یا رب! مجھے صبرِ جمیل عطا فرما

میری نیک سیرت، خدمت گزار اَور خوش اخلاق اہلیہ شاہدہ اِکیاون سال کی رفاقت کا حق ادا کر کے 31 ؍اکتوبر کی رات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اُنہیں مرگی کا دورہ پڑا جو جاں لیوا ثابت ہوا۔ اِنَّا لِلَّٰہ و َاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُونَ۔ وہ ڈیڑھ دو سال سے اکثر یہ کہا کرتی تھیں ”اللہ! تُو جب بھی بلائے، مَیں تیار ہوں۔“ میری جب نومبر 1973 میں شاہدہ سے شادی ہوئی، وہ مسٹر بھٹو کا دورِ حکومت تھا جو

Read more

پرواز رکھ بلند کہ بن جائے تو عقاب

میرا کالم ”گدھ ہاؤس“ شائع ہوا تو اس پر بے شمار تبصرہ کیا گیا بیشتر لوگوں نے اسے بہت پسند کیا اور مجھے بہت سے قاری حضرات نے اپنی رائے دی اور کچھ نے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ایک دوست نے کہا ہے کہ ”آپ نے تو گدھ کو ہیرو بنا دیا ہے۔“ میں نے جواب دیا کہ بھائی میرا مقصد تو گدھ کی افادیت اور ضرورت کا احساس دلانا تھا اس کی تعریف مقصود نہ تھی۔ اسی طرح

Read more

علمی عدم اطمینان کے نفسیاتی اثرات

علمی عدم اطمینان کے لئے نفسیات کی زبان میں کوگنیٹو ڈسونینس ( Dissonance) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں کسی فرد کو اس بات پر احساس ہونے لگتا ہے کہ اس کے حاصل کردہ علوم، ذاتی تجربات کی بنیاد پر قائم خیالات، مذہبی عقائد، ایمان، سیاسی نظریات اور سماجی روایات اس کے عملی کردار سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اور وہ شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اس کے ظاہری

Read more

لیا درس نسخۂ عشق کا

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا مگر یہ اصل نام نہیں۔ ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور، نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔ ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔

Read more

چکوال میں بیوہ کے ذہنی مریض بیٹے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ

جمعرات کی شام چکوال شہر میں چوا چوک کے قریب واقع ایک کم آبادی والے محلے رحمن آباد میں جب اندھیرا چھا رہا تھا تو 68 سالہ ایک ماں کی زندگی بھی تاریکی میں ڈوب رہی تھی۔ کیچڑ زدہ کچی گلی کے کونے پر واقع دو کمروں کے چھوٹے سے گھر کے باہر ایک لوڈر رکشہ کھڑا تھا جس پر اس بدقسمت ماں کا چھوٹا بیٹا اور بیٹے کا ایک دوست گھر کا سامان رکھ رہے تھے۔ مالک مکان سر

Read more

عزت کو ترستا ہوا معاشرہ

اسلام آباد میں کرسٹیز کیفے کے نام سے ڈونٹس شاپ ہے۔ یہ آج سے پانچ سال قبل ایک خاتون نے اسٹارٹ کیا تھا۔ اس نے کوہسار مارکیٹ کی ایک دکان میں چھوٹی سی کافی شاپ بنائی، کاروبار چل پڑا تو بیٹے نے بھی اسے جوائن کر لیا، سیل میں اضافہ ہوا تو دوسرا اور تیسرا بیٹا بھی آ گیا۔ یہ ڈاکٹروں کی فیملی ہے۔ پورا خاندان میڈیکل پروفیشن سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ میڈیکل لائن چھوڑ کر ڈونٹس کے کاروبار

Read more

چند دن جاپان میں!

میں گہری نیند میں تھی جب ایک جھٹکا محسوس ہوا اور میری آنکھ کھل گئی۔ چند لمحوں میں حواس بحال ہوئے تو یاد آیا کہ میں جہاز کی نشست سے بندھی بیٹھی ہوں۔ پائیلٹ نے کسی اناڑی کی طرح ایک جھٹکے سے لینڈنگ کی تھی۔ جہاز تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے سوورن بھومی ائر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ ساڑھے چار گھنٹے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ پتہ چلتا

Read more

اداسیوں کے البم میں ماں کی تصویر

ماں جب تمھیں سوچتی ہوں تو بہت سی منتشر یادیں میرے اردگرد جگنوؤں کی طرح بکھر جاتی ہیں اور ان یادوں میں میں خود کو ایک چھوٹی سی کمسن بچی دیکھتی ہوں کبھی نو عمر لڑکی، کبھی بچپن اور نوجوانی کی دہلیز پہ کھڑی معصوم سی بچی، حالانکہ ماں یہی تو وہ دن تھے جب تم میرے باپ کے سنگ بیاہ کر آئی تھی اور خود بھی ایک کمسن سی الھڑ سی لڑکی تھیں۔ ماں تم نے ہر لڑکی کی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 25 : آرزو

” کیوں کہ گزرے ہوئے وقت میں تم نے قوموں کی مرضی پوری کرنے میں بہت وقت گزارا ہے، جب کہ تم عیش پرستی، شہوت پرستی، شراب نوشی، نشے، عیاشی اور بت پرستی کے کاموں میں شامل رہے۔ “ 1 پطرس 3 : 4 مریم کا رُواں رُواں زندگی سے لبریز تھا۔ وہ زندگی کو چُسکیاں لے کر جُرعہ جُرعہ پیتی تھی اور اکثر کسی دانا کا قول دہراتی تھی کہ ”زندگی ایک پیاز کی طرح ہے۔ بس چھیلتے جاؤ

Read more

فیض کے والد لندن کیوں گئے تھے؟

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ فیض احمد فیض اردو زبان کے محبوب ترین شاعر ہیں۔ انہوں نے طعن و تشنیع کے خاردار جنگل میں راستہ نکال کر مقبولیت کی بلندیوں پر سفر جاری رکھا۔ نا مساعد حالات میں سے راستہ نکالنے کا ہنر انہوں نے اپنے والد سے ورثہ میں پایا تھا۔ ان کے والد سلطان محمد خان صاحب کا تعلق ضلع سیالکوٹ کے گاؤں کالا قادر کے ایک نہایت غریب گھرانے سے تھا۔ بچپن میں سکول جانے

Read more

اپنا اپنا جنرل، اپنا اپنا جج

کابینہ میں منظوری کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ نے تمام سروسز کے سربراہان کے عہدوں کی مدت تین کی بجائے پانچ سال کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس قانون سازی پر احتجاج کیا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلیاں چھبیسویں

Read more

فرینکفرٹ اور ہائیڈل برگ کی سیر کا احوال

جرمنی اقوامِ متحدہ نیٹو اور جی ایٹ کا رُکن ہے۔ یہ یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا، سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت رکھنے والا ملک ہے۔ اس میں 16 ریاستیں ہیں۔ قومی زبان جرمن ہے اور جرمن زبان میں جرمنی کا نام ڈوئچے لینڈ ہے۔ اس کے شمال میں بحر منجمد شمالی، ڈنمارک اور بحر بالٹک مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بلجیم اور نیدرلینڈ

Read more

روبوٹ سیکس کا انقلاب، دانش مندان دیں کے لیے لمحہ فکریہ

ہم عنقریب ایک ایسے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں ممکن ہے 2025 میں ہو جائے کہ جہاں سیکس کی کیمسٹری بالکل ہی تبدیل ہو جائے گی۔ خواتین ایک بھرپور سیکس سے مستفید ہو سکیں گی، جتنی بار بھی سیکس کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، سرعت انزال یا ٹائمنگ ایسے مسائل کا کوئی چانس نہیں ہو گا۔ مطلب ایک مثالی اور پر تسکین قسم کے سیکس کی راہ ہموار ہوگی جس میں خواتین کی تشنہ جنسی پیاس کی تکمیل

Read more

ڈاکٹر بہو کو دفع کریں

تمہارا چہرہ لمبوترا سا ہے۔ پاؤں بہت بڑے ہیں مردوں جیسے۔ کھانا تو ماں نے سکھایا ہی نہیں ڈھنگ کا پکانا۔ روٹی گول کب بناؤ گی۔ تمہارے ماں باپ کے گھر ہوں گے یہ ایک وقت کا کھانا اگلے دن کھانے کے رواج۔ ہمارے ہاں بی بی تازہ سالن بنتا ہے روز۔ دماغ ُسن ہی رہتا ہے۔ یاد نہیں رہتا کچھ۔ بیٹی کو گھر داری سکھاؤ۔ تم نے یہ ڈگریاں لے کر کون سے تیر مار لیے ہیں جو اس

Read more

چار بیرنگ خط جو کوئٹہ نہیں پہنچے

میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑی تھی، تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے پچھلے والی گلی میں ایک بہت پرانا، شاید پچاس سال پرانا لیٹر باکس تھا۔ کسی نے اس کا دروازہ کسی نے توڑ دیا تھا۔ بلندی سے صاف سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اندر خطوط ہیں یا نہیں میرے لیے یہ کافی حیرت انگیز منظر تھا۔ بچپن سے ہی یہ لیٹر باکس میرے لیے ایک فینٹسی جیسا تھا۔ جب بھی میں اسے دیکھتی تھی، سوچتی

Read more

مشہور فلسفی روسو کی زندگی کے حیران کن پہلو

آپ سب نے مشہور مفکر ژاں ژاک روُسّو کے متعلق ضرور سنا ہو گا۔ روشن خیالی کی نوید سنانے والے، فرانسیسی انقلاب کے بانی سمجھے جانے والے اور 18 ویں صدی کے مشہور فلسفی ژاں ژاک روُسّو کی زندگی میں ایک ایسا افسوسناک پہلو بھی تھا جس نے اُن کی زندگی اور شخصیت پر سوالات اُٹھائے۔ روسو، جو اپنے نظریات اور خیالات سے معاشرتی تبدیلیاں لانے کے خواہاں تھے، نے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر بے پناہ زور دیا

Read more

ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی

نام عبید الرحمن عرفیت بڑے بھائی، عمر بہتر برس، رنگت آبنوسی (شیشم کی لکڑی کے رنگ کی) اردو زبان بولتے ہیں۔ سیٹھوں میں زندگی گزری۔ راز داری کے اہتمام اور کسی کام سے انکار نہ کرنے کی وجہ ان اہل زر کی نجی زندگی میں بہت دخیل رہے۔ کوئی مجرا، کوئی بسنت، سن ستر سے اسی کی دہائی میں تھائی لینڈ کا کوئی دورہ نہ چھوڑا۔ تھائی لینڈ میں یہ عیاشی کا بہترین دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب

Read more

رابندر ناتھ ٹیگور: بر صغیر کا نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر: (3)

اس وقت ڈیڑھ بجا ہے۔ ڈپارٹمنٹ سے واپس آ کر ابھی میں نے کمرے میں آ کر کتابیں اپنی منی سی میز پر رکھی ہیں کہ جب فاخرہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کوریڈور میں ہی کھڑے کھڑے اُس نے دروازے کا پٹ ذرا سا کھول کر اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ہے کہ مجھے کھانے کے لئے جانا ہے کیا؟ میں نے ساڑھی بدلنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ لمبے کو ریڈور

Read more

آزاد وطن کے غُلام باشندے

صبح صبح جب ان دیکھے گہرے زنجیروں میں جکڑے میرے وطن کے سینے پر پُر کشش ہوائیں چلتی ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے دنیا کی تمام رعنائیاں میرے وطن کے گِرد چکر کاٹ رہے ہوں۔ درختوں سے اُڑتے بے شُمار پرندے جیسے کہے رہے ہوں ہم آزاد ہیں، ہم جو چاہیں جو کہیں، جو چاہیں سُنیں اک نئی صبح لیے اپنی قسمت پر رشک کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں کی ایک کُھلی کتاب میرے

Read more

آغا صاحب

آغا صاحب بھی چلے گئے اور گئے بھی تو بالکل اسی طرح جیسا وہ کہا کرتے تھے کہ ”جب مر جاؤں گا تو کسی سے خبر مل ہی جائے گی“ ۔ اور یہی ہوا بھی۔ شاید جانے والے کو کچھ آگہی ہوجاتی ہے۔ وہ میرے لڑکپن کے دوست تھے ان کا نام آغا فردوس رضا تھا۔ کچھ ان کو رضا اور اکثر آغا کے نام سے پکارتے۔ میں انہیں آغا ہی کہا کرتا تھا۔ ان کے والد بڑے آغا صاحب

Read more

بچپن سے نصیب تک

بچپن کے کھیل ختم ہوتے ہیں تو نصیب کا کھیل شروع ہوتا ہے۔ بچپن کے معصوم خوابوں کی جگہ نصیب کی لکیروں کی گہرائیاں جنم لیتی ہیں تو اک نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ سفر بالخصوص ان والدین کے لئے زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے، جو سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اپنی بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش بھی ہونا چاہتے ہیں اور زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بھی چلنا چاہتے

Read more

آخری نشانی

بس اڈے پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری تھا، کوئی گلے مل کر خوش ہو رہا تھا تو کسی کی آنکھیں اپنوں کو الوداع کہہ کر نم ہو رہیں تھیں۔ گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھیں عورتوں، بچوں اور جوانوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ”یہ لال بس کا ٹکٹ دے دیں کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اسلم نے کہا“ ”سر آپ نے جانا کہاں ہے؟“ ایک نسوانی آواز نے

Read more

کردار و رویے کی خرابی/ کنڈکٹ ڈس آرڈر

اویس کے والد فوج میں تھے جب کہ وہ اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ اس بچے کی پیدائشی طور پر پیشانی باہر کو نکلی ہوئی تھی، جس کو آپریشن کے ذریعے ٹھیک کرنے کی کوشش تو کی گئی لیکن کافی حد تک نقص برقرار رہا۔ بعد کے دنوں میں جب وہ بڑا ہوا تو دیکھا گیا کہ اس میں نافرمانی کا عنصر بہت زیادہ تھا۔ وہ ایک بگڑا ہوا بچہ تھا۔ اس نے بہت

Read more

بچوں کی پرورش میں والدین کا منفی کردار

میری بیٹی نے بہت چھوٹی عمر میں سکیٹنگ شروع کر دی تھی۔ اس وقت مجھے خدشہ رہتا کہ کہیں گر کر ناک نہ تڑوا لے۔ جب اس نے سکیٹنگ میں رقص کی بندشوں کو بھی شامل کر لیا تو کئی مرتبہ گر جاتی۔ مڑ کر ہماری طرف دیکھتی۔ اکثر اس کی ماں گھبرا کر ’بسم اللہ، بسم اللہ‘ کہنے لگتی۔ ماں کو خوفزدہ دیکھ کر بیٹی بھی رونا شروع کر دیتی۔ جب ماں پاس نہ ہوتی اور میں بھی کوئی

Read more

دلدار پرویز بھٹی

دلدار پرویز بھٹی پاکستان کے ایک معروف مزاحیہ اداکار، صدا کار، پیش کار، ٹی وی میزبان اور لکھاری تھے۔ ان کا تعلق گوجرانوالا سے تھا۔ وہ 1946 میں امرتسر میں پیدا ہوئے لیکن قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ساتھ گوجرانوالا میں آ بسے۔ سارے تعلیمی مراحل گوجرانوالا اور لاہور میں ہی طے کیے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج گوجرانوالا کے سابق طالب علم تھے۔ کالج میں دوران تعلیم ہی ان کے

Read more

کانٹے اور سرخ رنگ کا ایک تیز خوشبودار لونگ کا پھول

تبصرہ نگار۔ ساجدہ فرحین فرحی The Thorn the Carnation یہ وہ ناول ہے جو یحییٰ سنورنے جیل میں لکھا یہ ناول ایک زمانے میں سب سے زیاد فروخت ہوا یہاں تک کہ اسے صیہونی حکومت کے دباؤ میں سائٹس سے ہٹا دیا گیا برطانیہ کے وکلاء برائے اسرائیل (UKLFI) نے ایمیزون کو بتایا تھا کہ یہ ایک ”غیر قانونی کام“ ہے۔ 18 اپریل 2024 کو UKLFI نے Amazon کو مطلع کیا کہ اس نے برطانیہ کے ”انسداد دہشت گردی“ قوانین

Read more

افسانہ بدبخت: ننگر چنہ

اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹوں کے میلے کا منظر تھا اور وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی ہاتھ پاؤں مہندی میں سرخ دیکھ کر بہت ہی خوش ہو رہی تھی۔ اڑوس پڑوس کی جوان اور بوڑھی عورتیں اس کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ سرخ رنگ کے نئے کپڑے پہن کر اس کے گال بھی خوشی کے مارے لال ہو گئے تھے۔ آج سے قبل سردی ہوتی کہ گرمی، وہ پرانے اور اترن کے کپڑے پہن

Read more

داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر

مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحۂ قتل کے بارے میں ہماری شنید معلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر ان دنوں کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی، کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ انہی مصطفے زیدی کا شعر ہے داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ان دنوں نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال

Read more

خیرا گلی کے محل میں ایک رات: چون برس قبل کی سیاحت

پشاور ہم پہلی بار آئے تھے۔ زمانہ وہ تھا کہ ابھی قابل دید مقامات کا اتنا تصور ہی نہ تھا۔ نہ ہی دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کا کسی کو پتہ تھا۔ بس قصہ خوانی بازار، چپل کباب اور لنڈی کوتل کے دور کے سفر کی بجائے باڑہ مارکیٹ شہرت پکڑ رہی تھی اور عزیزوں سے ملاقات کے علاوہ خواتین کی یہ واحد دلچسپی تھی۔ اور یہاں بعد دوپہر جانے کا پروگرام تھا۔ ناشتہ کے بعد ہم تو

Read more

ڈھاکہ والا گھر اور بھٹو صاحب

ایک کالم (نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟ ) جو ”ہم سب“ پر 06 اکتوبر 2024 کو شائع ہوا، میں نے اپنے مرحوم والد کے ڈھاکہ والے گھر کی بات قلمبند کی تھی۔ کچھ نے پوچھا، ”اب کون رہتا ہے؟“ میں نے کہا، ”مجھے کیا معلوم؟ میں نے تو پتا بھی پوچھ پوچھ کر لکھا تھا۔“ یہ دنیا ایک سرائے ہی تو ہے۔ اس گھر پر اب پروفیسر نظیر صدیقی کا نام نہیں لکھا ہوا ہے، جن

Read more

پردہ بکارت کی سلامتی مرد کی ترجیح ہوتی ہے اور خاتون کی؟

کیا کوئی باشعور لڑکی بھی ”نیک اور پاکباز“ شوہر کی تلاش کا اشتہار دے سکتی ہے؟ کیا وہ بھی کوئی معقول یا قابل شوہر کی تلاش کے لیے بائیو ڈیٹا طلب کر سکتی ہے؟ اگر مرد کی نظر میں کسی بھی خاتون کے نیک و باکردار ہونے کا معیار ہائمن ”پردہ بکارت“ کی سلامتی اور تحفظ ہے تو ایک خاتون بھی تو اپنی ترجیحات کا اظہار کر سکتی ہے کہ ”اسے ایک ایسے باکردار شوہر کی تلاش ہے جس کے

Read more

قاضی فائز عیسیٰ: جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

قیام پاکستان کے بعد ابتدائی سالوں میں، عدلیہ نے قانونی روایات نبھائیں تاہم سیاسی عدم استحکام میں عدلیہ کا کردار سیاسی اتھل پتھل اور ایسی قانونی تشریحات سے عبارت ہوا جو پس پردہ دباؤ اور باہمی تال میل سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ تمیز الدین ( 1954 ء) کیس اہم موڑ تھا جب عدلیہ نے، مقتدرہ کے دباؤ پر پہلی آئین ساز اسمبلی کی برخاستگی درست قرار دی۔ ”نظریہ ضرورت“ فوجی بغاوتوں کی قانونی حیثیت اور سول حکومتوں پر

Read more

ہوشیار خبردار! ہُوبہو آواز تیار کرنے والے اے آئی ٹولز آ گئے

آج 26 اکتوبر 2024 کو فالج کے عالمی دن کے موقع پہ بہاول پور پریس کلب میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے شعبہ نیورالوجی کی طرف سے کلب اراکین کے لیے لگائے گئے میڈیکل سکریننگ کیمپ میں میرا بلڈ ٹیسٹ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کی حامل جدید میڈیکل ڈیوائسز پہ صرف تین منٹ کے اندر کر کے مجھے رپورٹ بھی دے دی گئی۔ میں ذیابیطس کا مریض نہیں لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران بیف پلاؤ، تیز مصالحہ والی چکن بریانی،

Read more

قاضی فائز عیسیٰ حقیقت کے آئینے میں

ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر افراط اور تفریط کا شکار ہے۔ ہم یا تو کسی کو اس حد تک پسند کرتے ہیں کہ اس کے ہر غلط کام کو اس کا اچھا کام قرار دیتے ہیں یا ہم کسی کو اس حد تک ناپسند کرتے ہیں کہ اس کے اچھے سے اچھے کام کو بھی دنیا کا سب سے بڑا غلط کام قرار دے دیتے ہیں۔ ہم یا تو افراط کا شکار رہتے ہیں یا پھر تفریط کا لیکن مجال

Read more

گرجاکھ

وہ بس ایسا ہی ہے۔ قدیم، سنہری اور روہانسو۔ جس کے سینے میں میری ماں دفن ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو اس کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ پہیے دوڑاتا پھرتا تھا۔ بوگن ویلیا جسے دیکھتے ہی ابا جی ایک مضبوط ٹہنی توڑ کر میرے ہاتھ میں پکڑا دیتے۔ ہر گھر میں کیکر کے درخت اور بکریاں تھی جو ذرا سا پچکارنے پر کلاچے بھرتی غائب ہو جاتی۔ کہتے ہیں وہاں پہاڑی کے اُوپر میراں شاکر شاہ کے مزار کے

Read more

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی تاریخ کے صفحات پر

سینٹ اور قومی اسمبلی سے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد منگل کو پارلیمانی کمیٹی نے سینئر ترین تین ججوں میں سے تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر جسٹس منصور علی شاہ اور دوسرے نمبر پر جسٹس منیب اختر تھے۔ پارلیمانی کمیٹی کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں حکومتی جماعتوں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ۔ آخری قسط

تاریخ میں جب بھی میر کا ذکر ہو گا تب غالب کا ذکر ہونا لازم ہے، دونوں ایک دوسرے کی طرح قصیدہ گو اور درباری ہونے کے الزام سے کبھی آزاد نہ ہو سکے بلکہ یہ الزام مغلیہ سلطنت کے لگ بھگ سبھی شاعروں پر ہے۔ لیکن ظاہر ہے سبھی شاعروں کو ”جنرلائیزڈ“ کر کہے نہیں دیکھا جا سکتا۔ قصیدہ گوئی اور دربار کی ثنا خوانی کے زاویے میں مغلیہ دور کے شاعروں کو ان کے کلام، شعر اور خیال

Read more

ایم ڈی کیٹ کی بے ضابطگیاں: خوبصورت خواب کی بھیانک تعبیر

لاہور کی رہائشی نادیہ ایک محنتی اور ذہین طالبہ تھی، جس کا خواب ڈاکٹر بن کر اپنی والدہ کی طرح مریضوں کی خدمت کرنا تھا۔ اس نے ایف ایس سی کے امتحانات میں شاندار نمبرز حاصل کیے اور اب وہ ایم ڈی کیٹ کی تیاری میں مصروف تھی۔ نادیہ کے والدین نے اسے ایک مشہور اکیڈمی میں داخل کرایا، جس کی بھاری فیس ادا کی گئی۔ اکیڈمی نے وعدہ کیا کہ ان کی تیاری کا طریقہ کار بہترین ہے اور

Read more

میرؔ تقی میر: صاحب دیوان کی دیوانگی

ڈنمارک کے وجودی فلسفی سورن کرکیگارڈ نے ایک جگہ لکھا ہے، ”شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے درد و غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں“ ۔ میر تقی میرؔ کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میرؔ سے سب کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ! جب ہم میرؔ تقی میرؔ کی داستان حیات کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس

Read more

’میں عجیب ہوں‘: ایک منفرد آپ بیتی

محمد عجیب سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات چند سال پہلے برطانیہ کے علاقہ یارکشائر میں منعقدہ ایک تقریب میں ہوئی تھی۔ اتنے بڑے سیاسی عہدے پر براجمان رہنے کے باوجود وہ مجھے انتہائی سادہ سے انسان لگے۔ تقریب میں ان کی مدلل اور پُرمغز گفتگو سن کر اُن کی شخصیت کے کچھ پرت وا ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد جب میں نے اُن پر لکھے جانے والی کتاب ”Muhammad Ajeeb۔ Rising above the ordinariness“ کا اردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا

Read more

دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more

پاکستان کی سیاست، آئینی ترمیم اور منحرف قاسم رونجھو

چھبیسویں آئینی ترمیم تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آخر کار منظور ہوگئی اور بالآخر یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی گیا مگر اس کے ساتھ ہی اس آئینی ترمیم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکنات سے باہر نہیں۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے اس تمام تر ایپیسوڈ میں سب سے دلچسپ معاملہ بی این پی مینگل کے سینٹر قاسم رونجھو صاحب کا رہا قاسم رونجھو بی این پی مینگل

Read more

مدارس میں پڑھانے والے بعض معلمین کا نفرت آ میز رویہ اور بڑھتی ہوئی لا مذہبیت

کہا جاتا ہے کہ مذہب کو اتنا نقصان لامذہب ”ایتھیسٹ“ نے نہیں پہنچایا جتنا خود مذہبی طبقے نے پہنچایا ہے، دعویٰ اور حقیقت کے بیچ فاصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ جنہیں پاٹنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ تصورات بہت اچھے ہو سکتے ہیں، ان میں پرفیکشن، اعلیٰ، عظیم، بالا اور سر بہ فلک ایسے رومانوی سے رنگ ضرور بھرے جا سکتے ہیں لیکن ان کے قابل عمل ہونے کی ضمانت اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کے انتہائی اہم مدبر اور کلاسیکل شاعر ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اردو ادب بلکہ اردو ڈکشن اور لسانیات کو بھی نیا موڑ بخشا ہے۔ جنہوں نے اردو ادب کو کلیدی لغت دی اور کلی طور پہ فکر اور فن کو جدت بخشی۔ جس سے اردو ادب نے اپنی الگ حیثیت حاصل کی اور مقبولیت پروان چڑھی۔ اور اس دور کی مقبول ترین زبان فارسی کو نہ صرف ٹکر دی بلکہ اردو زبان کو اس

Read more

نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟

کہتے ہیں کہ ناموں کا انسانوں کی زندگی پر اثر ہوتا ہے۔ شاید مقامات کے ناموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ سنا ہے کہ اسلام آباد کا اصل نام راج شاہی تھا۔ ایک راج شاہی ہمارے سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش میں بھی ہے۔ وہاں کے کیڈٹ کالج سے کئی نامور حضرات کا تعلق ہے جن میں ایک توحید حسین بھی ہیں۔ وہ اس وقت ڈاکٹر محمد یونس کے چیف ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے 1981 میں بنگلہ

Read more

اپنے عظیم استاد جناب اسلم انصاری کی یاد میں

یہ سال 1991 کی بات ہے، میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول خانیوال سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنے دوستوں ارشد اور اشفاق کی دیکھا دیکھی گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان میں داخلے کے لیے درخواست دے دی۔ ان دنوں یہ کالج جس کا اصل نام ایمرسن کالج ہے، گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد پنجاب کا دوسرا بڑا کالج سمجھا جاتا تھا۔ اس کے میرٹ پر آنا ان دنوں بہت مشکل ہوا کرتا تھا، اور داخلہ لینے والے

Read more

جدید ریاست کے نو رتن اور کلٹ

جب شہنشاہ اکبر نے تخت سنبھالا تو اس کی عمر صرف 13 سال تھی، ہمایوں کی اچانک موت کے بعد کم عمر شہزادے کو ایک مشکل ترین سلطنت کو سنبھالنا پڑا، اور پھر یہی اکبر، برصغیر کا کامیاب ترین بادشاہ ٹھہرا اور عظیم اکبر کہلایا۔ اکبر کے سر پر تاج تو رکھ دیا گیا لیکن امور سلطنت بادشاہ کی بلوغت تک بیرم خان کے حوالے تھے۔ اکبر کے نو رتن مشہور ہوئے۔ نو رتن یعنی نو عقلمند ترین مشیر، نو

Read more

انسانی دماغ ایک چاند ہے

آج کل سب کی سوچ اسی خیال کے متعلق ہے کہ پاکستان باقی تمام ممالک سے ہر شعبے میں پیچھے ہے۔ مگر غور کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی اس کی وجہ تلاش نہیں کرتا۔ کوئی بھی ملک یا قوم وہاں موجود بڑے لوگوں یا سیاست دانوں سے نہیں جانی جاتی بلکہ وہاں کے عوام ان کے رہن سہن کا طریقہ اس ملک کی پہچان ہے۔ پاکستانی ہونے کے تحت ہم پر ایک مہر لگ چکی ہے۔ وہ

Read more

شعر و شاعری، ریڈیو پاکستان اور ڈاکٹر حسن زی

پاکستان میں اکثر شاعروں، فنکاروں، میوزیشنوں اور لکھنے والوں کی شروعات ریڈیو پاکستان سے ہوئی۔ جیسے، موسیقار لال محمد اور بلند اقبال المعروف لال محمد اقبال، احمد رشدی، مسرورؔ انور، جاوید اللہ دتہ اور بہت سے دوسرے۔ نگار ویکلی کے نامور لکھنے والے جناب اقبال راہی (م) کی معرفت میری شاعر، مصنف، انڈیپنڈنٹ فلم ساز اور ہدایت کار ڈاکٹر حسن زی سے ملاقات ہوئی تو علم ہوا کہ ان کے فنی سفر میں بھی ریڈیو پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلے

Read more

پنجاب کالج کا واقعہ اگر سچ بھی ہوتا تو آپ کیا کر لیتے؟

ان دنوں فیس بک پہ پنجاب گروپ آف کالجز میں ہونے والے واقعہ کو لے کر کافی واویلا مچا ہوا ہے، اس پر عوام الناس کی رائے منقسم ہے، ایک گروہ کا ماننا ہے کہ یہ سارا واقعہ جھوٹا ہے، جبکہ دوسرا گروہ اسے سچا کہتا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ مذکورہ کالج کا مالک طاقتور آدمی ہے اور حکومتی ایوانوں میں کافی اثر و رسوخ ہے، لیکن حقیقت کیا ہے کوئی نہیں جانتا۔ میں ذاتی طور پر

Read more

نواز شریف دل برداشتہ کیوں ہیں؟

ہندوستان کا بٹوارا انسانی تاریخ میں ایک منفرد تجربہ ہے۔ زمانہ امن میں شاید ہی کہیں ایسا ہوا ہو کہ چند مہینوں کے اندر ایک کروڑ سے زائد انسانوں کو مجبوراً نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس افراتفری میں مرنے والوں اور بچھڑنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک رہی۔ اس خونچکاں انسانی المیے میں ہر گھرانے کی اپنی ایک داستان تھی اور ہر فرد کی ایک کہانی تھی۔ میرے بچپن تک اس اکھاڑ پچھاڑ کے معاشی اور

Read more

شہر طلسمات کا طلسم: ڈاکٹر اسلم انصاری رخصت ہوئے

یادش بخیر! بہت دنوں سے ڈاکٹر اسلم انصاری کے ساتھ ان کی ملتان پر لکھی گئی نئی کتاب کے حوالے سے مکالمہ جاری تھا۔ مسودہ میرے حوالے ہوا۔ کمپوزنگ ہو رہی تھی کہ ایک دن میرے کمپوزر کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ اس کے دونوں موبائلز کوئی چھین کر چلا گیا اور یوں میرا کمپوزر کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا۔ یہ رابطہ اس وقت ختم ہوا جب ڈاکٹر اسلم انصاری کی کتاب کی کمپوزنگ تقریباً مکمل ہو چکی

Read more

پنجاب کالج

پنجاب کالج سے وابستگی کافی عرصہ سے ہے۔ میری تین بیٹیاں دو بھتیجیاں، ایک بھانجی اور بھانجا پنجاب کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ہمارا تجربہ اتنا شاندار تھا کہ ہم نے سب دوستوں کے بچوں کو پنجاب کالج ہی بھیجنا شروع کر دیا۔ میں پچھلے تیس سال سے پڑھانے سے وابستہ ہوں۔ میں زندگی میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ کئی دہائیوں کی مسلسل محنت نے اس کالج کو عظیم بنایا۔ ایک جیسے معیار کے سینکڑوں کالجز

Read more

مشتاق شیدا: قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی

مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں، بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے

Read more

ابو کی یادیں

انسان اپنے تجسس یا شوق کی خاطر مشکل سے مشکل کام بھی کر گزرتا ہے۔ یہ انکشاف مجھ پر اُس رات دو بجے اُٹھ کر ہوا۔ تجسس مجھے تھا اور شوق میرے ابو کا، یعنی ”مچھلی کا شکار!“ صرف تجسس اور شوق ہی ایسی تحریک ہو سکتی ہے جو جاڑے کی سرد راتوں میں کسی کو گرم گرم بستر چھوڑ دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔ چنانچہ دسمبر کی اس رات میں دھندلی سڑک پر نہر کنارے موٹر سائیکل پہ

Read more

جنریشنل ٹراما، کبھی میں کبھی تم

مصطفی اور شرجینہ اس کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مصطفی شرجینہ کے ساتھ خوش ہے زندگی ہنسی خوشی چل رہی ہے۔ لیکن اچانک سے نازک موڑ آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ شرجینہ اور مصطفی صاحبِ اولاد ہونے والے ہیں۔ لیجیے صاحب پروگرام تو وڑ گیا نا۔ بہت سے لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ دونوں کردار بہت ہی مختلف خاندانوں سے آئے ہیں۔ جہاں شرجینہ کو بیٹی ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا پیار ہمیشہ وافر ملا

Read more

بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ

تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف)

Read more

ایک ننھی سی مسکراہٹ: ہندی کہانی

(تحریر: گیتا انجلی شری، ہندی زبان سے ترجمہ: وقار احمد) اپنے کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج آفس بھی نہیں گئی۔ کھانے کا پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے راجن نے

Read more

وجود میں امید کی کرن

برلن کے قلب میں ایک مدھم روشنی والے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے بارش کی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ نوروز اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، اس کا دماغ رات کے آسمان کی طرح بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ 23 سال کا نوجوان تھا، شہر کی ممتاز یونیورسٹی میں فلسفے کا طالب علم تھا۔ جب تک وہ یاد کر سکتا تھا، معنی تلاش کر رہا تھا۔ زندگی میں، رشتوں میں، وجود میں اور اس سب کچھ میں جو اس

Read more

ملکی حالات اور دوسری ہجرت

میں نے ہجرت کا بیج کیا بویا پاؤں جڑ سے اکھڑ گِئے میرے تاریخ انسانی میں ہجرت کوئی نئی بات نہیں یہ عمل مختلف محرکات کی بنا پر ازل سے ہوتا آیا اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس کے عوامل معاشی۔ سماجی۔ سیاسی یا کچھ اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہجرت انسان ہی نہیں پرندے اور مختلف جانور بھی موسم کی تبدیلی اور خوراک کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ اسی میں ان کی بقا ہے۔ لفظ خانہ بدوش جس

Read more

ڈرامہ دنیا پور اور فن کے نام پر عورت کی تذلیل

فلم اور ڈرامہ فنون لطیفہ کے نہایت اہم شعبے ہیں جو کسی قوم کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ قوموں کی شناخت، ان کے فکری ارتقاء اور سماجی شعور کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے، جہاں فلم اور ڈرامہ نے نہ صرف ملک کی قومی شناخت کو مستحکم کیا، بلکہ عالمی سطح پر اس کے وقار

Read more

جب بل نے خود کشی کرنے کی کوشش کی

میموریل یونیورسٹی کینیڈا میں ہمارے معزز و محترم پروفیسروں میں سے ایک ڈاکٹر یوجین وولف تھے جو انگلستان سے دو سال کے لیے کینیڈا تشریف لائے تھے۔ ڈاکٹر وولف ایک سائیکوتھراپسٹ تھے۔ انہوں نے جب گروپ تھراپی کا پروگرام شروع کیا تو انہیں ایک ایسے طالب علم کی ضرورت تھی جو ان کے ساتھ کام کرے۔ یہ میری خوش بختی تھی کہ انہوں نے تیرہ طلبا و طالبات میں سے مجھے چنا اور مجھے ان کے ساتھ دو سال کام

Read more

بیٹیوں کے باپ

آئیے آج آپ کو ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جو شاید آپ کی بھی ہو۔ اپنی کہانی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں ہی ہوئی ہو۔ بعض اوقات ایک ایسی دنیا جہاں آپ اس دنیا کی تلخی سے چھٹکارا پانے کو قدم رکھتے ہوں وہ بھی آپ ہی کی دنیا ہے۔ کسی کو دکھائی اس لیے نہیں دیتی کہ وہ دنیا خاص آپ ہی کے لیے بنی ہے اور آپ ہی نے بنائی ہے۔ اسی لیے بسا

Read more

فرینکسٹین، تخلیق کا المیہ

فرینکسٹین میری شیلی کا اکلوتا مگر شہرہ آفاق ناول ہے۔ یہ انگریزی ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس فکشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ میری شیلی مشہور برطانوی شاعر پی بی شیلی کی بیوی تھیں۔ ان کے والد ولیم گوڈون بھی ممتاز مفکر اور کالم نگار تھے۔ ان کی والدہ میری والسٹن کرافٹ ایک باغیانہ اور انقلابی سوچ کی حامل فیمینسٹ رائیٹر تھیں۔ میری شیلی پر اپنی والدہ کی قد آور شخصیت اور انقلابی فکر کا رنگ بھی نمایاں

Read more

میں ریپ کا درد نہیں سمجھ سکتا

ژاں پال سارتر ایک معروف فرانسیسی مفکر، ادیب اور فلسفی تھے۔ 1964 ء میں ان کے لیے نوبل انعام برائے ادب کا اعلان کیا گیا، جس کو انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ 1980 ء میں جب ان کی عمر پچھتر سال تھی، وہ فرانس ہی میں فوت ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل لکھتے ہیں کہ ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار افراد شریک تھے۔ ژاں پال سارتر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”انسان

Read more

جھونپڑی

فلک پر کالے بادل چھا رہے تھے اور ہوا کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ اس عالم میں کچھ لوگ اس نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ” امّاں، تم آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیا بارش ہونے والی ہے؟“ شمائلہ کی آواز میں معصومیت اور اندیشے نجانے کب سے مدغم ہو چکے تھے۔ پینتیس سالہ ماں جو معاشرے کی مار کی وجہ سے پچاس سال سے بھی زیادہ عمر رسیدہ لگ رہی تھی بہت آہستہ سے

Read more

بے رحم ماضی اور پُر امید مستقبل: کتاب ”دی ریشنل آپٹمسٹ“

کسی دن مطالعہ کرتے ہوئے یہ پیرا نظر سے گزرا کہ کیا یہ کسی معجزے سے کم ہے کہ آپ تقریباً آٹھ ارب لوگوں اور بے شمار زندہ مخلوقات کے ساتھ ایک بڑی چٹان پر سوار ہیں، جو خلا میں تیر رہی ہے اور ایک عظیم آگ کے گولے کے گرد گھوم رہی ہے۔ پھر بھی آپ مزید معجزات کی تلاش میں ہیں؟ ہماری زندگی، ہمارا وجود، اور یہ کائنات خود ایک عظیم معجزہ ہے۔ حال ہی میں، میں نے

Read more

مجھے پینک اٹیک کیوں آیا؟

یہ تقریباً تین ہفتے پہلے کی بات ہے جب مجھے پینک اٹیک آیا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔ والد صاحب گھبرا گئے اور فوراً گاڑی کا بندوبست کیا اور نزدیک کے پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاں کچھ دیر مجھے ڈاکٹر کے معائنے میں رکھا گیا، دوائیاں دی گئیں اور ڈرپ لگائی گئی۔ روایتی ڈاکٹروں کی طرح ان صاحب نے بعد میں اپنا ناٹک پیش کیا جس میں انھوں نے میری سانس کی دقت کو ہارٹ اٹیک سے تشبیہ

Read more

عمر عبداللہ: ہوٹل انڈسٹری کے ملازم سے ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تک!

ایک دور میں ہندوستان کی پرتعیش ہوٹل انڈسٹری کے معروف کاروباری ادارہ دی اوبرائے گروپ کے ملازم اور کشمیر کے با اثر سیاسی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عمر عبداللہ کے ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ تک کا کامیاب ترین سیاسی سفر ایک بے حد دلچسپ داستان ہے۔ عمر عبداللہ برصغیر کے معروف کشمیری سیاسی خانوادہ ”عبداللہ“ کی تیسری نسل سے تعلق رکھنے والے آزمودہ اور نہایت فعال سیاستدان ہیں۔ حال ہی میں ان کی

Read more

تین مختصر ہندی کہانیاں

کرایہ (کمال چوپڑا) بیٹھے بیٹھے مستقل آمدنی آنے کی خوشی تو آنند کو ہو رہی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں اسے اپنے باپ کی بہت یاد آنے لگی تھی۔ پتا جی کو گاؤں بھیج کر کیا ہم نے اچھا کیا؟ انھوں نے ہمیں پالا پوسا، کھلایا، بڑا کیا، اچھی طرح رکھا اور ہم نے؟ ”لکشمی، ہمارا اوپر والا کمرہ تین سو میں چڑھ گیا ہے۔ کرایہ ایڈوانس مل گیا ہے۔ رماکانت انکل کے ہی کسی دوست نے لیا ہے۔ ان

Read more

رزاق شاہد کھلے آسمان سے آٹھویں آسمان تک

ہمارے سروں پر سات آسمانوں کا بار کیا کم تھا کہ رزاق شاہد آٹھواں آسمان بھی اٹھا لائے۔ اور یہ وہ آسمان ہے جو ہم پر کبھی عذاب نہیں بھیجتا، ہمارے دکھوں کو کم کرتا اور زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ رزاق شاہد کے ساتھ میری ایک یا دو مختصر ملاقاتیں ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے نقش اتنے گہرے ہیں کہ میں انہیں ہمیشہ اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں۔ خوبصورتی ان کی تحریروں کی یہ ہے کہ ان میں

Read more

ریاست بمقابلہ شگفتہ کرن اور بلاسفیمی کے گروہ

اسلام آباد میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب سے متعلق مواد شیئر کرنے پر خاتون کو سزائے موت سنا دی ہے۔ خصوصی عدالت کے جج افضل مجوکا نے ملزمہ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے خاتون کو پیکا ایکٹ کی سیکشن 11 کے تحت سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی

Read more

ذاکر نائیک اور کچھ باتیں

کچھ دن قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان آئے ہوئے تھے انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں تقاریر کیں۔ وہ یہاں پر ریاست کے مہمان کی حیثیت سے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی آیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جو تقاریر کیں اور پوچھے گئے سوالات پر انہوں نے جو جوابات دیے اس پر کافی تنقید ہو رہی ہے اس پر کچھ اپنی رائے ہم بھی رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آتے ہیں اپنی ریاست

Read more

دادا، دادی اور نانا نانی کا عالمی دن

رشتوں کی اپنی ایک عجیب کائنات ہوتی ہے۔ ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ اہم اور معتبر ہوتا ہے اور ہر رشتے کی محبت کا اپنا ہی ایک پیمانہ ہوتا ہے۔ دنیا میں آج تک ان قدرتی رشتوں کی محبت اور پیار کو ماپنے کا کوئی پیمانہ نہیں بن سکا۔ یہ رشتے قدرت کے تخلیق کردہ ہوتے ہیں اور ان کی محبت بھی قدرت کی جانب سے ودیعت کی جاتی ہے۔ ان ہی رشتوں میں ہمارے بزرگوں سے قائم بچوں کی

Read more

کیا میں غلط سوچ رہی ہوں؟

21 ستمبر کی دوپہر میں گاڑی کی پچھلی نشست پر آدھی لیٹی، آدھی بیٹھی کیفیت میں اس دن کا اخبار اُلٹ پلٹُ رہی تھی کہ ایک خبر پے نظر پڑتے ہی میں یک دم سیدھی ہو گئی۔ خبر کو نیچے سے اوپر تک لفظ با لفظ پڑھا۔ جتنی دیر خبر پڑھتی رہی دماغ میں بیتے وقت کی ریل گاڑی چھکا چھک چلتی رہی۔ خبر ختم ہوئی تو میں نے سوچا اس خبر کا اصل کردار منصور راہی تو بہت ہی

Read more

کیا آپ عورتوں کے اسقاط حمل کے حق میں ہیں؟

کینیڈا میں جب میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میموریل یونیورسٹی نیوفن لینڈ آیا تو پہلے ہی دن میری ملاقات اپنے ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر جون ہونگ سے ہوئی۔ وہ مجھ سے بہت احترام سے پیش آئے اور مجھے اپنے ساتھ اپنے دفتر لے گئے۔ جب میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا تو فرمانے لگے ’ڈاکٹر سہیل میں آپ کو کینیڈا میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آج نو اکتوبر انیس سو ستتر ہے آپ یہاں چار سال

Read more

کلموے فیصلے

متحدہ ہندوستان سے پاکستان بننے کے سفر میں ہمارے سماج کے طور طریقوں میں طویل عرصے سے ساس اور بہو کے رشتے میں کلموہی ہمیشہ بہو ٹھہرائی جاتی ہے، ماں بیٹی کے رشتے میں کلموہی بیٹی قرار پاتی ہے اور باپ کے لئے بیٹا ہی ہمیشہ کلموا تصور کیا جاتا ہے جبکہ لاقانونیت اور انتشار پھیلانے والوں کے نزدیک متوازن انصاف ہی کلموا نظر آتا ہے، ناکارہ اور ناہنجار کے نکتہ نظر سے کارآمد قسم کے کلموے کا وجود بے

Read more

چوؔن برس قبل سوات اور باجوڑ میں

مردان سے گزرتی مرکزی سڑک کے ہوٹل میں کھانا کھا کچھ دیر آرام کے بعد ہمارا قافلہ سوات کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ ہم سالار قافلہ تھے اور دو سال پرانی ہو چکی بیگم، بڑی آپا، سات سے تیرہ برس عمر تک کی ایک بھانجی تین بھتیجے اور دو بھتیجیوں سمیت کل نو افراد اڑسٹھ ماڈل ٹویوٹا کرونا میں سیٹوں کے پاؤں میں بھی رکھے سامان کے اوپر یوں ٹھنسے تھے کہ کار کی چھت پہ لگے جنگلے میں

Read more

دس اکتوبر عالمی یوم ڈاک کے حوالے سے مضمون

ڈاک صندوق یا لیٹر بکس سے میری آشنائی بہت پرانی ہے، اس سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں۔ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا جب سے میں نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ بچوں کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں قلمی دوستی کا صفحہ بھی ہوتا تھا جس میں بچوں کی تصاویر اور ان کا مختصر تعارف چھپا ہوتا تھا۔ ان میں سے جو اچھا لگتا اسے خط لکھ کر قلمی دوستی شروع کر دیتے۔ اس وقت پوسٹ کارڈ

Read more

ذاکر نائیک کا بیان: ہمارے معاشرے کا المیہ

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاکستان کے دورے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مباحث جاری ہیں۔ خصوصاً ان کے پاکستان کے متعلق بیان کے بارے میں جس میں انھوں نے پاکستان کو غیر اسلامی معاشرہ گردانا۔ بقول ڈاکٹر صاحب کے وہ پاکستانی معاشرے کو اسلامی معاشرہ خیال کر رہے تھے۔ اس بات کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے خیال میں پاکستان ایک ایسا اسلامی معاشرہ تھا جہاں اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل در آمد

Read more

سوئٹزرلینڈ میں پہلا دن

ساڑھے گیارہ بارہ بجے کے قریب کولمار سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں عمیر کے ایک دوست کا فون آ گیا جو پچھلے ہفتے سوئٹرزلینڈ سے ہو کر گیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں اپنی معلومات شیئر کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب آپ سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوں تو بارڈر سے 45 یورو میں ونگٹ ضرور خرید لیں۔ یہ دراصل ٹول ٹیکس کی ادائیگی کی رسید ہے جو ایک سال کے لیے جاری کی جاتی ہے

Read more

شادی کے لیے صحیح آدمی

بولی ووڈ اور اب ہمارے پاکستانی ڈراموں نے یہ عام مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شادی یا محبت اس آدمی سے ہوتی ہے جسے دیکھ کر دل میں ہلچل مچ جائے۔ سانسیں تیز تر ہوتی جائیں اور دھڑکنیں پاگل ہو جائیں۔ نو عمری کی حسن پرستیوں کے لیے تو یہ بات سچ مانی جا سکتی ہے لیکن بہت سی خواتین / بچیوں کو اس پھول چاکلیٹ والے عشق کے پیچھے جینا برباد کرتے دیکھتی ہوں تو کہنے پہ خود

Read more

دماغی فتور یا پیرانائڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر

Paranoid Personality Disorder فیروز صاحب کے پاس بیوی بچے اور اچھا گھر بار وغیرہ سب تھے۔ لیکن اپنے ماضی کے تلخ حالات، غربت اور بچپن میں ماں باپ کی بے جا سختیوں کی وجہ سے ان کے اندر کچھ ایسے مسائل پیدا ہو چکے تھے جنہوں نے ان کی موجودہ دور کی زندگی کو بھی خراب کر رکھا تھا۔ ان کے تمام مسائل کی جڑ ایک ہی ذہنی مسئلہ تھا وہ یہ کہ وہ دوسروں پر ہمیشہ شک کرتے تھے۔

Read more

ایک ہندی اسطورہ: عقل و دانش کا دیوتا، گنیش

آپ نے شری گنیش کو دیکھا ہے؟ آپ کہیں گے بھلا ہم کیوں دیکھیں اور ہمارا بتوں سے کیا واسطہ۔ ہے ناں؟ بالکل ٹھیک۔ اچھا خدا جانتا ہے ویسے تو یہ ذکر یاد تک نا آتا لیکن محترم المقام نے خود ہی اتنی محنت کر دی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی یاد آ گیا ہے۔ گزرے برسوں کی بات ہے ہم شاید کالج میں تھے پوری دو دہائیاں قبل۔ پیس ٹی وی پر ایک بہت بڑے آڈیٹوریم کی لائیو

Read more

جنٹل مین

آخر کون ہوتا ہے یہ جنٹل مین؟ کیا وہ سوٹِڈ بوٹِڈ سی ایس ایس افسر جو کہنے کو تو عوام کا خادم یعنی پبلک سرونٹ ہوتا ہے، مگر در حقیقت گردن میں سریا فٹ کیے ہوئے عوام پر حاکم بنا ہوتا ہے اور اپنے لامحدود اختیارات کو عوام کے حقوق غصب کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے؟ یا جنٹل مین وہ وردی والا پولیس کا افسرِ اعلیٰ ہوتا ہے جو یوں تو قانون کی پاسداری اور قانون کے نفاذ اور

Read more

ڈی سی آفس گجرات کے منشی خاں بھی رخصت ہوئے

1990 ء کی دہائی کے آخری سالوں میں گجرات میں ایک ڈپٹی کمشنر آ کر لگے جن کا نام ملک خیر محمد ٹوانہ تھا۔ سرگودھا کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ملک خیر محمد ٹوانہ 28 مارچ 1997 ء سے 23 نومبر 1999 ء تک پونے تین سال گجرات میں ڈی سی تعینات رہے۔ گجرات کا ڈی سی آفس ان دنوں انگریز دور میں تعمیر کی ہوئی ایک پرانی بلڈنگ میں واقع تھا۔ موجودہ ڈی سی آفس

Read more

پھولوں بھری منڈیر

میں شکستہ قدموں کے ساتھ چلتا جا رہا تھا۔ نظریں جھکائے ہوئے جیسا میں ہُوں۔ پھر مجھے وہ گیٹ دکھا پھولوں کی بیلیں اس پر سے جھک رہی تھیں۔ مجھے یاد ہے کیسے میں نے تعلیم کے لیے شہروں کی خاک چھانی اور اب برسوں بعد واپسی پر بھی یہ گیٹ اپنی خوبصورتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب پانچویں کلاس میں سکول پارٹی ہوئی تھی اور پھولوں والے گھر کی لڑکی نے ڈانس کیا تھا۔ اپنے سرخ فراک میں مجھے

Read more

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ”زبانِ یار مَن تُرکی“

بک کارنر جہلم ہمارے شہر سے نزدیک ترین کتابوں کا ایک بہت بڑا سٹور اور اس سے بھی بڑا اور منفرد اشاعتی ادارہ ہے۔ کتابوں کی تقریب رونمائی میں شرکت کے علاوہ بھی اکثر وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ چند دن پہلے ماہر لسانیات اور درجنوں کتابوں کے مصنف پروفیسر غازی علم الدین اور اپنے دوست ممتاز شاعر ذوالفقار علی اسد کی معیت میں بک کارنر جانے کا اتفاق ہوا۔ اسی دن ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ”زبانِ

Read more

مولانا آزاد جو آخر تک تقسیم ہند روکنے کی کوشش کرتے رہے

مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں میں اتنی شہرت حاصل کر لی تھی کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ ’آزاد جس دن پیدا ہوئے، وہ 50 سال کے ہو گئے‘ ۔ وہ بچپن میں اونچے چبوترے پر کھڑے ہو کر تقریر کرتے تھے اور بہنوں سے کہا کرتے تھے کہ وہ انھیں گھیر لیں اور ان کی تقریر پر تالیاں بجائیں۔ پھر وہ سٹیج سے نیچے اترے اور لیڈر کی طرح آہستہ

Read more

مرنے کے بعد کیا ہوگا؟

خرم غضنفر میرے نوجوان ادبی، علمی و فکری دوست ہیں۔فلسفیانہ سوچ کے حامل خرم ایک با عمل نوجوان ہیں ۔ کچھ باتوں پر نظریاتی اختلاف کے باوجود ہمارے درمیان ایک گہری دوستی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنا اپنا موقف بیان کرتے ہیں مسلط نہیں کرتے اور نہ اس کے درست ہونے پر زور دیتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں میرا خرم کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

Read more

گناہ گار عورتیں

معاف کیجئے گا کہ حاضری میں تاخیر ہوئی۔ لیکن۔ ٹھہریے، یہاں کون سی رول کال لگ رہی ہے کہ آنے جانے کا وقت مختص ہو۔ جہاں گھڑیال اور پڑتال نہ ہو وہاں کیسی جلدی اور کیسی دیری۔ موت کی طرح زندگی میں دیگر حوادث کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ہمارا آنا اب ہی ٹھہرا تھا۔ معافی واپس کیجئے۔ کسی مناسب موقعے پر لے لیجیے گا۔ اب مدعے پر آئیں؟ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا سے دور ہیں لہذا کئی

Read more

پلوشہ… تیرا سوال تلوار ہے

ذاکر نائیک جب سے پاکستان پدھارے ہیں متنازع خبروں کے حوالے سے کافی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ حال ہی میں پلوشہ سے ان کی بحث سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی۔ اس پہ بہت سے لوگوں نے بات کی۔ اچھی باتیں کی۔ لیکن میرے لیے جو خوش کن بات تھی کہ پدر سری معاشرہ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود پاکستانی عورت سے پشتون عورت سے سوچنے کا حق نہیں چھین سکا۔ یقین جانیے دل کو اطمینان ہوا۔ اس

Read more

گرین زون فلسفے کے چار ستون

  اسلام علیکم خواتین و حضرات، سب سے پہلے بہت مبارکباد ثمر اشتیاق اور ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کا وقت میرے لیے بہت دلچسپ ہے کہ اس پراجیکٹ کا آغاز کووڈ کی وبا میں کیا گیا اور اس کی رونمائی اس وقت ہو رہی ہے جب ہم ایک apartheid state کی طرف سے مسلسل genocide کے eye witness ہیں اور اپنی آنے والی نسل کے لیے خدا مذہب انسانیت کو غزہ میں دفن کر چکے

Read more

سوشل میڈیا: چیلنجز، مضمرات اور ان کا سدباب

پچھلی دہائی سے اب تک، سوشل میڈیا ایک طاقتور قوت کے طور پر ابھرا ہے جس نے لوگوں کے باہمی روابط، بات چیت کرنے اور معلومات کے استعمال کے طریقے کو از سر نو تشکیل دیا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، ٹِک ٹِک اور لنکڈ اِن جیسے پلیٹ فارمز نے لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی ذاتی معلومات دوسروں پر عیاں کرنے اور عالمی واقعات کے بارے میں باخبر رہنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا

Read more

سپورٹس مریم نواز حکومت کی ترجیح ہی نہیں

لاہور 1985 سے مسلم لیگ نون کا گڑھ رہا ہے، پی ٹی آئی نے 2018 ءمیں لاہور میں اس گڑھ کو نقب لگا دی تھی جس کے بعد مسلم لیگ نون کو بہت محنت کرنا پڑی اور 2024 ءکے الیکشن میں نون لیگ نے اپنا گڑھ پھر مضبوط کر لیا اور لاہور سے کافی زیادہ سیٹیں جیت کر اپنی پوزیشن مضبوط بنالی اور تاریخ میں پہلی بار پنجاب کی وزیراعلی ایک خاتون کو بنایا گیا جو کہ مسلم لیگ نون

Read more

خطرناک لہروں میں ڈوبتے ہوئے خواب

گوادر کی خاموش، خاک آلود گلیوں میں، زندگی ایک دھیمی سی رفتار سے چلتی ہے۔ چھوٹی دکانوں اور بازاروں کی بھول بھلئیاں میں مختلف ناموں سے ایک شخصیت اکثر سائے میں چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ آپ اسے کوئی نام دے سکتے ہیں۔ شہباز، کریم، رفیق، اس کا نام خاموش لہجے میں سرگوشیاں کر تا ہے اور تلاش کرنے والوں کو دور سے سنائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا اسمگلر ہے، جو سمندروں اور سرحدوں کے اس پار جانے کا

Read more

مُرکم: فطرت کی دیوی

تحریر۔ عزیز علی داد ترجمہ۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔ گلگت کی دیومالائی کونیات کی دیویوں میں مرکم دیوی شاید سب سے اہم اور مشہور دیوی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نسوانی دیویوں کے نام اور ان سے منسوب خاصیتیں اور رسومات گلگت کے لوگوں کی یاداشت سے تقریباً محو ہو گئی ہیں، تاہم مرکم دیوی ایک استثنا اس لئے ہے کیونکہ وہ لوگوں کی ثقافتی یاداشت میں آج تک زندہ ہے اور سماج میں اس سے متعلق تصورات اور رسومات کی

Read more

ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر ہونے سے متاثرین ہونے کا سفر

جب میں نے پہلی دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سنا تو بہت متاثر ہوا کہ ایک بندہ فرنگی لباس میں ایک متاثر کن تقریر پورے پورے حوالہ جات کے ساتھ فرما رہا ہے اور سامنے ہزاروں کا مجمع خوشی سے سرشار تالیاں پیٹ پیٹ کر ان کو داد کی صورت میں صدقے واری جا رہا ہے۔ مگر ، اگر ڈاکٹر صاحب کی دین فروعی یا فروغی ( اسے ابی دین فروشی نہ سمجھا جائے ) کا عمیق جائزہ لیا جائے

Read more

ابے مرد بن مرد! شیر بن!

مرد ہونے کے لیے جتنی چیزیں ضروری ہیں اس میں سوائے جسم کے، باقی سب کا سب حالات پہ ڈیپنڈ کرتا ہے۔ مطلب دنیا میں تو آنا تھا، یا مرد یا عورت یا کوئی درمیانی شکل، تو آپ آ گئے۔ اب آپ ایک عدد مرد ہیں، اوکے فائن، لیکن باقی سب کچھ جو مارکیٹ میں مردانہ پن کہلاتا ہے اگر وہ سب آپ کے اندر نہیں ہو گا تو آپ مرد کیسے کہلائیں گے؟ جیسے مرد جو ہے اس کا

Read more

اکیلی عورت کو ”پبلک پراپرٹی“ سمجھنا عین اسلامی ہے؟

چند روز قبل میرے آفس کے ایک دوست نے حکومت پاکستان کی جانب سے ایک اسکالر کو سرکاری طور مدعو کرنے کے معاملے پر تنقید کرنا شروع کی کہ گلی محلوں کی ہلڑ بازیوں سے کنورٹ ہو کر دانشور ٹائپ پوڈ کاسٹر بننے والے ایک یوٹیوبر کے انٹرویو کے بعد حکومت نے جس شخص کو مدعو کیا ہے اس پر نفرت پھیلانے کے الزامات ہیں اور وہ اپنے ہی ملک سے فرار ہے اسے یہاں کیوں بلایا جا رہا ہے؟

Read more