زندگی بچائیں۔ عطیات دیں

آج سے دو ماہ قبل اہلیہ کو کینسر تشخیص ہوا تو مختلف ہسپتالوں میں چکر لگے۔ ہر ہسپتال نے اپنا الگ طریقہ علاج اور ابتدائی طور پر لاکھوں روپے کا تخمینہ بتا کر میری پریشانی کو مزید بڑھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نجی ہسپتالوں نے ہماری جیبوں میں جھانکنا شروع کر دیا اور فوری داخل ہونے پر زور لگانا شروع کر دیا۔ ذہن ماؤف اور پریشانی اتنی شدید کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کتنے ہی دن تو

Read more

شوکے کا ہوٹل

شوکے کا ہوٹل اس شہر کے سب سے گنجان آباد علاقے کے مرکزی بازار میں واقع ہے۔ ہوٹل کیا ہے بس ایک متروکہ عمارت میں خستہ حالی کا مجسم نمونہ ہے جہاں مزدور طبقہ لنچ اور ڈنر کے لئے آتا تھا۔ یہ عمارت کسی زمانے میں ایک ساہوکار کا دفتر تھی جو دیوالیہ ہونے کے بعد حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ابدی سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔ اس بازار کے قدیمی بزرگوں کے بقول اُس نے ورثے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

تبصرہ نگار: دعا عظیمی بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔ مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے

Read more

ہو سکے تو میرا ایک کام کرو، کوئی تو شاہراہ میرے نام کرو

خیر ہم نے بھی قسم اٹھا رکھی ہے کہ بندے کے بچے نہیں بنیں گے، ایک دوسرے کو تُن کے رکھو، برسوں سے ایک ہی روایت چلتی آ رہی ہے اور ذرا بھی اس روایت میں فرق نہیں پڑا اور کیوں پڑے جب ہم یہ چاہتے ہی نہیں کہ فرق پڑے، آپ نے دیکھا ہو گا کہ تازہ بہ تازہ سڑک تعمیر ہوئی خواہ وہ گلی محلے کی ہو یا پھر مین شاہراہ اس کی افتتاحی تقریب کے فوری بعد

Read more

فلسفے کے راز۔ پہلی قسط۔ ول ڈورانٹ

ول ڈورانٹ نے بیسویں صدی میں فلسفے کے ثقیل اور دشوار علم کو ساری دنیا کے عوام میں اسی طرح مقبول بنایا جس طرح سٹیون ہاکنگ اور کارل ساگن نے سائنس کے پیچیدہ علم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچایا۔ میں نے جب ول ڈورانٹ کی سوانح کے بارے میں تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ 1885 میں میساچیوسڑس امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق کینیڈا کے کیتھولک فرنچ خاندانوں سے تھا

Read more

اپنے صحافی بھتیجے کی مدح میں

جہاں تک ہونہار بھتیجوں کا تعلق ہے، اردو ادب کے باثروت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ البتہ مولانا ظفر علی خاں کے بیٹے مولانا اختر علی خان سے شروع ہونے والی ’صحافی صاحبزادہ‘ روایت میں کسی قدر پانی مرتا ہے۔ ’پانی مرنا‘ لکھ کر محض محاورہ نہیں کھپایا، یہ روایت ایسی ثقہ ہے کہ کہیں کہیں تو کائی زدہ پانی میں صحافت کی پھولی ہوئی لاش بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ ناہنجار بیٹوں میں سے اکثر کے رگ پٹھے

Read more

ڈیٹرائیٹ سے کراچی کا سفر اور چار ہم سفر

آج رات آٹھ بجے شب میری ڈئیٹرائٹ، مشی گن سے پاکستان روانگی کا دن ہے۔ جہاں مقصد کچھ ماہ کے لیے کراچی ملیر کے کوہی گوٹھ ہسپتال میں بطور تھرپسٹ والینٹیر کرنے کاہے۔ ایک خواب جو میری کل وقتی ملازمت کے ساتھ اب تک ممکن نہ ہوسکا تھا۔ ڈیٹرائیٹ ائر پورٹ پہ سامان چیک ان کے بعد میں اپنے ہینڈ کیری کے ساتھ مسافروں کے لاؤنج میں پہنچتی ہوں۔ سیل فون ہاتھ میں ہے جسے چارج کرنے کے لیے میں

Read more

ہائے وہ میری پہلی محبت

25 فروری 2024 کے پچھلے پہر ایک فون کال نے بے جان کر دیا۔ پہلی فرصت میں کسی صورت اس پر یقین کرنے کو دل راضی نا ہوا۔ فون کرنے والے چھوٹے بھائی سے بار بار اور ہر پہلو سے اس خبر کی تصدیق کی اور ہر دفعہ دل و جان سے یہی چاہا کہ کاش یہ کہہ دے کہ یہ جھوٹ ہے۔ دل اس لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا کہ ابھی اس واقعے سے دو

Read more

مولانا ابوالکلام آزاد: بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

متوسّط قامت، اکہرا بدن، گورا رنگ، کتابی چہرہ، سفید چھوٹی داڑھی، شاہیں نظر، متحرّک اور روشن آنکھیں، آواز بلند و پُر جلال، مزاج میں تمکنت و وقار، خلقتاً خلوت پسند و گوشہ نشیں، طبیعت باغ و بہار، زہد و استغنا اور صبرِ جمیل کا مجسّمہ، خوش رو و خوش پوشاک، مشرقی شرفا کا لباس زیبِ تن کیے ہوئے، سر پے اونچی کالی ٹوپی، غیرت و خودداری، زبان و بیان کے دھنی، متحدہ ہندوستان میں ان سے بڑا کوئی گفتگو طراز

Read more

ہاکی سے کرکٹ تک

اپنے آس پاس سب ’’نارمل‘‘ بچوں کی طرح ہم بھی کرکٹ کھیلا کرتے تھے، جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں، دسمبر کی منجمد شاموں میں، اسکول میں، گلی محلے میں، ویہڑے میں، جہاں دائو لگ جاتا ہم شروع ہو جاتے، ٹیپ بال ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور گلی کی کرکٹ بھی سرخ گیند سے کھیلی جاتی تھی، پیڈز، گلوز کی عدم موجودگی میں چوٹ لگنا معمول کی بات سمجھی جاتی تھی، انگلی پر گیند لگی تو ناخن نیلا ہو

Read more

کب ملیں گے عورتوں کو انسانی حقوق؟

کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں بھی ڈاکٹروں والی امیونٹی آ گئی ہے۔ جیسے وہ لاشیں دیکھ دیکھ کر بے حس ہو جاتے ہیں، میں بھی عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے واقعات پڑھ پڑھ کر شاید بے حس ہو گئی ہوں۔ اب سوشل میڈیا پر صبح سے اس خبر کے بارے میں نوجوان لڑکیوں کا واویلا دیکھ رہی ہوں کہ وہاڑی میں ایک جواری نے بازی ہارنے پر جیتنے والے کو اپنی بیوی کا

Read more

علماء کی بستی۔ نگرام

تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں دینی تعلیم کے لیے دو مدرسے یا مکتبہ فکر School of Thought مشہور تھے جنہیں عرف عام میں دیوبندی اور بریلوی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند یوپی کے شہر سہارنپور میں اٹھارہویں صدی کے آخر میں مولانا قاسم نانوتوی نے قائم کیا۔ اس مدرسے سے بڑے بڑے نامور عالم دین فارغ التحصیل ہو کر نکلے جنہوں نے برصغیر میں دینی تعلیم اور تبلیغ کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ یہاں سے

Read more

نوعمروں میں منشیات کے بڑھتے واقعات اور والدین

ملک میں ایک کے بعد ایک کیس نے چونکا دیا ہے۔ اب بہت ضروری ہو گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔ آپ کتنے بھی اچھے والدین ہوں، بہت ڈسپلن رکھتے ہوں، مگر موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ اپنے 14 سال یا 13 سال کے بچوں کو اپنی نگاہ میں رکھیں، اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کا بچہ غلط ہے، یا آپ نے اچھی تربیت نہیں کی ہے بلکہ حالات

Read more

ٹرمپ کا غزہ پر قبضے کا منصوبہ اور اس کے مضر اثرات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب دوسری مدت صدارت کے لیے انتخابات جیتا تھا، اسی وقت اہل فکر و نظر نے کچھ خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس نے اپنی پہلی مدت صدارت میں، جو فیصلے لیے تھے، ان سے نہ صرف عالمی برادری کے سنجیدہ لوگ؛ بلکہ امریکی شہری بھی ناراض تھے۔ اس کی حالیہ فتح کے بعد ، جن حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، ان میں سر فہرست ”فلسطین کا مسئلہ“ تھا۔ مسٹر ٹرمپ

Read more

آج میری چھوٹی بیٹی نشاء کا جنم دن ہے

خوش نصیب ہوتا ہے وہ آنگن جہاں بیٹیوں کی چہکار ہوتی ہے، ان کی تو تکار، چھوٹی موٹی سی پیار بھری لڑائیاں اور ماما پاپا سے فرمائشوں کے تسلسل کے بنا یہ زندگی بھی بھلا کیا ہوتی، ان کی آوازوں میں سحر اور لہجوں میں جو مٹھاس ہوتی ہے اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی موسیقی یا دھن نہیں کر سکتی۔ ماں باپ کا درد بنا کہے ایک بیٹی ہی محسوس کر سکتی ہے کوئی اور بالکل بھی نہیں کر

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ

Read more

گھاس پھونس کی مانند لوگ

درمیانہ سا کمرہ تھا۔ وہاں دو بیڈ تھے جن میں سے ایک پر ایک لڑکی آ کر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی عمر کی دوسری دہائی ابھی ابھی پار کی تھی۔ نکلتا قد تھا، ستھرا رنگ تھا۔ بہت خوبصورت نہ سہی، بہت قبول صورت تو تھی ہی۔ وہ دیکھنے میں بالکل تندرست تھی۔ اس کے پاس ایک نوعمر لڑکا بینچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں کم عمری والی بے فکری سے باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی سے بڑی

Read more

سچ کے رشتہ دار افسانہ

پچھلے چند مہینوں میں مجھے ایک بزرگ شہر میں کئی دفعہ نظر آئے لیکن ہر دفعہ وہ افسردہ و پریشان دکھائی دیے۔ ایک جمعرات کی صبح وہ ایک مندر کے باہر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے۔ ایک جمعے کی دو پہر وہ ایک مسجد کی دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ ایک ہفتے کی سہ پہر وہ ایک سناگاگ کے باہر رو رہے تھے اور ایک اتوار کی شام وہ ایک گرجے کے باہر آنسو بہا رہے

Read more

گوتم سے ملاقات

1979 میں ڈیڑھ سال کی انکوائری کے بعد مجھے لاہور کے ہنگامہ خیز شہر سے راول پنڈی اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ واشنگٹن کے ایک قبرستان جتنا بڑا ہے اور اس سے دگنا مردہ۔ اس شہر میں لوگ نہیں گریڈ رہتے ہیں اور ان کی قبروں کے بھی گریڈ ہوتے ہیں۔ میں اس شہر کے رومان پرور موسموں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور ساتھ

Read more

انسٹا گرام اور اللہ سے پرہیز

مہ وش نے نانی کی یہ نصیحت دل پے لے لی کہ سیکس گندا کام ہے، گناہ ہوتا ہے۔ بچے مجبوری ہیں بس جلدی سے پیدا کرو وہ بھی دو تین، زیادہ نہیں۔ نانی نے فائر فائٹنگ بھی سکھا دی کہ عشا کی نماز مرد کی تاتاری یلغار سے بچنے کے لیے ڈھال اور تہجد جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے بہترین حربہ ہے ہارڈ وئیر کا ہول سیلر دہلی والوں کا میاں ماجد گھر آتا تو بہترین مرغن کھانے

Read more

بگڑے امیر زادوں کے ”کارنامے“ ۔ بستی بستی مقتل بابا

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے میر تقی میر نے کسی زمانے میں کہا تھا کہ دلّی کے امیر زادوں کی صحبت سے دور رہو کیونکہ ان ہی کی دولت کی وجہ سے غریب ہیں یعنی دلّی کے امیر مادیت پرست ہیں اور دولت جمع کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑتے اس لئے انہوں نے ہماری دولت ہم سے لوٹ کر ہمیں غریب بنا دیا ہے۔ یہ دلی

Read more

طلسمِ خاک ہی ٹھہری ہے اب متاعِ زیست

اس ماہ خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کو وداع کیا کیا کہ اپنا بچپن، لڑکپن اور یادوں کے کوچے سب آباد ہو گئے۔ ویسے تو فی زمانہ ”صبح گئے کہ شام گئے“ اور ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ جیسا احوال چل رہا ہے مگر ان بوجھل اور سرد خشک دنوں کا تریاق ایک خوبصورت کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا اور کتاب بھی وہ جس کے عنوان میں ہی جدائی کا لفظ شامل ہو جی ہاں محمد

Read more

نزہت تائی

نہ فیصل کا قتل ہوتا، نہ بیٹے کے جنازے پر تائے میاں نزہت تائی پر غصہ ہوتے، نہ نزہت تائی سفید سپاٹ چہرے، خالی خشک آنکھیں لیے بھولے بھولے انداز میں انہیں تکتیں، نہ ان کا یہ چہرہ میرے حافظے کی البم پر چپکتا اور نہ میں نزہت تائی پر کچھ لکھتی۔ کاش! اے کاش کہ یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ بہت کچھ ویسا نہ ہوتا جیسا کہ تھا۔ یہ موت کا

Read more

میمنتو موری۔ ۔ ۔

یہ بات 1066 عیسوی کے انگلستان کی ہے اور کسی بھی سن کے کسی بھی استھان سے اس کا تعلق محض اتفاقی ہے۔ بادشاہ کا انتقال ہوا تو تخت کے چار دعویدار تھے۔ دو مقامی اور دو بیرون ملک۔ مقامی دعویدار، ہمیشہ کی طرح بادشاہ کے رشتے دار تھے۔ ایک بھتیجا اور دوسرا، ملکہ کا بھائی۔ فیصلہ، مقتدرہ کی مجلس نے کرنا تھا سو انہوں نے اس وقت کے رواج مطابق، بیگم کے خانوادے کو بھائی کے خاندان پہ فوقیت

Read more

اللہ سئیں دے بندے اساں شاعر محمد یونس۔ کافی کا ریویو

کافی پنجابی، سندھی اور سرائیکی میں استعمال ہونے والی شاعری کی ایک شاخ ہے۔ وہ شاعر جو روشنی اور آگہی کے راستے پر سفر کر رہے ہیں۔ یعنی، صوفی ازم وہ تخلیق کار یعنی خدا سے اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے لئے گہری محبت کا اظہار کرنے اور اپنی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے ذریعہ اظہار کے طور پر کافی کا استعمال کرتے ہیں۔ حضرت بابا بلھے شاہ، شاہ حسین، سچل سرمست اور کچھ دیگر ہستیوں

Read more

وجود ایک وہم ہے

گڈ مارننگ! اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول سے مختلف ہوتی ہے۔ ماشا اللہ آپ جوان اور سمجھدار ہیں۔ آج ہم صرف ایک دوسرے کا تعارف حاصل کریں گے۔ کچھ فلسفے کے مضمون پر بات ہوگی اور کل آپ کا پہلا امتحان لیا جائے گا۔ امتحان میں بیٹھنے

Read more

شادمانی ہو شادمانی

حکیم مرزا صاحب نے اپنے پانچ بچوں کی شادی کا دن طے کیا تو چھوٹے بیٹے پپو کو بھی اسی میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کھوج کا آغاز یوں ہوا کہ قبلہ کے پانچ بچوں کی شادی پہلے ہی فروری میں مقصود تھی۔ سو خرچ بچاؤ ملک بناؤ پروگرام کے تحت چھٹے بچے کو بھی اسی اجتماعی قربانی کے فیسٹول میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پہلے پہل ایک خاتون پسند کی گئیں۔ عجلت میں عمر

Read more

ادب احترام اور وفا کا دوسرا نام: چودھری علی محمد

چودھری بھولا خان دریا جہلم کے بائیں کنارے پر آباد گاؤں کے بڑے زمیندار تھے۔ کھیتی باڑی سے گزر اوقات ہو رہی تھی۔ 1924 ء کے موسم سرما میں اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ پہلوٹھی کے بیٹے کی پیدائش پر چودھری بھولا خان اور ان کی بیوی حفیظاں بی بی بہت خوش تھے۔ بیٹے کی پیدائش پر چودھری بھولا خان نے اپنے پیر خانہ میں حاضری دی اور بڑے پیر صاحب سے بیٹے کی طویل عمری کی دعا کے

Read more

عفت نوید کا افسانوں کا مجموعہ ”ردّی“

”ادب عام لوگوں کے بارے میں کچھ غیر معمولی دریافت کا فن ہے اور عام الفاظ سے کچھ غیر معمولی کہنا ہے۔“ ویسے تو یہ الفاظ ہیں ”ڈاکٹر ژواگو“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے ادیب بورس پاسٹرنک کے، لیکن عفت نوید کے افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کو پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا اس جملے کی صداقت پہ سر دھننے کا جی چاہا۔ عفت کے سادہ زبان اور عام فہم انداز میں لکھے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے

Read more

مہاراجہ سورج مل جاٹ: تاریخ کا ایک دلچسپ کردار

مہاراجہ سورج مل جاٹ کی پہلی بڑی جنگ سورج مل نے اپنی پہلی بڑی لڑائی 1745 ء میں چانڈوس میں لڑی۔ اس لڑائی کا پس منظر یہ تھا کہ مغل بادشاہ محمد شاہ، علی گڑھ کے نواب فتح علی خان سے کسی بات پر ناراض ہو گیا تو اس نے اسے سزا دینے کے لیے ایک افغان سردار اسد خان کو بھیجا۔ فتح علی خان کو محسوس ہوا کہ وہ ایک چھوٹا جاگیردار ہے اس لیے اسے کسی کی مدد

Read more

پیش بینی ہزار نعمت ہے

مَیں کئی ماہ سے کھانسی میں مبتلا ہوں جو آپ کا پورا وُجود جھنجوڑ ڈالتی اور آپ کی صلاحیتِ کار کو بری طرح نچوڑ لیتی ہے۔ مَیں نے اپنی بیماری کا ذکر صرف چند قریبی رشتے داروں اور دَوستوں سے کیا ہے، کیونکہ بقول حالیؔ ؎ مصیبت کا اِک اِک سے احوال کہنا مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ مگر دنیا والے جینے نہیں دیتے۔ کہتے ہیں کہ تم پاکستان کے سینئر ترین صحافی ہو، حکومت کو تمہیں علاج کی

Read more

یو نو ٹل آئی نو ٹل (You No Tell I No Tell)

فروری 2024 ء میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی اتحادی حکومت ایک سال کے اندر 34 فیصد کی سطح پر مہنگائی کو 5 فیصد سے نیچے تک لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اِس دوران سرکار کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ معاشی حالت خطرہ سے نکل جانے کی خبر تو ہم کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملی ہے۔ اِس سے قطع نظر کہ صوبہ خیبر

Read more

روحانی رشتوں میں ملبوس جنسی درندے

پاکستان میں چور وہی ہوتا ہے جو پکڑا جائے اور کیس کی اندراج سے پہلے مک مکا کر کے خود کو ’باعزت‘ چھڑا نہ سکے، ورنہ یقین کریں، اکثر لوگ سوشل میڈیا پر جن برائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خود بھی انہی برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں، بس موقع نہیں ملتا یا پکڑے نہیں گئے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج کے کسی لیکچرار اور پروفیسر (میل فیمیل دونوں ) کے لئے یہ کیا کم ہے، کہ وہ قحط النساء پر

Read more

تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات

پاکستانی تعلیمی اداروں میں طلبہ بالخصوص طالبات کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے طلبہ، والدین، انتظامیہ اور پالیسی سازوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ملک بھر میں مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں جنسی ہراسانی، دھونس اور دیگر بدانتظامی کی مسلسل سامنے آنے والی خبروں کے نتیجے میں طلبہ، خاص طور پر طالبات کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس طرح

Read more

جنوبی افریقہ میں مقتول ہم جنس پسند امام مسجد ایک دینی مدرسے کا فاضل نکلا

گزشتہ دنوں ایک خبر موصول ہوئی جس کے مطابق جنوبی افریقہ میں قتل ہونے والا ایک متنازع مسلمان امام مسجد جو کہ علانیہ طور پر ہم جنس پسند تھا کراچی کے ایک دینی مدرسے کا فارغ التحصیل نکلا۔ ہم جنس پسندوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق محسن ہینڈرکس کے دادا امام مسجد، والد روحانی معالج اور والدہ مذہبی معلمہ تھیں، محسن نے مزید دینی تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان کا رخ کیا اور 1994 تک کراچی میں یونیورسٹی

Read more

آکاش کی میراث: آخری سانس تک جدوجہد

ڈاکٹر آکاش انصاری کی زندگی اور موت ایک ایسی داستان ہے جس میں شاعری، سیاسی سرگرمیاں، اور انسانی خدمات باہم منسلک ہیں۔ 25 دسمبر 1956 کو سندھ کے ضلع بدین کے ایک گاؤں سعید پور میں پیدا ہونے والے آکاش کا سفر ایک سادہ پس منظر سے شروع ہو کر ایک مشہور شاعر اور سماجی کارکن تک پہنچتا ہے، جو ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو سماجی بہتری کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کہانی صرف ذاتی کامیابی

Read more

سر سکندر حیات خان آف واہ سے سردار سکندر حیات تک

قیام پاکستان سے قبل کی سیاست کے ایک اہم سرخیل متحدہ پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر و پہلے مسلمان وزیر اعظم سر سکندر حیات خان مرحوم آف واہ کے پوتے، ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے دو مرتبہ 1988 اور 1993 میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے اور 1993 میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات رہنے والے سردار سکندر حیات خان کی چند ماہ بیشتر 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار کو لاہور میں رحلت سے پنجاب کی سیاست سے

Read more

میجر صاحب

چیت کی آخری دن جا رہے تھے۔ بیساکھ کا مہینہ شروع ہوا ہی چاہتا تھا بیساکھ کی آمد کسانوں اور کاشت کاروں کے لیے ہمیشہ سے ہی خوشی اور مسرت کا سندیسہ لاتی رہی ہے کیوں کہ چڑھتے بیساکھ کے ساتھ ہی گندم کی کٹائی شروع ہو جایا کرتی ہے۔ اس طرح کسان کی پچھلے چھ ماہ کی محنت کا پکا ہوا پھل اس کی جھولی میں گرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ فضل الہٰی کے لیے تو یہ دوہری

Read more

انہیں اف تک مت کہو

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاھُ و َبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَاناً​ ؕ اِمَّایَ۔ بۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُھُمَاۤ اَوۡ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَاۤ اُفٍّ و َّلَا تَنۡھَرۡھُمَا و َقُلْ لَّھُمَا قَوۡلاً کَرِیۡماً‏۔ اور فیصلہ کر دیا ہے آپ کے رب نے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان

Read more

ایڈورڈ سعید: مستشرقیت اور مابعد نوآبادیات

یکم نومبر 2001 میں یروشلم میں ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والا ایڈورڈ سعید ایک فلسطینی امریکن سکالر، استاد، سیاسی کارکن اور ادبی نقاد تھا اس نے ادب کو سماجی اور سیاسی ثقافت کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں ادب کے استاد کے طور پہ اس کو نو آبادیاتی مطالعہ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ فلسطینیوں کے سیاسی حقوق اور خودمختار فلسطینی ریاست کا ایک بے باک ترجمان تھے۔ ایڈورڈ سعید کے والد

Read more

سندھ کے نوجوان: منشیات، بے روزگاری اور سماجی زوال

سندھ میں نوجوانوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال ایک لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔ تعلیم سے دوری، بے روزگاری، منشیات کی لعنت اور سماجی بے حسی نے نوجوانوں کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا ہے جہاں وہ یا تو خود کو تباہ کر رہے ہیں یا معاشرے کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ واقعات، جن میں آکاش انصاری جیسے معروف شاعر کا بے رحمانہ قتل شامل ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سندھ میں معاشرتی اقدار

Read more

حجامت – مکمل کالم

دُکان میں اُس وقت زیادہ گاہک نہیں، ایک شخص کی شیو کی جا رہی تھی جبکہ دوسرا شخص حجامت بنوا رہا تھا۔ استاد اخبار پڑھ رہا تھا، وہ شاذ و نادر ہی کام کرتا تھا، زیادہ تر وہ اپنے کاریگروں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے میں لگا رہتا تھا، جب کوئی بابو قسم کا گاہک آتا تو وہ اُس کے لیے اٹھتا اور پھر اُس وقت استاد کا فن دیکھنے والا ہوتا۔ اُس کا چھوٹا شاگرد، جسے زیادہ تر استاد سے

Read more

ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کی سنسنی خیز سرگزشت (آخری قسط )

ڈاکا جو ناکام بنایا ” شبیر! دوسرا اور تیسرا واقعہ تو بتا دیا لیکن پہلا واقعہ کیا تھا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔ ” پہلا واقعہ 1995 میں پیش آیا۔ اس وقت میں جوان تھا۔ میرے کلینک سے پانچ قدم کے فاصلے پر میڈیکل اسٹور تھا۔ ایک دن وہاں شور کی آواز سنائی دی تو میں باہر نکلا۔ تین ڈاکو نظر آئے۔ ایک میڈیکل اسٹور لوٹ رہا ہے دوسرا خودکار اسلحہ لئے 11 لوگوں کو یرغمال بنائے باہر کھڑا ہے۔

Read more

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

ایک عرصہ ہوا کہ میں نے ٹی وی اور ڈرامے دیکھنے چھوڑ رکھے ہیں۔ لہٰذا ڈراموں یا اداکاروں کی شادیوں وغیرہ سے نہ مجھے دل چسپی ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ آگاہی، لیکن کل میری بہو افشین میرے پاس ماورا اور امیر گیلانی کی شادی کی ویڈیو اور تصویریں لے کر آئی۔ مجھے تھوڑی سی حیرانی ہوئی اور پوچھا کہ مجھے کیوں دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ افتخار گیلانی کا پوتا ہے۔ مجھے کچھ

Read more

کنوارے کا ویلنٹائن

سند باد جہازی بھی بننا پڑے گا کبھی سوچا نہیں تھا۔ پہلے پہل تو سمندر سے کبھی بنی نہیں موا ہماری لانچ کو ڈبونے کے چکر میں ہی رہا۔ دیکھو تو کیسی ہری ہری کائی پھیل رہی ہے جیسے سڑی ہوئی ٹونا فش کا جوہڑ ہو۔ بھائی لوگ بولے ہیں لانچ سمندر کو چیرتی ہوئی جاتی ہے۔ جال ڈالتے جاؤ، کھانا اور موتی بٹورتے جاؤ۔ لیکن یہ موا تو مردہ ہے۔ بھوکے میں نہ تن کی آگ بجھائے نہ گلے

Read more

عورتوں کو اور کتنے حقوق چاہئیں؟

اتنی زبان چلائے گی تو مار ہی کھائے گی۔ بیٹیوں کا اتنا بولنا اچھا نہیں ہوتا۔ اگلے گھر بھی جانا ہوتا ہے۔ یہ انفرادی نہیں اجتماعی سوچ ہے پاکستانی سماج کی۔ لیکن کسی سال کا بھی عورت مارچ ہو۔ وہاں مردوں کے حقوق کا رونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ مرد مارچ کر لیں۔ کسی اور نے مارچ کا انتظام کیا۔ عورتیں آئیں بات کی۔ آپ اپنے پلے کارڈ اٹھائے چل پڑے۔ ملاحظہ فرمائے پاکستانی مردوں کے بڑے بڑے

Read more

پندرہویں صدی میں چینی ایڈمرل ژینگ ہو کی مہمات کا مطالعہ

چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی تہذیبی اقدام ”Global Civilization Initiative (GCI)“ کا تصور مارچ 2023 ء کو بیجنگ میں ایک تقریر کرتے ہوئے پیش کیا۔ اس کا مقصد تہذیبی ہمہ گیری، باہمی آگہی اور لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہے۔ ان کے تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے تصور کو بین الاقوامی سطح پر بے انتہا پذیرائی ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”تہذیبوں کے درمیان تبادلہ اور باہمی ہم آہنگی انسانی تہذیب کی

Read more

”باتیں لاہور کی“ از سوم آنند

ہندوستان کی تقسیم کے حوالے سے لکھے جانے والی کوئی بھی کتاب اٹھا کر پڑھ لیں آپ کو احساس ہو گا کہ اس خطے کی عوام نے کتنے مصائب اور آلائم جھیل کر اس تقسیم کے مرحلے کو طے کیا اور تب جا کر کہیں انھیں آزادی کی نعمت نصیب ہوئی۔ اُن دلسوز واقعات کو سُن اور پڑھ کر انسانی دل جتنا مرضی ہے سخت ہو لیکن نرم پڑھ جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی

Read more

سترہ کلومیٹر سے جڑی یادیں

اسی کی دہائی تھی۔ ہم گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھتے تھے جب ایک دن گاؤں سے ملحقہ آبادی کی طرف سے آنے والے ہمارے کلاس فیلوز نے بتایا کہ شہر سے پتھروں سے لدے ٹرک آتے ہیں اور شہر جانے والے کچے راستے کے اطراف میں وقفے وقفے کے فاصلے پہ وہ پتھر اتار کر واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب تحصیل چوک چکوال سے ملہال مغلاں تک کچی پگڈنڈی تھی، کوئی باقاعدہ پکی سڑک نہ

Read more

15 فروری مرزا اسد اللہ خاں غالب کا یوم وفات

آج اردو اور فارسی کے عظیم شاعر، نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسداللہ خان غالب نظام بہادر جنگ کا یوم وفات ہے۔ آپ 27 دسمبر 1797 ء کو کالا محل، آگرہ ریاست بھرت پور میں پیدا ہوئے۔ آبا کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ 19 ویں صدی بلا شبہ مرزا اسداللہ خان غالب کی شاعری کی ہے۔ عہد شاعری کے اعتبار سے اٹھارہویں صدی میر تقی میر کی تھی اور بیسویں صدی اقبال کی تھی۔ غالب کے والد کا نام

Read more

جان سے پیاری ”بیا“ کے نام

جدائی کا غم اگر اتنا گہرا اور پر اذیت نہ ہوتا تو اللّٰہ کے پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی میں اتنا گر یہ نہ فرماتے کہ ان کی آنکھوں کی روشنی ہی جاتی رہتی۔ جب زندگی جیسے قیمتی شخص کی جدائی کا کاری زخم دل پر لگ جاتا ہے تو وہ زخم شفا یاب نہیں ہو پاتا۔ برس ہا برس بعد بھی ایک گہرا درد اک مسلسل ٹیس کی صورت اپنے

Read more

کیا خاتون کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی؟

انسان صرف ”جیبی“ غریب نہیں ہوتا بلکہ ذہنی غریب بھی ہوتا ہے، جیبی غریب تو ایک خاص عرصہ تک محنت اور جہدوجہد کر کے اپنی اس معاشی کمزوری پر غلبہ پا ہی لیتا ہے لیکن ذہنی غربت کا علاج تو بے حساب سرمائے سے بھی ممکن نہیں ہوتا اور تعلیم بھی ایسے شخص کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ اس قسم کا بندہ ساری زندگی عیاشی کرتا ہے اور عمر کے آخری حصے میں پرہیز گار بن کر دوسروں کا جینا

Read more

گھریلو ملازمین پر تشدد۔ ریاست بھی قصوروار؟

زمین پھٹی نہ آسمان گرا، ایک اور بیٹی اپنے باپ کی غربت مٹاتے مٹاتے خود مٹ گئی۔ چند دن پہلے راولپنڈی میں ایک گھریلو ملازمہ 12 سالہ اقرا کو مالک میاں بیوی نے اس طرح مارا کہ مار ہی ڈالا۔ وہ ایک ایسے گھر کی خادمہ تھی جس نے اس کی ہر طرح کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا تھا۔ غریب باپ نے 18 مہینے پہلے 8 ہزار تنخواہ پر اسے رکھواتے ہوئے گلے سے لگایا ہو گا اور لازمی

Read more

چاکلیٹ چور غلام

آج صبح جب اٹھ کر بارہ سالہ اقراء کے بہیمانہ قتل کی خبر سنی تو دل دہل سا گیا۔ بارہ سال کے بچے کتنے معصوم ہوتے ہیں، کتنی امیدیں، خواب ان کے نازک سے وجود میں دبی ہوتی ہیں۔ ان کی آنکھیں کتنی مقدس اور جذبات کتنے سچے اور صاف۔ میں نے اقراء کو نہیں دیکھا، نہ ہی اس کی ٹوٹی پھوٹی کھوپڑی، نہ اس کا مردہ جسم، نہ اس کے جسم پر زخموں کے نشان دیکھے، نہ ہی اس

Read more

ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کی سنسنی خیز سرگزشت – پہلی قسط

میں نے کلثوم بائی ولیکا سیکنڈری اسکول کراچی ائر پورٹ سے 1970 میں میٹرک کیا۔ پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے اسکول کے ہم جماعت ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کے گھر آغا باغ، کُری گوٹھ میں ملاقات ہوئی۔ شبیر کے چچا نامور فلمی اداکار کمال ایرانی تھے۔ اس ملاقات کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں مجھ سمیت آٹھ ہم جماعت بھی موجود تھے۔ کچھ سال پہلے ڈاکٹر شبیر اپنے کلینک سے اغوا ہوئے تھے۔ اُن کو کچے کے

Read more

ایک سائبر کرمنل کا خاکہ

جتنا وہ باہر سے نفیس نظر آتا تھا اندر میں اس سے کئی دفعہ زیادہ غلیظ تھا۔ یہ راز تب افشا ہوا جب اس کے خلاف ٹیکنالوجی کے ٹھوس شواہد سامنے آئے۔ ادارے کے ساتھی، دوست احباب، خاندان والے، پڑوسی اور یہاں تک کے ان کی بیگم سب شواہد سن کر حیران رہ گئے کے اتنا میٹھا، نفیس اور سفید پوش شخص اپنے اندر اتنا زہر کیسے چھپائے ہوا تھا؟! جناب جس ادارے میں افسر تھے وہاں اپنے ہی ساتھیوں

Read more

کھرپا بہادر اور فراموش آباد کے اچکے

جس زبان کے بولنے اور پڑھنے والوں نے تصدق حسین خالد کی نظم، چراغ حسن حسرت کی نثر اور رفیق حسین کے افسانے فراموش کر رکھے ہوں، وہاں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عظیم بیگ چغتائی ایک گمنام نثر نگار ہے۔ محض اتفاق ہے کہ 1895 میں پیدا ہونے والے عظیم بیگ 1941 میں رخصت ہوئے تو ان کی بہن عصمت چغتائی نے ’دوزخی‘ کے عنوان سے مرحوم بھائی کا ایسا خاکہ لکھا جو عظیم بیگ کی طرفہ طبیعت اور

Read more

ذہانت، کامیابی اور حقیقی خوشی۔ کرسٹوفر لینگن ایک پراسرار شخصیت

  آئنسٹائن اور جے اوپن ہائمر سے زیادہ ذہین لیکن جسے ایک عام انسان بننا پسند ہو، کیا زندگی میں کامیابی کا مطلب صرف دولت اور شہرت ہے؟ کیا ذہانت کا اعلیٰ درجہ انسان کو خودبخود خوشحال بنا دیتا ہے؟ بقول اکبر الہ آبادی کے ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے اگر کوئی آئنسٹائن سے زیادہ ذہین ہو تو کیسا ہو گا، میں اسی کے لئے انٹرنیٹ

Read more

چکوال میں انسانیت سوز واقعہ

چکوال میں تھانہ نیلہ کے گاؤں گگھ میں گزشتہ دو سال سے زرعی زمین ہتھیانے کی غرض سے ایک ویران گھر میں بند رکھے گئے بہن بھائی کو بازیاب کروانے کے لیے جب بارہ فروری کی شام نیلہ پولیس نے چھاپہ مارا تو کمرے سے بہن کی لاش برآمد ہوئی جو پولیس ذرائع کے مطابق آٹھ سے دس دن پرانی تھی جبکہ ملحقہ کمرے سے بھائی کو بھی بازیاب کر لیا گیا جو خوف کی وجہ سے ابھی تک کچھ

Read more

سرکاری کالجز معیاری کالجز

نجی کالجز صرف سٹیٹس کی علامت ہیں ورنہ سرکاری کالجز ہی معیاری کالجز ہیں۔ نامور ادیب شعراء ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، بڑے بڑے بیوروکریٹس اور سائنس دان ہمارے ان سرکاری تعلیمی اداروں نے ہی پیدا کیے ہیں۔ کافی عرصہ سے اشتہاروں کے ذریعے گلیمر پیدا کر کے سرکاری اداروں کی قدر و منزلت میں جان بوجھ کر کمی کرنے کی کوشش کی گئی اور پرائیویٹ اداروں نے اپنے آپ کو خوب اچھالا، حالانکہ سرکاری کالجز، طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم

Read more

کتاب : دھواں

انسانی ذہن کی اختراعات ہیں ساری۔ دیر سویر بھی اسی ذہن کے کام ہیں۔ سوچتے سوچتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جن دنوں ”گر یاد رہے“ پڑھی تھی اس کے بعد جلد ہی ”ڈیوڑھی“ اور ”دھواں“ پڑھی تھیں۔ یہ گلزار صاحب کی شخصیت کا اثر ہے مجھ پر، ان کے ساتھ محبت کی وجہیں تلاش کرتا رہتا ہوں اور میرے پاس ان کے ساتھ کرنے کی باتیں نہیں ہوتیں، سوائے الٹے سیدھے سوالات اور بے سرو پا باتوں کے جن

Read more

چہ خوب است!

مرزا صاحب خاصے مرنجاں مرنج، خود دار اور کسر نفسی کے خمیر سے بنے ہوئے انسان ہیں۔ آپ کا حلیہ شریف کچھ ایسا ہے کہ انسان اگر ایک بار دیکھ لے تو دوسری بار دیکھنے کی تمنا نہیں ہوتی، اس لئے کہ رنگ سیاہ، سر سے بال گدھے کے سینگ کی طرح غائب، مونچھوں کا آدھا رنگ سفید آدھا براؤن، دایاں کان چونکہ قدرے بڑا تھا لہذا اُس کی لو یوں لٹکتی تھی جیسے ٹوٹا ہوا بازو جھولتا ہے۔ جس

Read more

ایسا تعلق جو محبت نہیں تھا

دفتر کی سفید ٹیوب لائٹس، کمپیوٹر کی سکرینوں پر چلتے گراف، اور کافی کے ہلکے دھوئیں میں نایاب اور حسن کی دوستی ہر دن تھوڑا سا اور گہرا رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں کولیگ تھے، مگر ان کے درمیان ایک ایسا بہاؤ تھا جو عام دفتری تعلقات سے مختلف تھا۔ جیسے دو ساز مل کر ایک خوبصورت دھن بناتے ہیں، مگر وہ دھن کبھی کسی گیت میں نہیں ڈھلتی۔ نایاب شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں۔

Read more

سورة رحمٰن سے علاج؟ مکمل کالم

ایک صاحب ہیں، ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، اُن کا دعوٰی ہے کہ ہر بیماری کا علاج سورة رحمٰن میں ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ”آپ قاری باسط مصری کی آواز میں بغیر ترجمے کے سورة رحمٰن سات دن تک روزانہ تین مرتبہ سنیں، پاس آدھا گلاس پانی رکھ لیں، آنکھیں بند کر لیں، ترجمے کے بغیر اِس لیے کہ کہیں آپ کا دھیان لفظوں کی طرف نہ چلا جائے، فوکس سورة رحمٰن والے کی طرف ہونا چاہیے، اصل

Read more

"آزاد عدلیہ” دیکھنے کی تمنّا؟

کسی اور دھندے سے کہیں زیادہ صحافت کے لئے ’’برکت‘‘ واقعتا حرکت میں ہے اور پیر کے روز میرے کئی ساتھی یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ ان کے لئے ’’برکت‘‘ لوٹنے ہی والی ہے۔ اپریل 2007ء کے ایک دن اس وقت کے فوجی صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنے ہاں طلب کر لیا تھا۔ موصوف کو خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی موجودگی میں چند فائلیں دکھا کر استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا گیا۔ افتخار چودھری

Read more

دوزخی: عصمت چغتائی کے قلم سے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑا یا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں

Read more

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

میری پیاری دوست عظمیٰ سلیم کافی عرصے سے اپنی خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ میں نے سفاری ٹرین کا سفر کرنا ہے اور تمہارے ساتھ ہی کرنا ہے۔ مگر چار دن کی فرصت آرزو کی خواہش میں لہولہان ہوتی رہی اور ہم اس لہو رنگ آرزو کو گلاب کی مہک سے آشنا نہ کر پائے۔ اب کی بار عظمیٰ سلیم نے اسلام آباد آنے سے پہلے ہی فون پر الٹی میٹم دے دیا کہ اس دفعہ سفاری ٹرین

Read more

جینا ہر دور میں عورت کی خطا ہے لوگو

گزشتہ تیس سالوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں جنسی اور تولیدی صحت سے منسلک خواتین کے دوسرے حقوق کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں لاکھوں خواتین ان حقوق سے محروم ہیں۔ پچھلے برس یو این ایف پی اے نے ”دُنیا کی آبادی کی صورت حال 2024“ پر اپنی سالانہ رپورٹ کا اجراء کیا تھا۔ اس رپورٹ کا موضوع ”اُمید کے دھاگوں سے باہم بندھی زندگیاں : جنسی اور

Read more

محفوظ مستقبل

‬زمانہ وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو، فانوس و گلدان کی ماند بنتے بگڑتے ہیں انساں۔ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اس عظیم مقولے کو آج فقط مذاق سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ شاید سیاستدان، اشرافیہ اور عسکری الجھاؤ ہے۔ آج ہر پاکستانی کے قلوب و اذہان پر مایوسی کے بادل چھائے ہیں ہر آدمی عدم استحقاق کا شکار ہے اور اس کا سبب بے روزگاری یا کاروباری انتشار ہے۔ آج ہر پاکستانی کی زبان

Read more

جواب آن غزل۔ ”جموعتھیے بھائی“ کی خدمت میں!

تعجب سے زیادہ افسوس اور اضطراب اس پہ ہوتا ہے کہ کوئی عام ہی کیا خاصے پڑھے لکھے اور آگے سے وہ ”جنھیں افغانستان جہاد بھیجا گیا“ یعنی اسلامی تحریک سے وابستہ اور ذہن کے کسی نہاں خانہ میں ”جذبۂ جہاد“ اور ”شوق شہادت“ لئے اقامت دین کی جدوجہد کا حصہ بننے والے لوگ حب عمرانی میں مبتلا ہو کر اتنے آگے تک پہنچ جائیں گے کہ جو یہاں تک کہنے میں بھی باک محسوس نہیں کریں گے کہ ”فلسطین

Read more

نو کا مطلب نو ہوتا ہے

چکوال میں پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پی ٹی آئی کے دور میں ایک عظیم کارنامہ یونیورسٹی آف چکوال کے قیام کی شکل میں سر انجام دیا۔ راجہ یاسر کے دادا راجہ سرفراز خان نے چکوال میں 1949 میں کالج بنا کر خود کو امر کیا تھا۔ یونیورسٹی کا قیام بلاشبہ چکوال کی تاریخ میں ایک عظیم واقعہ ہے۔ یہ یونیورسٹی جہاں ہمارے مستقبل کے معمار تیار کرنے کی درسگاہ ہے وہاں چکوال کی

Read more

کراچی۔ ایک سمندر پار پاکستانی کی نظر سے ( 2 )

ڈربی شہر جہاں ہمارا گھر ہے کی آبادی بمشکل پونے تین لاکھ ہے جس دن روانہ ہوئے تھے برف باری ہو رہی تھی پارہ منفی تین ڈگری کو چھو رہا تھا۔ 6 جنوری کی صبح کراچی میں ہوئی جہاں کم از کم ڈھائی پونے تین کروڑ نفوس بستے ہیں۔ بہت سے لوگ جیکٹ، سویٹر پہنے گرم چادریں اور مفلر لپیٹے نظر آئے۔ کار میں بیٹھ کر البتہ شدید گرمی اور عجیب گھٹن کا احساس ضرور ہوا۔ تھرما میٹر درجۂ حرارت

Read more

پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کا سفر۔ (آخری قسط)

میرے بچوں کی تربیت میں بیگم کا کردار ” جیسے یہاں بچوں کے دماغ میں بٹھایا جاتا ہے کہ تم نے مقابلے کا امتحان دے کر سرکاری افسر، ڈاکٹر، انجینئیر، پائلٹ بننا ہے باقی سب کام بکواس ہیں تو آپ نے بھی اپنے بچوں کو کچھ کہا؟“ ۔ ” تھوڑی بہت راہنمائی تو کی ہی جاتی ہے۔ میں تدریس کا کام کرتا ہوں۔ میری بیگم شادی سے پہلے پاکستان میں ڈاکٹر تھیں۔ عرض ہے کہ امریکی معاشرے میں گھر سے

Read more

اظہارِ واقعات ہے کوئی گلہ نہیں ​

الحَمْدُ ِللہ! 3 فروری 2025 کو زندگی کی 46 بہاریں مکمل ہونے کے بعد گزشتہ زندگی کے حالات و واقعات سوچ کر ہی دل، ذات باری تعالی کے آگے سر بسجود ہونے کو کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے جو کچھ دیا وہ اس کا انعام اور جو کچھ لے لیا اس میں اللہ تعالی کی حکمت و رضا ہے اور انسان کے بس میں تو یہ بھی نہیں کہ جب تک اللہ نہ چاہے وہ اپنی مرضی سے پلک

Read more

دہقان قدیم اور تعلیم

زمانہ قدیم سے دریائے چناب اور دریائے جہلم اس خطے (ضلع جھنگ، ضلع ٹوبہ اور ان کے آس پاس کے علاقے ) کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ جہاں چاہتے بہتے، جہاں چاہتے ٹھہرتے۔ نہ کوئی روک، نہ کوئی ٹوک، جب دل کیا جو دل کیا بہا لے گئے اور نشانی کے طور پر ٹیلے (ریت) چھوڑ جاتے۔ جبھی یہاں کے باسیوں کا اس اجارہ داری کے خلاف کوئی چارہ نہ تھا۔ بودوباش انہی دریاؤں کے مزاج پر منحصر تھی۔

Read more

پولیس کی مثالی خدمت

یہ 90ء کی دہائی کی بات ہے، میرے ایک کاروباری دوست اسلام آباد سے اکثر لاہور آیا کرتے تھے، بعض اوقات ان کا ایک دوست بھی ساتھ ہوتا تھا، یہ دوست پاک فوج میں کیپٹن تھا، ایک دن فوجی کیپٹن میرے کاروباری دوست سے کہنے لگا، ”آپ جب بھی لاہور آتے ہیں تو ذرا محتاط رہا کریں کیونکہ پنجاب پولیس بہت خطرناک ہے، ان کے چہروں پر بہت کچھ لکھا ہوا ہے، اس پولیس کے بعض جوان تو ایسے لگتے

Read more

ایک پیش گفتہ موت کی روداد از :گابرئیل گارشیا مارکیز

ایک پیش گفتہ موت کی روداد، عالمی شہرت یافتہ ناول نگار ”گابرئیل گارشیا مارکیز“ کا ناول ہے جس میں انھوں نے عزت کے نام پر ”سانتیا گو نصر“ کے سفاکانہ قتل کو بنیاد پر بنا کر معاشرے میں دندناتے ہوئے بھیانک اور غیر انسانی رویوں کو بے نقاب کرنے کی سعی کی ہے۔ سانتیاگو نصر کے قتل کی کہانی اس کے پڑوس میں ہونے والی انجلا ویکاریو اور بیاردوسان رومان کی شادی سے شروع ہوتی ہے۔ سہاگ رات کو جب

Read more

حیات شیرپاؤ، حیات و خدمات

خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ ویسے تو کئی نشیب و فراز کی حامل ہے لیکن اگر اس میں سیاسی شخصیات اور ان کی پختونوں کے لیے خدمات کا تذکرہ کیا جائے تو ان میں باچا خان خاندان کے علاوہ اگر کوئی دوسرا نمایاں خاندان نظر آتا ہے تو وہ شیرپاؤ خاندان ہے۔ اس خاندان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز تو آفتاب شیرپاؤ کے والد بزرگوار خان بہادر غلام حیدر خان کا تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سے

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 3 )

چند دنوں سے جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے پورا سوشل میڈیا اس سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب دیکھ کر جو تکلیف ہوئی وہ تو اپنی جگہ ہے مگر پھر یہ سوچ کر شرمندگی ہوئی کہ ہم اپنے بچوں کو کیا ایسا پاکستان دے کر جائیں گے جہاں کسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کی عزت جان اور مال محفوظ نہ ہو۔ میرے بچے پچھلے آٹھ سال سے دبئی میں رہتے ہیں ہم ہر سال اپنے پیاروں سے

Read more

یہ محنت کش بچے بھی پڑھنا چاہتے ہیں

کراچی میں ہماری رہائش گاہ کے قریب ہی کوئٹہ چائے ہوٹل ہے۔ چائے اور پراٹھا یہاں کی اصل سوغات ہیں جن سے لطف اندوز ہونے کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں اور یہاں ہر وقت گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ مجھے چائے کا شوق اور نہ ہی پراٹھے کی تمنا، البتہ میرے بچوں کو یہاں کا پراٹھا بہت بھاتا ہے اور وہ گاہے بہ گاہے یہاں سے پراٹھا سیر ہو کر کھاتے ہیں۔ اس ہوٹل کے سارے

Read more

سائیں جی ایم سید اور سندھی قوم پرستی کا المیہ

سنسکرت میں ”مارو“ ریگستان کو کہا جاتا ہے اور ریگستانی علاقے کا نام بھی اسی وجہ سے ”مارواڑ“ پڑا تھا جسے اب راجستھان اور مغلیہ دور میں راجپوتانہ کہا جاتا تھا۔ میری چلے تو میں سائیں جی ایم سید کو ”ریگستان کا عاشق“ تحریر کروں، یعنی ”مارو ڈھولا“ سے تعبیر کروں جو دھرتی کا سچا عاشق ہی نہیں بلکہ دھرتی کا ”امین“ بھی تھا۔ سندھ کو نئی پہچان دینے اور اس کی قومی شناخت کو منوانے میں سائیں جی ایم

Read more

سالک۔ پیراڈوکسیکل سے میٹافوریکل سفر

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف

” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9 جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے

Read more

ایک سچی معاشرتی کہانی

شانتی میرے اسکول میں آیا تھی مذہب کے لحاظ سے کٹر ہندو لیکن ایک صاف ستھری اور وضع دار خاتون جس کے تیکھے نقوش اور رنگ و نکھار حالات کی دھوپ میں کملا ضرور گیا تھا مگر ابھی ختم نہ ہوا تھا۔ شانتی کا میاں رام رکشہ چلاتا تھا جس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا زیادہ تر حصہ وہ دیسی شراب میں بہا دیتا مگر پھر بھی اپنے گھر کے اخراجات کے لئے شانتی کو معمولی سی رقم ضرور

Read more

ڈیفنس ہیپی فلاؤرز شاپ (1)

کاکو (خلیل ماجد) کی ماں شاہانہ، جسے اس کے گھر والے شانو کہتے تھے، گھر سے تین دفعہ بھاگی۔ چوتھی دفعہ بھاگنے میں کامیاب ہو جاتی تو یہ عین ممکن تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اسے 42.195 کلومیٹر کی میراتھن دوڑ میں دوڑنے کے لیے بھیج دیتی۔ ہالینڈ کی سفان حسن نے حالیہ پیرس اولمپک میں یہ فاصلہ 2 : 22 : 55 میں طے کیا تھا۔ وہ تربیت یافتہ بھی تھی۔ شانو کی Running۔ Speed کا معیار بھلے

Read more

بنگلہ دیش میں کچھ دن: قسط 1

(دسمبر کے مہینے میں ڈاکٹر شیرشاہ سید دو سال میں ایک بار ہونے والی نویں کانفرنس آف انٹرنیشنل سوسائٹی آف فیسٹولا سرجنز میں شرکت کی غرض سے ڈھاکہ، بنگلہ دیش گئے۔ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیشی سماج اور نظام کا بغور مشاہدہ بھی کیا۔ وہ باقاعدگی سے دوستوں کے واٹس اپ گروپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات پہ مبنی روزنامچہ بھیجتے رہے۔ ”ہم سب“ کے لیے ان کی انگریزی تحریر کا ترجمہ اور تلخیص گوہر تاج

Read more

سرنگ (افسانہ)

چاروں طرف اونچی دیواریں، ایسی بلند کہ سورج کی کرنیں ان سے ٹکرا کر بکھر جاتیں، روشنی کی ایک ہلکی سی شعاع بھی اندر داخل نہ ہو پاتی۔ دو طرف وہ کھڑکیاں جن کے پٹ شاید صدیوں سے مقفل تھے۔ اگر کبھی وہ ہمت کر کے انہیں کھولنے کی کوشش بھی کرتی، تو لکڑی کے چٹخنے کی ایسی دل خراش آواز گونجتی کہ خوف کے مارے اس کے ہاتھ کانپ جاتے۔ بقیہ دو طرف وہ دیوہیکل دروازے، جن کی ہیبت

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی وجد آفریں زندگی کے 29 خرد افروز واقعات

عالم اسلام کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) نے ہر پہلو سے بڑی کامیاب و کامران زندگی گزاری۔ راقم ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہے جس نے آپ جیسے قد آور طبیعات دان سے 1982 میں وسکانسن ریاست کے شہر میڈیسن میں لمبی پر مغز ملاقات کی تھی۔ وہاں آپ نوبل انعام ملنے کے بعد یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس ملاقات کا حال راقم کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالسلام،

Read more

میرے انکل، آنٹی، بوتل کا جن اور کانا دجال

میں پانچویں جماعت میں تھی جب پہلی بار گھر میں پینٹیئم تھری آیا تھا، اس وقت انٹرنیٹ اتنا عام نہ تھا۔ تب سے ہی میں نے کمپیوٹر پر ایسی طبع آزمائی کی کہ آج حیوانیات میں ماسٹرز کرنے کے باوجود بھی دوست اور کولیگ کمپیوٹر کی ڈاکٹر کہہ کر بلاتے ہیں۔ پھر انٹرنیٹ کا دور آیا یوں سمجھیں بوتل کا جن میرے ہاتھ لگ گیا۔ میرے لئے یہ معلومات کا وسیع سمندر تھا لیکن میرے آس پاس لوگوں کی رائے

Read more

تف ہے بھئی

کیا یہ امر تعجب خیز نہیں کہ ہم ایک ایسی سرزمین میں جی رہے ہیں جس کی بنیاد تو بظاہر آزادی جیسے عظیم نصب العین پر استوار تھی، لیکن آج یہی آزادی ”زنجیرِ قوم“ ٹھہری؟ کبھی ہم جمہوریت کے چراغ کو فخر سے ہوا دیتے تھے، چراغ امید لے کر چلتے تھے، اور دل میں چاند تارے توڑ لانے کے خواب سجایا کرتے تھے۔ پھر کیا ہوا کہ یکایک ہماری آنکھوں سے امید کے سُرمے جھڑ گئے، اور ہمیں احساس

Read more

ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد

صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کشمکش

Read more

نہر کنارے

موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں کی یہ گھنیری شام اور اس کی یاد، پانی میں کھڑی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرے بچپن کی دوست، میری سہیلی سمرا، جو اسی نہر کنارے مجھے ملا کرتی تھی۔ جس نے کہا تھا، ’جب سب ختم ہو جائے تو اسی نہر پر

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

نادار لوگ: معاشرتی استحصال کا نوحہ

اردو ادب میں ناول نگاری کے معتبر ناموں میں عبداللہ حسین کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ اردو کے نامور ادیب، صحافی، افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ ان کا اصل نام محمد خان تھا، لیکن وہ عبداللہ حسین کے قلمی نام سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کی وجہ شہرت معروف ناول ”اداس نسلیں“ ہے۔ نادار لوگ عبداللہ حسین کا ایک شاہکار تاریخی ناول ہے، جو 1947 ء سے 1974 ء کے درمیانی عرصے کے واقعات پر محیط ہے۔

Read more

ناول ”اندھیرا خواب“ کا موضوعاتی تجزیہ

انسان کے تمام کارفرما عوامل کے پیچھے دماغ اور اس کی پیچیدگیاں ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک انسانی دماغ شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بٹا ہوا ہے۔ کسی بھی انسان کے گرد انجام پانے والے پسندیدہ اور ناپسندیدہ عوامل یا تو اس کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں یا پھر کہیں لاشعور میں پناہ لیتے ہیں۔ مگر وقتاً فوقتاً اس کا لاشعور اور ماضی اسے اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ انسان

Read more

بے روزگاری اور پاکستان سے پرواز

یہ ”بے روزگاری، ایک المیہ“ کا فالو اپ کالم ہے جس میں کچھ مزید وجوہات کا ذکر کروں گا اور بات آگے بڑھاؤں گا۔ آپ انٹرویو دینے جاتے ہیں 10 سے 15 منٹ کا انٹرویو ہوتا ہے جس میں کوئی جانچ ہی نہیں سکتا کہ یہ شخص کس لیول پر ہے اور کیا کچھ کرتا آیا ہے، کیا کر سکتا ہے اور کس چیز میں زیادہ عبور رکھتا ہے۔ بس جنرل سے سوالات پوچھے اور کہا کہ ٹھیک ہے آپ

Read more

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا سعادت حسن منٹو، گائے ڈی موپساں، خواجہ غلام فرید، ترقی پسندی، میلو ڈرامہ اور بے پناہ آئیڈیلزم سے عبارت ہے۔ منٹو اور موپساں اُن کی آل ٹائم انسپائریشن رہے، چناں چہ اِنہی کے تقابلی جائزے پر اُنہوں نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا، جب کہ انگریزی، اردو اور سرائیکی پر یکساں دسترس نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ موپساں اور مشیل فوکو کو اردو، اور خواجہ غلام فرید کو انگریزی کے قالب میں ڈھال

Read more

مہک

ندیم تھکے ہوئے قدموں سے ایک نجی کمپنی کی بس میں بیٹھنے کے لیے ٹرمینل کی طرف جا رہا تھا۔ وہ رات اچھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ سفر سے پہلے اسے ہمیشہ ایک بے چینی ہوا کرتی ہے۔ اور ایسا بچپن سے ہی ہے اسے سفر کا ہمیشہ خوف ہوتا ہے، مگر سواری میں بیٹھ کر وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ ویسے تو

Read more

سقراط: فکر کے سمندر میں ڈوبتا ہوا سورج

کہتے ہیں کہ تاریخ کے دریاؤں میں بہت سے موتی چھپے ہوتے ہیں، مگر کوئی ایک ایسا ہیرا بھی گزرا ہے جس کی چمک نے زمانے کے سینے پر ایک ایسا نقش چھوڑا کہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی اس کی روشنی سے انسانیت کا کارواں منور ہے۔ یہ ہیرا کوئی اور ہیں، وہی سقراط ہے جس نے ایتھنز کی گلیوں میں چل کر بھیڑ کو نہیں، بلکہ حق کی تلاش کو اپنا راستہ بنایا۔ جس نے زہر کے

Read more

ونی: ایک قبیح رسم

ایک دن سہ پہر کو بالکونی میں کافی دیر سے رنگین ماہنامہ (اخبار جہاں) پڑھنے میں منہمک تھا کہ اچانک ایک جانی پہچانی آواز ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہوئی میرے کانوں تک پہنچی۔ متجسس ہونے پر رسالے کو ایک طرف رکھ کر سیڑھیاں اترنے لگا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز سعدیہ کی تھی۔ سعدیہ کی نظر مجھ سے دو چار ہوتے ہی شرمائی۔ اپنے آنچل سے آفتابی چہرہ چھپا کر جھک کے زمین کو تکنے لگی اور

Read more