کھویا ہوا جزیرہ

جب تیسری بس بھی نکل گئی تو اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر میکانک کوگالیاں دینا چاہا لیکن اس بار بھی وہ ناکام رہا۔ صرف اس لئے کہ جس قسم کی گالیاں دینے کی وہ ہمت وہ کر سکتا تھا وہ ان گالیوں کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے جو میکانک اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ میکانک اسے آٹھ دن سے کار کے لئے ستارہا تھا اور وہ بے بس

Read more

سعودی عرب کا محدود حج کا اعلان، تاریخ میں حج کب کب منسوخ ہوا؟

سعودی عرب کی حکومت نے رواں برس کورونا وائرس کے پیش نظر حج کے شرکا کی تعداد محدود رکھنے اور صرف سلطنت میں مقیم افراد کو حج کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 22 جون کی شب سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر

Read more

طالب جوہری: جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا۔۔۔۔۔

نہیں معلوم کہ کسی بازار میں کھڑے ہو کر سقراط کی تقریر سننا، لیونارڈو ڈیونچی کو تصویر بناتے دیکھنا، فیثا غورث کو حساب لگاتے دیکھنا، شہنشاہ اکبر کو تخت نشیں دیکھنا، تان سین کو سات سُر ایجاد کرتے دیکھنا، حافظِ شیرازی پر آمد ہوتے دیکھنا، غالب کو گرہ لگاتے دیکھنا، شیکسپیئر کو کردار تراشتے دیکھنا یا ہرکولیس کو لڑتے دیکھنا کیسے تجربات ہیں؟ لیکن یہ یقینی طور پر کسی شخص کی زندگی کا کُل سرمایہ ہو سکتے ہیں، میری زندگی

Read more

یورپ میں انسانوں کا چڑیا گھر، فسانہ نہیں حقیقت

بیلجیم نے 1958 ء میں ایک عالمی میلے کے لیے کانگو کے لوگوں کو براہ راست نمائش کے لیے استعمال کیا تھا۔ اسے ’دنیا کا آخری انسانی چڑیا گھر‘ کہا جاتا ہے۔

اس وقت بیلجیم نے 200 روز تک جاری رہنے والی رنگا رنگ تقاریب کا اہتمام کیا تھا جس کا مقصد دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس معا شرے میں ثقافتی، سماجی اور تکنیکی شعبوں میں ہونے والی ترقی کو اجاگر کرنا اور دنیا کو اپنی تیز رفتار ’ایڈوانسمنٹ‘ سے مرعوب کرنا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سن 1958 میں بیلجیم میں اتنے بڑے پیمانے پر اور اس انداز کی تقریبات کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ بیلجیم کی قوم کی اجتماعی یادداشت میں کچھ ایسی سنہری یادوں کے نقوش چھوڑ دیے جائیں جن پر آنے والی نسلیں بھی فخر کر سکیں۔

Read more

او آئی سی کا جموں و کشمیر پر اجلاس: چین سے کشیدگی کے دوران کیا انڈیا کو اب اسلامی ممالک سے بھی جھٹکا ملنے والا ہے؟

او آئی سی مسلم ممالک کی تعاون تنظیم ہے لیکن اس پر سعودی عرب کی اجارہ داری سمجھی جاتی ہے (فائل فوٹو) اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی کے جموں و کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس پیر کو ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ رابطہ

Read more

بھارت کی لداخ میں پیش قدمی کی وجوہات کیا ہیں؟

چین اور بھارت کے تعلقات ایک عرصے سے اس نوعیت کے چل رہی ہے کہ جن میں کسی وقت بھی کشیدگی کا پہلو سامنے آ موجود ہوتا ہے اور جب سے بھارت کو یہ زعم ہو گیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی طاقت ہے تو وہ اس وقت سے گمان کرنے لگا ہے کہ ہر معاملے میں اس کی اجارہ داری بھی ہونی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کی حد تک بھی بھارت کا یہ زعم حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ پاکستان بھارت کے حوالے سے کبھی بھی یہ قبول نہیں کرتا کہ جنوبی ایشیا میں صرف بھارت طاقت ہے اور ضرورت کے مطابق پاکستان بھارت کو یہ احساس بھی دلاتا ہے اور اس کا ایک ثبوت ابھی نندن کو چائے پینے پر مجبور کر دینا بھی تھا۔

مگر جب سے نواز شریف حکومت کے دور میں سی پیک کا منصوبہ چین سے طے ہوا تو اس وقت سے تو بھارت کا پاگل پن آسمان کو چھونے لگا کیونکہ بھارت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ سی پیک کی کامیابی کی صورت میں پاکستان معاشی طور پر بہت توانا ہو جائے گا۔ اور معاشی توانائی ہی مضبوط دفاع اور خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتی ہے اس لئے بھارت نے سی پیک کے آغاز کے وقت ہی چین سے اس کے روکنے کے حوالے سے بات کی مگر چین بھارتی خواہشات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا۔

Read more

فیضی کا فیض

”کچھ دن ہمیں اور دے دو فاروق! “۔ یہ دوست محمد فیضی تھے۔ وہ خزاں کا موسم تھا اور پتوں کے جھڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ سردی کیا اور گرمی کیا، کراچی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر وہ انسانوں کے گرنے کا موسم تھا، خزاں کی ایسی بہار جس نے گلی کوچوں کو لہو میں رنگ دیا۔ شہر میں لاشیں اس رفتار سے گریں کہ زبان اور اصطلاحیں تک بدل گئیں۔ تھانوں اور اسپتالوں سے شام

Read more

مرزا اطہر بیگ کے ناول "غلام باغ” کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے، شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔ اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت

Read more

سر منصور کا بار

تمام پاکستانی دین دار گھرانوں کی طرح اور خصوصا مولویوں کے خاندان سے تعلق کے پیش نظر، ہوش سنبھالتے ہی والدین نے اس خادم کو ناظرہ قران پڑھوانے کی فکر کی۔ ایک مولوی صاحب کا تقرر کیا گیا کہ وہ گھر پر آ کر تعلیم دیں۔ مولوی صاحب اپنے طبقے کے اکثر افراد کے مانند تنک و خشک مزاج تھے چنانچہ دوسرے ہی روز کسی غلطی کی پاداش میں گال پر زور کا تھپڑ کھینچ مارا۔ والدہ محترمہ بیٹھک اور

Read more

پاکستان کرکٹ ٹیم کی مشہور بغاوتیں: کبھی کپتانوں کا سخت رویہ، کبھی معاوضوں کا تنازع

پاکستانی کرکٹ ٹیم جہاں میدان میں غیرمعمولی کارکردگی دکھاتی رہی ہے وہیں میدان سے باہر کے تنازعات بھی اسے ہر دور میں گھیرے میں لیتے رہے ہیں۔ ان تنازعات نے اکثر بغاوت کا روپ دھارا ہے۔

کبھی کپتانوں کا سخت رویہ اس کا سبب بنا تو کبھی معاوضوں میں اضافے کا معاملہ اتنی گمبھیر صورتحال اختیار کر گیا کہ کھلاڑیوں نے نہ کھیلنے تک کی دھمکی دے ڈالی۔

جب بھٹو نے کاردار سے آنکھیں پھیر لیں

یہ 1976 کی بات ہے۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی۔ اس وقت عبدالحفیظ کاردار پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر تھے۔ وہ پاکستانی کرکٹ میں سیاہ سفید کے مالک تھے۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے برسوں پرانے تعلقات سب کو اچھی طرح معلوم تھے۔ وہ پنجاب کی حکومت میں وزیرخوراک بھی رہے اور بھٹو کے کہنے پر ہی انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

Read more

’جمہوریت کی آخری نشانی‘ اور آزاد عدلیہ کی ’ضرورت‘ شناس فعالیت

صدر محمد رفیق تارڑ کو ’’جمہوریت کی آخری نشانی‘‘ خود جنرل پرویز مشرف نے قرار دیا تھا۔ ابتدائے عشق کی ایک دو بےتکلف محفلوں میں جنرل صاحب نے صدر تارڑ سے کہا ’’سر صحافیوں کے شوشوں پر نہ جایا کریں۔ آپ ’جمہوریت کی آخری نشانی‘ ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہمیں سفارتی محاذ پر بڑی مدد ملتی ہے۔ آپ کو ہم کہیں نہیں جانے دینگے‘‘۔ ایک دن اپنے دو رفقاء کی موجودگی میں جب جنرل مشرف نے تیسری بار صدر

Read more

لداخ مودی کی سیاست کولے ڈوبے گا

چین کے ساتھ بھارت کی حالیہ ٹکر نے اس خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست کا منظر نامہ بھی بدلنا شروع کردیا ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان جنگ بندی ہوبھی جائے لیکن چینیوں کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت نے بھارتیوں کی روح پر گہرے زخم لگائے ہیں۔یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ بھارت کی سیاسی اور عسکری لیڈرشپ چین سے لڑنے کی استعداد رکھتی ہے اور نہ سیاسی عزم۔ ایک بہت ہی مختلف چین سے بھارت کا واسطہ

Read more

علامہ طالب جوہری بھی رخصت ہوئے

2020 ایک ایسا سال جس کی ابتداء ہی مایوس کن تھی اور ان گزرے چھ ماہ میں یہ سال جانے کتنے روشن چراغ گل کر گیا۔
کرونا نامی عالمی وبا سے شروع ہونے والا یہ سال ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا درد اور دکھ متعارف کروا رہا ہے۔ ایک ایسا زخم روز دے رہا ہے جس کا مداوا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا آہ کہ ہمارے آس پاس روشن کئی چراغ رفتہ رفتہ بجھ رہے ہیں اور ہم خاموش تماشائی قدرت کا یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ ہماری نم آنکھیں خشک نہیں ہوتیں کہ جدائی کا ایک نیا داغ دل کو رلا دیتا ہے۔ خاص طور پر ماہ جون کی ابتدا ہی ان تند آندھیوں سے ہوئی جو روز ایک روشن چراغ گل کر رہی ہیں جس سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں۔

Read more

بی این پی کے تحریک انصاف کی حکومت سے الگ ہونے کی اندرونی کہانی

بی این پی کے تحریک انصاف کی حکومت سے الگ ہونے کی وجوہات

بلوچستان نیشنل پارٹی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی کے بعد صوبہ میں سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر جدوجہد کے لئے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں جے یو آئی سربراہ نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے ملاقات کی ہے دیگر جماعتوں اور قوم پرستوں، رہنماؤں میں ملاقاتیں متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح ہے۔

Read more

معصومیت

سب تو مہنگی ہندی اے معصومیت، سوہنے تاں انج لوک بتھیرے ہندے نے۔ ۔ ۔
یہ شعر ڈاکٹر ستندر سرتاج کے ایک گیت سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یوں تو بے شمار لوگ حسین و جمیل اور خوبصورت ہوتے ہیں مگر معصومیت کا کوئی مول نہیں۔

بظاہر تو یہ ایک سادہ سا شعر ہے مگر غور کرنے پہ اس کے اندر پنہاں راز افشا ہوتے ہیں۔ میں نے اس فلسفے کو حقیقت میں سمجھنے کی کوشش کی تو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مجھے حقیقی زندگی میں اس کی کوئی مثال نہ مل سکی مگر میری جستجو جاری رہی۔

Read more

تعلیمی دشمن بجٹ اور طلبہ

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتے ہے۔ کہا جاتا اگر کسی کی ترقی کو جانچنا ہو تو اس کے تعلیم کے نظام کو دیکھے ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا مگر پاکستان میں حالات اس کے برعکس نظر آرہے، ہم موجودہ حالات میں جب دنیا مریخ پر پہنچ چکی ہے۔ ہم 20 سال

Read more

کرونا سے پہلے ایک ہسپتال کا منظر

آج جب لکھ رہی ہوں تو پاکستان کرونا وائرس کے حوالے سے دس خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔ ان حالات کے نفسیاتی اثرات سے بچاؤ کا واحد حل قلم ہے۔ مسلسل بگڑتی صورتحال اور آئے روز نمبرز کی اونچی چھلانگیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہو رہی ہیں۔

ہماری بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ ہم نہ ہی لڑے اور نہ ڈرے بلکہ مسلسل اس ان دیکھے وائرس کا شکار ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ لاعلمی، جہالت اور اجتماعی نفسیاتی مسائل ہیں۔ آج اس صورتحال میں ماضی کا ایک بھیانک دن بار بار یاد آ رہا ہے جو موجودہ صورتحال میں مزید خوف کا باعث بن رہا ہے۔

Read more

کیا عورت واقعی بیچاری ہے؟

ڈاکٹر صاحبہ! آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہمارے یہاں عورت چاہے بھی تو کچھ نہیں کر سکتی۔ ۔ ۔ ۔ آپ تو جانتی ہیں عورت کتنی مجبور اور بے بس ہے، بس اسی لیے میں کچھ نہیں کر پائی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ، وغیرہ۔

یہ اور اس طرح کے جملے مجھے روز سننے کو ملتے ہیں جب میں اپنے معاشرے کی لڑکیوں اور خواتین سے ملتی ہوں۔ یقیناً جب آپ یہ کہتے اور سوچتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ تو پھر آپ یقیناً کچھ نہیں کر سکتے۔

مجھے نفسیات کی فیلڈ میں تقریباً دس سال ہو گئے، ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے ملنا ہوتا ہے جن میں ہر طبقے کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ان سے مل کر ان کے مسائل، حالات اور خیالات جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ گو کہ باقی ممالک کی نسبت ابھی ہمارے ہاں خواتین ماہر نفسیات کے پاس کم جاتی ہیں حالانکہ ذہنی اور نفسیاتی مسائل کافی زیادہ ہیں۔

Read more

کتے والا بشر

گھنے درختوں اور پھولوں سے بھرے پارک میں معمول کی دوڑ لگاتے ہوئے بشر کی نگاہ ایک چھوٹے سے کتے پر پڑی جو زخمی حالت میں تھا۔ گرین ووڈز نامی اس پارک میں بشر کو اکثر زخمی پرندے یا کتے بلیاں نظر آ جاتے تھے، جن کو کبھی پارک میں موجود بچے یا نو عمر لڑکے لڑکیاں اٹھا کر لے جاتے تھے۔ کچھ پالتو بن جاتے تھے، اور کچھ کو واپس چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ابھی تک کتے کو اٹھایا نہیں گیا تھا، یقیناً یہ ذمہ داری میری ہے، بشر نے سوچا اور احتیاط سے کتے کو اٹھایا، قریبی کلینک سے اس کی مرہم پٹی کروائی اور اس کو اپنے اپارٹمنٹ میں لے آیا۔ واشنگٹن کے مضافات میں واقع چھوٹے سے قصبے میں گزشتہ پانچ سال سے بشر کی رہائش تھی۔

گرین ٹاؤن نامی قصبے میں ہر نمایاں مقام کا نام گرین سے شروع ہوتا تھا۔ ٹاؤن کا سب سے بڑا پارک بلکہ جنگل بھی گرین ووڈز کہلاتا تھا، جہاں جنگلی جانور بھی تھے، لیکن قصبے کے لوگوں کو قطعاً پرواہ نہ تھی، وہ بندوقیں لے کر جنگل میں آزادانہ گھومتے۔ سرکاری طور پر ممنوع ہونے کے باوجود چوری چھپے شکار بھی کر لیتے اور اسلحہ بھی استعمال کرتے لیکن کم ہی افراد ایسا کرتے، زیادہ تر شہری امن پسند تھے۔ بشر ایشیائی ملک کا باشندہ تھا، اس کے ملک میں عقیدے کی بنیاد پر آئے روز فسادات ہوتے، کبھی گائے کے گوشت کھانے کے شک کی بنیاد پر۔ کبھی اونچی ذات ہونے کے زعم میں نچلی ذات کو لوگوں کو اذیت دی جاتی، عقیدے کو زندہ رکھنے کے لئے انسانوں کو ڈنڈوں، لاٹھیوں اور گولیوں سے مار دیا جاتا، عورتوں کو اٹھا لیا جاتا۔ بچے جنگلوں میں بھاگ جاتے یا حملہ آور ان کو اپنا غلام بنا لیتے یا پھر ریل گاڑی میں بٹھا کر ملک کے بڑے شہر میں فروخت کر آتے۔

Read more

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں!

بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات اب ماضی کی نسبت زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں کیوں؟ کیا وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بھی برائی کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں؟ ایسے بہت سے سوالات آپ کے بھی ذہن ہیں آتے ہوں گئے۔ آخر انسان اتنا بے شرم کیوں ہو گیا ہے کہ اسے اپنے مقدس رشتوں کی ہی تمیز نہیں رہی۔

جی ہاں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات میں سب سے زیادہ ان کے قریبی رشتے دار ہی ملوث ہوتے ہیں۔ جو لوگ بچوں کے ساتھ اس طرح کرتے ہیں ان کی ذہنی صحت ہی ٹھیک نہیں ہوتی ایسے لوگوں کو ماہر نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا ذہن گندگی کا ڈھیر بن چکا ہوتا ہے۔ ان کی سوچ کسی گندے گٹر کی طرح ہوتی ہے جو بذات خود بھی بدبو اور گندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے۔

Read more

کرونا سے ہم کیسے صحتیاب ہوئے

کرونا جب تک گھر کی دہلیز تک نہیں پہنچا تھا ایک معمہ تھا۔ کوئی اس کو امریکہ اور چین کی لیبارٹریوں کا بنایا ہوا ایک سازشی جرثومہ تو کوئی اس کو حرام جانوروں مثلاً چمگادڑ کے سوپ پینے سے جانور سے انسان میں منتقل ہونے والی ایک وبا سمجھتے تھے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں پھیلانے میں پیش پیش تھے۔ لوگوں کو کرونا کے پیچھے یہود اور نصاری کی سازش سے لے کر بل گیٹس کی کمپنی کے مفادات تک نظر آرہے تھے۔

اچھے خاصے سنجیدہ لوگ کہہ رہے تھے کہ کرونا شرونا کچھ نہیں یہ ایک افواہ ہے۔ ایک باشعور قوم بنے کی بجائے ہم نے سازشی تھیوریاں پھیلا نے میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ ہمارے وزیراعظم بھی کرونا کی بے بسی سے مرنے والوں کی ذمہ داری لینے کی بجائے بڑے آرام سے کہہ رہے ہیں کہ شکر ہے لوگ کم مر رہے ہیں۔ اسپتالوں کی یہ حالات ہے کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس اس کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں۔ وبا کی یہ حالت کہ پاکستان کا ہر گھرانا اس کا شکار ہو رہا ہے۔

Read more

کسی معذوری والی خواتین اور بچیوں کو حقوق کی فراہمی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس ملین سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں جنہیں کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا سامنا ہے ان میں بہت سی خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوق ایسے افراد جنہیں کوئی معذوری ہے بھی حکومت پاکستان سے ایسی خواتین اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔ اس کنونشن کے مطابق ایسے افراد جنہیں کوئی معذوری ہے ان کی تعلیم، صحت، معاشرے میں ایک باعزت مقام اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری میں شامل ہے لیکن بدقسمتی سے بہت سی خواتین اور بچیاں اپنے ان حقوق سے محروم ہیں۔

ان حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپیشل ایجوکیشن، پاکستان بیت المال اور سوشل ویلفیئر کے محکموں کو اس ضمن میں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ان خواتین اور بچیوں کو جنہیں کوئی معذوری ہے کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ان خواتین اور بچیوں کو معاشرے میں صحت مندانہ زندگی گزارنے کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے ان کے حقوق متعین کیے گئے تاہم ان حقوق کے حصول میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔

Read more

لکھا کیسے جاتا ہے، لکھاری کا ذہن بانجھ ہو جائے تو کیا کرتے ہیں؟

لینگویج کے چار اسکلز یعنی چار مہارتیں ہوتی ہیں۔ لسننگ، اسپیکنگ، ریڈنگ اینڈ رائٹنگ۔ ان میں لسننگ اور ریڈنگ، ریسپٹو اسکلز ہیں۔ یعنی ہم جو کچھ سنتے ہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ ہمارا ان پٹ ہے، جب کہ اسپیکنگ اینڈ رائٹنگ، یہ ہمارے پروڈکٹو اسکلز ہیں، یعنی ان کی مدد سے ہمیں آؤٹ پٹ دینا ہے۔ ہمیں انھیں پر زیادہ کام کرنا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک حصہ ہے رائٹنگ کا۔ آج ہم اسی پہ بات کریں گے۔ پہلے ذرا ذیل کی سطور کو پڑھیے گا۔

”میں نے ٹرین میں، ہوٹلوں میں اور ویٹنگ روم میں لکھنا سیکھا۔ جہازوں میں کھانے کی ٹرے ٹیبل پہ۔ ۔ ۔ میں کھانے کے دوران میں میز کے نیچے، یا غسل خانے میں نوٹس لکھتی ہوں۔ عجائب گھر کی سیڑھیوں میں، کیفے میں، گاڑی میں، موٹروے کے کنارے کھڑے ہو کر میں لکھا کرتی ہوں۔ میں لکھتی رہتی ہوں۔ کاغذ کے ٹکڑوں پر، نوٹ بکس میں، پوسٹ کارڈز پہ، اپنے دوسرے ہاتھ پہ، رومال پہ، کتابوں کے حاشیوں میں، عموماً یہ چھوٹے چھوٹے جملے ہوتے ہیں۔ چھوٹی تصویریں۔ مگر کبھی کبھی میں اخباروں سے اقوال بھی نوٹ کر لیتی ہوں۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ہجوم میں اچانک کوئی کردار نکل آئے، تو میں اپنے سفر کا راستہ بدل لیتی ہوں۔ اسی کی کہانی لکھنے لگتی ہوں۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے۔ مجھے اس پر کمال حاصل ہے۔ سال گزرنے کے ساتھ ساتھ وقت میرا ساتھی بن گیا۔ جیسا کہ ہر عورت کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں شفاف، غیر مرئی ہو گئی۔ میرے آر پار دیکھا جا سکتا ہے۔ میں بھوتوں کی طرح ادھر ادھر گھوم سکتی ہوں۔ لوگوں کے کاندھوں سے پرے دیکھ سکتی ہوں۔ ان کی بحث تکرار سن سکتی ہوں۔ اور ان کو اپنے سفری بیگوں پر سر ٹکائے سوتا بھی دیکھ سکتی ہوں۔ یا ان کو آپس میں بات کرتے جو میری موجودی سے بے خبر ہوتے ہیں، ان کے ہونٹوں کو ہلتا دیکھ کر، میں ان کے لفظ ان کے سامنے بھی بول سکتی ہوں“ ۔

Read more

کووڈ 19 اور پاکستان کی حکومت کی حکمت عملی

جب سے دنیا میں کووڈ 19 کی وبا پھیلی ہے اگر پاکستان شروع سے ہی سخت ترین حکمت عملی اختیار کرتا تو بہت بہتر ہوتا۔ ویسے تو یہی باقی حکومتوں کو بھی کرنا چاہیے تھا لیکن پاکستان تو پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار ہے اس لیے اس کی طرف بہت توجہ کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ آغاز میں حکومتی سطح پر بھی اس کو معمولی سمجھا گیا۔ جب ذرا اس کا زور زیادہ ہوا تو حکومت نے بارہ ہزار فی خاندان وظیفہ لگایا تھا۔ وہ بھی اپنے منطقی نقطۂ انجام کو پہنچا۔ اس پروگرام کو کچھ تو حزب مخالف نے ناکام کرنے کی بھرپور کوشش کی تو دوسری طرف فطری بے ایمانی نے بھی کرشمے دکھائے۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔

Read more

مغفرت کی دعا اور غیر مسلم

سک کڈ ٹورنٹو میں ایک چودہ پندرہ سال کا بچہ کینسر جیسے موذی مرض کے ہاتھوں مر رہا تھا۔ بچے سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی۔ بچے نے کہا؛ میں فٹ بال کا ورلڈ کپ دیکھنا چاہتا ہوں۔ نا صرف بچے کو بالکل اس کے پو رے خاندان کو جہاز اور میچ دونوں کی ٹکٹیں فراہم کی گئیں۔ بچہ میچ دیکھ آیا اور پھر کچھ عرصے بعد اس جہاں کو، اپنے روتے ماں باپ کو اور اپنے بہن بھائیوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلا گیا۔ ماں باپ، افسوس کے لئے آنے والوں کو کہتے ہمارا بچہ تو معصوم تھا، اس کے لئے سورہ فاتحہ اور دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ کیا آپ ان ڈاکٹرز، ان نرسوں اور اس ہسپتال کی انتظامیہ کے لئے دعا کر سکتے ہیں (پوچھنے پر بھی انہیں یاد نہیں آیا نہ انہیں پتہ تھا کہ ان سب مسیحاؤں کے مذہب کیا کیا تھے ) کہ مرنے کے بعد وہ جنت میں جائیں کہ انہوں نے ہمارے مرتے ہوئے بچے کے لئے ہسپتال کو جنت بنائے رکھا؟

Read more

جب میری بیٹی جنس بدل کر بیٹا بنی

فرزانہ میری ایسی دوست ہے جس کی فرزانگی، علم دوستی اور خلوص و محبت نے مجھے اس وقت سے ہی اپنا بنا لیا تھا جب میں ابتدا میں امریکہ منتقل ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ اب گزشتہ سات سالوں سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ریاستوں میں رہتے ہیں، ہمارے درمیان قربت اور اعتماد کا رشتہ ابھی بھی برقرار ہے۔ جبھی تو اس نے کچھ سال قبل مجھے وہ ای میل لکھی جو کوئی اپنے با اعتماد دوست کو ہی لکھ سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک ایسے موڑ کے متعلق جس کا اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہوگا۔

اس نے لکھا۔ ”اب جبکہ ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہیں میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کسی اور سے یہ بات پتہ چلے کہ میری بیٹی فرحین ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ٹرانس جینڈر ہے۔ یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر ہے، بالخصوص فرحین کے لیے کیونکہ ابھی وہ طبی تجزیے، سرجیکل اور قانونی مراحل سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو اسے ایک لڑکی سے لڑکا بننے کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ویسے ابھی وہ تعلیم کے مراحل میں بھی ہے۔ گو ہم خاندانی پرائیویسی پہ یقین رکھتے ہیں مگر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو سچی اور شفاف زندگی گزاریں۔“

Read more

حقیقی باپ اور سپرم ڈونر میں فرق جان کر جیو!

دنیا کے انمول رشتوں میں سے ایک رشتہ باپ کا ہے۔ ماں کی طرح باپ کی محبت بھی مثالی سمجھی جاتی ہے۔ باپ کی شخصیت اور عادات و اطوار بیٹی اور بیٹے کے ذہنی اور جذباتی نشونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ اثرات اگر اچھے ہوں تو ایسے بچے صدقہ جاریہ بنتے ہیں اور برے ہوں تو ان کے ہاتھوں بچے خود اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حقیقی باپ کی زندگی قربانی سے عبارت ہے۔

Read more

کوئی استاد لاولد نہیں ہوتا

”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“ ۔ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جن کا قد کاٹھ ماپنے کے لیے علم و ادب کا پیمانہ چاہیے۔ اب ہم کہاں سے لائیں وہ الفاظ، وہ ادائیگی، وہ لب و لہجہ اور آواز جو کانوں سے ہوتی ہوئی سیدھا دل میں اتر جاتی تھی۔ نیلام گھر پاکستان ٹیلے ویژن کا وہ پروگرام تھا جو اپنے آپ میں ایک اکیڈمی تھا، ازاں بعد اسے طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

زندگی تو خاکی ہے بالآخر اس نے ایک دن خاک میں خاک ہی ہوجانا ہے۔ علم و آگہی کے ان گنت چراغ جلانے والی ایک ہمہ جہت شخصیت اپنے خالق حقیقی سے ملنے اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ موت اس فانی دنیا کا خاتمہ ضرور ہے لیکن پھاٹک ہے اس جہاں کا جو امیدوں، جگنوؤں، پھولوں، مخملی گھاس اور مشک و عنبر کی بسی ان وادیوں میں کھلتا ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ طارق عزیز صاحب نے یقیناً اس گرم جوشی سے اہل جنت کو بھی سلام کہا ہوگا اور ”پاکستان زندہ باد“ کا گرجتا نعرہ لگایا ہوگا۔

Read more

تینتالیس برس پہلے عالم بالا کو گئے ابا کے نام خط

ابا، مجھے اس روز اتنی حیرت ہوئی تھی جب آپ ٹامی اور جیمی کو نہلانے نہر پر لے جا رہے تھے۔ چونکہ ہم سب آپ سے ڈرتے تھے شاید اس لیے کہ جونہی آپ ایک عرصے کے بعد اپنے کاروباری مقام سے گھر آتے تو اماں کہتی ”قل ہو اللہ پڑھو تمہارا باپ آ رہا ہے“ میں کبھی کبھار آپ کو اور شیطان کو ایک سا سمجھ لیا کرتا تھا کیونکہ اماں شیطان سے بچنے کی خاطر بھی اسی سورت کا ورد کرنے کو کہا کرتی تھیں۔ تو میں بات کہہ رہا تھا آپ سے اپنے متحیر ہونے کی جس میں تھوڑی سی نفرت بھی شامل ہو گئی تھی۔

میں چونکہ چھپ چھپ کے آپ کے پیچھے پیچھے گیا تھا اس لیے آپ مجھے دیکھ نہیں پائے تھے۔ ٹامی بہت زیادہ بھونک رہا تھا آپ نے اسے سوقیانہ الفاظ میں وہ کہا تھا جو آج ہندوستانی فلموں کی وجہ سے پھٹنے کے حوالے سے گھروں میں بظاہر شریف لڑکیاں بھی باپ بھائیوں کے سامنے کہنے لگی ہیں مگر ہمارے گھر میں جو اصل میں اماں کے زیر اثر تھا ماسوائے الو، گدھا کے کوئی بھی برا لفظ کہنا ممنوع تھا۔

Read more

کتاب پر تبصرہ: رجب طیب اردوغان

نام کتاب : رجب طیب اردوغان مصنف : ڈاکٹر راغب السرجانی مترجم : ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی تبصرہ نگار : شیخ زید مشکور احمد ندوی صفحات : 328 قیمت : 250 ناشر : ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، نئی دہلی، انڈیا۔ ملنے کے پتے : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، 307۔ D، ابوالفضل انکلیو، اوکھلا، نئی دہلی 110025۔ منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، 61۔ D جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی 110025۔ پاریکھ بک ڈپو، ٹیگور مارگ، ندوة العلماء روڈ، ڈالی

Read more

کنفیوژن راہ نجات نہیں۔ ۔ ۔

غلط فیصلے اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے جتنی کنفیوژن۔ یہ انسان کو مایوسی کے سپرد کر دیتی ہے۔
کبھی ’ہاں‘ کی پکار اور کبھی ’نہیں‘ کی لپک ایک معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے چنداں آسان فہم نہیں۔

وادی ابہام سے نکلنے کے لیے غصے کی پگڈنڈیوں پر پاؤں جمانے سے احتراز برتنا چاہیے۔ بے ساختہ شاعر اکبر معصوم نے ایک یہ منظر پیش کیا تھا

دن نکلتے ہی، میرے خواب بکھر جاتے ہیں
روز گرتا ہے اسی فرش پر، گلدان میرا

Read more

اجتماعی زندگی یا موت کا انتخاب

پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا وہ[پاکستانی] تو کوئی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، میں تو کہتی ہوں کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔

اس پر سوشل میڈیا میں کافی لے دے ہوئی۔ لیکن کیا یاسمین راشد نے کوئی انہونی بات کی ہے؟ پاکستان کی کون سی باتیں ہیں جنھیں آپ قابل فخرسمجھتے ہیں؟ قانون کی عملداری؟ تعلیم یا تحقیق کے میدان میں معرکہ آرائی؟ ٹیکنالوجی؟ جنڈراکویٹی؟ حقوق انسانی؟ معاشیات؟ خارجہ تعلقات؟ غرض کہ کوئی بھی میدان لے لیجیے اور خود ہی فیصلہ کیجیے کہ پاکستان کی تصویر کیسی لگ رہی ہے۔ اگربری نہیں تو قابل فخر بھی نہیں ہیں۔ اور ان تمام باتوں یامسائل کی جڑمعیاری تعلیم کا فقدان ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عام تعلیم کے مواقع بھی کافی بڑی آبادی کے لیے 2020 میں بھی دستیاب نہیں۔ بڑے بڑے دانشور تسلسل کے ساتھ یہ بات کہتے آئے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم کا کردار کلیدی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ 26 ستمبر1947 کو قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایا تھاکہ: تعلیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ تعلیم میں ترقی کے بغیرنہ صرف ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

Read more

’زرتاج گُل کے 19 نکات کو بھی مطالعہِ پاکستان کا حصہ بنایا جائے‘

‘قائدِ اعظم کے 14 نکات کے ساتھ ساتھ زرتاج گُل کے 19 نکات کو بھی مطالعہِ پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔’
یہ الفاظ ہیں ظہور ندیم نامی ایک صارف کے جنھوں نے بغیر کوئی پس منظر دیے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ مطالبہ کر ڈالا۔

انھوں نے غالباً اس مفروضے کی بنیاد پر یہ مطالبہ کیا کہ اس پلیٹ فارم پر موجود تمام صارفین ہی وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل کے حالیہ بیان سے یقیناً واقف ہوں گے۔

وہ اشخاص جو پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے پروگرام نہیں دیکھتے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو بھی باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے ان کو زرتاج گل سے منسوب بیان کے متعلق آگاہ کرنا اہم ہے۔

Read more

کیا چکن کھانے سے کرونا ہو سکتا ہے؟

خدا کا واسطہ ہے خبریں پھیلانے سے پہلے کچھ تو تحقیق کر لیا کریں۔ کرونا کے متعلق آپ کی پھیلائی غلط معلومات کی بدولت لوگوں نے اس کو سیریس نہیں لیا اور آج ہم کرونا کیسز میں چائنہ کو کراس کر چکے ہیں۔ بے شمار لوگوں کی گھروں میں اور بہت سوں کی ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز نہ ملنے سے اموات ہو رہی ہیں۔ مگر آپ کو صبر نہیں آ رہا اور ہر لغو، بے بنیاد پوسٹ کو شیئر پر شیئر کرتے جا رہے ہیں۔

نیا شگوفہ برائلر چکن میں کرونا اور ایپوکلیپٹک وائرس نکال دیا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کے یہ تمام خبریں کس حد تک درست ہیں۔ سب کے پاس اتنے مہنگے فون ہیں، تھوڑا سا تردد کر کے 1 منٹ کے لئے زیادہ نہیں صرف گوگل کر کے ہی دیکھ لیں کے کسی آفیشل میڈیا پیج سے بھی یہ خبر بریک ہوئی ہے۔ ایپوکلیپٹک وائرس ڈاکٹر گریگر کی اپنے اختراع ہے۔ ڈاکٹر صاحب پیدائشی سبزی خور ہیں اور کسی بھی قسم کا گوشت کھانے کے خلاف ہیں۔

Read more

باپ تن آور درخت اور گھنا سایہ

والدین کی اہمیت کیا ہوتی ہے کوئی ان سے پوچھے جن کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا۔

ماں سے محبت اور ماں کی قربانیوں کے بارے میں ہر وقت بات کی جاتی ہے۔ لیکن باپ کی محبت کسی بھی طرح ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی لیکن کیونکہ ماں کے ساتھ ہمارا وقت زیادہ گزرتا ہے اس لئے مانوسیت زیادہ ہوتی ہے۔ ماں دوست کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جس کا کہا برا بھلا سب پیارا لگتا ہے۔ چونکہ والد سارا دن معاش کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ وہ گہرا تعلق نہیں بن پاتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت دونوں طرف برابر ہوتی ہے۔

ماں ہو یا باپ دونوں کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو محبت کا اظہار بہت کم کرتی ہے اپنا پیار، جذبات اور احساسات دل میں چھپا کر رکھتا ہے باپ ایک گھنا سایہ ہوتا ہے جس کے سائے تلے سکون ہی سکون ہوتا ہے۔

Read more

معاف کر دینے میں بڑی قوت ہے

صاحبو، غالب کے ہاں تو ”غیب سے آتے تھے مضامیں خیال میں“ ۔ ہم ٹھہرے غریب آدمی۔ لکھنے کو ادھر ادھر سے خیالات کشید کرتے ہیں۔ اور آج کل ادھر ادھر فقط انتشار ہے، اور بے شمار ہے۔ ورق از خود تلخی سے سیاہ ہو جاتا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں، کچھ تو امید سے لبریز کتابوں اور کچھ صوفی منش دوستوں کی صحبت کے زیر اثر، سکون کے متلاشیوں پر قلم اٹھایا، تو حلقۂ یاراں اس ماہیت قلب پر بڑا خوش ہوا۔ کچھ خیرخواہوں نے تو پرنم آنکھوں کے ساتھ مبارک باد دے ڈالی۔ کہا شکر ہے میاں، قلم تمھارا یاسیت، قنوطیت سے نکلا۔ ذرا رجائیت پسند بنو، زندگی کا روشن پہلو پیش نظر رکھو۔ تحریک بھی دی کہ اب اسی مدعا پر کچھ اور لکھو۔

ہمیں ترغیب دینے والوں میں کچھ ایسے، جو ہمیں بے حد عزیز۔ چند کے ہم مقروض۔ تو مناسب جانا کہ جو وہ کہتے ہیں، کر گزریں۔ بھلائی اسی میں ہے۔

Read more

سپریم کورٹ کا ایک اور تاریخی فیصلہ؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا تو احاطۂ عدالت میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے (یا ان کے حق میں ) پیش ہونے والے وکلا کی مسرت دیدنی تھی۔ ان کے چہرے وفور مسرت سے سرخ ہو رہے تھے، اور ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرانے کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ با وقار اور با اعتبار قانون دان حامد خان اس فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے تھے، تو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنزائی بھی پر جوش اظہار خیال کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر صدر قلب حسن بھی ان کی مسرتوں میں شریک تھے۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی کا چہرہ بھی تمتما رہا تھا۔ منیر اے ملک کہ عدلیہ آزادی تحریک کے ساتھ ان کا نام جڑا ہوا ہے، جسٹس افتخار چودھری سے لے کر جسٹس فائز عیسیٰ تک انہوں نے مسلسل کردار ادا کیا ہے، ان کی خوشی بھی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ وکیلانہ احتیاط کے ساتھ وہ اپنے جذبات کو زبان دے رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے کر، اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان کا جاری کیا جانے والا اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کر کے سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔

Read more

اجے قیامت نئیں آئی!

لیجیے صاحب! جو سارا ہنگامہ تھا، جس کے لیے ہزاروں سال سے لوگ پیش گوئی کر رہے تھے اور وعید دینے والے کہتے تھے کہ جب وہ گھڑی آئے گی تو سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا ۔ وہ گھڑی آ گئی۔

ہمیں واٹس اپ پہ قریباً تین سو سے زائد پیغامات موصول ہوئے کہ اتوار یعنی اکیس جون دو ہزار بیس کو صبح گیارہ بج کے پنتالیس منٹ پہ دنیا ختم ہو جائے گی۔

Read more

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو پروفیسر فتح محمد ملک

خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان علامہ محمد اقبال کے شدائی موجود ہیں۔ یہ ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کر رہے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال فراموشی سے بھی روشناس کر رہے ہیں۔ اور اقبال اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف مذہب اور اعتدال پسند پروفیسر بھی اور طبیعت ایسی کہ آپ ان کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان،

Read more

کیا عوام جاہل ہیں؟‎

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے مایوسی اور غصے کی انتہائی حالت میں لاہور کے عوام کو جاہل کیا کہہ دیا سیاست کی ہنگامہ خیز فضا میں مزید اضافہ ہوگیا۔ سنا ہے انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت بھی کرلی ہے مگر جو طوفان ان کے اس فرمودے سے سے اٹھا تھا اب وہ تھمتے تھمتے ہی تھمے گا کہ سیاست کے پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر میں یہی چلن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب سیاست میں

Read more

کیا آپ اس سال حج کا ارادہ رکھتے تھے؟

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی معمولات زندگی میں کافی تغیرات واقع ہوئے ہیں۔ خصوصاً بین الممالک تعلقات اور حج و عمرہ کا نظام رکا ہوا ہے۔ وہ لوگ جو اس سال حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے تھے انہیں مجبوراً اپنا خیال ترک کرنا پڑا اور جب میڈیا کی جانب سے اس سال حج کے موقوف ہونے کے امکانات کی خبریں آ رہی ہیں تو رہی سہی امید بھی

Read more

معاشرے کی ترقی میں اخلاقیات کا کردار

ہم اپنی زندگی میں جب بھی کسی مثالی معاشرے کی بات کرتے ہیں یا مثال دیتے ہیں تو فوراً اسلام کے ابتدائی ادوار میں چلے جاتے ہیں۔ ریاست مدینہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کاعزم لے کر اقتدار میں آئے ہیں۔ ابھی تک نہ سر کا پتہ ہے نہ پیر کا۔ حالات وقت کے ساتھ ساتھ بد سے بد تر ہوتے جا رہیں ہیں۔ عام آدمی کے حالات بہت نازک ہوتے

Read more

کیا بلوچ طالب علم آن لائن کلاسز کے لئے بھی پہاڑوں پر جائیں؟

انیلہ یوسف کا تعلق ضلع گوادر کے ایک ساحلی شہر پشکان سے ہے جو اس وقت کراچی یونیورسٹی سے ٹیچر ایجوکیشن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ کرونا لاک ڈاؤن کے سبب ملک کے تعلیمی ادارے بند ہیں اس لئے وہ اپنے گھر میں ”میرا گھر میرا اسکول“ مہم کے تحت بچوں کی اسکولنگ کر رہی ہیں مگر اب مصیبت یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی حکم کے مطابق ملک کے جامعات آن لائن کلاسز کا آغاز کریں گی جو انیلہ کے مطابق ملک کے دور دراز رہنے والے طالب علموں کے لیے ایک نئی مصیبت ہوگی۔ انیلہ کہتی ہے ’بلوچستان کے کئی شہر انٹرنیٹ سے محروم ہیں اگر کہیں ہے بھی تو ایسی نہیں کہ آن لائن کلاسز ممکن ہوں، یہ فیصلہ طالب علموں کے لئے انتہائی اذیت ناک ہے‘

فروری 2017 سے اب تک بلوچستان کے ضلع کیچ میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے، کیچ آبادی کے لحاظ بلوچستان کا دوسرا بڑا ضلع ہے اور باقی بلوچستان کی نسبت یہاں شرح خواندگی کی صورت حال بھی بہتر ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالامال صوبہ بلوچستان میں شرح خواندگی 41 % ہے جو باقی صوبوں کی نسبت کم ترین شرح ہے۔ گزشتہ دنوں کیچ کے طالب علموں نے ضلعی ہیڈکوارٹر تربت میں آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور بھوک ہڑتال کیا۔ یہ طلبہ و طالبات ملک کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم ہیں۔

Read more

ادبی فسادیات

ہماری تحریکوں کی ناکامیابی کی وجوہات میں ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی بھی ناپسندیدہ اور اپنے لیے ناقابل قبول (جو ضروری نہیں کہ ہر ایک کے لیے نا قابل قبول ہو) شے یا روایت کے خلاف تحریک چلانے یا اس پر احتجاج کرنے کے آداب سے نابلد ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے کہ ہمارا مقصد اصل میں ہے کیا اور شخصی مخاصمت کا شکار ہو کر اپنی مہم کو محدود بلکہ معیوب بنا لیتے ہیں۔

Read more

فراست صاحب! ہم آپ کو نہیں بھولے

بہت سے لوگ محمد فراست اقبال صاحب کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے وابستہ ایک باصلاحیت اور محنتی بیوروکریٹ کے طور پر جانتے ہوں گے، لیکن بیوروکریسی کے روایتی پروٹوکول کی ہاہاکار اور اعلی عہدے کی چکاچوندی سے ہٹ کر وہ علم و آگہی کی روشنی سے منور ایک درویش اور بے نیاز قسم کی باذوق اور وضع دار ادبی شخصیت تھے۔ بیوروکریٹک رویے سے بالکل پاک اور سادہ انسان۔ ان کی دانش، برمحل اشعار سے مزین برجستہ گفتگو، حاضر دماغی

Read more

سکندر اعظم کا پنجاب پر حملہ (325 – 326قبل مسیح )۔

سکندر جب دریائے سندھ پر پہنچا تو اس نے اپنے لشکر کا ایک حصہ بڑی بڑی سات کشتیاں تیار کر کے دریائے سندھ کے راستے روانہ کیا، اور خود دریا پار کر کے ٹیکشاشیلا کی ریاست میں داخل ہوا جہاں کا راجہ ”امبھی“ تھا جس کی حکومت درہ خیبر سے لے کر دریائے جہلم تک کے علاقے پر تھی، راجہ امبھی نے سکندر کی طاقت دیکھتے ہوئے اس کی اطاعت اختیار کی، اور سکندر کی بہت مہمان نوازی بھی کی تب سکندر نے اس کو اس ریاست کے حکمران کے طور پر برقرار رکھا، یہاں ایک قابل ذکر واقعہ پیش آتا ہے کہ ٹیکشاشیلا کی درسگاہ کے سات اساتذہ نے سکندر پر اس کی ملک گیری کی ہوس کی بابت بھرے دربار میں سخت تنقید اور مخالفت کی جس پر سکندر نے ناراض ہو کر ان کے قتل کا حکم دے دیا اور ان اساتذہ کو کلمہ حق کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ یعنی روشن ضمیری اور حق گوئی بنیادی طور پر علم کی ہی خاصیت ہے۔

Read more

عصر حاضر کے مسائل اور فکری انتشار

اس دنیا میں جب سے انسانی آبادی کا آغاز ہوا ہے، اس وقت سے کچھ بنیادی نوعیت کے مسائل بھی ساتھ ساتھ پیدا ہوتے چلے گئے جن سے بر سر پیکار رہنا اور ان کے خلاف حکمت عملی سے جدوجہد کرنا انسانی سرشت میں شامل رہا ہے۔ اگر بنظر غائر اس بات کا جائزہ لیا جاوے، تو دراصل یہی بات سر حیات اور انسان کی بقاء کی ضامن ہے۔ تاہم ان تمام مسائل میں سے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں

Read more

ارد شیر کاﺅس جی: شراب پئے اور چاکلیٹ کھائے بغیر دوستی

ارد شیر کاﺅس جی حسب وعدہ ہمیں رات اپنی مرسڈیز اسپورٹس میں لینے پہنچ گئے۔ پھولدار شرٹ اور خاکی ٹراﺅزر۔ ہم نے کار میں بیٹھ کر انہیں تنگ کرنے کے لیے جب گجراتی میں یہ کہا کہ Wire-Tapping نوں تو پروگرام نتھی؟ (خفیہ ریکارڈنگ کا تو کوئی پروگرام نہیں) تو تاﺅ کھا گئے۔ کار سائیڈ پر روک کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قمیص کے بٹن کھول کر دکھایا۔ ہم نے کہا ”دوسروں کو تو مٹی میں ملانے

Read more

یاسمین راشد نے ایسا بھی کیا کہہ دیا

ہمیں شروع سے ہی اس امر کا ادراک تھا اگر کرونا وائرس نے پاکستان کی دہلیز پار کی تو اس کے کیسے ہوش ربا نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمیں نا صرف صحت کے ابتر نظام کا علم تھا ساتھ ہی میں عوام کی لاپرواہی اور ہر شے کو سازش اور مذاق میں اڑا دینے کی معمول کی ملی روش کا مکمل اندازہ تھا۔ انہی وجوہات کی بنا پر چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس نہ لایا گیا۔ کرونا وائرس جب آگ کی طرح پھیل رہا تھا، ہمارے کانوں پر جوں رینگی نہ ہی اس کی سنگینی کو اس قابل تصور کیا کہ ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کے ہر اس ملک میں نا صرف ہمارے شہریوں نے سفر کیا بلکہ وہاں سے کرونا کو سامان میں کہ۔ طرح بھر بھر واپس بھی لائے۔ یہ بات ترش ہے، انتہائی ہے مگر سچ بھی ہے۔

نا اہلی الگ سے قومی اثاثہ ہے جس کا پہلو محبوبہ کے پہلو کی طرح چھوڑے ہم سے چھوٹتا نہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ دنیا میں ہر مثبت دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام میں ناکامی کے باعث دنیا میں آگے سے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب کرونا نحیف اور معدوم تھا، تب جو علاج کا منجن بیچا گیا اس کو کوئی جواب نہیں ملتا، ہم نے ہر اس شے کو حق سچ مانا جس میں کچھ مصالحہ تھا۔ ماسوائے ڈاکٹر اور وائرولوجسٹ کے، ٹی وی شوز پر ہر اس شخص کی بات میں وزن ثابت کیا گیا جس کا وبائی امراض سے کوئی تعلق تھا نہ طب سے۔ طب اور سائنس کے علاوہ ہر طرح کے انڈے کرونا وائرس کے سر پر پھوڑ دیے مگر کوئی خاص فرق واضح نہیں ہوا۔ ہم یہ بات ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ فطرت ہماری روشوں کی مانند امتیازی نہیں ہوا کرتی۔

Read more

پاکستان میں کورونا بنا پیشہ

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں کورونا نے تباہی مچا رکھی ہے جہاں ہر روز متاثر افراد کی تعداد کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ معیشت کو بچانے کے لئے حکومت مکمل لاک ڈاؤن نہیں کر سکتی کیونکہ ان حالات میں ملکی معیشت کو مزید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سب کے باوجود حکومت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاؤن کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جس میں چند مقامات کو سیل کر نے کا فیصلہ سامنے آیا ہے یعنی وہ علاقے جہاں کورونا کے مریض زیادہ ہیں ان تمام علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Read more

لمحوں کی فتح اور زندگی کی کہانی ہوئی ختم

کچھ واقعات اور سانحات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ اور سنکر ہم ساکت و جامد رہ جاتے ہیں۔ حیرت اور ہے یقینی کی کیفیت لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے؟ ایک محروم، مجبور، اور نادار انسان مایوس ہو کر زندگی کے خاتمے پر مجبور ہو تو عقل قبول بھی کر لے۔ حالاں کہ زندگی ختم کرنے کا اس کا فعل بھی نا قابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ مگر جس شخص کے پاس دنیا کی ہر آسائشیں موجود ہو، شہرت کی بلندیوں پر ہو، مستقبل کے پلان ریڈی ہوں، وہ شخص بھی ایسے قدم اٹھانے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ حیران اور متفکر کر دینے والی بات ہے۔ سوشانت کی خود کشی نے بھی بہت سے سوال میرے ذہن میں پیدا کیے۔ اس کے مذہب، شخصیت، ماضی کو درکنار کر میں نے بہ حیثیت ایک انسان اس کی خودکشی پر تکلیف محسوس کی بلکہ ہر حساس ذہن نے کی ہوگی۔

Read more

گلی محلوں میں موت کے سائے

ملک بھر خصوصاً پنجاب میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ اس وائرس سے پہلے پوش علاقے زیادہ متاثر تھے لیکن اب اس جان لیوا وائرس نے گلی محلوں کا بھی رخ کر لیا ہے۔ اس قاتل وائرس کو گلی محلوں میں آنے کی دعوت خود رہائشیوں نے دی ہے۔ عید سے چند دن قبل جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو لوگوں نے کورونا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی خریداری اور گھر سے باہر نکلنے کا آزادانہ سلسلہ جاری رکھا، اس دوران ایس او پیز کی رج کے دھجیاں اڑائیں گئیں۔ ان دنوں میں نے اپنے کالم ”عید کی خریداری کرتے ہوئے کورونا مت خریدیں“ میں اس بات سے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر احتیاط نہ کی تو نتیجہ خطرناک ہوگا اور آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے، گلی محلوں میں کورونا کس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے۔

Read more

ایک اسسٹنٹ کمشنر کی دوران ڈیوٹی بے بسی کی موت

کئی دونوں سے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن قلم الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ نظام کا وجود اپنے اختتام کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ 8 جون کو تقریباً 6 بجے شام مجھے میسیج موصول ہوتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔

بایزید بھائی میں وکیل کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر (خالق آباد) منگوچر کا بھائی ہوں ان کو ڈیوٹی کے دوران کورونا کا مرض لاحق ہوگیا تین دن تک وہ اپنی جائے تعیناتی پر بے یارو مددگار اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پڑے رہے بعد میں ہمیں ان کی بیماری کی خبر ہوئی تو ہم ان کو علاج کی غرض سے کوئٹہ لے کر آئے اور وہ 26 مئی 2020 سے شیخ زائد ہسپتال کوئٹہ میں بد قسمتی سے داخل ہیں۔

بھائی نے آپ کا نمبر دیا ہے اور آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ ہم مایوس اور بے بس ہو کر آپ کو میسیج کر رہے ہیں۔ کل رات کو یک دم سے پورے ہسپتال میں آکسیجن سلنڈر میں پریشر ختم ہوگیا ہے جس سے تین کورونا کے مریضوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ وہیں وکیل کاکڑ کی طبیعت بھی سخت بگڑ گئی اور مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ آکسیجن کے کم پریشر کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

عوام جاہل یا حکمران عقل کل

اس وقت پوری انسانیت ایک وبا کی لپیٹ میں ہے اور ہر ملک کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ کس طرح اس بھنور میں سے اپنی قوم کو نکالا جائے اور نقصان بھی کم سے کم ہو۔ ارض پاک پر بھی اس وقت اس موذی وبا کے سائے چھائے ہوئے ہیں جو ہر گزرتے دن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنی کم علمی اور کم عقلی کی وجہ سے میں گراف کی بڑھتی گھٹتی لائنوں پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں۔ بہرحال کوشش کروں گا کہ ایک سطحی سوچ کا فرد ہونے کے ناتے میں اپنے ہم خیال لوگوں کی نمائندگی کر سکوں۔

لکھنے بیٹھا ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کروں؟ کس نقطے کو پہلے ڈسکس کروں اور کس کو بعد میں۔ ابھی پرسوں کی ہی بات ہے کہ صوبائی وزیر صحت نے عوام کو جاہل کا لقب عطا فرمایا جس کہ بعد ہر جگہ اسی پر بحث ہونے لگ گئی۔ جیسا کہ مرشد نصرت جاوید فرماتے ہوتے ہیں کہ یہ قوم اندھی عقیدت اور نفرت کے درمیان رہتی ہے تو اس بات کو لے کر بھی عقیدت مندوں نے پورا زور لگانا شروع کر دیا کہ ہاں بھائی ہم ہیں ہی جاہل۔ میں اس وبا کہ ملک میں تشریف لانے سے لے کر اب تک اپنی عقل کل حکومت کے کچھ سنہرے اقدامات کا ذکر کروں گا اور پھر فیصلہ قارئین پر چھوڑ دوں گا۔

Read more

طارق عزیز کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا، پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں، کن دنوں میں ہم سے جدا ہوا۔ لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اداسیوں اور مایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔ کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔ لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔ اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔ وہ تو ہمہ جہت تھا۔ پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو، اس کی پھرتیاں چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

Read more

افغانستان میں امن کے امکانات روشن

افغانستان گزشتہ چار دہائیوں سے خانہ جنگی کے باعث تباہ حال ہوچکا ہے۔ 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پہ حملہ کر دیا اور قبضہ دس برس تک قائم رہا جس کو ختم کرنے میں اور سوویت یونین کی فوجوں کو پسپائی پہ مجبور کرنے میں افغان مجاہدین، امریکہ اور پاکستان کا بڑا کردار رہا۔ افسوس کہ سوویت یونین کی سرخ فوج کے انخلا کے بعد اسلامی ملکوں سے جو جہادی افغانستان آئے تھے ان میں سے کچھ نے اپنے وطن لوٹنے کی بجائے افغان سر زمین کو اپنا وطن بنالیا جبکہ خود مختلف افغان جنگجو اور متحارب گروہوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

القاعدہ نامی تحریک نے اسلام دشمن عناصر کو اپنا ہدف بنانے کا فیصلہ کیا۔ 11 ستمبر 2001 کو امریکہ کے شہر نیویارک میں جڑواں ٹریڈ ٹاور کی عمارتوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں عسکری ہیڈ کوارٹر پیٹنا گون سے کمرشل طیارے ٹکرا گئے جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان بحق ہو گئے۔ ان حادثات کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی۔ دریں اثنا افغان خانہ جنگی کو ختم کرنے کی خاطر طالبان نامی گروہ کامیاب ہوا اور اپنے سربراہ ملا عمر کی قیادت میں افغانستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔

Read more

قحط

سشانت سنگھ کی خود کشی کی خبر سنی۔ دل دکھ سے بھر گیا۔ کیا گزری ہو گی اس باپ پہ جس نے جوان بیٹے کی خود کشی کی خبر سنی۔ ماں باپ تو بچوں کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کرتے۔ یہ دکھ کیسے سہا جائے گا۔ اور یہ صرف دکھ نہیں روگ بن گیا ان کے لئے عمر بھر کا روگ۔ طبعی موت پہ تو صبر کیا جا سکتا ہے اس موت پہ صبر آئے بھی تو کیونکر۔

چشم تصور میں اس شخص کا چہرہ آ رہا ہے۔ جو نہ جانے ذہنی ابتری کے کس درجے پہ ہو گا کہ زندگی کو ، اپنی تمام تر خوبصورتیوں سمیت، اتنا ارزاں سمجھا۔ باپ، بہن بھائی، کیرئیر سب کچھ پس پشت چلا گیا۔ کوئی خواہش باقی رہ گئی تو موت کی خواہش۔ ۔ ۔ اور وجہ کیا تھی؟ ڈپریشن، ذہنی عارضہ۔

Read more

آن لائن کلاسز اور حکومتی اقدامات

کرونا وائرس حقیقتاً ایک ایسی وبا ہے جس نے سائنس اور اور ٹیکنالوجی کے نظام پر ایک سوالیہ نشان لگادیا۔ لیکن شاید آنے والے کچھ عرصے میں یہ وبا بھی اس جہان فانی سے رخصت ہو جائے لیکن اس کے اثرات انسانی زندگی پر ایک لمبے عرصے تک اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ ۔ جہاں پوری دنیا میں معیشت کا پہیہ بری طرح جام ہو چکا ہے وہیں پر ایک اور محکمہ جو بری طرح اس کی زد میں آ گیا وہ تھے ہمارے تعلیمی ادارے، جی ہاں وہی تعلیمی ادارے جہاں پر پاکستان کے مستقبل کے کے کامیاب ترین ڈاکٹرز اور انجینئرز کو بنایا جانا تھا وہیں کرو نا نامی اس دہشت گرد نے نمودار ہونے کے بعد ان تعلیمی اداروں کے اپنے مستقبل کو ہولناک بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

Read more

موہنی کی بے بسی

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے جڑ کر لال کر دیے تھے، اس کے سرخی مائل سفید رخسار شدت تکلیف سے شعلہ خیز انگاروں کے مثل دہک رہے تھے، اس کا بدن ذہنی اذیتوں کی تپش سے جل بھن کر خاکستر ہوا جا رہا تھا، سیٹھ کی بات نے آج اسے اٹھارہ سال قبل زندگی کی بھولی بسری یادیں تازہ کرا دیں تھی۔

جب 2002 میں پورا صوبہ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل اٹھا تھا، پوری فضا عداوت و دشمنی کے کالے کالے دھوئیں سے تاریک ہو چلی تھی، ہر طرف لاشوں کی بدبو اور خون کی سڑن سے سارا ماحول پراگندہ ہو چکا تھا، کہ اسی اثنا 22 مارچ 2002 کی درمیانی شب کو نفرت کے سوداگروں نے موہنی کے گھر کو آگ لگا دی تھی، اس کے بابا کو اس کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دیا تھا، بیچاری ماں نے اپنی ناموس کی حفاظت کی خاطر خود کو نذر آتش کر لیا تھا، اور چھوٹے بھائیوں کو بھی جلتی آگ میں کود جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، موہنی نے کسی طرح آگ سے بھاگ کر اپنے جان بچانے کی کوشش کی، مگر ازل نے بدنصیبی اس کی بھی تقدیر میں لکھ دی تھی، تو وہ پڑوسی کے مکان میں چھپنے کے باوجود ظالموں کی گرفت سے نا بچ سکی۔

اس وقت اس کی عمر صرف بارہ سال کی تھی، مگر کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کی وجہ سے جسمانی طور پر پندرہ سال سے کم نا دکھتی تھی، گوشت سے پر جسم و جسامت پر سفیدی مائل سرخ کتابی چہرہ کسی پری کے حسن و جمال سے کم نا تھا، پانچ فٹ سے زائد مضبوط کٹھیلا جسم دیکھنے والوں کی نظروں کو فوراً خیرہ کر دیتا تھا، کہ کبھی کبھی وہ اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں سے لڑائی کے وقت بڑی تیز انہیں پٹخنی دے دیتی تھی۔

مگر اس شہر آشوب شب کو ظالموں کی گرفت میں آکر وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی، بس اس کے سامنے بابا کے پیٹ سے فوارے مارتا خون اور ماں کے بدن کو کھاتی آگ کا منظر تھا، جس کو دیکھ کر وہ بہت زیادہ سہم گئی تھی، بے بسی کی اذیتوں نے اس ننھی پری کے چہرے کی ساری حسین رنگت اڑا کر رکھ دی تھی، عاجزی کی کلفت و مصیبت نے اس کی دلکشی و رعنائی پر خاک مل دی تھی۔

چنانچہ ان ظالموں نے اسے دہلی لا کر گلشن بائی کے کوٹھے پر محض دہائی ہزار روپے میں فروخت کر دیا، آج سے اٹھارہ سال قبل ڈھائی ہزار کی قیمت بہت معنی رکھتی تھی، ویسے گر مفت میں ایک پیسہ بھی ہاتھ لگ جائے، تو وہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا ہے۔

گلشن بائی کے یہاں آکر موہنی نے ایک ہفتہ تک کچھ بھی نہیں کھایا پیا، ایک ہفتہ بعد گلشن اسے بہت منا دھنا کر کچھ کھلانے پر بڑی محنت سے کامیاب ہوئی، مگر اس کو وہاں کا ماحول دیکھ کر اتنی گھن آتی تھی، کہ کچھ کھاتے ہی فوراً قے ہو جاتی، اور پھر طبیعت بگڑ جاتی، اس نے کئی بار وہاں سے بھاگنے کی بھرپور کوششیں کی، مگر کوٹھے کا پہرہ اتنا سخت تھا، کہ وہ ہر بار پکڑ لی جاتی تھی، آخری بار جب وہ پکڑی گئی تھی، تو گلشن نے اس کو زنجیروں میں باندھ کر کمرے میں مہینوں کے لئے قید کر دیا تھا، کیوں کہ گلشن جیسی چھیالیس سالہ نہایت تجربہ کار عورت نے اس کو دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا تھا، کہ یہ لڑکی میرے بہت کام کی ہے، اس کا حسن و جمال اور دلفریب ادائیں منہ مانگے دام دلوائے گیں، تو گر اس کو ڈھائی ہزار کے بجائے پانچ ہزار روپے دینے پڑتے تو بھی وہ فوراً چکا دیتی۔

آخر کار تمام تر بندشوں سے مجبور ہو کر موہنی نے اپنی زندگی کو گلشن کے حوالے کر دیا، گلشن نے اس کو سال بھر میں مردوں کو قابو میں کرنے والے بہت سے داؤ پیچ سکھا دیے، ہر ایک کو خوش کرنے سارے ہنر بھی بتلا دیے، اور سب کچھ سکھا پڑھا کر دو سال بعد اس کو نواب زادوں کے سامنے کے پیش کرنے لگی، ہر رات کا نیا مسافر موہنی کو پہلی نظر دیکھتے ہی خود کو اس کے قدموں میں ڈال دیتا تھا، اولین مرحلے میں ہی ہر ایک گاہک اپنا دل اس کی طرف پھینک دیا کرتا تھا، اور ہر رئیس خوب انعام و اکرام سے نواز کر ہی جاتا تھا، جس کا سیدھا فائدہ گلشن کو ہوتا تھا، پھر چند ہی سالوں میں موہنی کی شہرت دور تک پھیل گئی، جسم کے پجاری دور دور سے دہلی کا سفر کرنے لگے، مگر ساتھ ہی اس کو سخت ہدایت تھی، کہ وہ سودے کے علاوہ کسی بھی مرد سے اپنا کوئی ذاتی تعلق بنانے کی بالکل بھی نا کوشش کرے، اس کے ذہن میں یہ بات پیوست کر دی گئی تھی، کہ یہاں آنے والے کسی بھی مرد کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کوئی ذرا بھی بھروسا کے لائق نہیں ہوتا ہے، سو اس نے بھی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کو بھی جسم کے علاوہ دل تک آنے نہیں دیا۔

موہنی نے گلشن بائی کی نگرانی نہیں تقریباً بارہ سال گزارے تھے، اس نے مردوں کو اچھے سے جان پہچان اور راضی کرنا سیکھ لیا تھا، اس کو زندگی کے ہر نشیب و فراز سے اچھی واقفیت ہو گئی تھی، ہر رات نئے مرد کی ملاقات نے اس کو معصوم لڑکی سے چوبیس سالہ تجربہ کار عورت بنا دیا تھا، ان بارہ سال کے تجربات نے اس کو پچھلے بارہ سال والی زندگی مکمل بھلا دی تھی، کہ وہ کون تھی؟ اور کہاں سے لائی گئی؟ اور کیونکر اس نے اس زندگی کا انتخاب کیا؟ وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی۔

بارہ سال تک وہ مسلسل گلشن کی زیادتیوں کا شکار رہی، وہاں کچھ ایسے بھیڑیے نما انسان آتے تھے، کہ گویا انہوں نے ہوس پوری کرنے کی نہیں، جسم کی نوچنے کی قیمت دی ہو، پیسے دینے میں تو خوب بخالت کرتے مگر بدن نوچنے کے لئے انہیں پوری رات چاہیے ہوتی، اور انکار کی صورت میں ظالم چند لمحوں میں پوری رات کی کسر نکالنے کی بھرپور کوشش کرتے، اور کچھ عاشق قسم کے گاہک اس کی دل پھینک اداؤں پر منہ مانگے دام دے کر جایا کرتے تھے، مگر گلشن اس کے بہت سارے پیسے غبن کر لیتی تھی، آخرکار اس نے زیادتیوں سے عاجز آ کر خود کو گلشن کے کوٹھے سے الگ کر لیا، اور وہیں سے کچھ دور ہٹ کر ایک معمولی مکان کرایہ پر لے لیا، پھر اس نے اپنا الگ ٹھکانہ بنا لیا، اور وہیں گاہکوں کو اپنے نئے پتہ پر بلانے لگی، نئی جگہ آنے پر اس کے پچھلے گاہکوں کے ساتھ نئے گاہکوں میں اضافہ ہوا، اور اس کی خوب کمائی ہونے لگی، گلشن کے یہاں رہنے کے مقابلے میں اب اسے یہ ذاتی زندگی بڑی پر سکون سی لگنے لگی، اس نے اب اپنے حسن کی صحیح قیمت جانی تھی، اب اس کو اپنی خوبصورتی و رعنائی کے پورے پورے دام ملے تھے، اور پھر روز بروز اس کی آمدنی میں اضافہ ہی ہوتا گیا، موہنی اپنے پیشہ کے اصول و ضوابط میں جو بھی سخت ہو، مگر وہ اخلاقی و عملی زندگی میں بڑی نرم خو اور کشادہ دل واقع ہوئی تھی، اپنے طور پر دل کھول کر ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری کیا کرتی تھی، ایک دفعہ بارش کی شب ٹھنڈ سے کپکپاتے ہوئے ایک بوڑھے نے اس کے دروازے پر دستک دی، اور مدد کی دہائی دی، اس نے ایک ہی آواز پر اپنا کام چھوڑ دروازہ کو دوڑ پڑی، بوڑھے کی حالت دیکھ اس نے اپنا نیا کمبل فوراً اڑھا دیا، اور اپنی وہ خوبصورت چھتری دے دی، جو ابھی کل اس کو خان صاحب تحفہ میں دے گئے تھے، مزید اس نے اپنے سینہ بند سے دو ہزار کی نوٹ نکال کر چپکے سے اس کی مٹھی میں تھما دی، یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کی کمائی کا اکثر حصہ اسی طرح کے کاموں میں صرف ہو جاتا تھا، اور اس کو اس کی کوئی فکر بھی نہیں ہوتی تھی۔

مگر اس بار وبا کی وجہ سے ساری چیزیں بند ہو گئیں، لاک ڈاؤن نے تمام تر آمد و رفت پر مکمل پابندی لگا دی، حکومت کے آرڈر پر انتظامیہ نے ہر جگہ سخت پہرے بٹھا دیے، تو پھر ادھر تین مہینہ سے کوئی بھی شخص اس کے یہاں بھٹکا بھی نہیں، اب اس کی زندگی ایک ایک پیسہ کی محتاج ہو گئی تھی، گرانی کی وجہ سارا سرمایہ دو مہینے میں ختم ہو گیا تھا، ایک مہینہ سے وہ جیسے تیسے اپنا گزارا کر رہی تھی، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اس بنا کچھ کھائے خالی شکم یونہی رات بسر کی، بھوک کی شدت کی وجہ سے جسم نڈھال ہو گیا تھا، رخسار کی ہڈیاں ابھر آئیں تھی، چہرہ کا رنگ بھی کافی اتر گیا تھا، اس پر سیاہ دھبہ سے پڑ گئے تھے، مالی پریشانیوں نے اس کے نازنیں بدن کی تراش کو ہڈیوں کے ڈھانچہ بدل دیا تھا، وہ تیس سالہ جوان عورت کے بجائے ایک عمر دراز خاتون لگنے لگی تھی۔

آج رات جب راجو دلال کے ذریعے ایک سیٹھ کے آمد کی خبر اس تک پہنچی تھی، تو وہ بہت پر امید ہو چلی تھی، اس نے پہلے سے ہی نہا دھو کر خود کو سنوار کر رکھا تھا، کہ وہ سیٹھ کو خوش کر کے چند پیسہ کما کر اپنی بقاء کا کچھ سامان میسر کر سکے۔

مگر ادھر سیٹھ نے اس کو دیکھتے ہی راجو دلال کو دوچار گالیاں دیتے ہوئے کہا، ”کہ سالے راجو کلموہے کا ستیا ناس ہو، اس نے کون سی ہڈی کی دکان پر بھیج دیا“ اور پھر موہنی سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فوراً چلتا بنا، ان دگرگوں حالات میں سیٹھ کا یہ نفرت آمیز لہجہ آج موہنی کو کھائے جا رہا تھا، وہ مسلسل رو رہی تھی، اور اپنی موت کی دہائی دیے جا رہی تھی۔

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے جڑ کر لال کر دیے تھے، اس کے سرخی مائل سفید رخسار شدت تکلیف سے شعلہ خیز انگاروں کے مثل دہک رہے تھے، اس کا بدن ذہنی اذیتوں کی تپش سے جل بھن کر خاکستر ہوا جا رہا تھا، سیٹھ کی بات نے آج اسے اٹھارہ سال قبل زندگی کی بھولی بسری یادیں تازہ کرا دیں تھی۔

جب 2002 میں پورا صوبہ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل اٹھا تھا، پوری فضا عداوت و دشمنی کے کالے کالے دھوئیں سے تاریک ہو چلی تھی، ہر طرف لاشوں کی بدبو اور خون کی سڑن سے سارا ماحول پراگندہ ہو چکا تھا، کہ اسی اثنا 22 مارچ 2002 کی درمیانی شب کو نفرت کے سوداگروں نے موہنی کے گھر کو آگ لگا دی تھی، اس کے بابا کو اس کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دیا تھا، بیچاری ماں نے اپنی ناموس کی حفاظت کی خاطر خود کو نذر آتش کر لیا تھا، اور چھوٹے بھائیوں کو بھی جلتی آگ میں کود جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، موہنی نے کسی طرح آگ سے بھاگ کر اپنے جان بچانے کی کوشش کی، مگر ازل نے بدنصیبی اس کی بھی تقدیر میں لکھ دی تھی، تو وہ پڑوسی کے مکان میں چھپنے کے باوجود ظالموں کی گرفت سے نا بچ سکی۔

Read more

کرونا کا خوف حقائق کی روشنی میں

اس وقت کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور ہر بندہ حواس باختہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمام افراد جو اس کا مذاق اڑاتے تھے یا اس کا سرے سے ہی انکار کرتے تھے ان کے ارد گرد بھی اب اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ پرنٹ اور سوشل میڈیا تو پہلے دن سے ہی اس کی ہولناکی کے حوالے سے ہمیں گاہے بگاہے خبردار کر رہے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی کر رہے ہیں، میرے خیال میں اتنا کر رہے ہیں کہ دنیا میں اس کے علاوہ رونے کو کچھ باقی ہی نہیں بچا۔

خیر۔ ۔ ۔

Read more

طارق عزیز، نیلام گھر سے ہسپتال میں آخری ایام تک جو ہم نے دیکھا

طویل برآمدے میں گول کمرے کے عین دروازے میں، ٹی وی کی بلیک اینڈ وائٹ سکرین روشن ہوتی۔ برقی پتلے اس سکرین پہ نمودار ہوتے۔ اماں جی شام کے دو گھنٹے سات سے نو بجے تک ٹی وی دیکھنے کی اجازت دیتیں۔ برآمدہ محلے کے لڑکے لڑکیوں سے کھچا کھچ بھر جاتا۔ ہم آلتی پالتی مار پھسکڑا جما کے سیمنٹ کے چکنے فرش پہ بیٹھ جاتے۔ بڑے بوڑھے چارپائیوں اور پیڑھیوں پر قبضہ جما لیتے۔ انہیں دنوں میری دیکھتی آنکھوں نے طارق عزیز کو دیکھا اور سنتے کانوں نے اس کی بھاری بھرکم آواز کو سنا۔

جو لوگوں کا ہجوم، اس کے پروگرام نیلام گھر کے دن ہمارے برآمدے میں ہوتا، بعد میں جب میں پڑھنے کے لیے شہر آیا تو وہی رش میں نے کئی سپرہٹ کھڑکی توڑ فلموں کی نمائش میں سنیما گھروں میں دیکھا۔ طارق عزیز کے پروگرام کا دھندلا خاکہ جو ابھی تک میرے دماغ کے خانوں میں محفوظ ہے، اس کے ابتدائی جملے تھے، ابتدا ہے رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام۔ کوئی ڈھائی دہائیاں قبل سنے گئے یہ فقرے میں محض اپنی یادداشت کے بل بوتے پر لکھ رہا ہوں ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

Read more

سردار مینگل کی علیحدگی کے بلوچستان پر اثرات

سردار صاحب بلوچستان کے لوگوں کے لئے وفاق سے صرف اور صرف مایوسی لے کر جائیں گے۔ سردار صاحب کی علیحدگی سے حکومت کو کچھ فرق نہ بھی پڑے، مگر بلوچستان کی سیاست اور عوامی سوچ میں ایک ہلچل ضرور مچنے والی ہے۔

تمام تر اختلافات کے باوجود، سردار مینگل بلوچستان کے لوگوں کے لئے ایک امید ضرور تھے۔ اب یہ مینگل صاحب پر منحصر ہے کہ وہ عام بلوچ کی سوچ کو کیسے درست سمت لے جا سکتے ہیں۔ عام بلوچ سردار صاحب کے ناکام لوٹنے پر کم از کم یہ ضرور کہے گا کہ وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وفاق سے پہلے خیر نہیں پہنچا، تو اب کس امید پر وفاق سے خیر کی توقع رکھ کر آپ چلے گئے۔

Read more

بزدار اور شہباز حکومتوں کا موازنہ

بزدار حکومت اگرچہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے اکثر شدید تنقید کی زد پر رہی ہے اور اس کی ایک وجہ وزیر اعلی کا کام کرنے کا دھیما انداز بھی ہے۔ لوگ ان کا موازنہ شہباز شریف کے بلند آہنگ انداز حکمرانی سے کرتے ہیں۔ شہباز شریف اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کے آگے ابریشم کی طرح نرم نظر آتے ہیں، لیکن بطور وزیر اعلی وہ فولاد بن جاتے۔ خاکی سفاری سوٹ پہن کر حبیب جالب کی مظلوموں کے لئے لکھے گئی انقلابی نظمیں اپنی غیر مترنم آواز میں گاتے رہتے، عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے لئے بارش کے فوراً بعد گھر سے نکل پڑتے اور ربڑ کے جوتے پہنے سیوریج کی خرابی کی وجہ سے کھڑے پانی میں اتر جاتے تاہم اپنے ساتھ میڈیا لے جانا کبھی نہیں بھولتے۔

اپنی انگلی کو جلالی انداز میں ہلا ہلا کر بیوروکریسی کو ایک پل کے لئے چین نہ لینے دیتے تھے۔ بزدار اپنی وضع داری کی وجہ سے اس طرح کے کام نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لئے پالیسیوں کی تشکیل کی حد تک بھی ان کے ہاتھ بندھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور سب سے بڑے صوبے کو چلانے کے لئے اس طرح کے اختیارات ابھی حاصل نہیں کر پائے جو شہباز شریف اور ان کے ہونہار بیٹے کو حاصل تھے۔ کرونا وبا سے نمٹنے کے لئے بھی ان کو وفاق کی ہدایات پر عمل کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی اور کابینہ کی خواہش کے باوجود سخت لاک ڈاؤن نہیں نافذ ہونے دیا جا رہا۔

Read more

سوشانت کی خود کشی نے کھولے فلمی دنیا کے بد نما راز

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کی اصل وجہ تو ابھی تک ایک معما ہی بنی ہوئی ہے، لیکن کئی ایسے راز ضرور ہیں، جن سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھتا جا رہا ہے۔ ان کے دوست اور احباب، ان کی خود کشی کی کوئی ٹھوس وجہ بتانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ سوشانت نے جو قدم اٹھایا، اس نے نا صرف دنیا کو ششدر کیا، بلکہ اپنے شائقین کے دل میں گھاؤ بھی کر دیا۔ اس سانحے نے پوری بھارتی فلم انڈسٹری کو، جیسے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کی موت کے بعد، جو رد عمل سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایک فقرہ بہت تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اور وہ ہے (نیپا ٹزم ان بالی ووڈ) یعنی بالی ووڈ میں اقربا نوازی۔

فلمی دنیا میں اقربا پروی کے، رویے کو سوشانت کی خود کشی کی، وجہ مانتے ہوئے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ بعض لوگوں نے تو ایک ایف آئی آر تک لکھوا دی ہے۔ جس میں ہدایت کار کرن جوہر، اداکار سلمان خان، ہدایت کار ایکتا کپور، ہدایت کار ساجد ناڈیا والا، ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی، آدتیہ چوپڑا، بھوشن کمار، اور دنیش سمیت آٹھ فلمی ہستیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ سوشانت کی خود کشی کے بعد ایک ویڈیو جاری کر کے، ان کی موت کا ذمہ دار، فلمی دنیا کی اقربا نوازی کو، قرار دینے والی اداکارہ کنگنا رناوت کا نام اس ’نالش‘ میں بطور گواہ درج کروایا گیا ہے۔

Read more

کرونا سے کرو۔ نا، اور لاک ڈاؤن سے مذاق ڈاؤن

مولانا مفتی قوی کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک خبر چل رہی ہے کہ وہ بھی کرونا کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں، لو جی صیاد آپ ہی اپنے دام میں آ گیا۔ لیکن اصل مسئلہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحبان کے لئے ہے کہ مولانا کو بیماری سے بچایا جائے یا ڈیوٹی پر موجود نرسوں کو مولانا سے محفوظ رکھا جائے۔

کرونا کو کرو۔ نا اور لاک ڈاؤن کو مذاق ڈاؤن خیال کرنے والی یہ قوم دونوں صورتوں میں سنجیدہ نہ ہونے پر اس لئے مضر ہے کہ کرونا مضر صحت نہیں تو لاک ڈاؤن کیسا؟ کرونا کو پاکستان میں کس قدر سنجیدہ لیا گیا ہے اس کا منہ بولتا ثبوت باوجود یکہ سماجی فاصلہ کی تشہیر کے، گائناکالوجسٹ کے ہاں چیک اپ کرانے والی خواتین کا رش ہے۔ میری ایک دوست گائناکالوجسٹ نے اپنی ایک مریضہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ خاتون تمہیں کرونا اور آبادی کے بے تحاشا بڑھنے سے خوف نہیں آتا کیونکہ تمہارے تو پہلے ہی پانچ بچے ہیں۔ بغیر شرمائے کہنے لگی کہ ہاں ہیں تو مگر یہ بچہ قرنطینہ کی وجہ سے مکمل انہماک، وقت اور محبت کی پیداوار ہوگا، اس لئے کہ مکمل لاک ڈاؤن میں ڈاؤن لوڈ ہو رہا ہے۔ تو کیا پہلے پانچ جلدی میں ہوئے تھے کیا؟ جی ہاں۔

Read more

سندھ یونیورسٹی کے وی سی علامہ آئی آئی قاضی نے خودکشی کیوں کی تھی؟

خودکشی بزدلی ہے۔ ۔ ۔ اکثریت ایسا کہتی ہے لیکن وہ کون سے عوامل ہیں جن سے گزرتے ہوئے انسان یہ انتہائی قدم اٹھانے کی طرف بڑھتا ہے۔ خود کو بند گلی میں دیکھتا ہے، جہاں اسے کوئی راستہ، کوئی سہارا، کوئی امید، کسی تنکے تک کی آس نہیں ہوتی اور وہ کوئی راہ نہ پاتے ہوئے خودکشی کرتا ہے۔ ایسی کیفیت جو آگے چل کر خودکشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور کرتی، سب پر آتی ہے، لیکن اکثریت کیفیت سے جلد نکل جاتی ہے۔

اداکارہ نرگس نے ایک انٹرویو میں موسیقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر یہ موسیقی نہ ہوتی، لتا، رفیع اور کشور نہ ہوتے تو لوگ اپنے دکھوں اور غموں کی وجہ سے جینا ترک کر دیتے۔ موسیقی نے لوگوں کو حوصلہ دیا ہے۔“

Read more

”وہ راستہ۔ ۔ ۔ کیوں چنا تھا میں نے؟“

گلگت کے برف پوش پہاڑوں پر چمکتی سے موسم گرما کی سنہری دھوپ اس بار بہت اداس ہے۔ دو ماہ قبل چیری اور خوبانی کے جو پھول کھلے تھے، کھلے کہاں تھے، بس کھلے تھے۔ گرمیوں کی دھوپ سے پگھلتی برف سے نکلتے جھرنوں کی آواز میں اس بار جوانی کا جوش ہے، نہ ہی پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہتی ندیوں کی چال میں الہڑ خمار۔ اس بار کے بہار میں گلگت بلتستان کی پر کیف وادیوں کے حسن کو سراہنے، ان پہاڑوں میں کوئی نہیں آیا۔ کہ عشاق کی بہار آنے سے پہلے اب کے وبا کی خزاں آ چکی تھی۔

Read more

پرنم آنکھوں اور دکھی سماعتوں کا طارق عزیز کو آخری سلام

دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام اور پھر ایک لمحاتی وقفہ اور اس کے بعد اک اسٹائل سے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بالوں کی گہری لٹ کو بائیں ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ہمارے وقت کا یہ ہیرو جو صرف شوبز کی دنیا ہی کا ستارہ نہ تھا بلکہ وہ ہر گھر کا فرد تھا۔ آج ہم سے جدا ہوا۔ پروگرام تھا نیلام گھر اور اس کے ہیرو ہمارے وقت کے معروت اداکار، صداکار، شاعر، میزبان

Read more

جب مارینا نامی لڑکی سے مرد کے روپ میں ملاقات ہوئی

کتنی الجھن ہوتی ہوگی جب آپ خود کو لڑکا محسوس کرتے ہوں اور آپ کو مجبور کیا جائے کہ لڑکی بن کر رہو یا معاملہ اس کے برعکس ہو۔ اس گمبھیرتا کو لوگ برسوں برداشت کرتے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں جو ہمت کرکے یا موقع پا کر اسی طرح کی شخصیت کے طور پر زندگی بسر کرنے لگیں جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایم بی بی ایس کے فائنل امتحان میں میں اپنے بیچ میں فرسٹ آیا تھا

Read more

قرنطینہ زدہ زندگی کے شب و روز

”مجھے سال میں دو مرتبہ چھ چھ ماہ کی چھٹیاں درکار ہیں“
یہ ”لطیفہ“ بھلے وقتوں میں موبائل کی سکرین پہ جگمگایا تو بے ساختہ ایک آہ نکلی۔

”یہ نہ تھی ہماری قسمت۔“ اور اس معصومانہ خواہش سے ایک لطیفے کے مانند وقتی حظ اٹھا کر قدم بڑھا دیے کہ۔ ۔ ۔
”تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے“ ۔

لیکن رواجوں سے منحرف دل، چپکے سے، دماغ کے کڑے پہرے توڑتا۔ اس پر ایک حسرت بھری آمین نچھاور کیے بنا رہ نہ سکا۔ اور پھر وہ ہوا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا۔ نہ کسی سماعت نے سنا۔ اور جو ہوا اس کو دیکھ کر دماغ نے دیکھ کر ان دیکھی کی گئی آمین کا صلہ ایک خونخوار گھوری کی صورت میں دیا۔

Read more

دل کی صداقتوں سے منور : سید محمد شاہ کاظمی

لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمیٹیں کیوں کر میں کیسے کر پاؤں گا اظہار عقیدت تجھ سے کہتے ہیں کہ رفتار سفر اگر ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو ہر شے دھندلا جاتی ہے۔ دور کی چیزوں کے خدوخال گو پھر بھی قدرے واضح نظر آتے ہیں تاہم پیش منظر کی دھندلاہٹ ان پر دھیان دینا ناممکن بنا دیتی ہے۔ اس صورتحال میں منزل بے اصل پاکر ایکسپریس ٹرین کے مسافر اپنی اپنی کتابوں یا خیالات میں کھو

Read more

لاہور کے ماحول کو تباہ کرنے والا راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ

راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ایک نیا منصوبہ ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ راوی دریائے سائفن سے ہڈاریاں ڈرین جو کہ موہلن وال سے دریا کی طرف ہے تک 08 لاکھ کنال سے زائد رقبہ پر ایک میگا کمرشل رہائشی منصوبہ بنایا جائے۔ اس منصوبہ کے تحت 14 لاکھ گھر کی تجویز ہے جبکہ کمرشل منصوبہ جات اس کے علاوہ ہیں۔

اس طرح ایک طرح سے تقریباً 70 لاکھ سے 01 کروڑ آبادی والا ایک نیا شہر لاہور کے ساتھ بنانے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ پہلی دفعہ آج سے قریب 12 سال پہلے شہباز شریف کے دوسرے دور وزارت اعلیٰ میں سامنے آیا۔ بعد از سول سوسائٹی کی جانب سے اس پر احتجاج کیا گیا اور بنیادی کام اور فزیبلٹی رپورٹ بناتے بناتے وہ دورحکومت ختم ہوگیا۔ الیکشن کے بعد دوبارہ جیسا کہ سرکاری کام کا ہمارے ملک میں رواج ہے۔ آہستہ آہستہ یہ کام پھر شروع ہوا۔

Read more

بی این پی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی!

وزیراعظم عمران خان بدھ کو کراچی میں فرما رہے تھے کہ 18 ویں ترمیم نے وزیراعلیٰ کو آمر بنا دیا، اس میں جلد بازی میں کئی ایسی چیزیں ڈال دی گئیں جنہیں ختم کرنا ہوگا۔ اختیارات صوبوں کو پہنچ گئے لیکن صوبوں نے اختیارات بلدیات کو نہیں دیے. ان کا کہنا تھا این ایف سی ایوارڈ میں بھی خامیاں ہیں، یہ ناقابل عمل ہے، یہ کیسا سسٹم بنایا گیا کہ وفاق صوبوں کو پیسے دے دیتا ہے اور خود 700

Read more

جہالت علم اور ظلم کا بحران ہے

کتاب مقدس کی سورہ فرقان کی آیت 63 میں ہدایت کی گئی کہ زمیں پر تواضع (یعنی تحمل اور آہستہ روی) اختیار کی جائے اور اگر جاہلوں سے واسطہ پڑ جائے تو انہیں سلام کر کے اپنی راہ لی جائے۔ اپنے سچ پر قیام، دوسروں کے ساتھ رواداری اور فساد سے گریز کا اس سے بہتر نسخہ کیا ہو سکتا ہے۔ مناسب ہو گا کہ مکی دور کی اس آیہ مبارک کے ساتھ قریب قریب اسی دور کی سورہ الشوری

Read more

سرکاری خزانہ، ڈالی، بھتہ اور ٹیکس

پاکستان بنا تو زراعت ہماری آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھی۔ زمیندار طبقے کا تمام سال زیادہ تر لین دین اجناس اور خدمات کی شکل میں ہوتا تھا۔ اناج، کپاس اور دوسری فصلوں کے بدلے میں یا فصل کے موقع پر نقد ادائیگی کے وعدے پر انہیں ہر چیز مل جاتی تھی۔ نقدی، روپے، پیسے کا لین دین محدود تھا۔ سرکار کو ‘ٹیکس’ کی ادائیگی بھی اجناس اور خدمات کی شکلوں میں ہوتی تھی۔ رعایا جنہیں اب شہری کہتے ہیں

Read more

کرونا بجٹ اور ہمارا جگاڑ

لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ امریکی صدر کے کچھ نمائندے پاکستان آئے تو ان کو مختلف صنعتوں اور جگہوں کی سیر کروائی گئی۔ ان کا مقصد یہ پتا کرنا تھا کہ اتنے مشکل حالات کے باوجود یہ ملک کس طرح سروائیو کر رہا ہے۔ وطن واپسی پر جب صدر نے ان سے رپورٹ مانگی تو انہوں نے بتایا کہ پاکستانیوں نے تو اپنی ہر چیز جگاڑ پر چلائی ہوئی ہے۔ صدر نے پوچھا کہ جگاڑ کیا ہوتا ہے تو وفد نے جواب دیا ہمیں یہ تو نہیں پتا لیکن ہم جس جگہ بھی گئے تو ہمیں یہ ہی بتایا گیا کہ جگاڑ لگایا ہوا ہے۔

پھر جب امریکی صدر نے کہا کہ آپ نے حکومت سے پوچھا نہیں کہ جگاڑ ہوتا کیا ہے؟ اور آپ نے پاکستانی حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ یہ جگاڑ ہمیں دے دیں۔ وفد نے جواب دیا کہ ہم نے حکومت سے جگاڑ مانگنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کو کیسے دے دیں ہم نے تو خود اپنی حکومت جگاڑ پر چلائی ہوئی ہے۔

Read more

تم بھی تعلیم کے دشمن نکلے

انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقا اور معاشرتی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ معاشرہ کی ہر نسل اپنے تجربات، علم، مشاہدہ، عقائد و نظریات کو نسل در نسل اس طرح سے منتقل کرے کہ ہر آنے والی نسل پہلے سے بہتر اور بھرپور اقدار کا حامل بن جائے۔ دنیا ان معاشروں کی مثالیں دیتی ہیں اور تاریخ کے اوراق انہیں سنہری الفاظ میں یاد رکھتے ہیں جن کا کل آج سے بہتر ہوتا ہے اور آج سے کل اسی صورت میں ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے اگر تعلیم کا معیار بدلتی روایات اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

معاشرہ افراد کے مجموعے سے جنم پذیر ہوتا ہے اس لئے افراد کی تعلیم و ترقی دراصل ان کی شخصیت اور کردار کی بہتری کی ضامن ہوتی ہے۔ مثالی کردار کے حامل افراد ہی اصل میں معاشرتی عمل کو اپنی کارکردگی سے بہتر بناتے ہیں۔ تعلیمی ترقی کے لئے جہاں صحت مند دماغوں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں معاشی ضروریات اور بجٹ میں تعلیم کے لئے معاشی تخصیص از حد ضروری ہوتی ہے وگرنہ یہ واحد میدان ہے جہاں بھوکے بٹیر لڑتے ہیں اور اگر ضرورت پڑ بھی جائے تو ان کی کارکردگی وہ نہیں ہوتی جو بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ ہوتی ہے۔

امام غزالی کا ہم پہ یہ احسان ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ہمیں بتایا کہ علم دو طرح کا ہوتا ہے اور دوسری اہم بات یہ کہ قوموں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا سالانہ بجٹ تیار کریں، بجٹ سے مراد یہ ہے کہ سالانہ اخراجات اور وصولیوں کے درم

Read more

جاہل عوام اور بیکار ادارے

ہمارے سیاستدان بھی عجب بادشاہ لوگ ہوتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں ووٹ مانگنے کے لیے جب گلی محلوں کے دروں، دیواروں اور کھمبوں پر پوسٹرز چھپوا کر لٹکاتے اور چپکاتے ہیں تو ان میں لکھتے ہیں ”منجانب: حلقے کے باشعور عوام“ لیکن اقتدار میں آکر وہی عوام نجانے کیوں انہیں جاہل لگنے لگتے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب کی صحتمند وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے وطن عزیز میں کورونا کے بے قابو ہوتے جن کا ذمہ دار عوام کو ٹھہراتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو اور یہ کہ یہ خدا کی کوئی الگ ہی مخلوق ہے جو کچھ سمجھتی ہی نہیں۔

حالانکہ بظاہر تو الگ مخلوق ہمارے حکمران لگتے ہیں کہ جو اول تو صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوئی حکمت عملی بنانے سے قاصر رہے اور پھر اپنی ناکامی چھپانے کی غرض سے عوام پر ذمہ داری ڈالتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ اتنے سادہ ہیں کہ اپنی نا اہلی اور ناکامی سے ناواقف ہوں اور نہ جانتے ہوں کہ یہ کوئی عوام کی اخلاقیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کا معاملہ ہے لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرآت بھی نہیں کہ وہ یہ ذمہ داری قبول کر سکیں اور نہ اتنے اہل ہیں کہ اس کا ازالہ کر سکیں۔

Read more

کورونا کی بیماری میں مجھے کس چیز نے حوصلہ دیا؟

میرے بھائی۔ ہمت نہیں ہارنا، یہ کوئی بیماری نہیں، تم جلد صحت یاب ہو جاؤ گے، بس، حوصلے سے کام لینا یہ چند دنوں کی بات ہے اور پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایسے کچھ اور الفاظ جنہوں نے اس موذی وبا کے دام میں آنے کے بعد اپنے پیاروں نے پہنچائے۔ بلاشبہ کسی مرض میں مبتلا ہونے پر عموماً عیادت کے دوران ایسے تاثرات پر مبنی جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جن کا بنیادی مقصد صرف اس بیمار کی ڈھارس بندھانا، اسے فوری طور پر پریشانی کی کیفیت سے باہر نکالنا ہوتا ہے۔

میں ان دنوں چونکہ کورونا کی نگرانی میں تھا اس لئے قریبی رشتہ دار اور دوستوں کو معمول سے ہٹ کر فکر لاحق تھی، یہ بات بڑی باعث تقویت تھی کہ سب کا مطمح نظر میری صحت کی بحالی اور زندگی کی بقا تھا۔ کورونا جیسے روگ کا شکار فرد کسی حد تک ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے، اگر اندر سے نہیں تو مشورے دینے کے بہانے مختلف واقعات سنانے والے اسے کمزور کردیتے ہیں۔ ہاں یہ تجربہ ضرور ہوا کہ بندہ مضبوط اعصاب کا ہو یا پھر اپنی قوت ارادی کا اچھے سے مظاہرہ کرے تو بہت زیادہ تنگ نہیں ہوتا۔

Read more

عوام "جاہل” نہیں "مجبور” ہیں

گزشتہ دنوں پنجاب کی صوبائی ہیلتھ منسٹر محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا جس میں وہ لاہور کے عوام کو کورونا وائرس سے بچنے کی احتیاط نہ کرنے پر جارحانہ انداز میں جاہل اور بیوقوف قرار دے گئیں۔ ایک منتخب وزیر اگر اپنی ہی قوم کو ”جاہل“ کے خطاب سے نوازے تو پھر اس قوم کے لیے باقی کیا بچتا ہے؟ کیا واقعی یہ قوم جاہل ہے جو ایسے حکمرانوں

Read more

سوشانت اور اسحاق بلوچ کی بہن کی خودکشی

پڑوسی ملک کے فلم ایکٹر سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی خبر موضوع بحث بنی رہی اس سے مینٹل ہیلتھ ایشوز پہ بحث ہوتی رہی تو کہیں جنت کے ٹھیکیدار اس بات پہ سیخ پا نظر آئے کہ لوگ سوشانت کی مغفرت کی دعا کیوں کر رہے ہیں کچھ لوگ مذہبی تعلیمات و رسومات پر عمل سے دوری کو ڈپریشن کی وجہ گردانتے رہے۔

اکثر لوگوں کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر مینٹل ہیلتھ ایشوز سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے کچھ لوگ اس سے لاعلم رہتے ہیں اور اندر ہی اندر اپنے آپ کو کھا رہے ہوتے ہیں کچھ اس پہ کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنے زندگی کو پرانی ڈگر پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ معاشرتی رویوں کے خوف سے اس پہ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

Read more

ویانا کی گلیاں اور باپلو نیرودا کی نظم

ویانا یاد آ گیا! ایسا تو ہونا ہی تھا! وکٹر فرینکل کا ذکر ہوا تھا، ویانا تو یاد آنا ہی تھا! خوابوں کا شہر ویانا! شام دلفریب تھی! یورپ کے موسم گرما کی شام! آسٹریا سنٹر کے وسیع و عریض ہال کے سٹیج پہ کچھ لڑکیاں وائلن اور پیانو بجاتی تھیں گویا دل کے تار چھیڑتی تھیں۔ ہال میں ایسا سناٹا کہ سوئی بھی گرے تو آواز آئے، چار ہزار مندوبین کا مجمع! دنیا کے چورانوے ممالک سے چار ہزار

Read more

پاکستان میں خطاطی اور اشرف القلم فاؤنڈیشن

آکسفرڈ کانام لیں تو اسٹیفن ہاکنگ، ایم آئی ٹی کا نام لیں تو کوفی انان، ایچی سن کا نام لیں تو عمران خان، ییل کا نام لیں تو جارج ڈبلیو بش، پنجاب یونیورسٹی کانام لیں تو ڈاکٹر عبدالسلام اور جی سی یونورسٹی کانام لیں توعلامہ محمد اقبال ہمارے ذہن میں آ جاتے ہیں۔ یعنی کچھ جگہوں کو لوگوں سے اور کچھ لوگوں کو جگہوں سے ہی جانا جاتا ہے اور اسی طرح نسبتیں بدلتی رہتی ہیں کیوں کہ نسبت بڑی

Read more

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

عمران خان ’جاہل‘ قوم کا واحد اہل رہنما ہے جو ملک و قوم کے تمام مسائل کا ادراک رکھتا ہے اور انھیں حل کر سکتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ پہلے اس ملک کو اہل حکمران نہیں ملے۔ فرق یہ ہے کہ ایک تو وہ ایک آدھ خوبی کے حامل ہوتے تھے اور دوسرا یہ کہ ان سب کے مشن ادھورے رہ گئے۔ خان صاحب میں ان سب عظیم حکمرانوں کے اوصاف یکجا ہیں اور یہ اس ملک کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے۔

اہل اور دیانت دار حکمرانوں کی فہرست میں سر فہرست ایوب خان ہیں۔ انھوں نے قوم کو احساس دلایا کہ تمھارا اصل مسئلہ غربت ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تم ابھی تک غریب اور لاچار بیٹھے ہو۔ ایوب خان ایک ویژنری لیڈر تھے اور انھیں یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انھوں نے معیشت مضبوط کی اور اتنی مضبوط کی کہ پاؤں پاؤں چلتا پاکستان بالآخر اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ لیکن جونہی کھڑا ہوا دھڑام سے گرا اور دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ پتہ چلا کہ اندر سے کافی کھوکھلا ہو چکا تھا۔ معاشی میک اپ بس ظاہری ٹیپ ٹاپ تھی۔

Read more

خوشی اور اطمینان کا تعلق دولت سے نہیں

کچھ دن پہلے ڈاکٹر خالد سہیل کا ترجمہ شدہ مضمون پڑھا جس میں ایک ڈاکٹر کا قصہ ہے۔ یہ ڈاکٹر اپنی معمول کی زندگی سے تنگ آ چکا تھا اور کسی نئی جگہ منتقل ہو جانا چاہتا تھا۔ ایک صائب شخص کے مشورے سے وہ دوسری جگہ چلا جاتا ہے۔ یہ نئی جگہ اس کی مالی آسودگی میں تو اضافہ نہیں کرتی اور وہ غریب رہتا ہے مگر ذہنی سکون اور خوشی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس

Read more

کیا آپ نے کبھی فادرز ڈے پر اپنے ابو جان کو خط لکھا ہے؟

پیارے ابو، آپ کیسے ہیں؟ جانتی ہوں ربط کا قصہ تمام ہوئے ایک عمر گزر گئی اور مزاج پرسی کا تکلف بھی جاتا رہا۔ لیکن آپ سے اور خود کلامی سے کبھی بھی دل نہیں بھرا۔ جانتی ہوں مجھ سے زیادہ آپ مجبور ہیں لیکن پھر بھی دل برداشتہ ہو کے کبھی کبھی کچھ کہنے سننے کو جی چاہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی ہی سناتی رہی اور ہماری بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ خیر وہ اس کی عادت ہے ہر پل نفسا نفسی میں ہی رہتی ہے۔ بات کو آگے بڑھاتی ہوں۔

وقت قلیل ہے اور قصہ جیسے شیطان کی آنت۔ تحریر کا سوچتے ہی سب سے پہلے گویا بچپن کا گمان ہونے لگا۔ جب آپ نے شروع شروع میں مجھے خط و کتابت کی ضرورت سمجھائی تھی۔ میں آپ کو خط لکھتی تھی اور آپ والد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد ہونے کا بھی فرض انجام دیتے تھے۔ میرا خط، خواہ میں آپ کے ساتھ اسی گھر میں ہوں یا دوسرے ملک میں، میری املاء سمیت مجھے نا صرف واپس بھیجتے تھے بلکہ اس پہ اتنا تبصرہ کرتے کہ مجھے ازبر ہو جاتا۔

Read more

دنیائے کرونا اور جرموفوبیا

لوث ترسی، میسوفوبیا، جرموفوبیا، بیسیلو فوبیا، ورمینو فوبیا یا جرمو فوبیا سب ایک ہی نفسیاتی مرض کے منفرد نام ہیں۔ یہ ایسے دماغی خلجان کو کہا جاتا ہے جس سے متاثرہ شخص ہر وقت صفائی ستھرائی میں ہی مگن رہتا ہے یعنی کہ جرمو فوب ہر وقت اپنے ہاتھ منہ اور جسم کو مکمل طور پر گندگی، غلاظت سے محفوظ رکھنے کی تگ و دو میں گم سا ہو۔ یہ سننے میں جس قدر بھیانک لگ رہا ہے اس قدر ہے نہیں۔ فکر مت کیجئے گا یہ مرض جان لیوا ہر گز نہیں ہے۔ بس یوں کہئیے کہ دماغی فتور کا نام ہے، یہ فتور بھی مہلک نہیں جو کسی دوسرے فرد کو حزیں دے، بس یہ تو متاثرہ شخص کے ذہن کو پاکی ناپاکی کی الجھنوں میں ہی الجھائے رکھتا ہے۔

Read more

راجہ کا شیر جاہل نکلا

پیارے بچو، بہت ہی زیادہ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ اندھیر نگری میں چوپٹ مہاراج نامی ایک راجہ حکومت کرتا تھا۔ راجہ کو جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن معاملہ یہ تھا کہ اگر وہ بکری یا گائے بھینس پالتا تو پرجا بھد اڑاتی کہ یہ مہاراجہ ہے یا گڈریا؟ آج بکری بھینس پالی ہے تو کل دودھ دہی بیچنا شروع کر دے گا۔ آخر ایک دن چوپٹ مہاراج نے سوچا کہ کیوں نا شیر پالا جائے، راجہ مہاراجہ شیر کی کھال اوڑھتے ہیں تو ان کے رعب میں اضافہ ہوتا ہے، اور اگر ہم کتوں کی بجائے محل کی حفاظت کے لیے بھی شیر رکھیں گے تو سب ہم سے بہت ڈرا کریں گے۔

چوپٹ مہاراج نے ایک خوب پلا ہوا شیر محل میں رکھ لیا۔ اسے خوب کھلایا پلایا جاتا۔ مگر شیر کوئی کتا تو تھا نہیں کہ جو راتب ڈالا جاتا، چپ چاپ کھا جاتا۔ اسے شکار کرنا پسند تھا۔ سو ایک دن وہ محل سے باہر نکلا اور بازار میں بندھی ایک غریب کسان کی بکری مار کر کھا گیا۔ کسان اگلے دن دربار میں فریاد کرتا ہوا آیا کہ ”مہاراج آپ کے شیر نے میری بکری کھا لی ہے۔“

Read more

جب صدر رفیق تارڑ نے جرنیلوں کو استعفیٰ دینے سے انکار کیا

فائل میں سجی سمری اور منسلک آرڈیننس کا موضوع صدرِ مملکت کی تنخواہ، پنشن اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ تھا۔ یہ ایک طویل فہرست تھی جس میں درج نہایت ہی اشتہا انگیز مراعات و سہولیات کا تعلق صدرِ مملکت کی فراغت کے بعد سے تھا۔ صدر کا رویہ بے لچک تھا، طارق عزیز سے ملاقات سے قبل انہوں نے ہم سے اس فائل پر بات کرتے ہوئے کہا تھا۔ ان لوگوں نے مجھے گھر بھیجنے کی ٹھان ہی لی

Read more

پاکستان میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ، کیا پاکستان کا طبی نظام مفلوج ہو گیا ہے؟

پاکستان میں اس وقت کورونا کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بستروں، ادویات، طبی آلات اور وینٹیلیٹر کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب مجھے خود اپنے ایک عزیز کو ہسپتال میں داخل کروانے کے لیے بہت سے اعلیٰ حکام سے التجائیں کرنی پڑیں۔

جس عزیز کے لیے مجھے بیڈ کی تلاش تھی وہ رشتے میں تو میرے خالو تھے لیکن میرے لیے باپ کا درجہ رکھتے تھے۔ گذشتہ جمعرات کی رات مجھے ان کی بیٹی کی کال موصول ہوئی کہ انھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے، بھائی انھیں کئی پرائیوٹ ہسپتالوں میں لے کر گیا لیکن وہاں کورونا کے مریضوں کے لیے مزید جگہ نہیں ہے۔

Read more

اختر مینگل کے مطالبات جائز ہیں

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے ساتھ کیے ہوئے وعدہ پر عملدرآمد نہیں کیا۔ دو برس میں سینکڑوں لاپتہ افراد میں سے 18 افراد کو چھوڑا گیا جبکہ باقی ابھی تک لاپتہ ہیں۔ سردار اختر مینگل نے ماضی قریب میں بلوچستان کے بحران پر بامعنی مذاکر ات کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی غرض سے اپنی چھ شرائط

Read more

ریکارڈ ساز طارق عزیز

طارق عزیز صاحب سے آخری ملاقات اسلام آباد کے پارلیمانی لاجز میں غالباََ 1998میں ہوئی تھی۔وہ ان دنوں قومی اسمبلی کے رکن ہوا کرتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ 1997کے انتخابات کے ذریعے اس ایوان میں آنے کے لئے انہوں نے لاہور کے ایک حلقے سے آج کے وزیر اعظم عمران خان صاحب کو شکست سے دو چار کیا تھا۔ بہرحال یہ آخری ملاقات لاہور ہی سے آئے ایک اور رکن اسمبلی میاں منیر صاحب کے

Read more

شہباز شریف کے پیچھے کون؟

اگر نیب اور حکومت شہباز شریف کی گرفتاری کے در پے نہ ہوتے تو لیڈر آف دی اپوزیشن آج بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کورونا کے بارے اعدادو شمار پڑھنے تک ہی محدود ہوتے۔ مگر حکومتی اور نیب کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف لُگے (اکیلے کا پنجابی کا متبادل) نہیں ہیں ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کھڑا ہے۔

ایک طرف نیب ان کے گھروں پر چھاپے مار رہا تھا، ہائیکورٹ کے دروازوں پر پولیس چوکیاں بنی ہوئی تھیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان اور چینی سفیر شہباز شریف کی طبیعت پوچھنے کے لیے فون کر رہے تھے۔

Read more

کیا پاکستان میں دستیاب وینٹیلیٹرز کے سرکاری اعداد و شمار قابل درست ہیں؟

تاہم اگر مریض کے پھیپھڑے اس کا ساتھ چھوڑنے لگیں اور سانس لینا دشوار ہو جائے تو وینٹیلیٹر ہی اس کی زندگی بچانے کا واحد سہارا ہو سکتا ہے۔ مصنوعی تنفس کا یہ نظام انتہائی علیل مریض کے جسم کے مدافعتی نظام کو وقت دیتا ہے کہ وہ اس دوران وائرس کا مقابلہ کر کے اس کا خاتمہ کر سکے۔ یاد رہے کہ وینٹیلیٹر انتہائی علیل مریض کو ضرورت پڑتا ہے، کورونا کے ہر مریض کو نہیں۔

گذشتہ چند ہی روز میں مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ سامنے آنے کے بعد بھی پاکستان میں حکومت کا دعوٰی ہے کہ ملک میں اضافی وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور ان کی قلت نہیں ہے۔

Read more

وبا کے دنوں میں جبری مشقت

وبا کے دنوں میں جبری مشقت، کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ، اگر جبری مشقت میں گرفتار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، جبری مشقت کی جہتیں بدل گئی ہیں، قانون کی بے بسی بڑھنے لگی ہے اور ریاست کے شہریوں سے تعلق پر سوال اٹھنے لگے ہیں، تو قابل فکر اور تشویشناک ہے۔ کرونا وبا کے دوران پاکستانی ریاست اور حکومت سمیت مقتدر اور پس دیوارفیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والوں کے چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

Read more

لاکھوں افغانوں کی زندگی کو خطرے کا امکان: ریڈ کراس

اسلام آباد : ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے انتباہ کیا ہے کہ افغانستان میں تشدد کا حالیہ اضافہ لاکھوں افغانوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ کمیٹی کے مطابق صحت کی دیکھ بھال اور سہولیات فراہم کرنے والوں کے خلاف ہدف بنا کر حملے کرنے کے واقعات کی وجہ سے صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ

Read more

کورونا وائرس، مغرب کی سازش!

بہت سارے سادہ دل اور سادہ عقل پاکستانی مسلمان ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس مغربی ممالک کی طرف سے مسلمانوں کی خلاف ایک سازش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال وہ اس طرح دیتے یہ ہیں کہ سیاہ فام نسل کے جارج فلائیڈ نامی ایک شخص کے قتل کے بعد، امریکہ کی کم از کم 14 ریاستوں میں ہزاروں افراد احتجاج کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکلے لیکن وہاں کورونا کے کیسز کیوں

Read more

ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا

عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔  پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے

Read more

جاہل قوم، کورونا اور حکمران

وے پراں ونج، تین تے وکیل ہوونا چائی دا ہا، جیڈے توں سوال کریندا ایں (پرے ہٹ، جتنے تو سوال کرتا ہے تجھے تو وکیل ہونا چاہئے تھا)۔ پھُپھی جب میرے سوالوں سے اکتا جاتیں تو خالص دیہاتی لہجے میں بھِنا کر جواب دیتیں۔ پھوپھو فاطمہ دراصل ابو کی حقیقی پھوپھو تھیں۔ سرگودھا کے گاؤں بھابڑہ کے مغربی حصے کے اکثر بچوں کو قرآن کی تعلیم انہوں نے ہی دی۔ یہ ابو کے بچپن کی بات ہے، ابو کی دیکھا

Read more

امریکی سیاست میں فوجی مداخلت پر تحفظات!

امریکی ریاست جارجیا کے دار الحکومت اٹلانٹا میں میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام شہری ریشر بروکس کی ہلاکت کے بعد پرتشدد ہنگاموں میں شدت آ گئی۔ اس واقعے کے بعد اٹلانٹا پولیس چیف ایریکا شیلڈزنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، انہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس کو طاقت کا ایسے بہیمانہ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 25 مئی سے امریکی شہر منی ایپلس میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکا، سمیت کئی

Read more