معتبر سندھی شاعر، عالم و محقق ڈاکٹر عطا محمّد حامی

پچھلے دنوں 3 جون 2025 ء کو سندھی زبان کے قادر الکلام شاعر، معتبر عالم، محقق، معلم، سیاستدان، سماجی کارکن، سچل سرمست کے شارحین میں سے ایک اہم شارح اور مترجم، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کے انتقال کو 43 برس مکمل ہوئے۔ ان کی یاد میں ”حامی یادگار کمیٹی“ کی جانب سے اس شام سچل اکیڈمی خیرپور کے آڈیٹوریم میں ان کی برسی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقامی ادباء و شعرا نے ان کے فن، فکر اور

Read more

خواب، محبت اور زندگی 27

وہ خوبصورت خاتون جو میری بہن بھی ہو سکتی تھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے 1965 میں میرے میٹرک کرنے کے بعد ہم عزیز آباد کے ایک کشادہ گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔ عزیز آباد کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ایک زمانے میں یہ کتنا صاف ستھرا اور خوب صورت علاقہ ہوتا تھا۔ کئی سال بعد اس کی وجہ شہرت ایم کیو ایم کا ہیڈ کواٹر ہونا بنی۔ ایک تعمیراتی کمپنی

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پہلی فکشنل کتاب ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا تعارف

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو گزشتہ چار دہائیوں سے خواتین کے طبی اور سماجی مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اپنی بیباک کالم نگاری پر مشتمل چھ کتابوں اور پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کے بعد ، اب فکشن کی دنیا میں ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے فکری و تخلیقی سفر کا ایک نیا، چونکا دینے والا موڑ ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے فکشن کا اسلوب ایک

Read more

دوستانہ، منافقت اور ہم

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مسائل کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں وہاں دوستوں کی محفلوں کو ہمیشہ ایک ایسے گوشۂ عافیت کے طور پر دیکھا گیا جہاں انسان اپنی ذہنی پریشانیوں، فکری الجھنوں اور روزمرہ کی تھکن سے کچھ دیر کو نجات حاصل کرتا ہے۔ ان محافل میں انسان بہت سی ایسی توجیحات کے تحت اپنے بے قراری اور بے زاری کے رویوں کو ایک لمحے کے لیے مکمل طور پر بھول جاتا ہے اور یہی ان

Read more

ثنا یوسف میں شرمندہ ہوں

سب جانتے ہیں میں کتنا کٹر، مذہبی، بنیاد پرست اور قدامت پسند واقع ہوا ہوں۔ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے اور خانوادے سے ہے۔ ہمارا شجرہ ہمیں جیلان تک لے جاتا ہے ؛ سو قادریت ہماری رگ و پے میں ہے۔ میرے ابو جی کٹر مذہبی، میرے دادا پکے بنیاد پرست الغرض آٹھ صدیوں کا جینیاتی سفر اسی مذہبی شناخت کا سفر ہے۔ میں بھی خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ یونی ورسٹی میں بھی میری سر توڑ کوشش رہی کہ

Read more

انکار کا حق

ہمیں یہ کب سمجھ آئے گا کہ ”انکار، انکار ہوتا ہے“ No means No. کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انکار کے باوجود آپ پر دباؤ ڈالے یا آپ کے انکار کو اقرار میں بدلنے پر مجبور کرے۔ ہر گزرتے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کبھی غیرت کے نام پر کوئی زندگی چھین لی جاتی ہے، تو کبھی کسی کا انکار اُس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ اسلام آباد میں 17 سالہ

Read more

ادھوری کہانیوں کا آسیب: انسل کا بیانیہ

رات کی تاریکی میں اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک لرزہ خیز چیخ گونجی اور ثنا یوسف کی سالگرہ کا دن اس کے لیے موت کا پروانہ بن گیا۔ ایک ایسا واقعہ جس نے نہ صرف ایک لڑکی کی زندگی نگل لی بلکہ معاشرتی گہرائیوں میں چھپی ایک بیماری کو بھی سطح پر لے آیا۔ آئی جی اسلام آباد کے بیان نے ایک ایسے ناسور کی نشاندہی کی ہے جو مغرب میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب

Read more

تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز

کتاب: مور پنکھی مصنف: جاوید صدیقی تبصرہ : عرفان علی ڈنور مجھے جاوید صدیقی صاحب کی کہانیوں اور خاکوں میں کرداروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور ان کی شکلیں دکھائی دیتی ہیں فسوں گر کا یہی کمال ہوتا ہے صاحب! جو جاوید صدیقی صاحب کا کمال ہے۔ ایک تو بہت کم لکھا ہے، مطالعہ کرنے والوں کی تشنگی بڑھا رکھی ہے، اصلی شطرنج کے کھلاڑی ہیں، تھوڑے سے دانے پلیٹ میں بھلے لگتے ہیں، (سندھی میں کہاوت ہے )

Read more

تاجدار غزل گوئی

خالد بزمی اردو ادب کے جدید اور حساس مزآج شاعر ہیں جنہوں نے اپنی غزل گوئی سے نئی فکری جہات کو متعارف کرایا ہے۔ ان کے دوسرے مجموعۂ غزلیات ”آغوشِ صدف“ میں ایک سو اٹھارہ غزلیں شامل ہیں جو ان کی تخلیقی وسعت، فکری تنوع اور فنی پختگی کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ مجموعہ نہ صرف ان کی شعری ریاضت اور جمالیاتی شعور کا مظہر ہے بلکہ جدید اردو غزل کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ بھی ہے۔ اشکوں

Read more

کارل مارکس کا تخلیقی سفر (تخلیقی اقلیت سے ایک باب)

  حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب: ”تخلیقی اقلیت“ ، ڈاکٹر خالد سہیل کی انگریزی تصنیف: CREATIVE MINORITY کا اُردو ترجمہ ہے۔ ’تخلیقی اقلیت‘ میں منتخب تخلیقی شخصیات، جن میں فلسفی، سائنسدان، ادیب، شاعر، فنکار اور انقلابی رہنما شامل ہیں، جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں ان کے نظریات، فکر، اور فلسفے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے بطور نفسیات دان ان معتبر شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ بھی

Read more

سوشل قربانی

عید قربان ایک بار پھر سے قریب ہے۔ مرتے کیا نہ کرتے، ہم بھی منڈی جا پہنچے۔ پوری منڈی میں بکرا اور بکرے کا مالک دونوں ہی سب کی نگاہ ”ناز“ کا مرکز تھے۔ میں نے دونوں کو خوب تول کر دیکھا لیکن یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان دونوں میں زیادہ قیمتی کون ہے؟ ہر کوئی اپنے بکرے کی خوب مارکیٹنگ کر رہا ہوتا ہے۔ قیمت پوچھی تو بتایا گیا کہ ڈیڑھ لاکھ۔ ہمیں حیرت زدہ دیکھ کر

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 18 )

انسان اگر ٹھان لے تو کچھ بھی کر سکتا ہے اور کسی بھی بلندی تک پہنچ سکتا ہے مگر جو بات اہم ہے وہ یہ کہ انسان کو کبھی بھی سیکھنے کا عمل ترک نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کے ہر قدم پہ انسان کچھ نہ کچھ نیا سیکھ سکتا ہے اور سیکھنا چاہیے۔ جس دن ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم سب جانتے ہیں اس دن ہماری ذہنی موت واقع ہو جائے۔ سیکھنے اور جاننے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

Read more

”سب رنگ“ ڈائجسٹ : باز گشت

اس دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے اپنے بچپن میں قصے کہانیاں نہ سنی ہوں اور اسے ان سے دلچسپی نہ ہو۔ درسی کتب میں آغاز ہی سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں شامل کی جاتی ہیں تاکہ بچے ایک طرف تو خوشی خوشی کہانیاں پڑھیں اور ساتھ ہی ساتھ زبان کے اتار چڑھاؤ سے بھی کماحقہ واقفیت حاصل کریں۔ پاپولر ادب نے کئی دہائیوں سے اُردو زبان و ادب پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ان مشہور

Read more

جناب شیخ کا نقشِ قدم

پہلی ملاقات ایک ادبی کانفرس کے دوران میں ہوئی۔ وہ سٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں سامعین میں موجود تھا۔ کچھ استثنا کے ساتھ یہ صورت ہنوز برقرار ہے۔ کئی تقاریب میں ہم اکٹھے جاتے ہیں۔ وہ سٹیج پر براجمان ہوتے ہیں اور میں انھیں سامعین میں بیٹھ کر دیکھ دیکھ جیتا ہوں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی ادارے میں کولیگ کی حیثیت سے انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ جہاں دیدہ، زیرک، معاملہ

Read more

عورتوں اور لڑکیوں کے لیے تپتی ہوئی زمین

پاکستان اس وقت ایک خوفناک حقیقت کی زد میں ہے یہ ملک اپنی عورتوں اور لڑکیوں کے لیے ایک دہکتا ہوا آتش فشاں ہے۔ ان کی روشن اور امیدوں سے بھری زندگیاں بے رحمی سے ختم کی جا رہی ہیں، گویا وہ ایندھن ہوں۔ یہ یورپی تاریخ کے تاریک دور کی یاد دلاتا ہے، جب عورتوں کو جادوگری کا الزام لگا کر جلایا جاتا تھا صرف اس لیے کہ انہوں نے مردوں کی جانب سے مسلط کردہ حدوں کو توڑنے

Read more

لال گولی، نیلی گولی، پستول کی گولی، انسل اور ثنا!

”مجرم ثناء یوسف سے بار بار رابطہ کرتا رہا لیکن ثناء یوسف انکار کرتی رہی۔ اس سے قبل ملزم ثناء یوسف کے گھر آیا لیکن آٹھ گھنٹوں تک انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی۔ 29 مئی کو ثناء کی سالگرہ کے روز بھی ملاقات کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وقوعہ کے روز ملزم نے ملاقات کی کوشش کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس نے گھر میں گھسنے کی منصوبہ بندی بنائی اور پھر

Read more

شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ قید سی آئی ڈی کے جاسوس راجہ انار خان کی یادداشتیں

راجہ انار خاں ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سپیشل برانچ پنجاب پولیس پاکستان کی بنتی بگڑتی سیاسی تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں بہت اہم جگہوں پر تعینات رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیے۔ جتنا عرصہ شیخ مجیب الرحمٰن مغربی پاکستان کی جیلوں میں قید رہ کر اپنے خلاف غداری کے مقدمے کا سامنا کرتے رہے، اس دوران راجہ انار خاں بطور انٹیلی جنس افسر ایک مشقتی کے روپ تمام عرصہ جیل میں ان کے ساتھ رہے۔

”تھانیداری“ ملنے پر میں رو رہا تھا
پہلی تقرری گجرات میں ہوئی
سہالہ میں ٹریننگ انسٹرکٹر کو پانی کا جگ دے مارا
جب میں چوہدری ظہور الٰہی کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین کو پکڑ کر تھانے لے آیا
مونگی دی دال والا تھانیدار
جنرل بختیار کے قہقہے
چوہدری فضل الہی کے بھتیجے کی گرفتاری
1965 ء کی جنگ میں میرا حصہ
آرمی کی دو مربعے زمین پر قبضہ میں نے چھڑوا کر دیا
جب میں نے اپنے ایس پی کو تھپڑ دے مارا
جیل میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ بطور سیکورٹی افسر
شیخ مجیب الرحمن محب وطن یا غدار
ڈھاکہ میں سرنڈر کے روز میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا
شیخ مجیب الرحمٰن کانپ رہے تھے
شیخ مجیب الرحمٰن کی چشمہ بیراج آمد
شیخ مجیب الرحمٰن چشمہ سے سہالہ
ذوالفقار علی بھٹو کی شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات
شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا انار خاں! تم میرے ایس پی ڈھاکہ ہو گے

Read more

سردی کی بارش میں سفر

سردی کی بارشوں میں وہ سفر جو گرمیوں میں وادی پر خار سے گزران جیسا ہوتا ہے غزل حافظ کی طرح گلزار ہو جاتا ہے۔ اس سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ گانے بج اٹھے۔ ان میں نصرت فتح علی خان کی ایک مشہور قوالی ’ایسا بننا سنورنا ہو مبارک تمھیں‘ بھی سنی۔ کچھ دھیان قوالی میں موجود اشعار کی طرف بٹ گیا۔ ان اشعار میں موجود تصور عشق اور معاملات بندی کے تجزیے کرنے لگے۔ وہاں محبت

Read more

کائنات کا نیلا موتی۔ سیارہ زمین

کائنات بہت خوبصورت اور وسیع ہے جس میں ہمارا سیارہ زمین ایک نخلستان کی مانند ہے۔ کائنات میں ہماری زمین کی اہمیت ایک نیلے موتی کی طرح ہے کیونکہ ہماری زمین کائنات کا سب سے خوبصورت سیارہ ہے کیونکہ یہاں زندگی ہے۔ ہماری دنیا کے تمام بر اعظم اور سمندر خوبصورتی میں یکتا ہیں اور زمین کا ستر فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ خواہ کالے ہوں یا گندمی، سفید رنگت کے ہوں یا کسی اور رنگت کے ہم سب

Read more

روبوٹ رابعہ

ناصر کی شادی رابعہ سے ہوئی۔ خاندان کی تاریخ میں ایک نئی مثال، ایک ایسا باب جو خوش رنگی اور تکلف کی تمام جہتوں کو چھو آیا۔ شہر کے مایہ ناز شادی ہال میں جب وہ تقریب منعقد ہوئی، تو یوں لگا جیسے کئی صدیوں پر محیط تہذیب ایک شام کے لیے یکجا ہو گئی ہو۔ فانوسوں کی مدھم روشنی، طاؤس جیسے پیٹرن والے قالین، مہندی کے رنگ میں رچے ہوئے ہاتھ، اور تصویریں۔ جو بعد میں فوٹوگرافر نے البم

Read more

رف رف رفتن

سچا تخلیق کار وہ ہوتا ہے جو تحسین و تعریف سے مبرا ہوتا ہے، جو اپنی تخلیق سے محبت کرتا ہے، اور فن پارے کی تخلیقی جہتوں و عصری تقاضوں کو مکمل کرتا ہے۔ چاہے وہ فن پارہ کسی بھی صورت میں ہو۔ افسانوی مجموعہ ”رف رف رفتن“ کا مطالعہ مکمل ہوا، جس کے مصنف ” راشد جاوید احمد“ ہیں راشد صاحب سنجیدہ نقاد اور تخلیق کار ہیں۔ ان معدودے چند افراد میں شامل ہیں جو علمی و ادبی سرگرمیوں میں

Read more

مذہب اور مقصد حیات

یہ سوال محض ایک سائنسی مفروضہ نہیں بلکہ ایک وجودی پکار ہے ایسا سوال جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم محض کیسے پیدا ہوئے نہیں، بلکہ کیوں پیدا ہوئے۔ جب ہم کائنات کی بے کراں وسعتوں کو دیکھتے ہیں، جہاں کہکشائیں جنم لیتی اور مٹتی ہیں، جہاں تہذیبیں ابھرتی اور زوال پذیر ہوتی ہیں، تو انسانی دل ایک معنی، ایک مقصد، ایک منزل کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب

Read more

فرحت اللہ بابر کے ساتھ میری "جَلن”

محکمہ اطلاعات سے وابستگی اور بعد ازاں پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی ترجمانی کے باوجود فرحت اللہ بابر صاحب خاموش طبع مگر شفیق و خلیق آدمی ہیں۔ ان سے ناراض ہونے کے لئے آپ کو سو بہانے ڈھونڈنا پڑیں گے۔ میں البتہ ان سے جل گیا  ہوں۔ کسی دور میں متحرک رہے ہر رپورٹر کی طرح میں نے بھی مختلف حکومتوں  اور سیاسی رہ نمائوں کے مشاہدے کے بعد بقول غالب کچھ یادیں ’’الگ باندھ رکھی ہیں‘‘۔ سوچا تھا

Read more

افسانوی مجموعہ ”پہلی چپ کا شور“

افسانہ نگار :ماہ جبین آصف تبصرہ نگار: شاہانہ جاوید ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا، ہماری دوست ماہ جبین کے افسانوں کی کتاب ”پہلی چپ کا شور“ کو چھپے دو سال ہونے کو آرہے ہیں، پچھلے سال گھر کی شفٹنگ کی تو ان کی کتاب کسی کارٹن میں لاپتہ ہو گئی، اور ہم مسنگ کتاب کے مجرم ٹھہرے، گھر کی سیٹنگ، اور نئی جگہ کے مسائل کتاب مل کر ہی نا دی، جبکہ ہمارا وعدہ تھا کہ اس

Read more

اُجڑی دہلیزوں کی صلح

وہ بوڑھا شخص میرے آفس میں آیا تو ہاتھ میں ایک پرانی فائل اور آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ کر اس نے اپنی دردناک کہانی سنائی۔ دھوپ زوال پر تھی۔ سورج کے جھکتے سائے کچی اینٹوں والی گلیوں میں ایک لمبی تھکن کی مانند پھیل رہے تھے۔ بوڑھے شجر کے نیچے بیٹھا وہ شخص وقت کی گرد میں لپٹے کسی شکستہ مینار کی مانند لگتا تھا جسے اس کی اپنی بنیادوں نے چھوڑ دیا

Read more

کوکھ سے جڑے روگ کی کہانی

وہ ایک پرکشش جسم کی حامل خاتون تھی جسے سجنا، سنورنا پسند تھا۔ اسے اچھا لگتا تھا کہ اس کا شوہر اس کے پہنے گئے کپڑوں کی تعریف کرے، اس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کو دیکھ کر پاگل ہو جائے اور اس کے جسم پر فدا رہے لیکن اب اسے یہ بوسے کسی بنیے کے قرض کی طرح وبال لگ رہے تھے جن کی ادائیگی میں شاید وہ خود خرچ ہو جائے لیکن قرض نہ اترے۔ اسے اس قربت

Read more

اصغر ندیم سید کی افسانوی نثر کا اجمالی جائزہ

ادبی دنیا میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جانے والے اصغر ندیم سید کا پہلا بڑا حوالہ ڈراما نگاری ہے مگر محض ڈراما نویسی تک محدود کرنے سے ان کے مقام و مرتبے کی تصویر مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس مختصر مضمون میں شاہ جی کے ناولوں اور افسانوی مجموعے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آدھے چاند کی رات ”آدھے چاند کی رات“ اصغر ندیم سید کا اولین ناولٹ ہے جو پہلی بار 1993 ء میں منظرِ

Read more

اہل غزہ: سامنا ہم تمہارا کریں کس طرح

فلسطینیوں کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے کہ ہم پر ایٹم بم پھینک دو، تاکہ ہمیں اس اذیت ناک زندگی سے نجات ملے، غزہ میں موت بہت بڑی نعمت ہے۔ قبر والوں کی قسمت پر ناز کیا جاتا ہے کہ وہ جنت کے میوے کھا رہے ہوں گے اور ہم ایک نوالے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کاش ہم بھی شہید ہوچکے ہوتے۔ غزہ کے گلی کوچوں میں موت کا عفریت رقص کناں ہے۔ غزہ میں زندہ وہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی (26)

جب سینما دیکھنے پر تھپڑ کھایا اس زمانے میں ذاتی حوالے سے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو برسوں میرے لئے شرمندگی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنا رہا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی۔ اس واقعے کا تعلق میری اسکول کے زمانے کی ایک سہیلی سے تھا جو پڑھائی کے ساتھ نرسنگ کا جز وقتی کام بھی کرتی تھی۔ اس لئے ہمارے مقابلے میں ایک طرح سے اسے مالی خود مختاری حاصل تھی۔ ایک روز

Read more

پہاڑوں کی سرزمین کی صدائے محبت

میں ڈاکٹر خالدہ نسیم کو ان کے ادبی سفر کی پہلی کتاب ”Echoes from the Mountains کی اشاعت پر مبارکباد دینا چاہتی ہوں اور شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اتنے خلوص سے یہ کتاب مجھے بھجوائی اس تقریب میں مدعو کیا اور مجھے اس کتاب پر رائے کے اظہار کا موقع دیا۔ یہ کتاب انسانیت، تہذیب، اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں سے محبت اور اپنے نظریات کے لیے صعوبتیں برداشت کرنے اور بہادری سے کھڑی رہنے والے

Read more

تیاگ: سکون کا راستہ، سکون: خوشی کی کنجی

ایک ایسی دنیا میں جہاں بھاگ دوڑ اور ہنگامہ خیزی ہماری روزمرہ کا حصہ بن چکی ہے، وہاں سکون اور خوشی کی تلاش ایک مشکل امر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن کیا یہ محض ایک خواب ہے یا ایک حقیقت جسے پایا جا سکتا ہے؟ مذاہب عالم ہمیں ایک ایسے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جو تیاگ، قربانی اور ایثار کے ذریعے سکون اور پھر خوشی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ”تیاگ“ ، جسے ہم عرف عام میں قربانی کہتے

Read more

لورالائی کی ثقافت اور ماحولیاتی تبدیلی

لورالائی، جو جنوبی بلوچستان کے نیم پہاڑی اور نیم میدانی علاقے میں واقع ہے، محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تمدنی اور ثقافتی اکائی ہے، جو نسلوں سے زرعی معیشت، چراگاہی زندگی، آبادی کی سادہ طرزِ حیات، مقامی اقدار، اور قدرتی وسائل پر انحصار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قدرتی ماحول میں تبدیلی واقع ہوئی، بارشوں کی مقدار میں کمی آئی، چشمے سوکھنے لگے اور کاریزات بند ہونے لگے، تو اس کے اثرات

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (آخری حصہ)

فلسطینی ادیبوں کا ذکر کیا جائے اور فلسطین کے عظیم عاشق، کہانی کار، مصور، صحافی، مزاحمت کار و قائد غسان کنفانی کی بات نہ کی جائے، یہ ممکن نہیں۔ 1948 کی عرب اسرائیل جنگی تباہی اور ان کے خاندان کی جلاوطنی و دربدری ان کی بچپن کی یادوں کا ہمیشہ حصہ رہی۔ یہی وہ دن تھے جن کے مصائب و تکالیف ان کی تخلیقی کائنات کا حصہ بنے۔ 1959 میں انھیں بیروت آنے اور آزادی فلسطین کے لیے کام کرنے

Read more

عمران خان کا عسکری رومانس

مقتدرہ نے عمران خان کو اقتدار کے جھولے جھلائے، اقتدار سے محروم کرایا اور پھر انہوں نے ہی پابند سلاسل کرایا۔ سیاسی اور غیر سیاسی مقدموں کی بوچھاڑ کر دی۔ پی ٹی آئی کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن مقتدرہ کی پشت پناہی کا شاخسانہ ٹھہرا۔ مگر خان کے عسکری رومانس کا رنگ پھیکا پڑنے کا نام نہیں لے رہا۔ چاہے یہ رومانس یک طرفہ کیوں نہ رہ گیا ہو۔ خان ڈٹا ہوا ہے کہ جس نے درد دیا وہی درد

Read more

عبداللہ حسین کا ناولٹ ”رات“

ناولٹ نگاری کا فن قصہ تحریر کرنے کا جدید فن ہے جسے انسانی زندگی سے مربوط کیے بغیر، تخلیق کرنا ناممکن ہے۔ جس شد و مد سے ناول اور افسانہ زندگی سے انسلاک رکھتا ہے بالکل اسی طرح ناولٹ بھی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔ ناول اور افسانہ کے مانند یہ بھی جدید دور کی نمایندہ صنف ہے۔ اس صنف کی بنیاد تقسیم ِ ہندوستان سے پہلے پڑ چکی تھی لیکن اس کو فروغ تقسیم کے بعد ہوا۔ علامہ نیاز

Read more

کائنات کا پہلا گیت

بھنبور یونیورسٹی کے قدیم مخزنِ کتب میں وہ دراز الماری آہستہ سے کھولی گئی جسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹوٹ چکی تھی، بلکہ وہ خود وقت کی ایک بند کھڑکی بن چکی تھی۔ یہ یونیورسٹی جو کبھی دیبل کے تاریخی شہر کی جان ہوا کرتی تھی ہنوز سمندر کنارے ایک خاموش گواہ کی صورت باقی تھی۔ یہیں سے میر بحر پرانے جہاز رانی کے ماہر بابل میسوپوٹیمیا یونان اور روم تک

Read more

مقبولیت یا منڈی کا مال

پاکستانی سیاست میں اگر کوئی شے مستقل رہی ہے تو وہ ہے غیر مستقل مزاجی۔ بیانیے آتے ہیں، جلسے جاتے ہیں، اتحاد بنتے ہیں، اپوزیشن بکھرتی ہے، مگر جو شے ہر موسم میں پکی فصل کی طرح اگتی ہے، وہ ہے ”عمران خان“ ۔ سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر گزرا ہو جس کے حامیوں اور مخالفوں نے اسے اتنا ”بیچا“ ہو۔ جی ہاں، بیچا، جیسے کوئی مارکیٹ پراڈکٹ ہو۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، سوشل میڈیا کے

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (دوسرا حصہ)

فلسطین سے محبت کی سرشاری میں جب ناول میں اس دھرتی کے شعرا کا ذکر آیا، تب بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں ان نظموں کا مطالعہ کروں جو ان جری شعرا  نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس مٹی کی محبت میں اپنا قلم دکھ، درد اور رائیگانی کی سوز بھری روشنائی میں ڈبو کر، محبت سے رقم کیں۔ جن شعرا نے اپنی شاعری میں ابتدا ہی سے عرب اسرائیل تنازعے کو بیان کیا، ان میں نزار

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد: ایک مسیحا، ایک مجاہدہ

جب بھی علم و خدمت اور مزاحمت کے امتزاج کی کوئی مثال درکار ہو، جب بھی عورت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہو اور جب بھی استقامت ہمدردی اور پیشہ ورانہ شرافت کا نام لیا جائے تو ایک عورت کی شخصیت روشن ستارے کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہے۔ وہ نام محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے لمحہ لمحہ عبارت ہے۔ 21 ستمبر 1950 کو پنجاب

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول: (9)

”ارے میرے اللہ! یہ کیسی مصیبت ہے کہ میں اسے اب دیکھ بھی نہیں سکتا۔ جس کے دیدار کے لئے میں یہاں آیا ہوں، پورے دس کوس کا فاصلہ طے کر کے۔ یہ ہاتھ ابھی تک سرخ ہیں، ان پر چھالے سے پڑ گئے ہیں۔ دس میل نوکا جو مجھے چلانا پڑا۔ میں اسے یہ سب کچھ کیسے بتاؤں میرے تو چاروں طرف انسانوں کا ہجوم ہے۔ جی چاہتا ہے اسے دھکیل کر اس تک جا پہنچوں۔“ ”ارے دادو میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 43 : لرزاں قدم

”خدا کا وعدہ ہے : میں تجھے ہرگز نہ چھوڑوں گا اور نہ کبھی ترک کروں گا۔ چنانچہ ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں : خداوند میرا مددگار ہے، میں نہیں ڈروں گا۔ انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟“ عبرانیوں 13 : 5۔ 6 ڈئیر عادل، سلام اور خداوند یسوع مسیح میں محبت کے ساتھ، تمھارا خط دوستی کی اُس راہ سے آیا ہے جس پر برسوں کی رفاقت کے نشان ثبت ہیں۔ بچپن سے لے کر آج تک، ہم

Read more

فرخ یار کا عشق نامہ

خلقت کے اجتماعی حافظے اور اس کے تخیل کی حیران کن کرشمہ سازیوں (یا کارستانیوں؟) نے جہاں گزشتہ کئی صدیوں سے شاہ حسین اور میلہ چراغاں کی رنگا رنگی کو لازم و ملزوم کر رکھا ہے وہاں شاہ حسین کی تصویر بھی بہت کچھ بدل دی ہے۔ سوال ہے کیا شاہ حسین واقعی یہی کچھ تھے : تکالیفِ شرعی سے آزاد بلکہ ان کی تضحیک و تحقیر کرنے والے، افعال شنیعہ میں مبتلا، مے نوش و امرد پرست و ہر

Read more

جاوید اقبال اعوان سے آخری ملاقات

لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل کو ہوئی۔ تقریب سے

Read more

میرے والد، پروفیسر محمد سلیم سندھو – کچھ یادیں کچھ باتیں

وطن عزیز کی خاطر اس پار سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ نہ صرف اسلاف کا صدیوں میں بننے والا اثاثہ وہاں چھوڑ آئے بلکہ یہاں آ کر تعمیر نو کے مرحلہ سے بھی دوچار ہوئے۔ میرے والد جناب محمد سلیم سندھو صاحب جولائی 1953 کو ایسے ہی ایک گھرانے میں پیدا ہوئے جو 1947 میں جموں شہر کے محلہ پیر مٹھا سے ہجرت کر کے براستہ سیالکوٹ۔ کوٹلی لوہاراں ڈسکہ شہر میں آباد ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے

Read more

اللہ میاں کے گھر

پاکستان میں اردو پڑھنے اور بولنے والوں کے لئے اشرف شاد کا نام اب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جہاں انھوں نے ناول نگاری کو ایک نئی جہت دی یعنی پاکستانی سیاست، صحافت، صدارت، وزارت سمیت عدالت جیسے موضوعات کو ناولوں کی شکل میں ڈھالا۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان موضوعات سے جڑے کرداروں کو جو زبان دی اور جس انداز میں انھیں گھمایا پھرایا وہ کردار آج بھی بالکل گھڑی کی سوئی

Read more

برین ڈرین: کہیں ہمارے پاس صرف خواب ہی نہ رہ جائیں

پاکستان میں آج کل سب سے زیادہ بحث جس موضوع پر ہو رہی ہے، وہ ہے نوجوانوں کا بیرون ملک جانا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ صرف نوکری کی تلاش نہیں، بلکہ ایک خاموش سانحہ ہے جو ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے؟ گزشتہ سال 2024 میں پاکستان سے تقریباً 8 لاکھ افراد نے ہجرت کی، جن میں سے اکثریت تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے

Read more

ن م راشد اور کالا جادو

ہمارے استادِ محترم علم و ادب کی کہکشاں کے وہ روشن ستارے ہیں جن کے دامنِ فکر سے فصاحت و بلاغت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ ان کی صحبت میں بیٹھنا گویا الفاظ کی بزم میں شریک ہونا ہے۔ ان کی گفتگو ایسی خوشبو ہے جو سننے والے کے ذہن و دل کو معطر کر دیتی ہے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی کی دبیز تہہ تو ضرور ہے، مگر اس تہہ کے نیچے مزاح کی چمکدار لکیر بھی چھپی ہوتی ہے،

Read more

مختار صدیقی کی نظم ”ٹھٹھہ“ ایک مطالعہ

مختار صدیقی نے نظم ”ٹھٹھہ“ میں دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے : ایک تو آباد تہذیبوں کے ویران ہونے کا نوحہ اور دوسرا بابِ فنا یعنی موت کا ذکر۔ اور ان دونوں موضوعات کو مختار صدیقی کے ہاں بنیادی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاں مناظر فطرت کی عکاسی بھی بھر پور انداز سے نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”جہلم کا بہتا پانی“ عمدہ مثال ہے۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ زندگی کی

Read more

تھی خبر گرم کہ اُڑیں گے ہمارے پُرزے

ہم نے بچپن سے زندگی کچھ ایسی نٹ کھٹ سی گزاری تھی کہ نہ کبھی شادی کا خیال آیا اور نہ ہی بچے کا شوق پالا۔ بلکہ صاف پوچھیے تو ہمیں بچے بالکل اچھے نہیں لگتے تھے (یہ بات ہمارے بچے بھی جانتے ہیں ) ۔ جونہی کسی کا بچہ رونا دھونا شروع کرتا ہماری پیشانی پہ بل پڑ جاتے، گو مُوت کے آثار دیکھ کر ہم چھی چھی کرتے ہوئے ناک آنکھیں بند کر لیتے، ممکن ہوتا تو جائے

Read more

شناخت کے دھاگے، قوم کے ستون: سندھ کی لازوال میراث

اجرک کے شوخ رنگ اور سندھی ٹوپی کی پیچیدہ دست کاری محض روایتی لباس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ وادی سندھ کی تہذیب کی جیتی جاگتی تاریخ ہیں، ایک ایسی شناخت سے ٹھوس روابط جو اس سرزمین پر ہزاروں سالوں سے پروان چڑھی ہے۔ یہ علامات، جو سندھ کی مقامی ہیں اور بلوچستان نیز جنوبی پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں بھی (مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کے امتزاج کے ساتھ) قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، ایک ایسے ثقافتی

Read more

ستارہ رقص میں ہے

مونا شہاب کی شاعری کا تیسرا مجموعہ دیکھا؛ کتاب کا نام ”ستارہ رقص میں ہے“ پڑھتے ہی عشرت آفریں کی ایک نظم ”فرصت“ کی طرف دھیان چلا گیا۔ اس نظم میں وہ کہتی ہیں : ”میں خود پر منکشف ہونے کی ساعت میں کسی گل رنگ فرصت میں تمہیں جب یاد کرتی ہوں مرے چاروں طرف جیسے ستارے رقص کرتے ہیں زمانوں سے زمانوں تک جہانوں سے جہانوں تک محبت کے ہزاروں استعارے رقص کرتے ہیں پرندے تتلیاں اور پھول

Read more

جنگیں: تباہی، بھوک اور بے حسی کا کاروبار

دنیا کے نقشے پر ہر نئی جنگ، صرف ایک اور لڑائی نہیں ہوتی۔ یہ انسانی المیوں، ٹوٹتے خوابوں اور بڑھتی بھوک کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جنگ صرف فوجی محاذ پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ گھروں، سکولوں، اسپتالوں اور بازاروں میں بھی اس کے زخم محسوس کیے جاتے ہیں۔ جب گولیاں چلتی ہیں اور بم گرتے ہیں، تو صرف فوجی نہیں مرتے بلکہ ان گنت بے گناہ شہری، معصوم بچے، اور مائیں بھی لقمۂ اجل بن جاتی ہیں۔ یہ خون،

Read more

تخلیقی اقلیت کے بارے میں مکالمہ

16 مئی 2025 ء محترم و مکرم جناب ڈاکٹر خالد سہیل! مجھے اُمید ہے کہ آپ بخیریت اور ہمیشہ کی طرح اپنی گرین زون زندگی کے مزے لے رہے ہوں گے۔ مجھے اکثر اوقات آپ کی زندگی پر رشک بھی آتا ہے۔ اس کی وجہ اگلی سطور میں خود بخود واضح ہو جائے گی۔ پیارے ڈاکٹر صاحب! ہم دونوں کو مبارک ہو کہ ہماری مشترکہ کتاب : ”تخلیقی اقلیت“ گزشتہ ماہ پاکستان میں شائع ہو کر کینیڈا پہنچ چکی ہے۔

Read more

خواب، محبت اور زندگی 25

اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر

Read more

قید زَر کی کہانی

سارے دن کے معمولات سے فارغ ہو کر دفتر میں چائے پی رہا تھا کہ کلرک نے آ کر کسی مہمان کی آمد کی اطلاع دی میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نقاب اوڑھے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک نوعمر لڑکی میرے دفتر داخل ہوئی جس کے ساتھ دیگر دو افراد تھے۔ کبھی کبھی فضاؤں میں گھُلی خاموشی بھی چیخ بن جاتی ہے اور سسکیاں وقت کی گرد میں دب کر صداؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ

Read more

آپریشن بنیان مرصوص

10 مئی 2025 ء کو پاکستانی افواج نے ایک ایسی کارروائی کا آغاز کیا جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا کے جغرافیائی و سیاسی منظر نامے کو بدل دیا بلکہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک ناقابل فراموش باب رقم کیا۔ آپریشن بنیان مرصوص، جس کا نام قرآنی آیت سے ماخوذ ہے، ایک عسکری حکمت عملی سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ پاکستانی قوم کی غیر متزلزل استقامت، ایمانی جذبے اور قومی اتحاد کا مظہر بن گیا۔ سورۃ الصف کی

Read more

جمہوریت کیسے مرتی ہے؟

ریاست کے طاقتور بیانیے سے چار ہاتھ آگے نکل کے فرمان امروز کو بار بار دہرانے والے خوفزدہ نفسیات کے مریض اور ذاتی عزائم کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان کی لغت بدلتے موسموں کے تابع ہوتی ہے۔ ان کی یادداشت کا دورانیہ ذاتی مفادات کی نسبت سے بڑھتا گھٹتا رہتا ہے۔ انہیں پاسٹر ناک ، سخاروف ، کنڈیرا ، رابرٹ فسک اور ایڈورڈ سعید کے حوالے دینے کا شوق ہوتا ہے۔ اپنے وطن سے حقیقی محبت بلند آہنگ نعروں کی

Read more

کینیڈا کی مالٹن ویمن کونسل اور مہاجر خواتین کے نفسیاتی مسائل

کینیڈا میں عورتوں کی کامیابی اور خوشحالی، آزادی و خودمختاری کو فروغ دینے والے ادارے مالٹن ویمن کونسل نے اپنے تئیس مئی دو ہزار پچیس کے سیمینار میں مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کروں کیونکہ میں نے پچھلے دو سال ان کے ادارے کی نفسیاتی مسائل کا شکار مہاجر خواتین کا علاج کیا تھا اور ان کی مدد کی تھی۔ میں اپنے اس کالم میں اپنی تقریر

Read more

برصغیر کے دریا: چین بھی کھیل کا حصہ ہے

انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیر اہتمام بر صغیر میں حالیہ پاک انڈیا جنگ کے بعد سلگتے مسائل میں سے پانی جیسے اہم ترین مسئلہ پر جو بہت کچھ سلگا سکتا ہے سیمینار کا اہتمام کروایا۔ وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو، سابق صوبائی وزیر آب پاشی محسن لغاری، مجیب الرحمن شامی، سہیل وڑائچ، جاوید فاروقی، ذوالفقار مہتو، یاسر حبیب آبی ماہر چوہدری شفیق، سابق انڈس واٹر کمشنرز شیراز جمیل، آصف بیگ اور دیگر ماہرین نے شرکت

Read more

’گولی‘ میں دم ہوتا تو مودی الفاظ کے نشتر نہ چلاتے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی پُراشتعال، انسانیت سوز اور کسی بھی بڑے لیڈر کے مرتبے و مقام سے گری ہوئی تقریر کی ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو تشدد پر اکسایا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ، ورنہ میری گولی تو ہے ہی‘۔ یہ ہتک آمیز اور سفارتی آداب سے گری ہوئی باتیں، ایک ایسے موقع پر کی جا رہی ہیں جب

Read more

جھوٹی عظمت کا جشن: شعور سے عاری ایک قوم کا نوحہ

علم و فن، آگہی، شعور، تعلیم اور تحقیق سے بے نیاز ایک ایسی قوم اس دھرتی پر وجود رکھتی ہے جو ان تمام خوبیوں سے محرومی کے باوجود اپنے وجود پر فخر کرتی ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک ٹیڈ ٹاک سنی جس میں بتایا گیا کہ سائنسی تجربات کی روشنی میں معاشی طور پر مضبوط طبقہ غریب افراد کی نسبت بہتر دانشورانہ صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں شاید اس تجربے کا نتیجہ مختلف نکلتا۔ یہاں الٹی

Read more

بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ جیتنے کی قیمت بھگتنے کو تیار رہیں

جنگ جیت کربھی اقتصادی اعتبار سے اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ سالانہ بجٹ کی طرف بڑھتے ہوئے پاکستان ان دنوں مذکورہ بالا حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ سچ کو ملفوف انداز میں بیان کرنے کا عادی ہوا ذہن مگر اس کا ذکر کرنے سے گھبرا رہا ہے۔ خدشہ لاحق ہے کہ اس جنگ کی بدولت رونما  ہوئے اقتصادی سوالات کا ذکر کرتے ہوئے جو 6 مئی کی رات سے 10 مئی کی سہ پہر تک جاری رہی

Read more

رضی الدین رضی کی کہانی میری زبانی

ملتان آرٹس کونسل کے روح رواں محترم سلیم قیصر نے محترم شیخ رضی الدین رضی کی عمر رواں کے 60 سال مکمل ہونے پر ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ علم و ادب کی مہان ہستیوں، اساتذہ، ادیبوں، صحافیوں اور مداحوں نے شرکت کر کے تقریب کو گل و گلزار بنایا۔ یہ سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ ایسی تقریبات ہزاروں، لاکھوں نظروں سے گزرتی ہیں۔ ”شام دوستاں آباد“ نے اس کہکشاں میں اس

Read more

عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا

عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ وہ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک، زندگی کے ہر موڑ پر، ہر لمح، ہر موسم میں صرف ایک ہی تمنا کے ساتھ جیتی ہے کہ کاش کبھی اس کا بھی کوئی گھر ہو۔ لیکن بدقسمتی سے، اس کی یہ خواہش محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ بچپن میں جب وہ ابھی کھیلنے کودنے کی عمر میں ہوتی ہے تب ہی اس کے کانوں میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ

Read more

نیتوں کے رشتے اور خاموش دیواریں

ہمارے ہاں جب کوئی شادی یا غمی کا موقع ہوتا تو سب سے پہلے ابا جی کہتے کہ چاند خان کو اطلاع دو۔ چاند خان بھی ہمیشہ تقریب کا روح رواں بن جاتا تھا۔ بوڑھے چاند خان کے سفید بالوں کے باوجود ہمارا رشتہ بھائی کا بنتا تھا۔ اس لیے کہ بھائی چاند خان ابا جی کو چچا کہتے تھے۔ وہ گھر میں خواتین بچوں اور نوجوانوں میں سب سے زیادہ مقبول اور ہردل عزیز سمجھے جاتے تھے۔ جب بھی

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 17 )

  زندگی میں جب ہم کوئی مقام حاصل کرتے ہیں تو اس میں بہت سے لوگوں کی دعائیں اور کوششیں شامل ہوتی پیں۔ والدین، اساتذہ، دوست اور بہت سے ایسے لوگ جن کا کوئی نام اور چہرہ نہیں ہوتا مگر جو اس سفر میں ہماری مدد کرتے ہیں ان سب کو یاد رکھنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بھی اسی طرح لوگوں کے کام آئیں اور ان کو منزل تک پہنچنے میں مدد کریں۔ پرما جب تم راتوں

Read more

فتنہ الخوارج سے فتنہ الہندوستان تک

فتنہ الخوارج کے بعد فتنہ الہندوستان کی دریافت سے افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک نئے ایجنڈے اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ چند روز پہلے بھارتی جارحیت کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستانی ریاست نے دفاعی پوزیشن سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے۔ ایک طرف ملک میں دہشت گردی میں ملوث تمام بھارتی پراکسیز کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری طرف بظاہر بنیادی حقوق کی مہم چلانے والے گروہوں کو مشکوک

Read more

سفر حج۔ حصہ سوئم

میں اس وقت مدینے میں ہوں اور اپنے حج کے سفر کا تیسرا حصہ لکھ رہا ہوں۔ پہلے حصے میں بلاوا، دوسرے میں دوستوں کا پیار اور اب دوست، احباب کے پیغامات اور محبتیں سمیٹتے جہاز کے منتظر تھے جہاں 3 فلائٹیں یکے بعد دیگرے نکلنی تھیں جدہ کی فلائیٹ پی آئی اے کی تھی اور فلائیٹ 10 بجے نکلنی تھی اور مسافروں کو شام 4 بجے سے ائر پورٹ بلوایا ہوا تھا جو احرام باندھ کر آئے تھے ان

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔( 7)

پانی میں کوئی کوس بھر کا پینڈا مارنے کے بعد جب وہ احتشام چاچا کی باشا پر پہنچے وہاں مستفیض بھیا کے دوستوں اور ملاقاتیوں میں الیکشن اور مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑنے والے سبھی امیدوار زیر بحث تھے۔ مستفیض کے وجود سے پھوٹتی محبت اور خلوص کی روشنی میں پور پور نہانے کے بعد سب لڑکے مؤدب ہو کر بیٹھ گئے۔ مستفیض کی سیاہ آنکھیں چمکیں جب اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ تم سب دن رات

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

ایک زمانہ گزر گیا مگر میری دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس ملائم ڈھلکتے کپڑے کا لمس ابھی تک زائل نہیں ہوا جس کا تانا ایک رنگ کے ریشم کا تھا اور بانا دوسرے رنگ کے دھاگے کا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو تانے بانے میں ایک تند کتھئی سی تھی اور دوسری بادامی۔ بچپن میں رنگوں کی اتنی پہچان تو نہ تھی، یہ تو اب پیچھے کہیں دور جیسے مجھے نظر آتے ہیں ویسے رنگوں کے

Read more

برازیلین قصائی کا چترالی گاہک

ایک شخص جب دکان کھولتا ہے، اپنے گاہکوں کو متاثر کرنے کے لیے دکان کی آرائش کرتا ہے اور گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف اسکیمیں نکالتا ہے تاکہ کاروبار منافع بخش ہو، اور دکان کو بڑھانے کے لیے کوششیں کرتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی ادارے بھی اس شہری کو مالی اور تکنیکی طور پر مدد فراہم کرتے ہیں عرب ممالک میں دنیا کے مختلف ممالک سے گوشت آتا ہے جن میں بھارت، پاکستان اور برازیل

Read more

جنگ ذہنوں میں شروع ہوتی ہے

جنگیں توپوں اور بندوقوں سے شروع نہیں ہوتیں، یہ انسانی ذہنوں میں جنم لیتی ہیں۔ نفرت، تعصب، غصہ، ضد اور انتقام جیسے جذبات جب کسی فرد کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں، تو وہ فرد محض ایک شخص نہیں رہتا، بلکہ ایک رویہ بن جاتا ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ایسی سوچ نہ صرف ایک انسان کے اندر بے چینی پیدا کرتی ہے، بلکہ اس کے اطراف کے ماحول کو بھی

Read more

راجہ گدھ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ

بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اُردو کے ان چند ناولوں میں سے ایک ہے جن پر تنقید بھی کی گئی اور اس کے ساتھ اُسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ لیکن اسے محدود معنوں میں لیا گیا۔ کہیں اسے رزق حلال و حرام کی بحث قرار دیا گیا تو کہیں اسے ناکام محبت کی داستان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں موضوع اس میں موجود ہیں۔ لیکن اگر

Read more

لفظوں کی موت

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ فنا ہو جاتی ہے۔ مگر لفظ کی موت ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات کا دائرہ کار وسیع ہے۔ لفظوں کی موت سے زبان بھی آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ لیکن لفظوں کی موت کیسے واقع ہوتی ہے چلیں میں آپ کو ایک قصے سے سمجھاتی ہوں۔ ایک دن میں نے اپنے طالب علم کو اسلامیات کا سوال یاد کرنے

Read more

پرانی یادیں: اسکول میں داخلہ

میرے والد محکمہ موسمیات میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس محکمے میں لوگوں کا ایک یا دو سال ایک جگہ گزارنے کے بعد کافی باقاعدگی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جب 1957 میں ان کی پوسٹنگ کراچی میں تھی تو انہیں پشاور جانے کے لیے تبادلے کے احکامات ملے۔ پشاور میں انہوں نے محکمہ موسمیات سے وابستہ جس آفس کو جوائن کیا اس کا نام Upper Atmospheric Research Station (UARS) تھا۔ اگرچہ یہ دفتر

Read more

ڈاکٹر سنتوش کامرانی کا طلبا و اساتذہ کے لیے قیمتی ادبی تحفہ

ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر سنتوش کامرانی ڈاکٹر سنتوش کامرانی سے میرا تعارف کووڈ کی وبا کے دنوں میں ہوا جب ہم زوم پر گرین زون فلسفے کے سیمینار منعقد کر رہے تھے۔ میں شروع سے ہی ان کی قابلیت اور شخصیت سے متاثر تھا۔ دھیرے دھیرے وہ میرے دوست بن گئے۔ جب میں نے ان کے کالم ’ہم سب‘ پر پڑھے تو ان کی شخصیت کے ساتھ ان کی علمیت سے بھی متاثر ہونے لگا اور پھر ایک دن مجھے

Read more

فیلڈ مارشل

فوجی دنیا میں فیلڈ مارشل کا لقب محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ یہ قیادت، شجاعت، بصیرت اور حکمت عملی کا ایک ایسا بلند و بالا مینار ہے جو فوجی تاریخ کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح جگمگاتا ہے۔ فیلڈ مارشل کی اصطلاح کا آغاز قرون وسطیٰ کے یورپی درباروں سے ہوا، جہاں مارشل کا مطلب ابتدا میں شاہی لشکر کا منتظم ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، یہ عہدہ فوجی سربراہی کی علامت بن گیا اور کئی ممالک

Read more

خواب، محبت اور زندگی 24

لاہور واپسی لاہور میں ہم نے کرشن نگر کی ایک نو تعمیر شدہ عمارت میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا۔ یہ ایک اچھا کشادہ فلیٹ تھا۔ امی کے زیادہ تر رشتہ دار لاہور میں مقیم تھے۔ ان میں سے زیادہ تر پارٹیشن کے وقت امرتسر سے آ کر لاہور کی گوالمنڈی میں رہنے لگے تھے۔ جب کہ چند گلبرگ میں رہ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ امی کے ساتھ ہم خالہ کے دیور ہمایوں صادق کے گھر

Read more

پاک فوج ریاست کا حصّہ یا ریاست؟

پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد آرمی چیف عاصم منیر ایوب خان کے بعد فیلڈ مارشل کا خطاب حاصل کرنے والے دوسرے آرمی چیف ہیں۔ جنگ کے بعد بلاشبہ پاک فوج نے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لیا۔ جو کہانیاں 1965 کی جنگ کے متعلق ہم اپنے بزرگوں سے سنتے تھے اس کی ایک جھلک ایک مرتبہ پھر دیکھنے کو ملی۔ پاک فضائیہ کے جو کارنامے 65 کی جنگ میں سننے کو ملتے تھے آج پھر

Read more

دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ

  3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر

Read more

سموکنگ۔ راحتِ جاں یا عذابِ جاں

عالمی ادارۂ صحت ایک عرصے سے ٹوبیکو کنٹرول یعنی تمباکو پہ قابو پانے کی کوششوں میں سر گرداں ہے۔ اس کارِ خیر میں اس کے شریکِ کار دنیا کے 194 ممالک بھی ہیں جن کا مالی تعاون اور مدد اسے حاصل ہے۔ اب کچھ عرصے سے بعض ادارے، تنظیمیں، اور افراد عالمی ادارۂ صحت سے بھی چار قدم آگے بڑھتے ہوئے ’اینڈ سموکنگ‘ یعنی سگریٹ کے مکمل خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ سگریٹ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 42 : تسکینِ تلاطم

”بہتیرے کہتے ہیں کہ کون ہم کو کچھ بھلا دکھائے گا؟ اَے خداوند! تُو اپنی رُوشنی ہمارے اُوپر ظاہر کر۔ تُو نے میرے دل میں وہ خوشی بخشی ہے جو اُن کو اُن کے اناج اور مَے کی فراوانی کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ میں امن سے لیٹوں گا اور سو جاؤں گا، کیوں کہ، اَے خداوند، تُو ہی مجھے اکیلا، سلامتی سے بسنے دیتا ہے۔“ زبور 4 : 6۔ 8 ڈئیر شاہد، بھئی سب سے پہلے تو میں تمہارا

Read more

تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

ایوب خان کا دور، جو اکثر سنہری دور کہلایا جاتا ہے، اتنا چمک دار تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ملک میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا ایسا شور تھا کہ اگر کسی نے رات کو آنکھ کھولی تو لگا جیسے کوئی نیا صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ سڑکیں، ڈیم، صنعتیں اور وہ مشہور و معروف ”ترقی“ جو صرف چند خاص علاقوں اور خاص طبقات تک محدود تھی۔ سب ایوب خان کی حکومت کے چمکتے دمکتے کارنامے تھے۔

Read more

ہم بھارت سے نہیں جیت سکتے

پاک بھارت جنگ کی اصل کہانی یہ ہے۔ اس بار افواج پاکستان نے وطن عزیز کی محبت اور اسلام کی سربلندی کے نظریے کو فوقیت دیتے ہوئے بھارت کو سبق سکھانے کا حتمی فیصلہ کیا۔ جہاد کے حقیقی جذبے سے سرشار اور شوق شہادت کو پورا کرنے کی غرض سے بہادر پاکستانی فوجیوں اور مجاہدین نے بہت خفیہ تیاری کے بعد جس کی بھنک بھی بھارتی جاسوس ایجنسیوں کو نہیں پڑ سکی تھی، بھارت پر کشمیر کے راستے بھرپور حملہ

Read more

خاموش الزام، بے آواز سچائی

میری عدالت میں پیشی تھی۔ موسم کی خنکی میں کچھ خاص شدت نہ تھی، مگر دلوں میں کچھ ایسا ضرور تھا جو سرد مہری کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ میں اس دن عدالت میں بچوں کے نان و نفقہ کا مقدمہ دیکھ رہا تھا۔ یہ غالباً سنہ 2020 اوائل میں پاکستان میں کورونا کے باعث لاک ڈاؤن سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں ان دنوں فیملی کیسز بہت ہی کم لیتا تھا مگر ایک وکیل دوست کے اصرار

Read more

خواب، محبت اور زندگی (23)

ابی کے اسپتال میں داخلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے۔ کراچی میں ہماری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں تھا۔ ابی خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ظاہر ہے یہ بات ان کے لئے سوہان روح تھی۔ انہیں یہی فکر ستاتی رہتی تھی کہ ہمارا گزارا کیسے ہو گا۔ اس لئے کچھ عرصہ بعد وہ موقع پاتے ہی ہسپتال سے فرار ہو کر گھر آ گئے اور اخبار میں

Read more

آزادی کا امتحان: کیا انسان محبت چنتا ہے یا ظلم؟ رِدم زیرو کی گواہی

انسانی فطرت، ایک گہری اور پراسرار سمندر کی مانند، صدیوں سے فلسفیوں، شاعروں، اور سائنسدانوں کو اپنی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کی دعوت دیتی رہی ہے۔ اس سمندر کی سب سے بڑی موج، سب سے بڑا سوال شاید یہ ہے کہ  اگر انسان کو مکمل آزادی، مطلق اختیار کی کشتی سونپ دی جائے تو اس کا رخ کس ساحل کی طرف ہو گا؟ کیا وہ محبت، ہمدردی اور تخلیق کے جزیروں پر لنگر انداز ہو گا، یا ظلم، بربریت

Read more

انسانی خواہشات: ایک نہ ختم ہونے والا سفر

(غالب کے ایک شعر کی روشنی میں ایک فکری جائزہ) ”گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے ”۔ غالب غالب کا یہ شہرہ آفاق شعر محض ایک کمزور جسم کے اندر موجود خواہش کا اظہار نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی ایک نہایت گہری تصویر ہے۔ اس میں زندگی، موت، لذت، اور خواہش کا وہ کھیل بیان کیا گیا ہے جو صدیوں سے انسان کے ساتھ چلتا آ رہا ہے۔

Read more

مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں (5)

بیٹا  اور بہو میرے ساتھ تھے اور وہ ہر طرح سے میری خبر گیری کر رہے تھے مجھے جو کچھ کھانے کو دیتے وہ چیز مجھ سے کھائی ہی نہیں جاتی۔ خدا خدا کر کے وہ رات گزری۔ رات بھاری سہی کٹے گی ضرور دن کڑا تھا مگر گزر کے رہا دوسرے دن پھر وہی  ایکسرے، وہی سارے مراحل جن  سے پہلے گزر چکی تھی۔ ان ساری تکالیف کو برداشت کیا، نرس نے شام سے پہلے آ کر پٹیاں تبدیل

Read more

دا کائٹ رنر موضوعاتی مطالعہ : پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں (حصہ اول)

  1۔ تعارف اور کہانی کا مختصر خلاصہ دا کائٹ رنر (The Kite Runner)  اس صدی کا مشہور انگریزی ناول ہے جسے افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی نے تحریر کیا۔ یہ ان کا ڈیبیو ناول تھا جو 2003 میں شائع ہوا اور فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ناول افغانستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، سماجی عدم مساوات، دوستی، غداری، ندامت اور کفارے جیسے موضوعات کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی کابل کی پرانی خوبصورتی سے

Read more

وہ پاکستانی جس نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کو عام کرنے کے جرم میں 33 سال جیلوں میں گزارے

باچا خان ایک غدار یا عوام دوست؟ لڑکپن سے ہی میں ان کے بارے میں بہت سی منفی باتیں پڑھتا یا سنتا رہا ہوں۔ لیکن کافی عرصہ پہلے میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ جو کچھ بھی سنوں یا پڑھوں، اسے سو فیصد سچ اور حقیقت تسلیم نہ کروں، بلکہ اس میں شک کی گنجائش رکھوں اور خود اس پر تحقیق کروں۔ باچا خان کے بارے میں سچ کی تلاش میری مسلسل کوشش تھی کہ اتفاقاً الجزیرہ چینل

Read more

اب بیری کے درختوں پر پتھر کیوں نہیں آتے؟

مشہور کہاوت ہے کہ جس گھر میں بیری ہو وہاں پتھر تو ضرور آتے ہیں۔ یہ فقرہ عموماً تو ہر اس گھر کے لیے بولا جاتا ہے جس گھر میں کوئی بھی پھل دار درخت لگا ہو کیونکہ بچے درخت پر لگے پھل کبھی برداشت نہیں کرتے تھے اور پتھر مار کر توڑنا چاہتے تھے۔ خصوصاً یہ اس وقت بھی بولتے ہیں جب لڑکی کی شادی کے لیے پیام جگہ جگہ سے آئیں۔ ایک زمانہ تھا جب گھر کچے ہوتے

Read more

پاکستان یوتھ لیگ والنٹیر فورم کا آنکھوں دیکھا حال

  تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تنظیموں نے معاشرے کی زبوں حالی کی نبض دیکھ کر انسانیت کے درد کو محسوس کیا ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا  کہ بات مشرق کی ہو یا مغرب کی۔ سبھی انسانوں کے اندر ایک جیسا جسم، اعضاء اور اخلاقی اقدار موجود ہیں۔ اگرچہ ہمارے نظریات اور عقائد تو فرق فرق ہو سکتے ہیں۔ لیکن انسانیت کا ایک ہی پہاڑا ہے جو  ہر براعظم کے اندر پڑھا جاتا ہے۔ اسے

Read more

آپریشن بنیان المرصوص، پاکستان آرمی اور چند نادان

  پاکستان کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھا جا رہا تھا۔ ابھینندن گرا تھا تو کہا گیا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس سسرا ”راپھیلوا“ نہیں تھا۔ یہ تصور کر لیا گیا تھا کہ رافیل اور S۔ 400 کی موجودگی میں پاکستان ”چُسکے“ گا بھی نہیں۔ دشمن کی معیشت، دفاعی بجٹ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی اس کے غرور کو بڑھاوا دے رہے تھے۔ قصہ مختصر وہ اس خطے کا چودھری بننا چاہتا تھا۔ انکل سام بھی چین

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 16 )

  ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر ہو وہ اسے سجائے سنوارے اور اس میں خوش رہے۔ مکان کو گھر بنانا اصل بات ہے مکان گھر اس وقت بنتا ہے جب وہاں رہنے والے ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں ایک دوسرے کی فکر کرتے ہوں اور ہر خوشی اور غمی میں ساتھ کھڑے رہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی تلاش کرنا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔ کسی

Read more

جنگ اور اداسی کے دن

گرمی کی رت میں یہ املتاس کے درختوں پر پیلے پھول کھلنے کے دن ہیں۔ چند روز قبل جب گلِ موہر کی سرخ بہار اپنے جوبن پر تھی، تب ہم نے سرحد کی دونوں اطراف جنم لینے والی جنگی کشیدگی کے سبب تشویش، خطروں اور پھر اندیشوں میں گھرے وہ دن بھی دیکھے کہ جن کا ذکر اب تک تاریخ کی کتب یا ادب کے فن پاروں میں پڑھتے آئے تھے، اور پھر جب سیز فائر کے نقارے پر سکون

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (5)

اس گھر میں پچھلے چند دنوں سے عجیب سا شور تھا۔ گھر کا معمر ترین فرد دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ گھنٹے ہر چھوٹے بڑے کو یہ سمجھانے میں صرف کر رہا تھا کہ اس نامعقول لڑکی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ لاڈ و پیار نے اس کا ستیاناس کر ڈالا ہے۔ وہ جوان ہے اور یوں ایک جوان لڑکی کا ہزار میل دور پڑھنے کے لئے جانے کی ضد کرنا قطعی احمقانہ بات ہے۔ اور

Read more

اردو ادب کے معروف محقق

اردو ادب کے معروف محقق، نقاد، فکشن نگار اور شاعر شمس الرحمٰن فاروقی اُردو ادب میں اپنی پہچان آپ ہیں۔ ان کی تخلیقات کی بات کی جائے تو بیک وقت شاعری، لغت نویسی، فکشن، تنقید اور ترجمہ جیسے کئی فنوں پر ان کی کئی کتب ملتی ہیں جن میں اُردو ادب کا معروف ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ مختصر ناول ”قبض زماں“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”سوار اور دوسرے افسانے“ شامل ہیں۔ تنقید کے میدان میں ان کا سب

Read more

جنگ کا شوق اور طوفاں سے آشنائی

پاک و ہند کے درمیان حالیہ چار روزہ جنگ 10 مئی کو بند ہو گئی۔ یہ جنگ یک دم کیوں ختم ہو گئی؟ اس بارے میں تجزیہ کار حلقوں میں تین آراء گردش کر رہی ہیں : پہلی رائے یہ ہے کہ امریکہ بہادر اس وقت تک جنگ میں نہیں کُودا تھا جب تک ہندوستان، پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگا کر دھمکیاں دے رہا تھا۔ پھر ہندوستان نے پاکستان پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔

Read more

جاپان کا تاج محل: اور چاروں اور چیری بلازم کھل اُٹھے (2)

آخرکار وہ صبح بھی آ گئی جس کا اتنے عرصے سے انتظار تھا اور اس صبح جو نظارہ میں دیکھ رہا تھا وہ حیران کن تھا۔ روایتی جاپانی کمونو میں ملبوس خواتین، انگلش سکرٹ زیب تن کیے ہاتھوں میں نیلے، پیلے، سرخ رنگ کی چھتریاں لئے اس مارچ میں شامل تھیں۔ سامورائے کے جنگلی اور جنگی لباس میں جاپانی مرد ٹریکٹروں پر سوار تھے۔ سرخ اور پھول دار کمونو پہنے رقص کرتی ہوئی خواتین جلوہ افروز تھیں۔ اس کے علاوہ

Read more