مزدور رہنما غلام دستگیر محبوب

آزادی کے 77 برس گزر جانے کے باوجود پاکستان آج بھی اقتصادی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ برصغیر پر انگریز سامراج کے تسلط کے دوران ایک طرف اس دھرتی اور اس کی مٹی کے غداروں، مخبروں اور وطن دشمنوں کو نوازنے کے لیے وسیع تر جاگیریں الاٹ کی گئیں، تو دوسری طرف سامراجی استحصالی نظام کو دوام بخشنے، آزادی کے متوالوں کو سبق سکھانے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی کا وسیع تو جال بچھایا گیا۔

Read more

چند دن تاریخی روایات کی سرزمین ملتان میں ( 1 )

مجھے نگر نگر گھومنے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ اسی شوق کی تکمیل میں اب تک میں پاکستان کی سب ہی بڑے شہر دیکھ چکا ہوں لیکن ملتان جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اس سرزمین کو دیکھنے کی تڑپ بہت عرصے سے میرے دل میں تھی۔ گزشتہ سال برطانیہ سے آئی ہوئی بیٹی کے ساتھ ملتان سے اس کی ہم جماعت سے ملنے کا پروگرام طے ہو گیا تھا لیکن سموگ اور دھند کی وجہ سے موٹر وے بند

Read more

نذیر لغاری: چوکڑی کی کڑی ٹیڑھی

نذیر لغاری سے شناسائی 1986 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی کانفرنس میں ہوئی تھی جو ڈھل کر دوستی بن گئی۔ جب تک لغاری شام کے وقت چھپنے والے روزنامہ عوام میں رہا، میرے کراچی پہنچنے پر اپنی بیشتر سرگرمیاں ترک کر کے مجھے رفاقت فراہم کرتا۔ اپنی سوزوکی میں مجھے لوگوں سے ملانے کو لے جاتا یا وہاں لے جاتا جہاں میں کہتا۔ نذیر کے توسط سے ہی اخلاق احمد سے جو تب اخبار جہاں کے مدیر

Read more

ہیلتھ انشورنس کمپنی کے سربراہ کا قتل: امریکہ کے کرپٹ ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے لمحہ فکریہ

یہ واقعہ کسی خاموش سنسان شہر کا نہیں بلکہ ہمہ وقت جاگتے نیویارک سٹی کے علاقہ مڈ ویسٹ مین ہٹن کا ہے جہاں 4 دسمبر بدھ کی صبح چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ ہلٹن ہوٹل سے مشہور ہیلتھ انشورنس کمپنی کا پچاس سالہ سی ای او، برائن تھامسن اپنی کمپنی کے ساتھ ہونے والی سالانہ انویسٹرز کانفرنس میں شرکت کر کے نکل رہا تھا۔ اس کو بھلا کیا خبر تھی کی اس وقت دولت کے بجائے موت اس کے تعاقب

Read more

پشتو اکیڈمی کوئٹہ: الیکشن، تجزیہ، اور آنے والے چیلنجز

ایک ایسے موقع پر جب اکیڈمیاں مادری زبانوں اور ثقافتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، پشتو اکیڈمی کوئٹہ اس دوڑ میں پیچھے ہے۔ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے وجود میں آنے اور وافر بجٹ کی دستیابی کے باوجود پشتو اکیڈمی قابل ستائش نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔ چند تجربہ کار پشتون ادبی شخصیات کی کئی سالوں سے جاری اجارہ داری جنہوں نے اکیڈمی کے فنڈز کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا پشتو ادب

Read more

انسانی سوچ پر جکڑ اور پہرے

ڈینس ڈیڈرو ( 1713۔ 1784 ) ایک مشہور فرانسیسی فلسفی، مصنف، اور روشن خیالی کے نمایاں مفکرین میں سے ایک تھے۔ وہ Encyclopedie کے بانیوں میں شامل تھے، جو ایک ایسا ادبی اور سائنسی منصوبہ تھا جس نے عقلی سوچ کو فروغ دیا اور مذہبی اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ ڈیڈرو نے آزاد خیالی، سائنسی تحقیق، اور انسان کی فکری آزادی پر زور دیا۔ ان کے خیالات چرچ کے روایتی نظریات کے خلاف تھے، جس کی وجہ سے انہیں شدید

Read more

وکٹوریہ: طبقاتی تفاوت پر تحریر کیا گیا بہترین ادب پارہ

وکٹوریہ کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے

Read more

ماحولیاتی ادب میں علاقائی زبانوں کا کردار

مٹی کے عالمی دن 5 دسمبر کے موقع پر، پریس فار پیس فاؤنڈیشن (یو کے ) نے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا جس کا موضوع تھا ”ماحولیاتی ادب میں علاقائی زبانوں کا کردار“ یہ عالمی اردو سیمینار اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا جس میں ماحولیاتی ادب پر علاقائی زبانوں میں ہونے والے کام پر تفصیل سے بات کی گئی۔ سیمینار میں پیش کیے گئے تمام مقالے علمی معیار کے عکاس تھے اور ان شاء اللہ ان کو جلد

Read more

گیارہ دسمبر، پہاڑوں کا عالمی دن

آج دنیا بھر میں پہاڑوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پہاڑ نہ صرف جغرافیے کے خد و خال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ تہذیب و ثقافت، کلچر، زبانوں، ادب، پانی اور زندگی کے قیام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہر سال پہاڑوں کا عالمی دن منانے کے لیے میں سال میں کم از کم ایک بار پہاڑوں کی زیارت پہ ضرور نکلتا ہوں۔ کبھی برف پوش پہاڑ، کبھی سرسبز و شاداب پہاڑ، کبھی گنجلک

Read more

علم کے دشمن، سوال کے قاتل

فیس بک کے ایک گروپ میں ایک سولہ سالہ لڑکے کا سوال پڑھا: ”کیا انسان کو ہر چیز کا علم حاصل کرنا چاہیے؟“ سوال جتنا معصوم لگتا ہے، اتنا ہی گہرا تھا۔ یہ سوال سن کر میرے دل میں دو جذبات ابھرے۔ ایک فخر کہ ہماری نوجوان نسل تجسس کی آگ میں جل رہی ہے، اور دوسرا افسوس کہ ہماری حکومت اور تعلیمی ادارے اس آگ کو بجھانے میں مصروف ہیں۔ کہنے کو ہم اکیسویں صدی میں ہیں، لیکن ہمارا

Read more

علامہ اقبال کی اردو شاعری کا مختصر تعارف

اقبال کی شاعری اردو روایت میں بلند مقام رکھتی ہے۔ ان کی شاعری ایک خاص عہد یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ وہ انسانی عہد کے بنیادی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے اور اس کے بلند مقاصد کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں فلسفہ خودی کو عالمگیر پذیرائی حاصل رہی ہے۔ اقبال اسے مسلمانوں کی موجودہ تنزلی کا علاج قرار دیتے ہیں۔ اور اپنی شاعری میں مسلمانی کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مربی کے

Read more

من کا اجلا: ناصر کالیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہم سب ویسٹ انڈیز اور پاکستان کا میچ ”نوائے وقت“ کے نیوز روم میں دیکھ رہے تھے۔ فیصلہ کن لمحات تھے۔ سب سانس روکے ہوئے ایک ایک بال کا لطف لے رہے تھے۔ اس سناٹے میں ایک جملہ نیوز روم میں گونجا۔ ”شاہ جی ( عاشق علی فرخ ) کالا تو میں بھی ہوں لیکن یہ ب۔ چ تو بہت ہی کالے ہیں۔ قسم سے شاہ جی بہت ہی کالے ہیں۔ نہیں نہیں شاہ

Read more

صادقہ نصیر کی کتاب روزمرہ کی نفسیات

کتاب ”روزمرہ کی نفسیات“ میں صادقہ نصیر صاحبہ نے انسانی شخصیت، جذبات، رویوں اور نفسیاتی مسائل کو عام فہم اور سائنسی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف نفسیاتی علم پر مبنی ہیں بلکہ معاشرتی حقیقتوں کا آئینہ بھی ہیں۔ زیرِ بحث مضامین، جیسے ”مشاہدۂ باطن“ ، ”اوسط ذہانت کے لوگوں کے عمومی رویے اور خصائل“ ، ”حسد انسانی شخصیت کا منفی پہلو“ اور دیگر، انسانی رویوں کی گہرائی اور ان کے معاشرتی اثرات کو نمایاں کرتے

Read more

فیس بک ناولز اور ادب کی بے توقیری

”تعلیم انسان کو پڑھنا سکھا دیتی ہے، لیکن یہ نہیں سکھاتی کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا۔“ اس کا ثبوت دیکھنا ہو تو فیس بک پر شیئر ہونے والے اردو ناولز پر نظر کریں۔ یہ ایسے ناولز ہیں جن کو ناول کہنا ہی لفظ ناول کی توہین ہے۔ یہی ناولز، ان کے سینز، ان کے کردار انسٹاگرام ریلیز اور یوٹیوب پر آڈیو پلس پیج ویو کے ساتھ اپ لوڈ ہو کر تشہیر پا رہے ہیں۔ آپ ان کے

Read more

کیا آپ اقبال حسن آزاد کو جانتے ہیں؟

میرے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ میں آج کے اہم ادیبوں کو سامنے لانے میں مگن رہتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار نوخیز لکھاریوں کے کام کو بھی ہائی لائیٹ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مگر اس مضمون میں اردو کے ایک اہم افسانہ نگار کا شخصی و ادبی و پروفیشنل تعارف کروانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس سے ادب کے طلباء کو اس ادبی آواز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اقبال حسن آزاد 26 جنوری

Read more

میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے

شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی پٹیل فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں ) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے

Read more

امان اللہ ناصر: ایک عہد ساز شخصیت

پشتو اور اردو ادب، ثقافت بالخصوص ڈرامہ اور موسیقی، ہدایت کاری، اداکاری، پروڈکشن، کمپیئرنگ، تحریر اور گلوکاری کے شعبوں میں مایہ ناز نام امان اللہ ناصر بلاشبہ پشتو اور اردو زبانوں کا قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی قابلیت کی بنیاد پر خود کو نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے۔ امان اللہ ناصر نے 1985 میں سٹیج اداکار کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور

Read more

جب بلبل ہو تصویرِ چمن اور کوے گیت سناتے ہوں

مشتاق سبقت مرحوم سرائیکی زبان کے ممتاز شاعر تھے لیکن اردو میں بھی شاعری کرتے تھے آپ کی ایک فکر انگیز نظم بہت مشہور ہوئی وہ یہ کہ ”جب دنیا کے بت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو“ اس میں شاعر نے مروجہ معاشرتی منافقت اور اخلاقی قدروں کے زوال کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے۔ پُرجوش اور سبق آموز اشعار کے ذریعے مشتاق سبقت ایک ایسی دنیا کی بھیانک تصویر کشی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جہاں

Read more

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

منیر نیازی کے جتنے اشعار مشہور ہیں، شاید اس سے زیادہ اُن کی باتیں مشہور ہیں۔ وہ باتیں جو وہ خود کیا کرتے تھے، یا وہ باتیں جو ان کے بارے میں کی جاتیں۔ منیر نیازی ایک پیچیدہ کردار تھے ان کو سمجھنا خاصا مشکل کام ہے۔ وہ جس قدر منفرد شاعر تھے اسی طرح کی منفرد شخصیت بھی رکھتے تھے۔ ہر ایک دوسرے شخص سے منفرد، بالکل ایک عجوبہ۔ ان کو دیکھیں تو اچھا لگتا ہے، باتیں سنیں تو

Read more

نامور فرانسیسی مصنف ایبے پریووس کا ناول مینن لیسکاٹ

ناول کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم اس کے مصنف کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ ایبے پریووس ( 1697۔ 1763 ) جن کا اصل نام انتوان فرانسو پریووس تھا ہیسڈن فرانس میں پیدا ہوئے۔ وہ فرانس کے نامور فکشن نگار، مورخ اور پادری تھے۔ ان کی زندگی دل چسپ اور غیر روایتی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں یسوعی جماعت میں شمولیت اختیار کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور بعد میں بیڈ کائن راہب بن گئے۔ تاہم

Read more

‎اپنی لِکھت میں بولتا تخلیق کار۔ مظہر عباس رضوی

دُکھ یا غم کی کیفیت میں غیر تخلیقی یا نیم تخلیقی شخص کے ہاں چیخ کی شدت فضا میں ارتعاش پیدا کر کے اِس کا حصہ بن جاتی ہے، جو ماحول کو سوگوار تو کرتی ہے لیکن اس کا تاثر تا دیر نہیں رہتا اور وہ ہوا کی لہروں کا حصہ بن کر جلد ختم ہو جاتی ہے اس کے برعکس تخلیق کار کے ہاں ایسی کیفیت میں دُکھ کا بیج فکر، جذبے اور احساس کے زیر اثر رہ کر

Read more

یہ کیا مذاق ہے؟

آج کل ہمارے معاشرے میں فیشن کی دنیا میں اردو پرنٹس کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان پرنٹس کو پہننے والوں کو ادب سے بہت زیادہ دلچسپی تو شاید نہ ہو، لیکن قمیص پر ’کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو‘ لکھا ہو تو وہ فوراً خود کو غالب کا جانشین سمجھنے لگتے ہیں۔ معاشرت میں دانشور، فکری اور ادبی دکھائی دینے کی یہ کوشش مزاحیہ بھی ہے اور باعثِ حیرت بھی۔

Read more

سہیل پرواز اور ڈھاکہ کے دکھ

سہیل پرواز کا شمار اردو ادب کے نمایاں اور معروف ادیبوں میں ہوتا ہے۔ جن کی اب تک تین کتب ”ڈھاکہ! میں آؤں گا، جو تنہا کر گئی مجھ کو“ اور ”ادھر ڈوبے ادھر نکلے“ سامنے آ چکی ہیں۔ سہیل پرواز آغا جی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ وہ ایک ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں۔ لیکن وہ ایک آرمی افسر کی بجائے ایک ادیب کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ سہیل پرواز کا ناول ڈھاکہ! میں آؤں گا، ایک

Read more

یوسف خالد کے شعری مجموعہ ”درِ امکاں پہ دستک“ کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ

یوسف خالد 1954 ء میں سرگودھا کے قریب چک نمبر 47 ء شمالی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے پنجابی اور ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ یوسف خالد صاحب گزشتہ 32 سال سے ایک ادبی تنظیم چلا رہے ہیں جس کا نام سرگودھا رائٹرز کلب ہے۔ یہ ایک ادبی مجلہ ”نردبان“ کے چیف ایڈیٹر بھی رہے لیکن وہ مجلہ اب کسی وجہ سے بند ہو چکا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں زرد موسم

Read more

فیصل آباد، کج روی، آوارگی، لائل پور

گزشتہ دنوں سرکاری فرض کی بجا آوری کے لیے تعلیمی بورڈ، فیصل آباد پہلی دفعہ جانا ہوا۔ جھنگ روڈ، ہوائی اڈے کے پاس شہر کے ایک کونے میں جانا ایسے ہی ہے، جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر۔ دفتر داخل ہوتے ہی بلند و بالا عمارت کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھے بورڈ کے نام میں کج روی دیکھ کر ذہن کو عجیب سا جھٹکا لگا۔ ہر ڈویژن کے تعلیمی بورڈ پر دُرست عبارت ایسے لکھی ہوئی

Read more

بیانیات کے دو تَصَوُّرات کے تحت ایک مطالعہ

  یہاں، اس مضمون میں، یہ دِکھانا مطلوب ہے کہ کیا غزلیہ اشعار اور افراد پر بیانیات/نیراٹالوجی کے دو تصورات: دِکھانا (Showing) اور بتانا (Telling) ، مُنطبِق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ تو سب سے پہلے ہم کہانی بیان کرنے کے دو فنی حربوں، دِکھانا اور بتانا کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟ ”ان بابا جی کی عمر چار سو برس تھی۔ ستّر برس میں کایا پلٹ کرتے تھے۔ اس طرح کہ چھ مہینے تک ایک کوٹھڑی میں

Read more

اردو میں نثری تراجم کی روایت

دنیا میں مخلتف زبانوں کے ادبی فن پارے دیگر علمی سیاسی، تہذیبی اور مذہبی کتب کا دوسری زبانوں میں تراجم کی روایت بہت پرانی ہے۔ جن کی وجہ سے دنیا کی مختلف زبانوں نے ایک دوسرے سے نظریات حاصل کیے۔ مختلف زبانیں بولنے والوں کی روایات، مفادات اور نفسیات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ بلاشبہ ہر زبان میں تراجم کی روایت مختلف ہے۔ اس کا تعلق زبانوں کی عمروں اور ان میں علمی ذخائر سے ہے۔ لفظ ترجمہ کے لیے انگریزی

Read more

گونگے کا خواب: طارق بلوچ صحرائی کی کتاب

  کتب کے مطالعے اور تحریر کے اپنے ذوق کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اب یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ گزشتہ دنوں فیس بک کی میموریز میں ایک پرانی تحریر سامنے آئی، جس میں، میں نے ایک کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔ یہ کتاب معروف مصنف طارق بلوچ صحرائی کی ہے، جس کا نام ”گونگے کا خواب“ ہے۔ یہ کتاب میں نے 2017 میں پڑھی اور اس پر ریویو لکھا تھا۔ اس

Read more

کہانی کے اختتام پر ادبی جھڑپ

سال تھا 1913، جب جارج برنارڈ شاہ کا مشہور ڈرامہ Pygmalion پہلی بار تھیٹر پر پیش کیا گیا۔ یہ کہانی پروفیسر ہنری ہیگنز کی ہے، جو ایک ماہر لسانیات ہیں اور ایک عام پھول بیچنے والی لڑکی، الیزا ڈولیٹل، کو اعلیٰ طبقے کی خاتون بنانے کا چیلنج قبول کرتے ہیں۔ ڈرامے میں زبان، طبقاتی تفریق، اور انسانی عزتِ نفس جیسے گہرے موضوعات کو نہایت ہنر مندی سے پیش کیا گیا۔ شاہ نے اختتام میں دکھایا کہ الیزا اپنی آزادی کا

Read more

جدید لسانیاتی اور اسلوبیاتی تصورات: ایک مطالعہ

جنہوں نے خوش گفتار اور خوش شکل ڈاکٹر عامر سہیل کو صرف پڑھا ہے، سنا نہیں، وہ احباب تاحال آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے بارے میں جزوی علم رکھتے ہیں۔ بیک وقت ایک اچھے لکھاری اور مقرر کی صفات سے متصف ڈاکٹر عامر بولنے پر آ جائے، تو وہ بولے اور سنا کرے کوئی۔ قلم ہاتھ میں لیں، تو سحر بیانی سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ موصوف کا ہزارہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد الطاف یوسف زئی کی نگرانی میں

Read more

باپ کے گھر کی چابی

کہانی: لیانا ڈسکالووا (بلغاریہ) مترجم: جاوید بسام (کراچی) سات بار ناپیں، ایک بار کاٹیں، ایک مشہور روسی کہاوت ہے۔ کیوں کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس کا سدباب ممکن نہیں، دوسرے لفظوں میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہر طرح سے سوچ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صحیح عمل کر رہے ہیں۔ مگر لڑکے؟ کیا بے صبرے لڑکے یہ کرتے ہیں؟ ایک دن پیٹرچو نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ اسے کہاں اور کیسے

Read more

افسانوی مجموعے ”انگارے“ کا موضوعاتی مطالعہ

اردو ادب کے فروغ کے لئے بہت سی تحریکوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے جس میں ایک نمایاں نام ترقی پسند تحریک کا ہے۔ ترقی پسند تحریک رومانوی تحریک کی ضد تھی۔ اس کا بنیادی طور پر آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے زندگی کے مادی وجود سی نجات حاصل کر کے تخیل کی دنیا میں قدم رکھنا شروع کیا اور اپنے اصل سے غافل ہو گئے۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر آئی وہ دراصل 1917 میں

Read more

وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور ہونہار سکالرشپ پروگرام!

مریم نواز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالے کم و بیش 10 ماہ ہو چلے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جب مریم نواز کو وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے نامزد کیا تب صحافتی اور سیاسی حلقوں میں یہ خبر خاص طور پر زیر بحث آئی تھی۔ ناقدین نے اس نامزدگی کو خوب ہدف تنقید بنایا۔ سیاسی مخالفین کی تنقید سے قطع نظر، بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ پنجاب جیسے اہم اور بڑے صوبے کے

Read more

سیاسی گیس لائٹنگ

حد درجہ دروغ گوئی کے لیے آج کل ایک نئی انگریزی کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔ اس اصطلاح کا نام gaslighting ہے۔ ایسے لوگ نفسیاتی طور پر ایک دوسرے کو سازباز سے الجھا کر معاملے کو شدید ابتری کا شکار کر دیتے ہیں۔ دروغ گوئی کرنے والا یعنی معاملے سے ناجائز فائدہ اٹھانے والا جو کہ دشنام طراز ہوتا ہے وہ اپنے ہی ظلم کا شکار ہونے والے کے اندر شکوک و شبہات کے بیج اس طرح بَو دیتا

Read more

بندر، ٹائپ رائٹر اور فسانۂ عجائب

کبھی کبھی تو غیب سے ایسے نادر مضامین خیال میں آتے ہیں کہ ہم خود دنگ رہ جاتے ہیں۔ زبان و ادب کی حد تک تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ہم اس میدان کے شہ سوار ہیں اور اس دشت کی سیاحی میں ایک عمر گزری ہے لیکن جب سائنس کے اسرار بھی ہم پر کھلنے لگتے ہیں اور لبوں پر سائنس کے ’ایجادِ بندہ‘ نظریات جاری ہو جاتے ہیں تو اپنے ذہنِ رسا پر رشک کرنے کے

Read more

دسمبر وہ نہیں آیا۔

دسمبر کبھی خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم خوبصورت تھے۔ جاڑا تب اچھا لگتا تھا جب ہمیں گرم کپڑے پہننے کا شوق تھا۔ تب برفباری دیکھنے دور راز نکل جایا کرتے تھے۔ سفر جتنا مرضی کٹھن ہوتا راستے خوبصورت لگتے تھے۔ ان دنوں خزاں کا موسم اور پیلے پتے سب رنگوں کو مات کرتے دکھائی دیتے۔ ہم پہاڑوں پر پیلے اور زردی مائل پتے گھنٹوں دیکھتے رہتے۔

Read more

بوسے عارض گلفام کے

پچھلے برسوں ایک” ایتھے۔ چُمّی۔ اوتھے۔ ٹھا“ قسم کی جسٹس جاوید اقبال کی ایک نیب زدہ ویڈیو ریلیز ہوئی تو ایک شعر ہر قسم کی وردی، بے وردی، انصافی انتظامی بیوروکریسی کے ممبران، یہ کم بخت مردوے سرکاری اہل کار ایسے اللہ لوگ ہیں کہ جیسے سیٹھوں اور سائلین بے بساط سے بے دھڑک رشوت اور بخشش مانگتے ہیں ویسے ہی عفت مآب بی بیوں سے چمیاں بھی مضطر خیر آبادی کی سی معصومیت سے مانگ لیتے ہیں۔ یہ نہیں

Read more

علم و ادب کی کہکشاں کا سفر

میری خوش قسمتی ہے کہ میں ایک ایسی شخصیت پر اپنے قلمی تاثرات بند کر رہا ہوں جس کی علمی و ادبی پرواز کا ستارہ بڑا روشن تھا۔ اس نے ساری زندگی علم و ادب کی ترویج کے لیے وقف کی۔ عمر بھر درس و تدریس سے منسلک رہیں۔ اگر ان کی تدریسی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے 32 سال کنیرڈ کالج لاہور میں اور پانچ برس ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں

Read more

دل تھا کہ پھر بہل گیا

میلبورن میں اردو مشاعرہ، جیسے صحرا میں بارش، برف میں پھول یا چراغ تلے روشنی۔ دراصل امریکہ یا یورپ کے برعکس یہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے کم ہیں اور اردو کے لیے وقت نکالنے والے ان سے بھی کم۔ راقم کو چند روز قبل میلبورن میں منعقدہ اردو مشاعرے میں بطور سامع شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اب بھلا کون ایک مشاعرے کی روداد لکھے اور کون اسے پڑھے۔ لیکن لکھنا ضروری ہے کہ قریباً ایک سال قبل راقم

Read more

ہزارہ داستان اور ادبی میلہ

خیبر پختونخوا کا ہزارہ تاریخی، سیاسی، علمی، ادبی اور ثقافتی جہتوں سے مالامال ہے۔ دوسری صدی عیسوی کے راجہ رسالو کے داستان اور ذکر، اپریل 326 قبل مسیح میں سکندر یونانی کے ضلع بٹگرام تھاکوٹ کے مغرب میں، حالاً ضلع شانگلہ میں واقع ’پِیر سر‘ یا موجودہ بونیر کے کوہ ایلم کے آخری محاصرہ، جس کو یونانی مورخین بلندی اور الگ تھلگ ہونے کے باعث ’اورنوس‘ یعنی ’ماورا پرواز‘ لکھتے ہیں، سے لے کر مانسہرہ میں اشوکا سے منسوب خروشتی،

Read more

نوبل انعام یافتہ کورین مصنفہ ہان کانگ کا ناول شاکا ہاری

ہان کانگ جنوبی کوریا کی ایک معروف اور باصلاحیت مصنفہ ہیں جنہوں نے اپنی منفرد اور تخیلاتی نثر کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ وہ 27 نومبر 1970 کو جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کا بچپن سیول میں گزرا۔ ہان کانگ کا ادبی سفر ان کے انگریزی ادب کے مطالعے اور شاعری کے شوق سے شروع ہوا، جس نے انہیں کہانیوں اور ناول نگاری کی جانب راغب کیا۔ ہان کانگ نے اپنے

Read more

اک گوشہ نشیں لکھاری پہ تحقیق

مجھے ہمیشہ سے نت نئے لکھاریوں کا کھوج لگانے کا شوق رہتا ہے۔ بالخصوص اردو ادب کے ایسے رائٹرز جو نمایاں لکھ رہے ہیں مگر ان پہ لکھا کم جا رہا ہے۔ یا ایسے تخلیق کار جن کے کام کو پڑھتے ہوئے جینوئن اردو ادیبوں کا سا احساس ملتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ صوفیہ کاشف کا ہے۔ جو خاموشی سے اپنے کام میں مگن معلوم ہوتی ہیں۔ وہ مختلف اخبارات و آن لائن پلیٹ فارمز پہ فکشن و نان

Read more

میٹھے اور ترش خیالات کی ابھرتی ہوئی شاعرہ کتاب: بہتی نظموں کے کنارے

تبصرہ نگار: بلال مختار مجھے اک عرصہ سے اشتیاق تھا کہ جو نوجوان شاعرہ صدف شاہد ہیں یہ باقاعدہ کیسا لکھتی ہوں گی۔ پنجاب کی تحصیل و ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والی نوجوان شاعرہ کی کئی نظمیں جابجا ورچوئل دنیا میں پڑھنے کو ملتی رہی ہیں۔ مگر چوں کہ یہ اک کتابی صورت میسر نہ تھیں تو چند نظموں کو پڑھ کر رائے دینا ادبی دیانت داری کے دائرے سے باہر معلوم ہوتا تھا۔ حال ہی میں ان کی

Read more

جون ایلیا کی شاعری میں پاکستانی سیاست کا المیہ

فوضوی شاعری جون ایلیا کے ان دو اشعارسے مضمون کا ابتدائیہ ہے کہ منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گُم ہوئی سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گُم ہوئی وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گُم ہوئی پاکستانی سیاست کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ نظریاتی اور فکری اعتبار سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک بھی ایسی جماعت نہیں ہے جسے

Read more

فلسطین کے قومی شاعر: محمود درویش

اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر سینکڑوں ریاستیں موجود ہیں جن میں ان گنت قومیں بستی ہیں۔ ان ریاستوں کے پرچم بھی ہیں اور قومی ترانے بھی اور ان قوموں کی اپنی مادری زبانیں بھی ہیں اور ان زبانوں میں لکھنے والے شاعر بھی۔ ان شاعروں میں سے ایک مقبول عام خوش قسمت قومی شاعر بھی کہلاتا ہے۔ دنیا کی دیگر قوموں سے جدا فلسطینی ایک ایسی قوم کے باشندے ہیں جن میں سے بعض کو شہر بدر اور بعض

Read more

جو رہی سو بے خبری رہی۔ بہاریوں کی پاکستان سے یک طرفہ محبت

انتساب : سابقہ مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش، میں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کی بے گوروکفن لاشوں کے نام، ان بیٹیوں کے نام جن کی حرمت کی حفاظت نا کی گئی اور وہ کلکتہ کے چکلوں میں پہنچائی گئیں، میجر اکرم شہید 1971 نشان حیدر ہللی، راج شاہی کے ہیرو کے نام جو اب بھی دیناج پور بنگلہ دیش میں مدفون ہیں اور ان کی میّت کو پاکستان لانے کا خیال اب تک کسی کو نہیں آیا، اور ان کے

Read more

دو دسمبر: امارات کا قومی دن، آٹھ شیوخ کی خدمات کے آئینے میں

2 دسمبر 1971 کا دن متحدہ عرب امارات کی تاریخ کا ایک عظیم سنگ میل ہے، جب سات ریاستوں نے اپنی خودمختاری اور آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک عظیم اتحاد قائم کیا۔ اس دن کا مقصد نہ صرف ایک نئے ملک کا قیام تھا، بلکہ اس نے عالمی سطح پر ایک طاقتور اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد بھی رکھی۔ متحدہ عرب امارات کا یوم الوطنی (قومی دن) ہر سال ایک موقع فراہم کرتا ہے، کہ اس قوم کی

Read more

غالب کے ایک شعر کی تفہیم فلسفۂ ہند و یونان کے کے تناظر میں

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے (غالب) غالب کا یہ شعر میں نے پہلی بار نہم جماعت میں پڑھا تھا اور اس وقت سے لے کر آج تک میں اس شعر کے سحر سے باہر نہیں نکل سکا۔ آج سے پانچ سال پہلے جب اس شعر کو پڑھا تو بہت لطف ملا اور شعر یاد بھی ہو گیا مگراس شعر میں چھپی بات سمجھ میں نہ آ سکی تھی۔ میں اکثر یہ شعر

Read more

جنریشن زی کے لطیفے: مکمل کالم

ہمارا تعلق اُس نسل سے ہے جس نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا ہوا ہے، یہ امتحان کیا ہوتا ہے، جنریشن زی کو کیا پتا۔ اور یہ جنریشن زی کیا ہوتی ہے، ہمیں کیا پتا! آپ میں سے جن لوگوں کو اِس جنریشن کا علم نہیں وہ انٹرنیٹ پر صرف اِس کے بارے میں لطیفے تلاش کر کے دیکھیں دل و دماغ تازہ ہو جائیں گے۔ وہ بچے جو سن 2000 ء کی دہائی کے آس پاس پیدا

Read more

اجلا، کملا، اکتایا ہوا منیر نیازی اور پاکستان

بابا بلھے شاہ، استاد دامن، اور امرتا پریتم کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے دور میں ایک اور ادبی جن، جن کی وجہ سے مجھے پنجابی ادب سے محبت ہو گئی، وہ منیر نیازی تھے۔ ماہ و سال گزرے۔ گزرے وقت کے ساتھ زندگی بھی گزاری جا رہی تھی، ”کہاں کی رباعی، کہاں کی غزل“ کے مصداق۔ ایک دن کشور آپی (کشور ناہید) کا پیار بھرا حکم آیا کہ آج کی شام منیر نیازی کے نام ہے، آ جانا۔ اس

Read more

شہرِ ہزار دَر اور ماہ تمام

سمَاعتوں کو نوید ہو کہ ہوائیں خوشبو کے گیت لے کر دریچۂ گُل سے آ رہی ہیں برسوں ہوئے، گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں، ایک کچی عمر کی لڑکی نے اپنے رب سے دعا مانگی کہ وہ اُس پر اُس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کر دے۔ دُعا قبول ہوئی اور اس لڑکی کو چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہِر ہزار دَر کا اسم عطا کر دیا گیا۔ پھر جب موسم آیا

Read more

حماس کے سپہ سالار یحییٰ سنوار

غزہ کی جنگ میں جو بے نام سپاہی بین الاقوامی خوش نامی اور بدنامی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے اور جنہوں نے آخری سیڑھی پر پہنچ کر فلسطین کی آزادی کے لیے اسرائیلی فوج سے جنگ کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے دی وہ حماس کے سپہ سالار یحییٰ سنوار تھے۔ حماس کی گوریلا جنگ لڑتے ہوئے وہ ایک متنازعہ فیہ شخصیت بن گئے تھے۔ اسرائیل اور امریکہ کی نگاہ میں وہ ایک خطرناک دہشت گرد فلسطینی تھے اور

Read more

کیا فنا فی القدرت کا مطلب فنا فی الدنیا ہوتا ہے؟

کہاں بستے ہیں وہ لوگ جو قدرت کے رازوں کے رمز شناس ہوتے ہوئے دنیا مافیہا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں؟ کائناتی پہلیوں کو بوجھتے اور کھوجتے ہوئے اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ تیزی سے گزرتے وقت کا دھیان ہی نہیں رہتا؟ کائنات تو پرت در پرت پراسراریت کی آماجگاہ ہے، نجانے کتنے آئے اور چلے گئے لیکن اس کی کھوج باقی رہی۔ تشنہ اذہان اپنی آ سودہ خواہشات کی تکمیل میں لگے رہیں گے لیکن یہ

Read more

بیدار عورت

(صوفیہ بیدار کی کتاب ’رنگریز‘ کی تقریب رونمائی پر پڑھا گیا۔) بہت خوشی کا عالم ہے کہ آج ہم اپنی دوست منجھی ہوئی ادیبہ صوفیہ بیدار صاحبہ کی اولین کتاب کی تقریب پذیرائی کے بہانے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کتاب کا نام ہی بہت منفرد ہے۔ رنگریز۔ اور اس میں بیان کردہ کہانیاں دلچسپ۔ پرمغز۔ رنگ رنگ کی۔ ایسی کہ انسان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کر دیں۔ طاہرہ اقبال جیسی مہان ادیبہ صاحبہ صدر ہوں۔ دنیائے

Read more

اجتہاد

کیا آپ کسی تعلق کو اپنے نظریے کے مطابق جی رہے ہیں یا تعلق میں شریک دوسرے شخص کے نظریے سے؟ کبھی کافی کی چُسکیاں لیتے ہوئے ایسے بے ڈھنگے سے خیالات ذہن میں ابھرے ہیں؟ مثال کے طور پر ادب کا نوبل انعام جیتنے والی محترمہ اپنے ناول میں شاید اسی موضوع پر بات کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چلیے، ذرا کھل کر بات کرتے ہیں۔ دو انسان جو ایک دوسرے کے ساتھ کسی تعلق میں ہیں، وہ دونوں

Read more

شعری مجموعہ ”جو بھی کچھ ہے“ ایک وجدانی کیفیت

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا میں جو بھی کچھ ہے۔ وہ سب خدا کی مرضی سے ہے۔ اس نے ایک ایک چیز کو بنایا ہے۔ اس میں زندگی کا دم پھونکا ہے۔ انسان قدرت کا سب سے عظیم شاہکار ہے۔ اسے عالم کائنات میں سب سے زیادہ حکمت دی ہے۔ صاحب بصیر بنایا گیا۔ محسوسات کی حس عطا کی۔ جذبات کو کشید کرنے کا جذبہ عطا کیا۔ افق پر منڈلانے کی توفیق دی۔ سوچ کی اڑان دی۔ اس

Read more

اوسلو میں مادھو لعل حُسین کا کلام

صبح دس بجے کے قریب میں اور ڈاکٹر ناشتہ کرنے کے بعد گھر سے باہر گئے کیوں کہ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ اس لیے ہم نے چھتریاں بھی ساتھ لے لیں۔ بلکہ چھتریاں سر پہ تان لیں۔ آج ہم اوسلو کا وہ علاقہ دیکھنا چاہتے تھے۔ جسے سب سے پہلے آباد کیا گیا تھا۔ ہم کافی دیر پیدل چلتے رہے۔ ہم اسی ماحول میں ایسے ہی مزاج کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوئے ٹاؤن ہال

Read more

اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔ جہاں تک اردو افسانے کا تعلق

Read more

غزلیہ اشعار کا بیانیاتی نیراٹالوجیکل مطالعہ

ہماری اردو ادب کی دنیا میں بیانیات کی مُباحِث شعری تنقید کی طرح معروف نہیں۔ لہٰذا غزلیہ اشعار کے بیانیاتی نقطۂ نظر سے جائز لینے سے قبل یہ جاننا مناسب رہے گا کہ بیانیات کیا ہے؟ ”افسانوی ادب کی تنقید کے لیے پہلے فکشن کی تنقید کی ترکیب مستعمل تھی؛ پھر کرِکشن کی اِصطلاح وضع ہوئی جسے کرِٹیسزم اور فکشن سے بنایا گیا تھا مگر اُس کا چلن نہ ہو سکا۔ فی زمانہ ’بیانیات‘ کی اِصطِلاح رائج ہے اور اِسی

Read more

اُردو ادب سے شناسائی، اے آئی اور نیا ادبی چیلنج

میں تیسری یا چوتھی جماعت کا طالب علم تھا جب چندی پور سے چند کلومیٹر دور شیخ واہن کے علاقہ میں کسانوں کے لیے لگائے جانے والے سالانہ میلہ سے ایک روپیہ یا اُس سے کچھ زیادہ کی قیمت ادا کر کے بچوں کی کہانی کی کتاب ”ہیرا من توتا“ خرید کر لایا اور پھر رات کو کیروسین آئل پہ چلنے والی لالٹین کی روشنی میں اسے پڑھتا رہا۔ میرے تحت الشعور میں آج تک اس کا نام محفوظ ہے

Read more

صوفی فوبیا اور جدید علوم

آج ہمارے ایک دیرینہ دوست جو کہ تصوف کے ایک سلسلے سے وابستہ ہیں، ان سے گفتگو ہو رہی تھی اور میں نے ان کو غوث پاک کی چٹکلوں بھری کرامات کی ایک ویڈیو دکھا دی۔ موصوف کہنے لگے کہ تمہیں ”صوفی فوبیا“ ہو گیا ہے۔ یہ اصطلاح میں نے زندگی میں پہلی دفعہ سنی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ آج کل فوبیا کی اصطلاح مغرب میں عام ہے اور ہمارے لوگ بھی اس کو

Read more

خالد احمد: Sleeveless but Seamless Editor

یادش بخیر دلدار پرویز بھٹی مرحوم آفس کی سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوتے تو ہمیشہ ایک ہی نعرہ مستانہ بلند کرتے، ہاں بھئی کہاں ہیں آپ کے سلیو لیس ایڈیٹر؟ مکرمی خالد احمد صاحب اپنے کیبن کے دروازے سے جھانک کر کہتے، آئیے! آئیے! بھٹی صاحب کیسے ہیں؟ کیا خبریں ہیں؟ پھر دونوں صاحبان کے درمیان جاندار گفتگو شروع ہو جاتی اور ہم علم و ادب کے موتی چنتے رہتے۔ بات ہے ہفتہ وار آج کل کے دور

Read more

پوچھتے ہیں وہ کہ خالد (احمد) کون ہے؟

خالد احمد پر لکھنے سے پہلے اُن کے مشہور زمانہ کزنوں کا تذکرہ ضروری ہے کیونکہ ایک پھوپھی زاد عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے اور اُس کی رہائی کے لیے ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دوسرا چچا زاد ماجد خان دنیائے کرکٹ میں مائٹی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، اور سیاسی یا کسی دوسرے حوالے سے غیر متحرک ہے۔ خالد احمد رواں سال اٹھارہ نومبر کو اکیاسی برس کی بھرپور

Read more

فرقہ واریت کی آگ میں جلتا پاکستان

پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات کی تاریخ دلخراش اور شرمناک ہے۔ ستر اور اسی کی دہائیوں میں یہ فسادات اس وقت زور پکڑنے لگے جب ضیاء الحق مسند اقتدار پر قابض تھے۔ اس وقت اور بعد ازاں پارہ چنار سے گلگت بلتستان تک اور جھنگ سے کوئٹہ تک پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جلتا رہا۔ ان واقعات میں اب تک ہزاروں بے گناہ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہزاروں زخمی ہوئے اور ہزاروں لوگ ہجرت کر چکے ہیں۔

Read more

ڈاکٹر شعیب نگرامی

تقسیم ہند کے بعد میرے والدین تو پاکستان آ گئے لیکن ہمارے خاندان کے کچھ افراد نے ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان ہی میں میرے خالو مرحوم مولانا محمد اویس نگرامی بھی تھے جو ایک ممتاز عالم دین اور ندوتہ العلوم لکھنؤ میں شیخ التفسیر کے عہدے پر فائز تھے۔ مرحوم خالو مولانا محمد اویس نگرامی کا گھرانا علمی، ادبی اور مذہبی تھا۔ یوں تو ان کے سب ہی بیٹے باعلم تھے لیکن والد کی علمی وراثت

Read more

پاکستان ٹیلی ویژن کے 60 سال

ٹیلی ویژن کی ابتداء 1930 میں ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں 1950 میں ٹی وی کا آغاز ہوا اور 1960 میں پوری دنیا میں اس کا پھیلاؤ شروع ہوا۔ ٹیلی ویژن دو الفاظ ٹیلی اور ویژن کا مجموعہ ہے۔ ٹیلی کا مطلب دوری یا دور ہے اور ویژن کا مطلب دیکھنا ہے۔ اس طرح اس کا مطلب ہوا دور سے دیکھنا۔ ہندوستان کے سرکاری ٹی وی کا نام اسی مناسبت سے دور درشن ہے۔ یعنی دور سے دیکھنا۔ ٹیلی ویژن

Read more

مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

1981، 83، 85 میں سی ایس ایس کے تین ناکام امتحانوں کا ریکارڈ قائم کرنے کے باوجود اپنا یہی ماننا تھا کہ مجھ جیسے لائق امیدوار کا، کے پی میں پایا جانا تو ممکن ہی نہیں جبکہ پاکستان میں اپنے جیسے بس خال خال ہی ہوں گے۔ لہذا ہو نہ ہو نظام میں کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ اس کی تصدیق بھی خود بخود ہی ہو گئی جب میرا وہ دوست بھی اس امتحان میں کامیاب ہو گیا جو اس

Read more

ڈائنو سار کی ڈائری سے ایک ادھورا صفحہ

ایلیٹ اور ایلیٹزم کی بھینٹ چڑھ جانے والی پاکستانی بہاری بین الاقوامی شاعرہ کے نام پاکستان میں سماج، شناخت، کلاس، معاشی حیثیت اور فکری اڑان سے جڑے سمجھوتوں، گردابوں اور عذابوں کو صرف وہی پوری طرح جان سکتے ہیں جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتے ہوں اور زندگی کو، اس کی تمام رعنائیوں کو اپنی گرفت میں بھی رکھنا چاہتے ہوں۔ یاد کی دھند میں گزرے ماہ و سال میں ایسے انسانوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں

Read more

شہباز ساحر: ایک ہمہ جہت شخصیت

  میری زندگی میں ہمیشہ وہ لوگ اور تعلق قیمتی سرمایہ ثابت ہوئے ہیں جن سے میرا تعلق علم و ادب اور تخلیق و خلوص کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ بزرگوں سے سنتے تھے کے قلم کے رشتے کبھی کبھی خون کے رشتوں سے گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس بات کا تجربہ اور احساس اب ہوتا ہے۔ جناب شہباز ساحر سے بھی میرا تعلق اور رابطہ علم دوستی کی وجہ سے ہی ہوا۔ شہباز ساحر سے رابطہ یوں ہوا

Read more

فرخ سہیل گوئندی کا نگار خانہ (The Thirty Two)

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں ایک بات تو وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، یہ آدمی امریکہ کے سفر پر ہو یا دنیا کی کسی سرزمین پر جہاں گردی کرتا ملے اس کا دل اپنے آبائی شہر سرگودھا کے لئے دھڑک رہا ہو گا، آنکھیں لاہور کی شاموں و سیاسی محفلوں کی راہ دیکھ رہی ہوں گی، اور ذہن رفتگاں کی یاد سے خالی نہ ہو گا۔ فرخ سہیل گوئندی کی اس کتاب The Thirty Two کے بارے

Read more

شہناز اور مصطفیٰ زیدی کی کہانی

یہ نصف صدی سے پہلے کا قصہ ہے۔ جب اخبارات اور ریڈیو ہی ہماری معلومات کا ذریعہ ہوا کرتے تھے اور میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو صبح صبح اخبار نہ پڑھ لیں تو ان کا دن ہی نہیں شروع ہوتا تھا۔ اور تب ہی ایک روز حریت اخبار میں ایک خبر پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مشہور شاعر مصطفیٰ زیدی اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے اور اسی فلیٹ میں شہناز گل نامی ایک خاتون

Read more

منزل دور نہیں

زمانی اور مکانی حدود سے بالاتَر، ہر عہد میں، ہر زمانے میں، ہر شہر اور ہر بستی میں اچھے، خوبصورت، محبت کے قابل اور احترام کے مستحق لوگ ہوتے ہیں۔ ڈھلتی ہوئی شام کو میری نظریں ریل کی پٹری کے اوپر تھیں اور میں بے تابیِ سے ریل کا انتظار کر رہا تھا میرے ساتھ میڈیا منڈی کے مصنف اکمل شہزاد گھمن صاحب تھے سنا تھا کہ اب ریل کی آمد اور روانگی میں کچھ باقاعدگی دَر آئی ہے مگر

Read more

اعجاز نامہ (معجزات) : ایک مطالعہ و تجزیہ

خانوادہ خوشحال خان خٹک نے پشتو شعر و ادب، سِیَر و تاریخ، ترجمہ و توضیح، تاریخ گوئی، وقائع نویسی، سیر و سیاحت اور نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس کی تشریح و توضیح کے لئے تاحال ایک زمانہ درکار ہے اور باوجود مستند اہل قلم اور شارحین کے سالہا سال کی ریاضت اور علمی مشقت کے ان کے کیے گئے کام اب بھی مزید شرح و بسط کے متقاضی ہیں۔ متن شناس محقق پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ

Read more

 7 برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط

”سر مجھے آپ کا ہاتھ دیکھنا ہے۔ وقت آپ نے بتانا ہے کہ کب آپ کے پاس آؤں؟“ انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں کہا۔ ”سر میں بہت اچھا ہاتھ دیکھتی ہوں۔ حسینہ واجد کا ہاتھ بھی میں نے دیکھا ہے۔ میرے پاس اس کے ہاتھ کے پرنٹ بھی ہیں۔ اُس وقت میرے تن پر آبی رنگی ٹنگائل کی خوبصورت ساڑھی تھی۔ شانوں پر گھنے سیاہ بال لہراتے تھے۔ سانولی رنگت کے

Read more

من آنم کہ من دانم

سب سے پہلے مجھے زبان و ادب کی خدمت پر قومی سطح پر مامور ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ ان کے معاونین کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے زبان و ادب کے ایک طالب علم کے ساتھ مکالمہ کی اس نشست کا اہتمام کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس عزت افزائی کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی ترجیحات مرتب کرتے ہوئے اُردو زبان اور ادب کو سب سے اوپر

Read more

پاکستانی فلمی صنعت کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد

پاکستانی فلمی صنعت کا چاکلیٹی ہیرو، انتہائی کامیاب، با اثر، خوبرو سانولی رنگت، بڑی آنکھوں والا اور قسمت کا دھنی ستارہ، جس کے 20 سالہ فلمی عہد کا انجام بہت عبرت ناک تھا۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے اپنی لازوال، بے ساختہ اور فطری اداکاری سے پاکستانی فلم بینوں خصوصاً نوجوان نسل کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ اس وقت کی نوجوان نسل نے ان کے پہناوے اور اندازِ زلف کو بہت شوق سے اپنایا تھا۔ 2

Read more

وادی کشمیر اور احمد شمیم ایوارڈ

  دُنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس میں کوئی نہ کوئی خوبی نہ ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کی ودیعت ہے کہ حضرتِ انسان کو کسی خاص وصف یا مجموعہ اوصاف کا حامل بنا کر دُنیا میں شرف و تکریم سے مزیّن کر کے اشرف المخلوقات قرار دے دیا۔ خونی رشتوں کی جبلّت تو محض تعارف اور پہچان ہے اور اس پہچان میں وہ صرف اپنے قبیلے اور خاندان کی حد تک محدود رہتا ہے مگر مشیتِ یزداں

Read more

کہ جس کو چھو لیا جائے اسے پوجا نہیں کرتے

تخیل کی پرواز لا محدود نہیں ہوتی، انسان اپنے ماحول، مہیا وسائل اور علم کے دائرے میں جی رہا ہے۔ تخیل کی پرواز ان سب کے بڑھنے سے بڑھتی ہے۔ ہم گاؤں میں زندگی گزار رہے تھے۔ لائبریری جیسی عیاشی تو کجا ہمارے سکول کی عمارت ہی کوئی نہیں تھی۔ کمرہ نہیں، کلاس روم نہیں تو باقی دنیا سے مقابلے کی سوچ کہاں سے پیدا ہوتی! اپنے ماحول سے بیزاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ بیزاری موازنے سے پیدا ہوتی

Read more

اردو کا دیوانہ اور من کا سچا خلیل الرحمن چل بسا

خلیل الرحمن اور ان کی اہلیہ انجم خلیل سے میرا غائبانہ تعارف اس وقت ہوا جب مجھے امریکہ میں بسے محض چند ہی سال ہوئے تھے۔ ہر پاکستانی گروسری اسٹور اور پاکستانی ریسٹورنٹس میں اردو ٹائمز رکھے ہوتے۔ یہ اخبار مفت ملتا اور میں کہ ایک بے وطن اور اردو سے بچھڑی ایسے لپک کے یہ اخبار اٹھاتی جیسے کوئی میلے میں گم ہوا بچہ اچانک اپنی ماں کو دیکھ کر اس کے سینے میں ہمک آئے۔ یہ کون ہے

Read more

بزرگ، شادی، خاندان، روایات: انیس سو چوراسی کا کراچی

اسی کی دہائی اپنے جوبن پر تھی جب ہوش سنبھالنے کے بعد ہم پہلی مرتبہ دبئی سے پاکستان آنے تھے۔ ہماری سب سے چھوٹی خالہ کی شادی تھی۔ پرانا زمانہ تھا آسائشیں ابھی ضروریات نہیں بنی تھیں۔ مڈل کلاس گھروں کے لئے الیکٹرانکس کی امد ابھی بھی ”ہنوز دلی دور است“ کی مانند تھی۔ فرج کی جگہ ”نعمت خانہ“ ، انٹرنیٹ اور ٹیلیویژن کے بجائے، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر راج کرتے تھے۔ کچن جو کہ اب تک باورچی خانہ کہلایا

Read more

ذِکرِ غنی، فکرِ غنی، شعر غنی

قدیم پشکلاوتی اور آج کے ہشت نگر ( چارسدہ) کے اس زرخیز اور مردم خیز خطہ نے جہاں اپنے ارد گرد کے علاقوں کو زندگی کے رمز آشنا گر سکھا دیے وہاں اصلاحی تحریک انجمن اصلاح الافاغنہ ( 1921 ) ، خدائی خدمتگار تحریک، فضل واحد المعروف بہ حاجی صاحب ترنگزئی ( 1859 ) کی اصلاحی تحریک، ہشت نگر کسان تحریک اور دیگر اجتماعی کوششوں کا مرزبوم بھی ہشت نگر ہی رہا ہے۔ مجسمہ ساز، عکاس، منفرد لہجے کے شاعر،

Read more

کچھ جنوں کے بارے میں

انسانی کیفیات مختلف محرکات کا موجب ہوتی ہیں۔ یہ اندرونی و بیرونی تغیرات سے تشکیل پاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ذرا سی بات جوار بھاٹا بن جائے اور سخت دباؤ کے باوجود ممکنہ ردعمل سامنے نہ آئے۔ اس کی بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی حالت قرار دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فوری ردعمل یا غیر معینہ مدت کے بعد جواب آں غزل کی پیشین گوئی ممکن نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں میں محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

Read more

یہ غروب عصر کا وقت ہے

یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ خالد احمد کی موت وقت کا ظلم ہے، آمریت کا بانجھ پت جھڑ ہے یا ایک پسماندہ معاشرے کی بے ہنگم افراتفری کے پس پردہ دبے پاؤں بڑھتی بے خبری۔ یہ ہماری یاد کی رحم دلی ہے جو ہمیں دکھ کی تیز آنچ کا احساس نہیں ہونے دیتی یا تاریخ کی دانستہ تنسیخ ہے جو شعورِ تناسب کو ملیامیٹ کرتی گزر رہی ہے۔ خالد احمد لاہور کے مشرق میں کوئی 75 میل

Read more

فیض احمد فیض

20 نومبر 1984 ء کو شہر لاہور میں اُردو ادب کے عظیم شاعر فیض احمد فیض اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے تھے آج ان کی چالیسویں برسی ہے۔ ” مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اس نامور نظم کے خالق فیض احمد فیض کا تعلق بھی اسی سر زمین سے ہے جہاں سے اقبال جیسی ہستی نے جنم لیا بس فرق اتنا ہے کہ فیض نارووال (ضلع سیالکوٹ) میں پیدا ہوئے اور اقبال شہر سیالکوٹ

Read more

برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر (رابندر ناتھ ٹیگور ) قسط 6

حسن فطرت سے اُسے عشق ہے۔ یہ صبح شام موسموں کے بدلتے رنگوں کے ساتھ کیسے پرانے پیرہن اُتار کر نئے پہنتی ہے۔ اُن پرانے اور نئے رنگوں میں حُسن و رعنائیوں کے جلوے اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کرتے ہیں۔ اس کا اظہار بھی کیا خوب ہے۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہے بارش بند نہیں ہوتی میں نہیں جانتا میرے اندر کون سی بیتابی ہے ایک جگہ لکھتے ہیں۔ طلوع آفتاب زمین کو زریں تاج

Read more

اسلام آباد ائرپورٹ

نیو اسلام آباد ائرپورٹ پر جاتے ہوئے پہلا جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب گوگل میپ آپ کو ائرپورٹ سے چار کلومیٹر آگے لے جاتا ہے۔ جب آپ کو جہاز نظر آنا بند ہو جاتے ہیں اور آپ ایک رکاوٹ کے سامنے پہنچ جاتے ہیں تو فوجی وردی میں ملبوس ایک بھائی صاحب ہاتھ نچا کر آپ سے پوچھتے ہیں، جی او ماما کدھر؟ آپ کار کا شیشہ اتار کر پوچھتے ہیں ائرپورٹ؟ و ہ درشتی سے کہتا ہے گوگل

Read more

ذکر یوم اقبال کی تقریب کا

شاعر مشرق علامہ اقبال ؒکے 147 ویں یوم ولادت پر سرکاری طور پر عام تعطیل تھی صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ہزاروں گاڑیوں کا رخ شہر اقتدار کی طرف ہوتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو اڑھائی لاکھ سے زائد گاڑیوں کی شہر پر یلغار ہو جاتی ہے لیکن عام تعطیل کے روز شہر میں ہو کا عالم ہوتا ہے سنسان شاہرائیں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے آج پورا شہر چھٹی منا رہا ہے کوئی ہنگامہ ہے

Read more

استعماری سیاح: مقبرہ سلطان ٹیپو پر لارڈ میکالے نے کیوں حاضری دی؟

برطانوی ہند میں، انگریز استعمار نے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی تھی، سیاسی امور میں جن افراد کا انتخاب کیا جاتا ان کے نسبی و نسلی رشتے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ کمپنی کی حکومت میں ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جنھوں نے ہندستان پر استبدادیت کو مضبوط کرنے میں استعماری کردار بخوبی نبھایا۔ ان کرداروں میں ایک ٹی بی میکالے کا خاندان بھی شامل ہے۔ ٹی بی میکالے کے چچا کولن میکالے نے 21 سال کی عمر

Read more

بنگلہ دیش سے اچھے تعلقات۔ چند تجاویز

ڈپلومیسی میں درست اور بروقت اقدامات سے ہی ملکی مفاد کے لیے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر ہماری خارجہ پالیسی کا یہ عمومی رویہ ہے کہ ہم دوسرے ملکوں سے تعلقات میں درست اقدام یا بروقت اقدام میں سے کسی ایک یا دونوں کو مِس کر دیتے ہیں۔ اِسے سست روی کہیے یا کوتاہ نظری۔ بہرحال لمحوں کی غلطیوں کی سزا صدیوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران حالات نے ہمیں ڈپلومیسی میں ایک

Read more

کچھ یادیں

جون ایلیا اپنی وفات سے ایک سال پہلے ہماری دعوت پر ایک مشاعرہ پڑھنے جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال تشریف لائے تھے۔ یہ مشاعرہ سٹیزنز فورم خانیوال کے زیرنگرانی ہوا تھا۔ ڈگری کالج خانیوال کے لان میں منعقدہ اس مشاعرے میں پہلی بار خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔ سامعین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ فرشی نشست تھی اور سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ رات گئے مشاعرہ چلتا رہا۔ جب جون ایلیا پڑھنے بیٹھے تو

Read more

آرٹسٹ کو کیسے پرکھا جائے؟ مکمل کالم

”جناب آپ کے کالم ’آرٹ پر ایک مکالمہ‘ پر میرا خیال اور سطریں آپ کی نذر ہیں : موضوع بہت جاندار ہے اور پُرانا بھی اور یہ بحث لاحاصل بھی نہیں ہے۔ سچی بات ہے کہ اس پر آپ نہ صرف لکھا بہت اچھا ہے بلکہ بہت سارے سوالوں کے جواب بھی خود ہی دے دیے ہیں۔ مسئلہ وہی ہے کہ آرٹسٹ اور ایکٹیوسٹ /محرک /کارکن میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان بنیادی طور پر خوبصورتی، جوانمردی، بہادری، ایثار،

Read more

جاپان کے شہر اوساکا میں!

آج مجھے کیوتو شہر سے رخصت ہونا تھا۔ علی الصبح میں نے اپنے کمرے پر ایک الوداعی نگاہ ڈالی اور ہوٹل سے نکل آئی۔ ایک ٹیکسی لی اور ریلوے اسٹیشن جا پہنچی۔ ٹکٹ لینے والوں کی ایک طویل قطار موجود تھی۔ یہاں بھی وہی نظم و ضبط اور ترتیب دکھائی دی جو ان ترقی یافتہ اقوام کا خاصہ ہے۔ باری آنے پر میں نے شین اوساکا (Shin۔ Osaka) اسٹیشن کا ٹکٹ لیا۔ کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے بتایا کہ تمام

Read more

ادیبوں اور لکھاریوں کے نفسیاتی مسائل

ویسے تو اس بات کا اطلاق ہر تخلیق کار یا فنون لطیفہ کی ہر صنف سے وابستہ تمام افراد پر ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن اس مضمون میں ہم خاص طور پر ادب کی اصناف سے متعلقہ لوگوں یعنی ادیبوں اور لکھاریوں کے بارے میں بات کریں گے۔ بابائے تحلیل نفسی کے نظریے کی روشنی میں پہلے تمام تخلیق کاروں کو بالعموم اور لکھاریوں اور ادیبوں کی نفسیات کو بالخصوص

Read more

جینڈر واچ سے صنف آہن تک: ایک فیمنسٹ کی ڈائری کا ایک ورق

کچھ عرصہ قبل ڈائنو سار کی ڈائری لکھنی شروع کی، پھر سوچا کہ کس کو میری زندگی، میرے مشاہدوں اور تجربات میں دلچسپی ہوگی؟ کون میرے ساتھ بہاری المیے کی روداد پر غم زدہ ہو گا؟ اب تو سکرین پر لائیو جنگیں، خون ریزی، نسل کشی اور نورا کشتی دیکھ کر بھی ہم میں سے بہتر اخلاقیات اور اصولوں والے لوگ بھی محض آہ بھر کر چینل بدل دیتے ہیں۔ بھوک، روزگار، طاقت اور پیسہ ہی اصل حقیقت ہیں اور

Read more

لاہور کی آلودگی میں شاعروں کا کردار

لاہور شہر کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ یہ آپے سے باہر ہے۔ اس میں مقامی آبادی کم اور مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ والے مہاجر جو جبراً، مجبوراً اور شوقیہ بھی یہاں تشریف لائے اور پھر دوبارہ واپسی کی راہ بھول گئے۔ اس بڑھتی ہوئی ”اربنائزیشن“ پر بہت باتیں ہوتی رہی ہیں اور اب سموگ کے تناظر میں بھی ہو رہی ہیں کہ جی بے ہنگم ٹریفک ہے، لوڈ زیادہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ابھی تک کسی

Read more

’مشک پوری کی ملکہ‘ اور ’بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب‘: ایک تقابلی جائزہ

محمد عاطف علیم، مشک پوری کی ملکہ کے مصنف، ایک معروف کالم نگار، فکشن نگار، اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ان کے ادبی سفر میں مشک پوری کی ملکہ کے علاوہ ان کا ناول گردباد اور کہانیوں کا مجموعہ شہرِ نامطلوب بھی شامل ہیں، جو قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ محمد عاطف علیم 10 مئی 1964 کو ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔

Read more

انٹرنیٹ بند کرنے سے ملکی قرضے اتر سکتے ہیں؟

گْوادر کے پدی زِر کے ساحل پر ناخدا مسکرا کر کہنے لگے کہ کیا انٹرنیٹ بند کرنے سے ملک کے قرضے اتر گئے؟ میں یہ سن کر ہنس پڑا کہ واقعی چھ دن انٹرنیٹ بند کرنے کا کیا فرق پڑا ہو گا۔ گیارہ نومبر سے سترہ نومبر تک سی پیک کے شہر گْوادر سمیت بلوچستان کے جن چند شہروں میں موبائل انٹرنیٹ دستیاب تھا وہاں اسے بند کیا گیا تھا۔ منصوبہ ساز اداروں کو سات دہائیوں بعد بھی اپنے پرانے

Read more

خواجہ مظہر صدیقی: انسانیت کی خدمت کرنے والا بندہ حقیقی

مجھے ہمیشہ ایسے لوگوں سے ملنے کا اشتیاق رہتا ہے جن کے بارے میں لوگ کہیں کہ ”آپ کو ان سے ملنا چاہیے۔“ خواجہ مظہر صدیقی کے معاملے میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال تھی۔ ہمیں ملانے والے ہمارے دو مشترکہ دوست تھے، جن کی خواہش اور کوشش تھی کہ ہماری ملاقات ہو۔ میں کراچی میں جبکہ خواجہ مظہر صدیقی صاحب ملتان میں رہائش پذیر ہیں۔ پچھلے ماہ، جب میں ٹریننگ کے سلسلے میں ملتان گیا تو میرے دوست

Read more

برطانیہ میں واروک کا تاریخی کیسل – قسط نمبر 2۔

واروک انگلینڈکی وارک شائر کاؤنٹی کا شہر ہے جو دریائے ایون کے کنارے پر واقع ہے۔ اسی قصبے میں 1068 عیسوی میں مٹی اور لکڑی سے وارک قلعہ تعمیر کیا گیا۔ 12 ویں صدی کے دوران فوجی نقطہ نظر سے پتھروں اور لکڑی سے اس قلعے کی از سر نو دوبارہ تعمیر کی گئی۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں برطانیہ کی سو سالہ خانہ جنگی کے دوران قلعے کے سامنے والے حصہ کو فوجی فن تعمیر کو سامنے رکھ کر

Read more

شرطیہ پرانا پرنٹ اور داغوں کی بہار

اخبار سے خبر تو اب غائب ہو گئی۔ کالم کے نام پر خامہ فرسائی کے اطوار بھی چراغ حسن حسرت کے لفظوں میں ’کثرت استعمال‘ سے متروک ہو رہے ہیں۔ فکاہیہ کالموں میں ایک عطا الحق قاسمی اگلے وقتوں کی نشانی بچے ہیں۔ رپورٹنگ سے کالم کا رخ کرنے والے خبر کو کالم کا لبادہ پہناتے ہیں مگر صیغہ متکلم کی خود آرائی اور مبینہ ذرائع کے دام میں الجھ جاتے ہیں۔ کچھ ماضی کے آثار ہیں جنہیں شاید نظریاتی

Read more