خوشبو کی شہادت

شاعر انقلاب حبیب جالب نے کہا تھا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں اے دیدہ و رو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا یہ اہل حشم

Read more

ڈاکٹر جل ٹیلر کی سٹروک کی کہانی۔ دوسری قسط

ہسپتال میں علاج ڈاکٹروں نے میری تشخیص کے بعد مجھے میساچیوسٹ جنرل ہسپتال بھیج دیا۔ اس ہسپتال کی تیز روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ مجھ سے بہت سے سوال کیے گئے جو مجھے سمجھ نہ آئے اس لیے میں ان کا جواب نہ دے سکی جی چاہتا تھا کہ نرسوں اور ڈاکٹروں سے کہوں کہ آہستہ آہستہ بات کرو اور لفظوں کو چبا چبا کر بیان کرو تا کہ میں کچھ سمجھ سکوں۔ جب میں حد سے زیادہ پریشان

Read more

کیا ہم کبھی بھی بدل سکیں گے؟

میر صاحب نے گئے دنوں میں اپنی حالت زار پہ کہا تھا ”دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔“ لگتا تو یہ ہے کہ کہیں میر صاحب کے ذہن رسا میں مستقبل بعید میں بننے والے پاکستان کا نقشہ تو نہیں تھا۔ کچھ مصیبتوں کے لیے ہم (جائز وجوہات پر) اشرافیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن بہت سے ہمارے مسائل ہمارے اپنے زہر ناک رویوں کا نتیجہ ہیں۔ ٹریفک

Read more

بے نظیر سلامت تیری توقیر

نوحہ خوانی کرتی پرسہ دیتی صف ماتم بچھاتی آشفتہ حال کر گئی 27 دسمبر کی وہ اداس بے آس شام شفق کی سرخی بھی لال تھی۔ شاہ خاور بھی ڈوبنے کو بے تاب تھا ہر آنکھ اشک بار اور دل بوجھل تھا جیالوں کے علاوہ بیسیوں کے حلق میں آنسؤں کا ذخیرہ جیسے پھنس گیا تھا۔ سر نوچتے سینہ کوبی و بین کرتے بی بی کی جدائی کے نوحے پڑھتے سبھی ماتم کناں تھے۔ 27 دسمبر 2007 ء کی ظالم

Read more

حمیرا رحمن کی غزل پر ایک نوٹ

حمیرا رحمٰن کا پہلا شعری مجموعہ ”اندمال“ ٹھیک چالیس برس پہلے آیا تھا۔ اس مجموعے کی ایک غزل کا شعر ہے : سوچ کا کیسا کھیل تھا وہ بھی جو میں اپنے آپ سے کھیلی ”اندمال“ کے تیرہ برس بعد اُن کا مجموعہ ”انتساب“ آیا جبکہ زیر نظر تیسرے مجموعے ”بہت سے کام کرنے ہیں“ اور دوسرے مجموعے کے درمیان ستائیس برس پڑتے ہیں۔ میرا دھیان ان کے پہلے مجموعے کے مذکورہ شعر کی جانب یوں گیا ہے کہ شعر

Read more

غزل گوئی میں منفرد لب و لہجہ کا شاعر شکیب جلالی

اردو ادب میں جس شاعر کی خودکشی کے واقعہ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ شکیب جلالی تھے۔ ان کا اصل نام سید حسن رضوی تھا لیکن شکیب جلالی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ 1934 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک شاعر اور مترجم بھی تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز محض 15 یا 16 برس کی عمر میں کیا۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ”روشنی اے روشنی“ ان کی وفات کے چھ برس

Read more

موسیقی کی مسیحائی

(جہاں الفاظ ناکام ہوجائیں، موسیقی کلام کرتی ہے۔ ہانز کرسچن اینڈرسن) وقت ظالم ہے جو ایک گھر آنگن میں جیون بتانے والے بہن بھائیوں کو بیدردی سے دور پھینک دیتا ہے۔ کوئی امریکہ تو کوئی انگلینڈ تو کوئی پاکستان میں۔ دوری کے یہ داغ بہت سوں کی قسمت کا حصہ ہیں۔ لیکن فاصلے اور وقت کی سفاکی دلوں پہ لکھی انمٹ محبت کے گیتوں کو کیسے مٹا سکتی ہے۔ تین سال قبل لیڈز (انگلینڈ) سے بھابی نے بتایا کہ ان

Read more

پچیس ہڈیاں توڑنے والے جلاد پاکستانی باپ

دس سال کی عمر میں پچیس بار ہڈیاں ٹوٹ جائیں۔ سکول میں یہ بتانا پڑے کہ پین سے چوٹ لگ گئی تھی گر گئی تھی کیسا محسوس ہوتا ہے۔ ایک دس سال کی بچی کا ذہن کیا سوچتا ہے اس کے دل پہ گزرتی کیا ہے جب اس کی زندگی ایک ترقی یافتہ سماج میں رہتے ہوئے بھی ظلم کی اتھاہ گہرائیوں کو اس لیے چھو لیتی ہے کہ اس کے باپ کا تعلق ایک ایسے سماج سے ہے جو

Read more

شاہدرہ اور ترلوک شاہ کے یار

شاہدرہ اب گراموفون کا وہ پرانا ریکارڈ ہے جسے صرف دل کی تسلی کے لئے سنبھال رکھا ہے۔ کچی پکی پگڈنڈیاں اب تارکول کی دبیز تہوں میں میرے اس بچپن کے ساتھ دفن ہیں۔۔۔ جس کی میں نے صرف آرزو کی تھی۔ اس باغ دلکشا میں اب ہر طرف پینا فلیکس ہیں، موبائل ٹاور ہیں اور شور مچاتے رکشے۔ نہیں ہے تو وہ کشادگی جسے دل ڈھونڈتا ہے۔۔۔۔  ٭ ٭٭    ٭٭٭  شاہدرہ کی کہانی ریل کی پٹڑی سے کچھ جڑی

Read more

سعیدہ گزدر۔ ترقی پسند ادب کا ستارہ

پاکستان میں ترقی پسند خیالات کے داعی ایک ایک کر کے ہم سے بچھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ راحت سعید جو ”ارتقا“ ادبی و سماجی مجلے کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ترقی پسند تحریک کو جاری رکھنے میں مصروف عمل تھے 23 اکتوبر کو کوچ کر گئے۔ اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر بائیں بازو کی سیاست اور ترقی پسند ادب کی مایہ ناز شخصیت سعیدہ گزدر بھی روانہ ہو گئیں۔ اُن کا انتقال 7 نومبر 2024

Read more

معطل آدمی کے خواب

یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا  کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے مٹی

Read more

باورچی خانے میں تلا گیا ناول : نعمت خانہ

اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ میں نے کبھی اُن دونوں پر اتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔ اتنے بڑے بڑے احسان! اف! اتنے بڑے بڑے دھبے۔ ” دو دو قتل۔ ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔ مگر اُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔ میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اور بس، اور

Read more

منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا ذمہ دار کون؟

گزشتہ روز مقامی تھانہ کی پولیس چوکی میں نئے تعینات ہونے والے سب انسپکٹر عبدالرؤف سے ملاقات ہوئی۔ گپ شپ کے ساتھ ساتھ زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کا تبادلہ جاری تھا کہ ایک انتہائی ضعیف خاتون ایک نوجوان شخص کے ساتھ اندر داخل ہوئی اور رونا شروع کر دیا۔ آتے ہی چوکی انچارج کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے فریاد کناں ہوئی کہ میرا بیٹا منشیات کا عادی ہے، اس نے مجھے زد و کوب کیا ہے اور مبلغ

Read more

امریکہ یورپ جیسے کیوں نہ بن سکے انڈیا اور پاکستان؟

  ایک عورت ہمارے گھر وقتاً فوقتاً امداد مانگنے کے لیے آتی ہے۔ ہم خود سفید پوش لوگ ہیں تاہم جو میرے بس میں ہوتا ہے راہِ خُدا تعاون کر دیتا ہوں۔ دو بالغ بیٹے اور ایک جوان بیٹی کی ماں ہے۔ کہتی ہے میں اپنے بیٹوں کو پڑھا رہی ہوں۔ خود آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پہ ایک گھر میں بطور باورچن کام کرتی ہے اور شوہر بہاول پور کے حسینی چوک پہ روزانہ جا کے مزدوروں کے ساتھ

Read more

روح کو سیراب کرنے والا بہتا دریا ذاکر حسین اب نہیں رہا!

میری کیا اوقات کہ استاد ذاکر حسین (میرے لیے ذاکر بھائی!) کے بارے میں کچھ کہوں۔ جو سچ مچ کچھ کہہ سکتے تھے اور سولہ آنے درست وہ ان سے پہلے ہی ہمیں چھوڑ چکے۔ بہترین خراج تحسین پنڈت شیو کمار شرما (سنتور کے بھگوان) ہی پیش کر سکتے تھے۔ ذاکر بھائی نے ان کے ساتھ کم و بیش ساڑھے تین سو کنسرٹ بجائے۔ شیو جی کہتے تھے میں ذاکر کے گھر چلا جایا کرتا تھا۔ ان کی امی سے

Read more

مجھے میری مرضی کے بغیر پیدا کیوں کیا؟ مکمل کالم

انسٹاگرام ایک ایسی بلا ہے کہ اگر آپ اِس پر کسی ویڈیو یا چٹکلے کو ایک مرتبہ پسند کر دیں تو پھر یہ آپ کو اُسی قسم کی چیزوں دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ مثلاً اگر آپ مزاحیہ ویڈیوز پسند کرتے ہیں تو یہ اُن ویڈیوز کی بھی درجہ بندی کر کے ٹھیک آپ کے مزاج کے مطابق چٹکلے بھیجے گا اور تب تک بھیجتا رہے گا جب تک نیند سے بے حال ہو کر آپ موبائل فون بند نہیں

Read more

"اسد محمد خان اور ”رگھوبا اور تاریخ فرشتہ

اسد محمد خان اپنے افسانے ”رگھوبا اور تاریخ فرشتہ“ میں حقیقت نگاری کو اختیار کر کے اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی تقدیر الجھے ہوئے بالوں کی مانند ہے اور چاہے ہم ان الجھے ہوئے بالوں کو اپنی پوری قوت سے کنگھی کرنے کی کوشش کریں تو بھی ہم بالوں کی الجھی ہوئی اذیت کی گرہ کو نہیں کھول سکتے۔ لیکن جب ہم ضعیف ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسی تکلیف کی گرہ

Read more

کاش کہ آصف نے ہیلمٹ پہنا ہوتا

میری داڑھ میں شدید درد تھا درد سے جان نکلی جا رہی تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ حالاں کہ گھر کے قریب ہی ایک ڈینٹسٹ کی دکان موجود تھی لیکن وہاں کیوں کر جاتی جیب میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ شام کو گھر والا جو کچھ بھی کما کر لاتا اس سے دال روٹی چل جاتی۔ مہنگائی آسمانوں پر ہے اور کاروباری سرگرمیاں کہیں پاتال میں گم ہیں۔ پیسے آئیں تو کہاں سے آئیں۔

Read more

ڈوبتا مستقبل: سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

ازل سے بے سمت جستجو کا سفر ہے درپیش پانیوں کو کسے خبر کس کو ڈھونڈتا ہے میری طرح رائیگاں سمندر اچھے مستقبل کی خواہش کسے نہیں ہوتی لیکن یہ خواہش جان لیوا ہو جائے تو سب کچھ ڈوب جاتا ہے۔ یونانی جزیرہ کریٹ کے جنوب میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتیاں الٹنے کا جان لیوا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے نوجوان مایوسی اور نا امیدی کے شکار ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے جائز طریقے

Read more

یونان حادثہ: خواہشات کی غربت

مجھے میرا بیٹا چاہیے، مجھے کچھ نہیں چاہیے، یہ الفاظ اس ماں کی زبان سے ادا ہو رہے تھے جس کا بیٹا یونان کشتی حادثے میں لاپتہ تھا۔ یہ الفاظ ہر سننے والے کا سینہ چھلنی کر رہے تھے۔ اپنے گاؤں میں عالیشان عمارتوں اور گاڑیوں کی ریل پیل دیکھتے ہوئے سکول کو قبل از وقت خیر باد کہہ کر سنہرے سپنے سجائے یورپ کی ڈنکی لگانے کا فیصلہ کیا تو خاندان کے لوگ بلائیں لیتے اس کو الوداع کہنے

Read more

ابا کے پیٹ پر دو لاتیں

جاوید میرے شوہر کے دفتر میں ہی کام کرتے ہیں وہ دونوں اٹھ گھنٹے جب ساتھ گزارتے ہیں تو دفتری باتوں کے علاوہ بہت ساری ایسی باتیں بھی ہو جاتی ہیں جس میں گھریلو باتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں اور وہ باتیں بھی شیئر کر لیتے ہیں جو کہ شاید ہم کسی سے بھی نہ کریں وجہ یہ ہے کہ جب زیادہ وقت آپ کسی کے ساتھ گزارتے ہیں تو آپ اس کے ساتھ بہت زیادہ فرینک ہو جاتے

Read more

خواہشوں کے لاشے۔ لاپتہ افراد کو بھی مرنے والوں میں ہی شمار کیا جائے

ٹی وی اسکرین پر یہ لائن کبھی گھومتی ہوئی کبھی چکراتی ہوئی بار بار نمودار ہو رہی ہے۔ اس کے نیچے ہی ایک اور لائن نے بھی منہ چمکانا شروع کر دیا ہے کہ ”مرنے والوں میں 45 پاکستانی بھی ہیں“ ۔ اس اعزازی سطر کے نیچے ایک اور فخریہ سطر بھی چل رہی ہے کہ مرنے والے لیبیا کا باقاعدہ ویزا لے کے گئے تھے۔ ٹی وی کی یہ اسکرین کبھی کبھی مجھے قصائی لگنے لگتی ہے۔ جذبات احساسات

Read more

حمید خالو کے کچالو

ہر خاندان میں عموماً ایک جھکّی ہوتا ضرور ہے اور خدا کی قدرت دیکھیے زیادہ تر وہ بھی مرد۔ مردانگی کے زعم میں اِن کی جھک وقت کے گزرنے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور پھر یہ جھک اپنی معراج پر پہنچ کر اچھی خاصی سنک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ خاندان بھر میں اِن کی جھک کے قصے اِن کی زندگی میں ہی مزے لے کر سُنائے جاتے ہیں اور اگر اِن جھکی حضرت کی اولادیں اور اولادوں کی

Read more

ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا

کہانی پینتالیس سال قبل کی ہے۔ پیپلز کالونی فیصل آباد میں گھر فروخت کیا تو اس میں لگے فون کو اپنی دکان پہ منتقل کرنے کی درخواست کے ساتھ محکمہ کی اجازت کے مطابق یہ بھی درخواست ڈال دی کہ منتقلی تک کی درمیانی مدت کے لئے فون عارضی طور بند رکھا جائے۔ تین چار ماہ انتظار اور دفتری چکروں کے بعد ایک دن لائن مین آئے اور اور فون کی کیبل فٹ کر فون لگاتے یہ خوش خبری بھی

Read more

فورٹی رولز آف لو (چالیس چراغ عشق کے ) ایک موضوعاتی مطالعہ

فورٹی رولز آف لو اگر ایک عام قاری پڑھتا ہے تو اسے یہ وہم لازمی ہوتا ہے کہ اس نے کوئی کلاسیک ادبی شاہکار پڑھ لیا ہے۔ لیکن اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ فورٹی رولز آف لو نے ایلف شفق کو عالم گیر شہرت دی ہے۔ لیکن کوئی کتاب مشہور ہو جائے تو یہ اس کے شاہکار ہونے کا پیمانہ نہیں ہے۔ ناول فلسفہ، تصوف، عشق، روحانیت، شاعری اور اس کی اثر پذیری، قدیم

Read more

سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا

شہر میں اس دانش ور، نقاد، محقق اور مترجم کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ملنے کی سبیل ڈھونڈنے لگے۔ تگ ودو کے بعد رابطہ ہوگیا۔ ان سے ملاقات، جس بھی جگہ پر ہوئی، بجلی کو غیر حاضر پایا۔ دیال سنگھ لائبریری میں ان سے ملنے پہنچے تو وہ اندھیرے میں داخلی دروازے سے آنے والی روشنی کی مدد سے لائبریری کارڈ کیٹلاگ دیکھتے پائے گئے۔ پنجاب پبلک لائبریری میں بھی دو ڈھائی دن وہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تندہی

Read more

ابو العلاء المعری: بصارت سے محروم اور بصیرت کا امام

ابو العلائ المعری عربی شاعری میں بقائے دوام کے دربار کی صف اول کا بے بدل چہرہ ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور گیارہویں صدی میں وفات پائی۔ کہاں کا باشندہ تھا؟ بھائی، یہی ملک شام جہاں کے حالیہ سیاسی مدوجزر پر ان دنوں انقلاب اور ارتقا کی حرکیات سے ناآشنا طفلان گلی کوچہ نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اور ملک شام میں بھی شہر حلب کا باسی جہاں زہد و پارسائی کی توبہ شکن حسینہ کے چند

Read more

نازیبا لیک ویڈیوز، انفرادی فعل، اجتماعی نقصان

پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کی ترقی سے بہت سے مسائل کا حل ممکن ہوا ہے، وہیں کچھ ایسے آلات اور جدید ٹیکنالوجی بھی آئیں جس کے بہت سے نقصانات ایسے ہیں جو پورے معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے کافی سمجھے جا رہے ہیں، ماہرین کے مطابق کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرتی رویوں اور انسانوں کی ذاتی تعلیم و تربیت کے مطابق ہوتا ہے، خرابی ٹیکنالوجی میں نہیں انسانی رویوں اور اعمال پر منحصر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی جس میں

Read more

سانحہ گنانگر شانگلہ

میں نے کل اپنے جسم کو دشمن کی بے رحم گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا۔ میں نے رات کی تاریکی میں بے بسی سے اپنی جان نکلتے دیکھی۔ میں نے پھر خون میں لت پت اپنی لاش کو دیکھا۔ میں نے اپنے آپ کو شہید ہوتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ خون میں لت پت میری لاش کو ہسپتال لے جایا گیا وہاں پر میرے زخموں کی مرہم پٹی کی گئی۔ پھر دیکھتا ہوں کہ مجھے غسل دیا جانے لگا

Read more

چگی داڑھی بکری اور جمہوری غزال

یہ بات ہمیشہ حیران کرتی تھی کہ گھر میں دادا اور ان کی سب اولاد قد کاٹھ ، خدوخال اور رنگ روپ میں ہیٹے تھے لیکن دادی کا قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا تھا اور رنگ میدہ شہابی تھا۔ ایک کم عمر بچہ کیسے جانتا کہ دادی ایک یتیم کشمیرن بچی تھی جو حالات کی نامعلوم موجوں پر بہتی مشرقی پنجاب میں لدھیانہ تک آئی تھیں۔ گرمیوں کی شاموں میں چھت پر پانی کا چھڑکاﺅ ہو جاتا تھا۔ دادی

Read more

سلمی اعوان کا ناول: تنہا

سقوط ڈھاکہ کو پچاس سال مکمل ہو چکے ہیں۔پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پہ یہی موضوع زیر بحث ہے۔اس موضوع کو لے کے فلمیں اور ڈرامے بنائے جا رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ہر تکلیف، ہر دکھ کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔لیکن یہ ایک ایسازخم ہے جس پہ کھرنڈ نہیں جم سکا۔جس کے لئے کوئی مرہم کارگر ثابت نہیں ہوا۔تکلیف کااحساس پہلے دن کا سا ہے۔ چند دن پہلے اسی موضوع پہ "سلمی اعوان صاحبہ” کے

Read more

پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان: ہسپانوی ادب کے شاہکار کا اردو ترجمہ

کامیلو ہوزے چیلا کی تصنیف ’دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے‘ ایک ایسی کہانی ہے جو تشدد، تقدیر اور مایوسی کے موضوعات کو دیہی ہسپانوی پس منظر میں پیش کرتی ہے۔ کامیلو ہوزے چیلا، اسپین کے اہم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ناول اس وقت لکھا جب اسپین شدید کشمکش کا شکار تھا۔ 1942 میں شائع ہونے والے اس ناول کا تعلق ہسپانوی خانہ جنگی ( 1936۔ 1939 ) سے ہے، جو اسپین کے معاشرتی تانے بانے پر

Read more

ماں کا غم (سانحہ آرمی پبلک اسکول)

  ہمیشہ کی طرح محتشم کو اسکول چھوڑا، گیٹ پر موجود چوکیدار بابا ہم ماں بیٹے کے جلدی جلدی گیٹ اور پھر سیڑھیاں چڑھنے پر مسکراتے رہے۔ میں بار بار محتشم کو یاد دلاتی رہی کہ دیکھو اب دیر ہو رہی ہے، جلدی جلدی تیار ہوا کرو نا اور محتشم ہمیشہ کی طرح اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے، میرے قدموں سے قدم ملانے کی کوشش کر رہا تھا اور پھر میں نے اس کا بیگ اپنے کندھے سے اتار کر

Read more

خطرناک سڑکوں پر بجھتے چراغ

بلوچستان کی سرزمین جہاں محبت کی خوشبو ہر گھر سے اٹھتی ہے آج آنسوؤں اور جدائی کے قصے سنا رہی ہے۔ وندر کی سنگل لین شاہراہ اور لیاری روڈ پر وہ مناظر پیش آئے جنہوں نے دلوں میں درد، محبت میں بے بسی، اور آنکھوں میں خوف بھر دیا۔ یہ حادثات محض گاڑیوں کے ٹکراؤ نہیں بلکہ محبت کے چراغوں کے بجھنے کی دردناک داستان ہیں۔ بہنیں جو ایک دوسرے کے لیے محبت، خدمت، اور قربانی کا مجسمہ تھیں اپنی

Read more

ذکر فلسفے سے بیوفائی کا

فلاسفی کو تمام علوم کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ مذہب، سائنس، ریاضیات، فلکیات، تاریخ نویسی چاہے ادب و فن ہو، ان تمام علوم نے فلسفے کے شکم سے ہی جنم لیا ہے فلسفہ کا علم ایک ایسی کشادہ شاہراہ ہے جس کہ ذریعے انسان ذہانت، دانشمندی اور آگاہی کہ دیس میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل سچ اور حقیقت کی جستجو اور تلاش ہی انسان کو فلسفے کی جانب راغب کرتی ہے۔ انسان نے جب کبھی بھی فلسفے کی عینک

Read more

عشق کی تقویم اور گوڈیل کا نظریہ حیات بعد الموت

پوسٹ ٹروتھ کے اس ہنگام میں جب کہ معلومات، علم، اور حکمت کے درمیان شناخت کی سرحدیں مٹ رہی ہیں، ہر ذی شعور انسان ایک ان دیکھے وجودی بحران میں مبتلا ہے۔ ترک ناول نگار، الف شفق، کے مطابق بعض اس کا ادراک نہیں کر پا رہے ہیں اور بعض جان بوجھ کر باقی صدیقی کے اس شعر کی جیتی جاگتی مثال بنے ہوئے ہیں : کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو مغربی ایشیا

Read more

!سستی بجلی بھی مبارک ہو پاکستانیو

جب تاریخ کے دھندلکوں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں ایسے نادر نظارے نظر آتے ہیں جہاں بادشاہوں کے دربار میں ہر حکم کی تعمیل کی جاتی، گویا کوئی مذاکرہ، کوئی مکالمہ، یا خدانخواستہ کوئی سوال پوچھنا گناہِ کبیرہ ہو۔ ہم آج بھی ارض پاک پر انہی معتبر روایات کے وارث ہیں، جہاں ”بڑے بھائی“ کی مہربانیوں کی برکت سے ہم سب نہ صرف نفسِ مطمئنہ سے بہرہ مند ہیں بلکہ ”ارزاں برقی رو“ کی اُس کہکشاں میں داخل ہو چکے

Read more

خواب سے خواب تک (آٹوبائیوگرافک افسانچہ)

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

ماضی کی خوش مزاج جیا امیتابھ بچن اتنی چڑچڑی کیسے ہو گئیں؟

ایک زمانہ تھا جب ہندی فلموں کی خوبصورت، بھولی بھالی، دلکش اور باوقار فلمی ہیروئن جیا بچن فلم بینوں کی جان تھی۔ لیکن اب نرم اور دھیمے مزاج کی جیا ایک چڑچڑی اور غصہ ور عورت میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اپنی بد مزاجی اور چڑچڑاہٹ کی وجہ سے وہ لوگوں کی تنقید کا موضوع بن گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو پہ کمنٹس میں انہیں فریسٹریٹڈ، ”گڈی“ کی ہیرؤین سے گھمنڈی اور بد دماغ

Read more

ایکسپو سنٹر میں انٹرنیشنل نمائش اور برسلز میں ڈھابہ

ایک خاتون میرے قریب آئی اور بولی السلام علیکم! انکل کیا حال ہیں آپ کے۔ وعلیکم السلام الحمدللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ انکل میں سارا کی امی ہوں آپ کب آئے ہیں اور کب تک یہاں ہیں؟ میں نے اُسے بتایا کہ میں اگلے ہفتے واپس پاکستان جا رہا ہوں تو وہ بولی ٹھیک ہے ہم اس ویک اینڈ پر اکٹھے مل کر کھانا کھانے کا پروگرام بناتے ہیں۔ میں اس وقت ضوحا کو لینے کے لیے اس کے سکول

Read more

ناصر ادیب نے ریما سے معافی کیوں مانگی؟

آج کل معروف فلم ڈائریکٹر، رائٹر، شاعر ناصر ادیب تنقید کی زد میں ہیں، انہوں نے ایک اداکارہ کے بارے میں انتہائی نامناسب گفتگو کی جو آج کل دولت کی ریل پیل کی وجہ سے ملک پاکستان کیا دنیا کی معزز ترین اور خاندانی خاتون بن چکی ہے، ناصر ادیب نے چند روز قبل ایک پوڈ کاسٹ میں پاکستان فلم انڈسٹری کی ماضی کی یادیں بتائیں، ناصر ادیب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، پاکستان کی فلمی دنیا کا بہت

Read more

ایلون مسلک کی بنائی روبوٹ خاتون اور پاکستانی خاتون کے درمیان کیا فرق ہے؟

یہ سوال ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے اپنی فیس بک وال پر شیئر کیا ہے، جس کے جواب میں ”کی بورڈ اصلاح پسند“ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں، سوال کو سمجھنے کی بجائے ٹھٹھے اڑائے جا رہے ہیں۔ معروف بھارتی دانشور جاوید اختر نے ایک بار کہا تھا کہ ”شادی“ تو محض ایک رسم کا نام ہے، اس سے زیادہ رشتے میں دوستی، برابری اور اخلاص کی اہمیت ہوتی ہے، مشرقی روایات میں شادی کا مطلب جبری بندوبست ہوتا

Read more

ہیلتھ انشورنس کمپنی کے سربراہ کا قتل: امریکہ کے کرپٹ ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے لمحہ فکریہ

یہ واقعہ کسی خاموش سنسان شہر کا نہیں بلکہ ہمہ وقت جاگتے نیویارک سٹی کے علاقہ مڈ ویسٹ مین ہٹن کا ہے جہاں 4 دسمبر بدھ کی صبح چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ ہلٹن ہوٹل سے مشہور ہیلتھ انشورنس کمپنی کا پچاس سالہ سی ای او، برائن تھامسن اپنی کمپنی کے ساتھ ہونے والی سالانہ انویسٹرز کانفرنس میں شرکت کر کے نکل رہا تھا۔ اس کو بھلا کیا خبر تھی کی اس وقت دولت کے بجائے موت اس کے تعاقب

Read more

چلو چلو دینہ چلو۔ گلزار کا دینہ: قسط نمبر دو

گھر جاتے ہوئے ہم دونوں خاموش تھے۔ چپ چاپ گمُ سُم۔ کیا کریں؟ صبح شام کام کیسے کریں گے۔ ساتھ میں حمل۔ نئی نئی شادی۔ رہنے کے لیے تیسری منزل پہ بنا ایک کمرہ۔ لیکن تنخواہ دس ہزار، رہائش اور بلز فری۔ کتنی جلدی پیسے جمع ہو جائیں گے۔ کیا کریں؟ کیا کریں؟ امی سے پوچھیں کہ ابا سے؟ یا پھر آپا سے؟ اور کام؟ گائنی میں محض چھ ماہ ہاؤس جاب کیا ہے۔ گائنی کا ابتدائی کام وہ بھی

Read more

موت، محبت اور مزاحمت کی نظمیں

مجھے لاہور کے دانشور اور سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے جو ساری دنیا کے مختلف ممالک کے بیس شاعروں کی ساٹھ نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں کے مجموعے کو پاکستان کی شاعرہ رمشا اشرف نے مرتب کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے دو ہزار سترہ میں لکھاریوں کے بین الاقوامی پروگرام میں خود بھی شرکت کی تھی اور اس اینتھالوجی میں ان کی اپنی معنی خیز نظمیں بھی شامل ہیں۔ اس مجموعے

Read more

صادقہ نصیر کی کتاب روزمرہ کی نفسیات

کتاب ”روزمرہ کی نفسیات“ میں صادقہ نصیر صاحبہ نے انسانی شخصیت، جذبات، رویوں اور نفسیاتی مسائل کو عام فہم اور سائنسی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف نفسیاتی علم پر مبنی ہیں بلکہ معاشرتی حقیقتوں کا آئینہ بھی ہیں۔ زیرِ بحث مضامین، جیسے ”مشاہدۂ باطن“ ، ”اوسط ذہانت کے لوگوں کے عمومی رویے اور خصائل“ ، ”حسد انسانی شخصیت کا منفی پہلو“ اور دیگر، انسانی رویوں کی گہرائی اور ان کے معاشرتی اثرات کو نمایاں کرتے

Read more

میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے

شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی پٹیل فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں ) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے

Read more

بھارتی اور پاکستانی معاشرہ مایوسی کی طرف کیوں جا رہا ہے؟

انسان فطرتاً دھرتی کا بیٹا ہوتا ہے۔ وہ دھرتی وہ علاقہ اُس کے دل سے کبھی نہیں نکل پاتا جہاں وہ پیدا ہوتا ہے جہاں پلا بڑھا ہوتا ہے۔ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر امریکہ اور یورپ جا بستے ہیں، بہت زیادہ دولت کماتے ہیں لیکن وہاں تمام تر آسائشوں کے باوجود ان کا دل مسلسل اپنے وطن کے اُس شہر یا گاؤں میں اٹکا رہتا ہے جہاں ان کا بچپن بیتا ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک پہ کوئی مشکل

Read more

باغی بلوچ، بد امن بلوچستان

سنو اے راہِ راست کے بے زبان دانشورو! اے جگر سوز لمحات کے نایاب مسافرو! میں حق و باطل کا فرق بھول گیا، میں تلوار تو لے آیا کفن بھول گیا۔ سنو آج زمین لرز نہ جائے تو بھی حیرت ہے یہ روتے بلکتے مسافروں کی آخری صدائیں ہیں، انہیں سمیٹ لو یہ وہ موتی ہیں جو کل تمھارے دامن سے بھی چمٹ سکتے ہیں۔ اے راہ راست کے دانشورو! آج پھر میں مجبور ہوا۔ میرے ضمیر نے مجھے زنجیر

Read more

تعصب کی نفسیات اور سماجی اثرات

تعصب سماجی نفسیات میں زیر بحث آنے والا اہم موضوع ہے۔ جس کو سمجھنے کے لئے کئی پہلو ہیں۔ تعصب یا Prejudice انسانی سماج میں بقا کے لئے استعمال ہونے والا ایسا منفی نفسیاتی احساس ہے جو کسی سماج یا سماج کی کسی اکائی میں فرد اپنی کم مائیگی پر قابو پانے کے لئے ایسے خیالات اور احساسات کو اپنے اندر اجاگر کرتا ہے یا سمو لیتا ہے جس سے اس کو احساس تفاخر ملتا ہے جو نتیجتاً اس کے دماغ

Read more

فیصل آباد، کج روی، آوارگی، لائل پور

گزشتہ دنوں سرکاری فرض کی بجا آوری کے لیے تعلیمی بورڈ، فیصل آباد پہلی دفعہ جانا ہوا۔ جھنگ روڈ، ہوائی اڈے کے پاس شہر کے ایک کونے میں جانا ایسے ہی ہے، جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر۔ دفتر داخل ہوتے ہی بلند و بالا عمارت کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھے بورڈ کے نام میں کج روی دیکھ کر ذہن کو عجیب سا جھٹکا لگا۔ ہر ڈویژن کے تعلیمی بورڈ پر دُرست عبارت ایسے لکھی ہوئی

Read more

گونگے کا خواب: طارق بلوچ صحرائی کی کتاب

  کتب کے مطالعے اور تحریر کے اپنے ذوق کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اب یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ گزشتہ دنوں فیس بک کی میموریز میں ایک پرانی تحریر سامنے آئی، جس میں، میں نے ایک کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔ یہ کتاب معروف مصنف طارق بلوچ صحرائی کی ہے، جس کا نام ”گونگے کا خواب“ ہے۔ یہ کتاب میں نے 2017 میں پڑھی اور اس پر ریویو لکھا تھا۔ اس

Read more

ٹھوکر کامیابی کا پہلا سبق ہوتی ہے

  ٹھوکر کسی پتھر سے اگر کھائی ہے میں نے منزل کا نشاں بھی اسی پتھر سے ملا ہے کہتے ہیں کہ ٹھوکر وہ نعمت ہوتی ہے جو ہمیں دیکھ بھال کر چلنے کا سبق دیتی ہے۔ ایک تو راستے کی رکاوٹوں اور مشکلات کا پتا چل جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایسی صورت میں سنبھالنے والے اور چھوڑنے والے ہاتھوں کی پہچان بھی ہو جاتی ہے۔ زندگی میں ٹھوکریں سب کو کہیں نہ کہیں ضرور لگتی ہیں

Read more

پِٹ سیاپا!

رونا دھونا، خود ترسی و خود رحمی، خود کو برا بھلا کہنا، اپنی تحقیر کرنا آج کل ہمارے قومی رویے ہیں۔ ہر بندہ جو کہ خود اسی قوم کا حصہ ہے، وہ درج بالا کام زوروشور سے کرتا ہے اور اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ بھی اس میں شامل ہے۔ جیسا کہ ہمارے پسندیدہ جملے ہیں : یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، (بھائی آپ بھی اسی کا حصہ ہیں ) ۔ یہ قوم نہیں، بھیڑ بکریاں

Read more

سیاست اور بچے

پاکستان میں رہتے ہوئے ایک بات تو یقینی ہے کہ کوئی بھی محاورہ، بات، ضرب المثل کسی بھی وقت رد ہو سکتی ہے۔ دہائیوں تک لوگ یہی کہتے اور عمل کرتے آئے ہیں کہ بچوں کا سیاست سے کیا علاقہ۔ باپ، ماں، بھائی، بہن، چچا یا خاندان کے دیگر لوگ اگر کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتے بھی ہیں تو ان کے بچے گلی محلے میں ہوں، گاؤں میں یا سکول میں، اس کے اثرات سے ہمیشہ محفوظ رہے۔ سیاستدان

Read more

سب ماں باپ عظیم نہیں ہوتے

انیقہ کی نندوں نے اس کے ہاتھ پکڑ رکھے تھے، ساس نے بازو، شوہر کے ہاتھ میں بیلٹ تھی جس سے وہ اس کی ٹانگوں پیٹ اور بازو پہ وار کر رہا تھا۔ سسر ہاتھوں اور لاتوں سے مار رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر میرے پاؤں تلے سے زمیں نکل گئی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا کیونکہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ میری بیٹی نے کبھی بتایا ہی نہیں تھا کہ جنید اس پہ تشدد کرتا ہے۔

Read more

خانگی زندگی کے بڑھتے مسائل

آج کل فیملی کیسز کی تعداد عدالتوں میں بہت بڑھ گئی ہے۔ شادی کے چند دن بعد ہی طرح طرح کے مسائل لے کر میاں بیوی ہم وکیلوں کی جیبیں بھرنے آ جاتے ہیں۔ آج ایک مقدمہ میں گھنٹوں دونوں میاں بیوی کو یہ سمجھاتی رہی کہ شادی شدہ زندگی میں مسائل ہوتے ہیں۔ لیکن ہر مسئلہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے ہیں۔ اتنے کم وقت میں ایک دوسرے کو حتمی طور پر چھوڑ دینے کا

Read more

بیٹی کا جنازہ

ہمارا ایک ہی بیٹا ہے حاجی صاحب، اس کے سارے ارمان پورے ہونے چاہیے۔ شیخ صاحب آپ فکر ہی نہ کریں، ہم اپنی بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کریں گے۔ حنا کے ابو نے سلامت کے باپ کو تسلی دی۔ اچھا تو پھر حق مہر کی بات ادھر ہی فائنل کر لیں، وہ نہ ہو ہم بارات لے کر آئیں اور آپ بھاری ڈیمانڈ رکھ دیں۔ سلامت کے باپ نے حق مہر کے قصے کو یہیں لپیٹنا چاہا۔

Read more

افسانوی مجموعے ”انگارے“ کا موضوعاتی مطالعہ

اردو ادب کے فروغ کے لئے بہت سی تحریکوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے جس میں ایک نمایاں نام ترقی پسند تحریک کا ہے۔ ترقی پسند تحریک رومانوی تحریک کی ضد تھی۔ اس کا بنیادی طور پر آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے زندگی کے مادی وجود سی نجات حاصل کر کے تخیل کی دنیا میں قدم رکھنا شروع کیا اور اپنے اصل سے غافل ہو گئے۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر آئی وہ دراصل 1917 میں

Read more

وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور ہونہار سکالرشپ پروگرام!

مریم نواز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالے کم و بیش 10 ماہ ہو چلے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جب مریم نواز کو وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے نامزد کیا تب صحافتی اور سیاسی حلقوں میں یہ خبر خاص طور پر زیر بحث آئی تھی۔ ناقدین نے اس نامزدگی کو خوب ہدف تنقید بنایا۔ سیاسی مخالفین کی تنقید سے قطع نظر، بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ پنجاب جیسے اہم اور بڑے صوبے کے

Read more

اوسلو میں فرگنر پارک کی سیر

آج میرا یہاں آخری دن تھا۔ کل میں لکسمبرگ واپس جا رہا تھا۔ آج ہم یہاں فرگنر پارک دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ اوسلو کے جنوبی ضلع میں واقع اوسلو کا سب سے بڑا پارک ہے۔ جو 32 ہیکٹر رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہ سیاحوں کے لیے رات دن ہر وقت کھلا رہتا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے کوئی ٹکٹ بھی نہیں ہے۔ اس پارک کی شہرت کی اصل وجہ اس میں موجود گسٹووائج لینڈ سکلپر پارک ہے۔ جہاں گسٹو

Read more

کیا اتفاق واقعی اتفاق ہے؟

صبح کے دس بج رہے تھے۔ میں دفتری انتظار گاہ میں بیٹھا، اخبار پلٹ رہا تھا۔ ایک دفتری داخل ہوا اور بتایا کہ اب آپ کی باری ہے، آپ میٹنگ روم میں تشریف لے جائیں، دائیں طرف تیسرا کمرہ ہے۔ برآمدے میں مختلف دروازے تھے، جن کے باہر ان دفاتر کے عہدیداروں کے نام نہ تھے بلکہ عُہدوں کے نام تھے۔ اُس برآمدے میں فرد کچھ نہ تھا، منصب کی اہمیت تھی۔ تیسرے دروازے کے باہر دیوار پر میٹنگ روم

Read more

جشن پنجاب جس میں پنجاب کی ثقافت نہیں تھی

ثقافت کسی کی معاشرے یا تہذیب کا چہرہ ہوتی ہے، اس سے اُس معاشرے کے رہنے والے لوگوں کے رہن سہن، رسم و رواج کی عکاسی کی جاتی ہے، دنیا بھر میں لاکھوں تہذیبیں موجود ہیں ان میں سے کئی فنا ہو چکی ہیں جن کے آثار دنیا بھر میں اب بھی محفوظ ہیں، پاکستان میں ہڑپہ، موہنجوداڑو، اور بدھ مت کی قدیم ترین تہذیبوں کی باقیات اب بھی محفوظ ہیں، ہر تہذیب کی ایک ثقافت ہوتی ہے جو اس

Read more

کاہے کو بیاہی بدیس

میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔ تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ اندھیری رات کی کالی چادر اوڑھے پیار کا یہ پہلا اظہار تھا۔ وہ الگ ہوئی تو پہلا جملہ تھا، ”مجھے اماوس کا آسمان بہت پسند ہے۔“ ”اماوس ہی کیوں؟“ ”یہ اندھیرا راز محبت کی پردہ داری کرتا ہے، جذبات کے لیے حجاب بن جاتا ہے۔“ ”کالی ٹھنڈی اماہ

Read more

پھر کسی شخص کی یاد آئی ہے

ہمارے مورث اعلیٰ کا تعلق ضلع نگر کی قدیم اور اولین آبادی گاؤں چھپروٹ سے ہے۔ ہمارا قبیلہ اب بھی ”ممورے“ کے نام سے ایک کثیر تعداد میں آباد ہے۔ جب خاندان کے افراد کی تعداد کچھ بڑھ گئی تو میرا دادا عون علی رابٹ بالا تبدیل ہو گئے اور مدتوں یہاں رہنے لگے۔ آس پاس سبھی رشتہ دار تھے۔ گھر کے ساتھ امام باڑہ گاہ تھی۔ قریبی نہر میں صاف شفاف پانی بہتا رہتا تھا۔ میوہ جات کی فراوانی

Read more

بوسے عارض گلفام کے

پچھلے برسوں ایک” ایتھے۔ چُمّی۔ اوتھے۔ ٹھا“ قسم کی جسٹس جاوید اقبال کی ایک نیب زدہ ویڈیو ریلیز ہوئی تو ایک شعر ہر قسم کی وردی، بے وردی، انصافی انتظامی بیوروکریسی کے ممبران، یہ کم بخت مردوے سرکاری اہل کار ایسے اللہ لوگ ہیں کہ جیسے سیٹھوں اور سائلین بے بساط سے بے دھڑک رشوت اور بخشش مانگتے ہیں ویسے ہی عفت مآب بی بیوں سے چمیاں بھی مضطر خیر آبادی کی سی معصومیت سے مانگ لیتے ہیں۔ یہ نہیں

Read more

علم و ادب کی کہکشاں کا سفر

میری خوش قسمتی ہے کہ میں ایک ایسی شخصیت پر اپنے قلمی تاثرات بند کر رہا ہوں جس کی علمی و ادبی پرواز کا ستارہ بڑا روشن تھا۔ اس نے ساری زندگی علم و ادب کی ترویج کے لیے وقف کی۔ عمر بھر درس و تدریس سے منسلک رہیں۔ اگر ان کی تدریسی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے 32 سال کنیرڈ کالج لاہور میں اور پانچ برس ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں

Read more

اک گوشہ نشیں لکھاری پہ تحقیق

مجھے ہمیشہ سے نت نئے لکھاریوں کا کھوج لگانے کا شوق رہتا ہے۔ بالخصوص اردو ادب کے ایسے رائٹرز جو نمایاں لکھ رہے ہیں مگر ان پہ لکھا کم جا رہا ہے۔ یا ایسے تخلیق کار جن کے کام کو پڑھتے ہوئے جینوئن اردو ادیبوں کا سا احساس ملتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ صوفیہ کاشف کا ہے۔ جو خاموشی سے اپنے کام میں مگن معلوم ہوتی ہیں۔ وہ مختلف اخبارات و آن لائن پلیٹ فارمز پہ فکشن و نان

Read more

ریاست ہو گی ڈائن جیسی؟

طویل عرصے سے سُنتے آئیں ہیں کہ ”ریاست ہو گی ماں کے جیسی“ ریاست کو ماں کہا جاتا ہے کیونکہ ماں کا دل نرم گداز سمندر جیسا گہرا اور آسمان کی طرح وسیع ہوتا ہے۔ ماں اولاد سے حد درجہ پیار کرتی ہے، نفرت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ غلطی در غلطی پر معاف بھی کرتی ہے اور سینے سے بھی لگاتی ہے۔ کبھی کبھار اولاد کا لہجہ تلخ بھی ہو جاتا ہے تو معاف کرنے کا حوصلہ ماں کا

Read more

میٹھے اور ترش خیالات کی ابھرتی ہوئی شاعرہ کتاب: بہتی نظموں کے کنارے

تبصرہ نگار: بلال مختار مجھے اک عرصہ سے اشتیاق تھا کہ جو نوجوان شاعرہ صدف شاہد ہیں یہ باقاعدہ کیسا لکھتی ہوں گی۔ پنجاب کی تحصیل و ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والی نوجوان شاعرہ کی کئی نظمیں جابجا ورچوئل دنیا میں پڑھنے کو ملتی رہی ہیں۔ مگر چوں کہ یہ اک کتابی صورت میسر نہ تھیں تو چند نظموں کو پڑھ کر رائے دینا ادبی دیانت داری کے دائرے سے باہر معلوم ہوتا تھا۔ حال ہی میں ان کی

Read more

ایک جلا وطن کے نام خط – در زبانِ کوئٹہ

عثمان قاضی استاد گرامی ہیں۔ یہ تحریر انہوں نے دسمبر 2016ء کے پہلے ہفتے میں عنایت کی۔ درویش نے شوخ چشمی میں دو سطریں ٹانک دیں۔ استاد محترم کی تحریر اور درویش کی کوتاہ قلمی پر ٹھیک آٹھ برس گزر گءے۔ اب بتاءیے کہ آپ کی تاریخ شناسی کیا کہتی ہے؟ ***               *** عثمان قاضی مقبوضہ فرانس کے جنگلوں میں چھپا ایک یہودی ہے جو پولینڈ کے کے اس پرانے شناسا کو خط لکھتا

Read more

فلسطین کے قومی شاعر: محمود درویش

اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر سینکڑوں ریاستیں موجود ہیں جن میں ان گنت قومیں بستی ہیں۔ ان ریاستوں کے پرچم بھی ہیں اور قومی ترانے بھی اور ان قوموں کی اپنی مادری زبانیں بھی ہیں اور ان زبانوں میں لکھنے والے شاعر بھی۔ ان شاعروں میں سے ایک مقبول عام خوش قسمت قومی شاعر بھی کہلاتا ہے۔ دنیا کی دیگر قوموں سے جدا فلسطینی ایک ایسی قوم کے باشندے ہیں جن میں سے بعض کو شہر بدر اور بعض

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 28 : خاموش سفر

” قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔“ یوحنا 11 : 25۔ 26 جب نیلوفر آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو اسے محسوس ہوتا جیسے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا ہو۔ اس کی نظر سب سے پہلے اپنے جسم کے اس حصے پر پڑتی جو اس کی

Read more

جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم

ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں فاشزم جہاں تک فاشزم کا تعلق ہے تو ڈاکٹر صاحب میں سمجھتی ہوں فاشزم صرف ملکوں کے حکمرانوں تک ہی نہیں ہمارے گھروں میں پدر سری معاشروں میں بھی

Read more

زچگی کا سفر : راستہ، بچہ اور درد! دوسری قسط

پیسنجر / بچہ : یہ دنیا کا واحد مسافر ہے جو سر کے بل سفر طے کرتا ہے اور وہ بھی اپنے بل بوتے پہ نہیں بلکہ کچھ بچے دانی کا دھکا اور کچھ ماں کی نیچے کی طرف دھکیلنے کی کوشش۔

اس سفر میں بچے کا جسم اور سر خاص پوزیشن میں رکھنے کی ضرورت ہے اور اگر بچہ ایسا نہ کر سکے یا ایسا نہ ہو سکے تو بچہ نیچے کی طرف نہیں کھسکتا باوجود اس بات کے کہ بچے دانی اور ماں مسلسل پریشر ڈال رہی ہوتی ہیں۔

بچے کی پوزیشن جاننے کے لیے کولہے کی ہڈی میں کچھ لینڈ مارک مقرر کیے گئے ہیں جو یونیورسل طور پہ طے ہیں ( پچھلے مضمون میں بتایا جا چکا ہے ) ۔ بچہ جب بھی ان لینڈ مارکس تک پہنچے، ڈاکٹر ایک چارٹ پہ پوزیشن کا نشان لگاتی ہے۔ بچے کے سر میں بھی مختلف نشان مقرر کیے گئے ہیں جنہیں ڈاکٹر ویجائنا میں میں دو انگلیوں کے ذریعے ٹٹول کر فیصلہ کرتی ہے کہ بات کہاں تک پہنچی؟

Read more

قائد اعظم اور مشاہیر کشمیر، مراسلت: قومی اہمیت کی حامل کتاب

ہائر ایجوکیشن آزاد کشمیر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، آزاد کشمیر شعبہ اردو میں بورڈ آف سٹیڈیز اور شعبہ کشمیر سٹیڈیز پنجاب یونیورسٹی کے رکن، آزاد کشمیر کے معروف ماہر تعلیم اور مصنف ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور ریاست جموں وکشمیر کی شخصیات کے خطوط پر مبنی ایک کتاب ”قائد اعظم اور مشاہیر کشمیر“ کے نام سے شائع کی ہے۔ 166 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مہاراجہ ہری سنگھ، وزیر انتظامیہ ریاست

Read more

جو رہی سو بے خبری رہی۔ بہاریوں کی پاکستان سے یک طرفہ محبت

انتساب : سابقہ مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش، میں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کی بے گوروکفن لاشوں کے نام، ان بیٹیوں کے نام جن کی حرمت کی حفاظت نا کی گئی اور وہ کلکتہ کے چکلوں میں پہنچائی گئیں، میجر اکرم شہید 1971 نشان حیدر ہللی، راج شاہی کے ہیرو کے نام جو اب بھی دیناج پور بنگلہ دیش میں مدفون ہیں اور ان کی میّت کو پاکستان لانے کا خیال اب تک کسی کو نہیں آیا، اور ان کے

Read more

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

گلگت بلتستان کی دھرتی بھی بڑی بے رحم ہے، اس کی بقاء کے لئے سوچنے والوں کو نگلنے میں دیر نہیں لگاتی۔ یاسر بالاورستانی جیسے درجنوں ایسے آزادی پسند رہنما ہوں گے جو وقت سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے ہوں گے لیکن ایک بات واضح ہے کہ جو چلے گئے وہ وقت سے پہلے دھرتی ماں کی خاطر بہت زیادہ کام کر گئے۔ آپ یاسر بالاورستانی کی مثال لیں، طالب علمی کے زمانے سے ہی دیگر

Read more

کیا سیکس ایجوکیشن کا مطلب جنسی بے راہ روی ہوتا ہے؟

تخلیق کا عمل بدصورت یا برا کیسے ہو سکتا ہے؟ انسانوں کے جسمانی اعضاء جن میں وجائنا، رحم مادر، بریسٹ اور عضو تناسل شامل ہیں جو افزائش نسل کا اہم ترین حصہ ہیں وہ گندے یا مکروہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ انسانی جسم اور اس سے جڑے ہوئے قدرت کے ودیعت کردہ تقاضے یا حرکیات برے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر انسان سماجی جانور ہے تو سماجی تعلقات کے بغیر کیسے رہ سکتا ہے اور کیا سماج خلا میں تشکیل

Read more

ہمدرد بنیں، انسانیت کو فروغ دیں

آج کے دور میں انسانی جان کی قدر، جو کبھی سب سے بڑی اہمیت رکھتی تھی، جیسے قصہ پارینہ بن چکی ہے روزانہ خبروں میں قتل و غارت، لوٹ مار، اور دہشت گردی کے واقعات دل دہلا دیتے ہیں بازار جانا ہو یا دفتر، ہر لمحہ یہ خوف دل میں بسا رہتا ہے کہ کہیں کچھ انہونا نہ ہو جائے کوئی اچانک گلی کے موڑ سے آ کر لوٹ نہ لے یا کسی خودکش حملے کا شکار نہ ہو جائیں

Read more

چوتھی نسل کی مایوسی

نپولئین بونا پارٹ تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جو کبھی بھول نہیں سکتا۔ اس کی بے شمار فتوحات نے اسے مطلق العنان حکمران اور ہٹ دھرم جرنیل بنا دیا تھا۔ وہ ناقابل شکست تھا اور یہی اعتماد اس کی آخری شکست کا باعث بنا۔ نپولئین کی رشیا پر چڑھائی بنیادی طور پر روس کی فتح سے زیادہ روسی حکمران کو اپنا مطیع کرنا مقصود نظر آتا ہے جو کہ برطانیہ کے ساتھ روس کے تجارتی اور فوجی روابط کو

Read more

سب اپنے ہی تھے

میاں محمد بخش نے کیا خوب کہا تھا: دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا کیا ڈی چوک پر مرنے والے دشمن تھے۔ نہیں سب اپنے ہی تھے۔ انقلاب تو نظام کی تبدیلی کا نام ہوتا ہے۔ جب تک نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی انقلاب کیسے آئے گا؟ شاید موجودہ حکومت نظام کی تبدیلی سے ہی گھبرا رہی ہو؟ ریاست کی ایک لغوی تعریف ہوتی ہے اور ایک معنوی۔ لغوی مطلب کہ ریاست ایک ایسا قانونی اور

Read more

ایسی تھی بشریٰ

آج ابا جی کے ہاتھ میں دو تھیلے تھے۔ ایک میں تو ضرور کیمرہ ہو گا جس کی وہ کافی دونوں سے ضد کر رہی تھی کیونکہ ابا اُس کی کسی بات کو نہیں ٹالتے تھے۔ لاڈلی بھی تو بہت تھی، مجھے بچوں کی تصویریں اتارنا ہوتی ہیں اور آج نئی ریل مع کیمرا حاضر تھا اور دوسرے تھیلے میں کپڑے تھے۔ شاپنگ ہمیشہ اماں ہی کرتی تھیں۔ خود بازار جاتی اور دو بہنوں اور بھیا کے گرمی سردی کے

Read more

وہ ایک رسم تھی یا پیار کا بہانہ تھا؟

ہمارا گھر ڈیرہ نواب صاحب میں جس جگہ واقع ہے کسی زمانے میں اس کے اردگرد کوئی آبادی نہ تھی سامنے عید گاہ گراؤنڈ اور گھر پیچھے آرمی کی ورکشاپ اور چاروں اطراف سرسبز کھیت لہلاتے تھے۔ سردی میں ان کھیتوں میں اکثر سرسوں کاشت کی جاتی تھی۔ سرسوں کی بھینی بھینی خوشبو والے زرد کھیتوں کی بہار ان پر رقصاں شہد کی مکھیاں اور خوبصورت تتلیاں عجب سماں باندھ دیتی تھیں۔ ان کھیتوں کے درمیان سے بلوچوں کی بستی

Read more

حسن منظر کے ناول ”العاصفہ“ پر تبصرہ

حسن منظر کا شمار عہد حاضر کے منفرد تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔ حسن منظر ایسے ادیب ہیں جو اپنی زندگی میں مسلسل لکھتے رہے۔ اس دوران انھوں نے تسلسل سے اتنا عمدہ لکھا کہ عہد حاضر میں اپنی تحریر و تخلیق سے ایک نمایاں، بلند اور معتبر مقام حاصل کیا۔ ماہر نفسیات ہونے کے سبب انہوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا ہے اور مختلف شہروں اور ملکوں میں گھوم کر کہانیاں اکٹھی کیں۔ اس لیے ہمیں ان کے

Read more

سُود و زیاں

فون کی گھنٹی بے تحاشا بج رہی تھی۔ رات کے دس بج چُکے تھے۔ وہ سونے کے لئے لیٹ چُکا تھا۔ وہ انجان پڑا رہا۔ فون اُٹھانے کی ذمّہ داری اُس نے بیوی پر رکھ چھوڑی تھی۔ اکثر فون بیوی کے لئے ہی آتے تھے۔ کبھی بہن فون کر رہی ہے۔ کبھی کوئی بھائی یا پھر بھانجی۔ بھانجی کے تو دن میں تین چار فون آتے تھے۔ ”ہیلو“ فون بالآخر بیگم نے ہی اُٹھایا۔ ”آفتاب ہے گھر پر“ ”ایک مِنٹ“

Read more

اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔ جہاں تک اردو افسانے کا تعلق

Read more

دھرتی کے گمنام ہیرو

یہ کتنی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مطالعہ پاکستان، معاشرتی علوم اور تاریخ عام جیسے مضامین کی درسی کتابوں میں انگریز سامراج کے خلاف جنگ کرنے، وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے اور سیاسی جدوجہد کرنے والے دھرتی کے فرزندوں کی کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انفرادی سطح پر بہت سے لوگ ان حریت پسندوں کے کارناموں اور ناموں سے واقف ہوں تاہم بحیثیت مجموعی قومی سطح پر ان آزادی کے متوالوں کو نئی

Read more

ہمارے سارے مسائل کا حل: ٹھڈے، ڈنڈے، چھٹیاں، جلاؤ گھیراؤ

رات کے نو بجے جب سارے دن کی تھکن اور بھاگ دوڑ ذہن تک آ جاتی ہے۔ سارا گھر اور اس کے افراد جلد از جلد اپنے آرام دہ اور ذاتی کمروں میں لیٹنے کو جانا چاہتے ہیں۔ اس گھر میں دو بچے اپنی والدہ کے ساتھ معمول سے زیادہ دیر تک کتابیں کھولے بیٹھے تھے کہ امتحانات کا آخری پرچہ وہ اپنی تمام ذمہ داری، سمجھ اور تیاری سے دینا چاہتے تھے۔ اچانک ماں نے موبائل اٹھایا تو کئی

Read more

پاکستان کے حالات کا ذمہ دار کون؟

پاکستان اس وقت ایسے حالات سے گزر رہا ہے کہ اللہ نہ کرے بنگلادیش والے حالات نہ پیدا ہو جائیں۔ پارہ چنار میں خون ریزی پی ٹی آئی مارچ، دھرنا جس میں عوام اور فورسز کے جوان بھی شہید ہوئے اب یہ نقصان کس کا ہے سیاستدانوں کا؟ نہیں بلکہ یہ نقصان ہمارا ہے ہمارے ملک کا ہے ان فیملیز کا ہے جن کے گھر کے چراغ بجھ گئے ہیں ان کا مداوا کون کرے گا کیا چند کاغذ کے

Read more

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں!

کل مجھے چڑھتے سورج کی سرزمین سے رخصت ہونا تھا۔ یہ آخری دن میں نے جاپان کے شہر ٹوکیو کی سیاحت میں گزارا۔ ٹوکیو جاپان کا موجودہ دارالحکومت ہے۔ یہ شہر جدید جاپان کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں۔ مصروف شاہراہیں۔ بڑے بڑے شاپنگ مالز۔ معروف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر۔ میرے لئے اس شہر کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ یہاں میرے والد صاحب کاروبار کیا کرتے تھے۔ میں کسی بھی ملک کا

Read more

انصاف کی فراہمی سادہ معاملہ نہیں

انصاف ممکن ہی نہیں۔ سماجی انصاف دراصل وہ خباثت ہے جو ذہین و فطین لوگوں کے جوہر کو ضائع کر دیتی ہے۔ سماجی انصاف میں گدھے گھوڑے ایک بھاؤ بکتے ہیں، دراصل اس میں دوسروں کو ”محروم“ کر دیا جاتا۔ انسانی فعلیت پر سماجی انصاف دراصل انسان کی فعلیت کے دائرہ کار کو محدود کرنا ہے۔ خیال کی منطقی حرکت یعنی جوہر ”دوسری“ پوزیشن پر۔ سماجی انصاف درحقیقت کسی ”دوسرے“ پر تشدد کا نام ہے۔ سماجی انصاف میں ”معیار“ کو

Read more

جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم: حصہ اول

ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں؟ میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا محبت اور دانائی بھرا سوال نامہ جب مجھے ملا تو ان دنوں میں آپ کی ہی کتاب گرین زون فلسفے کو

Read more

ڈاکٹر شعیب نگرامی

تقسیم ہند کے بعد میرے والدین تو پاکستان آ گئے لیکن ہمارے خاندان کے کچھ افراد نے ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان ہی میں میرے خالو مرحوم مولانا محمد اویس نگرامی بھی تھے جو ایک ممتاز عالم دین اور ندوتہ العلوم لکھنؤ میں شیخ التفسیر کے عہدے پر فائز تھے۔ مرحوم خالو مولانا محمد اویس نگرامی کا گھرانا علمی، ادبی اور مذہبی تھا۔ یوں تو ان کے سب ہی بیٹے باعلم تھے لیکن والد کی علمی وراثت

Read more

پبلک اسکول ری آرگنائزیشن فیز ٹو کا مستحق کون

صحت اور تعلیم بنیادی شعبہ جات ہیں اور ریاست کی اولین ترجیح میں ایسی سہولیات عوام کو پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ہر دور حکومت پانچ سال کے دورانیے پر محیط ہوتا ہے لیکن تشکیل پانے والے منصوبے بیس سال کے لیے بھی بنا دیے جاتے ہیں۔ پھر نا تو حکومتیں اپنی مدت مکمل کر پاتی ہیں اور نا ہی منصوبے کامیاب ہوتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال صحت و تعلیم کے ساتھ ہو رہا ہے ویسے تو ہمارا نظام

Read more

ڈائنو سار کی ڈائری سے ایک ادھورا صفحہ

ایلیٹ اور ایلیٹزم کی بھینٹ چڑھ جانے والی پاکستانی بہاری بین الاقوامی شاعرہ کے نام پاکستان میں سماج، شناخت، کلاس، معاشی حیثیت اور فکری اڑان سے جڑے سمجھوتوں، گردابوں اور عذابوں کو صرف وہی پوری طرح جان سکتے ہیں جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتے ہوں اور زندگی کو، اس کی تمام رعنائیوں کو اپنی گرفت میں بھی رکھنا چاہتے ہوں۔ یاد کی دھند میں گزرے ماہ و سال میں ایسے انسانوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں

Read more

زچگی کا سفر : مسافر، راستہ اور درد

( پہلا حصہ ) ہمارے ہاں زچگی کے عمل کو سمجھے بغیر ڈھیروں بچے پیدا کیے جاتے ہیں اور جہاں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے وہاں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ہوا کیا؟ لوگ باگ ڈاکٹرز سے گلہ کرتے ہیں کہ بتاتے اور سمجھاتے نہیں۔ بات یہ ہے کہ کچھ بتانے اور سمجھانے کے لیے آپ کے پاس الف ب پ تک کا علم ہونا چاہیے تب ہی کوئی آپ کو بتا سکے گا نا کہ س ش کیا

Read more

شہباز ساحر: ایک ہمہ جہت شخصیت

  میری زندگی میں ہمیشہ وہ لوگ اور تعلق قیمتی سرمایہ ثابت ہوئے ہیں جن سے میرا تعلق علم و ادب اور تخلیق و خلوص کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ بزرگوں سے سنتے تھے کے قلم کے رشتے کبھی کبھی خون کے رشتوں سے گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس بات کا تجربہ اور احساس اب ہوتا ہے۔ جناب شہباز ساحر سے بھی میرا تعلق اور رابطہ علم دوستی کی وجہ سے ہی ہوا۔ شہباز ساحر سے رابطہ یوں ہوا

Read more

نا اُمیدی ہے بری چیز مگر

  یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میری تعیناتی بینک کی شہر سے دور ایک دیہات کی برانچ میں تھی۔ بینک کے کاروبار کے لیے یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا کیونکہ اس علاقہ کے بیشتر دیہات کے سیکڑوں خاندان برطانیہ میں آباد تھے۔ ہر گاؤں میں درجنوں کمروں پر مشتمل ایک سے بڑھ کر ایک بڑی کوٹھی بنی ہوئی تھی۔ 70 / 80 کی دہائی میں برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی بڑی تعداد اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان

Read more

فرخ سہیل گوئندی کا نگار خانہ (The Thirty Two)

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں ایک بات تو وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، یہ آدمی امریکہ کے سفر پر ہو یا دنیا کی کسی سرزمین پر جہاں گردی کرتا ملے اس کا دل اپنے آبائی شہر سرگودھا کے لئے دھڑک رہا ہو گا، آنکھیں لاہور کی شاموں و سیاسی محفلوں کی راہ دیکھ رہی ہوں گی، اور ذہن رفتگاں کی یاد سے خالی نہ ہو گا۔ فرخ سہیل گوئندی کی اس کتاب The Thirty Two کے بارے

Read more