار اس نے اپنے سپاہیوں کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا۔

تمام سپاہی میدان میں جمع ہو چکے تھے اور ان کے کانوں میں محمد بن قاسم کی ایمان افروز آواز گونج رہی تھی: میرے سپاہیو! مجھے اتنا بتاؤ کیا بحر اور برکا خدا ایک ہی ہے یا سمندر کا خدا الگ ہے اور خشکی کا خدا الگ؟ یہ کہہ کر وہ ان کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ”دونوں کا خدا ایک ہی ہے امیر محترم!“ تمام سپاہیوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔ یہ سن کر محمد بن قاسم بولا: اگر ایسی بات ہے تو دشمن پر ٹوٹ پڑو اور یہ یقین رکھو کہ جس خدا نے ہمیں خشکی میں ذلیل و رسوا نہ کیا وہ اس سمندر میں بھی ہمارے لیے راستے ہموار بنائے گا۔

Read more

آیا صوفیہ، ارطغرل، مسجد قرطبہ

اگلے ہفتے ترکی کی اعلیٰ عدالت استنبول کے آیا صوفیہ میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی سرکاری درخواست پر فیصلہ سنانے والی ہے۔ آیا صوفیہ ڈیڑھ ہزار برس پرانی عمارت ہے اور پانچ سو سینتیس عیسوی میں مشرقی سلطنت روم کے شہنشاہ جسٹینین نے دارالحکومت قسطنطنیہ کے شایان شان بطور گرجا تعمیر کروائی۔ نو سو برس بعد عثمانی سلطان محمد دوم نے چودہ سو تریپن میں قسطنطنیہ فتح کیا تو دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کی چھتوں اور گیلریوں میں کی گئی مذہبی مصوری کو ڈھانک دیا۔ اس عمارت میں نماز جمعہ کی امامت کی۔ بعدازاں معروف ترک ماہر تعمیرات سنان نے آیا صوفیہ پر اسلامی رنگ چڑھانے کے لیے عمارت میں میناروں کا اضافہ کروایا اور اسے باقاعدہ مسجد میں بدل دیا۔ اگلے پانچ سو برس تک یہاں نماز جاری رہی۔

آیا صوفیہ چرچ کے گنبد کا شکوہ اتنا متاثر کن تھا کہ جب سولہ سو سولہ میں استنبول میں عظیم الشان نیلی مسجد مکمل ہوئی تو اس کے ڈیزائن پر آیا صوفیہ کا آرکیٹیکچر غالب تھا۔ بعد ازاں عثمانی طرز تعمیر نے اسے اپنی تعمیراتی شناخت کا مستقل حصہ بنا لیا۔

Read more

حلیمے سلطان: ترک اداکارہ اسرا بلگچ کی پشاور زلمی کے نام ٹویٹ اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

اتوار کی شب اسرا بلگچ کی جانب سے پشاور زلمی کے سربراہ کو ٹوئٹر پر ٹیگ کر کے اچھی خبر کا عندیہ دینا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے ان کے اس پیغام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے آرا کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔

Read more

ارطغرل غازی: او کون لوگ او تسی؟

”آپ لوگ آزاد ہیں، آزاد رہیں۔ آپ لوگ اس ملک پاکستان میں اپنی اپنی عبادت گاہوں، مسجدوں یا مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ کے مذہب کا حکومت کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔“ یہ الفاظ قائد اعظم کی گیارہ اگست 1947ء کو کی گئی تقریر سے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کن اصولوں کے تحت وجود میں آیا۔ اس ملک میں اقلیتوں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو ایک مسلمان

Read more

ارطغرل ایک پروپیگنڈا: خاموش اسلامی ثقافتی ہتھیار

میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک مضحکہ خیز وقت سمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور ٹیلی ویژن کی رنگین روشنیوں کے سامنے گزارا۔ پچھلے کچھ سالوں سے انگلش ڈرامے خاص طور پہ میری توجہ کا مرکز بنے رہے۔ پریزن بریک، فرینڈز، بریکنگ بیڈ، گیمز آف تھرونز، سپار ٹکس، بگ بینگ تھیوری، وائکنگ، روم، اور منی ہا یسٹ میرے پسندیدہ ڈراموں میں سے ہیں۔ حال ہی میں ارطغرل ترکش ڈرامے کی ہائپ سنی تو سوچا یہ بھی دیکھ لیتی ہوں۔ اگرچہ بہت سے صاحب حیثیت لوگوں اور پاکستانی اداکاروں کو اس ڈرامے کے پاکستان میں نشر ہونے پر اعتراضات بھی سنے اور اس ڈرامے سے مغربی دنیا کا خوف بھی سامنے آیا تو اپنے شوق اور تجسس کے لئے اس ڈرامے کو دیکھنا شروع کیا۔

ایک ریسرچر ہوں تو ڈرامے کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت جاننے کی بھی کوشش کی، تو یہ جانا کہ یہ ڈرامہ تقریباً نوے فیصد افسانوی ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ اس میں اسلام کے تاریخی ہیرو ارطغرل اور دوسرے کرداروں کے بنیادی عقائد کو حقیقی معنوں میں من و عن پیش کیا گیا۔ پاکستانی عوام کی رائے ہمیشہ کی طرح اس معاملے پہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ کچھ لوگوں کو اس ڈرامے کے حق میں دیوانہ وار سوشل میڈیا پہ قربان ہوتے دیکھا اور کچھ لوگوں کو اس ڈرامے کو ترکش کلچر کہتے ہوئے اس کے خلاف زہر اگلتے دیکھا۔

Read more

نسلی القابات اور طاقت کا حصول

جب انسان نے اصل میں ہوش سنبھال تو زرعی دور کا افتتاح ہوچکا تھا۔ زرعی دور قبائلی دور نظام کو لایا تو اس میں بقا  کی جنگ یہ تھی کہ جس قبیلے سے خوف آتا تھا تو آپ اسے پہلے حملہ کرکے مار دیتے۔ آٹھ، دس ہزار سال تک یہ نظام چلا اس کے ساتھ ہی سلطنتوں کا وجود آ گیا تو وہاں بھی طاقت کے نظام کو برقرار رکھنے کے لئے محکوموں اور ممکنہ مخالفوں کو کچل دیا گیا۔

Read more

کرونا بیتی اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

آج سے سولہ دن قبل مجھے میری ہمشیرہ کا فون آیا جس نے انتہائی پریشانی کی حالت میں مجھے بتایا کہ اس کے میاں کو کرونا ہو گیا ہے۔ بات پریشانی کی تھی لیکن متوقع تھی کہ میرا بہنوئی ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہے اور ان دنوں ڈاکٹرز کے بھی کرونا سے متاثر ہونے کے کیسز اسی تواتر سے سامنے آرہے ہیں جتنے کہ عام لوگوں کے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ میرے بہنوئی کو کرونا ہو گیا مسئلہ یہ تھا ان کا گھرانا جو پانچ افراد پر مشتمل ہے، میں ان کے تین بچے دو بیٹیاں جن کی عمر 6 برس اور 4 برس اور ایک بیٹا جس کی عمر محض 6 ماہ تھی شامل ہیں، میں سے کس کس کو کرونا ہوا ہوگا؟

خیر سرکاری ادارہ تھا انہوں نے بہنوئی کو داخل کر لیا اور باقی گھر والوں کا ٹیسٹ لے لیا۔ ٹیسٹ کی رپورٹ دوسرے دن آئی جس سے معلوم ہوا کہ میری بہن اور اس کے 6 ماہ کے بیٹے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور دونوں چھوٹی بچیوں کا منفی یعنی انہیں کرونا نہیں۔ بہنوئی ہسپتال سے گھر آ گیا تاکہ اپنا قرنطینہ مکمل کرسکے۔ اب یہاں ننھیال اور ددھیال کا ایک امتحان شروع ہو گیا کہ ان دو چھوٹی بچیوں کا کیا کیا جائے جو ماں باپ سے الگ تو نہیں رہ سکیں گی۔

کیا انہیں ننھیال میں لے جایا جائے یا ددھیال میں، ابھی ہم اسی کشمکش میں تھے کہ بہن اور بہنوئی نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو آپ لوگ نہ لے کے جائیں کہ ٹیسٹ چوبیس گھنٹے پہلے لیا گیا تھا ممکن ہے ان چوبیس گھنٹوں میں بچے کرونا کیریئر بن چکے ہوں یعنی آپ لوگ رسک نہ لیں۔ ہم کسی طرح مینیج کر لیں

Read more

ترک ڈراما آتے ہی پاکستانی ڈرامے میں کیڑے نظر آنے لگے؟

جب سے ترک ڈراما ارطغرل غازی پی ٹی وی سے آن ائر جانا شروع ہوا ہے، عوام اور ادبا و قلمکار اس کے گن گاتے اور تعریفوں کے پل باندھتے نظر آتے ہیں۔ سوشل اور ویب میڈیا پر اس کا موازنہ موجودہ پاکستانی ڈراموں سے کر کے مقامی مواد کے خلاف گویا ایک محاذ کھول لیا گیا ہے۔ ہمارے لالی وڈ کے فلمی ہیرو شان شاہد کو اس بات پر بے جا تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انہوں نے

Read more

واہیات ڈرامے اور رشتوں کے تقدس کی پامالی

پاکستانی ڈراموں میں بے ہودہ پن اور عریانی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب بظاہر معاشرے کا ماڈرن طبقہ بھی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان واہیات ڈراموں کے ٹرینڈ چل رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ اب مکمل طور پر جنسیت، مختصر لباس، ناجائز تعلقات اور بے ہودگی و لچر پن کے گرد گھوم رہا ہے۔ ڈراموں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سپورٹ اور دھڑا دھڑ بنائے جا رہے ہیں۔

Read more

حلقہ این اے 15، اور نمائندوں کی منہ چھپائی کی رسم طویل

ترکش ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی نے جہاں اپنے ملک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے وہیں سرحدیں پھلانگتا ہوا پاکستان میں بھی شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ پچھلے دنوں اس کا سین نظر سے گزرا ایک خیمہ کے اندر کچھ لوگ بیٹھے کسی معاملہ پر گفتگو کر رہے ہیں اور قریب ہی ایک چراغ ٹمٹما رہا ہے، پھر کیمرا مین ایک اور سین کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے جس میں دکھایا گیا کہ بہت ہی دشوار گزار راہوں سے کچھ بہادر گھوڑوں پر سوار کسی مقصد کی طرف روانہ ہیں۔

بس اس سین پر نظر پڑی ہی تھی کہ حلقہ این اے 15 کے دیہی علاقوں نے دل و دماغ پر بسیرا کر لیا۔ کیونکہ کہ یہاں کے نمائندوں کی ڈھیر ساری مہربانیوں کی وجہ سے ان علاقوں میں اگر آپ کا جانا ہو، اور کچھ دن رہنا بھی پڑ جائے تو آپ یہاں کے بلند و بانگ پہاڑوں کے دل کش مناظر سے جہاں خود کو لطف اندوز ہونے سے روک نہیں سکیں گے وہیں کچھ خاص چیزیں یہاں کی ایسی ہیں جو شاید آپ بھلا دینا بھی چاہیں تو ممکن نہ ہو۔

Read more

کچھ پاکستانی ڈراموں کے بارے میں

میں ڈراموں کا زیادہ شوقین تو نہیں ہوں۔ لیکن پھر بھی ہلکی پھلکی نظر ضرور رہتی ہے۔ آپ کو پتا ہے اگر آپ ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوں تو ریموٹ کبھی نا کبھی ڈراموں پر بھی رک ہی جاتا ہے۔ کیونکہ اس وقت بے تحاشا پرائیویٹ چینلز ہیں، جن پر ڈرامہ، شوز اور مختلف سیریلز چل رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ٹیلی ویژن نہیں بھی دیکھ رہے ہوں تب بھی سوشل میڈیا پر ڈراموں کے بارے پتا چلتا رہتا ہے

Read more

حسن مہ گر چہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

انسانی شخصیت کا راز اس کے حسن کے تاثر میں مضمر ہے اور یہ تاثر جتنا منظم اور گہرا ہو سحر انگیزی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ نفسیات کے اساتذہ اس وحدت تاثر کو انسان کے پرسنلٹی سٹائل سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ انسانی یہ تاثر اس کے بدن، عقل و دانش، کردار اور مخصوص استعداد و لیاقت کے بغیر ممکن نہیں لیکن ہم یہاں یہ افسانہ بیان کرتے ہیں کہ انسان کو اشرف ومکرم اور سب سے حسین بنا

Read more

دجلہ کنارے کا پیاسا کتا

ہم نے ہمیشہ جانا کہ لکھنا کتھارسس کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب بھی کسی کو پریشان حال دیکھا تو یہ مشورہ دیا کہ اپنے دل کا غبار کاغذ کو سونپ دو۔ دل جب بھی دھڑکتا ہے، خون بہتا ہے۔ یہ پر سوز خون لفظ بن کر ہمارے قلم کی سیاہی کے ذریعے کاغذ تک پہنچتا ہے۔ یوں ہم کسی حد تک کتھارسس کر پاتے ہیں۔ مگر عجیب معاملہ ہے، لگتا ہے دکھ بڑھ جانے سے شریانوں میں کلاٹ بن

Read more

ابن رشد سے ارطغرل

ارطغرل کے اردو ورژن سے اہل اقتدار کا یہ مقصد تھا کہ نئی نسل یہ جان پائے کہ ہم کون تھے اور کہاں پہنچ گئے۔ اس دلیل کے سنتے ہی ذہن اپنے بچپن میں پہنچ گیا جب سرکاری سرپرستی میں با ئیالوجی۔ کیمسٹری فزکس اور جرنل سائنس کے پہلے چیپٹر قرآن میں موجود اس مخصوص سائنس پر ہوتے تھے اور دوسرے چیپٹر میں مسلم سائنسدانوں کا سائنس پر احسان پڑھایا جاتا تھا۔ بے شک مسلم سائنسدانوں کی خدمات اپنے وقت

Read more

کرونا وائرس: ہم اور ہماری بے حسی

جی ہاں بالکل چائنا میں کورونا چمگادڑ کھانے کی وجہ سے آیا، امریکہ میں اس عذاب کی وجہ امریکہ کا مسلم ممالک پر کیے جانے والا ظلم تھا، انڈیا اس موذی مرض کا شکار کشمیریوں پر جاری بربریت کی وجہ سے ہوا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جناب ہم تو مسلمان ہیں الحمدللہ نہ ہم نے چمگادڑ کھائے نہ ہی پاکستان نے دوسرے ممالک پر ایٹمی ہتھیار چلائے، نہ ہی کشمیر یا کسی اور ملک پر مظالم ڈھائے۔

Read more

حالیہ بجٹ اور ناامیدی

ریاست مدینہ میں مدینہ کی ریاست کا کوئی اصول اب تک نظر نہ آ سکا۔ جہاں انصار اور مہاجر کو ایک دوسرے کا بھائی بنا کر نہ صرف معاشی اسباب سے تقویت دی گئی بلکہ معاشرتی طور سے بھی اس بھائی چارے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ موجودہ حکومت سے عوام بے حد مایوس ہو چکی ہے یہ مایوسی نا امیدی میں تب تبدیل ہوئی جب رواں سال کا بجٹ پیش ہوا۔ اس بجٹ سے جہاں عوام کی امیدیں وابستہ

Read more

ہمارے سشانت کو ریسٹ ان پیس کہنے سے کیا ہو جائے گا؟

کیسی عجیب بات ہے کہ اس معاشرے میں، مجھے یہ بھی کوئی اور آ کر بتائے گا کہ میری نظر کو کون اچھا لگنا چاہیے اور کس کس کے لئے مجھے دل میں تعصب رکھنا چاہیے۔ آپ سوچیں عمر میں آپ سے دو تین سال کا فرق رکھنے والا، زندگی سے بھر پور ہنستا مسکراتا نوجوان چہرہ، آپ کو بھلا بھی لگتا ہو، اس کی اداکاری بھی آپ کو پسند ہو، اچانک اس کی موت کی خبر ملنے سے کیا آپ پریشان نہیں ہوں گے۔ اس پر افتاد یہ کہ آپ سوشل میڈیا کھولیں تو اس مرے ہوئے شخص کو لوگ گالیاں بک رہے ہوں، خودکشی کرنے پر اسے ڈبل جہنمی قرار دے رہے ہوں۔

Read more

مشک: پاکستانی ڈرامہ، فلم اور تھیٹر کا معیاری امتزاج

پاکستان فلم انڈسٹری یقیناً اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جب ایک مخصوص قسم کی فلموں کی بھرمار تھی غیر معیاری اداکاری، بے ربط ایڈیٹنگ، شہوت زدہ موسیقی، بے رنگ پرنٹ اور غیر حقیقی ڈبنگ۔ جس کی وجہ سے ناصرف معیاری اور گھریلو گھریلو قسم کی تفریح کے خواہاں سینما سے دور ہوگئے تھے بلکہ سینما بھی بند ہوتے چلے گئے، کئی سینیماز کی جگہ شاپنگ مالز نے لے لی۔ انہی دنوں میں ہمارے شہر کا آخری بچ جانے

Read more

خان صاحب قبیلۂ عشق سے تعلق رکھتے ہیں

سعودی کی انتظامیہ نے ستر سے زائد مساجد میں ایس او پیز کی پیروی نہ ہونے پر مساجد کو سر بمہر کر دیا۔ اللہ اللہ خدا کا گھر اور سر بمہر۔ ۔ ۔ یا خدا اب کوئی اپنا ایسا تیسا ارطغرل جیسا عاشق بھیج جو مسجدوں کے بند کواڑ کھولے اور آل سعود کو بتائے کہ مساجد آباد کرنے کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ ویران کرنے کے لیے۔ پاکستان میں اپوزیشن اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سعودی

Read more

علم تاریخ، تمثیل اور نوجوان نسل

انسانی علوم میں علم تاریخ کی اہمیت اس لئے بھی مسلمہ ہے کہ اس کے مطالعے سے نہ صرف انسان اور معاشرہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتا ہے بلکہ کچھ تاریخی واقعات اقوام عالم کے لئے ایک تازیانہ کا کام کرتے ہیں اور اپنے رستے سے بھولی بھٹکی قوم کے لئے اپنی منزل کے تعین میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ علم نہ صرف کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور ثقافت کا امین ہے بلکہ نوجوان

Read more

آزمائشوں کا دور اور پی ٹی آئی کی حکومت

پی ٹی آئی کی حکومت کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے جس طرح کے ایک قبیلہ ارطغرل ڈرامے میں سامنا کرتا ہے۔ آزمائش پہ آزمائش، پریشانی اور مشکلات کے انبار ہیں۔ جس طرح اس ڈرامے میں دکھایا جاتا ہے بالکل اسی طرح عمران کی حکومت کو ایک پریشانی کے بعد دوسری کا سامنا ہوتا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے کچھ اچھی خبریں دینا شروع کی تھیں۔ ان خوشیوں سے عوام میں امید کی کرن جاگ اٹھی تھی۔

Read more

لفظ بہرحال نہیں مرتے

کسی بھی غور طلب خبر کو پڑھنے کے بعد مجھے لوگوں کی رائے جاننے میں بھی دلچسپی رہتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ اس خبر کو دیکھنے کے اور کیا زاویے ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بارے میں عمومی معاشرتی رویہ اور فکر کس سمت جا رہی ہے۔ انٹرنیٹ سے پہلے کچھ صحافی حضرات کا نکتہ نظر ٹی وی یا اخبار کے ذریعہ معلوم ہو جاتا تھا مگر عام آدمی کا زاویہ جاننے کا ذریعہ

Read more

قائد اعظم اور اتا ترک میں ایک فرق

ارطغرل کی مقبولیت کے اس دور میں جب ڈراموں سمیت ترکی سے متعلق ہر چیز کے بھاؤ چڑھے ہوئے ہیں دونوں ملکوں کے قائدین کا براہ راست موازنہ خطرے سے خالی نہیں۔ خاص طور پر اس وقت تو بالکل بھی نہیں جب ہمارے یہاں راجہ داہر اور محمد بن قاسم میں سے ہیرو اور ولن کا انتخاب مشکل ہو رہا ہو لیکن سلیمان شاہ اور عثمان اول کی عظمت کے گن گانے والوں میں دن دگنا اور رات چوگنا اضافہ

Read more

پاکستانی حکومت نے ہرڈ امیونٹی کی پالیسی کیوں اختیار کی؟

امریکی تقلید میں پاکستانی ریاست بھی ہرڈ امیونٹی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کرونا کی عالمی وبا شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے ہرڈ امیونٹی پالیسی پر عمل کا آغاز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ملک میں کیا تھا۔ تاہم جب وہ خود کورونا کا شکار ہو گئے اور برطانیہ میں اموات کی تعداد بہت زیادہ بڑھنے لگیں تو پالیسی بدل کر مجبوراً لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ یہی پالیسی امریکہ نے بھی اپنائی ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام رکھنے والے تمام ممالک اسی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اس نظام میں سرمایہ دار کے کاروبار سے ہی ٹیکس، منافع، برآمدات، روزگار، کل معیشت حتی کہ پارٹی فنڈز تک ملتے ہیں۔ پرائیویٹ کاروباروں سے ہی حکومتیں چلتی ہیں۔ اس نظام میں لاک ڈاؤن جیسے اینٹی بزنس، پرو ہیلتھ، لوگوں کو گھر بیٹھے امداد دینے جیسے مہنگے اور خسارے والے اقدامات نہیں اٹھائے جا سکتے۔

Read more

ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچ

عجیب زمانہ ملا ہے ہمیں جینے کو۔ اطلاعات ہیں کہ مینہ کی طرح برستی ہیں۔ اب کس کس خبر کی تحقیق کی جائے کہ سچ ہے یا جھوٹ۔ سچ یہ ہے کہ جھوٹ بھی جب کانوں سے ٹکراتا ہے تو سننے والے پر اثرات بہرحال مرتب کرتا ہے۔ بہرحال انفرمیشن کا یہ برستا پانی جب خوف اور اندیشوں کی آنچ پر کھولتا ہے تو عجیب عجیب خیالوں کی بھاپ اٹھ کر حواس کو گھیرنے لگتی ہے۔ کیا بنی آدم کا

Read more

کورونا جرثومہ، ترکی اور اسلامی اقدار

دنیا بھر میں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس سے بچنے کی خاطر لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ یوں تو گھر میں وقت گزارنے کی خاطر مختلف مصروفیات ہیں لیکن راقم کو اس دوران ترک ٹیلی وژن کی تیار کردہ تاریخی ڈرامہ سیریل ارطغرل اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ طویل ٹی وی ڈرامہ سیریل اس قدر سحر انگیز ہے کہ ہر دیکھنے والا عش عش کرتا ہے۔ فی الوقت یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہوا ہے کہ 60 ممالک میں سب ٹائٹل کے ساتھ یا مقامی زبانوں میں ڈب کر کے پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ترکی زبان میں تیار کیا گیا۔

Read more

میں بھی سردار ہوں تو بھی سردار ہے

بلوچستان میں دیگر چپقلشوں عداوتوں کے ساتھ ساتھ سرداری تیری میری والی جنگ نے ہر قبیلے میں ہر شخص کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ میں بذات خود کسی ایسے مسئلے سے دو چار ہوں۔ میں اس نظام کا اتنا دیدہ ور نہیں جتنا چند ایک قبیلے کے دوستوں کو دیکھ کر اپنی رائے دے رہا ہوں۔ سرداری نظام حقیقی معائنوں میں اتنا مضبوط نہیں رہا، جتنا پہلے کبھی تھا۔ سرداری ترتیب مکمل خراب ہونے کے باعث، اب یہ محض غیر ضروری بوجھ کا سودا ہے اور کچھ نہیں۔ جیسے مینگل قبیلے میں وڈھ سے ایک سردار ہے، جب کہ نوشکی سے اسی قبیلے کا دوسرا سردار ہے۔ اسی طرح مشکے میں محمد حسنی قبیلے کا ایک سردار ہے تو رخشاں میں اسی قبیلے کا دوسرا سردار موجود ہے۔ جب کہ بگٹی قبیلے سے لے کر زہری قبیلے تک یہ ڈبلنگ جاری ہے۔

Read more

ارتغرل ڈرامہ: آخر پرابلم کیا ہے

ارطغرل تیرہویں صدی کا ایک عظیم کردار ہے جس نے اپنے مضبوط حوصلے، یقین محکم، کامل ایمان اور بہادری سے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو 600 سالوں تک دنیا پر راج کرتی رہی۔ اگر مسلمانوں کی 14 سو سالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو وہ ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پری ہے۔ جنہوں نے اسلام کا پرچم مضبوطی سے تھامے رکھا اور ظلم کے خلاف لڑتے رہے چاہے کتنی ہی اذیتیں ان کے سامنے کیوں نہ ہو وہ اپنے حق دین کے راستے سے کبھی نہیں بھٹکے اور نہ ہی کبھی اپنے دین سے منحرف ہوئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، سلطان محمد فاتح، خالد بن ولید، محمود غزنوی، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر اور ایسے بے شمار نام ملتے ہیں جو مسلمانوں کے عروج کی گواہی دیتے ہیں لیکن آج کا مسلمان زوال کا شکار ہے اور نہ ہی اپنے ماضی کے ان ہیروز کے بارے میں جانتا ہے۔

Read more

کیا مقبول پاکستانی دانشور ارطغرل کے نمونے پر طالبان کے بارے میں ڈرامہ بنائیں گے؟

ترک ڈرامہ سیریل ”ارطغرل غازی“ کی پاکستان، بالخصوص ملک کے دائیں بازو کے اور ”جہادی حلقوں“ میں مقبولیت کے پیش نظر اس کے مقابلے میں افغان طالبان کی جدوجہد کو ڈرامہ سیریل کے قالب میں ڈھالنے کا سوچا جا رہا ہے جس میں طالبان رہنما ملا عمر کی شخصیت کو اسلامی جہادی ہیرو کے طور پر مرکزی کردار کی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔ ایک ریٹائرڈ اعلیٰ بیوروکریٹ، دائیں بازو کے ”مقبول“ دانشور، کالم نگار، شاعر اور ٹی وی

Read more

بحریہ ٹاون کی دیواریں گراتے ارطغرل غازی

بچپن میں ”سچ میں برکت ہے“ ، ”ایمانداری بہترین حکمت عملی ہے“ اور ”نیکی کر دریا میں ڈال“ جیسی کہاوتیں سن اور پڑھ کر لگنے لگا، یہی زندگی کا نصب العین ہے۔ زندگی کا پہیا وقت کی لہروں کے دم پر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا تو اشفاق احمد صاحب کی طرز پر لکھی گئی یہ کہانیاں بودی اور بے اثر معلوم ہونے لگیں۔ تقریباً دو سال قبل خود لکھنے کا فیصلہ کیا تو معلوم ہوا کہ کہانیاں تو وہ

Read more

’خلیفہ‘ عمران اور ’غازی‘ ٹرمپ: خدا آپ کا کھلونا نہیں ہے

امریکہ کو بھی اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے سنگین بیروزگاری کے علاوہ سیاہ فام امریکیوں کے خلاف سفید فام پولیس تشدد کے حوالے سے ویسی ہی مشکل کا سامنا ہے جو کسی حد تک پاکستانی قیادت کو بھی درپیش ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں ٹھوس معلومات حاصل نہیں ہیں۔ روزانہ چند ہزار افراد کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور ان میں سے نصف کے قریب اس وائرس میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ البتہ

Read more

ارطغرل اور مقامی مواد کا مسئلہ

’ارطغرل غازی‘ نے ہمارے سماج کے تمام ہی طبقات کو بڑی شدت سے متاثر کیا ہے۔ عوام کی اکثریت کو یہ ڈرامہ پسند ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جو کہ اس کے حق میں اور اس کے خلاف فتوے دے رہا ہے۔ بہت عرصے بعد ان میں سے کئی کو تصویر اور ٹی وی دیکھنے پر شریعت کا حکم یاد آ گیا ہے۔ کچھ کو تصوف کے خلاف بڑی شدت سے مروڑ اٹھ رہا ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جن

Read more

غیر قانونی مگر جائز؟

گلگت بلتستان کا نام سنتے ہی ذہن میں قدرت کے شاہکاروں کا ایک نقشہ سا کھنچ جاتا ہے جس کا تصور کرنا، تصور بہشت سے کہیں کم نہیں! جہاں لوگ اس کے قدرتی حسن اور مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں اس کے باسیوں میں ایک طرح کا خلاء پایا جاتا ہے جسے تشخص کا خلاء کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جہاں اس خطے کو اپنی قدرتی حسن کی بدولت دنیا میں ایک مقام حاصل ہے وہی پہ

Read more

حقیقت میں ارطغرل غازی مسلمان تھے یا بت پرست؟

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی وی پر چلنے والے شہرہ آفاق ڈرامے ارطغرل غازی سے اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ نا صرف واقف ہو چکا ہے بلکہ وہ نسل جو تصوراتی اور افسانوی ہیروز کے سحر سے باہر نہیں نکلتی تھی وہ بھی اب ارطغرل، بامسی اور ترگت کو اپنا ہیرو ماننے لگ گئی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے حلیمہ جیسی صابر، وفا شعار اور بہادر لڑکی کے خواب دیکھنے لگ گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیاں بھی ارطغرل جیسا دلیر، ذہین اور دھن کا پکا مرد اپنے خوابوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔ ایسے میں اچانک اس سوال کا جنم لینا بے حد معنی خیز ہے کہ کیا حقیقت میں ارطغرل غازی ایسے ہی تھے یا ان سب باتوں کے بالکل برعکس وہ ایک بت پرست تھے؟

Read more

پاکستان کا نیرو کون ہے؟

قوم لندن سے آنے والی نواز شریف کی ایک تصویر پر قیاس آرائیاں کررہی ہے اور حکومت شوگر اسکینڈل کا الزام مسلم لیگ (ن) پر عائد کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی طرح بھی قابل اعتبار نہیں ہیں لیکن اس سے ملک کے عوام اور حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔  یہ اندازہ

Read more