تعلیم، سیاست اور محرومی

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا دروازہ کھولنے والی کنجی ہے، لیکن پاکستان میں یہ کنجی زنگ آلود ہو چکی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہے، جہاں خوابوں کی فصل ہر گلی، ہر محلے میں اگتی ہے، وہاں تعلیم کی زبوں حالی کسی المیے سے کم نہیں۔ حکومتیں آتی ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، پالیسیاں بنتی ہیں، مگر زمینی حقیقت یہی رہتی ہے کہ لاکھوں بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں، اور جو اسکول جاتے

Read more

عصمت چغتائی کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت! پانچویں قسط

سوچیں! اگر یہ بچی بڑی ہو کر ویسی شمن نہ بنتی تو کیا بنتی؟ بچپن سے سب کی ڈانٹ پھٹکار سمیٹتی، نوکروں کے رحم وکرم پر پلتی، پیار کے دو شبد بھی جس کو مشکل سے میسر آتے۔ غصے، تنہائی، بے بسی، بے چارگی کی آگ میں جلتی ایک چھوٹی سی بچی۔ ”اس نے منہ پھیر لیا اور چھت پر لٹکے جالوں کو دیکھتی رہی جس میں نیم مردہ مکھیاں جھول رہی تھیں۔ اس پر پھر دورہ سا پڑ گیا۔

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ۔ 1

(چار پانچ برس قبل میں نے اپنی بیٹی کی اٹھارہویں سالگرہ پہ اس کو پہلی نومبر سے تئیس نومبر اس کی سالگرہ کے دن تک روز فیس بک پہ ایک خط لکھا جس میں ایک ماں کی اس کی بیٹی کے بچپن کی یادیں محبت، نصیحت اور جذبات کا اظہار تھا۔ میں چاہتی تھی وہ میرے دل کی آنکھ سے دیکھے کہ وہ میرے لئے کیا ہے۔ کیسے اس کا بچپن ایک خوبصورت یاد کے طور پہ میرے دل میں

Read more

پڑوس سے ہی کچھ سیکھ لیں

پاکستان، بھارت اور چین عمر کے لحاظ سے ہم عمر ممالک ہیں۔ چین اور بھارت اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے بڑے ہیں۔ چین پاکستان اور بھارت سے 2 سال عمر میں چھوٹا لیکن معاشی اعتبار سے اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ نو آبادیاتی نظام میں معاشی استحکام کی اہمیت کو جتنے بہتر انداز سے چین نے سمجھا ہے خطے میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ 1948 تک بدترین خانہ جنگی کا

Read more

ووپرٹال شہر جرمنی صوبہ رہائن لینڈ فالز کا وزٹ

ووپرٹال کی وجہ تسمیہ وہاں بہنے والی ایک ندی ہے جس کا نام ووپر ہے اور ٹال وادی کو کہا جاتا ہے یعنی ووپر ندی کی وادی۔ اس شہر کی آبادی لگ بھگ چار لاکھ ہے یہ شہر لمبائی میں ہے جس میں دس ریلوے اسٹیشن ہیں۔ ووپرٹال ایک خوبصورت شہر ہے جو کولون اور ڈوزلڈورف کے تقریباً درمیان میں واقع ہے اسی کی دہائی میں میرے خالہ زاد بھائی میاں ساجد صاحب بھی یہیں اسی شہر میں رہتے تھے۔

Read more

میاں بیوی کا رشتہ دل سے قبول نہ کیا تو کیا؟

شادی ایک خوبصورت بندھن ہے۔ اس خوبصورت رشتے کو اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لباس قرار دے کر خوبصورت ترین بنا دیا ہے۔ وہ تمہارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو۔ سورہ البقرہ ایک دوسرے کے لیے لباس سے مراد یہ ہے کہ لباس باعث زینت و احترام ہے، گرم و سرد موسم سے بچاتا ہے، انسان کے بہت سے عیب چھپاتا ہے، خوشی کا باعث بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح مرد و عورت

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت (2)

قصہ اسلامیہ ہائی اسکول چنیوٹ کا ” چنیوٹ کی شیخ برادری کے ایک نومسلم رئیس نے اسلامیہ ہائی اسکول قائم کیا جو آگے چل کر ڈگری کالج بن گیا۔ شیخ برادری ہم جیسے غریب بچوں کی تعلیم میں سہولت کار تھے۔ و ہاں ایک ایسا واقعہ ہوا جو بڑا قابلِ غور ہے۔ ہم ہر سال فیس معافی کی درخواست دیتے تھے۔ ایک سال ایسا ہوا کہ ہماری فیسیں معاف نہیں ہوئیں۔ جھنگ اور بالخصوص چنیوٹ میں سادات کی تعداد کافی

Read more

گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا پرانا؟

بہت پرانی بات ہے۔ ہماری عمر سات برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ وہ زمانہ نسبتاً محفوظ تھا، جب بچے بے خوفی سے باہر کھیلتے اور گھر والے بنا خوف سے دہلے سکون سے باہر کھیلنے دیتے۔ ایک سہ پہر گھر کے باہر کھیلتے کھیلتے ہم نے خاصی دور سے اپنے ایک رشتہ دار کو اپنے گھر کی جانب آتے ہوئے دیکھا۔ جو ہمیشہ ہی ہمیں بہت پیار کرتے تھے۔ اُدھر انہیں آتا دیکھا اِدھر ہم تیزی سے اپنے گھر دوڑ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی خود گزشت : سالک

میں ڈاکٹر خالد سہیل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی خود گزشت : ’سالک‘ بڑے رسان سے مجھے مطالعے کے لیے ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ جب میں ’سالک‘ کا مطالعہ کر رہا تھا تو مجھے اپنا آغازِ کتب بینی کا وہ زمانہ یاد آ رہا تھا جس کا آغاز میں نے سوانح عمریوں سے کیا تھا۔ مجھے وہ دن یاد آرہے تھے جب میں امیر تیمور کی آپ بیتی : ”میں ہوں

Read more

نہ بڑا نہ کوئی چھوٹا

پچھلے دنوں میرے دوست فیصل کی کال تھی، کہنے لگا، ملک یار وہ ماسی سارہ فوت ہو گئی ہے۔ مجھے سن کے بڑا دھچکہ لگا، میں نے کہا یار گزشتہ ماہ ہی وہ ہمارے گھر سے ہو کر گئی ہیں بالکل ٹھیک تھیں، کیا ہوا انہیں۔ بس یار اچانک ہی کوئی بہانہ بنا، آج کل تو جوان جہان آدمی کا پتا نہیں چلتا وہ تو پھر بزرگ خاتون تھیں، فیصل نے جواب دیا۔ بات تو فیصل کی ٹھیک تھی لیکن

Read more

مالک کی بیٹی اور کرخت شکل آدمی

میرا جنم کوڑے کے ڈھیر پر ہوا تھا۔ ماں باپ کا کچھ پتہ نہ تھا، مر گئے کہ زندہ ہیں۔ شاید کسی نے ترس کھا کر مجھے کبھی گود لے لیا ہو گا لیکن گھر میں اس نے بھی نہیں رکھا۔ میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو گلیوں میں آوارہ گھومتے ہوئے ہی پایا۔ کہیں سے کچھ کھانے کو مل جاتا تو ٹھیک ورنہ کچھ دن پانی پی کر بھی نکل جاتے تھے۔ رات گزارنے کے لیے میں

Read more

سلیم حسنی کی کال

”اداسی کا اسطورہ“ میں اُداسی کا سب سے بڑا بیٹا ہوں جس کی پرورش کے لیے اس نے ایک ایسی عورت کا انتخاب کیا جو رات کے لیے چاند بُنا کرتی تھی۔ میرے بہن بھائی مجھے دیکھتے ہی کچھ دیر کو احتراماً اداس ہو جاتے ہیں لاپتہ چہروں کے لواحقین شنوائی کی قربان گاہ پر میرے نام کی تصویریں چڑھاتے ہیں میں بے بس ماؤں کی آنکھوں سے شل ہوئے بازؤں کی طرح گر پڑتا ہوں تو مجھے کلیجے لگا

Read more

کراچی کی پولیس کا چینی سرمایہ کاروں سے ”حْسنِ سلوک“

”فیک نیوز“ کا زمانہ ہے۔ نامی گرامی اخبارات (جنہیں Xکا مالک ایلان مسک حقارت سے Legacy Mediaپکارتا ہے ) میں چھپی ہوئی ”خبر“ پر بھی اعتبار کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ بذات خود اگرچہ اسی صنف کے میڈیا کی چاکری میں گزار دی ہے۔ پروف ریڈنگ سے شروع ہو کر ٹیلی پرنٹر سے آئی خبروں کے اردو ترجمے کے بعد رپورٹنگ کی جانب منتقل ہوا۔ اپنی خبر ٹائپ کر کے نیوز روم کے حوالے کرتا تو خبر کی صداقت ثابت

Read more

کیا آپ کے دل میں بھی کوئی تعصب چھپا بیٹھا ہے؟

میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں بعض انسان دوسرے انسانوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ انہیں کم تر کیوں سمجھتے ہیں؟ ان سے تعصب سے کیوں پیش آتے ہیں؟ پھر میں سوچتا ہوں کہ کوئی بچہ بھی تو متعصب پیدا نہیں ہوتا بچے تو ماں باپ سے محبت اور دوسرے انسانوں سے پیار کرتے ہیں۔ تو پھر یہ محبت پیار کرنے والے بچے نفرت اور تعصب کرنے والے انسان کیسے بن جاتے ہیں؟ تو کیا یہ کہیں ماحول کا اثر

Read more

گزر بسر کی جنگ

وہ کچن میں کھڑی اپنی ڈھلتی عمر کے حوالے سے سوچ رہی تھی کہ اچانک اس کے پیچھے سے آواز آئی۔ ”امی میں پورے گھر میں آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں اور آپ یہاں کچن میں نجانے کیا کر رہی ہیں۔“ محمودہ کالج سے آنے کے بعد امی سے لپٹ جاتی ہے۔ ”ارے آ گئی میری پیاری بیٹی! میں تمھارے لیے کھانا بنانے کچن میں آئی ہوئی ہوں۔ تم نے آج کالج سے آنے میں دیر کیوں کی؟ میں تمھارے

Read more

گوگل، مصنوعی ذہانت اور والدین کا کھویا ہوا مقام

مصنفین: فینانہ فرنام اور کامران عباس زمانہ بدل رہا ہے اور اس تبدیلی نے زندگی کے ہر پہلو پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں خاص طور پر خاندان کے اندر نسلوں کے درمیان تعلقات پر ٹیکنالوجی اور معلومات کے نئے ذرائع نے گہرا اثر ڈالا ہے۔ ماضی میں بچے کسی بھی سوال یا مسئلے کے لیے اپنے والدین یا بزرگوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یہ عمل نہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ تھا بلکہ والدین کی عزت و

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: چوتھی قسط

شیر خوارگی میں شمن کو سولہ سترہ برس کی انا کے حوالے کیا گیا۔ انا شمن کو پال تو رہی تھی لیکن اپنی عمر کی وجہ سے اس میں دیکھ بھال کرنے اور بچی کی ضروریات کو سمجھ کر خیال رکھنے کی صلاحیت اور گنجائش یا کیپیسٹی نہیں تھی۔ وہ جس عمر میں ہے اس کے خود اپنے فطری تقاضے ہیں۔ یہ تقاضے خود ایک طاقت کے حامل ہوتے ہیں اور جسموں اور سوچوں کو ڈرائیو کرتے ہیں۔ اسی لیے

Read more

پِدرم سلطان است (مکمل کالم)

انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنا محاسبہ ضرور کرتا ہے، میں بھی چونکہ انسان ہوں اور گاہے بگاہے اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہوں اِس لیے اکثر سوچتا ہوں کہ میرے لیے کالم نگاری قابل فخر ہے، ڈرامہ نگاری یا پھر افسری، تو مجھے ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے اور اس کی وجہ بھی بڑی سیدھی ہے کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ میں عطاء الحق قاسمی کا

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت (1)

  کچھ عرصہ پہلے حضرت علّامہ سید احسن عمرانی صاحب نے میرے اصرار پر مجھے وقت دیا کہ میں ان سے اُن کی زندگی کی کہانی سُن سکوں! میں مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اس گفتگو کو صدا بند کرنے کا موقع دیا۔ ایک عرصے بعد میں نے اِن کے نیاز حاصل کیے تھے۔ اس نشست میں انہوں نے تاریخ کے ایسے ایسے دریچے کھولے کہ میں خود حیران پریشان رہ گیا! علّامہ صاحب نے پہلے اپنے جدِ امجد

Read more

سجن اور وزیر آباد یاترا

کئی برسوں سے یہ پروگرام بن رہا تھا مگر اس بار سب نے یک زبان ہو کر شرکت کی ہامی بھر لی۔ جس سے ہمیں امید بندھ گئی کہ اس مرتبہ ملاقات ہو جائے گی، یہ 1990 کی بات ہے ہم پنجابی کے پہلے اخبار سجن میں صحافت کے ساتھ زبان اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کسی نظریے کے لئے کام کرنے کا ڈھنگ سیکھ رہے تھے۔ حسین نقی ایک اہل زبان تجربہ کار صحافی نے پنجاب میں

Read more

صدر کی تقریر، تالاب میں ایک پتھر

  جنوری کی اس انتہائی سرد شام کو جب صدر ٹرمپ واشنگٹن میں صدارتی حلف اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے، ملک کے طول عرض میں ٹیلی ویژن جھلملا رہے تھے، عوام بارز اور کلبوں کی ٹیلیویژن اسکرینوں سے چپکے ہوئے تھے۔ فون لائیو اپ ڈیٹس سے گونج رہے تھے۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ قوم سے خطاب کرنے والے تھے، ان کے الفاظ پہلے سے پولرائزڈ اور سیاسی طور پر تقسیم شدہ امریکہ میں نئی لہریں بھیجنے کے لیے تیار

Read more

روزمرہ کی نفسیات

تخلیق: صادقہ نصیر تبصرہ: نعیم اشرف بدین (سندھ ) کا باشندہ اور میرا سابق رفیقِ کار ابو بکر لغاری (فرضی نام) آج کل لاس ویگس (امریکہ) میں رہتا ہے۔ اس نے مجھے چند ماہ پہلے خبر دی کہ وہ سخت پریشان ہے اور اس کو خدشہ ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی میں طلاق ہونے جا رہی ہے۔ میاں بیوی کے تین بچے ہیں۔ میں نے اس کو فی الحال رُک جانے اور دماغ ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ

Read more

مدینہ منورہ میں چند دن

سال 2024 کا آغاز ہوا تو میں نے حساب لگایا کہ گزشتہ تین برس سے میں نے اندرون اور بیرون ملک کوئی سفر نہیں کیا۔ ان تین سالوں میں دفتری اور گھریلو مصروفیات نے مجھے اس قدر جکڑے رکھا کہ گھر اور دفتر کے علاوہ مجھے کسی اور جانب توجہ دینے کا وقت ہی نہیں مل سکا۔ فہد صاحب سے میں نے کہا کہ چند دن کے لئے کہیں گھومنے چلتے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ تجاویز ان کے سامنے

Read more

او سب دی ماں آ گئی اے

حکومت بہت نامراد نشہ ہے، آپ کے پاس اقتدار ہو تو طبلے بجانے والے انواع و اقسام کے مشورے دیتے ہیں تاکہ بادشاہ سلامت کی واہ واہ ہو اور وہ اس کے بدلے میں کچھ چاندی کے سکے وصول کر کے اپنا خزانہ بھر سکیں، پاکستان میں معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جب کوئی حکمران اقتدار میں آتا ہے تو وہ سرکاری محکمے ہونے کے باوجود طبلے بجانے والے اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں تاکہ وہ قانون سے بالاتر

Read more

سن رسیدہ بھنورا

دفتر سے واپسی پر اپنی سوچوں میں گم تیزی سے چلتی وہ گھر کی طرف گامزن تھی، دن بھر کی تھکا دینے والی تگ و دو کے بعد گھر جا کر ابھی کھانا بھی پکانا تھا، بچوں کو ہوم ورک بھی کروانا تھا، راستے سے انڈے اور سبزی بھی لیتے ہوئے جانا تھا۔ کوئی مزید چیز تو نہیں جو راستے سے خریدنی ہو، ایک مرتبہ گھر جا کر دوبارہ نہیں نکلا جاتا، یہی سوچتی اپنی دھن میں مگن جب وہ

Read more

متبادل دیکھ بھال: ماں یا باپ کے بغیر بچوں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

اکتوبر 2024 میں، میری پہلی ملاقات ڈاکٹر ایم اے صوفی فاؤنڈیشن لاہور کے توسط سے لاہور کے پانچ روزہ مطالعاتی دورہ پر صوبہ خیبر پختونخوا سے آئے والد کی اپنائیت سے محروم تقریباً ستر ( 70 ) بچوں سے ہوئی۔ یہ بچے ”متبادل دیکھ بھال کے گھروں“ سے باقاعدہ طور پر منسلک نہیں تھے بلکہ اپنی ماؤں یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، جبکہ ان کی تعلیم، صحت، اور دیگر ضروریات دونوں تنظیمیں (الخدمت فاؤنڈیشن، لاہور اور

Read more

میری کرسمس یا حقیقی مسائل

ہر سال دسمبر کے آتے ہی ایک مخصوص بحث ہماری سماجی فضا میں شدت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ سوال کہ کیا مسلمانوں کو کرسمس کی مبارکباد دینی چاہیے یا نہیں، ہمارے معاشرتی و مذہبی بیانیے میں نمایاں مقام حاصل کر لیتا ہے۔ کچھ لوگ اسے محبت، بھائی چارے اور رواداری کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ایک ایسا عمل ہے جو اسلامی عقائد سے متصادم ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعی یہی سب سے بڑا

Read more

نفرت کے سائے

بھارت، جو کبھی اپنی تنوع میں خوبصورتی اور کثیر الثقافتی ہم آہنگی کا نمونہ تھا، آج مذہبی انتہاپسندی کے ایک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ ملک، آج ایک مخصوص سیاسی نظریے کے زیرِ سایہ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے لیے تاریک ترین دور کی مثال بن چکا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی کہانی اب صرف ایک قوم کی کہانی

Read more

محمد فاروق بمبے والا (آخری قسط)

رفیع صاحب کے خاندان سے پرانا تعلق ” رفیع صاحب کے باپ دادا نے گانا نہیں گایا تھا تاہم میرا تعلق محمد رفیع سے زیادہ تھا۔ جب میں رفیع صاحب کے بارے میں کوئی بات کہتا تھا تو اُن کے چھوٹے بھائی صدیق کہتے فاروق ٹھیک کہہ رہا ہے۔ رفیع صاحب 6 بھائی تھے۔ سب سے بڑے حاجی محمد شفیع، پھر ابراہیم صاحب ان کے بعد دین محمد صاحب پھر اسماعیل صاحب، اس کے بعد رفیع صاحب پھر سب سے

Read more

بچوں کی نہیں بڑوں کی تربیت ضروری ہے

مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں۔ تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے سگنل پہ روکنے کی۔ پتہ بھی ہے کس کا بیٹا ہوں۔ یہ وہ تڑی ہے جو اکثر قانون کی خلاف ورزی پہ روکنے والے ٹریفک وارڈن کو سننا پڑتی ہے۔ اور سگنل پہ موجود وارڈن کو یہ لہجہ و الفاظ بتا دیتے ہیں کہ غلطی کس نے کی ہے۔ وہ وارڈن جو چالان کاٹنے کا سوچ رہا ہوتا ہے، چالان پیپر تھمانے کی بجائے معذرت کر کے مزید قانون

Read more

جنگ بندی اور امن کا قیام: عارضی یا دائمی؟

اسرائیلی افواج اور حماس کی جو جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی وہ پندرہ مہینوں کے بعد 19 جنوری 2025 کو اس وقت ختم ہوئی جب اسرائیل اور حماس کے نمائندوں نے امن کے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ اس معاہدے میں جو کردار امریکہ نے ادا کیا اسے امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے عہد اقتدار کے آخری ہفتے کی تقریر میں اس وقت بیان کیا جب ان کے دائیں طرف نائب صدر کملا ہیرس اور

Read more

سوشل میڈیا، ”شَٹَٹّا کلچر“ اور صاحب لوگ

والد صاحب میرے ساتھ انتہا درجہ کا پیار کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ کی وفات تو اُس وقت ہو گئی جب میری عمر تین سال یا اُس سے بھی کم تھی۔ والد نے ماں کی طرح پالا اور خیال رکھا اور آخری سانس تک پدرانہ محبت مجھ پہ نچھاور کرتے رہے۔ ایک بات پہ تھوڑا سا خفا ہوتے تھے کہ راقم صبح کی نماز گاؤں کی مسجد میں جا کر کیوں نہیں پڑھتا؟ سورج نکلنے تک لحاف میں کیوں پڑا رہتا

Read more

جناب وجاہت مسعود کے کالم ”نعرے کی خلیج اور مکالمے کا احترام“ کے جواب میں

مدیر اعلیٰ ”ہم سب“ ، جناب وجاہت مسعود صاحب کا مندرجہ بالا کالم روزنامہ جنگ لاہور کے 15 جنوری 2025 کے شمارہ میں شائع ہوا اور ہم سب کی ویب پر 14 جنوری 2025 کو نمودار ہوا۔ ان کے کالم پر تبصرہ کرنا مقصود ہے۔ ہم سب کے ادارتی نظم کے مطابق صحافت پر صرف پیشہ ور صحافیوں کا ہی اجارہ نہیں ہے بلکہ قارئین کے مضامین اور تبصرے بھی اسی معیار کے حامل ہوتے ہیں بلکہ وہ معاوضے اور

Read more

محمد فاروق بمبے والا: چوتھی قسط

” کچھ بمبئی کے فلمی شاعروں پر بات ہو جائے۔ جیسے مجروحؔ سلطان پوری، راجہ مہدی علی خان، ساحرؔ لدھیانوی، شکیلؔ بدایونی، حسرتؔ جَے پوری، شیلندر، آنند بخشی وغیرہ“ ۔ ” آپ جن کا نام لے رہے ہیں ان میں ساحر، شکیلؔ بدایونی، حسرتؔ جَے پوری، شیلندر، وغیرہ سے میرا تعلق رہا البتہ راجہ مہدی علی خان صاحب اور مجروحؔ صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ حسرتؔ جَے پوری سے میری دوستی تھی۔ ساحرؔ صاحب بھائی اور شکیلؔ بدایونی بڑے بھائی

Read more

لڑکوں کو داماد بنتے ہی کیا ہو جاتا ہے؟

کھانا گرم کروا کے بھیجا تھا؟ کیا چارپائیوں کا انتظام نہیں ہو سکتا؟ نیچے فرشی نشست پر کیسے سوئیں گے؟ بستروں کی چادر اور تکیوں کے غلاف گرم موسم کے مطابق کرو اور لحاف نئے دو۔ فلاں بہن کے شوہر تو صرف کمبل لیتے ہیں۔ یار صبح ناشتے میں تازہ گھر کے پراٹھے اور دودھ پتی بنوانی ہیں۔ گیزر بھی نہیں ہے۔ انھیں ٹھنڈے پانی سے منہ، ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔ کم از کم کل نہانے کا پانی گرم

Read more

اداس نسلیں

عبداللہ حسین نے کئی برس پہلے برطانوی دور کے پنجاب میں مسلمانوں کی زندگیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ پر ایک ناول ”اداس نسلیں“ کے نام سے لکھا تھا، جسے اردو ناول کے کلاسک کا درجہ حاصل ہے، کبھی کبھی مجھے یہ خدشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ مجھ جیسے تارکین وطن شاید عبداللہ حسین کی اداس نسلوں کا تسلسل ہیں۔ زمانہ طالب علمی کی بات ہے، سڈنی میں رہائش پذیر معروف ادیب اشرف شاد جب جامعہ کراچی تشریف لائے

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: تیسری قسط

لیکن دیکھیے اسے کیا رنگ دیا گیا۔ شمن کو ویسی ہی ایک لڑکی سمجھا گیا جو اپنی ٹیچرز پر اپنی نوبلوغت کے جنسی جذبات انڈیلنے کی کوشش کرتی ہیں اور بعض اوقات ٹیچرز بھی اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بجائے یہ کہ مس چرن کو نفسیاتی معاملات کا ماہر قرار دیا جاتا جس نے تنہائی کی ماری ایک بچی کو بنیادی دھارے میں شامل کیا، مس چرن کو سکول سے نکال دیا گیا اور عسکری صاحب کو لگا کہ بات

Read more

پنجاب کے صوفی دانشور: تعارف و تجزیہ

”پنجاب کے صوفی دانشور“ معروف دانشور قاضی جاوید کی کتاب ہے جس میں انھوں نے پنجاب کی تقریباً ایک ہزار سالہ تاریخ میں ایسے صوفیا کی تعلیمات کا انتخاب، ہمارے سامنے پیش کیا ہے جنھوں نے عوام کے دل و دماغ کو متاثر کیا۔ ان صوفیا نے پنجاب کی تہذیبی و ثقافتی روایت کی تشکیل اور عوام کی اخلاقی پاکیزگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے پنجاب کے صوفیا کے فکری نظام کو سمجھے بغیر پنجاب کے سماج

Read more

اے عشق جنوں پیشہ

یہ 1972 ء کا زمانہ تھا۔ فزکس اور میتھ کی تعلیم کو خیر باد کہہ کر میں شاعر اور ادیب بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اِدھر اُدھر جہاں سے کچھ پڑھنے کو ملتا، میں خود کو مطالعہ سے لیس کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا۔ اور کچھ نہ کچھ لکھنے کی سعی بھی جاری رہتی۔ انہی دنوں آیا ”رادوگا“ اشاعت گھر ماسکو سے شائع شدہ، دستوئیفسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا پہلا اردو ترجمہ۔ میں نے یہ

Read more

ابھی تو مجھ کو پڑھنا ہے بڑا انسان بننا ہے

پیارا ملک پاکستان چونکہ ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ”نازک دور“ سے ہی گزر رہا ہے اس لئے ہمیں اس ملک میں بیروزگار نوجوان، مایوس بزرگ، اور معصوم و نادار بچے جنہیں بچپن کے ابتدائی دور میں بے فکری کے جہانوں میں، کھیل کود کے میدانوں میں، خوب صورت قہقہوں میں مگن ہونا چاہیے وہ زمانے کے سرد و گرم سے بے نیاز تارکول کی لمبی سیاہ سڑکوں پر

Read more

میں، میرے دل کی چیر پھاڑ اور فلسطینی ایوارڈ کی کہانی

دسمبر اگر قومی زندگی میں ایک دکھ بھرا ایک کرب انگیز مہینہ ہے تو اِس 2024 کا دسمبر میرے لیے بھی ذاتی حوالے سے کچھ ایسے ہی اندوہناک احساسات کا سامان لے کر آیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کھوتے کی طرح جیون کی بار برداری کی گٹھڑیاں اٹھاتے گزار دی۔ بیماری کیا ہوتی ہے؟ اس سے شناسائی ہی نہ تھی۔ کبھی سالوں میں ایک آدھ دفعہ نزلہ، فلو یا دانت کے درد کی اذیت کے سوا کچھ

Read more

انمول رشتہ

کون کہتا ہے کہ یاری برباد کر دیتی ہے کوئی نبھانے والا ہو تو دنیا یاد کرتی ہے انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ وہ اس دنیا میں تنہا زندگی بسر کرنے سے قاصر ہے۔ انسان اس دنیا میں مختلف فرائض انجام دے رہا ہے۔ وہ بیک وقت کئی رشتوں کی ڈور میں بندھا ہوا ہے۔ کہیں وہ باپ، بھائی، خاوند، ماں، بہن، بیوی کے روپ میں سب اپنے فرائض کو بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ ان رشتوں میں انسان

Read more

منٹو نے فحاشی کے الزام پر اپنا دفاع کیسے کیا؟

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو کی شائع ہونے والی کتابوں میں یہ افسانے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقت نے کیا

Read more

سعادت حسن منٹو: نفسیات کی روشنی میں

کہانی کب پیدا ہوئی اور کب تک جاری و ساری رہے گی، اس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکا ہے، مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اس وقت تک سعادت حسن منٹو کا نام زندہ رہے گا، کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی۔ بلکہ اس میں نیے زاویے پیدا ہو تے رہیں گے۔ سعادت حسن منٹو کی پیدائش 11 مئی 1912ء کو ہوئی تھی اور شاید کسی نے سوچا بھی

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ ٹھنڈا گوشت

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔

کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔

Read more

مشیت ایزدی یا انسانی لاعلمی؟

مذہب اور سائنس میں اختلاف نظریہ ارتقا، زمین کے گول ہونے، یا سورج کے زمین کے گرد گھومنے کا نہیں ہے۔ ڈارون اور گلیلیو سے کئی ہزار سال پہلے قدیم یونان اور مصر کے پروہت تھیلز اور ایناگزاگورس کو قابل گردن زدنی قرار دے رہے تھے۔ نظریہ ارتقا سے کئی سو سال پہلے ہی غزالی اور ابن تیمیہ جیسے نابغے بوعلی سینا اور الفارابی کو واجب القتل بتا رہے تھے اور مجدد الف ثانی کہلانے والا شیخ احمد سرہندی افلاطون

Read more

الفاظ کا مصور۔ محمد سجاد جہانیہ

یادوں کے پرندے جب خیال کے پر لگا کر اڑتے ہیں تو کہانی کار تخیل کی زمین پر کہانیاں بونے لگتا ہے۔ پڑھنے والے ان کہانیوں کی بالیوں سے اپنی اپنی سمجھ کے دانے چنتے ہیں۔ کہانی ایک ہی ہوتی ہے مگر تخیل اسے ذاتی پرواز عطا کرتا ہے۔ یادوں کا آئینہ اور تخلیق کی روشنی مل کر جس انسان کی تصویر بناتے ہیں دنیا اسے محمد سجاد جہانیہ کے نام سے جانتی ہے۔ سجاد جہانیہ، یادیں، قلم اور قرطاس

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (31)

” اپنے دل پر اور اپنے بازو پر مجھے نشان کی طرح رکھ، کیونکہ محبت موت سے بھی زیادہ پائے دار ہے۔ اس کی آگ ایسی شدید ہے کہ قبر بھی اسے نہیں روک سکتی۔ پانی کی بے شمار ندیوں سے بھی محبت بجھ نہیں سکتی، اور نہ ہی دریاؤں کا بہاؤ اسے ڈوبو سکے۔ اگر کوئی آدمی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دے دے تو یہ بے قدری سمجھی جائے گی۔“ سلیمان کا گیت 8 : 6۔ 7

Read more

سیاہ حاشیے۔ فسادات پر منٹو کی مختصر کہانیاں

انتساب، اس آدمی کے نام
جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔

الُہنا: ”دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دکان بھی نہ جلی۔ “

آرام کی ضرورت: ”مرا نہیں۔ ۔ ۔ دیکھو ابھی جان باقی ہے“۔ ”رہنے دو یار۔ ۔ ۔ میں تھک گیا ہوں۔ “

”پوں پوں۔ ۔ ۔ پوں پوں۔ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔
لوہے کا ایک سیف دس پندرہ آدمیوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے اس کو کھولنا شروع کیا۔

”گو اینڈ گیٹ۔ “ دودھ کے کئی ٹین دونوں ہاتھوں پر اٹھائے اپنی ٹھوڑی سے ان کو سہارا دیے ایک آدمی دکان سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ بازار میں چلنے لگا۔
بلند آواز آئی۔ ”آؤ آؤ لیمونیڈ کی بوتلیں پیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گرمی کا موسم ہے۔ “ گلے میں موٹر کا ٹائر ڈالے ہوئے آدمی نے دو بوتلیں لیں اور شکریہ اداکیے بغیر چل دیا۔

Read more

شریفن ۔۔۔ یہ افسانہ سعادت حسن منٹو نے لکھا

سعادت حسن منٹو کا یہ افسانہ ان قیامت خیز دنوں کا ایک ورق پیش کرتا ہے جب راتوں رات انکشاف ہوا کہ ہندوستان میں ایک نہیں، دو قومیں بستی ہیں۔ ایک ہزار برس تک ایک ہی ملک میں رہنے والی ان دو قوموں نے جب الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو دونوں قوموں کے اندر سے انسانیت کا کیا روپ برآمد ہوا؟ منٹو تختہ سیاہ پر سفید چاک سے افسانہ لکھتا تھا۔ ٭٭٭       ٭٭٭ جب قاسم نے اپنے گھر کا

Read more

منٹو کی اذیت کا احساس

آج سعادت حسن منٹو کو رخصت ہوئے 70 برس گزر گئے۔ کاش ہم آج صرف منٹو کی باتیں کرتے۔ اردو کے نصابی امتحان میں ناکام ہونے والے اس صاحب قلم کی باتیں جس کے براق ذہن نے جدید اردو ادب میں ادیب کا منصب متعین کیا۔ ہندوستان کے معروف ناول نگار رحمن عباس کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ 2004 میں شائع ہوا۔ اس ناول پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ دس سال بعد ختم ہوا۔ اسکے علاوہ آپ ”ایک

Read more

دشمن کو گلے لگائیے

اُس دن میں اپنے کالج میں تھا جب خبروں میں معلوم ہوا کہ امریکہ میں ٹوئن ٹاور پر حملہ ہو گیا اور دہشت گردوں نے امریکہ کے ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگون پر جہاز ہائی جیک کر کے ٹکرا دیے۔ اُس وقت کا میڈیا اس سارے حادثہ کو لائیو کوریج دے رہا تھا۔ جیسے جیسے میڈیا اس واقعہ کی ہولناکی پر تبصرے کر رہا تھا اور فوٹیج جاری ہو رہی تھیں ہمارے کالج میں خوشی کی ایک لہر دوڑ رہی تھی۔

Read more

”چالیس چراغ عشق کے“ ناول کے کردار

  ”The Forty Rules of Love“ تُرکیہ کی نامور ادیبہ ایلف شفق کے شاہکار ”Aşk“ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ ایلف شفق کی تحریر کو مشرق و مغرب کا حسین امتزاج کہنا کسی طور پر بھی غلط نہ ہو گا۔ ان کے اس ناول کو بی بی سی کی جانب سے ان سو ناولوں میں شامل کیا گیا ہے کہ جو ہماری دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو زبان میں اسے ”ہُما انور“ نے ”چالیس چراغ عشق

Read more

عریاں احتجاج

”یہ کیسے ممکن ہے؟“ کرسٹینا نے سوال کیا۔ نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی، ”تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کچھ نیا کرنا پڑے گا۔“ ”یہ امریکہ یورپ نہیں، ایک مسلمان ملک ہے یہاں کسی بندے کو کیسے تیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ ننگا ہو کر احتجاج کرے۔“ ”دنیا بھر میں احتجاج کا یہ بہترین طریقہ گنا جاتا ہے، ہم اس پر عمل

Read more

مساجنسٹ عورتیں

آپ نے مساجنسٹ مردوں کا ذکر سنا ہو گا، مساجنسٹ وہ مرد ہوتے ہیں جو عورتوں کے خلاف شدت پسند رویہ رکھتے ہیں اور عورتوں پر ظلم کرنے والوں کی حمایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن کی مثال اس کبوتر کی سی ہوتی ہے جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سوچتا ہے کہ کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے، راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے کے

Read more

کیا امریکہ کو آگ فلسطین نے لگوائی ہے؟

لاس اینجلس، امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کا ایک مشہور شہر قدرتی خوبصورتی اور گنجان آباد علاقوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ وہاں ہالی ووڈ جیسی فلمی صنعت کا مرکز بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے، لاس اینجلس اکثر آگ لگنے کے واقعات کی زد میں آتا ہے۔ خشک سالی، گرمی کی شدت، اور جنگلات کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے کیلی فورنیا آگ کے لیے انتہائی حساس مانا جاتا ہے، جہاں گزشتہ دہائیوں میں وافر مقدار میں قدرتی

Read more

ان کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ہیں

ماں کے بارے میں میرے گزشتہ کالم نے نہ جانے کتنے دلوں کے تار چھیڑ دیے۔ کتنوں کے زخموں کا موم ادھیڑ ڈالا۔ مجھے بے شمار فون آئے اور اَن گنت پیغامات۔ ان میں سے ہر ایک نے میرے کالم کے آئینے میں اپنی ماں کا چہرہ دیکھا۔ لاریب ساری دنیا کی مائیں ایک سی ہوتی ہیں لیکن ہر ایک کی ماں، صرف اس کی ماں ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی ماؤں جیسی لیکن سب سے جدا، سب سے منفرد۔

Read more

اعجاز، محبوب اور بوبی

وہ میری پیدائش سے پہلے پردیس کا ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کی البم اور یادداشتوں میں اُس کی کوئی یاد نہیں۔ میرا اُس سے پہلا تعارف ہمارے گھر کے مہمان خانے میں لگی مصوری اور خطاطی کے فریموں سے ہوا۔ جن پر عجیب و غریب سے لوگوں کی شبیہ بنی تھی اور ایسے ہی نا سمجھ آنے والے حروف تھے البتہ وہ حروف ’اے، بی، سی‘ سے مشابہ ضرور تھے۔ میں کچھ بڑا ہوا تو میری ماں نے اپنی

Read more

دنیا بھر میں بچوں کی حفاظت و نگہداشت خطروں سے دوچار کیوں؟

بچے ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ جملہ کثرت سے جملہ ارباب اقتدار کی طرف سے بولا اور لکھا جاتا ہے لیکن عملی طور دنیا بھر میں ایسا نہیں ہے۔ بچے قیمتی اثاثہ ہیں، یہ اب محض کاغذوں کے اندر لکھی گئی رپورٹس اور بیانوں تک ہی محدود رہ چکا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس قیمتی اثاثہ کا اب دنیا بھر میں کوئی پرسان حال نہیں جو دنیا کی کل آبادی کا 30 فیصد حصہ ہیں۔

Read more

بھارت میں بارہویں مہا کُمبھ میلے پر سوالات

مذہب کے لئے دنیا چھوڑ دینا بھارت کے سناتن دھرم میں بہت پرانی ریت رہی ہے۔ اس ریت کو باقاعدہ ایک رواج میں بدلنے کا سہرا شنکر اچاریہ کے سر سجایا جاتا ہے جس نے آٹھویں صدی میں بھارت میں سناتن کو یکجا کر کے ایک دھرم بنا دیا جس کی وجہ سے ان کو اوتار کا درجہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان میں سناتن دھرم کے ماننے والے مہا راجہ اشوک کے بدھ مت اختیار کرنے

Read more

ایک سفید جھوٹ: پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان

ہم پاکستانی عجیب قوم ہیں۔ جس شاخ پر بیٹھتے ہیں اسے ہی کاٹنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ کم ہی بچے ایسے ہوتے ہیں جو ماں سے نفرت کریں۔ اگر ماں کی کسی بات سے اختلاف ہو یا بری لگتی ہو تو گھر کی چہار دیواری میں شور بھی مچا لیں گے۔ بحث اور بدتمیزی بھی کر لیں گے لیکن گھر کے باہر چوک یا محلے میں جاکر ماں کی برائیاں نہیں کریں گے۔ پاکستان بھی ماں جیسی ہی ہے

Read more

افغانستان: سیاسی عدم استحکام، ترقیاتی منصوبے اور انسانی المیہ

افغانستان میں مسلسل اقتدار کے لیے جاری جنگ نے ملک کے عوام کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اشرف غنی کے دورِ حکومت میں افغانستان کو معاشی سطح پر مضبوطی کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کی گئی، اور مختلف ممالک کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ جس میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ شامل ہے جس کے شریک ممالک ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، اور بھارت تھے۔ دوسرا بڑا منصوبہ کاسا۔ 1000 منصوبہ تھا جس میں کرغیزستان، تاجکستان،

Read more

سائبیریائی پرندوں کی مقتل گاہ

موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں ایک طرف لاکھوں سائبیریائی پرندوں کی آمد ہوئی ہے وہیں شکاری امراء کے جہاز یکے بعد دیگرے سر زمینِ پاکستان پر اترنے لگتے ہیں اگر یوں کہا جائے کہ پرندوں سے زیادہ اب شکاریوں کی تعداد ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ اگرچہ ملک میں شکار پر پابندی ہے مگر اس کے باوجود شکار کی سرکاری سرگرمیاں ( سرپرستیاں ) یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ پابندی امراء کے لئے نہیں

Read more

شادی شدہ عورت کا نشہ

ایک تحقیق کے مطابق اگلے کچھ سالوں میں غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد بڑھ جائے گی۔ وہ اپنی تعلیم کیرئیر اور ذاتی زندگی پہ فوکس کریں گی ایسی تحقیق کرنے والے مردوں پہ تحقیق کا حصہ ہی غائب کر دیتے ہیں۔ چلیں، اس تحقیق کو درست مان لیا تو ثابت ہوا کا شادی کا سارا نظام اصل میں معاشی نظام ہی ہے۔ وہ عورت چلا لے یا مرد چلا لے۔ مرد کو نظام چلانے کے لئے ساتھی کا اضافی

Read more

ذہن تنہائی، انٹروورٹ یا کریٹوی منورٹی

ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون ”کیا آپ ذہنی تنہائی کا شکار ہیں“ پڑھا اور مجھے لگا کہ وہ احساس جو میں محسوس کرتی تھی اور بیان نہیں کر پاتی تھی اس کو صحیح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس موضوع پر بات کرنا ضروری ہے۔ اس کا تعلق ہماری ذہنی صحت سے ہے۔ ہمارے ہاں تنہائی کو ایک آزار سمجھا جاتا ہے چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی۔ اس تنہائی سے بچنے کے لیے ہم بے جوڑ دوست بناتے ہیں

Read more

بیوی- حقیقی ماں کے بعد ایک بے مثل رشتہ

زندگی کے سفر میں بے شمار رشتے ہمیں سہارا دیتے ہیں، لیکن کچھ رشتے اپنی محبت، قربانی اور خلوص میں بے مثال ہوتے ہیں۔ انسان کی پہلی محبت اور سب سے قریبی تعلق اس کی ماں سے ہوتا ہے۔ ماں کے بعد ، اگر کوئی ایسا رشتہ ہے جو آپ کے ہر دکھ درد کو سمجھتا ہے، آپ کی خوشی میں خوش ہوتا ہے اور آپ کی زندگی کو سنوارتا ہے تو وہ آپ کی بیوی ہے، بیوی کا رشتہ

Read more

نازش پرتاب گڈھی ۔۔ ایک منفرد لہجے کا شاعر

مجھ کو نازش قتل کردے گا یہ کرب آگہی میری محفل میں مجھے پہچانتا کوئی نہیں۔ نامور شاعر جناب نازش پرتاب گڈھی میری والدہ کے چھوٹے بھائی اور میرے حقیقی ماموں تھے۔ ان کے والد اور نانا شیخ محمد اصغر مرحوم ایک متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔ وہ تعلق دار تھے اور رئیس پرتاب گڑھ کہلاتے تھے لیکن ان میں سے رئیسوں والی خو بو بالکل نہیں تھی۔ نانا ایک متقی ور پرہیز گار بزرگ تھے جائیداد اور زمینوں کے

Read more

رودرہیم جنسی اسکینڈل۔ برطانوی پاکستانیوں کے لئے تمغۂ ندامت

تحریر: ڈاکٹر خرم نیازی بتاریخ 4 فروری 2017 ء مقدمہ کی سماعت ختم ہوئی، فاضل جج نے شواہد، گواہوں کے بیانات، وکلاء کے دلائل اور جیوری کی رائے کی روشنی میں 32 سالہ بشارت کو بیس سال، اس کے 36 سالہ بھائی ناصر کو ساڑھے چودہ سال اور ان کے تیسرے بھائی 34 سالہ طیب کو دس سال قید کی سزا سنائی۔ جبکہ بقیہ تین ملزمان کو گیارہ سے تیرہ سال قید کی سزا سنائی۔ کچھ ہی دیر میں کمرۂ

Read more

ڈاکیے کا تھیلا (کونسٹنٹین اوشینسکی کا افسانہ)

کولیا ایک خوش مزاج، مگر غائب دماغ لڑکا تھا۔ اس نے پیٹرزبرگ میں اپنی دادی کو ایک بہت اچھا خط لکھا۔ جس میں انہیں برائٹ ہالیڈے کی مبارکباد دی، اپنے گاؤں کی زندگی کے بارے میں بتایا، اور یہ کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، وہ اپنا وقت کیسے گزارتا ہے، سب تفصیل سے بیان کیا۔ ایک جملے میں بس یہ کہا جا سکتا تھا کہ خط بہت اچھا لکھا گیا تھا، لیکن کولیا نے خط کے بجائے خالی کاغذ

Read more

ستاروں اور جگنووں کی بارات

سورج شاید کمبل اوڑھے آکاش کے پلنگ پہ کہیں دبک کر سویا ہوتا تھا۔ دھوپ کی ایک بھی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جاڑے کے موسم میں، ہماری بستی میں یخ بستہ اور دھند آلود صبح پھوٹتی تھی۔ نیم کی ٹنڈ منڈ شاخوں سے شبنم کی بوندیں برس رہی ہوتیں۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔ ہم آنکھیں ملتے، ٹپ ٹپ برستی اوس سے بچتے بچاتے صحن میں لگے نلکے تک جاتے۔ نلکے کی ہتھی تب تک ’گیڑتے‘ رہتے جب تک کوسا کوسا

Read more

خوشبو کی شاعرہ، پروین شاکر کی یادیں

تیس دسمبر کی شام جب نیا سال صرف ایک دن کے فاصلے پر تھا اور پوری دُنیا کی توجہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاندار آتش بازی کی طرف تھی، ہم اسی سنہرے ساحلوں والے شہر سڈنی میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائے بیٹھے تھے۔ اس تقریب کا مہمان ِخاص اُردو کی معروف ترین شاعرہ جسے خوشبو کی شاعرہ بھی کہا جاتا ہے، پروین شاکر کا فرزند سید مراد علی تھا۔ مُراد علی پچھلے بیس برس سے اہلیہ اور دو

Read more

روگ کی دھوپ(افسانہ)

بے درو دیوار کے آنگن میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک دس، بارہ سال کا لڑکا اپنی ماں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ ایک برس پیشتر باپ کے سائے نے سرد گرم ہوا سے دونوں ماں بیٹے کو اپنی محبت اور شفقت کی چادر میں چھپا رکھا تھا۔ یہ بے کواڑ کمرے نے بھی انھیں ہر خوشی دے رکھی تھی۔ یہی چھوٹا سا کمرہ ان کے لیے محل تھا۔ اس کی فصیل باپ کی غیرت اور زینت ماں

Read more

خواتین کی بہتر زندگی: خواب سے حقیقت تک

پدرسری نظام نے دیگر استحصال، جنگ، آلودگی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، نشے، اور ناکام معاشروں کو جنم دیا۔ وہیں، معاشرے کی نصف آبادی، جو کہ خود معاشرے کا آدھا حصہ تھی، پس پشت دھکیل دی گئی۔ یہاں عورت کو جیتا جاگتا انسان تصور کرنا ایک اچنبھے کی بات سمجھی جانے لگی۔ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے مہذب اور شعور یافتہ یونانی قوم کے تہذیبی زوال کے کئی محرکات کے ساتھ ساتھ نصف آبادی (عورت) کی

Read more

ساس بہو کی باہمی نوک جھونک

کلمہ طیبہ سے کشیدہ کالی چادر میں لپٹا ہوا نوجوان، زندگی کی الجھنوں سے آزاد، ابدی نیند سو رہا تھا۔ گھر میں کربلا سا سماں۔ غم ایسا کہ اپنے تو اپنے، بیگانے بھی نڈھال۔ کوئی سر پیٹ رہا تھا، تو کوئی چھاتی۔ کوئی چھپ چھپا کے رویا، تو کوئی بلک بلک کر۔ مسکراتا اور تمتماتا چہرہ جیسے ان سب کو چڑا رہا تھا۔ چہرے پر کوئی شکن تک نہ تھی۔ نہ جانے کتنے دنوں کے بعد وہ سکون کی نیند

Read more

ڈہڈا بھیڑا عشقے دا روگ

بہار کی آمد آمد تھی کلیاں چٹک رہی تھیں۔ غنچے کھل رہے تھے۔ درختوں پر نئے شگوفے نکلنا شروع ہو چکے تھے۔ پاکپتن شہر کی قربت میں واقع نور پور کی شامیں بہت حسین ہو چکی تھیں اور آج تو اس میں انوکھا نکھار تھا۔ نئے پھوٹتے ہوئے شگوفوں کی خوشبو سے لدی پھندی ٹھنڈی ہوائیں عجب سماں باندھ رہی تھیں۔ جب یہ ٹھنڈی خوشبو دار اور کسی بھی قسم کی آلودگی سے پاک اور صاف ہوا سانس کے ذریعے

Read more

سفرِ کوسوو (3)

رگووا کے سرسبز پہاڑ جن کی پرلی طرف سنہری چمکیلی ریت سے بھرے ساحلوں پہ ڈھیروں سیاح گرمیوں میں یوں ڈیرے ڈالتے ہیں جیسے سائبیریا کے پرندے گرم موسم میں منچھر جھیل کے کناروں کو آباد کر دیتے ہیں۔ اس کے دامن میں تیرہویں صدی میں بنائی گئی وسیع و عریض آرتھوڈکس خانقاہ اپنے اصل گنبدوں، محرابوں اور میناروں کے ساتھ ایک شان سے کھڑی ہے اور واماندگیِ شوق کی آج بھی بڑی پناہ گاہ ہے۔ ہمسائے سے گزرتا دریا

Read more

چترال رنگ کیوں بدلتا ہے؟

  سال کا پہلا سورج طلوع ہوا تو چترال راتوں رات رنگ بدل چکا تھا۔ سردی کی خشک راتوں سے تنگ لوگ صبح اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ چترال برف کی سفید چادر اوڑھ چکا ہے اور برف کے مزید گولے آسمان سے اتر رہے ہیں۔ جو لوگ چترال سے باہر ہیں وہ خوش ہیں، جو ملک سے باہر ہیں وہ اسے نئے سال کا تحفہ سمجھتے ہیں اور جو چترال میں اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ

Read more

میری ماں

ماں کو دنیا سے رُخصت ہوئے اٹھارہ برس ہو گئے۔ پچھلی بار جب میں راولپنڈی کے اُس قدیم قبرستان پہنچا جہاں میرے والدِ مرحوم کی پائینتی سے ذرا آگے کر کے میری والدہ کی قبر ہے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور آسمان بادلوں سے ڈھکا تھا۔ خزاں کا ناقوس بج چکا تھا۔ زمین پر پیلے رنگ کے پتے بکھرے ہوئے تھے۔ قبروں کے بیچوں بیچ گیلی مٹی سے چپکے ان پتوں پہ چلتا ہوا جب میں والدین

Read more

ڈار صاحب جب آپ ڈھاکہ جائیں تو

بنگلہ دیش ہمارا کھویا ہوا بھائی ہے، ہم ان کی ہر ممکن حمایت اور مدد کریں گے۔ اسحاق ڈار یہ خبر میں نے وی پی این کی بدولت سنگاپور سے لاگ ان ہو کر ایکس پر ”Bangla Urdu | بنگلہ اردو“ نامی اکاؤنٹ پر پڑھی۔ دل چاہا کہ اس نام پر ہی کچھ دل ہلکا کروں پھر سوچا کہ جب عاطف اسلم اور راحت علی کے ڈھاکہ میں کامیاب کنسرٹس پر الیٹ اور مڈل کلاس بنگالی نوجوان جھوم رہے ہیں

Read more

ملتے ہیں اگست میں: پوشیدہ جسمانی تعلقات اور جنسی خواہشات پر مبنی ایک دل چسپ ناول

اس ناول کے مصنف گیبرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل 2014 کو

Read more

سندھ کی سہ رخی شخصیت ممتاز مرزا

سندھی ادب، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کا جب بھی ذکر آئے گا تب ممتاز مرزا کا نام لازمی لیا جائے گا۔ جن کی شخصیت سہ رخی بن کر ابھری اور ہر شعبے میں اپنا نام نمایاں کیا۔ ممتاز مرزا کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز مرزا کا تعلق حیدرآباد کے قدیم علاقے ٹنڈو آغا سے تھا۔ ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی

Read more

پسماندہ نصف: خواتین کی صحت اور حقوق کی اہمیت

ہمارے ملک میں خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کے بارے میں بہت بات کی جاتی ہے، اور یہ بات واقعی ضروری ہے کہ خواتین کو ان دونوں چیزوں تک رسائی حاصل ہو۔ تاہم، ان سب سے زیادہ اہم خواتین کی صحت ہے، جسے اکثر نہ صرف معاشرہ بلکہ خود خواتین بھی نظرانداز کر دیتی ہیں۔ وہ اپنی ضروریات کو قربان کر کے اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقوق کی جدوجہد کا آغاز

Read more

صحیفوں کا سفر ( 100 سے زائد کتابیں پڑھنے کی کتھا)

چند روز قبل ہارورڈ بزنس ریویو میں ایک مضمون پڑھا۔ عنوان تھا: How I Read 100 Books in a Year! یقیناً آپ کے طبق روشن ہوئے ہوں گے ۔ میرے بھی ہوئے تھے۔ جلدی سے پورا مضمون پڑھا۔ مصنف یوٹیوبرز سے متاثر تھا، لہٰذا اس نے آئیں بائیں شائیں تو خوب کی مگر کہیں بھی ایک سو کتابیں، پوری ایک سو وہ بھی ایک سال میں، جو پڑھیں ان کا ذکر نہ کیا۔ میں نے اس دن کے بعد سے

Read more

خواتین کھیل کے میدان میں

2025 ء کی شروعات ہوتے ہی ذہن میں خیال آیا کہ دنیا جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اتنی تیز رفتاری سے وقت کا کارواں بھی گزر رہا ہے۔ مگر کہیں سارے ممالک اور خاص کر قومیں ابھی تک بہت پیچھے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان چاند پر پہنچ گیا، یقیناً یہ بھی اسے خدا کی طرف سے دیے گئے صلاحیتوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہو گا مگر اب بھی جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو لگتا

Read more

راولاکوٹ آزاد کشمیر میں انتہا پسندی؟

مشہور جرمن فلاسفر آرتھر شوپنہار Arthur Schopenhauer کا کہنا ہے کہ ”ہر سچ تین مراحل سے گزرتا ہے : پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے ؛ دوسرے مرحلے میں اس کی پرتشدد مخالفت کی جاتی ہے ؛ اور تیسرے مرحلے پر اسے خود ایک واضح حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ ” وقت گواہ ہے کہ انسانی سوچ اور رویے وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لاؤڈ اسپیکر کو ”شیطان کی

Read more

صحرا چولستان کی خوبصورت سردیاں

سردی اور برف باری کے نظارے دیکھنے پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاح جوق در جوق پاکستان کے پہاڑی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ وہ سیاحت کے ساتھ ساتھ سفر کا ایڈونچر بھی انجوائے کرتے ہیں۔ کیونکہ شدید برف باری کے دوران یہاں کی سڑکیں اور راستے اکثر بند ہو جاتے ہیں۔ یہاں کے بلند و بالا سرسبز پہاڑوں کی چوٹیاں سفید برف کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔ گو سیاحت تفریحی، فرحت بخشانہ، صحت افزائی، اطمینان بخشی یا

Read more

 ”سرخ رنگ“ کا تجزیاتی مطالعہ

عَہد حاضر کے نوجوان لکھاریوں میں ایک اہم نام کرن احمد کا ہے جس سے میرا تعارف فیس بک کے توسط سے ہوا۔ آپ ایک عمدہ افسانہ نگار، کالم نویس، مبصر اور شاعرہ ہیں۔ آپ کی اُردو ادب سے الفت، محبت اور عقیدت کا بہترین نمونہ ”سرخ رنگ“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اکیس افسانوں پر مشتمل یہ مجموعہ اپنے اندر قدرتی رنگ اور معاشرتی حقیقتوں کو سمائے ہوئے ہے۔ کرن احمد نے اپنے افسانوں کے

Read more

مائیں کیوں مر جاتی ہیں

دو ہزار پانچ کے بعد جنوری کبھی اچھا نہیں لگا کہ اس مہینے ابو ہمیں چھوڑ گئے تھے۔ لیکن گزشتہ برس یہ آیا اور میری ماں کو بھی لے گیا۔ میری ماں جو میری کل دنیا تھی۔ ماں کو بچھڑے ایک سال بیت گیا ہے لیکن قرار ایک پل کو نہیں آیا، ہر گزرتا دن مزید تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے جدائی کے دن بڑھ رہے ہیں ویسے ویسے آنسوؤں کی روانی بڑھتی جا رہی ہے۔ مجھے

Read more

ہم ایک سال اور پرانے ہو گئے

عمر رفتہ کی مانند سن دو ہزار چوبیس بھی قصۂ پارینہ ہوا اور ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے۔ سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، ہفتے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی پیچھے لگا ہو۔ کوئی صاحب تدبیر ایسا نہیں جو وقت کو روکے۔ صبح و شام کا اس تیزی سے ہونا، زندگی کے تمام ہونے کا پیش خیمہ ہی تو ہے۔ بے کار کی مصروفیت اور خود ساختہ عجیب و غریب لائف

Read more

صورتِ حال: امروز و فردا کا جمال

تین روز پہلے 2024 ء کا سال اختتام پذیر ہوا اَور اَب ہم 2025 ءکے حصار میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹی وی پر اہلِ خرد قومی رہنماؤں اور منصوبہ سازوں سے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آپ کے خیال میں گزشتہ سال کیسا رہا اور آنے والے سال سے آپ کیسی توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ دراصل ماہ و سال کے حساب و کتاب کو باقاعدہ سائنس کا درجہ اہلِ مغرب نے دیا جبکہ اسلام ہر مسلمان کو تاکید

Read more

کوتوال: امی کا خاکہ

پیار پیار یا پھر چھیڑ چھاڑ میں بہن بھائیوں اور دیگر خاندان والوں کی طرف سے عطا کیے گئے عرفی نام عموماً معنی خیز اور شخصی غماز ہوتے ہیں۔ عرفیت برجستہ اور با ربط ہو تو تمام عمر ساتھ جیتی ہے۔ کوتوال ایک عمدہ لفظی ترکیب تھی جو بڑے بہن بھائیوں یا شاید کسی خاندانی بزرگ کی طرف سے ودیعت ہوئی۔ برطانوی راج میں ذیلدار، تحصیلدار اور مختارِکار کو کوتوال پکارا جاتا تھا۔ کوٹ یعنی قلعہ اور وال کا مطلب

Read more

2024 ہماری تنہائی میں مزید اضافہ کر گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہر سال کی طرح 2024 بھی ہمیں بہت سے دکھ دے گیا۔ ان میں کچھ دکھ ذاتی اور کچھ اجتماعی ہیں۔ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو خوب صورت بنایا اور کچھ ایسی ہیں جو قومی یا عالمی منظر نامے میں بہت اہمیت رکھتی تھیں۔ گزشتہ برس ہم نئے سال میں اپنے دوستوں امجد حیات سدوزئی، حسنین اصغر تبسم اور ارشاد امین کے بغیر داخل ہوئے تھے اور 2024 میں ہمیں

Read more

"افسانہ ”عید“ : کتاب ”سربریدہ سائے“

شاہد انتہائی محنتی اور پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ اس نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ کافی عرصہ نوکری کے لئے دھکے کھاتا رہا لیکن اسے کوئی مناسب نوکری نہ مل سکی۔ اکثر جگہ کام زیادہ لیا جاتا تھا اور تنخواہ کم دی جاتی تھی۔ اسی دوران یکے بعد دیگرے اس کے والد اور والدہ فوت ہو گئے۔ اس پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا جو اس سے بڑا تھا۔ اس کی شادی

Read more

ٹرمپ کی آمد مرحبا

دسمبر کی چھٹیاں آتے ہی بیشتر پاکستانی سائبیریا کی مرغابیوں کی طرح اپنے وطن لوٹتے ہیں۔ اب دسمبر ایسا ہو چلا ہے کہ مساکین اور غریب غربا بے چارے تو ٹھیلے پر مرغی کے سوپ پی کر دسمبر کے اشعار سنا کر جی برما لیتے ہیں مگر یورپ امریکہ کے دیسی گھر آیا میرا پردیسی کی دھن پر ناچتے وطن لوٹ آتے ہیں۔ آپ بھی ان اردو میڈیم فقرا مساکین کی دل جوئی کے لیے دو شعروں کا مزہ لے

Read more

ایک تھی بے نظیر !!

بھٹو کی بیٹی کو رخصت ہوئے سترہ برس ہو گئے۔ اس سے میری آخری ملاقات کو کم و بیش اٹھارہ برس ہو چلے ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران کتنے ہی واقعات قصہ ماضی بن کر حافظے کی لوح سے محو ہو گئے۔ کتنی ہی یادیں وقت کا سیل تند رو بہا لے گیا۔ بے نظیر بھٹو کو میں نے کتنی ہی بار دیکھا ہو گا۔ باپ اور بھائیوں کی قبروں کے سرہانے پر کھڑے، ڈھلکتے آنسو ﺅں کو تھامتے

Read more

گاہ کا موہنا

بظاہر جمعہ کے دن گاہ گاؤں میں کسی شخص کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن گاؤں کے لوگ صبح سے ہی راجہ محمد علی مرحوم کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہو گئے تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد تو پورا گاؤں ہی راجہ محمد علی کی بیٹھک پر امڈ آیا۔ ”ایسے لگتا ہے ہمارے گھر کا کوئی فرد فوت ہو گیا ہے“ ، گاؤں کے سکول کے ہیڈ ماسٹر الطاف حسین نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ 26 دسمبر کو ہندوستان

Read more

پچاس سال بعد صندوق سے خوشبو پھیل گئی

فرناندو پسوا پرتگال کے عظیم فلسفی، شاعر اور ادیب تھے، جو زندگی بھر تنہائی کا شکار رہے۔ انہوں نے عمر بھر لکھا اور لکڑی کے صندوق میں اپنے تحریری مواد کو ڈالتے رہے۔ یہ صندوق ان کا کل اثاثہ تھا۔ مرنے سے ایک سال قبل ”پیغام“ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی، جسے کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔ آپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے کئی کتابیں شائع ہوئیں، مگر ان کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

Read more

چوبیس دسمبر اور میرا مرحوم لختِ جگر

سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے تو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہا بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے سات سال سات مہینے اور دو دن یہی مختصر قیام تھا جو میرے بیٹے عبدالہادی نے اس فانی جہاں میں گزارا، گھر اور سکول میں وہ ایک منفرد بچہ تھا۔ وہ بچہ نہیں وہ ایک بہت بڑا انساں تھا اُسے ہر کسی کا خیال رہتا تھا۔ وہ میرے دوستوں کا

Read more

جنسی ہراسانی کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ”انٹرویو“ کتاب ”سربریدہ سائے“

نجمہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس کا والد فوت ہو چکا تھا جبکہ والدہ اکثر بیمار رہتی تھی۔ بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ سکول میں پڑھ رہے تھے۔ اس لئے گھر کی ساری ذمہ داری نجمہ کے کاندھوں پر آ پڑی تھی۔ چونکہ جمع پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی، اس لئے وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد کوئی نوکری مل جائے تاکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی تعلیم حاصل کرسکیں اور بیمار ماں کی

Read more

اُردو میں نسائی ادب کی اہمیت و افادیت

برصغیر کا روایتی معاشرہ ہو یا یورپ کا آزادانہ لبرل ماحول، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ازل سے ہی وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگا رنگی نظر آتی ہے۔ مرد و زن دونوں کا وجود لازم و ملزوم ہے۔ ایک سکے کے دو رخ اور ایک گاڑی کے دو پہیے، جیسے پھول میں خوشبو کا ہونا اور جسم کے لیے روح کا ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح مرد کے لیے عورت کا وجود بھی ضروری

Read more