لوئیجی پیراندیلو کا افسانہ: مرتبان

افسانہ: لوئیجی پیراندیلو۔ مترجم: جاوید بسام۔ زیتون کی فصل کے لیے وہ سال اچھا رہا تھا۔ فارم کے سب درخت پکے پھلوں سے لد گئے۔ حالاں کہ پچھلے سال دھند نے ان کے پھولوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ زرافہ کے پرائموسول میں واقع فارم لیکوٹ پر زیتون کے کافی درخت تھے۔ اس نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ تہہ خانے میں رکھے پانچ پرانے مرتبان نئی فصل سے کشید ہونے والے تیل کو رکھنے میں ناکافی ہوں گے۔

Read more

میرا باس

جنوں پریوں کا گانا (4) ’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص) ’استاد سلامت

Read more

پابلو نیرودا کی دوسری موت

مصنف: مارسیلا میچکوفسکی، مترجم فرقان علی خان اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ چلی جیسا ملک اپنی حالیہ تاریخ کے لحاظ سے گہرا پولرائزڈ ہے اور اپنے ممتاز شاعر پابلو نیرودا کی مطابقت پر بھی جنگ میں ہے۔ دسمبر میں، فوجی بغاوت کے پچاس سال بعد جو جنرل کو لایا آگسٹو پنوشے اقتدار میں آنے کے بعد ، چلی کے باشندوں نے آمر کی حکومت کے ذریعے اختیار کیے گئے بھاری ترمیم شدہ آئین کو تبدیل کرنے

Read more

زندگی کا ٹوٹا پل(افسانہ)

کڑکڑاتی دھوپ سر پر تھی۔ پسینے سے شرابور، خالی پیٹ شیزا کا چلنا دوبھر تھا۔ دو دن سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس حالت میں دو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے کالج جانا آسان نہ تھا۔ پیٹ میں بھوک کی وجہ سے انتڑیوں سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی نا تجربہ کار سازندہ سر نکالنے کی ناکام کوشش میں ہو۔ بے ساختہ بولی: ”کیا کروں چلا نہیں جا رہا۔ گھر سے کھانا تو میں

Read more

حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو ”مابعد جدید مطالعہ ایک تعارف

ڈاکٹر نعیمہ بی بی کی تحریر کردہ کتاب ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ کا مابعد جدید مطالعہ، اردو شعر و ادب میں فکشن کا تنقیدی سرمایہ اور تجزیاتی مطالعہ نہ صرف یہ کہ اس کی فکری زرخیزی کو ابھارتا ہے بلکہ تنقید میں وسعت اور ہمہ گیری بھی پیدا کرتا ہے۔ مصنفہ کا رجحان مابعد جدید فکشن اور تکنیک کے مباحث کی طرف رہا ہے، مصنفہ کو اردو ناول میں تخصص حاصل ہے اور وہ مابعد جدید

Read more

مزاح اور ماحولیات

”ماحولیات“ سے کیا مراد ہے؟ اپنے اس سوال کی سادگی پر پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون ”ہوسٹل میں پڑنا“ یاد آ گیا ہے جس میں ایک ”ہونہار“ فرزند سے اس کا والد استفسار کرتا ہے : ”تمہارا ‘شخصیت’ سے آخر مطلب کیا ہے؟“ بات ادھوری رہ جائے گی اور اثر بھی زائل ہو جائے گا، اس لیے پدر و پسر کے مابین یہ مکالمہ پطرس بخاری ہی کے الفاظ میں بیان کرنا مناسب ہو گا: ”میں تو خدا سے یہی

Read more

خبر، افسانہ اور شاعری

خبر غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ افسانہ بھی غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ فرق حقیقی اور غیر حقیقی کاہے لیکن اس فرق کی دھجیاں افسانے کی اس تعریف نے اڑا دیں کہ افسانے کے واقعات و کردار غیر حقیقی ہوتے ہوئے بھی حقیقی اور حقیقی ہوتے ہوئے بھی غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ شعر کی جس تعریف نے حال ہی میں دماغ کو چھوا وہ یہ کہ شاعری ضابطۂ حیات ہے یہ جینے کی اصول سکھاتی ہے۔ اس تعریف

Read more

ایڈورڈ سعید: ایک نبض شناس

مصنف: مصطفیٰ بایومی، مترجم فرقان علی خان جیسے جیسے غزہ میں جنگ چھڑ رہی ہے، اسکالر اور کارکن کے الفاظ قابل قدر محسوس ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ 2003 میں اپنی موت کے 20 سال بعد ، ایڈورڈ سعید۔ ایک ایسا شخص جو مختلف طور پر اپنی شاندار ذہانت، سیاسی وکالت، موسیقی کی عمدہ صلاحیتوں، اور فیشن کے سنجیدہ احساس کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس بار، سعید کے الفاظ اور موجودگی غزہ

Read more

مقامی علمی ادبی اور ثقافتی سرمائے کی عالمی پہچان

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے زیر اہتمام ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بہ طور مہمان خصوصی شرکت کے لیے آپ نے یاد فرمایا تو مجھے کانفرنس کے نئے موضوع کو دیکھ کر اچھا لگا ورنہ جامعات میں لگے بندھے موضوعات پر اوروں سے اخذ شدہ باتیں اور مرعوب کرنے کو درآمدی اصطلاحات کی تکرار ہی سننے کو ملا کرتی ہے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز ڈاکٹر

Read more

کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم

منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے : ”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔” فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ

Read more

میر واہ کی راتیں: ایک ریویو

کہتے ہیں کہ اچھی کتاب کو آپ نہیں ڈھونڈتے بلکہ وہ خود آپ کو ڈھونڈ لیتی ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ عموماً میں وہ کتابیں خریدتی ہوں جن کے مصنفین سے آگاہ ہوتی ہوں یعنی جو پاپولر فکشن رائٹرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کتاب کا سرورق اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ وہ میری توجہ کھینچ لیتا ہے تو کبھی کتاب کا عنوان اپنی کہانی خود کہہ

Read more

ضمیر نامہ

وطن عزیز میں ان دنوں سوتے، جاگتے اور اونگھتے ہوئے ضمیروں کے خوب چرچے ہیں۔ ضمیر سے مراد باطن، قلب، اخلاقی آگاہی اور خیر و شر میں تمیز کرنے کی حس ہے۔ انگریز لوگ اسے conscience کہتے ہیں۔ ہر شخص کے اندر ایک عدد ضمیر ہوتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ جی چاہا تو جاگ لیا، جی چاہا سویا کیا۔ قوم کے ہر فرد کا ضمیر اپنے تئیں بیدار اور زندہ ہوتا ہے

Read more

نیئر مسعود: کس کو خبر ہے میر سمندر کے پار کی

حقیقت یک سطحی نہیں ہوتی۔ ہو ہی نہیں سکتی۔ حقیقت ایک بھید ہے، ۔ بھاؤ بتلاتی چنچل کا بھید۔ ایسی چنچل کہ بھاؤ بھی بتلاتی ہے اور چلمن سے بھی لگے جاتی ہے۔ اب ایسی ناری کا کوئی کیا کرے، اسے گرہستن کہیے یا بازارو۔ اسے گھر میں بٹھائیے کہ کوٹھے پہ، یوں تو ہر گھر میں بھی کوٹھا ہوتا ہی ہے۔ نیر مسعود کی کہانیاں ایسی ہی ہیں۔ سرسری گزرنے والوں کے لیے گزشتہ لکھنو کی سر گزشت۔ اور

Read more

محمود الحسن کی کتاب: ”شمس الرحمن فاروقی۔ جس کی تھی بات بات میں اک بات“

کسی عبقری پر لکھنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ اردو میں سب سے مقبول طریقہ خاکہ نگاری اور سوانح نگاری کا رہا ہے۔ خاکہ نگاری میں نہ چاہتے ہوئے بھی لکھنے والے کی اپنی شخصیت کا پرتو در آتا ہے جب کہ سوانح نگاری اکثر اسپاٹ اور پھیکے بیانیے میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان چیزوں سے بچنے کے لیے محمودالحسن نے جو طریقہ اختیار کیا وہ محنت اور دقت طلب ہونے کے باوجود شان دار محسوس ہوتا

Read more

یوسف امام کی کتاب "نقوشِ حیات رفتہ” پر تبصرہ

مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس کتاب: نقوش حیات رفتہ (یادداشتیں ) مصنف: یوسف امام پبلشر: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ سن اشاعت: فروری 2024 ء ”نقوش حیات رفتہ“ یوسف امام کی یادداشتوں پر مشتمل ان کے سوانحی مضامین اور شاعری کا مجموعہ ہے۔ یوسف امام صاحب زمانہ ٔطالب علمی سے ہی فعال شخصیت تھے۔ ہم نصابی سرگرمیوں اور ترقی پسند مصنفین کی ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ کالج کے طلبہ یونین میں انتخاب جیت کر نائب صدر اور ( صدر

Read more

’الکیمسٹ‘ میں خدا شگون کی زبان میں گفتگو کرتا ہے

پائیلو کوئلہو کے عالمی شہرت یافتہ ناول ”الکیمسٹ“ کا بہتر زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور اس کی اب تک ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ 1988 میں جب یہ پہلی مرتبہ پرتگیزی زبان میں چھپا تو اس کی صرف نو سو کاپیاں فروخت ہو سکی تھیں اور ناشر نے اسے دوبارہ چھاپنے سے منع کر دیا تھا۔ وہ اسے دوسرے ناشر کے پاس لے گیا، پھر اس ناول کی اتنی فروخت ہوئی کہ برازیلی ادب کی

Read more

زیب سندھی کے افسانوں کا مجموعہ: ڈانسنگ گرل

صاحب کتاب زیب سندھی کا آبائی شہر لاڑکانہ ہے، سندھ کے شہر خیر پور میڑس میں پیدا ہوئے اور مستقل سکونت حیدرآباد سندھ میں ہے۔ سندھ یونیورسٹی سے سندھی ادب میں ماسٹر کیا۔ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ ادب کی دنیا میں سترہ سال کی عمر میں 1974 میں پہلا افسانہ لکھ کر قدم رکھا اور انیس سال کی عمر میں افسانوں کا پہلا مجموعہ

Read more

ایرانی انقلاب اور دیسی دانشور

ایرانی قوم انقلاب ایران کی سالگرہ ہر سال بڑے دھوم دھام سے مناتی ہے۔ سابقہ برسوں کی طرح اس سال بھی پاکستان میں قائم خانۂ فرہنگ ایران نے لاہور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں 45 ویں سالگرہ کا اہتمام بڑی دھوم دھام سے کیا۔ سول لائنز کالج کے پرنسپل صاحب نے دعوت نامے کو قبولیت بخشی اور بشمول اپنے مجھ سمیت دو تین بندوں کے نام شرکت کے لیے بھیج دیے۔ مگر مقررہ تاریخ کو عین موقع پر پرنسپل

Read more

ٹاپ ٹین نیشنل ایشوز

کسی قوم کے شعور اور اوقات کا کچا چٹھا اس کے معمولات، مرغوبات، تقریبات، مشروبات، ماکولات اور محسوسات سے بآسانی کھل جاتا ہے۔ ہماری قوم کو دیکھیں تو خوشیاں نرالی تو غم عجیب اور نہایت غریب ہیں۔ پسند، نا پسند کے تو کیا ہی کہنی۔ :۔ کچھ المیے اور دکھ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں۔ آئیے ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لونگ گواچنے کا سانحہ: چار عشرے پہلے قوم کی ایک بیٹی کے ناک کا لونگ سر

Read more

فیض فیسٹیول: انقلاب کی مدھم لو کا بیانیہ

ملک کے عام انتخابات کے اگلے روز یعنی 9 فروری کو لاہور میں شروع ہونے والا تین روزہ فیض فیسٹول دماغوں کو روشن خیالی سے معطر اور دلوں کو انقلاب کی مدھم لو سے منور کرتا ہوا اختتام پذیر ہو گیا۔ فیسٹول کا آغاز الحمرا آرٹ گیلری میں ملک بھر سے لگ بھگ 30 خواتین آرٹسٹوں کے تخلیقی نمونوں کے افتتاح سے ہوا۔ فیض احمد فیض کی شخصیت، فن اور افکار کو اجاگر کرنے کے لئے سجائے گئے اس میلے

Read more

محبت میں چار سو بیسی کے فارمولے

14 فروری کو ویلنٹائن ڈے محبت کی تجوید کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور لاکھوں لوگ سرخ لباس زیب تن کیے اپنے محبوب کے لیے تحفے خریدنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ محبوب جتنی اعلیٰ کلاس تعلق رکھتا ہو اتنا ہی ہائی مینٹیننس ہوتا ہے اور جیب پہ اتنا بڑا ڈینٹ پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے سخت قسم کا فلو ہوا اور اپنے دوست قبلہ کعبہ ڈاکٹر خالد سہیل کے مشورے پر میں مکمل آرام کا ارادہ

Read more

نجات

ان کی زندگی میں اب رنگ نہیں بچے تھے بس گزر رہی تھی۔ اکلوتے بیٹے نے پردیس بسا لیا تھا بس کچھ ڈالر بھیج کر اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ ہو جاتا۔ میاں بیوی اپنے شوق سے بنائے گھر میں اکیلے رہ گئے تھے چھوٹا سا لان بھی بنا دیکھ ریکھ کے اجڑ چکا تھا، زندگی کی گاڑی خاموشی سے چل رہی تھی، بیوی کو بڑھاپے اور جوڑوں کے درد نے کہیں آنے جانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا

Read more

طاہر بن جیلون اور ریت کا دروازہ

ریت کا دروازہ مراکشی ادیب طاہر بن جیلون کا شہرہ آفاق ناول ہے جو انہوں نے فرانسیسی زبان میں تحریر کیا۔ مادری زبان عربی ہونے کے باوجود ان کا زیادہ تر کام فرانسیسی زبان میں ہی ہے۔ وہ یکم دسمبر 1944 کو مراکش میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ جامع محمد الاخمص رباط میں فلسفے کے پروفیسر بھرتی ہوئے۔ اسی دور میں ہی انہوں نے سیاسی جریدے سوفلز کے لیے نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اپنے پہلے شعری

Read more

اس الیکشن نے ملک میں ایک نئی جہت کی بنیاد رکھی ہے۔

1997 کے بعد سے اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے قوم کو کوئی نئی فکر یا قیادت نہیں دی۔ مشرف کے خلاف مہم کی قیادت وکلا کے ہاتھوں میں تھی اور وہ اس کا پھل کھا رہے ہیں۔ اس مہم میں سیاسی جماعتیں ان کا دم چھلا بنیں اور اب تک ملک کی سیاست میں وہی کام نبھا رہی ہیں۔ وکلا نے اس کے بعد عدلیہ میں کوئی نقب نہیں لگنے دی اور اب سپریم کورٹ سے لے کر گلی

Read more

”ماں“ میکسم گورکی کا عظیم کارنامہ

میکسم گورکی، جن کا اصل نام الیکسی میکسمووچ پیشکوف تھا، نامور روسی مصنف، ڈرامہ نگار اور سیاسی کارکن تھے۔ وہ 28 مارچ 1868 کو روس کے شہر نزنی نو گوروڈ میں پیدا ہوئے اور 18 جون 1936 کو ماسکو، سوویت یونین میں ان کا انتقال ہوا۔ گورکی کا بچپن غربت اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزرا، جس کا اثر ان کے کام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کم عمری میں ہی علم و ادب کی دنیا کی

Read more

داعش اور میرا ٹوٹا ہوا ہاتھ

ننگے پاؤں (7) میں نے داعش کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک طرف ان کا کالا جھنڈا لہرا رہا تھا جس پر ان کے مخصوص انداز میں کلمہ شریف لکھا ہوا تھا۔ کچھ قیدی تھے اور کچھ داعش کے کارندے۔ کارندے ایک ایک کر کے قیدیوں کو آگے کی طرف دھکا دیتے۔ ایک شخص اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ان کے سر کاٹتا اور ان کے تڑپتے ہوئے جسموں کو ایک کھائی میں دھکا دے دیتا۔ یقین نہیں

Read more

آہ! نادان شاعرہ، ساکشی صدف

ہم کو دنیا کے اجالوں سے بہت نفرت ہے ہم چمکتا ہوا سورج بھی بجھا سکتے ہیں اس طرح کے معنی خیز، خوبصورت شعر کہنے والی نوجوان شاعرہ ساکشی صدف کے بارے میں لوگ سمجھتے رہے کہ شاید یہ زندگی کے کسی تجربے یا مشاہدے کو موضوع بنا رہی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ وہ اپنے بہت سے خیالات کو عملی تجربے سے محسوس کرنا چاہتی ہے! وہ ساری زندگی اپنے فکر انگیز اشعار سے انسانی رشتوں اور وجود کی

Read more

نولکھی کوٹھی کا پھوہڑ معمار

اردو میں ناول کی صنف کو بہت آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ مدرسین اپنے موٹے شیشوں کی عینک کے عقب سے اپنے کوڑھ مغز طلبا و طالبات پر نظر شفقت فرماتے ہوئے کرم خوردہ نوٹسز سے یوں سنہری الفاظ لکھواتے ہیں : ”پیارے بچو! ناول افسانوی ادب کی بہت معروف صنف ہے جس میں زندگی کے حقیقی واقعات کا عکس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اصل میں افسانے سے ہی مماثل ہے۔ دونوں میں صرف طوالت کا فرق ہے۔

Read more

نفرت کی سیاست کا شکار الیکشن

اب کی بار اسلام آباد میں بہار آئی ہے لیکن پھول کھلے ہیں کائی کے۔ کائی کا بے رنگ و بو پھول جو پک جائے تو اس کے پولن ہوا میں ہر طرف پھیل کر انسانوں کے لیے الرجی کا باعث بنتے ہیں اور ان کا سانس اکھڑنے لگتا ہے۔ کائی جس کا پھول کسی کام کا نہیں ہوتا اور پودا تو ویسے ہی نرپھل ہے۔ آج یہ بے رنگ پھول ہوا میں یوں لہرا رہے ہیں جیسے مفتوح قوم

Read more

ہم اور سائنس کا نوبل پرائز

خامہ خراب نے ایک عمر سائنس کے خارزاروں میں گزاری ہے۔ شعر و ادب کے گل زار میں تو اب آئے ہیں اور جب ہم نے اس کشت زعفران میں قدم رکھا تھا تو زمیں سے آنے لگی صدا: ’یہ سبز قدم کہاں سے آیا؟‘ ہمیں ادب کے میدان میں ٹانگ اڑانے کا چنداں شوق نہیں تھا۔ ہم تو سائنس کے طالب علم تھے۔ یہ خود کو ’طالب علم‘ تو ہم نے ازراہ انکسار کہا ہے وگرنہ یادش بخیر، اساتذۂ

Read more

نیل کے ساحل پر

مصر کی سیاحت کا پروگرام اچانک سے نہیں بن گیا تھا۔ بہت عرصے سے ہماری مصری سہیلی ترغیب دلاتی رہی تھی۔ ہر سال جب سالانہ رخصت پر جانے کی گھڑی آتی، وہ کہتی۔ ”قاہرہ چلتی ہو؟“ اور 2023 میں آخر ہم نے کہہ ہی دیا ”چلو دلدار چلو“ ۔ وہ ہم سے تین ہفتے پہلے ہی مصر روانہ ہو گئی تھی ہمیں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں جانا تھا۔ ہفتے دس دن کے لئے ایک درمیانہ سوٹ کیس کافی تھا

Read more

وحید نور ایک وجدانی شاعر

رب کائنات نے انسانوں کو جہاں دیگر حسیات سے نوازا ہے، ان میں ایک جمالیات کی حس بھی ہے، رب کائنات کی ذات جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتے ہیں، انسان خلیفۃ الارض ہے تو وہ بھی زمین کے ہر شے میں جمال تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اسے قوت گویائی ملی تو روزمرہ کی ضرورت کی بات چیت کے بعد اس نے شاعری کی جانب توجہ دی، شاعری جو سراپا جمال ہے انسان کی

Read more

ودرنگ ہائیٹس: عشق پر زور نہیں

عشق۔ اگر پورا ہو جائے تو اپنی ہیئت بدل لیتا ہے اور اگر ادھورا رہ جائے تو ہر اس شخص کی زندگی کو ادھورا کر دیتا ہے جو اس عشق کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ جتنا عشق کے بارے میں پڑھنا آسان ہے اتنا ہی اسے برتنا مشکل ہے۔ ایسے ہی ہلاکت خیز عشق کی داستان ودرنگ ہائیٹس میں بیان کی گئی ہے۔ بظاہر دو گھروں اور ان کے مکینوں کے درمیان گھومتی یہ کہانی جذبات اور احساسات کا

Read more

ابوالعلا معری، عہد عباسی کا ”نابینا“ شاعر (قسط اول)

ہر وہ شخص جو تفکر اور تدبر کا مجرم ہے، فلسفہ اس کے لیے بہترین سزا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو عربی زبان و ادب سے خاص شغف ہے تو یہ نا ممکنات میں سے ہو گا کہ اس نے عہد بنو عباس کے عظیم ”نابینا شاعر“ ابو العلاء معری کا ذکر کہیں نہ کہیں پڑھا یا سنا نہ ہو۔ معری کا پورا نام احمد بن عبد اللہ بن سلیمان التنوخی ہے (یہ نسبت تنوخ نامی یمنی قبیلہ

Read more

ممتاز شاعر اور انسانی حقوق کے رہنما حارث خلیق کے لئے خواجہ احمد عباس بین الاقوامی ایوارڈ

ممتاز شاعر اور انسانی حقوق کے رہنما حارث خلیق کو ان کی سہ لسانی شاعری (اردو، انگریزی اور پنجابی) نیز اعلیٰ تمدنی خدمات کے اعتراف میں 9 واں خواجہ احمد عباس بین الاقوامی ایوارڈ عطا کیا گیا ہے۔ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں خواجہ احمد عباس کے اہل خانہ کے علاوہ ممتاز دانشور عارف حسن، ڈاکٹر شہلا نقوی اور ڈاکٹر خورشید حسنین اور مجاہد بریلوی کے علاوہ دیگر اہل دانش نے بھی

Read more

کل اور آج: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

عنوان: کل اور آج۔ مصنف: لیوگی پیراندیلو۔ (اٹلی) جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ میں مکیراٹا چلا گیا۔ اسے امید تھی کہ محاذ پر جانے سے پہلے ایک یا دو ماہ بھرتی ہونے

Read more

تقریب رونمائی سلیکٹر سے سلیکٹڈ تک

سنگھاسن پر کون؟ عام انتخابات سے گیارہ روز قبل پاکستانی سیاسی تاریخ و حالات حاضرہ پر عالمی شہرت کے حامل تجزیہ نگار مظہر عباس کے سیاسی کالموں کے مجموعے کی اشاعت، کراچی آرٹس کونسل میں اس کی تقریب رونمائی، پاکستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سیاسی علمیات سے وابستہ اور عملی صحافت سے پیوستہ مقررین کی شرکت۔ صاحب کتاب کی کرامت کہ سیاست و صحافت کے ساتھ علم و ادب بھی ایک چھت تلے تھے۔ اس تقریب میں کسی

Read more

کھڑکیاں اور استاد سلامت علی خاں

ننگے پاؤں (6 ) تم یونہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتہ ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے غلام محمد قاصر جو اس سدا بہار شعر کا خالق تھا اس کا ایک اور شعر بھی لافانی رہے گا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا مستنصر حسین تارڑ راوی ہیں کہ ایک دن ادبی جریدہ فنون کے انارکلی والے دفتر میں احمد

Read more

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کتاب پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں اس کی تعریف میں یا اس پر تبصرہ لکھنے کے لیے ہزاروں جملے ترتیب وار سامنے کھڑے نظر آتے ہیں لیکن کوئی کوئی کتاب اپنے اندر اس قدر کاملیت لیے ہوتی ہے کہ آپ اس کی شان میں اگر کوئی قصیدہ بھی لکھ دیں تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر پاتے۔ سر مستنصر حسین تارڑ کے لکھے ناول ”منطق الطیر، جدید“ کے بارے میں

Read more

عشق نامہ شاہ حسین تصوف، ملامت، سنگیت، کلام

شاہ حسین کے لیے فرخ یار کا اظہار عقیدت ایک تحقیقی کتاب کی شکل میں سامنے آیا جس سے اس دور کی پنجابی شاعری اور اس کے سیاق و سباق کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ فرخ یار کی یہ شان دار کتاب بک کارنر جہلم نے شایع کی ہے اور اس کی پیشکش بھی کتاب کی شایان شان ہے۔ چار سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس کتاب پر گفتگو کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس کے مصنف پر

Read more

رومی کون؟

مولانا جلال الدین رومی ایسے عالم اور فقیہ تھے کہ زمانہ مانتا تھا۔ شریعت کا علم سیکھنے اور درپیش مسائل پر فتوے لینے کو لوگ دور دور سے آتے کہ وہ اپنے عہد کے سلطان العلما تھے اور سلطان الفقہا بھی۔ پھر یوں ہوا کہ ان کی ملاقات شاہ شمس الدین تبریزی سے ہو گئی اور کچھ یوں ہوئی کہ کایا کلپ ہو گئی؛ قال، حال میں منقلب ہوا اور ایک مولوی کی جگہ مولائے روم کا ظہور ہو گیا

Read more

دستوئیفسکی کا ناول جرم و سزا

اس شاہکار ناول کے مصنف نامور روسی ادیب فیودور دستوئیفسکی ہیں۔ 1866 میں یہ ناول روس کے مشہور ادبی مجلے میں قسط ور شائع ہوا۔ 1867 میں یہ پہلی بار کتابی شکل میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔ یہ ناول انسانی نفسیات اور اس کی احساسیت کو اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر معاشرت پر اس کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ سسپنس، اخلاقی مخمصوں اور نفسیاتی مسائل کی

Read more

برصغیر پاک و ہند میں افریقی نژاد شیدی برادری

اگر تاریخ کے اوراق کو دیکھا جائے تو قدیم زمانے میں افریقی افراد کو جس خطے سے ان کا تعلق ہے اسی نام سے پکارا جاتا تھا، مثال کے طور پر شیہان ڈی سلوہ کی یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے لیے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والوں کو حبشی، بحیرہ مکران سے تعلق رکھنے والوں کو مکرانی، زنجیبار سے تعلق رکھنے والوں کو زنجی، یہاں تک کے کافر اور بابورا بھی کہا گیا

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور گرین زون

گرین زون میرے لیے جنت جیسی سٹیٹ آف مائنڈ ہے جہاں ہم پرسکون ہوتے ہیں۔ چونکہ میرا تعلق عظیمی سکول آف تھاٹ سے ہے، سو مراقبے کے وسیلے سے اپنے انر سیلف سے متعلق کچھ خیالات واضح طور پر میرے من میں موجود تھے۔ میں نے اپنے استاد خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے توسط سے ایک بات ذہن نشین کر رکھی تھی کہ اگر تم خوش نہیں ہو تو بھی خوش رہنے جیسی شکل بنا لو کیونکہ خدا اپنے

Read more

رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ

جب سجاد بلوچ کا پہلا شعری مجموعہ ”ہجرت و ہجر“ آیا تو مجھے اس کے نام نے چونکایا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے اس کے نئے مجموعے ”رات کی راہداری میں“ نے چونکایا ہے۔ دونوں بار مجھے یہ شاعری کے مجموعوں کی بہ جائے فکشن کی کتابوں کے نام لگے۔ پہلی کتاب پڑھتے ہی یہ احساس زائل ہو گیا تھا اور مجھے تسلیم کرنا پڑا تھا کہ غزل کا ایک نیا مجموعہ میرے سامنے تھا۔ ”ہجرت و ہجر“ کی آمد

Read more

رنگ غالب میں پیروڈی

بنام شبیر حسن شبیر حسن بے جوش! سلامت رہو۔ فقیر کا ایک سخن ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ دنیا دارالمکافات ہے اور انسان اشرف المخلوقات ہے۔ طبائع کے اعتبار سے انسان کی پانچ قسمیں ہیں : شریف الطبع، ظریف الطبع، حریف الطبع، کثیف الطبع اور نحیف الطبع۔ تم طبع ثالث کے مالک ہو کیوں کہ اوت ہو نہ بھوت ہو، تم راج پوت ہو۔ دامن کو حریفانہ کھینچتے ہو۔ سوپشت سے پیشۂ آبا سپاہ گری ہے، شمشیر بازی ہے۔ سخن

Read more

شیخوپورہ: کون جیت سکتا ہے اور کون ہارے گا؟

شیخوپورہ پنجاب کا ایک اہم ضلع ہے جس کی سیاست ہمیشہ رخ بدلتی رہتی ہے۔ اس ضلع میں کوئی فرد یا خاندان مستقل چوہدراہٹ قائم نہیں کر سکا۔ یہی حال سیاسی پارٹیوں کا رہا ہے۔ تحریک پاکستان سے لے کر ایوب خان کے دور تک یہاں مسلم لیگی لیڈر جیتتے رہے۔ 1970 سے لے کر 1988 تک یہاں پیپلز پارٹی کو زبردست پذیرائی ملی اسے پنجاب کا لاڑکانہ کہا جاتا تھا۔ پھر سیاست نے پلٹا کھایا اور یہ پاکستان مسلم

Read more

زوئی کی موت پر کیا رونا

زوئی جب ہمارے گھر آئی تو صرف ایک ماہ کی تھی۔ اتنی ڈرپوک اور شرمیلی کہ دو تین دنوں تک پردوں صوفوں اور دروازوں کے پیچھے چھپتی رہی۔ پھر جب مانوس ہوئی تو ہم لوگوں میں چھپنے لگی۔ کبھی ایک گود، کبھی دوسری۔ ذرا ذرا سی آواز پہ چونکتی اور بھاگ کر چھپ جاتی۔ پتہ نہیں کون سا خوف تھا جو اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے، بچوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

Read more

ابوالفضل علامی ابن مبارک کی تصنیف "عیار دانش”: ایک مطالعہ

ابو الفضل ابن مبارک شیخ مبارک ناگوروی کے بیٹے اور ابوالفیض فیضی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ابوالفضل کے خاندان کا تعلق یمن سے تھا۔ ان کے اجداد میں سے شیخ موسیٰ نامی بزرگ یمن سے ہجرت کر کے سیستان آئے اور وہیں سکونت پذیر ہوئے۔ وہ صوفیانہ مزاج رکھنے والے نیک آدمی تھے۔ ان کا خاندان تقریباً سو سال تک وہیں قیام پذیر رہا۔ دسویں صدی ہجری کے شروع میں ان کے پڑپوتے شیخ خضر نے ارادہ کیا کہ ہندوستان

Read more

اردو نظم میں عورت کا استحصال

شعر انسان کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کے تجربات کا مرقع ہوتا ہے، ان ہی تجربات اور افکار کی روشنی میں جب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے تو وہ شاعری کا روپ اختیار کرتی ہے۔ ذہنی و فکری اور معاشرتی زندگی کا تنوع زبان و ادب میں تنوع اور رنگا رنگی کی وجہ بھی بنا ہے، بائیں ہمہ شعر کے اندر بھی رفتار زمانہ اور انقلاب احوال کے ساتھ تنوع اور رنگا رنگی نیز جدت طرازی دیکھنے کو ملی،

Read more

جسبیر سنگھ دھیمان اور محمود درویش

ننگے پاؤں ( 5 ) کویت کی پنجابی ادبی سنگت کے پنجابی مشاعرے میں جسبیر سنگھ دھیمان ایک نثری نظم سنا رہا تھا جس کا عنوان تھا ’ فلسطینی شاعر محمود درویش دے ناں‘ جس کا ایک حصہ یوں تھا جیون سفر دے دو ات پیارے شبد گھر تے وطن تے ایہہ دونویں شبد تیتھوں کھون دی سازش چلائی گی وہ پڑھ رہا تھا اور میں اس گہری سازش کویاد کر رہا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل وجود میں

Read more

ابجان: میرا دوست، میرا رہنما، میرا بھائی

وہ ہنگامہ خیز وقت، بے یقینی کا وقت تھا، وہ سردیوں کا وقت تھا۔ اس ہنگامہ خیز وقت کے بارے میں لطیف کو بہت سی باتیں معلوم تھیں۔ 1970 کی دہائی میں لطیف کی پیدائش ہوئی تھی۔ 80 کی دہائی کے اواخر اور 90 کی دہائی کی ابتدا میں، جب وہ نوجواں تھے انہوں نے کشمیر کے ہنگامہ خیز حالات کو قریب سے دیکھا۔ ان دنوں وہ سکول میں تھے۔ انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کر دی تھی۔ وہ ایک

Read more

روسی انقلاب کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ڈاکٹر ژواگو

  معیاری ادب میں قارئین کو مختلف ادوار اور مقامات تک پہنچانے کی انوکھی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ کرداروں کی کامیابی اور مصیبتوں کو اس طرح محسوس کر سکتے ہیں جیسے وہ خود ان لمحات کو جی رہے ہوں۔ بروس پاسترناک کا شہرہ آفاق ناول ”ڈاکٹر ژواگو“ ایسے ہی ادب کی بہترین مثال ہے۔ روسی انقلاب کے پس منظر اور اس کے اثرات پر تحریر کیا گیا یہ ناول بہترین کرداروں، ان کے پیچیدہ رشتوں اور

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! (18) / آخری قسط!

آخر میں ‏‎سب سے بڑا سوال کہ یہ سب عورتیں بانو کے قلم سے آزاد کیسے ہوئیں؟ ‏‎اس کا جواب ان طنزیہ جملوں میں ہے جو بانو نے تعلیم یافتہ عورت کے لیے سوچے اور لکھے۔ ان جملوں کی تپش جب ان عورتوں تک پہنچی، تب ان سب نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ بھی سیمی کی طرح آزاد زندگی گزاریں گی۔ ‏‎یہ پڑھی لکھی لڑکیاں کتنی ضدی ہوتی ہیں اپنی ضد کی راہ میں وہ اپنے آپ کو بھی

Read more

سرائیکی شاعری اور موسیقی

سرائیکی زبان کی مٹھاس سے کس کو انکار ہو گا۔ پھر اس وقت سرائیکی شاعری اپنے عروج کے دور سے گزر رہی ہے۔ اصغر گورمانی، عابد بلال، خالد جاوید سمیت غزل کے بے شمار شاعر اس وقت ایسی غزلیں کہہ رہے ہیں کہ آئے دن سوشل میڈیا پہ ان کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ شاعری صرف سرائیکیوں کو ہی نہیں بلکہ پنجابی اردو اور پوٹھوہاری اہل ذوق افراد سے داد لے رہی ہے۔ حتیٰ کہ وسی بابا

Read more

ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں

کہاں ہیں وہ دھوپ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور سردیوں کو حرز جاں بنانے والے شاعر؟ کہاں ہیں، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں، کا بیانیہ دینے والے اور، شا االلہ تینوں تتی ہوا نہ لگے، کی دعائیں دینے والے۔ نا جانے اقبال کا ادھر ڈوب کر ادھر نکلنے والا وہ خورشید کہاں روپوش ہے؟ یقیناً ان میں سے کچھ شعراء کنج مزار میں پاؤں پھیلا کر سو رہے ہوں گے تو باقی لحافوں میں دبکے پڑے ہوں گے۔ اس زمستاں کی سرد

Read more

سندھو دیش کی راج کماری سوریا، بنت داہر (ناول) میں

بنت داہر، دو لفظوں کی جڑت ہی نہیں، بلکہ دو تہذیبوں کی ایسی داستان ہے جس کے ہم سب صدیوں سے اسیر ہیں۔ یہ دو رویوں کی کہانی ہے جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے۔ یہ دو سوچوں کے دھارے ہیں جو دریا کنارے پھلتے پھولتے تمدن کی روانی اور صحرائی معاشرے کی شدت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دو تصور کائنات ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں رواں دواں ہیں۔ فاتح اور مفتوح کے درمیان

Read more

کھرا انسان، منفرد دانشور: شاہد محمود ندیم

شاہد محمود ندیم سے میری موانست نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ یہ الگ بات کہ ہم دونوں کے اپنی اپنی دنیاؤں میں میں کھو جانے کے باعث۔ منزل عشق میں نہ تھی ایک کو ایک کی خبر کے مصداق بہت دیر دیر بعد ملتے رہے ہیں مگر جب ملتے ہیں تو لگتا ہے کہ کبھی جدا ہی نہیں ہوئے تھے کہ یہی حقیقی دوستی کی پہچان ہے۔ غالب کے بقول.. گو میں رہا رہین

Read more

خالد مسعود خان اور افغان جہاد کے ثمرات

اگر آپ اسے جملہ معترضہ نہ سمجھیں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ ہمیں افغان جہاد کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں اردو ادب کو خالد مسعود جیسا مزاحیہ شاعر دستیاب ہوا۔ افغان جہاد میں کم از کم ہمیں تو خیر کا یہی ایک پہلو دکھائی دیا۔ اس جہاد نے یوں تو احمد شاہ مسعود اور مولانا اظہر مسعود جیسے جنگجو بھی پیدا کیے مگر ان مسعود برادران میں ہمیں برادر عزیز خالد

Read more

رمضان شامل

عمرہ کے سفر سعادت پر مدینے میں موجودگی کے دوران ایک روز نماز تہجد کے بعد اذان فجر اور نماز فجر کے لیے منتظر مسجد نبوی میں موجود تھے۔ میرے ساتھ ہی ایک باریش اور بارعب خوبصورت انسان بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے سلام دعا کے بعد اپنا تعارف رمضان کے طور پر کروایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ امام شامل کی نسل اور اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام شامل کا نام تو میں نے سن رکھا تھا

Read more

ساحر لدھیانوی کا باورچی

پرکالا پروڈکشن کے دو حصے دار تھے ’داؤد مکرانی اور سندر بس جانی۔ دونوں بے حد چلتے پرزے تھے اور ہرجیت کمار اور آرادھنا کو لے کر ایک فلم بنا رہے تھے۔ یہ جوڑی ان دنوں فلم انڈسٹری میں اعلیٰ درجے کی جوڑی سمجھی جاتی تھی۔ پرکالا پروڈکشن کا دفتر بے حد شاندار تھا لیکن داؤد اور سندر کا ذاتی کمرہ جو دفتر کے بالکل آخر میں تھا سب سے شاندار تھا اور اسے بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا۔

Read more

ہاؤس آف ڈیتھ الارم۔ افسانہ: لیوگی پیرآندیلو۔ اٹلی

HOUSE OF DEATH ALARM. Luigi Pirandello. ترجمہ: جاوید بسام۔ مہمان نے گھر میں داخل ہوتے ہی بلاشبہ اپنا نام بتا دیا تھا، لیکن بوڑھی اور لاغر سیاہ فام نوکرانی جس نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا اور جو ایپرن باندھے بندر کی طرح لگتی تھی، اس نے یا تو سنا نہیں یا اس کے بارے میں فوراً بھول گئی۔ یوں وہ بے نام بھلا مانس پونے گھنٹے سے گھر کی خاموشی میں ”وہاں“ انتظار کر رہا تھا۔ ”وہاں“ سے

Read more

”کتے“ ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

کیا زمانہ تھا؟ کیسے کیسے کتے تھے؟ طبیعت شاعرانہ، مزاج لڑکپن سے عاشقانہ، خوئے بے نیازی ایسی کہ سرشام ہی دم جھاڑ کے، قصاب کی دکان سے اپنی محبوبہ (مادہ) کے مکان کی جانب روانہ ہو جاتے اور ساری ساری رات اس کی گلیوں میں شعر پڑھتے پھرتے تھے : ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا کبھی اس کو کاٹ لینا کبھی اس پہ بھونک دینا دولت دنیا کا انہیں کوئی لالچ نہیں تھا بلکہ کسی کو

Read more

عمر سیف الدین

ترک ادب میں مختصر کہانیوں کے بانی، عمر سیف الدین (Ömer Seyfettin) ایک معروف ادیب اور شاعر تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے فوجی تھے اور سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کا حصہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ویٹرنر ڈاکٹر، استاد اور ماہر لسانیات بھی تھے۔ لکھنا ان کا شوق تھا خاص طور پہ مختصر کہانیاں اور داستانیں لکھنے کے وہ ماہر ادیب تھے۔ ان کی مختصر کہانیاں بہت مشہور ہیں اور ترک زبان و ادب میں وہ داستان

Read more

بھیڑیں اور بھیڑیے

1922 میں مدہیہ پردیش میں پیدا ہونے والے ہری شنکر پرسائی کو جدید ہندی ادب میں طنز نگاری کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ ہری شنکر پرسائی نے ناگ پور یونیورسٹی ستے تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ ملازمت کرنے کے بعد کل وقتی بنیاد پر ادب سے وابستہ ہو گئے۔ وہ براہ راست اور سادہ انداز میں کاٹ دار طنز کے لئے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ہندی ادب میں طنز نگاری کا انداز ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ 1982 میں

Read more

خود کو ناپسند کرنے والے لوگ کیا کریں؟ ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر سارہ علی

میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل، پچھلے مہینے جب میں آپ سے ملی تو کھانے کی میز پر جہاں انٹرنیشنل پالیٹکس اور انقلابیوں کی سائیکولوجی زیر بحث تھی۔ وہاں آپ کے اس جملے نے پورا مہینہ میری توجہ اپنی طرف مرکوز رکھی کہ ”دوسروں سے وہی لوگ محبت کر سکتے ہیں جو اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں۔“ یہ جملہ ہماری اس گفتگو کا کرکس تھا جو اس موضوع پر ہو رہی تھی کہ لوگ دوسروں کی طرف اتنے ججمینٹل

Read more

”جنگل میں جمہوریت“ مترجم ڈاکٹر عبد العزیز ملک: چند تاثرات

 ”جنگل میں جمہوریت اور دیگر کہانیاں“ پنجابی افسانوں کا ترجمہ ہے جسے اردو روپ ڈاکٹر عبد العزیز ملک نے دیا ہے۔ ان افسانوں کے تخلیق کار اکبر لاہوری ہیں۔ اکبر لاہوری سے میرا پہلا تعارف 2010 میں ہوا جب ان کے پنجابی افسانے ”جنگل وچ جمہوریت“ کا اردو ترجمہ ”جنگل میں جمہوریت“ ادب لطیف میں پڑھا۔ اس افسانے کے مترجم ڈاکٹر سعید احمد تھے۔ کسی پنجابی افسانہ نگار کو پڑھنے کا یہ میرا اولین اتفاق تھا جو نہایت خوشگوار تھا۔

Read more

ترکیہ کے شاعر حریت، نامق کمال

” شاعر حریت“ اور ”شاعر وطن“ کہلائے جانے والے نامق کمال کا اصل نام محمد کمال تھا اور ”نامق“ تخلص۔ وہ جدید جمہوریہ ترکیہ کے فکری معماروں میں سے ایک تھے۔ اتاترک مصطفٰے کمال پاشا ان کے افکار و نظریات سے بہت متاثر تھے۔ وہ ترکیہ کے شہر تکرداع میں 21 دسمبر 1840 کو پیدا ہوئے اور 48 سال کی عمر میں 2 دسمبر 1888 کو وصال پا گئے۔ وہ بیک وقت شاعر، تاریخ نویس، ناول نویس، ڈرامہ نویس اور

Read more

کاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے

یہ وہ خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ ہمارے آباؤ اجداد تمام قسم کی برائیوں کی موجودگی میں زندگی گزار کر گئے : ہم بھی ان برائیوں کی موجودگی میں زندہ ہیں۔ کاش! اس دنیا سے نشہ آور چیزیں ختم ہو جائیں۔ یہ بھی ممکن نہیں۔ نشہ وہ برائی ہے جو امرا و غربا، شاہ و گدا، دیوتا و پجاری، موحد و ملحد اور علما و جہلا سب کی انجمنوں میں رونق افروز رہی ہے۔ بلکہ وہ سبھائیں

Read more

استاد نجیب فاضل قیصا کورک

استاد نجیب فاضل مرحوم ترکیہ کے معروف مفکر ، ادیب اور شاعر ہیں ۔ انہیں ” سلطان الشعراء ” بھی کہا جاتا ہے ۔وہ  ترکیہ کے” شیکسپیئر "بھی  کہلاتے ہیں۔ وہ 26 مئی 1904 کو استنبول میں پیدا ہوئے اور 25 مئی 1983 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے. ان کا مزار استنبول میں حضرت ابو ایوب انصاری سے  منسوب قبرستان میں واقع ہے. ترکیہ میں ان کے افکار، خیالات اور ادب میں مقام کی وجہ سے انہیں” 

Read more

کنگ چارلس سوئم اور زکوٹا جن

ننگے پاؤں ( 4 ) کنگ چارلس سوئم کی رسم تاجپوشی دیکھی اور کورس میں یہ نعرہ سنا۔ God save the king یعنی خدا بادشاہ کو محفوظ رکھے تو میں نے سوچا کہ کس سے محفوظ رکھے۔ عوام کے  شاہ مخالف جذبات سے، شہزادی ڈیانا کی روح کے انتقام سے، میگھن مارکل کی آئندہ چالوں سے یا کامیلا پارکر کے نہاں عزائم سے۔ پرنس ہیری نے جب سیاہ فام میگھن مارکل سے شادی کی تو اس نے غالباً اپنی ماں

Read more

بہشتی تیور

کتاب، بہشتی زیور، مسلم لڑکیوں کی تربیت کے لیے لکھی گئی جو استفادے کی خاطر انہیں جہیز میں بھی دی جاتی تھی۔ اس کتاب میں عورتوں کو بیک وقت دو خداؤں کو سہنے اور دیگر ازدواجی و سسرالی آداب سے بڑی شدت سے روشناس کرایا گیا تاکہ وہ اپنی ذاتی زندگی جہنم بنا کر اپنے مجازی خدا کے گھر کو جنت بنائیں اور حقیقی خدا کی خوشنودی پائیں۔ اس کتاب سے مردوں نے بھی مذہبی عورت سے ہی شادی کرنے

Read more

فالتو کردار

ڈرامہ پروڈیوسر کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ اس کی دھاڑتی ہوئی آواز ہال کی چھت سے ٹکرا کر سارے ماحول میں سر پھوڑتی پھر رہی تھی۔ ”تم اتنے وڈے ہدایتکار؟“ وہ شہر کے بڑے سٹیج ڈرامہ پروڈیوسروں میں سے ایک تھا۔ اس کی عادت تھی کہ جب بھی زیادہ خوش ہوتا یا غصے میں بپھرتا تو اپنی بات میں پنجابی زبان کے کچھ الفاظ ضرور استعمال کرتا۔ ”تمہیں صرف ایک دن پہلے پتہ چلا کہ اتنا

Read more

حسن پرست شاعر، مصور اور خطاط: اسلم کمال

اب اس واقعے کو لگ بھگ تین دہائیاں ہو چلی ہیں، میں نے اپنے افسانوں کا مجموعہ ”بند آنکھوں سے پرے“ اسلم کمال کو پیش کیا تووہ اس کے سرورق کو کچھ دیر توجہ سے دیکھتے رہے پھر کہا ؛ ”میں اس کتاب کا سرورق بناتا تو یوں نہ بناتا، یہ کچھ اور ہوتا۔“ وہ سرورق ہمارے ایک دوست آفتاب عالم نے بنایا تھا۔ آفتاب شوقیہ مصور تھے۔ ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے میں نے کاغذ پر پنسل سے عورت

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023 : پشتو زبان و ادب کے مشاہیر

گل فام کاکڑ ایڈووکیٹ نے اجلاس کا آغاز کیا اور حاضرین کی سماعتیں گلابی لہجوں، دل قومی محبتوں اور اذہان فکری گفتگو سے فیض یاب ہونے لگے۔ پروفیسر نور الامین کی کتاب ”پختون دانش“ کی رونمائی ہوئی۔ ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے تعارفی کلمات : ”دو سو صفحات پر مبنی اس کتاب کا پہلا حصہ پختون کلچر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اور دوسرا اقوال اور حکایات پر مشتمل ہے۔ پشتو کے عظیم شاعر غنی خان پر ڈاکٹر عرفان اللہ

Read more

پیش گفتار

محمود الحسن سے میل جول کو اب دس برس تو ضرور ہو گئے ہوں گے۔ جوں جوں وہ قریب آ رہا ہے اور دل آویز ہوتا جا رہا ہے۔ اقبال کا مصرع: نوجوان و مثل پیراں پختہ کار اس کی شخصیت کی ایک اچھی تصویر بناتا ہے۔ اس کی دل بستگی بھی جوانوں سے زیادہ بوڑھوں کے ساتھ ہے۔ میں نے کئی بار اس سے کہا ہے کہ محمود! تمھاری دوستی ساٹھ برس سے کم کے آدمی سے نہیں ہو

Read more

اس برس تو میں ہوں

اس برس تو میں ہوں تم سے لڑتا، جھگڑتا، کبھی مسکراتا کبھی قہقہوں میں سبھی غم اڑاتا تمہیں یہ بتاتا کہ پچھلے برس کس نے کب کس طرح سال نو پر مجھے فون پر wish کیا تھا کہ پچھلے برس ہم کسے کب ملے تھے کہاں چائے پی اور یونہی بے ارادہ کہاں تک گئے تھے کہ پچھلے برس کون کب تک جیا تھا کہاں کس گلی تک تو وہ ساتھ تھا اور کہاں گم ہوا تھا اس برس تو

Read more

سال نو، الخدمت اور فلسطین

عبدالحادی ایک فلسطینی بچہ ہے جو اسرائیل کی طرف سے ہونے والی حالیہ بمباری میں اپنے تمام اہل خانہ کو کھو چکا ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں عبدالحادی جیسے بہت سے بچے آسمان کی طرف اس امید سے دیکھ رہے تھے کہ کب آسمان سے ان کے حصے کا بم انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں اسی جگہ پہنچا دے گا جہاں ان کے والدین اور دیگر دوست موجود ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین

Read more

تارڑ کے خس و خاشاک زمانے اور سفیر اعوان

دیکھا گیا ہے کہ وہ لکھنے والے جو عوامی سطح پر مقبول ہو جاتے ہیں ان کے فن کی بارے میں سنجیدہ تنقیدی مکالمہ رک سا جاتا ہے۔ جو تسلیم کیا جا چکا اس پر تنقید کی کیا ضرورت ؛ بات ”بلے بلے“ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہم نے ایسا منٹو کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا اور اب مستنصر حسین تارڑ کے باب میں دیکھ رہے ہیں۔ منٹو مقبول تھا اور یہی کافی سمجھا جاتا رہا۔ فن سے زیادہ شخصی

Read more

بلاول بھٹو لاہور سے جیت بھی سکتے ہیں

پاکستان کی سیاست نے مولانا فضل الرحمٰن اور آصف علی زرداری، دو ایسے سیاست دان پیدا کیے ہیں جنہیں کوئی مات نہیں دے سکتا۔ کس وقت کون سی چال چلنی ہے، کون سا مہرہ پھینکنا ہے اور کس سے کیا بیان دلوانا ہے، یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان دونوں کی ایسی ایسی باتیں ہیں جو پاکستانی سیاست کا روزمرہ بن چکی ہیں۔ ان کی کئی چالیں اس ملک کی مشکل ترین سیاست میں قابل تقلید ہیں۔ پاکستان

Read more

ایک مختصر مکالماتی افسانہ ”دماغ کی خرابی“

انیلا کی ماں اسے برا بھلا کہتے کہتے گالی گلوچ پر اتر آئی تھی ”تو کتی، حرامزادی، اپنے باپ کی طرح بے حس۔ وہ حرامی بھی ایسا ہی تھا۔ تین بچے پیدا کرائے اور پھر طلاق کے کاغذات میرے ہاتھ میں تھما کر دفعان ہو گیا“ ۔ ”یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں ماں۔ مجھے میرے باپ سے ملا رہی ہیں؟“ ۔ ”جب تو اتنے اچھے موقع کو خود ٹھوکر مار کر آ جائے گی تو اور کیا دعائیں

Read more

گھمنڈی

چادر میں چھپی ہوئی عورت کی آنکھیں اور چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ ایک خوبصورت اور نازک سی عورت ہے۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس عورت نے قتل کیا ہے۔ یہ کیسے قتل کر سکتی ہے، وہ بھی کسی مرد کو ۔ اس کا شوہر اپنے دو بچوں کے ساتھ اسے جیل میں ملنے آیا تھا۔ دونوں بچوں کی عمر چار پانچ سالوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا،

Read more

سال کی آخری نظم

سانتا وہ کرسمس کی رات عید میلاد عیسٰی مسیح وہ مسیحا کہ جس نے محبت کا پیغام ہم کو دیا جس نے روتی بلکتی ہوئی آدمیت کے زخموں پہ مرہم رکھا تم اسی کے نمائندے کہلاتے ہو سانتا! اتنے سارے کھلونے اٹھائے ہوئے گھومتے ہو جو تم چمنیوں چمنیوں آسماں آسماں تو یہ تقسیم کرتے ہو آخر کہاں ان بھرے پیٹ بچوں کی چمنی میں؟ جن کے لئے تم کسی فلم کا ایک کردار ہو یا کہ ان کے لئے

Read more

نیو یارک یاترا

امریکہ اور کینیڈا جانا کبھی ہمارا خواب ہوا کرتا تھا۔ لیکن پاکستان میں رہتے ہوئے مڈل کلاس طبقے کے لئے ایسا سپنا دیکھنا بھی شجر ممنوعہ ہے۔ اور ہم جیسے لوگوں کے ایسی خواہشات یا تو خواب ہی رہتی ہیں یا پھر اس وقت پوری ہوتی ہیں جب ان سے لطف اٹھانے کا وقت گزر گیا ہوتا ہے۔ میں شاید مڈل کلاس کے ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں، جس نے جو چاہا اسے مل گیا۔ کینیڈا آ کر

Read more

جنگ کی ڈائری (چوتھا حصہ)

مسلم اُمہ یہ جو خود کو مسلم امہ کہتے ہیں اسرائیل کے ٹینک کوایندھن یہ دیتے ان کی میز پہ تازہ سبزی عمدہ گوشت کی رسد یہی پہنچاتے  ہیں تھوڑی دیر کو یہ سپلائی بند اگر کر دیں تو شاید جنگ ابھی رک سکتی ہے غزہ میں بھوک اور پیاس سے مرنے والے بچے بچ سکتے ہیں پر یہ ایسا نہیں کریں گے یہ جو خود کو مسلم امہ کہتے ہیں ان کو ڈر ہے توپوں کا رخ ان کی

Read more

ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے

عمر رفتہ کی مانند سن تئیس بھی قصۂ پارینہ ہوا اور ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے۔ سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، ہفتے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی پیچھے لگا ہو۔ کوئی صاحب تدبیر ایسا نہیں جو وقت کو روکے۔ صبح و شام کا اس تیزی سے ہونا، زندگی کے تمام ہونے کا پیش خیمہ ہی تو ہے۔ بے کار کی مصروفیت اور خود ساختہ عجیب و غریب لائف سٹائل نے

Read more

علیسہ کارسن، ”اس بازار“ کے لونڈے لپاڑے اور سوشل میڈیا

یہ سوشل میڈیا تو جھوٹ کا کارخانہ بن چکا۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے لوگوں کو چونکانے، خوف میں مبتلا کرنے اور ان کی نیندیں اجاڑنے کا یہ دھندا کہیں رکتا دکھائی نہیں دیتا۔ ریاست کی کوتاہ نظری اور بے حسی کی حدیں تو مدت ہوئی عرش معلیٰ کو چھونے لگیں۔ میڈیا سوشل ہو، الیکٹرانک یا پرنٹ، ریاستی احتساب کی آنکھ سیاسی اور ادارہ جاتی مفادات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ گزشتہ شب، سونے سے ذرا پہلے،

Read more

سال نو مبارک

واہ واہ، سبحان االلہ! دو سو سال کا عرصہ گزر گیا مگر آج بھی یہ شعر تروتازہ ہے اور سال نو کے موقع پر اہل دل کو امید کا پیغام دیتا ہے : دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہمارے ایک دوست جو فیض کے مداح ہیں، ان کا اصرار ہے کہ یہ شعر فیض کا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ مان کر نہ دیے۔ ان

Read more

نئے سال کی پہلی دعا

اے خدا! اے خستہ بدنوں میں صوت، صوت میں بیان اور بیان میں تخیل کی مقدس اڑان رکھ دینے والے خدا! ہماری بصارتوں کے بند جزدانوں کی گرہیں کھول اور ہماری سماعتوں کو ان زنگار لفظوں سے محفوظ رکھ جو ہمارے مقدر بدنوں کے بیچ کب سے اب تک بانجھ گونج کا تسلسل بھرتے رہے ہیں۔ اے خدا! لمحوں کے دست آئندہ میں ہمارے ہونے کا مقدر لکیر دے۔ ہمارے مقدر پر تنے مسلسل رات سناٹے کو امید چنگاریوں سے

Read more

نوجوانوں کے سیاسی شعور کی قربان گاہ

پاکستان پیپلز پارٹی نے 1967 میں لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر سے اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت اس کے بانی ارکان اوسط عمر 34 سال تھی۔ خود ذوالفقار علی بھٹو 39 سال کے تھے۔ غلام مصطفے ٰ کھر، حیات محمد خان شیر پاؤ، رفیع رضا کی عمر تیس سال تھی جب کہ کراچی یونیورسٹی کے طالب علم رہنما معراج محمد خاں ان سے بھی کم عمر تھے۔ بعد میں یہی لوگ ان کی کابینہ کے

Read more

آبادیاتی ادب (مزاح)

نو آبادیاتی ادب کی اصطلاح سے اہل ادب یقیناً آگاہ ہیں۔ مگر ہم یہاں آبادیاتی ادب متعارف کروانے چلے ہیں۔ بڑھتی آبادی اور اس کے مسائل کو ہر دور میں شعراء اور ادباء نے اپنے اپنے انداز میں ادب کا حصہ بنایا۔ اب انکار نہیں کہ اپنے ہاں ادب کی جگہ بھی صرف بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اقبال نے اس مٹی کے نم ہونے کا مژدہ سنایا تھا پر اس قوم کے کارہائے نمایاں کو دیکھتے ہوئے دلاور فگار لکھتے

Read more

محبت کا لوک گیت: امروز

امروز بھی چلا گیا، اسے جانا ہی تھا اور آخر کیوں نہ جاتا؟ امرتا نے اس کے ساتھ وعدہ جو کیا تھا کہ ”میں تینوں فیر ملاں گی“ ۔ اب امرتا اور امروز اس دنیا سے پار کہیں اوپر والی جنت میں دوبارہ مل چکے ہیں۔ عاشق سے اگلے درجے پر بھی اگر کوئی لفظ ہے تو اس کا پہلا حقدار بھی امروز ہی ٹھہرے گا۔ امروز نے امرتا کے ساتھ محبت نہیں، پرستش کی تھی۔ ان میں شادی بیاہ

Read more

ننگے پاؤں (3)

تختی کی گاچنی اور پہلا باغی میری ماں نے لکڑی کی تختی پر گاچنی ملی اور سوکھنے کے لئے اسے دھوپ میں رکھ دیا۔ اگلے دن میں نے سکول میں داخل ہونے جانا تھا جب میں ڈرا سہما سکول پہنچا تو سامنے سکول کیا تھا بس غالب کا معروف مصرع تھا بے درو دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے ریلوے لائن کے قریب، چار دیواری کے بغیر ایک میدان سا تھا جس کے آخر میں کچھ کمرے تھے۔ چاردیواری ہی

Read more

غالب کی سالگرہ

27 دسمبر 1797 مرزا اسداللہ خان غالب کا یوم ولادت ہے اور 15 فروری 1869 کو وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے میری طرح آپ میں سے بہت سے ایسے دوست ہوں گے جن کا باقاعدہ شعر و ادب سے تعلق تو نہیں مگر میری طرح انھوں نے بھی اپنی زندگی میں کئی بار غالب سے ان کے اشعار اور نثر کے ذریعے زندگی کی نا انصافی ’سفاکی‘ کج ادائی ’بے وفائی‘ بے ڈھنگے پن وغیرہ وغیرہ کو سمجھنے

Read more

اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالب

سن 1911 میں ایک انگریزی اخبار میں مسوری میں رہنے والے ایک انگریز ڈاکٹر جے مارٹن نے A Neglected Grave یعنی ”ایک نظر انداز شدہ قبر“ کی سرخی سے شائع ہونے والے خط کے بعد غالب کے چاہنے والوں کی سوچ بدلی۔ قبر کو محفوظ کرنے کے لئے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ادارے بننے لگے۔ کئی ادارے بنے لیکن 1950 ء کے بعد جب مولانا ابوالکلام آزاد آ گئے اور انہوں نے اس وقت کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر شانتی

Read more

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے

آج اس عظیم شاعر کا یوم پیدائش ہے جس کے خیال میں غیب سے مضامیں آتے تھے اور جس نے دعوی کیا کہ اس کا صریر خامہ نوائے سروش ہے۔ جس کا انداز بیان دنیا کے لاتعداد سخن وروں میں منفرد ہے۔ جو ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہے کہ ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے اور جواب بھی دیتا ہے کہ وہ شاعر تو اچھا ہے پر بدنام بہت ہے۔ جسے نہ ستائش کی تمنا

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی ناول نگاری

ایک ذرا مڑ کر اردو دنیا کی ان ساری شخصیات کو دیکھ آئیں جنھوں نے رواں زمانے کے صفحات پر ایک سے زیادہ جہتوں سے اپنے دستخط ثبت کیے اور محترم ٹھہریں توان سب سے الگ اور نمایاں مقام پر ایک شخصیت ملے گی؛ شمس الرحمٰن فاروقی۔ میں ہمیشہ سے ان کی غیر معمولی تنقیدی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ مجھے موقع ملتا رہا ہے کہ ”شعر، غیر شعر اور نثر“ ، ”تفہیم غالب“ ، ”شعر شور انگیز“ اور ”اردو

Read more

تم جیو ہزاروں سال

چچا جان کا فون تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ”میں نے اپنی وصیت بہت پہلے لکھ دی تھی۔ اب میں نے اپنے کریا کرم کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھ دیا ہے۔“ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں آہستہ آہستہ بولتے ہوئے بتایا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ فون کے دوسرے سرے پر عادت سے مجبور وہ دھیرے دھیرے سے مسکرا بھی رہے ہوں گے۔ ”کریا کرم یعنی آپ آخری رسومات کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ میں

Read more

عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما (4)

ان وجوہات کا تعین کرنے کی خاطر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سمیت تین اعلیٰ ترین ججوں پر مشتمل ایک کمیشن آف انکوائری مقرر کی گئی۔ اپنی تفتیش اور تحقیق کے نتیجے کے طور پر کمیشن اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ محض ایک عسکری شکست نہ تھی بلکہ ایک عظیم سیاسی اور اخلاقی ہار تھی۔ دو مارشل لاؤں کے دوران پاکستان کے فوجی حکمران اخلاقی طور پہ اس قدر گر چکے تھے اور اتنے بدعنوان ہو چکے تھے

Read more

جد دوست نہیں ہوندا: احمد سلیم کی یاد میں

احمد سلیم صاحب کے ساتھ میرا پہلا تعارف سارہ شگفتہ کے بارے میں ان کی ایک کتاب کے توسط سے اس وقت ہوا جب میں ابھی چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کے بعد مجھ سمیت سندھ بھر میں ان کا سب سے معتبر ترین تعارف سندھ کی دھرتی، ادب، شاعری اور ثقافت کے ساتھ ان کی دلی وابستگی تھی، جس کی بنیاد سندھی زبان کے مہا کوی شیخ ایاز کے ساتھ ان کی دیرینہ دوستی تھی۔

Read more