باغی بلوچ، بد امن بلوچستان
سنو اے راہِ راست کے بے زبان دانشورو! اے جگر سوز لمحات کے نایاب مسافرو! میں حق و باطل کا فرق بھول گیا، میں تلوار تو لے آیا کفن بھول گیا۔ سنو آج زمین لرز نہ جائے تو بھی حیرت ہے یہ روتے بلکتے مسافروں کی آخری صدائیں ہیں، انہیں سمیٹ لو یہ وہ موتی ہیں جو کل تمھارے دامن سے بھی چمٹ سکتے ہیں۔ اے راہ راست کے دانشورو! آج پھر میں مجبور ہوا۔ میرے ضمیر نے مجھے زنجیر
Read more













































































