جہاں خاموشی اشکال بنتی ہے

کائلاش۔ وہ مقام جہاں وقت گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے، اور خیال، خاموشی کی گود میں پلتے ہیں۔ یہاں نہ پتھر بے جان ہیں، نہ ہوا محض چلتی ہے۔ ہر شے سننے اور سنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اور ان دنوں، وہاں چشمہ جاودان کی طرف جانے والے زینے پر چراغوں کی روشنی پھیل رہی تھی۔ وہی چراغ جو صرف سچ کی تلاش میں جلتے ہیں۔ وہاں جہاں پانی روشنی سے زیادہ شفاف ہے، اور ہر قطرہ گرتے ہوئے ایک

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط : 10

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج ڈھاکہ کو ضیاء بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا گیا لیکن حسینہ شیخ نے کمال ہوشیاری سے اس کا نام تبدیل کر کے شاہ جلال ہوائی اڈہ رکھ دیا۔ شاہ جلال 1271 ء میں پیدا ہونے والے ایک صوفی بزرگ تھے جن کا تعلق یمن سے ہے۔ شاہ صاحب نے اس علاقے میں اسلام کو پھیلایا۔ حسینہ شیخ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی اس نام کو تبدیل کرنے

Read more

تجھے میں کیسے بھلا دوں

”ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ میں نے یہ جملہ کچھ برس پہلے پڑھا تھا۔ جملہ ایسا تھا کہ اس کی گونج ایک تسلسل سے سنائی دینے لگی تھی۔ یوسفی صاحب کی وفات کے بعد پرسے کے لگ بھگ ہر مضمون میں یہ جملہ مقتبس ہوتا رہا۔ ایسے میں ظہیر فتح پوری کی طرف دھیان کا جانا فطری تھا کہ یہ انہی سے منسوب تھا؛ سو، میرا دھیان بھی ادھر ہوا۔ جستجو ہوئی کہ وہ مضمون تلاش

Read more

ایک نیا خواب، ایک نئی ذمہ داری

  بھارت میں بلکہ پورے خطے میں نریندر مودی ایک نئی تاریخ لکھنا چاہتا ہے کہ ”میں نے گاندھی، امبیڈ کر کے دیس کو ہندو راشسٹ بنا دیا۔“ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے۔ جنگ حل نہیں بلکہ اُم المسائل ہے۔ مودی کو ابھی بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ سیز فائر سے مُنکر ہو رہا ہے تو پہلے دیکھ لیتے ہیں سیز فائر ہے کیا۔ اُردو میں اسے جنگ بندی کہا جاتا  ہے۔ کسی بھی

Read more

افلاطون کی حیات اور خدمات

افلاطون نوجوانی میں ایک سپاہی تھے۔ وہ کئی جنگوں میں شرکت کر کے بہادری کے بہت سے تمغے بھی حاصل کر چکے تھے۔ سقراط سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان کی زندگی بدل گئی۔ وہ ایک سپاہی سے ایک فلسفی بن گئے۔ وہ اپنے استاد سقراط سے اتنے متاثر تھے کہ انہوں نے کہا مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سقراط کے عہد میں پیدا ہوا۔ تین سو ننانوے قبل مسیح میں جب سقراط نے زہر کا

Read more

کرد عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے اور بلوچ لبریشن آرمی؟

کرد جنگجوؤں نے کئی دہائیوں سے جاری مسلح جدوجہد کا خاتمہ کیا۔ کردستان ورکرز پارٹی نے پیر کو اپنی مسلح جدوجہد کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انھوں نے نے ریاست کے خلاف چار دہائیوں سے جاری بغاوت کے خاتمے کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ کردستان ورکرز پارٹی نامی عسکریت پسند گروپ کی بنیاد عبداللہ اوکلان نے 1970 کی دہائی کے آخر میں رکھی تھی۔ پارٹی نے 1984 میں ہتھیار اٹھائے، ترک سرزمین پر خونریز حملوں

Read more

اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

  بات کچھ بھی نہیں تھی۔ ہم اس محلے میں نئے نئے آئے تو وہ لوگ بھی نئے نئے ہی آئے تھے۔ وہ ایک پتلی سی لمبی سی لڑکی تھی۔ پھولوں جیسی، نازک سی۔ دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھ پر ایک اُچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتی اور چلی جاتی۔ بات تو معمولی ہی تھی اور قابل غور بھی نہیں تھی۔ میں عموماً ابا کی ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ آ کر محلے کی دکان پر رکھے بینچ پر آ کر

Read more

ملتان کو شناور کی آنکھ سے دیکھو

  شناور اسحاق کی کتاب ”صحبت آدمی مبارک ہو“ میں جس محبت سے ملتان اور اپنے آبائی علاقہ گوجرانوالہ کے گلی کوچوں سے لے کر ادبی بیٹھکوں و شخصیات کا احوال ملتا ہے، یہ تذکرہ ایسا گہرا نقش مرتب کرتا ہے کہ ہم اس کے سحر سے چاہتے ہوئے بھی رہائی نہیں پا سکتے۔ جب نوے کی دہائی کے وسط میں شناور اسحاق سے میری پہلی ملاقات ہوئی، اور پھر اس کے بعد کچھ عرصہ تسلسل سے اور بعد میں

Read more

سندھو کی کہانی جیم عباسی کی زبانی

سندھو کا مصنف سیدھا، سچا اور خالص انسان ہے جس میں تصنع نہیں ہے نہ بیان میں نہ زبان میں۔ اسے الجھی ہوئی باتوں، سخت تنقید اور مشکل سوالات کا جواب سادگی سے دینا آتا ہے ایسے جیسے سندھ اپنی رو میں بہہ رہا ہو اسے کچھ پرواہ نہ ہو کہ کتنی رکاوٹ ہے کیا کٹھنائیاں ہیں بس یہ جانتا ہے کہ یہ اردگرد بستی دنیا اور اس کے اندر رہتی کائنات اس کی اولاد کی مانند ہے جن سے

Read more

پاک بھارت جنگی جنون میں امن پسند ادب کی تلاش

پہلگام واقعہ کیا ہوا کہ دو ہفتے بعد مودی سرکار کی طرف سے پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ شروع ہو گیا جس کا پاکستانی افواج کو ’بنیان مرصوص‘ سے جواب دینا ہڑا۔ اس جنگی جنون سے جہاں امن کی کاوشوں کو ریورس گیئر لگا وہیں دونوں ملکوں کے امن پسند عوام کا پچھلے پچیس تیس برسوں میں ایک بار پھر ادب، فن اور آرٹ کا سرحدوں سے ماورا ہونے پر یقین متزلزل ہو گیا۔ امن کی فاختہ زخمی ہوئی تو

Read more

نثر میں شاعری کرنے والا شخص، عبدالقادر حسن۔ جنہوں نے قلم کو زندگی کا چراغ بنا دیا

  آج میرے والد، عبدالقادر حسن کی سالگرہ ہے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر اُن کی تحریریں، اُن کی خوشبو، اُن کی تہذیب اور اُن کا لہجہ میرے دل میں، ہمارے گھر کے درو دیوار اور اس ملک کے صحافتی افق پر آج بھی زندہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کبھی تعریفی باتیں سن کر مسکرا دیتے تھے اور پھر آنکھیں چرا لیتے تھے۔ مگر آج ان کی غیر موجودگی میں، میں ان کے بارے میں

Read more

طاہرؔ سردھنوی کی شاعری: درویشی، درد اور فنی عظمت کا امتزاج

  کتاب: ہجوم آرزو شاعر: طاہر سردھنوی مرتبین: ڈاکٹر نجم الحسن/ابرار حسین اکبر ناشر: اطراف مطبوعات، اٹلانٹس پبلی کیشنز، کراچی، 2025 طاہر سردھنوی سردھنہ ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جھنگ میں رہائش اختیار کی۔ طاہرؔ سردھنوی کا شمار جھنگ کے نمائندہ شعرا میں کیا جاتا ہے۔ وہ ریل بازار میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ان کے شاگردوں میں مظفر علی ظفر کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ اکثر ان سے ملنے جھنگ جایا

Read more

پاکستان کا سافٹ امیج کیسے برباد ہوا

سب سے پہلے تو یہ جانیے کہ سافٹ امیج کسے کہتے ہیں۔ ایسا ملک جہاں زندگی کے نرم رویوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہ نرم رویے فن و ثقافت در کلچر اور تہذیب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں فنون لطیفہ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ فنون لطیفہ کا تعلق جمالیات سے ہے۔ اور جمالیات کا مطلب ہی زندگی کو خوبصورتی کے ساتھ بسر کرنا ہے۔ یہ رویہ ہمیں انسان دوست بناتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کا

Read more

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

اہلِ علم و ادب کے لئے بوگھیو صاحب ایک جانی پہچانی اور معتبر شخصیت ہیں۔ اُن سے میرا تعارف اُن کی شہرۂ آفاق تصنیف ”لسانیت سے سماجی لسانیت تک“ کے ذریعے استوار ہوا۔ کتاب کا موضوع ہرگز سہل نہ تھا، مگر میری جستجو اور مصنف کے دلنشین اسلوبِ بیان نے مطالعہ کو اس قدر دلکش بنا دیا کہ میں بلا تکان پڑھتی چلی گئی۔ اس کتاب نے زبان اور سماج کے مابین تعلق کو نہایت سلیقے سے واضح کیا اور

Read more

تیشۂ نثر

درویش کی تحریر پر بعض احباب کو مشکل پسندی اور تفہیم میں دقت پر اعتراض ہے۔ اس سلسلہ میں دو معروضات پیشِ خدمت ہیں۔ پہلی یہ کہ خدا لگتی کہیے تو عرض ہے کہ ایک بار لکھنے کے بعد خود درویش کو بھی اپنی تحریر پڑھنے کے لیے کم و بیش اسی دقّت کا سامنا رہتا ہے جس کا اظہار قارئینِ محترم کرتے رہتے ہیں اور کئی دفعہ انتہائی کوشش کے باوجود خود یہ طالب علم اپنی تحریر کا مطالعہ

Read more

مجید امجد کی 51 ویں برسی

انوکھے اور منفرد لہجے کے شاعر مجید امجد کا اصل نام عبد المجید تھا۔ اپنی اعلیٰ اور منفرد شاعری میں انہوں نے اپنا تخلص امجد رکھا تو پھر پوری زندگی مجید امجد کے نام سے جیے اور اسی نام سے شہرت پائی۔ مجید امجد 29 جون 1914 کوجھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں علی محمد ایک جفاکش انسان تھے۔ مجید امجد کا بچپن اور آخری عمر بہت زیادہ تنگی و عسرت اور مشکلات میں گزری، جس کا اثر

Read more

مصنوعی ذہانت اور اُردو ادب

مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جس میں مشینوں کو ذہانت دی جاتی ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر انسانی طرز کا کام کر سکیں۔ اس بات سے کوئی معترض نہیں کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی زندگی میں بہت سہولتیں پیدا ہوئی ہیں۔ انگریزی لغت Oxford English Dictionary میں آرٹی فِیشل کے معانی یوں دیے گئے ہیں۔ Of a thing: Mad or constructed by human skill, in imitation of, a substitute for, Man-made اور انٹیلی جنس کے معانی

Read more

امریکہ اور چین کے درمیان نیو گریٹ گیم

  امریکہ کے فارن سٹرٹیجی کے ماہر اور مصنف مائیکل پلسبری نے 2015 میں ایک کتاب The Hundred۔ Year Marathon کے نام سے تحریر کی۔ اس میں پلسبری نے چین کی اس خفیہ سٹرٹیجی پر روشنی ڈالی ہے جس کے ذریعے چین امریکہ کی عالمی سپر پاور کی حیثیت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے مائیکل پلسبری لکھتے ہیں ”چین امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے جو چین کے پرامن عزائم

Read more

انڈین دانشور بھی بھگوان کو پیارے ہو گئے (مکمل کالم)

میرا تو ایمان ہی اُٹھ گیا ہے۔ پڑھنے پڑھانے والوں سے، فَر فَر انگریزی بولنے والوں سے، سوٹ پہن کر اپنی ڈگریاں لہرانے والوں سے اور بارُعب کتابیں لکھنے والوں سے۔ ویسے تو اِس زندگی کا کوئی فائدہ نہیں، جتنی بھی جی لو انسان خسارے میں ہی رہے گا، ہاں اتنا ضرور ہے کہ اِس ایک آدھ برس میں بہت سے مغالطے دور ہو گئے، جو شاید نہ دور ہوتے اگر اتنی عُمر نہ لکھی ہوتی۔ ایک غلط فہمی اسرائیل

Read more

روپی کور کی کتاب پر تبصرہ: Milk and Honey

  روپی کور ہندوستانی نژاد کینیڈین مصنفہ ہیں۔ ملک اینڈ ہنی روپی کی ڈیبیو کتاب ہے جو انگریزی شاعری اور نثری شاعری کا مجموعہ ہے۔ روایت پسند اور کلاسیکیت سے جڑے لوگ شاید اسے شاعری کا درجہ دینے سے گریز کریں کیونکہ کتاب کے مضامین کافی غیر روایتی انداز میں اور مروجہ قواعد کو نظر انداز کر کے قلم بند کیے گئے ہیں۔ روایتی رائم اور ردھم کا استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ ”بلینک ورس“ بھی نہیں ہے، ”آئیمبک پینٹا

Read more

مظلوم کی مُذمت

  وقت بنا پوچھے اپنے ایک مخصوص دائرے میں گردش کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کہیں خوبصورت یادیں تو کہیں افسوس اور نہ ختم ہونے والی حقیقتیں چھوڑ جاتا ہے۔ تاریخ کے گرد و غُبار میں آپ جس سمت کا راستہ اپنائیں ہر قدم پر آپ مختلف اشخاص کی عجیب و غریب داستانوں کا سامنا کریں گے۔ کہیں ریاستوں کے نشیب و فراز دیکھیں گے تو کہیں علم و ادب کے خوبصورت بادلوں کے سائے تلے ایک ٹھنڈک محسوس

Read more

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر اے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں یہ مقطع خواجہ میر درد کی اسی غزل کا ہے جس کے تیسرے شعر کا پہلا مصرع ڈاکٹر قاسم بگھیو نے اپنی کتاب کا عنوان بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو۔ ڈاکٹر بگھیو کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شہر بھر کے زاہدوں کو دست ِ سبو پر بیعت کا درس دیتے مل سکتے ہیں ؛ مگر اس

Read more

کچھ نہیں بدلا

خواتین ایکٹوسٹس اچھی طرح جانتی ہیں کہ ضیا الحق کے بنائے جانے والے امتیازی قوانین کے خلاف شروع ہونے والی خواتین کی تحریک کا جب بھی ذکر ہو گا مہتاب چنہ (اب مہتاب اکبر راشدی) کا نام ضرور آئے گا۔ جب ضیا الحق کی آمریت کے تاریک دور کا آغاز ہوا تو مہتاب پاکستان ٹیلی ویژن پر نوجوانوں کا ایک مقبول پروگرام ”فروزاں“ کرتی تھیں۔ آمر کا فرمان جاری ہوا کہ خواتین ٹی وی اینکرز کو سر پر لازمی ڈوپٹہ

Read more

چڑیوں کی موت اور لفظوں میں لپٹی عزت

دن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے۔ اس خطے میں یہ موسم باقاعدہ وقفوں سے اترتا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف ’باخبر‘ صحافیوں، ’قادر الکلام‘ شاعروں، گمنام سیاستدانوں، ریٹائرڈ کھلاڑیوں اور ’کہنہ مشق‘ فنکاروں کو حب الوطنی کے بلند بانگ بیانات داغنے کا اچھا موقع ہاتھ آتا ہے۔ جنہیں اپنے ملک کی عسکری تاریخ کی الف بے معلوم نہیں، وہ عالمی تاریخ کے حوالے نکال کر دشمن کو للکارتے ہیں۔ 22 اپریل کو پہلگام میں 26 افراد کی ہلاکت

Read more

کوہی گوٹھ ہسپتال میں والینٹیر

میں خواب دیکھنے کی عادی ہوں۔ دو سال قبل میرا خواب کوہی گوٹھ میں مڈ وائیفری طالبات کے لیے بحیثیت تھریپسٹ والینٹیر کرنے کا تھا لیکن دوسرا خواب تھا ان طالبات کے ساتھ اپنی دوست پروفیسر فریدہ فیض اللہ کے ساتھ ایک لیکچر کروانے کا۔ فریدہ کالج میں میری ساتھی استاد تھیں۔ میں نے عبداللہ کالج میں بطور مائیکرو بیالوجی استاد دس سال پڑھایا۔ جبکہ فریدہ انگریزی پڑھاتی تھیں۔ پھر میں نے دیار غیر، امریکہ، کی راہ پکڑی اور انہوں

Read more

میرے سوالوں کا سفر

آج ایک عرصے کے بعد قلم پکڑا ہے تو عجیب سی کیفیت کا شکار ہوں۔ ہمیشہ کچھ لکھنے کے بعد ابو کو دکھایا کرتی تھی۔ ان کی علمی نظر کے سامنے میری تحریریں گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا مگر ابو نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا۔ پچھلے سال وجودیت پر کچھ لکھنے کی جرات کی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اردو میں اس موضوع پر اتنا مواد نہیں۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ متعدد گمنام جواہر ہیں

Read more

ایک دوست کی یاد میں

قیصر خان سے پہلی ملاقات سول کلب کے دوستوں کے ساتھ ہوئی۔ تب وہ بلڈنگ کے محکمے میں افسر تھا اور سول کلب کی رونقیں متروک نہیں ہوئی تھیں۔ ایک مسکراہٹ تو اس کے چہرے پر گویا بائی ڈیفالٹ تھی۔ پہلی ملاقات میں ہی اس نے موقع کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھا اور ہم فوراً بے تکلف ہو گئے۔ زیادہ ملاقاتیں کلب کے حوالے سے اور بعد میں مشترک دوستوں کے ہمراہ جاری رہیں۔ گرمیوں کے موسم میں چند

Read more

اوہام کی دنیا

  ہمارے بچپن میں وہمی حضرات کے لطیفے جرائد اور ادبی رسالوں میں چھپا کرتے تھے اور انہیں پڑھ کر چھوٹے بڑے محظوظ ہوتے۔ اس وقت شاید ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہم معاشرہ کے لیے کس قدر مہلک رجحان ہو سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہم یا وہمی نام کا موضوع معدوم ہوتا گیا۔ قرین قیاس ہے کہ ہم نے من حیث قوم اوہام کی اساس پر اپنی اپنی دنیا بسا کر وہم کو زندگی کی ایک

Read more

”باقیات اقبال“ از ڈاکٹر سید تقی عابدی، کا تنقیدی جائزہ

  اقبال کے ابتدائی دور ہی سے ان کے چاہنے والے ان کے کلام کو ایک قیمتی اثاثہ سمجھتے ہوئے اپنی بیاضوں اور ذاتی یادداشتوں میں محفوظ کرتے رہے۔ یہ عمل دراصل اقبال کی شاعری سے پیدا ہونے والی والہانہ عقیدت کا اظہار تھا۔ ابتدائی کلام، جو اکثر غیر مطبوعہ یا متروک رہ جاتا تھا، ان محبت کرنے والوں کے ہاتھوں محفوظ ہوتا رہا، جس سے اقبال کے تخلیقی سفر کی کئی چھپی ہوئی پرتیں سامنے آتی ہیں۔ وقت کے

Read more

کیا آپ ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے سات مشوروں سے واقف ہیں؟

جب میں نے نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایک پروفیسر نے ہماری کلاس کے تیرہ طلبا و طالبات سے پوچھا کہ آپ اس کلاس میں کیسے آئے؟ تو میں یہ جان کر حیران و ششدر رہ گیا کہ میں واحد طالب علم تھا جو بڑے ذوق و شوق سے وہاں آیا تھا اور ایک ماہر نفسیات بننا چاہتا تھا۔ باقی طلبا و طالبات میں سے کوئی انٹرنسٹ بننا چاہتا

Read more

تخلیقی اقلیت (حصہ دوئم)

” تخلیقی اقلیت“ انگریزی کتاب : CREATIVE MINORITY کا اردو ترجمہ ہے۔ ماہِ رواں میں پاکستان سے شائع ہونے والی ڈاکٹر خالد سہیل کی 488 صفحات پر مشتمل تصنیف کا ترجمہ میں نے گزشتہ دو برس میں مکمل کیا۔ ان سالوں کے دوران مجھے ایک جذباتی بحران کا بھی سامنا تھا مگر اس قدر ذہنی دباؤ کے عالم میں ترجمے کا عمل میرے لیے اعصابی آسودگی کا باعث بنا۔ گویا اس کتاب نے نہ صرف میرا ذہنی کیتھارسس CATHARSIS کیا

Read more

مُوکُوہاتوجُو کی مایا

  گزشتہ دنوں پڑوسی ملک سے حالات کشیدہ ہونے کی خبریں عام ہونے کی صورت میں سوشل میڈیا پر رنگ برنگی مِیمز دیکھنے کو ملیں۔ دشمن کو للکارنے کا یہ انداز سمجھ سے بالا تر تھا۔ ایسی ہی صورتحال میں بچوں کے جاپانی ادب کے بہت بڑے نام موکوہاتوجو کا ناول ”مایا“ پڑھنے کا موقع ملا جس کو اردو میں ترجمہ کرنے والی خاتون کا تعلق بھی اگرچہ جاپان سے تھا لیکن انہوں نے بہت عمدہ انداز میں کتاب کا

Read more

پاتال: ایک ثقافتی علامت، فکری بیانیہ

  اردو ادب میں جب ہم تہذیبی، فکری اور علامتی فکشن کی بات کرتے ہیں تو حالیہ برسوں میں کچھ ایسے ناول سامنے آئے ہیں جنہوں نے ادب کے دائرے کو مقامی رنگوں، فکری گہرائیوں اور اسلوبی تجربات کے ذریعے وسیع تر کر دیا ہے۔ انہی میں سے ایک اہم اور منفرد اضافہ باقر حاجی کا ناول ”پاتال“ ہے۔ یہ محض ایک داستان یا قصہ نہیں بلکہ بلتستان کی تہذیب، تصوف، سماجی ساخت اور وجودیاتی سوالات کو اپنے اندر سموئے

Read more

ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن اور ہم جنس پرستی

یکم دسمبر ہر سال بطور ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد لوگوں کو اس سے بچانا اور محفوظ رکھنا ہے۔ اسی سلسلے میں دنیا بھر میں مختلف تقریبات و سیمینارز کا انعقاد اور اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں حالات کی سنگینی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تحقیقاتی اور تجزیاتی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں اس دن کو پہلی مرتبہ 1987 میں

Read more

انیس اشفاق بطور نقاد: فکری ژرف نگاہی اور اسلوبی سادگی کا امتزاج

اردو ادب کا سنجیدہ قاری انیس اشفاق کے نام سے بخوبی واقف ہے۔ وہ ان چند ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کی تقریباً تمام اصناف میں قلم آزمایا اور اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ناول ہو یا افسانہ، تنقید ہو یا تحقیق، ترجمہ ہو یا شاعری، انیس اشفاق نے ہر میدان میں ایسی بصیرت افروز تخلیقات پیش کیں جو اردو ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ آپ لکھنؤ کے ایک محلے بزازے میں 1950ء، میں پیدا

Read more

کیا ہم مستقبل کی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کر رہے ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے مگر اس بات کا خیال رکھنا بھی نہایت اہم ہے کہ تعلیم ایسی دی جائے جو موجودہ دور کی ترقی کی بہترین انداز میں عکاسی کرتی ہو۔ اگر ہم فقط ماضی کی ترقی، ادب و سائنس پڑھتے رہیں تو یقیناً ہم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے سے قاصر ہی رہیں گے۔ ہمارا حال ماضی سے بہت بدل چکا ہے۔ ہم اس دور میں رہ رہے

Read more

لکھنوی معاشرت اور طوائفیں

ہندوستان میں لکھنو ایک انتہائی دل فریب تہذیب کا مرکز رہا اس تہذیب میں نواب، امیر و غریب لوگ، محل، طوائفیں، مغلانیوں، اناؤں، مرغ بازی بٹیر بازی وغیرہ شامل ہیں تاریخی طور پر اس تہذیب کو شاہان اودھ کے دور میں بسایا گیا۔ لکھنو میں طوائفوں کو ایک خاص مقام حاصل تھا جو ان کے ہاں ایک تہذیبی علامت بھی سمجھی جاتی اس کا کوٹھا ایک مکمل تہذیب کو اپنے ہاں جگہ دیتا ہے طوائف بازی کا لفظ بعد میں

Read more

کرکٹ، مودی سرکار کا اگلا نشانہ؟ گواسکر کا متنازع بیان اور ایشیا کپ

ابھی جاوید اختر کے متنازع بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سنیل گواسکر ایک جانب دارانہ بیان کے ساتھ میدان میں کود گئے، اور گودی میڈیا کے جنگی ہیجان کو مزید ایندھن فراہم کر دیا۔ اسپورٹس اور آرٹ ؛ یہ دو ایسے ذرائع ہیں، جو دلوں کو قریب لاتے ہیں، کدورتیں مٹاتے ہیں، اور مخالفین کو ایک کر دیتے ہیں۔ برصغیر کے عوام اچھی کرکٹ کے شائق ہیں، یہ آرٹ کو سراہتے ہیں، اور ادیب اور فن

Read more

امریکہ کا بھارت کو حیران و پریشان کرنے والا مشورہ

غالب کا ’’ہم کہاں کے دانا تھے…؟‘‘ والا سوال عرصہ ہوا اپنی جبلت کا حصہ بنا لیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے میرا نہ ہونے کے برابر ’’نصرت جاوید آفیشل‘‘ کے نام سے چلایا یوٹیوب چینل بند ہوا تو خیال آیا کہ کسی نہ کسی کے دل میں کہیں نہ کہیں میرے بیان کردہ خیالات اب بھی کانٹے کی طرح چبھ جاتے ہیں۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت مجھ کو میسر نہیں۔ وہ مل بھی گئی تو شاید یہ

Read more

کتاب ”رب سے جڑنے کا سفر“: (2)

4۔ ہدایت و تبلیغ کے نام پر شدت پسندی کا فروغ یہ ناول اتنا شدت پسندانہ انداز سے تحریر کیا گیا ہے کہ مجھے محسوس ہوا القاعدہ اور داعش جیسی گم راہ تنظیموں کے نظریات کو عین دین حق سمجھ کر پھیلایا گیا ہے۔ ابنِ قیم اور ابن تیمیہ جیسوں کی کتب کے حوالے اس کا ثبوت ہیں۔ ذیل میں مختلف جہتوں سے شدت پسندانہ نظریات کی نشان دہی کی ہے ان نکات پر غور کریں۔ 1۔ احساسِ گناہ کو

Read more

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

ماہ اپریل پھولوں رنگوں اور خوشبوؤں سے عبارت ہے۔ اپریل کی آخری تاریخ تھی جب ہم صبح سویرے پشاور روانہ ہوئے موٹروے پر دو رویہ سرسبز درختوں نے نظروں کو تراوٹ بخشی تو نگاہوں کے ساتھ ساتھ دل میں بھی مسرت کی لہر دوڑ گئی کہ آج دو سال بعد کسی ادبی محفل میں شریک ہونے جا رہی تھی، دل میں مسرت کے پھول یوں کھلے کہ سب سے پہلے مجھے گندھارا ہندکو اکیڈمی جانا تھا جہاں اس کے ڈائریکٹر

Read more

عشق محبت اور عادت

عشق، محبت اور عادت۔ یہ تینوں الفاظ بظاہر ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپے جذبات، اثرات اور نتائج نہایت مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں فرق نہ سمجھنے سے ہم اکثر خود کو ذہنی الجھنوں، ٹوٹے ہوئے رشتوں اور جذباتی تکلیفوں کا شکار بنا لیتے ہیں۔ زندگی میں ہم جب کسی سے قریب ہوتے ہیں تو یہ قربت کبھی عشق بن جاتی ہے، کبھی محبت اور کبھی محض ایک عادت۔ ہم ان رشتوں کو

Read more

امریتا پریتم کی رسیدی ٹکٹ: چھوٹا کاغذ، بڑی کہانی

  ایک لکھاری، شاعر، ایک اچھا بیٹا، پیار کرنے والا باپ اور انسانیت کی معراج میرا دوست، جسے میں عورتوں کے درد کا ہم نوا کہتی ہوں۔ وہ صرف عورتوں کے حق میں بولتا نہیں، ان کے جذبات، خواب، بغاوت، اور خاموشی کو سمجھتا بھی ہے۔ اس کی باتوں میں کبھی نرمی، کبھی فکر اور کبھی جرات جھلکتی ہے۔ ایک دن اُس نے مجھ سے کہا، ”تم نے ابھی تک ’رسیدی ٹکٹ‘ نہیں پڑھی؟ تمہیں یہ کتاب بہت پہلے پڑھ

Read more

سندھی ادب و ثقافت کی ہمہ جہت شخصیت: ایاز عالم ابڑو

ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں بے شمار کام کرنے کے باوجود، ان کی عادت میں شور مچانا شامل نہیں۔ وہ محفلوں کے شوقین کبھی نہیں رہے۔ اگر کسی قریبی دوست کے اصرار پر کسی تقریب میں شرکت کرتے بھی ہیں تو خاموشی سے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں، اور بات کرنے کے بجائے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خاموشی سے بس کام کیا ہے، اور ہمیشہ ان کے کام کی خوبصورتی نے

Read more

ڈاکٹر نجیبہ عارف: تخیل کی کہکشاؤں کی شاعرہ

شاعری محض علم عروض کے وزن بحر کے شکنجے یا جال میں لفظوں کو قید کرنے، جکڑنے یا پھنسانے کا نام نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فنی لحاظ سے شاعری میں موزونیت، روانی اور موسیقی قائم کرنے کے لیے وزن بحر اہم ہیں مگر شاعری میں تخیل کی اڑان، احساس کی رنگینیوں کی عکس نگاری، خیالوں کی ندرت، غیر روایتی اور منفرد اندازِ بیان اور پیشکش، تخلیقی سطح پر زبان کا استعمال، نئی تشبیہات اور استعارے تخلیق کر کے

Read more

جیمز جوائس بحیثیت فکشن نگار

بیسویں صدی کے معروف ناول نگار، شاعر، افسانہ نگار اور نقاد، جیمز جوائس دو فروری 1882 ء کو آئر لینڈ کے شہر ڈبلن میں، ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس کی زندگی کے ابتدائی ایام آسودگی میں گزرے لیکن آگے چل کر دو شادیوں اور بیٹی (Lucia) کی علالت نے اسے ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا رکھا۔ اس مشکل اور اذیت ناک صورت ِ حال کے باوجود، اس کی تخلیقی قوت اور ذہانت میں کمی نہیں آئی اور

Read more

پروفیسر خورشید احمد :علمی روایت کا قصہ تمام شد

اُدھر ڈاکٹر تقی عابدی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کینڈین سول انعام ”کنگ چارلس سوم ایوارڈ“ دینے کی خبر اِدھر پاکستان پہنچی الحمد اسلامی یونیورسٹی، شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی خاں نے، ان کے پاکستان آنے پر ایک تقریب کی منصوبہ بندی کرلی۔ ڈاکٹر تقی عابدی آ گئے تو یہ تقریب بہت اہتمام سے ہوئی۔ میں اس تقریب کا احوال سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہاں کہے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک کے

Read more

زندگی سے خالی پروفیسر

پاکستانی سماج ایک ایسا سماج ہے جو مجموعی طور پر اینٹی آرٹ/ فن مخالف مزاج رکھتا ہے۔ پاکستان میں فن / آرٹ کو یا تو غیر سنجیدہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے یا پھر وقت کا ضیاع سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ تصور صرف عوامی حلقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں خاص طور پر اکیڈمیا میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے۔ وہ یونیورسٹیاں جو تخلیق، تنقید، اور علم کا مرکز ہونی چاہیے وہ خود

Read more

مطلب پرستوں کی دوستی

نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہیں پایا کیکر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا (اردو ترجمہ: مطلب پرست لوگوں کے ساتھ آشنائی یا دوستی سے کبھی کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے انگور کی بیل کو کیکر کے درخت ہر چڑھایا جائے اور نتیجتاً انگوروں کو نقصان پہنچے ) میاں محمد بخش صاحب ( 1830۔ 1907 ) ہمارے قریب کے زمانے میں ہونے والے سب سے بڑے پنجابی صوفی شاعر ہیں۔ آپ

Read more

دیواروں سے باتیں

  شاعری کی صنف میں میں دیواروں سے باتیں کرنا تو بہت سنا تھا لیکن یہ باتیں میں نے پہلی دفعہ ہوتے ہوئے سنی بھی ہیں اور دیکھی بھی۔ میں آپ کو اپنی آنکھوں دیکھی حقیقی روداد پیش کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ دیواروں سے باتیں کرنا حقیقت میں بھی خوبصورت ہے۔ مزید یہ کہ شاعری میں تو یہ خیال استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور غالب گمان یہی ہوتا تھا کہ یہ پاگل پن کی کیفیت

Read more

جبری خوبصورتی کا تصور: ایک نفسیاتی بوجھ

خوبصورتی کا تصور ہمیشہ سے انسانی سماج کا حصہ رہا ہے لیکن جدید دور میں یہ تصور خاص طور پر خواتین کے لیے ایک گہرا نفسیاتی بوجھ بن چکا ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، فلموں، ٹی وی ڈراموں، اشتہارات، سوشل میڈیا اور فیشن انڈسٹری نے اس تصور کو ایک مخصوص معیار میں قید کر دیا ہے جس میں چمکتی ہوئی جلد، گوری رنگت، دبلا پتلا جسم، متناسب چہرہ، اور جدید طرزِ لباس شامل ہیں۔ خواتین کی اکثریت جو ان مصنوعی

Read more

پاکستان کے خلاف مودی کا سٹرکٹ ایکشن

آپ نے کشمیر میں دہشت گردی کے واقعہ کے متعلق تو سنا ہو گا؟ بس اسی وجہ سے موڈ کافی آف ہے۔ اس بار دہشت گردوں نے کلمہ سن سن کر صرف ہندوؤں کو ٹارگٹ کیا، کیا آپ لوگوں کو ہماری ہنومان چالیسہ آتی ہے؟ اگر آپ سے کوئی کہے کہ وہ سنائیں تو شاید آپ لوگ بھی نہ سنا پائیں، ہمارے پرائم منسٹر مسٹر مودی اب کافی سٹرکٹ ایکشن لے رہے ہیں آپ کے پاکستان کے خلاف، دیکھتے ہیں

Read more

یوم مئی 2025 کی مناسبت سے

شہدائے شکاگو ( 1886 ) کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کو حقیقی معنوں میں خراج عقیدت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی مزدور تحریک سے اظہار یکجہتی کے لیے چند سطور پیش خدمت ہیں۔ پیدائش دولت کے تمام ذرائع یا مآخذ جس میں کان کنی، کھیت کھلیان، صنعت و تجارت اور دوسرے زمینی، ہوائی و سمندری وسائل سے لے کر کر تہذیب و تمدن، علم و ہنر، سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام ارتقائی مرا حل کو عام انسانوں

Read more

دانتے کی دوزخ میں ایک اور حلقے کا اضافہ

”ورجل یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ دوزخ کے نو گڑھے ہیں۔“ ”ہاں! بیسویں صدی تک نو ہی تھے لیکن اب دوزخ کو بڑا کیا جا رہا ہے۔“ ”وہ کیوں؟“ ”یہاں ایک نئی وادی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ گول بھی نہیں۔ ٹیڑھی میڑھی ہے بالکل اِس دور کے گناہوں کی طرح۔“ ”ورجل، میں تو پہلے ہی تھک چکا ہوں۔ رنج و محن کے اس شہر اور اقلیم درد و الم میں موت بھی

Read more

ام ہریرہ کی کتاب: رب سے جڑنے کا سفر

  صنف: ناول کیٹیگری: اسلامی حلال ناول، ریگولر نہیں سپیشل والا 1۔ تعارف، کہانی کا خلاصہ اور بیانیہ رب سے جڑنے کا سفر از امِ ہریرہ بظاہر ایک مذہبی روحانی اور اصلاحی ناول ہے، جس میں مرکزی کردار فاطمہ اور قرة العین کے درمیان تعلق کے ذریعے انسان اور خدا کے تعلق، توبہ، ہدایت اور روحانی تبدیلی جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ناول فنی اعتبار سے ادب تو کیا پاپولر فکشن کے

Read more

واقعی خدا کوئی نہیں ہے؟

کتاب کا سرِ ورق اپنے ساتھ ایک بڑا سوال لے کر حاضرِ خدمت ہوا ہے۔ نبیل حیدر کی صنف نظم پہ مبنی کتاب ’خدا کوئی نہیں ہے‘ ہمیں بہت سارے اٹھتے مسائل پہ خاموشی سے غور و فکر کرنے پہ مجبور کرتی ہے۔ مجھے اس کتاب کو دیکھتے ہی ہالی ووڈ کی ایک شاندار فلم Blood Diamond یاد آنے لگی ہے۔ یہ فلم افریقہ کے اک غیر معروف ملک سیرالیون میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پہ مبنی ہے۔ فلم

Read more

قبیلہ کیا سوچے گا! مکمل کالم

میرے حلقہ احباب میں ایک صاحب ہیں جن کی شرعی داڑھی ہے، ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنتے ہیں، پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں۔ گویا اپنے چہرے مہرے، حلیے اور اعمال سے کٹر مسلمان لگتے ہیں اور اسی وجہ سے اہل علاقہ انہیں مولوی صاحب کہہ کر پکارتے ہیں حالانکہ نہ انہوں نے کبھی مدرسے کی شکل دیکھی اور نہ کسی مسجد میں امامت کی۔ اُن کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

Read more

پنجاب کی تاریخ میں عورتوں کا کردار

پنجاب، جو ”پانچ دریاؤں کی سرزمین“ کہلاتی ہے، صرف قدرتی حسن اور زرخیز زمینوں کے لیے ہی مشہور نہیں بلکہ یہاں کی عورتوں کی بہادری، قربانی، اور فکری گہرائی بھی اس خطے کو نمایاں کرتی ہے۔ پنجاب کی سرزمین صرف زرخیز کھیتوں، بہتے دریاؤں اور گونجتے ڈھولوں کی دھرتی نہیں، بلکہ یہ بہادری، قربانی اور عظمت کی بھی پہچان ہے۔ بلکہ اس دھرتی نے ایسی بے شمار خواتین کو جنم دیا ہے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔

Read more

نفرت کی معیشت

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدگی، بداعتمادی اور دشمنی کے دائرے میں قید رہے ہیں۔ تقسیم ہند کے زخم، بار بار کی جنگیں، مسئلہ کشمیر اور سیاسی قیادتوں کی مصلحتیں دونوں ملکوں کے عوام کے ذہنوں میں ایک مستقل ”دشمن“ کا تصور راسخ کر چکی ہیں۔ مگر سوال محض یہ نہیں کہ تعلقات خراب کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ دونوں ریاستوں نے اپنے اپنے عوام میں نفرت اور دشمنی کو کس طرح ایک انسٹیٹیوشنل عمل کے

Read more

کتابِ کتاب: سائنس اور تخیل کے اوراق

  کائنات ایک لامتناہی کتاب ہے جس کے اوراق پر طبیعیات کے قوانین سچائی کے حروف رقم ہوتے ہیں، تو سائنس فکشن کا تخیل انہیں کہانیوں کے تاروں میں پروتا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ جیسے روشنی اور سائے کا رقص، یا سمندر اور لہروں کا ابدی رشتہ۔ انسانی تاریخ کا ہر کارواں اُس سوال کے پیچھے چلا: ”ہم کون ہیں؟“ جب آئن سٹائن نے روشنی کی رفتار سے سفر کا خواب دیکھا، تو جولز ورن

Read more

اِشپاتا: کیلاش لوگوں کے بارے میں اُستاد محمد عنایت اللہ سے ایک گفتگو (دوسری اور آخری قسط)

  کتاب کا پہلا ایڈیشن کب آیا؟ ” یہ 2010 میں آیا جو میری 22 سال کی محنت ہے“ ۔ ” اپنی تحقیق کو کتابی شکل دینے کا خیال کب اور کیسے آیا؟“ ” جب میں وادی بِیر یر سے تبدیل ہو کر بُونی آیا تو بریر میں جو کچھ کیلاش تہذیب و ثقافت کے بارے میں مشاہدات اور تحقیقی تحریری نوٹس لکھے تھے اُن کو پڑھ کر فیصلہ کیا کہ اب انشاء اللہ اس کو کتابی شکل دینا چاہیے“

Read more

تحقیق و دریافت: ایک مطالعہ

تحقیق کسی بھی شعبے میں ترقی اور جدت کی بنیاد ہے۔ یہ نیا علم دریافت کرنے، موجودہ نظریات کو چیلنج کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم اپنی دنیا کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، چاہے وہ سائنس ہو، ادب ہو، تاریخ ہو یا کوئی اور مضمون۔ یہ ہمیں تنقیدی طور پر سوچنے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیمی لحاظ سے،

Read more

کافی ہاؤس لاہور کی چند شخصیات کا تذکرہ

کے کے عزیز کی کتاب لاہور کا کافی ہاؤس (The Coffee House of Lahore: A Memoir) ادبی اور علمی شخصیات کا ایک دلچسپ تذکرہ ہے۔ اس وقت کا کافی ہاؤس خاص کر بائیں بازو والوں کا گڑھ تھا۔ سوشلسٹ اور لبرل رجحان رکھنے والوں نے کافی کو چائے کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا۔ شاید کافی سیاسی اور سماجی مزاحمت کی علامت سمجھی گئی تھی۔ یہاں بیٹھنے والوں کی اکثریت یا تو کمیونسٹ پارٹی کی رکن تھی یا پھر اس

Read more

ڈاکٹر محمد صادق کا علمی و ادبی سفر

بیسویں صدی برِصغیر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہلچل اور تغیرات کی صدی ہے۔ اس میں جس تیزی اور برق رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ اسی صدی کے دوران میں جہاں سائنس، فلسفے اور سیاست کی دنیا میں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا وہیں علم و ادب کی دنیا میں بھی زرخیز دماغ پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مولانا حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، علامہ عنایت اللہ مشرقی،

Read more

رومی اور سلطان باہو کانفرنس

  کل سلطان باہو اور رومی کانفرنس انتہا درجے کی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ بلا مبالغہ، ہر سیشن معلوماتی، دلچسپ، قابلِ تحسین اور ذہنی بالیدگی و تازگی کا بہترین ذریعہ تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ نوجوان رضاکاروں کا با ادب انداز، ہر مہمان کے ساتھ احترام، اور ان کی مخصوص وضع قطع۔ رومی کے متوالے اپنے مخصوص چولے اور ٹوپیوں میں، جب کہ سلطان باہو کے فقیر شلوار قمیص اور دستار میں۔ مہمانوں کا

Read more

صدارتی خطبہ حلقہ ارباب ذوق

  خواتین و حضرات! حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اس پروقار سالانہ اجلاس کے لیے صدارتی کلمات کے طور پر اپنی گزارشات پیش کرنا میرے لیے باعث شرف ہے۔ جو باتیں میں یہاں کرنے جا رہا ہوں لازم نہیں ہے کہ آپ اُن سے اتفاق کریں کہ وہ میرا نقطہ نظر ہیں ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں سے سامنے کا منظر نامہ دیکھ سکتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کی یہ مستحکم روایت اور اصول رہا ہے کہ اختلاف کا

Read more

ہندوستان کی لوک داستانیں

لوک داستانیں کسی بھی زبان، معاشرے اور تہذیب کا نہایت اہم اور خوبصورت عکس ہوتی ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف ماضی کے حالات و واقعات کا پتہ چلتا ہے بلکہ ان میں معاشرتی اقدار، اخلاقی اسباق، تاریخی واقعات اور جذباتی کیفیات کا عکس بھی جھلکتا ہے۔ زمانہ قدیم میں جب لکھنے کا رواج عام نہ تھا، لوگ عموماً حجرے یا کسی کھلے مقام پر محفلیں سجاتے، جہاں بزرگ یا کوئی ماہر داستان گو قدیم کہانیاں، روایات یا اپنے ذاتی

Read more

لیک ڈسٹرکٹ کی بیٹریکس پوٹر

کرونا سے پہلے تک میں ہر سال برطانیہ جایا کرتی تھی۔ ماں باپ کے جانے کے بعد میرے بھائی جان کا گھر ہی میرا میکہ ہے۔ بچپن ہی سے انگریزی کتابیں پڑھتے ہوئے انگلینڈ کی سر زمین جیسے آشنا سی لگنے لگی خصوصاً کلاسک ناولز میں بیان کیے گئے دیہی علاقے۔ آج اپنے سٹڈی روم میں کتابیں صاف کرتے ہوئے بچوں کی Peter Rabbit اور Floppsy کی شاندار کتابیں ہاتھ لگیں تو دل نے چاہا Beatrix Potter پر لکھا جائے

Read more

خالد سعید: کت گئے کھیون ہار

پرانی فلموں، پرانے گیتوں، پرانے رسالوں اور کتابوں میں سانس لیتا جہاں ہر لمحے نیا لگتا ہے۔ ایسے ہی کہیں بہت دور بچپن میں کسی رسالے میں بنگلہ گیت پڑھا تھا جس کا مکھڑا بھی یہی تھا۔ لکڑی جلی تو کوئلہ بنی۔ کوئلہ جلا تو راکھ۔ میں پاپن کچھ ایسی جلی نہ کوئلہ ہوئی نہ راکھ۔ نہ جانے اپریل آتے آتے ایسا کیوں لگتا ہے۔ شاید یوں کہ انہی دنوں میں بہت سوں کا کھیون ہار۔ خالد سعید۔ میرے ابا

Read more

ریاست بہاول پور کا پہلا اور سب سے بڑا نجی کتب خانہ

آج کتابوں کے عالمی دن پر ہم ذکر کریں گے ریاست بہاول پور کے سب سے بڑے اور قدیمی نجی کتب خانے کا جو صادق آباد کے ایک دیہات میں واقع ہے۔ یہ مبارک اردو لائبریری ہے جس کی بنیاد مبارک شاہ جیلانی مرحوم نے 1926 میں صادق آباد کے علاقے پیر دا گوٹھ میں رکھی تھی۔ پیر دا گوٹھ، صادق آباد کے علاقے سنجر پور کے نواح میں واقع ایک بستی ہے جسے اب محمد آباد کہا جاتا ہے۔

Read more

بڈاوا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں یہ خبر اڑی کہ بڑے چودھری صاحب کے کھیت میں جو بڈاوا کھڑا ہے وہ رات کو چہل قدمی کرتا ہے۔ اس اطلاع سے جاگیردار بہت پریشان ہوا اور اس نے حکم دیا کہ اس بڈاوے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی جگہ نیا کھڑا کر دیا جائے۔ حکم ملنے کی دیر تھی کہ وہاں ایک نیا بڈاوا کھڑا کر دیا گیا۔ گاؤں والوں نے سکھ کا سانس لیا

Read more

وکٹر فرینکل اور زندگی میں معنی کی تلاش

وکٹر فرینکل بیسویں صدی کے وہ واحد ماہر نفسیات ہیں جنہیں امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس نامزدگی کی وجہ ان کی کتاب MAN ’S SEARCH FOR MEANING تھی جس کا ترجمہ بیس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے اور جس کی پچھلی نصف صدی میں ایک کروڑ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف نازی کیمپوں میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں بلکہ اپنے نفسیاتی طریقہ علاج

Read more

سیٹ 1-C کا مسافر

ہم پانچ دوست سیر و سیاحت کی غرض سے گلگت گئے، یہ اگست 1989 کی بات ہے، ایک ہفتہ قیام رہا،خوب سیر کی، بہت لطف آیا۔ واپسی کی ہوائی ٹکٹیں 24 اگست کی تھیں، صبح ہوائی اڈے پہنچے تو خبر ملی کہ اس جہاز پر تین سیٹیں مل سکتی ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ تین دوست آج ہی چلے جائیں اور دو اگلے دن آ جائیں۔ لہٰذا، شہباز شیخ، عماداللہ شیخ اور برادرِ بزرگ سیّد جنید غزنوی، اُس پرواز پر

Read more

رفاقت حیات کا ناول: ”رولاک“

”رولاک“ رفاقت حیات کی ایک ایسی تخلیق ہے جس نے اردو ادب کے قاری کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ محض ایک داستان نہیں، بلکہ زندگی کے ان گنت پہلوؤں پر ایک گہری نظر ہے، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقتیں اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے، میں نے خود کو کرداروں کے ساتھ ہنستے، روتے اور سوچتے ہوئے پایا۔ یہ ایک

Read more

اقبال شناسی میں ”علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی“ کی خدمات

علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کا قیام 9 نومبر 2009 ء کو لاہور میں عمل میں آیا۔ اس کے روح رواں اور بانی میاں ساجد علی ہیں۔ میاں ساجد علی دورِ حاضر کے اقبال شناسوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اقبال کے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا یہ شوق آج ایک نجی سوسائٹی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہ میاں ساجد علی کی اقبال سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار ہے۔ دنیا میں علامہ اقبال سے متعلق

Read more

کچھ نثری نظم کے بارے میں

نثری نظم شاعرانہ نثر سے اس لیے ذرا مختلف ہے کہ اس میں زبان و بیان شاعرانہ ہو نہ ہو، خیال شاعرانہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نثر سے اٹھی ہوئی اور شعر کے قریب پہنچی ہوئی شے ہے جبکہ شاعرانہ نثر میں کسی بھی موضوع کو شاعرانہ زبان و بیان میں ادا کر دیا جاتا ہے اس لیے وہ شاعری ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ رہا معاملہ جذبات کا تو جذبات خالص شعری شے ہیں جن کا

Read more

ماریو برگس یوسا کی یاد میں

(ماریو برگس یوسا  کا انتقال 13  اپریل  2025 کو ہوا) عالمی شہرت یافتہ نوبل انعام یافتہ فکشن نگار ماریو برگس یوسا کی موت کی خبر سب سے پہلے اس کے بیٹے الوارو برگس یوسا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر چڑھائی گئی اور پھر یہ جنگل میں آگ کی طرح ہر طرف دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ 89 برس کی عمر میں رخصت ہوئے تھے اور اپنے پیچھے ایسا ادبی سرمایہ چھوڑا کہ ہر کہیں یاد کیے

Read more

ہم کتابیں کیوں نہیں پڑھتے؟

23 اپریل کو ہر سال کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد کتابوں کی اہمیت اجاگر کرنا اور کتاب بینی کو فروغ دینا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی کتابیں پڑھنے کے حوالے سے خاصی بری شہرت رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف ممالک میں مطالعے کے رجحانات مختلف ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں اوسطاً ہر فرد سالانہ 17 کتابیں پڑھتا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد بھارت کا نمبر

Read more

ہو چکیں غزہ میں بلائیں سب تمام

مضمون کے عنوان میں غالب کے مصرع میں بگاڑ کی معذرت لیکن یہ خیال آتا ہے کہ اگر آج کے دور میں وہ زندہ ہوتے تو غزہ کے متعلق کیا سوچتے؟ انہوں نے 1857 کی جنگ آزادی کے دوران ہوئی دلی کی بربادی کا ذکر ایک روزنامچے اور اپنے دوستوں کو لکھے خطوط کی صورت میں کیا تھا؛ 2025 کا غزہ اُنہیں کیسے اظہار پر مائل کرتا؟ میں نے کچھ ہفتے پہلے ایک مضمون میں غزہ میں موجود فلسطینیوں کی

Read more

عفت نوید کی ’ردی‘

جس طرح پاکستان میں اکثر ڈاکٹر لڑکیاں شادی کے بعد سسرال والوں اور شوہر کی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں اور گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ادبی جرائد میں تواتر سے افسانے لکھنے والی کئی لڑکیوں کو بھی ہم نے شادی کے بعد ادبی منظر سے غائب ہوتے دیکھا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے آخر وہ لکھنا کیوں چھوڑ دیتی ہیں؟ لکھنے لکھانے کا کام تو گھر بیٹھے ہو سکتا ہے۔ اس سوال

Read more

کیا آپ اپنی زندگی کو بامقصد اور بامعنی بنانا چاہتے ہیں؟

کینیڈا میں پچھلے چند سالوں میں مجھے کئی ایسے مریض ملے ہیں جنہوں نے مجھ سے یہ اعتراف کیا کہ ’میری زندگی بے مقصد ہے‘ ’میری زندگی بے معنی ہو گئی ہے۔ ‘ ’میری زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے‘ ان مریضوں کی خواہش تھی کہ میں ان کی زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنانے میں ان کی مدد کروں۔ ان مریضوں سے تھراپی کے دوران میں نے ایک سوال نامہ تیار کیا اور وہ سوالنامہ اپنے دوستوں

Read more

کالج میں داخلہ

دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اب کالج میں داخلے کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس عمر میں عموماً نوجوانوں کے بہت سے خواب ہوتے ہیں اور وہ ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے محنت، کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن میرا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ نہ تو میرے کوئی خواب ہی تھے اور نہ ہی میں کسی خاص پیشے کو اپنا کر اس سے نام یا

Read more

فلسطینی المیے پر غسان کنفانی کا ناولٹ دھوپ میں لوگ

غسان کنفانی کا ناولٹ ’دھوپ میں لوگ‘ دل کو دہلا دینے والی ایک ایسی کہانی پر مبنی ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کی بے کسی اور مایوس کن زندگی کو اُجاگر کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنے ہی خطے میں بیگانگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کہانی تین فلسطینی مردوں ابوقیس، اسعد اور مروان کی جدوجہد کے بارے میں ہے جو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزرنے پر مجبور ہیں اور

Read more

اقبالؒ۔ کیا ہم بھول جائیں گے؟

علامہ اقبال کو رُخصت ہوئے ستاسی برس ہو چلے۔ لیکن کیا دِلوں میں چراغِ آرزو جلانے، جہد مسلسل کا عزم عطا کرنے، خودی، خود آگاہی اور خود شناسی کا درس دینے، حاضر و موجود کی قید سے آزاد ہو کر نئے جہانوں کی تلاش و جستجو کی لگن ابھارنے، غلامی کی شبِ سیاہ میں سحر تراشی کا جنوں بخشنے اور ”لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند“ اِک ولولہ تازہ دینے والی زندہ و جاوداں شاعری کے نقوش بھی گردوغبارِ

Read more

نادرہ مہر نواز: چھوٹی سی کتاب اور بڑی کہانیاں

تعلق کا نادیدہ بوجھ کی تخلیق کار محترمہ نادرہ گیلانی مہر نواز صاحبہ عہد موجود کی وہ عمدہ  و اعلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں کی اس کتاب میں عصری اور معروضی صورتحال کی حقیقت کو اس طرح فکشنلائز کیا ہے کہ افسانہ پن کے رموز پر پورا اترتی ہوئی یہ کتاب نثری ادب میں ایک خوبصورت اضافہ بنی اس پر ہم نادرہ گیلانی صاحبہ کے ممنون و شکر گزار ہیں۔ میں یہ کتاب اس لیے بھی پڑھنا چاہتی

Read more

ظفر اقبال کے تین مسئلے اور میرے پونے چار سوال

اردو کی ادبی تاریخ میں شاید ہی کوئی شاعر ظفر اقبال جیسا متنازع اور اختلافی ہو گا۔ ایک طرف تو ان کے چاہنے والے ان گنت ہیں، جو عہد ساز، جدید غزل کے امام اور پوری دو نسلوں کا ٹرینڈ سیٹر سمجھتے ہیں، تو دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انہیں متشاعر اور رطب و یابس کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اپنی دشمنی کے لیے وہ

Read more

شہر اقتدار سے

جانے وہ کیسے، لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا ہم نے تو جب کلیاں مانگیں، کانٹوں کا ہار ملا وقت تو دوپہر ہی کا تھا، مگر بادلوں نے دھوپ کی تمازت کو اپنی اوٹ میں چھپا کر ٹھنڈی ہوا کو اذنِ خرام دیا کہ آؤ اور ماحول کو خوشگوار کر دو۔ سو ہم، اُس سہانے موسم میں، بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کے کشادہ و پُروقار آڈیٹوریم میں بیٹھے، خالدہ مظہر کی مترنم آواز کے سحر میں کھوئے ہوئے

Read more

معنی کی تلاش۔ بدعت اور انحراف کی مثال

اُردو افسانے کی روایت کو سوا صدی گزر چکی ہے۔ اس دورانیے میں اِس صنف نے کئی رجحانات سے استفادہ کیا اور خود کو بدلتے تقاضوں سے ہمیشہ ہم آہنگ رکھا۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے اس فن کو صحیح معنوں میں برتا اور ایسے افسانے تخلیق کیے جن کو عالمی ادب کے رو برو رکھا جا سکتا ہے۔ اردو افسانے کے ترقی پسند دور کو افسانے کے زریں دور سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا،

Read more

ساغر صدیقی: شہرت کی گمنامی کا المیہ

ساغر صدیقی کی غزل ”چراغ طور جلاؤ کہ بڑا اندھیرا ہے“ ایک ایسی شاعری ہے جس نے پاک و ہند کے ادبی منظرنامے کو روشن کیا، مگر اس کی روشنی میں خود شاعر کا وجود گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ یہ غزل نہ صرف فنی مہانتا کی حامل ہے بلکہ ایک المیے کی علامت بن گئی جس میں شاعر اپنی ہی تخلیق کے سائے میں کھو گیا۔ اس مضمون کا مقصد اس تضاد کو سمجھنا ہے کہ کس

Read more

جنید حفیظ: لرزتا ہوا انصاف

میرے ذہن کی پٹاری میں میرے وطن کا ایک مقدمہ ایسا بھی ہے جو 2013 سے کسمسا، بلبلا اور کروٹیں بدل بدل کے تھک سا گیا ہے مگر مقدمے کی برسوں بعد لگنے والی پیشی Forward as Recieved کی طرح بغیر سنے اور کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچے بنا اور کسی تفتیشی عمل سے گزرے بغیر ہی ختم کر دی جاتی ہے، اب میں نہیں جانتا کہ ہماری عدلیہ بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروپیگنڈے Forward as Recieved کی طرح

Read more

نوجوانوں کے ذہنوں سے کھلواڑ کرنے والے روحانی بابے اور صحافی

اسی کی دہائی کے بعد سے اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ انتہائی گھناؤنا کھیل کھیلا گیا، ان کی ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، نوجوانوں کو کرشماتی پہلیوں میں الجھا کر زمانے کے حقیقی مسائل اور چیلنجز سے بیگانہ کر کے ان میں عقلی رویوں کی آبیاری کرنے کی بجائے ایک مخصوص طرز کی روحانی و صوفی پروگرامنگ کی گئی اور ایک ایسا ادب اور ادبی گروہ تشکیل دیا گیا جن کی باتوں کا حقائق کی دنیا سے

Read more

ایک کالم مذہبی اقلیتوں کے نام

ایسٹر کی آمد آمد ہے۔ ایسٹر مسیحیوں کا ایک اہم اور مقدس تہوار ہے۔ مجھے بھی ایسٹر کی چند تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ اپنے دفتر کے مسیحی سٹاف کے لئے بھی ایک تقریب کا اہتمام میں نے کیا۔ اگرچہ اقلیتی برادری کے خلاف مختلف واقعات کی خبریں ہماری نگاہ سے گزرتی ہیں، تاہم یہ ایسے ہی واقعات ہوتے ہیں جو مسلمان شہریوں کے ساتھ بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ عمومی طور پر ہمارے سماج

Read more

تاریخ ادب اردو از جمیل جالبی: تکنیک، معیار اور مسائل

18 اپریل ڈاکٹر جمیل جالبی کی چھٹی برسی ہے اردو ادب کی مستند اور معیاری تاریخ کی بات چھڑ جائے تو زاویہ نظر تاریخ ادب اردو کی جانب مڑتا ہے اور تا دیر وہاں ٹکا رہتا ہے۔ ہم جمیل جالبی کی اس کتاب کی توصیف کے لیے سوداؔ کے اس شعر سے مدد لے سکیں تو مبالغہ نہ ہو گا سودا تُو اس غزل میں غزل در غزل ہی لکھ ہونا ہے تُجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف چار

Read more

دیدۂ بینا

  خدائے سخن میر نے کہا تھا چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ ابتدائے آفرینش سے دنیا دو قسم کے لوگوں سے بھری ہے۔ ایک وہ جو اس جہان سے سرسری گزر جاتے ہیں۔ جو پیدا ہوتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، نسل کَشی کرتے ہیں اور اس نیرنگ خانۂ دہر میں اپنا کوئی نقش قائم کیے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔

Read more

سلطانہ وقاصی: گھر کی چہار دیواری سے دفتر تک

انسانی معاشرہ جتنا قدیم ہے، انسان کی کہانی بھی اُتنی ہی پرانی ہے، اور اس کہانی کے کرداروں کی رنگا رنگی مرد و زن کے گرد گھومتی ہے۔ چاہے وہ اساطیر ہوں یا تاریخ، داستان ہو یا ناول، فلم ہو یا اسٹیج۔ عورت کا کردار ہر صورت میں ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ کبھی رانی، شہزادی، پری، دیوی، کنیز، جادوگرنی یا نائکہ کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے، تو کبھی منفی کرداروں میں بھی اپنی ہیبت رکھتی

Read more

ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ نویسی

18 اپریل ڈاکٹر جمیل جالبی کی چھٹی برسی ہے ڈاکٹر جمیل جالبی اردو دنیا کے نامور محقق، مورخ، مترجم، نقاد اور نباض ہیں۔ انہوں نے تن تنہا اداروں کا کام سر انجام دیا ہے۔ اردو زبان، ادب اور ثقافت سے محبت اور جڑت انہیں گھٹی میں ملی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ کسی بھی قلمکار کے لئے اس سے زیادہ اعزاز کی بات کیا ہو گی، کہ جس زبان کا وہ لکھاری ہو،

Read more

چترال: نو آبادیاتی علم، نصابی تعصبات اور مقامی اقدار

یہ ایک عمومی تاثر ہے کہ کتابیں علم کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اسی تصور کو پیش نظر رکھتے ہوئے دخترِ چترال، لکشن بی بی، نے امریکہ سے چترال کے لیے کتابوں کا ایک کنٹینر بطورِ عطیہ بھیجا۔ اس اقدام پر جہاں چترال کے علم دوست حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہیں ایک طبقہ اس پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ یقیناً کتابیں علم پھیلانے کا ذریعہ ہوتی ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابیں صرف

Read more

پاکستان کا والٹیئر۔ ارشد محمود

پاکستان میں روشن خیالی اور عقلیت پسندی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ارشد محمود ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان سے میری پہلی ملاقات کوئی پندرہ برس قبل ہمارے مشترکہ دوست وسیم الطاف کے گھر پر ہوئی جو سول سروس میں میرے بیچ میٹ تھے۔ ان دنوں میں ایف بی آر سے رخصت لے کر برطانیہ کی وارک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جب ارشد صاحب کا برطانیہ آنے کا پلان بنا تو میری خصوصی فرمائش

Read more

تعصب کی عینک

انسانی معاشروں میں پھیلی ہوئی ایک بڑی بیماری تعصب بھی ہے، یہ صرف افراد کو ہی اپنی لپیٹ میں نہیں لیتی بلکہ گروہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے۔ اس بیماری کی آفات اتنی زیادہ ہیں کہ ہر کوئی ان کی زد میں آ جاتا ہے۔ تعصب بالکل عینک کی طرح کام کرتا ہے، یعنی جیسے آپ جیسی عینک پہنیں ویسا ہی دکھتا ہے ایسے ہی تعصب بھی آپ کو وہی کچھ دکھاتا ہے جو حقائق کے منافی ہو۔ تعصب

Read more

کے کے عزیز کا کافی ہاؤس

کے کے عزیز کی کتاب کافی ہاؤس لاہور کی ادبی اور سماجی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ہے۔ وہ اپنی خود نوشت کا دوسرا حصہ لکھنے لگے تو کافی ہاؤس پر ان کا باب اس حد تک پھیلتا چلا گیا کہ اس نے کتاب کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ انہوں نے اسے The Coffee House of Lahore: A Memoir، 1942۔ 57 کے عنوان سے علیحدہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ کے کے عزیز کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں

Read more