ظالم مرد سے برابری کی خواہش رکھتی ہے

آئیے آج آپ کی ملاقات ظالم مرد سے کرواتی ہوں۔ وہ مرد جو بہت ظالم ہے عورت پر ظلم ڈھاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی گرم دن ہے، سورج انسانوں سے بیر باندھے ہوئے ہے۔ سخت دھوپ ہے اور ظالم مرد ہی مرد ہیں۔ کوئی ظالم کڑکتی دھوپ میں لوگوں کو ٹھنڈا رکنے کے جتن (قلفی بیچنے ) میں مصروف ہے، کوئی ظالم تیز دھوپ میں چلتے چلتے آوازیں کس رہا ہے۔ اس کی دلیری کی حد دیکھیے کہ راہ چلتی

Read more

حسین صرف پیاس کا نام نہیں!

”بیٹا مجلس میں جانے کے لئے تیار ہو جائیے“ ہم محرم میں منعقد ہونے والی یومیہ مجلس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ بچے بھی ساتھ چلیں۔ دونوں بچوں کے پاس نہ جانے کی ہزار تاویلیں تھیں۔ ”مولوی حضرات بہت چیخ چیخ کے بولتے ہیں جس سے کچھ سمجھ نہیں آتا اور سر میں درد الگ سے ہوتا ہے“ ”رسومات کا ایک ڈھیر ہے، علم اور ضریح تو ٹھیک ہے لیکن مہندی کی رسومات، حضرت

Read more

چار ہزار سال سے بھٹکتی آتماؤں کی نحوست!

ہزاروں سال قبل مسیح، وادیٔ سندھ میں آباد جس قوم کے نشان ملتے ہیں، اس کے مذہبی عقائد سے متعلق معلومات ناکافی ہیں۔ شمال مغرب دروں سے اترنے والوں نے ہی غالباً ان مقامیوں کا کام تمام کیا اور پھر ہمالیہ کے دامن اور سندھو دریا کے کنارے بیٹھ کر وید لکھے۔

ہندو دھرم کو پہلا صدمہ تب پہنچا جب عظیم اشوکا نے بدھ مت کا چولا پہنا، تلوار پھینکی اور انسانوں سے روا داری کا معاملہ کرنے لگا۔ برہمنوں کو اقتدار واپس ملا تو بدھ مت کے ماننے والوں کی شامت بن آئی۔ قدیم وید لکھنے والے رشیوں نے اہنسا کا چولا اتار پھینکا اور ہندوستان کی دھرتی بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگ دی۔

Read more

محبت اور سرمایہ داری

دودھ سی سپید رنگت، سحر انگیز سرمئی آنکھیں، جبین نور افشاں، لب کہ شگفتگی گل سے مزین، گیسو کہ مشک ختن، سیمیں بدن کہ عالم کی بہاریں نثار ہوں، شیریں سخن کہ شہد کی مٹھاس پھیکی پڑنے لگے، غنچہ دہن کہ گل و گلاب اسے دیکھ سر جھکانے لگیں۔ بے رخی، کج ادائی اسے زیب دیتی تھی۔ زندگی اس پر نثار ہوا کرتی تھی۔ ماحول سے بے نیاز، آنکھوں میں طلوع آفتاب سے پہلے کے وقت کی چمک لئے، بے

Read more

جب سنی محرم منایا کرتے تھے

زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ قوموں کی زندگی میں تیس پینتیس سال کی بھلا کیا اہمیت ہوتی ہے۔ 1979 کا تاریخ ساز اور تباہ کن سال گزرے نصف دہائی بیت چکی تھی مگر ابھی ہمارے معاشرے میں اس کا زہر سرائیت نہیں کر پایا تھا۔

ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ ہمارے ہم جماعتوں کا مسلک کیا ہے۔ مسلک کیا ہمیں تو ان کی ذات کے بارے میں بھی علم نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے یونی لیب سکول میں طلبا کو پہلے دو ناموں سے ہی پکارا جاتا تھا۔ ہمارے نام کے ساتھ خان نہیں لگتا تھا۔ ایسے میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں ایک ٹیچر نے بے خیالی میں ایک ہم جماعت کا پورا نام پکار دیا تو سارے ہم جماعت بے تحاشا ہنسنے لگے۔ تنویر سعید باجوہ۔ باجوہ؟ باجوہ کیا ہوتا ہے؟ تنویر کے نام کے ساتھ یہ کیوں لگا دیا گیا ہے؟ باجوہ سے ملتا جلتا لفظ جو ہم بچوں نے اس وقت تک سنا تھا وہ باجرا تھا، یہی گمان گزرا کہ ٹیچر نے کچھ غلط پڑھ دیا ہے۔ معصومیت سی معصومیت تھی۔

Read more

حسین علیہ السلام سب کے

شجاعت میں مثل جناب علی کرم اللہ وجہہ، عباس علیہ السلام جیسا جری سپہ سالار لشکر، اذن جنگ مل جاتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ لیکن وقت کے امام نے اس کو ایک جنگ کے بجائے معرکۂ حق و باطل رہتی دنیا کے لیے قائم رکھنا تھا۔ اور آج تک جہاں حق کا ذکر ہو وہاں فلسفۂ حسینیت کی پکار سنائی دیتی ہے اور جہاں باطل کی پہچان کی جانی مقصود ہو اسے یزیدیت سے پہچانا جاتا ہے۔ چھ ماہ کے علی اصغر علیہ السلام کے گلے کو تین منہ کے تیر نے چھلنی کیا تو اس کے بعد کیا یزیدیت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوا؟

جناب قاسم علیہ السلام کا سرزمین کرب و بلا میں ٹکڑے ہو جانا، علی اکبر علیہ السلام جیسے کڑیل جوان کے سینے میں برچھی کا اتر جانا، عون و محمد علیہم السلام اجمعین کی بچپنے کو شکست دیتے ہوئے داد شجاعت دینا۔ حبیب ابن مظاہر علیہ السلام جیسے پر خلوص دوست کا آواز امام حسین علیہ السلام پہ لبیک کہنا، دربار یزید میں بنت علی سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ، کیا یہ سب آج کے دور میں مشعل راہ اب نہیں رہا؟ کیا کردار امام حسین علیہ السلام اور اصحاب حسین علیہ السلام آج کے دور میں زندگیوں میں نکھار لانے کے لیے کافی نہیں؟ دلوں کو شفاف، پاکیزہ کرنے کے لیے کربلا کا پیغام کافی نہیں؟ بالکل کافی ہے۔ لیکن حقیقتاً ہم آج حسینیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

Read more

جاپان میں تعزیے جیسی رسم

محرم کا عشرہ شروع ہو چکا ہے جو ہمیں امام حسین کی بے مثل قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ تعزیہ ماہ محرم کی علامت ہے جب میں نے جاپان میں تعزیہ دیکھا تو حیران ہو گیا ٹریننگ کے دوران ٹوکیو میں جہاں ہماری اکیڈمی تھی۔ اسی پری فیکچر میں ایک مشہور شرائن تھی جس میں میلہ لگا ہوا تھا اور سارے پری فیکچر میں آج چھٹی تھی اور اسی حوالے سے ہمیں بھی چھٹی تھی۔ دادا رحمن، ڈاکٹر چٹر راج اور میں نے اس میلے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تو مسٹر مستو موتو، مسٹر ہاگی ہارا، مس چن اور سکیوسن بھی ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ چل پڑے اگرچہ میلہ دیکھنے کا شوق انہیں ہم سے بھی زیادہ تھا۔

بہرحال ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا جب ہم اکیڈمی کے باہر نکلے تو ہم نے سامنے ایک بہت بڑا تعزیہ رکھا ہوا دیکھا دس بارہ نوجوان پر جوش انداز میں اس کے گرد کھڑے تھے چونکہ اکیڈمی کے پاس وسیع میدان اور لان ہیں تو تعزیہ سب سے پہلے یہاں آتا ہے پھر لوگ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ تعزیہ کو جاپانی زبان میں مکوشی کہتے ہیں۔ مکوشی آنے کے بعد لوگ جوق در جوق اکٹھے ہو رہے تھے۔ ایک نوجوان اپنی زبان میں کچھ بولتا اور سارا ہجوم اس پر نعرے لگاتا۔

Read more

ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی: ایک شمع اور بجھی…

ملک کے مشہور ومعروف صحافی ڈاکٹر عبدالقادر قاسمی شمس صاحب موذی مرض کورونا کو مات نہیں دے سکے۔ اور وہ غیر متوقع طور پہ ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے ہیں۔ آج دوپہر دلی کے مجیدیہ اسپتال میں علاج کے دوران ان کی روح قفص عنصری سے پرواز کرگئی۔ وہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کورونا وائرس سے جنگ لڑرہے تھے۔ مگر جانبر نہ ہو سکے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ دور ناگہانی اور قحط الرجال کے زمانہ میں آپ کی شخصیت

Read more

ایک باپ کو کیسا ہونا چاہیے

ہمارے معاشرے میں والدین اولاد کی شادی تو کر دیتے ہیں۔ مگر وہ اولاد کی اس نہج پہ تربیت نہیں کرتے۔ کہ بطور زوجین اور بطور والدین ان کو کیسا ہونا چاہیے۔ میاں بیوی کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے۔ اس پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ لکھا جاتا ہے۔ اور ہم سب کہیں نہ کہیں لکھتے رہتے ہیں۔ مگر بطور والدین ہمیں کیسا ہونا چاہیے۔ بچہ پیدا کرنے سے لے کر اسے بڑا کرنے تک ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ ہمیں معاشرے کو ایک صحت مند اور باشعور شہری دینا ہے۔ تو اس کے لیے ہمیں کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہمیں کن باتوں پہ عمل کی ضرورت ہے۔

میں ہمیشہ سے جب بھی کسی باپ کو اپنی اولاد سے محبت برتتے دیکھتی تھی۔ تو میرے ذہن میں ایک سوال ہوتا تھا۔ میرا باپ کہاں ہے۔ بچپن میں گلی میں کھیلتے جب اچانک سے بچوں نے پوچھ لینا کہ تمہارے ابو کہاں ہیں۔ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ ہوتا تھا۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ میرا باپ زندہ ہے۔ مگر وہ کہاں ہے۔ یہ سمجھ نہ آتی تھی۔ کراچی گلشن اقبال کی روڈز پہ کتنی کتنی دور تک میں اپنے باپ کو ڈھونڈھنے کی کوشش میں پھرتی رہتی تھی۔ گھر پہنچتی تو ماں سے مار الگ پڑتی۔ مگر میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیتا۔ (بروکن فیملی چائلڈ کو جواب کم ہی ملتے ہیں ) ۔

Read more

مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری

دمشق میں پہلا دن، پہلا کام مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔ روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل ایک آواز کانوں میں گونجی تھی۔ ”خدا کی راہوں میں شہادت پانے والے لوگ کبھی فنا نہیں ہوتے۔“ حضرت زینب۔ عفت و عصمت کی تصویر۔ صبر ورضا کا پیکر۔ خاتون جنت کی لخت جگر، علی المرتضیٰ کی آنکھوں کا نور۔ زینب

Read more

نفرت انسان سے ہے جرم سے نہیں!

ایک انسان میں اندھا پن اس وقت پیدا ہونے لگتا ہے جب اسے اپنی ہر چیز مکمل دکھائی دینے لگتی ہے۔ انسان فطری طور پر محبت پسند ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا میں ہر سو انسان کی لگائی ہوئی نفرت کی آگ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ہر جانب قتل و غارت، جنگ و جدل، لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد، معاشرہ برائیوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں رہی

Read more

فوزیہ رفیق کے پنجابی ناولٹ ”کیڑو“ کا ایک جائزہ

پاکستان میں کتنی مذہبی گھٹن ہے، کتنی تنگ نظری ہے اور کتنی منافرت ہے اس کا اظہار فوزیہ رفیق نے اپنے پنجابی ناولٹ ’‘ کیڑو ”میں کیا ہے۔ فوزیہ رفیق کینیڈا میں رہتی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا پنجابی ناول سکینہ بھی سنجیدہ حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ فوزیہ رفیق ایکٹیوسٹ ہیں انگریزی زبان میں ارٹیکل لکھتی ہیں جو کینیڈا میں شائع ہوتے ہیں۔ اس ناول کا عنوان کیڑو یعنی کیڑے یا حشرات الارض ہے جو ایک

Read more

فلسفہ حسینی کو فروغ دیں

محرم کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی شیعہ سنی کی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ ماتم جائز ہے یا ناجائز کی بحث شروع ہو چکی ہے۔ نجانے کس کس شاعر کا کلام علامہ اقبال سے منسوب کر کے آگے پھیلایا جا رہا ہے۔ کسی کو کربلا کا واقعہ محض اقتدار کی جنگ لگتا ہے تو کسی کو حق و باطل کا عظیم معرکہ۔ کسی کو مجلس سے مسئلہ ہے تو کسی کو ماتم سے مسئلہ ہے اور کسی کو نذر

Read more

پیغام کربلا سے شعور کربلا تک!

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، کوئی بھی انقلاب، تبدیلی قربانی مانگتی ہے، نواسہ رسول ﷺ نے وہ عظیم قربانی دی جس کی مثال قیامت تک ممکن ہی نہیں، یہ ایک کردار کا نام ہے۔ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد کائنات انسانی کو دو کردار مل گئے۔ یزیدیت جو بدبختی ظلم، استحصال، جبر، تفرقہ پروری، قتل و غارت گری اور خون آشامی کا استعارہ بن گئی اور حسینیت جو عدل، امن، وفا اور تحفظ دین مصطفے ٰ صلی اللہ

Read more

کراچی کی حالت زار اور پروین شاکر

بارشوں کے رومانس سے پرانے شعرا کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ ساون میں پڑے جھولے اور اماں میرے بھیا کو بھیجو ری کہ ساون آیا اور نجانے کیا کیا۔ لیکن کراچی میں تو بارشیں ہمیشہ عذاب بن کر ہی نازل ہوتی ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں۔ 1973 یا 1974 میں جب میں روزنامہ مساوات کراچی میں کام کرتی تھی۔ مون سون کا زمانہ تھا۔ ہم دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی، ہمارا

Read more

چین کے دیہی نوجوان اور شادیاں

پاکستان میں لڑکی والے جہیز کی بدولت پریشان رہتے ہیں لیکن چین کے دیہاتوں میں یہی پریشانی لڑکے والوں کو لاحق رہتی ہے۔ گو کہ چینی کسانوں کا معیار زندگی پہلے سے بہت بہتر ہو گیا ہے اور ان میں کچھ ”دو لت مند لوگ“ بھی پیدا ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی چین کے دیہاتی نوجوانوں کو شادی کرنے کے لئے اپنے معیار زندگی سے کہیں زیادہ اور غیر ضروری اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ چین کے دیہاتوں میں بہت

Read more

لوگ ہم سے محبت کیوں نہیں کرتے۔ ۔

یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کا ہر انسان کو جستجو رہتا ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے کچھ سوالات کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی ذات کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا میں خود اپنے آپ سے محبت کرتا ہوں؟ کیا میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ مچھ سے محبت کی جائے؟ کیا میں نے خود کو اس قابل بنانے کی کوشش کی ہے کہ لوگ

Read more

ڈاکٹر عبداقادر شمس قاسمی، ایک شمع اور بجھی اور بڑھی تاریکی

ملک کے مشہور ومعروف صحافی ڈاکٹر عبدالقادر قاسمی شمس صاحب موذی مرض کورونا کو مات نہیں دے سکے۔ اور وہ غیر متوقع طور پہ ہمارے درمیان سے رخصت ہو گئے ہیں۔ آج دوپہر دلی کے مجیدیہ اسپتال میں علاج کے دوران ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ وہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کورونا وائرس سے جنگ لڑرہے تھے۔ مگر جانبر نہ ہو سکے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ دور ناگہانی اور قحط الرجال کے زمانہ میں آپ کی شخصیت پیکرخلوص ومحبت اور جہدمسلسل کا تھا ایک بڑے میڈیا گھرانا سے وابستگی کے باوجود قوم وملت کے لئے کچھ کر گزرنے کی تڑپ اور لگن جو آپ میں تھی اس کی مثال شاذونادر ہی ملتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالقادر شمس کی ناگہانی موت یقیناً عظیم اور ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ جملہ محض کہنے بھر نہیں ہے واقعی وہ ایک جری، بے باک اور صاحب طرز صحافی کے ساتھ ساتھ علمی، دینی وملی اور سماجی خدمت گار تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں سماج کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ سال 1989 میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے فضیلت یافتہ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اپنے وطن ارریہ کے ککڑوا گورنمنٹ مڈل اسکول میں پرائیویٹ مدرسی سے کیا تھا۔

Read more

وہ آخری بت

میرے جیون ساتھی،
آؤ! اب تم واپس آ جاؤ!

میں اپنے بتوں کو توڑ دوں گی اور تم بھی اپنے بتوں کو پاش پاش کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ پھر ہم خوشگوار زندگی پالیں گے جس میں دونوں کا ایک ہی معبود ہو گا۔

تم جب میرے پاس ہوتے ہو تو میرا ذہن تمہارے بارے میں منفی خیالات سے بھرا رہتا ہے کہ تمہاری سوچ منفی ہے اور زبان شکر سے محروم اور شکایت سے پر، ماضی کی گٹھڑی میں سے سب اچھے واقعات کہیں پھینک کر تم گندگی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہو، اور یہ کہ تمہیں لکھنے پڑھنے سے دلچسپی نہیں، فنون لطیفہ کے ذوق سے عاری ہو، تفریح میں دائمی خوشی کو ڈھونڈتے ہو۔ تمہیں اپنی پیشہ ورانہ ترقی پہ غرور، اور فٹبال ٹیم میں بہترین کھلاڑی ہونے پر گھمنڈ۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ایم کیوایم والے کہہ رہے ہیں، ”فائنل راؤنڈ“ ہونا ہے

8 دسمبر 1990

اللہ اللہ کرکے بی اے فرسٹ ائر میں ایڈمیشن ہوا، فراغت سے جان چھوٹی۔ یہ سال کتنی خوشیاں لے کر آیا ہے، تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، بھائی جان کی بیٹی ہوئی، باجی اور غنی بھائی حیدرآباد چھوڑ کر کراچی آگئے، اور سب سے بڑی خوشی یہ کہ بے نظیربھٹو کی حکومت چلی گئی۔

بے نظیر کے جانے پر ہمارے محلے میں مٹھائی بٹی، جیسے ہی شام کو اطلاع ملی کہ صدرغلام اسٰحق خان نے حکومت کو برطرف کر دیا ہے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، ہماری گلی یوں بھر گئی تھی جیسے کوئی جلسہ ہورہا ہو۔ بڑے تبصروں میں مصروف تھے، لڑکوں کی ٹولیاں نعرے لگا رہی تھیں، عورتیں اپنے اپنے گھر کے دروازے پر پردے کی طرح لٹکی ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہی تھیں۔ کتنی شدید ہوائی فائرنگ ہوئی تھی اس شام۔ ہوائی فائرنگ تو زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔

Read more

اردو شاعری اور ہماری جنگ آزادی

اردو زبان و ادب خصوصاً شاعری اپنے ابتدائی دور سے ہی جہاں پیار و محبت کے نغمے سناتی رہی وہیں انتشار و احتجاج کے رنگ بھی اس میں نمایاں رہے۔ دراصل زبان کوئی بھی ہو اس کا ادب ہمارے جذبات و احساسات کا آئینہ ہوتا ہے چنانچہ یہاں بھی اس وقت جب مطلق العنان بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومت تھی شعرا نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر احتجاج کی آواز بلند کی اس کی ایک بڑی مثال جعفر زٹلی

Read more

اہل لکھنؤ سے متعلق بعض غلط فہمیاں

پچھلے دنوں منشی پریم چند کی کہانی پر بنی بھارتی فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“ دیکھی۔ فلم کے دو مرکزی کردار لکھنؤ کے نواب ذادے ہیں اور شطرنج کے رسیا جنہیں اپنے گھر بار اور حالات سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ دنیا سے بے خبر ایک ویرانے میں شطرنج کی چالوں میں محو ہیں دوسری طرف گورا پلٹن شہرمیں داخل ہو رہی ہے اور نواب واجد علی شاہ کو معزول کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بلا شبہ یہ

Read more

قائداعظم کی طرف سے فاتح سرحد کا خطاب پانے والی شخصیت

ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کی تحریک جسے دنیا تحریک پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ جس میں مسلمانان ہند کے تمام طبقات نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ جس کی قیادت حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔ اور جس نے آخرکار اپنی منزل مقصود یعنی پاکستان کو حاصل کر لیا۔ اس تحریک میں مسلمانوں کے تمام راہنماؤں نے قائداعظم کی سربراہی میں حصہ لیا۔ جن میں سے کئی شخصیات کے ناموں سے دنیا واقف ہے۔ مگر کئی شخصیات ایسی بھی ہے جو وقت کے ساتھ گمنامی میں چلی گئی اور جنہیں صرف مخصوص اہل علم لوگ ہی جانتے ہیں۔ جن کی خدمات کسی اور سے کسی طور پر کم نہیں۔

ان بھولی شخصیات میں ایک عظیم شخصیت مولانا عبد الحامد بدایونی کی بھی ہے۔ آپ کا تعلق بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان سے تھا۔ آپ نے 18 نومبر 1901 کو دہلی میں آنکھ کھولی۔ ابتدا میں ہندوستانی علماء میں صرف مذہبی اختلاف تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سیاسی اختلاف بھی پیدا ہوتے گے۔ کانگریس کی مسلم دشمنی کے باوجود بھی علماء کا ایک طبقہ کانگریس سے وابستہ رہا بلکہ متحدہ قومیت کا علمبردار بھی بنا رہا۔

Read more

رن مرید بننے پر مقدمہ

ہر دولہے کو شادی کے بعد زندگی میں ایک مرتبہ یہ طعنہ سننے کو ضرور ملتا ہے کہ ”اب یہ رن مرید ہو گیا ہے“ ۔ اگر کوئی منہ پر نہ بھی کہے تو پیٹھ پیچھے کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں بڑا رن مرید ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا یہ لقب خاندان میں کسی نہ کسی ایک کو ضرور پکا پکا الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ دراصل رن مرید کوئی خاص مضمون یا ڈگری نہیں، یہ کوئی خاص عہدہ یا اعزاز بھی نہیں بس یہ ایک مخصوص لقب ہے جو صرف ان شوہروں کے لئے تخلیق کیا گیا ہے جو اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، اس کے گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

بیوی سے اس قدر محبت اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے والا رویہ جب دوسروں پر عیاں ہونے لگتا ہے تو پھر ایسے شوہروں پر رن مرید ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ رن مرید ہونے کا لقب عموماً شوہر کے گھر والوں کی طرف سے طرف سے لگایا جاتا ہے جبکہ بیوی کے گھر والے شوہر کے ایسے رویے کو محبت کا نام دیتے ہیں۔ اب بے چارہ شوہر اسی کشمکش میں مبتلا رہتے ہوئے خود سے یہ سوال پوچھتا رہتا ہے کہ وہ رن مرید ہے یا محبت کرنے والا شوہر؟ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ لفظ رن مرید باقاعدہ اردو لغت میں موجود ہے جس کے معنی ہیں ”بیوی کا مطیع ہونا، بیوی کے اشاروں پر چلنے والا، جورو کا غلام، جورو کا تابع ہونا“ ۔

Read more

مصدگڑھ کانام اسلام گڑھ رکھ دیا جائے

نارووال مملکت خداداد پاکستان کا آخری ضلع ہے۔ جس کی سرحدیں بھارت کے ساتھ ملتی ہیں۔ ضلع نارووال کا آخری گاؤں مصد گڑھ ہے۔ جو مصدا سنگھ کے نام سے منسوب ہے۔ مصدا سنگھ اور لدھا سنگھ دو بھائی تھے جنہوں یہ گاؤں بسایا تھا۔ مصد گڑھ میں سکھوں کے بنائے گئے خوبصورت اعلیٰ طرز تعمیر کے گھروں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ بہت بڑا گورو دوارا تھا۔ جس کے کھنڈرات بھی اب ختم ہوچکے ہیں۔

مصد گڑھ میں موجود سکھوں کے گھروں سے اس امر کی نشاندہی ہوتی تھی کہ اکثریتی آبادی سکھوں کی تھی اور اکا دکا گھر ہندوؤں کے بھی تھے۔ مگر مسلمانوں کے گھروں کے کوئی آثار نہیں تھے۔

Read more

ڈاکٹر عطیہ ظفر: نہ بھلا سکوں جسے عمر بھر…

فروری 2020ء میں اماں کو خالق حقیقی سے ملے ہوئے چھ سال بیت گئے۔ کئی دفعہ سوچا کہ اماں کے لیے کچھ لکھوں مگر ہمت ہی نہ پڑی کہ اماں سے ڈانٹ نہ پڑ جائے۔ اماں کو برا نہ لگ جائے، اماں کو تکلیف نہ ہو، ایسا ہی رشتہ تھا ہم لوگوں کا اماں کے ساتھ۔ اماں کی ناراضگی ناقابل برداشت مگر اماں کے ساتھ ہنسنا بولنا مذاق کرنا، ہنسی ٹھٹھے لگانا بھی ناممکن۔ جیسے آپ کسی کی پوجا کرتے

Read more

پیغام حسینیتؓ: شعور انسانیت

یوں تو تاریخ انسانی وحشت و بربریت کی المناک داستانوں سے بھری پڑی ہے مگر سانحہ کربلا ظلم و جبر اور نا انصافی کا ایک ایسا باب ہے کہ جس میں جبر کو صبر کے ہاتھوں اذیت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ جس میں انکار کی کوکھ سے جنم لینے والے اظہار اور شعور نے تاریخ انسانی کو ایک ایسے پہلو سے روشناس کرایا کہ جس کی شمع آج بھی ہر اس جگہ جلتی ہوئی نظر آتی ہے جہاں

Read more

چین میں زندگی انمول ہے

انسانی جان اس دنیا میں سب سے زیادہ مقدم اور محترم ہے۔ کسی بھی معاشرے، قوم یا ریاست کی اولین ذمہ داری عوامی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس حقیقت کا صحیح ادراک عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی جانب سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اختیار کیے جانے والے اقدامات کو دیکھنے سے ہوتا ہے۔ اس سال کے آغاز میں کووڈ۔ 19 کی وبا کے خلاف مقابلے کے دوران شہریوں کی جان کے

Read more

پاک سعودی تعلقات کی نزاکت

آئے روز ہمارے ہاں کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے وہ بھی بیٹھے بٹھائے۔ ایک وزیر صاحب کے بیان نے ہمارے تمام ہوا بازوں کی تعلیم اور تربیت کو مشکوک بنا دیا۔ نتیجہ یہ کہ پہلے سے مسائل میں گھرا ہوا پی۔ آئی۔ اے ایک نئے مالی بحران میں مبتلا ہو گیا۔ کئی ممالک نے ہماری پروازوں پر پابندی لگا دی اور بیرونی فضائی کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے ہمارے درجنوں پائیلٹ پلک جھپکنے میں بے روز

Read more

نفسیاتی عدم توازن کا کرب

شاید تین یا چار سیڑھیاں باقی تھیں کہ ساس کی بوڑھی مکروہ کھانسی کی آواز سے اس کا دماغ بج اٹھا۔ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے قدم رک گئے۔ کھانسی کی بوڑھی جادوگرنی نے پھر دانت بجائے۔ اوپر چڑھنے والے قدم واپسی کے لیے مڑ گئے۔ آہٹ کم ہونے لگی۔

شبانہ کا خوش گوار احساس سے دھڑکتا دل۔ ۔ ۔ زور زور سے اتھل پتھل کرنے لگا۔ دماغ میں نفرت اور غصے کا سیاہ دھواں بھر گیا۔ دل چاہا، دو چھال مارکر یہ گیارہ سیڑھیاں عبور کرے اور بڑھیا کا گلا دبا کر۔ ۔ ۔ قصہ ہی پاک کر دے لمحے بھر میں۔ پھر اس کے منحنی سے، دبلے پتلے بیٹے کو نیچے سے اوپر اٹھا کر دو چار گھمیریاں، پٹخنیاں دے کر، اس کی چھاتی پر چڑھ کر بیٹھ جائے۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اور

Read more

دل نادان کی گارڈ تبدیلی تقریب

پانچ اگست کو بعد دوپہر سنی بروک ہسپتال ٹورنٹو سے چار ماہ انتظار کے بعد پیغام ملنے کے بعد حسب ہدایت تیاری کرتے سات اگست جمعۃ المبارک گیارہ بجے آپریشن تھیٹر کے ساتھ والے کمرے میں پہنچنے کے حکم کے بعد ہم سوا دس بجے وہاں پہنچتے ہسپتال گاؤن پہن مزید تیاری کے لئے بستر پر لٹائے جا چکے تھے۔ فلپائنی سی لگنے والی نرس بستر کے گرد ریلنگ سے لٹکے پردہ کو کھولتے کیبن سا بنا اپنی خون کے نمونے نکالنے۔ سینے سے بال وغیرہ اتارنے۔

ای سی جی۔ بلڈپریشر اور دیگر ٹیسٹ لینے میں مصروف تھی۔ ساتھ والے کیبن سے آواز آ رہی تھی۔ اب آپ مکمل ہوش میں آچکے۔ آپ کو دو گھنٹے مزید احتیاطاً یہاں رکھا جائے گا۔ جس عزیز نے آپ کو گھر لے جانا ہے۔ انہیں فون کر دیں کہ ہسپتال قریب پہنچتے اطلاع دیں۔ آپ کو گیٹ پر پہنچا دیا جائے گا۔ اور پھر بعد از آپریشن احتیاط کا سبق دہرایا گیا۔ ( کوئی نہ ہو تیمار دار۔ کی عملی تصویر)

Read more

مردوں کی دنیا میں عورتوں کا گاڑی چلانا

مان لیا حضور، عورت بنی ہی اسی لئے ہے کہ اس پہ پھبتیاں کسی جائیں، حظ اٹھایا جائے، ایک آنکھ میچ کے، قہقہہ لگا کے! ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں کہ معاشرے کے طرز عمل سے واقف ہیں۔ یہی تو سنتے، سہتے زندگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس عمر تک آن پہنچے ہیں۔ قلم اٹھانے پہ اس لئے مجبور ہوئے ہیں کہ دل پہ چوٹ سی لگی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی

Read more

پروین شاکر ۔۔۔ حصار رنگ میں

پروین شاکر پر یہ مضمون لکھنے میں مجھے کئی برس لگ گئے ، اس لئے کہ ان کے احساس کی ترجمانی کرنے والے لفظوں کا قبیلہ، میرے آنگن میں اترنے کے لئے فقط اس بات پر آمادہ نہ تھا کہ اس کو یہ گمان رہا کہ میرا شعور مرد اساس اور پدری نظام کے تسلط سے آزاد نہیں ہے۔ میں بھلا کیسے سمجھ سکتا ہوں کہ عورت اپنے باطن میں دبی چھپی چاہتوں، جسم وجاں کی رفاقتوں اورعدم رفاقتوں، اپنے

Read more

شہباز شریف کا بڑا کارنامہ ، ’’چالاکیاں‘‘ اور ذمے داریاں!

پیر کی شام جب قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا تو شہباز شریف صاحب اسلام آباد ہی میں موجود تھے۔ایوان میں لیکن تشریف نہیں لائے۔قائدِ حزب اختلاف کی حیثیت میں ان کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی موضوع پر گفتگو کے لئے ایوان میں کھڑے ہوجائیں۔ قائدِ ایوان اور قائدِ حزب اختلاف کی تقاریر عموماََ خاموشی سے سنی جاتی ہیں۔شورشرابہ ہو بھی تو سیاست دان اس سے گھبراتے نہیں ہیں۔جو بات بیان کرنا ہوتی ہے اسے مکمل کئے

Read more

ظلم دیکھ کر خاموش رہنے والوں کے نام

اس ابلاغ کے طوفان نے ہم سے ہماری اقدار، اخلاق، روایات یہاں تک کہ ہمارا نظریہ یا نقطہ نظر تک چھین لیا ہے، آج ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ کسی سانحہ، کسی واقعہ کسی المیہ پر ہم نے کیا ردعمل دینا ہے بلکہ ہم لاشعوری طور تقلید اور تعمیل کر رہے ہوتے ہیں ہیں اس عفریت کی جو آزاد میڈیا یا آزادی اظہار کے نام پر ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ جو مسلسل ہمارے عوام کی ذہن سازی

Read more

سیاست کا جغرافیہ (قسط چہارم )

محل وقوع، موسم اور باشندوں کے بعد اس قسط میں سیا ست کی اقسام پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ سیاست کی اقسام اہل مغرب حکومت کرنے کے فن کو سیاست کہتے ہیں۔ عرف عام میں سیاست، رسو ا ئے زمانہ اصطلاح ہے جسے ہیرا پھیری، دروغ گوئی، وعدہ شکنی، منافقت وغیرہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کچھ ڈیمو کریسی، کچھ ارسٹوکریسی، کچھ آٹو کریسی توکچھ محض ہیپو کریسی تصور کرتے ہیں۔ ماضی کے ایک بزرگ سیاستدان سے صحافیوں نے پوچھا

Read more

جوائنٹ فیملی سسٹم کے مضر اثرات

جوائنٹ فیملی سسٹم مشرقی روایات کا امین ہے۔ لیکن ہم اپنی سوچ اور رویوں کی وجہ سے اپنی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو یقیناً بے سکونی کا باعث بھی ہیں جہاں جوائنٹ سسٹم کے بہت سارے فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ کسی کا تجربہ اچھا رہتا ہے اور کسی کا برا۔ سب کی سوچ مختلف ہوتی ہے ’حالات و واقعات مختلف اور اسی طرح تجربات بھی۔ بزرگوں کے وجود سے گھر میں جہاں سکون ہوتا

Read more

پاکستانی عوام اور خارجہ پالیسی: دل تو پاگل ہے

ہم جلد باز لوگ ہیں۔ بحثیت قوم ہمیں محبت بڑی جلدی ہو جاتی ہے۔ ذرا کسی نے تھوڑی سی اہمیت دی، ہم نے اسے پیار کا انداز سمجھ لیا۔ جب پاکستان بنا تو اس سے پہلے ہمیں کسی سے محبت ہوتی، ہم نے نفرت کرنا سیکھی۔ محمد علی جناح کا خیال اور گمان تھا کہ پاکستان الگ ملک بن بھی گیا، تب بھی انڈیا پاکستان تعلقات ایسے ہی رہیں گے، جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔ آنا جانا بھی آسان

Read more

ڈاکٹر رشید جہاں: انگارے والی یا سراپا چراغ؟

” ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی میں نے کہا بتیس سال۔ کچھ اس طرزسے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ سترہ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال میرے ہاں بچہ ہوتا ہے۔ سوائے ایک تو جب میرے میاں سال بھر کو ولایت گئے تھے اور دوسرے جب میری ان سے لڑائی ہو گئی تھی۔ اور یہ دانت

Read more

میں بطور قاتل ہی ڈیزائن ہوا ہوں

انسانوں کو تو چھوڑ ہی دیجیئے کیونکہ ان کے لیے تو یہ زندگی محض ایک امتحان ہے اور تیاری ہے اگلے جہان کے لیے۔ اگلی دنیا میں جنت یا دوزخ ملے گی۔ اس لیے اس آرٹیکل میں انسان بحث سے باہر ہیں۔

میں بات کرنا چاہتا ہوں انسانوں کے علاوہ تمام جانداروں کی۔ خاص طور پر ان جانوروں کی جو گوشت خور ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے لیے یہ دنیا کیسی ڈیزائن کی گئی ہے۔ کیونکہ جانوروں کی تو صرف یہی دنیا ہے۔ انہیں اگلی دنیا میں نہیں جانا، جنت یا دوزخ، سزا یا جزا ان کے لیے نہیں ہے۔ کم از کم ابھی تک کسی نے اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔

Read more

مسلم لیگ نون کے صدر کا پراسرار کردار

پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں حکومت کی دوسالہ کارکردگی پر بحث جاری ہے۔ مخالفت و حمایت میں دلیل کے ساتھ مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کی طرف سے کی گئی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مضبوط اپوزیشن اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کہنے کو تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑی مضبوط اپوزیشن ہے مگر یہ صرف کہنے کی حد تک ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ نون لیگ کے صدر اس وقت عجب مخمصے میں ہیں۔ ان کا کردار پراسرار ہے۔

میں شہر اقتدار سے صحافت کی دنیا میں ابھی پاؤں گھسیٹ رہا ہوں۔ کورٹ رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ ایوان بالا کور کرتا ہوں۔ ایوان بالا میں مسلم لیگ نون کے کچھ سینیٹرز صاحبان کے نام ہیں جن میں سے اکثر 2015 ء اور کچھ 2018 ء سے جماعت کی ایوان بالا میں نمائندگی کر رہے ہیں۔ ماضی بعید کو فی الوقت چھوڑ دیں ماضی قریب کو دیکھ لیں۔ 2018 ء سے اب تک کا عرصہ مسلم لیگ نون اور اس کی قیادت کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں، عدالتوں میں مقدمے، سزائیں، جیلیں، جائیدادوں کی ضبطی، نا اہلی اور اسی نوعیت کی کیا کیا مشکلات ہیں جو شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کے صف اول کے بہت سارے رہنماؤں پر آئی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود بڑی تعداد میں مسلم لیگی اراکین اس قیامت کے بعد بھی کوئی زوردار آواز نہ اٹھا سکے۔

Read more

فیضؔ کی زندگی کے چند مخفی گوشے

آصف جیلانی نے اپنی صحافتی ز ندگی کا آغاز 1952ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی سے کیا۔ پھر وہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں چلے گئے۔ 1959ء میں ’جنگ‘ کے نامہ نگار کی حیثیت سے ان کا دلّی میں تقرر ہوا۔ وہ بیرون ملک میں کسی پاکستانی اردو اخبار کے پہلے کل وقتی نامہ نگار تھے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں وہ دلی سے گرفتار کر لئے گئے۔ انہوں نے قیدیوں کے تبادلے تک تہاڑ جیل میں قید تنہائی کاٹی۔ رہائی پر

Read more

شکیل عادل زادہ: ’’سب رنگ‘‘ کے حوالے سے

وہ شائد بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے آخری سال تھے۔ جب میں نے شکیل عادل زادہ کی تحریر پڑھی تھی۔ وہ بھی اس طرح کہ مکہ مکرمہ، جدہ اور مدینہ منورہ کے Aerial Survey اور Photo Grammetry کے ضمن میں سعودی عرب جانا پڑا۔ مکہ مکرمہ کی فضائی پٹی چھوٹے ہوائی جہاز کے لئے ہی تھی اور شہر سے دور تھی۔ برطانیہ کی ٹیم میں عیسائی بھی تھے اور حدود میں داخل نہ ہو سکتے تھے سو خیمے ہوائی

Read more

دھنک رنگ، سب رنگ

گزشتہ دنوں حسن رضا گوندل صاحب کی مرتب کردہ ایک کتاب شایع ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کہانیوں میں سے چند کا انتخاب ہے جو سب رنگ میں شایع ہوچکی ہیں۔ کہنے کو تو یہ کہانیاں مغربی کہانیوں کا ترجمہ ہیں لیکن اس قدر خوب صورت زبان اور دل نشیں انداز بیان ہے کہ ترجمے کے بجائے طبع زاد کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔ سب رنگ کا آغاز جنوری 1970 میں ہوا اور شکیل عادل زادہ کی ادارت میں جنوری 2007

Read more

ہمارے بچوں کو جینے دیا جائے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے یہ لازم ہو چکا ہے۔ کہ آپ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھیں۔ کچھ بھی ہو جائے۔ کسی سانحے کسی واقعے پہ آواز نہ اٹھائی جائے۔ ورنہ آپ کو کون کب کہاں لے جائے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ بطور پاکستان کی شہری میں بالکل چپ رہ سکتی ہوں۔ مگر میں کیا کروں۔ کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔ ماں ہوں تو اولاد کے لیے فکر مندی شاید میری رگوں میں دوڑتی ہے۔ اولاد

Read more

جندر: اختر ر ضا سلیمی کا ناول

ناول ”جندر“ ازل سے ابد تک کی کہانی ہے، جس کی ابتدا اس روز ہو چکی تھی، جب حضرت آدم علیہ السلام نے گندم کا پہلا دانہ چبایا تھا۔ یہ کہانی رو زمین پر انسان کے قدم دھرتے ہی شروع ہوئی اور روز قیامت صور پھونکے جاتے تک چلتی رہے گی۔ گندم کا پہلا دانہ کھا کر انسان نے اپنے وجود کو چکی کے دو پاٹوں بیج دے کر اپنی روح کو تار تار اور اپنے جسم پر موجود گوشت

Read more

اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جائے تو

اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جا ئے تو کیا تم لال کپڑے پہنو گی! اگر تمہارے ابا مر جائیں تو کیا تم گانے سنو گی! اگر تمہارے ابا مر جائیں تو کیا تم شادی میں جاؤ گی! اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جائے تو تم کیا مووی دیکھو گی! اگر تمہارے ابا مر جائیں تو کیا تم اپنے گھر میں دعوت کروگی! اگر تمہارے ابا کا انتقال ہو جائے تو کیا تم پکنک پر جاؤ گی! اگر تمہارے

Read more

محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات

[نومبر 1981 میں جاوید احمد (غامدی) ، ابو شعیب صفدر علی (مرحوم) اور راقم نے الاعلام کے نام سے ایک سلسلہ منشورات کا آغاز کیا۔ ستمبر 1982 کے پانچویں شمارے میں میرا یہ مضمون شائع ہوا جو اس وقت بوجوہ خاصا ہنگامہ آفریں ثابت ہوا۔ اس مضمون کی تصنیف کے محرکات پر بہت رائے زنی ہوئی تھی لیکن حقیقت بس اتنی تھی کہ رسالے کا پیٹ بھرنا مقصود تھا۔ کچھ دوستوں کی فرمائش پر وجاہت مسعود صاحب کی عنایت سے

Read more

حسینیت کی تلاش میں امام حسین ؑ کا ایک سفر

امام حسین ؑنبی پاک ﷺکے چھوٹے نواسے ہیں۔ آپؑ ہجرت نبی ﷺکے بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ نبی پاک ﷺخود بھی حضرت امام حسینؑ سے بے پناہ محبت فرماتے اور اپنی امت کو بھی امام حسین ؑسے محبت کا درس دیتے۔ آپ ﷺنے امت کی تربیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ”جس نے حسین ؑسے محبت کی گویا اس نے مجھ سے محبت کی۔ اور اجس نے حسینؑ سے بغض رکھا اس نے گویا مجھ سے بغض رکھا۔ امام حسینؑ

Read more

آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا

میں دو دہائی اور پانچ سال کا ہو گیا تھا۔ اتنی مدت گزارنے کا مطلب یہ ہوا کہ میں وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ یقیناً میں ایک ماضی کا اکلوتا مالک ہوں۔ بالکل آزاد پنچھی تھا۔ اپنی مرضی کا مالک۔ کوئی پابندی نہ قید۔ سوچا زندگی میں کوئی ہنگامہ ہونا چاہیے۔ سفر سے اچھا اور کیا کارنامہ ہو سکتا ہے؟ ابھرتی جوانی تھی۔ صحت اچھی تھی، دل میں جذبہ اور جوش تھا، گھر بار کا کوئی بوجھ نہ تھا۔

Read more

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا سامنا ہم سب کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے عزیزوں میں، جاننے والوں میں یا دوستوں میں کوئی نہ کوئی خودکشی کی ”اٹیمپ“ لازمی کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ بچ جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر انتقال کر جاتے ہیں۔ ہر خودکشی کرنے والا اپنے بعد ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر اس نے خود کشی کیوں کی؟ کیا وہ زندگی

Read more

خوابوں والی گلی کے قصے

میرے بچپن میں جب بندر اور ریچھ کا تماشا دکھانے والا مداری آتا، سپیرا اپنے سانپوں کی پٹاری لئے محلے میں داخل ہوتا تو مجھ سمیت گلی کے سب بچے اپنی مائوں سے جیب خرچ لے کر آ وارد ہوتے اور تماشا دکھانے والے کے گرد ایک حصار بنا لیتے۔ محلے کی بڑی بوڑھیاں اپنی اپنی پیڑھیوں پر بیٹھی یہ پورا منظر دیکھ رہی ہوتیں۔ بچے پلک جھپکے بغیر بندر کے آٹا گوندھنے، ریچھ کے سسرال جانے اور سانپ کے

Read more

گلوکار اخلاق احمد

دہلی میں 10 جنوری 1946 کو پیدا ہونے والے اخلاق احمد 1947 میں قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے۔ ان کے تمام تذکروں میں تاریخ پیدائش 1946 ملتی ہے لیکن لندن میں واقع ان کی قبر کے کتبے پر تاریخ پیدائش 1950 لکھی ہے۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں کراچی اسٹیج سے فنکارانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ پاکستانی فلمی دنیا کے پس پردہ گلوکاروں کی تیسری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک دہائی

Read more

سماج میں عدم برداشت کا بڑھتا رجحان

عفو و درگزر، اتحاد، صلہ رحمی، برداشت، انصاف کی فراہمی، اور صبر و تحمل ایک مضبوط معاشرے کی اکائی ہوتی ہیں۔ ان اکائیوں کے مربوط اور منظم رہنے میں ہی معاشرے کی بقا مضمر ہے۔ اگر معاشرہ ان خوبیوں سے محروم ہو تو انتہا پسندی، عدم برداشت، معاشرتی بے راہروی جیسے برائیاں جنم لیتی ہیں۔ وطن عزیز کی بات کریں تو گزشتہ چند دہائیوں سے پارلیمنٹ کے اعلی ایوانوں سے جھونپڑیوں تک عدم برداشت بہتان تراشیاں انتہا پسندی جیسی معاشرتی

Read more

مستنتڑ ہسین تسڑاڑ

اس تحریر کا عنوان پڑھنے میں یقیناً آپ کو تھوڑی سی مشکل پیش آئی ہوگی، روانی سے نہیں پڑھا جا رہا ہو گا۔ غالباً آپ سمجھ رہے ہیں یہ فارسی کا کوئی عنوان ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ پہلی بار یہ عنوان جب پڑھا جاتا تو ایسے ہی مشکل درپیش آتی ہے۔ لیکن جب اس میں چھپی پرتیں ظاہر ہونا شروع ہوتی، تو ہمارے لئے یہ عنوان بھی آسان ہو جاتا، ہم اسی عنوان سے دنیا بھی گھوم لیتے،

Read more

صاحب سیف و قلم۔ حضرت علی المرتضی

ہزاروں سال کے مسلسل تجربوں کے بعد یہ کلیہ قائم کیا گیا ہے کہ علم اور شجاعت کبھی ایک ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جس ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے وہ قلم کو اپنی انگلیوں کی گرفت میں نہیں لا سکتا اور جس ہاتھ میں قلم ہوتا ہے وہ تلوار نہیں اٹھا سکتا لیکن انسانی تاریخ میں حضرت علی مرتضیٰ کا ہاتھ وہ تنہا اور جامع اضداد ہاتھ ہے جو تلوار اور قلم دونوں کو مساوی روانی سے چلا

Read more

پناہ مانگتا ہوں بلوچ ماں کے سوال سے

کبھی بیٹے کو غلط اور برا نہیں کہتی۔ ماں کہتی ہے، میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔ اسے دوستوں نے گمراہ کیا ہے، دل کا بہت اچھا ہے۔ میرا بیٹا نیک ہے۔ میرا بیٹا مجرم نہیں ہے۔ میرے بیٹے کو برا نہیں کہو۔۔۔۔ اگر بیٹے کو تکلیف دی جائے  تو ماں بھوکی شیرنی کی طرح لپکتی ہے ۔۔۔ دنیا میں کوئی بندوق ایسی نہیں بنی جو ماں کو خوف دلا سکے۔ کوئی بم ایسا نہیں بنا جس سے ڈر کے ماں بچے کے گرد اپنی شفقت کی بانہہ ہٹا لے

ماں بیٹوں کی سب سے بڑی وکیل ہے۔

Read more

تمہارے نام آخری خط

میرے دوست!

مجھے یقین ہے کہ تم بالکل خیریت سے ہو۔ تمہاری خیریت پتہ چلنا کون سا مشکل کام ہے۔ دنیا گول ہے۔ اور اسی گول دنیا کے چھوٹے سے سرکل میں ہم چند لوگ ایک دوسرے جڑے ہیں۔ ایک دوسرے کی خیر خبر سے کون ناواقف رہ سکتا ہے۔ جب میں نے پہلے تمہارے نام خط لکھا۔ میں بہت سی باتوں سے انجان تھی۔ سچ کہتے ہیں۔ کبھی بھی انسان کو مکمل پرکھے بنا اس کے متعلق کوئی رائے نہیں رکھنی چاہیے۔ بس یہاں آ کے میں مار کھا جاتی ہوں۔ مجھے سب اپنے جیسے دکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جو چند لوگ ہیں۔ ہم شاید عام لوگوں سے مختلف ہیں۔ ہم صاف دل و مخلص لوگ ہیں۔

Read more

بھگتی تحریک اور بابا گرو نانک دیو جی

بابا گرونانک غالباً واحد رہ نما تھے جنہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بھگتی تحریک کے خیالات کو ایک مضبوط، جامع اور پائیدار شکل میں ترتیب دیا۔ ان کی منفرد روحانی، سماجی اور سیاسی سوچ نے بھگتی کے پیغام میں موجو مساوات، محبت، اچھائی کو عوام کے سامنے قابل قبول انداز میں پیش کیا۔ جس وقت پروٹسٹنٹ لوگ اچھے اعمال کے مقابلے میں عقیدے پر زیادہ زور دے رہے تھے گرونانک اچھائی اور نیکی کے درس دے رہے تھے۔ تمام

Read more

بے حسی شرط ہے جینے کے لئے!

سوشل میڈیا سے خبر ملی کہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں ایک جواں سال خاتون نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ویسے تو خودکشی کی خبر ہی دل دہلانے کے لئے کافی ہوتی مگر سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس نازک اندام لڑکی ڈاکٹر ماہا شاہ کی زندگی سے بھرپور تصاویر دیکھ کر تو کلیجا حلق کو آن پہنچا کہ اتنی حسین زندگی کا انجا م بھی خودکشی ہو سکتا ہے؟ حالیہ دنوں میں خودکشی کے واقعات میں اچانک سے بہت تیزی آ گئی ہے۔

تھر کے صحرا سے کراچی کے کنکریٹ جنگلوں تک خودکشیوں کی سلگتی ہوئی آگ میں اس اچانک شدت پر ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ آخر ایسے کیا عوامل ہیں جو لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر دیں! خودکشی کے بڑھتے ہوئے ان واقعات کے پیچھے ضرور کچھ اسباب ہوں گے ، کچھ محرکات ہوں گے جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ دنیا کتنی حسین ہے۔ یہ زندگی تو محبت کرنے کے لائق ہے۔ پھر کیوں یہ لوگ اس دلکش و دلنشین دنیا کی رنگینیوں کو بے رنگ سمجھ کر زندگی کی رومانیت سے بدظن ہو رہے ہیں؟

Read more

چین میں شادیاں اور بڑھاپے میں طلاقیں

چین کے پرانے جاگیرداری معاشرہ میں والدین اپنے بچوں کی شادیاں طے کرتے تھے اور اگر کوئی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود کنواری رہتی تھی تو والدین خاص طور پر ماں احساس جرم میں مبتلا ہو جاتی تھی اور جب تک اپنی لڑکی کے لئے بر نہیں ڈھونڈ لیتی تھی، اس کا کھانا پینا حرام ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی اپنے بچوں کی شادیوں کا فیصلہ کرنا والدین کا نا قابل تنسیخ حق سمجھا جاتا تھا اور اکثر وہ اولاد کی مرضی معلوم کیے بغیر من مانے فیصلے بھی کیا کرتے تھے۔

اگر اولاد اپنی من مانی کرتی تھی تو اسے ناخلف قرار دیا جاتا تھا۔ بہر حال آزادی کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور نئے عائلی قوانین میں فریقین کواپنے شریک حیات کے براہ راست انتخاب کی آزادی حاصل ہے اور اب والدین کو اپنے بچوں کی شادی کے فیصلے کا مکمل اختیار نہیں رہا۔ والدین کی اکثریت مشاورتی کردار ادا کرتی ہے گو کہ کچھ دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں ابھی بھی ایسا نہیں ہوتا۔

Read more

مفروضہ قوم: مسئلہ فلسطین کا حل

میثاق مدینہ 622 ء میں خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ کی سربراہی میں ریاست مدینہ اور یہود قبائل کے مابین طے پایا۔ بادی النظر میں یہ معاہدہ مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا مگر یہ معاہدہ طویل مدت میں مسلمانوں حق میں بہترین ثابت ہوا۔ خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ نے طویل مدت کی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے یہودیوں سے معاہدہ فرمایا اور دنیا نے دیکھا کہ بادی النظر میں نقصان نظر آنے والا معاہدہ مسلمانوں اور ریاست مدینہ کا بہترین معاہدہ طے پایا۔ آج جدید دنیا کے مسلمانوں کو بھی میثاق مدینہ کے طرز کے معاہدہ کی ضرورت ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے معاملہ پر اسی طرز کے معاہدہ کی انتہائی ضرورت ہے۔

حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو امریکہ کی سربراہی میں تسلیم کرتے ہوئے ایک ”تاریخی ڈیل“ کی مگر فلسطینی عوام اور مسلمانوں بالخصوص پاکستانی اور ایرانی عوام میں بے چینی کا ایک ماحول ہے۔ متحدہ عرب امارات پہلی خلیجی اور تیسری عرب ریاست ہے جس نے اسرائیل کو بحیثیت ریاست تسلیم کیا۔ اس سے قبل 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ یہ تسلیم کوئی ایک دن کی ڈپلومیسی کا نتیجہ نہیں ہے عرب ممالک اور اسرائیل کا ایک دوسرے کے ساتھ 1948 سے جنگی تعلق جاری ہے۔ یہاں تک متحدہ عرب امارات کے پہلے شاہ زاہد بن سلطان النہیان نے اسرائیل کو دشمن قرار دیا مگر آج اس کے وجود کو تسلیم کر لیا۔

Read more

مرے ہوئے شوہر کا پرس

امی کے چہرے پر بکھرے ہوئے غصے اور نفرت نے ان کی اداسی اور غم کی کیفیت کو مکمل طو پر زائل کر دیا تھا۔ یہ میرے لیے عجیب وغریب تجربہ تھا۔ گزشتہ ایک سال سے میں انہیں مسلسل پریشان، اداس اور مغموم دیکھ رہی تھی۔ ہم دونوں بہنوں کو اندیشہ ہوگیا تھا کہ خدانخواستہ انہیں کچھ ہونہ جائے، ہر وقت روتے رہنا۔ آنسوؤں کی جھڑی تھی جو بہتی ہی رہتی تھی۔ پانی کا سمندر تھا جو ابلتا ہی رہتا

Read more

سید نظر زیدی کی یاد میں

جن ادیبوں اور شاعروں نے بچوں کے لئے ادب تخلیق کیا، ان میں سید نظر زیدی کا نام خاصا نمایاں ہے، تاہم ایک زمانے سے ان کا ذکر نہیں ہوا، جس کے سبب ان کا نام اور کام عام لوگوں اور آج کے نئے لکھنے پڑھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ سید نظر زیدی ایک ادیب، صحافی، شاعر اور ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ اپریل 1917 میں بجنور ( بھارت ) میں پیدا

Read more

کراچی: ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

ساٹھ کی دیہائی میں کراچی پاکستان کا دارلخلافہ ہونے کے علاوہ سارے مشرق وسطی اور مشرق بعید میں بیروت کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت اور ماڈرن شہر تھا۔ جدید ہوٹلوں کی کثرت تھی۔ جدید ترین سینما ہاؤسز تھے۔ تمام ملکوں کی ائرلائنز کی پروازیں کراچی میں اترتی تھیں اور ان سب ائرلائنز کے دفاتر بھی کراچی میں موجود تھے۔ ساٹھ کی دیہائی میں تو پاکستان کا واحد پاسپورٹ آفس بھی کراچی میں ہی ہوا کرتا تھا اور انٹرنیشنل ہوائی

Read more

فلسطینیوں کے گھائل کرتے لفظ

کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔ یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔ رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔ بہتیرا ہڑپ کر بیٹھے ہو فلسطین کو، مزید آگے بڑھو گے تو اچھا نہ ہوگا۔ مگر یہ اپنے؟ متحدہ عرب امارات اور اس کے حالی حوالی سب، کچھ اندر خانے ملے ہوئے اور کچھ اب کھل کھلا کر

Read more

ظلم اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو

وہ دھرتی جس کی خاطر ہمارے اجداد نے جان ومال اور جائیدادوں کی قربانی دی اور پھر بھی خوش تھے کہ ہم نے ا پنا ایک ملک پالیا ہے۔ اور جس پر آتے ہی انہوں نے اپنی جبینوں سے شکرانے کے سجدے ثبت کیے تھے۔ آج اس دھرتی ماں کو ہمارے لیے سوتیلی ہی نہیں بلکہ کالی ماتا بنا دیا گیا ہے جو ہر وقت ہمارا خون پینے پر تیار ہے۔ جن بیٹوں اور بھائیوں کے شانہ بشانہ ہم نے

Read more

اشفاق احمد کی "ماما سیمیں” اور ہمارے بچے

اسی کی دہائی میں نشر ہونے والا ڈرامہ "ماما سیمیں” دیکھا تو بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے نقطۂ نظر کو جانچنے کے لئے تھا لیکن احساس کا کوئی لمحہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پہ مجبور کر گیا۔ "کیا ہمارے بچوں نے بھی یہی سوچا ہو گا؟ اسی طرح ماما طاہرہ کو برا بھلا کہا ہو گا جب وہ کبھی ہسپتال، کبھی سہیلیوں سے ملاقات اور کبھی دوسرے ملکوں کو روانہ ہو جایا کرتی تھیں”۔ بیسویں صدی غروب ہونے

Read more

اسلام آباد کا چڑیا گھر اور بلوچستان کا مقتل

جب سے تصویر دیکھی ہے ایک ماں اپنے بیٹے کی لاش سامنے رکھے ہاتھ اٹھا کر کرب اور رنج و الم کی تصویر بنی آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے، مجھے گمان ہوا کہ شاید آسماں اس شکوے کی تاب نہ لا سکے اور پھٹ پڑے، اذیت، رنج، حسرت، الم اور بے بسی اس ماں کے چہرے پر جم سی گئی ہے۔ اس ماں کے چہرے پر جو وحشت، جو ملال ہے اس کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے

Read more

اپنی نرگسیت کو محبت کا نام دینے والوں سے دور رہیں

ایک بار نہیں، یہ مکالمہ کئی بار ہوا۔ کب اور کہاں، اس کا ذکر ضروری نہیں۔ کن دو کرداروں کے درمیان اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جنس کا تعین بھی غیر ضروری ہے۔ البتہ قاری اگر ایسے مسئلے سے دوچار ہے تو اپنی اسے الجھن کا حل ضرور مل سکتا ہے۔ اب ہمارا رابطہ نہیں ہوتا۔ میں نے بہت عرصہ خود اس سے تعلق نبھانے کی کوشش کی، مگر اب۔ مجھے بار بار اس کی طرف بڑھنا اچھا

Read more

مسلم لیگ (نون) اور پیپلزپارٹی کا اپنے گناہوں کا کفارہ

شیکسپیئر کا شہرہ آفاق کردار ہملٹ ایک انتہائی ڈرامائی مقام پر جھلاہٹ میں سوال اٹھاتا ہے:”Where is thy Blush”سادہ لفظوں میں وہ یہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ چہرے پر شرمندگی کے باعث نمایاں ہوئی سرخی کہاں گئی۔ ایسی ہی سرخی میں بدھ کی شام مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے معزز اراکین سینٹ کے چہروں پر تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔مجھے ہرگز نظر نہیں آئی۔ شاید دور کی نظر مزید خراب ہوگئی ہے۔عینک کے شیشے بدلوانے

Read more

نوشابہ کی ڈائری: الطاف حسین کو پیرصاحب کہنے لگے ہیں

20 جولائی 1989 ء منگنی کیا ہوئی لگتا ہے زندگی ہی نئی نئی سی ہوگئی ہے۔ پتا نہیں انگلی میں پہنی انگوٹھی زیادہ چمکتی ہے یا اسے دیکھ کر میری آنکھیں، ہر لمحہ اس انگوٹھی کے سنہرے پن میں رنگ گیا ہے۔ بھابھی نے جب ذیشان کی تصویر دکھائی تو سچی بات ہے دل پورے زور سے دھڑکا تھا، مگر زبان سے یہی کہنا پڑا تھا کہ ”نہیں نہیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی“ اپنی بات تو نبھانا تھی نا،

Read more

کاش حیات ہم میں زندہ رہے

ہمیں موت کا ادراک نہیں کہ اس کی وحشت دراصل ہوتی کیا ہے۔ موت کا ادراک ہوگا بھی کیسے جب اس کا مزہ چکھا نہیں اور جب چکھ لیا تو ادراک کی وقعت کیا رہ جائے گی؟ موت کا اندازہ شاید مر کر ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کا ستم ہی یہی ہے کہ ادراک کے باوجود کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ زندگی کی اصل قیمت تو مر کر ہی معلوم ہوتی ہوگی۔ آپ ریاستی طاقت اور حب

Read more

سر باری اور کنٹین کے عقب میں سایہ

کمرہ امتحان میں اگر مکمل نہیں تو کسی حد تک خاموشی ضرور تھی۔ سر باری گاہے بگاہے طلباء کے پرچوں پر نگاہ ڈالتے جا رہے تھے۔ ویسے بھی یہ کوئی بہت بڑے بچے نہیں تھے۔ یہ دوسری جماعت کے ننھے فرشتے تھے۔ جن کا اس روز حساب کا پرچہ تھا۔ حساب میں یا تو بچے بہت کمزور ہوتے ہیں یا پھر ان کی دلچسپی کا محور صرف حساب ہی ہوتا ہے۔ اس جماعت کے بچوں کی اکثریت حساب سے سخت

Read more

سچا سعادت، جھوٹی طاہرہ

شادی کو تین سال ہی ہوئے تھے۔ ضرورت تو نہیں تھی لیکن ماں کے اصرار پر سعادت نے اپنا اور طاہرہ کا چیک اپ کروا لیا تھا۔ رپورٹ آنے کے بعد سعادت نے طاہرہ کو منع کر رکھا تھا، کسی کو نہ بتائے کہ بے اولادی کا سبب سعادت ہے۔ طاہرہ اس کی محبت میں ایک ہاتھ آگے بڑھ گئی۔ سعادت کی ماں نے جب رپورٹ کی بابت پوچھا تو طاہرہ نے بتایا کہ سعادت بالکل ٹھیک ہے جب کہ

Read more

یا اللہ، لاہور کا مدثر جلد گھر واپس آ جائے

گزشتہ سال آج کے دن لاہور کا صحافی مدثر نارو کاغان میں دریا کی سیر کو گیا اور آج تک واپس نہیں آیا۔ خاندان والوں کو پہلے لگا کہ شاید پیر پھسل کر دریا میں گر گیا ہو۔

وہاں دریا بہت تیزی سے بہتا ہے اور ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ دریا چھان مارا لیکن کہیں نام و نشان نہیں ملا۔ دل میں یہ خیال بھی آیا کہ وہ بے روزگار تھا، شاید زندگی سے مایوس ہو کر جان دے دی ہو۔

Read more

دو پاٹن کے بیچ

میرے بیٹے علی نے ہمیشہ کی طرح اپنا سکول بیگ شاپ کے ایک کونے میں پٹخا اور سٹول کھینچ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے بھی اپنا معمول کا سوال دہرایا۔  ’’کھانا کھا لیا تھا؟‘‘ حقیقت یہی ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے کھانے پینے کے بارے میں ہمیشہ متجسس اور فکرمند رہتی ہے۔ چاہے بچہ جتنا مرضی صحت مند اور ہٹا کٹا ہی کیوں نہ ہو؟ اب بچہ رہا بھی نہ ہو مگر اسے ہمیشہ یہی لگتا

Read more

محبت کرنے والے دو آدمی

دِن کب کا اپنا بستر لپیٹ کر سرمئی شام میں ڈھل چکا تھا،شام ،رات کا رُوپ اُوڑھ چکی تھی،ہم کھانے کا انتظار کھینچ رہے تھے،دیسی مرُغ گلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔دیہاتی علاقہ تھا،شہر سے دُور۔ککر کی سہولت موجود نہ تھی۔کچن سے آواز آئی ابھی گوشت گلنے میں وقت لگے گا،وہاں پر موجود سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،سب کے چہروں سے بھوک جھانک رہی تھی۔ مَیں نے وقت گزارنے کے لیے میزبان سے اُس کے گاؤں

Read more

بانو قدسیہ پتی بھگتی، اشفاق احمد پتنی بھگت کیوں نہیں؟

نیلم احمد بشیر نے پنڈورا باکس کھولاہے یا ایک ایسی پٹاری کا ڈھکن اٹھا دیا ہے جس میں برسہا برس کے خوابیدہ سوالات کلبلا کلبلا کے پھن پھیلا رہے ہیں۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی تحریروں کی آئیڈیل عورت! کون ہے وہ آخر؟ بے جان، گونگی، ستی ساوتری، سر جھکائے، نگاہیں نیچی رکھے، اپنی خواہشات سے بے نیاز، ممتا کے شیرے سے لتھڑی، پتی ورتا، جی حضوری میں باکمال، لب پہ قفل لگائے، قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار،

Read more

بانو قدسیہ، راجہ گدھ اور مقدس دیوانگی

بانو قدسیہ کا ’راجہ گدھ‘ ایک ایسا فلسفیانہ ناول ہے جو تخلیقی طور پر بہت طاقتور لیکن نظریاتی طور پر بہت کمزور ہے۔ وہ انسانوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا روحانی حل پیش کرتا ہے۔ جب ہم ’راجہ گدھ‘ کا تخلیقی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں بہت سی ادبی اور فنی خوبیاں موجود ہیں جو اسے باقی ناولوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ’راجہ گدھ‘ کی پہلی خوبی اس کی READABILITY ہے۔ میں نے

Read more

استاد جی… سلیم اختر

بھائی! ہر کسی کو اپنا کام خود ہی کرنا پڑتا ہے، دوسرے کے کام میں ٹانگ پھنسانے والے تنگ ہوتے ہیں، اس لیے دنیا کا سب سے مشکل کام اپنے کام سے کام رکھنا ہے”۔ یہ وہ جملے تھے جنہیں سننے کے بعد میں نے پہلے اس شخص کو بڑے غور سے دیکھا وہ ناک پر ذرا آگے کھسکا کر چشمہ ٹکائے، خبروں کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف تھا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے پیکٹ کو مخصوص انداز

Read more

جولائی میں دھلائی

دسمبر میں اٹھنے والے درد بارے ہم نے کچھ عرصہ پہلے روشنی ڈالی تھی۔ جس میں ان تکالیف کا کماحقہ جائزہ لیا گیا تھا جو دسمبر میں دردیلی شاعری اور رومانٹک ناسٹلجیا کا باعث بنتی ہیں۔ یہ وجوہات اگر بالکل درست نہ بھی ہوں تو پھر بھی کسی نہ کسی درجے پر ان کو حق بجانب سمجھا جا سکتا ہے۔ دسمبر تو تک بات قابل برداشت تھی لیکن ہم نے کچھ ایسی شاعری بھی دیکھی جس میں جولائی کو بھی

Read more

شفیق الرحمٰن اور کرکٹ

شفیق الرحمٰن اردو کے ممتازمزاح نگار ہیں، تحریر میں شگفتگی کسے کہتے ہیں ، یہ جاننا ہو تو ان کی کتابیں پڑھنی چاہییں۔ مایہ ناز فکشن نگار نیر مسعود نے اپنے والد اور معروف محقق سید مسعود حسن رضوی ادیب کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنے موضوع سے باہر کی چیزوں سے اعتنا نہ کرتے ، ایک دفعہ مولوی اختر علی تلہری نے ان سے بہتیرا کہا کہ ابن صفی کی جاسوسی دنیا کا کم سے کم ایک

Read more

عصمت آپا

(21 اگست کو اردو ادب کی پہلی جون آف آرک محترمہ عصمت چغتائی کا 109واں یوم پیدائش ہے۔) عقیل عباس جعفری نے جب مجھ سے عصمت چغتائی کے حوالے سے کچھ لکھنے کو کہا تو میں انکار نہ کرسکی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نثر میرا میدان نہیں ہے، میں نے ان سے وعدہ کرلیا۔ میں قلم لے کر بیٹھی تو عصمت آپا جیسے میرے سامنے آبیٹھیں۔ محسوس ہوا کہ آنکھیں سکیڑے مسکرا رہی ہیں۔ وہی گہری معنی خیز مسکراہٹ۔

Read more

"پہل اس نے کی تھی” کیوں لکھا گیا؟

کسی کی نثری و شعری تخلیق کو علمی ادبی تناظر سے دیکھنا پڑھنا اور اس کی نئی جہتیں جو پڑھتے محسوس ہوں اسے دیگر قارئین کے سامنے لانا گویا کتاب لکھنے سے زیادہ کٹھن کام ہے اور ایسے امور کو ماہر نقاد اور سینئر اہل قلم ہی سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن میں آج آپ کی بصارتوں کی نظر ایک منفرد اور عام اسلوب و موضوع سے ہٹ کر لکھے گئے ناول ”پہل اس نے کی تھی“ پر اپنا نقطہ

Read more

کیا کراچی کو کسی خضر کی تلاش ہے؟

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں کراچی کے ایک قدیم علاقے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ کراچی نے میرے اندر اک نیا جنم لیا ہے۔ یہ میری جنم بھومی ہی نہیں بلکہ میرا وہ استاد ہے جس نے خضر راہ سے مجھے روشناس کرایا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ تم جس مشنری اسکول کا حصہ بنے دراصل وہ جناح پونجا کے بیٹے کا اسکول ہے لیکن سرکاری حاشیہ بردار وثیقہ نویس ایک قائداعظم بنانے کے لئے اس اسکول

Read more

راگ شنکرا اور جنم دن

ضابطوں سے جدا ہوکر دل توڑنا اور دل جوڑنا ہمارے ایڈیٹر وجاہت مسعود کو ہم سے زیادہ آتا ہے اور ہمیں بہت تھوڑا۔ ہم دونوں سے زیادہ استاد ولایت خان کو آتا تھا۔ دنیائے موسیقی میں تو میر کا درجہ آپ روی شنکر جی کو دیں اور غالب کا استاد ولایت کو۔ ولایت حسین خان کی مینڈھ بہت اچھی ہوتی تھی۔ شعلہ سا لپک جائے والی مگر راگ بہاگ، باگیشری، پیلو، دیش، کیدارا، جے جے ونتی جو ٹھمری انگ کے

Read more

دل ناداں کی نئی نادانی، جب بیس منٹ میں تین مرتبہ دھکا سٹارٹ ہوا

اسی سالہ یہ شیخ لئیق احمد۔ برامپٹن کینیڈا چودہ اگست ناشتہ کے بعد گھر کے دفتر آ گیا۔ خاصا بہتر محسوس کر رہا تھا۔ پچھلے جمعہ ہی سنی بروک ہسپتال میں دل کی اکتالیس سال پر محیط ( جس عمر میں ہمارے اکثر جوان دوسری محبت دوسری شادی وغیرہ کی نادانی کرنے کی سوچتے ہیں ) نادانیوں ( کہ ہمیں پہلا ہارٹ اٹیک ہوا انیس سو اناسی میں ) نے دل کے ساتھ دو ہزار گیارہ میں اسی ہسپتال میں ایک پاسبان دل پیوند کیا گیا تھا یعنی پیس میکر۔ آئی سی ڈی۔ اب اس کی بیٹری کمزور ہونے پر دوسری مرتبہ نئی بہت جدید تیرہ سال مدت والی بیٹری والے۔ سی۔ آر۔ ٹی۔ ڈی نے ڈیوٹی سنبھال لی تھی۔

آئی پیڈ پر پاکستان کی چھ بجے شام کی خبروں کا بلٹن دیکھتے ہلکا سا چکر محسوس ہوا۔ چند منٹ بعد دوبارہ کچھ لگا۔ اب میں حسب معمول قرآن مجید پڑھ رہا تھا تو پھر کچھ زیادہ محسوس ہوا۔ قرآن مجید الماری میں رکھتے جب واقع کچھ گڑبڑ لگی تو بیگم کو آواز دی اور آکے صوفہ پہ لیٹ گیا۔ اچانک سرر سرر کرتی دل کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہوئی اور ابھی بیٹھا تھا کہ دل کے اندر یوں دھماکہ ہوا کہ مجھے لگا جیسے بجلی کا ٹرانسفرمر پھٹا ہو اور آنکھوں میں چکا چوند ہوئی ہو۔

Read more

دو کھڑکیوں والا نیشنل کا اصلی ٹیپ ریکارڈر

دریاؤں کے کنارے تہذیبوں کے پالن ہار ہوتے ہیں ان کی فطرت میں دین ہے، لین کا کوئی تصور نہیں۔ شیرو اپنی یہی دریائی فطرت لے کر روزانہ گدائی کے لئے شہر آتا تھا۔ اس نے گلی گلی مانگنے کی بجائے اپنا ایک ہی ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ پرانے کیتھولک چرچ کے پچھواڑے میں جانی میوزک ہاؤس۔ وہ جاوید جانی کا یہ ہاؤس کھلنے سے پہلے ہی خدا کے گھر کی دیوار سے پشت لگا کے بیٹھ جاتا۔ جو دے

Read more

ہائے یہ بین کرتی مائیں مر کیوں نہیں جاتیں

بچپن میں ایک بار میرے گھر کے کونے پر ایک بلی اپنے پیدا ہوئے بچوں کے ساتھ دبکی رہتی تھی پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی جب وہ ذرا ادھر ادھر ہوئی اس میں سے ایک بہت پیارا والا بلی کا بچہ میں اٹھا کر گھر لے آئی۔

اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں اس کو میں نے گھر کے اسٹور میں چھپا دیا تھا۔ چھوٹا سا بچہ آواز بھی نہیں نکل رہی تھی اس کی لیکن کچھ دیر میں ہی بلی میرے گھر کے گیٹ پر پاگلوں جیسے چکر کاٹ رہی تھی۔ اس کی میاؤں میاؤں سن کر میری دادی گیٹ پر اس بلی کو دیکھنے آئیں اور مجھ سے پوچھا اس نے تو ابھی ابھی بچے دیے ہیں یہ یہاں کیوں تڑپ رہی ہے؟

میں نے ڈرتے ڈرتے ان کو بتا دیا کہ اس کا ایک بچہ میں لائی ہوں اسٹور میں ہے۔ دادی نے مجھے ایک نظر دیکھا اور کہا جاؤ اس کا بچہ لاؤ میں چپ چاپ اسٹور سے وہ چھوٹا سا بچہ لے کر گیٹ پر آ گئی۔

آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں کہیں ٹھہر سا گیا ہے جب بلی اپنے بچے کو منہ میں دباکر بھاگی تھی اور آج بھی دادی کی بات مجھے یاد آتی ہے ماں ہے وہ کیا ہوا اگر جانور ہے۔ خدا کسی ماں کو اس کی اولاد کے چھن جانے کا غم نہ دے آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔

Read more

شمالی علاقوں میں پولو کا کھیل

پولو، بہادر گھڑ سواروں، مشاق نشانہ بازوں ( پولو کی چھڑی سے گیند کو ہٹ کرنا ) اور خطرات میں گھر کر یکسوئی قائم رکھنے والوں کا کھیل ہے۔ تئیس گھنٹے کی تیاری ایک گھنٹہ دورانیہ کا کھیل۔ گھوڑے میں بہت صبر، چابک دستی اور فرمانبرداری ہونی چاہیے ورنہ گھڑ سوار کی عزت کا جنازہ بھرے میدان میں نکل جاتا ہے۔ اطاعت پیدا کرنے کے لئے پورا گھر اس گھوڑے کے لاڈ اٹھاتا ہے۔ چارہ کھانے سے لے کر کنگھی پٹی تک کہ جاتی ہے اور کھلاڑی کے سوا سب گھر والے گھوڑے کی خاطر مدارات کرتے ہیں۔

کھاڑی بھی خاطر کرتا ہے لیکن گھوڑے کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ جب مالک سوار ہو گا تو یقیناً کوئی معرکہ مارنے جائے گا۔ عموماً میچ سے پہلے جب گھوڑا مالک کو دیکھتا ہے تو بھاگنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور گھر والے اسے پکڑ کر لاتے ہیں تا کہ مالک سواری کر سکے۔ فرمانبرداری سکھانے کے لئے مالک لگام پکڑ کر صبح صبح گھوڑے کو دور تک پیدل چلاتا ہے اور اشارے سے لمبے سانس دلواتا ہے۔ یوں گھوڑا فاضل مادوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے اور مالک کے اشاروں کو بھی سمجھتا ہے۔

Read more

ہمارے آثار قدیمہ اور مستقبل

اٹھارہویں صدی کے مشہور فراسنسیسی لکھاری گسٹاؤ فلابرٹ نے اپنے ساتھی ماری صوفی لایالور کو ایک خط میں مطالعہ کرنے کا گر کچھ اس طرح سکھایا : ”تمہیں صرف بچوں کی طرح اپنے آپ کو خوش کرنے کے لئے یا بڑوں کی طرح اپنے آپ کو آگاہ رکھنے کے لئے مطالعہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مطالعہ کرو جینے کے لئے“ ۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے وہاں ہر ایک بندے کو یہ

Read more

آٹزم میں مبتلا بچے کی والدہ سے گفتگو

ہم نے مسز شازیہ سلام سے ان کے بیٹے کے متعلق طویل گفتگو کی جو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا ہے۔ مسز شازیہ سلام کی عمر 45 سال ہے اور ان کی تین اولادیں ہیں۔ طارق ان  کی دوسرے نمبر کی اولاد ہے کہ جن کی تشخیص تین برس کی عمر میں ہوئی۔ شازیہ سلام کے دوسرے دو بچے نارمل ذہنی استعداد کے حامل ہیں۔ شازیہ سلام اور ان کے میاں عامر سلام کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دونوں

Read more

بی آر ٹی پشاور کا سفر

اپنے مقررہ میعاد سے کافی تاخیر اور موعودہ خرچ سے خاصی زیادہ رقم خرچ کرنے اور طویل انتظار کے بعد بالآخر بی آر ٹی کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

اس کے افتتاح کے موقع پر تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس بات کا اقرار کیا کہ بی آر ٹی نہ بنانے کی میری بات غلط تھی اور سابق وزیراعلی پرویز خٹک کا اس کو بنانے پر اصرار درست تھا۔ کہا جا رہا ہے سیاسی فائدے اور مزید تاخیر کی بدنامی سے بچنے کے لیے منصوبے کی تکمیل سے پہلے ہی اس پر سروس شروع کردی گئی ہے، اس کے ڈیزائن میں بنیادی خامیاں ہیں، یہ جلد خراب ہو جائے گی اور یہ خزانے پر بوجھ بن جائے گی۔

Read more

رضیہ کیسے بنتی ہے؟

اس کی زندگی مسلسل کروٹوں کا شکار تھی ہر بار ایک نئی کروٹ اس کی زندگی تبدیل کر دیتی یہ مسئلہ اس کے ساتھ بچپن سے چلا آ رہا تھا جب حوا خواب کی دنیا میں کچھ نیا اور من چاہا پالینے کے قریب ہوتی تو کروٹ ہی وہ عمل ہوتا جس سے وہ خواب میں من چاہا پانے کی بجائے حقیقت کی دنیا میں خالی ہاتھ واپس لوٹ آتی کروٹ کا یہ پہلا احساس اسے انتہائی تلخ معلوم ہوا

اسے ہر بار من چاہی چیز ایک کروٹ کی دوری پر کھڑی نظر آتی۔

Read more

فیصلے کی گھڑی

انڈیا اور امریکہ کی بڑھتی قربت کے بیچ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ، عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جگری یاری، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی موسیقی انہی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

عورت کے معاملے میں دکھتی رگ

عورت سو سال سے زائد عرصے سے اپنی بقا، اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔ ان حقوق کو حاصل کرنے کے لیے جو پہلے سے ہی اس کے ہیں لیکن ان کی ادائیگی میں بہت کمیاں ہیں۔ لیکن اب امید نظر آتی ہے کہ کم از کم این جیو اوز اور ایلیٹ کلاس کی کچھ بگڑی اور سازشی خواتین (معافی چاہتی ہوں پر جو سچ ہے ) کو نکال کر خواتین کی کافی تعداد ہے جو اپنے حقوق کے

Read more