اولاد پیدا کرنے سے انکار

کیا آپ نے کبھی کسی بوڑھے اور بیمار جانور کو ویرانے میں مرتے دیکھا ہے۔ اب تو ہر طرف انسانوں کا جنگل پھیل کر ویرانوں کو کھا گیا ہے لیکن ہمارے بچپن میں جب ملک کی آبادی سات کروڑ سے بھی کم تھی تو بہت سے ویرانے نظر آتے تھے۔ بہت سی چیلیں اور گنجی گردن والے مردار خور گدھ ٹیلوں پر بیٹھے مل جاتے تھے۔ چیل اور گدھ زندہ اور صحت مند جانور کا شکار نہیں کرتا بلکہ بیمار

Read more

مقبولیت کی سیاست

جوں جوں دنیا معاشی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے چھینا جھپٹی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی جنگل کا قانون ہے اور یہی نسل انسانی کا وتیرہ رہا ہے۔ بس انسان کی کوشش رہی ہے کہ اپنی اس خواہش پر ملمع کاری کر کے اسے قابل قبول بنا لیا جائے۔ برطانیہ میں 1970 سے 2016 تک تقریباً نصف صدی میں صرف آٹھ وزرائے اعظم حکمران رہے لیکن 2116 سے 2023 کے درمیان آٹھ سال میں چار حکمران ناکام ہوئے۔ اب اگلا

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا لندن

آغا حسن عابدی ایک ذہین اور دور اندیش بینکر تھے۔ 1972 ء میں انہوں نے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل یعنی بی سی سی آئی کی بنیاد رکھی۔ اس بینک کی رجسٹریشن لگسمبرک میں ہوئی اور اس کا ہیڈ آفس برطانوی دارالحکومت لندن کے علاوہ کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ اپنے قیام کے دس برس میں ہی بی سی سی آئی نے دنیا کے 78 ممالک میں اپنی برانچز بنا لیں اور اس کے اثاثے 20 بلین ڈالرز

Read more

شاہین، کچھوا اور سرکاری ملازم

یہ بات شاید عام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث ہو کہ عالم رویا میں مشاہیر کی ایک دوسرے سے ملاقات رہتی ہے۔ میرے اشتیاق علمی کے پیش نظر رفتگاں، میرے حال پر بھی کرم فرماتے رہتے ہیں اور خواب کی دنیا میں ان کی آمدورفت رہتی ہے۔ کبھی میں ان کے افکار عالیہ سے مستفید ہوتا ہوں اور کبھی وہ میرے افکار پریشاں سے کسب فیض کرتے ہیں۔ شب رفتہ، حضرت علامہ خواب میں تشریف لائے تھے۔ آتے ہی

Read more

ایک انگوٹھی

پرویز مشرف سے میری بہت پرانی دوستی تھی، ان کے صدر، سپہ سالار، جنرل اور فوجی بننے سے بھی بہت پہلے۔ ہماری دوستی عہدوں اور اقتدار سے بالاتر تھی۔ اس زمانے کی دوستی جب دوستی میں کوئی غرض نہیں ہوتی ہے، کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جو بے غرض ہوتی ہے۔ ان کے سپہ سالار بننے سے سات سال پہلے میں پاکستان کے حالات سے بیزار ہو کر پاکستان چھوڑ کر امریکا آ

Read more

ننگے پاؤں (2)

محبت کا مقناطیس مگر یہ تو پی ٹی وی سے منسلک ہونے سے بارہ برس پہلے کی بات ہے جب میں استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں کے سحر سے آشنا ہوا۔ میں ان دنوں نیشنل کالج آف آرٹس میں آرکیٹکچر پڑھتا تھا۔ سالانہ ڈنر تھا اور حسین و جمیل استاد امانت علی خاں اور موٹی آنکھوں والے جادوگر استاد فتح علی خاں دلوں کو سروں کی میٹھی آنچ سے گرما رہے تھے۔ وہ رات میری بہترین

Read more

ایاز میلو اور جیل کی ڈائری

ابھی میں سولہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی ہی میں تھا کہ سندھی شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ سلمیٰ لغاری کی طرف سے ایک پیغام مل چکا تھا کہ مجھے ”ایاز میلو“ میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ یہ سلمیٰ لغاری کوئی اور نہیں معروف ایکٹیوسٹ امر سندھو ہیں ؛ جی ایاز میلو کی مدارالمہام۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ نے بتایا تھا کہ سندھی عورت کی آگہی کے باب میں جتنا عملی کام امر سندھو اور ان کی

Read more

جنگ کی ڈائری (تیسرا حصہ)

الشفا کی چھت کے نیچے تم کیوں ان کو مار رہے ہو کیا ان بچوں سے خطرہ ہے جو ابھی انکیوبیٹر میں ہیں! یا ان عورتوں سے خطرہ ہے جن کا حمل ابھی تک ساقط نہیں ہوا ہے یا پھر تمہیں ان لوگوں سے خطرہ ہے جو عیسیٰ کی سنت کو قائم رکھنے پر اڑے ہوئے ہیں جو الشفا کی چھت کے نیچے کفنی پہنے کھڑے ہوئے ہیں! ان کو تم کیوں مار رہے ہو؟ ( 13 نومبر 2023)

Read more

بچوں کا جاسوسی ادب۔ چند زاویے

جاسوسی ادب کو اہلِ نظر نے ہمیشہ نگاہِ کم سے دیکھا ہے اور اس وقت بھی ایک کم نظر ہی اس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہا ہے۔ مصائب اور بھی ہیں پر جی کے جانے سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک بچپن کی تعریف اور حدود متعین نہیں ہوئیں، چناں چہ شیرخوار سے لے کر چالیس سالہ بزرگ تک بچہ سمجھ لیا جاتا ہے : چہل سالِ عمر عزیزت گزشت مزاجِ تو از حالِ طفلی

Read more

مشرق اور مغرب میں ماں بننے کا عمل

چند روز یا چند ہفتوں کی سیاحت سے کسی شہر یا کسی ملک کے بارے میں کوئی معتبر رائے قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس معاشرے کے لوگوں کے رویے اور طرز زندگی سے متعلق کوئی ”فتویٰ“ دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے بہت سے پاکستانی جب کسی یورپی ملک یا برطانیہ کی سیاحت کے لیے آتے ہیں تو چند روزہ سیر سپاٹے کے بعد وہ جس طرح ان غیر ممالک کے بارے میں اپنی ”ماہرانہ رائے“ دیتے

Read more

جنگ کی ڈائری (دوسرا حصہ)

یرغمالی میں تم کو مارنے آیا تھا لیکن تمہارے سامنے یہ انگلیاں شل ہو گئی ہیں جو ٹریگر کو دبانے کے لئے بیتاب تھیں اب تک ڈرو مت مجھ سے آؤ بیٹھ جاؤ سامنے میرے میں یہ تم کو بتانا چاہتا ہوں تمہاری شکل میری ماں سے ملتی ہے مجھے معلوم ہے باہر سے تم کو جو اشارے مل رہے ہیں کہ تم اک یرغمالی ہو نہایت ہوشیاری سے تمہیں مصروف رکھنا ہے مجھے اس وقت تک جب تک کہ

Read more

جریب کش اور یولکا: یوگوسلاویہ سے آئیو ایندریک کا افسانہ

آج صبح جریب کش ”پ“ نے جس کا تعلق ”س“ سے تھا، میری دہلیز پر اپنا تعارف کرایا۔ وہ ان ملاقاتیوں میں سے ایک تھا جو ضد یا اپنی ثابت قدمی کے ذریعے زبردستی گھر میں داخل نہیں ہوتے، بلکہ نچلی منزل پر واقع نشست گاہ میں اچانک نمودار ہو جاتے ہیں، غالباً وہ تحمل اور سکون سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتا، اس ملنسار اور بن بلائے مہمان کو اپنے سامنے

Read more

ننگے پاؤں

شیر کے کرتبوں کے بعد تھائی لینڈ کا ایک نوجوان جوڑا سرکس کے ایرینا میں داخل ہوا سرکس کا وسیع خیمہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور اسی ہجوم میں، میں بھی محو تماشا تھا۔ دونوں نے پاؤں میں سکیٹس باندھے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں ہاتھ دیے گول ایرینا کا چکر لگا رہے تھے۔ پھر انہوں نے اس طرح ہاتھ تھام لئے جیسے ہمارے پنجاب میں لڑکیاں ککلی ڈالتے ہوئے پکڑتی ہیں اور سکیٹس پر ایک دائرے میں تیزی

Read more

گھر واپسی – افسانہ

اب میں واپس کیسے جاؤں؟ لیکن میں واپس کیوں جاؤں! میں اپنی مرضی سے گھر کو چھوڑ کر آیا تھا۔ میرا ایک مقصد تھا، ایسا مقصد جس کے حصول کے لئے ہر راستہ کو جائز سمجھا، ہر جاندار شے کو مٹانے کے قابل سمجھا، جو راستے میں جان بوجھ کر یا اتفاقاً آ جائے اس کو ہٹانا ضروری جانا، جو نہیں جھکا اس کو زبردستی جھکا دیا۔ وہ کتنا بڑا نصب العین تھا! ہمیں یہی بتایا گیا کئی سالوں سے۔

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 18

بلی تھیلے سے باہر آ گئی تھی۔ ہیثم کے جیل سے سے نکل بھاگنے کا راز کھل چکا تھا۔ اور اس پر تحقیقات شروع ہو گئیں۔ اینا نے باہر جانے کے لئے درخواست دی۔ اس درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ پیوٹن بھی اول درجے کا کائیاں تھا۔ اپنے مخالفوں کو چن چن کر قتل کروا رہا تھا۔ وہ تو اب اس کوشش میں تھی کہ کب اسے اجازت ملے اور وہ روس سے باہر جائے۔ پر

Read more

ممتاز شاعر احمد مشتاق کی پاکستان آمد اور ملاقات کا احوال

کبھی سان گمان میں بھی نہ تھا کہ احمد مشتاق صاحب سے ملاقات ہو گی اور اس ٹی ہاؤس میں ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا موقع ملے گا کہ جہاں ان کی گہرے دوستوں ناصر کاظمی اور انتظار حسین جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ ان کا وقت گزرا۔ مشتاق صاحب کو پاکستان سے گئے چالیس برس ہو گئے اور اس دوران وہ آخری مرتبہ تئیس برس قبل تشریف لائے تھے۔ ان تئیس برسوں میں ان کے چاہنے

Read more

قید محبت

”جانور اور پرندے کھلی فضاؤں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ زندہ چیزوں کو چھوڑیں قید میں تو در و دیوار بھی گہنائے جاتے ہیں، پتھر روتے ہیں اور ہوائیں چیختی چنگھاڑتی ہیں۔“ بیگم سنی ان سنی کر کے پنجرے میں موجود پرندوں کو دیکھ رہی تھی۔ ”یہ لو برڈ کی جوڑی دیکھو، یہ کسی ایک جگہ پر ٹکتے ہی نہیں۔“ ”ہاں! بالکل اس انسان کی طرح جس کے دل میں محبت بس جائے تو اسے کسی پہلو چین نہیں آتا۔“

Read more

امید گروں کی داستان

میں جو سوچوں تو کیا کیا نہ دیکھوں میں جو دیکھوں تو کیا کیا نہ سوچوں میں وہ قادر کہ گم قدرتوں میں میں وہ شاعر کہ چپ حیرتوں میں تجھ کو سوچوں تو کچھ بھی نہ دیکھوں تجھ کو دیکھوں تو کچھ بھی نہ سوچوں (عطا شاد) اس لیے کہ یہ کتاب، ون اینڈ ون میک الیون، اس طرح کی ہے کہ آپ کو سوچنے کے لیے بے پناہ مواد فراہم کرتی ہے۔ کچھ مصنف اور کتابیں ایسی ہوتی

Read more

راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری

ہم اردو سے محبت کرنے والوں، اردو کو سر سری لینے والوں، اردو کو غیر اہم کہنے والوں اور اردو کو انگریزی یا مقامی زبانوں سے کم تر سمجھنے والوں کے رویوں اور آراء کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ اردو پر ملک کی قومی زبان ہونے کا الزام ہے۔ آئین کی شق نمبر 251 کے مطابق اردو ملک کی قومی زبان ہو گی اور یہ الفاظ بھی انگریزی زبان میں درج ہیں۔ 2003 ء تک اردو کی بے ادبی جاری

Read more

گلاب پاش یا صندل کا پیڑ: زمانہ حال کی ایک نایاب کتاب

ادب میں نایاب کتاب اس کتاب کو سمجھا جاتا ہے جو یا تو انتہائی قدیم ہو اور بہت کم افراد کے کتب خانے کی زینت ہو یا پھر عرصے سے دوبارہ شائع نہ ہوئی ہو اور شائقین علم کی دسترس سے باہر ہو۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی کتاب شائع ہوئی ہے جو نہ تو مندرجہ بالا پہلی شرط پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی دوسری پر۔ لیکن میں اس کتاب کو پھر بھی نایاب کتاب کا درجہ

Read more

وہ اک تارا (17)

رات کا تیسرا پہر ختم ہو رہا تھا جب اس کی واپسی ہوئی۔ جیپ سے اتر کر اس نے اک ذرا رک کر پہلے آسمان کو دیکھا۔ ماسکو اور پیٹرزبرگ کی سفید راتوں میں اسے ہمیشہ ایک عجیب سا فرق محسوس ہوتا۔ وہ ماسکو کی راتوں کو کبھی سفید راتیں نہیں کہتی تھی۔ اس وقت سیاحوں اور لوگوں کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ سناٹا اور تنہائی تھی۔ ملگجا اجالا تھا۔ وہ فلیٹ میں داخل ہوئی۔ کچن میں گئی۔ کافی بنائی۔

Read more

من رنگ کے سو رنگ

جنوں پریوں کا گانا (4) ’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص) ’استاد سلامت

Read more

عارضی جنگ بندی

یہ افسانہ 25 نومبر 2023 کے دن کے متعلق ہے۔ بمباری بند ہونے والی ہے۔ یہ خبر ٹی وی کی خبروں کے ساتھ دنیا میں پھیل چکی تھی لیکن کیمپ میں نہ ٹی وی تھا نہ بجلی کہ فون یا ایمیل سے خبر مل جاتی۔ لیکن کوئی دوڑتا ہوا آیا تھا اور اس نے پھولی ہوئی سانسوں سے بتایا تھا کہ اس کو کسی نے بتایا ہے کہ جو بات چیت جنگ بندی کے لیے ہو رہی تھی وہ مکمل

Read more

 سلام پاشا کی خالہ۔ مصری افسانہ: محمود تیمور

ترجمہ: جاوید بسام۔ کراچی اس دن دارالحکومت سے نکلنے والے شام کے اخبارات میں سانحہ ارتحال کے صفحے پر سیاہ حاشیے کے درمیان ایک طویل پیغام شائع ہوا تھا۔ ”آہ بدقسمتی! گہرا غم! ایک نیک، پرہیزگار اور متقی خاتون اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں۔ وہ محترم محمد سلام پاشا کی خالہ تھیں جو ایک سابق سرکاری افسر اور اپنی مفید اور شاندار سرگرمیوں کی وجہ سے اشرافیہ کے مشہور ترین نمائندوں میں سے ایک ہیں۔ وہ

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 15

زندگی نے کیسے یکایک ڈرامائی موڑ مڑا تھا۔ دن رات کتنے حسین ہو گئے تھے۔ وہ ان مصائب اور مظالم کی تفصیل اسے سناتا۔ جس میں اس نے چھ سال کا طویل عرصہ گزارا۔ ”اینا تم یقین کرو گی ایسے بھی لوگ تھے جو ہم سے پیار کرتے تھے۔ وہ ہمارے دیوانے تھے۔ تمہارے بھی اور میرے بھی۔ الیکٹرک شاک کے لئے لے کر جاتے تو وہاں شاکس لگانے کی بجائے گپیں لگاتے۔ مجھے سکھاتے کہ مجھے کیسے Pretendکرنا ہے؟

Read more

جنگ کی ڈائری (پہلا حصہ)

آزادی کی قیمت آزادی پر کٹ مرنے کو موت اگر تم کہتے ہو مر جانا ہی اچھا ہے اس جینے سے جس میں ہر دن سسک سسک کر زندہ رہنا قدم قدم پر نام بتانا آتے جاتے ہر ناکے پر گھڑی گھڑی پہچان کرانا اس ذلت سے جینے سے تو بہتر ہے لڑ کر مر جانا تم نے ہم کو قید کیا ہے یہ وہ قید ہے جس میں پیدا ہونے والے بچوں کو یہ بھی تو معلوم نہیں باہر

Read more

اردو شاعری میں تازہ رجحانات

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے گرمانی مرکز زبان و ادب میں منعقدہ قومی کانفرنس کی اس نشست کے لیے، وہ موضوع جو میرے لیے طے ہوا ہے اس میں کئی کٹھن مقامات آتے ہیں۔ خود شعری اصناف ہی کو لے لیجیے، کس پر بات ہو کس کو چھوڑ دیں۔ غزل، نظم، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، قطعہ، شہر آشوب، رباعی، گیت، ماہیا، ہائیکو وغیرہ۔ کچھ کا فیصلہ تو وقت نے کر دیا اور انہیں پچھاڑ کر ایک طرف کر دیا۔

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 14

ایک سال، دو سال، تین، چار، پانچ، چھ سال سے بھی زیادہ کا وقت بیت گیا تھا۔ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کہیں آس کا مناسا دیا پھر بھی اس کے سینے میں جلتا تھا۔ اس کا فون ٹیپ ہوتا۔ اس کی تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ یہ پیوٹن کا دور تھا اور نوجوان پیوٹن سب کا استاد تھا۔ پانچویں سال کے وسط میں اسے پتہ چلا کہ وہ جنوبی سائبیریا کی اومسک جیل میں ہے۔ وہ بھاگی بھاگی

Read more

غبارے خاطر – پیروڈی

قلعہ کہنہ قاسم باغ 21 نومبر 2023ء مارا بغمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت خود سوئی ماندید و حیا را بہانہ ساخت صدیق کرم! آپ سے مخاطبت تو ایک بہانہ ہے کہ خوئے بدرابہانہ بسیار۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ”غبارے خاطر“ (Balloon Heart) کے عنوان سے ایک نسخۂ مکاتیب، تالیف کر رہا ہوں۔ یہ خامہ فرسائی اسی زنجیر خیال کا حلقۂ اول ہے۔ دیکھیے، ”نسخہ“ اور ”تالیف“ کی رعایت سے غالب خستہ کا کیا شعر یاد آیا ہے

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب داغؔ اور میرا سفر

(1) داغؔ کے متعدد اشعار پسند کرنے کے باوجود میں انہیں اپنے پسندیدہ شعرا میں شامل نہیں کرتا تھا۔ ہمارے نصاب پر میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ چھائے ہوئے تھے ؛ کالج میں فیضؔ اور راشدؔ کے چرچے تھے اور گھر میں ناصرؔ استاد کی صورت میں موجود تھے۔ میرے نزدیک بڑی شاعری کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ اسے سن کے منہ سے آہ نکلے یا واہ، اسے سمجھنے کے لیے کوشش کرنا پڑتی ہو اور بعض مقامات پر شارحین

Read more

ڈاکٹر خاور نوازش کی کتاب: ”موقف کی تلاش“

بد قسمتی سے پاکستان میں تنقیدی سوچ اور منطقی انداز فکر کو سراہے جانے کا چلن رواج نہیں پا سکا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو بھی بات ہمارے عقائد اور مسلمات سے متصادم ہو رہی ہو، اسے یا تو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر اس کے خلاف محاذ تشکیل دے لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری قوم دنیا

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر: 13

کوئی ڈیڑھ ماہ بعد کی بات ہے۔ اینا نے شام کو کام سے واپسی پر اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا۔ اسے امید تھی کہ ہیثم آ چکا ہو گا۔ صبح اس نے کہا تھا۔ ہیثم مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ ذرا وقت سے آجانا۔ گھر میں اندھیرا تھا اور سناٹا بھی۔ اس نے پورے گھر کی بتیاں جلائیں اور ہیثم کو کال کیا۔ اس کا موبائل بند تھا۔ چند لمحے وہ موبائل کو گھورتی رہی۔ ہیثم کبھی لا پروائی

Read more

اپنی باز نشستگی و خستگی پر

لو بھئی، ہوشیار باش، کہ آج ہم پوری طرح سٹھیا گئے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نے اپنے ایک مضمون میں ریٹائرمنٹ کا ترجمہ دوبارہ تھکاوٹ و خستگی کیا ہے۔ ہمارے ہاں سرکار انگلشیہ کے تتبع میں باز نشستگی و خستگی کی عمر ساٹھ برس ہے جسے عوامی محاورے میں ’سٹھیانا‘ بھی کہتے ہیں۔ لغت میں سٹھیانے کا مطلب لکھا ہے بڑھتی عمر کے سبب قویٰ مضمحل ہوجانا۔ غالب فرما گئے ہیں مضمحل ہو گئے قویٰ غالب اب عناصر میں اعتدال کہاں

Read more

سوویت یونین میں اقبال شناسی

علامہ اقبال نے اپنی دانش نورانی کی روشنی میں سوویت یونین کے قیام کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ یہ اشتراکی انقلاب ”لا سلاطیں لا کلیسا لا الٰہ“ کے مراحل سے آگے بڑھتے ہوئے الا اللہ کی منزل پر آ پہنچے گا مگر افسوس صد افسوس کہ روسی اشتراکیت نفی کے مقام سے اثبات کی جانب رواں دواں نہ رہ سکی نتیجہ یہ کہ بالآخر مٹ کر رہ گئی۔ روس کا یہ اشتراکی انقلاب

Read more

وہ اک تارا (12)

گاڑی عام طور پر اینا کے پاس ہوتی تھی۔ ہیثم عام روسی مردوں کے برعکس زیادہ لبرل تھا۔ اس کے بہت اصرار کے باوجود کسی اشد مجبوری کے تحت ہی گاڑی لے کر جاتا۔ بالعموم وہ اکٹھے نکلتے۔ اینا اسے چھوڑتے ہوئے اپنے دفتر آجاتی۔ آج گاڑی گیراج سے نکال کر وہ خود اسٹیئرنگ پر بیٹھا۔ اسے دفتر اتارتے ہوئے اس نے کہا۔ ”تین بجے تک اپنے کام نپٹا لینا۔ کہیں چلنا ہے۔“ وہ پوچھتی رہی۔ کہاں؟ کہاں؟ اس نے

Read more

جنت سے ایک خوان۔ یوسف ادریس کا افسانہ

منیات النصر کی گلیوں میں کسی کو بھاگتے ہوئے دیکھنا ایک عجیب بات تھی۔ وہاں لوگ کم ہی بھاگتے تھے۔ اگر عجلت کی کوئی وجہ نہ ہو تو کوئی کیوں بھاگے؟ قصبے میں وقت کا حساب منٹوں اور سیکنڈوں میں نہیں ہوتا تھا۔ ٹرینیں بھی روشنی میں چلتیں۔ پہلی طلوع آفتاب کے بعد ، دوسری جب سورج نصف النہار پر ہوتا اور تیسری غروب آفتاب سے پہلے۔ وہاں کوئی شور شرابا نہیں ہوتا تھا جو اعصاب کو برانگیختہ اور جلدی

Read more

"بر بساط غالب” پر جگنو کی جھلملاہٹ

ہمارا عہد، عہد میر و غالب سے الگ ہے رازؔ سو اب جگنو کریں گے گفتگو خورشید کے فن پر لیجیے، ایک جگنو سورج کی آب و تاب پہ روشنی ڈالنے کو حاضر ہے۔ میرے اس جملۂ معترضہ کو ادب سے ہٹ کر کچھ نہ سمجھیے گا۔ یقیناً حالات حاضرہ کا یہی خلاصہ ہے۔ مگر انھیں کے مطابق رازؔ تم مرزا بھی ہو، سو، تم بھی کر کے دیکھ لو حضرت غالبؔ کے جیسی پیش دستی ایک دن تو پھر

Read more

ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ ۔ آخری باب

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

شاہد مسعود: گہر کیا ہے صدف کی داستاں ہے

کچھ روز ہوتے ہیں کہ شاہد مسعود کے بارے میں ایک پوسٹ پر میں نے لکھا تھا کہ شاہد مسعود ایک چھٹا ہوا بد معاش ہے جس نے اپنی ساری زندگی شرافت اور خاموشی میں بسر کر دی۔ میرے تبصرے پر وہ اب تک چپ ہے۔ میرا پہلا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ مجھے خود سے زیادہ چھٹا ہوا بدمعاش سمجھتا ہو اور اس نے جوابی حملے کی بجائے خاموشی کی بکل مارنے کو ترجیح دی ہو۔

Read more

فائر الارم، محکمۂ سراغ رسانی اور کلچر شاک

کون جانے کہ جب آتی ہے ہنسی ہونٹوں پر درد کم ہوتا ہے یا درد سوا ہوتا ہے مجھے ہندوستان سے امریکہ آئے چند مہینے ہوئے تھے۔ ہر چیز حسین نظر آتی تھی: سڑکیں، گلیاں اور بازار کشادہ اور صاف۔ بسیں اور ٹرینیں بھیڑ بھاڑ شور شرابے سے پاک۔ دکانیں لبھاونی و من بھاونی۔ آسمان نیلا شفاف۔ سورج روشن چمکدار۔ دھوپ دھلی نہائی خوشگوار۔ راتیں خاموش، پرسکون و پر اسرار۔ پیڑ ہرے من بھرے راجا جی کے باغ میں دو

Read more

اُردو افسانہ :بیان اور بیانیہ کی آمیزش

فن قصہ گوئی کے تشکیلی عناصر میں ”بیانیہ“ کو اولیت حاصل ہے۔ بیانیہ کے بغیر کسی قصے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر قصے کا بیانیہ عام بیان سے مختلف ہوا کرتا ہے۔ عام بیان میں صرف ترسیل کو مرکزیت حاصل رہتی ہے، جبکہ قصے کا بیانیہ، طریقہ اظہار پر مرتکز رہتا ہے۔ افسانہ یوں تو فن قصہ گوئی کی مکمل اکائی کا محض ایک جزو ہے لیکن وقت کے بہاؤ کے ساتھ اب افسانہ ایک خود مکتفی

Read more

میرے ابا – دو یادیں

میرے ابا کی مسکراہٹ بڑی دلکش تھی۔ وہ مسکراتے تو کلیوں میں جان سی پڑ جاتی تھی۔ لب کشا ہوتے تو گلستاں بنا دیتے۔ وہ ایک معلم تھے اور اپنے علم، دلچسپ اندازِ گفتگو، خوبصورت تقریر، شعری ذوق، مزاحیہ گفتگو اور حاضر جوابی کے لیے علاقے میں مشہور تھے۔ ان کی علمیت اور دانشمندی کی دھاک مجھ پر بچپن سے بیٹھی تھی۔ میں ان سے ایسا مرعوب تھا کہ اُن کی عالمانہ موجودگی میں میرے حواس باختہ رہتے۔ ان کے

Read more

مطلع (ایک مکالمہ)

میرے استاد گرامی عارف وقار نے سرمد صہبائی کی اس تحریر پر ذیل کا تبصرہ کیا ہے۔ Being a Ghalib enthusiast, I have been in touch with this opening couplet of his Deevaan, since my school days. From the school master’s classroom notes to the university professor’s pedagogical explanations, and from Yousuf Saleem Chishti’s "Ghalib Made Easy” to Tabatabaee’s more scholarly commentary, I have seen almost everything said about "naqsh furyadi hai kiski…” but the truth is that nobody had

Read more

عابد حسن منٹو کی نظریاتی استقامت

عابد حسن منٹو کی سرگزشت ”قصہ پون صدی کا“ ہماری عوامی سرگزشت کا ایک عبرت ناک باب ہے۔ میں نے عابد حسن منٹو کو پہلے پہل گورنمنٹ کالج کیمبل پور (حال اٹک) میں یوم غالب کی ایک تقریب میں دیکھا اور سنا تھا۔ خود میں نے اس تقریب میں اپنا پہلا مضمون بعنوان ’غالب، غزل سے قصیدے تک‘ پڑھا تھا۔ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ہمارے اس کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور پروفیسر محمد عثمان ہر سال

Read more

ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ ۔ سولہواں باب

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

لاحاصل

جنوں پریوں کا گانا (3) نزاکت علی خاں صاحب کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد موسیقی میں میری دلچسپی اور بڑھتی چلی گئی۔ میں موسیقی کی ہر محفل میں شریک ہوتا اور آخر تک وہاں بیٹھا رہتا، اس زمانے میں میری دوستی اسلام آباد میں ہر اس شخص سے ہوئی جو موسیقی کا رسیا تھا اور خاص طور پر وہ لوگ جو خود گاتے بجاتے تھے میرے بہت قریب تھے۔ عارف جعفری جو کمال کی بانسری بجاتے۔ علم موسیقی

Read more

سجدہ – افسانہ

جب بھی وہ کسی انتہائی شدید جذبے کے زیر اثر بات کر رہی ہوتی، اس کے ماتھے پر ایک رگ پھڑپھڑانے لگتی تھی۔ عین وہاں سے، جہاں اس کی سلیقے سے بنی بھنووں کے درمیان صاف شفاف جلد ایک ابھار سا بنا کر پیشانی سے جا ملتی، وہ رگ وہیں سے لہراتی ہوئی نکلتی تھی۔ میں اس کے پہلو میں بیٹھا تھا، سامنے نہیں لہٰذا اس کا چہرہ سامنے سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اچانک اس نے لرزتی ہوئی آواز

Read more

قرض۔ برنارڈ میلامڈ کا افسانہ

عنوان: قرض۔ کہانی: برنارڈ میلامڈ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ نانبائی لائب کے تندور میں روٹیاں ابھی بھوری نہیں ہوئی تھیں، لیکن خریدار اس کی اشتہا انگیز خوشبو سے وہاں چلے آئے تھے۔ لائب کی دوسری بیوی بیسی کاؤنٹر کے پیچھے تیاری میں مصروف تھی کہ اس کی نظر لوگوں کے درمیان ایک خستہ حال اجنبی پر پڑی جو گیند بازوں کی ٹوپی پہنے کھڑا تھا۔ اگرچہ وہ چاق و چوبند خریداروں کے درمیان کافی بے ضرر لگ رہا تھا، لیکن بیسی

Read more

ڈاکٹر توصیف تبسم چلے گئے

محمد احمد جنہیں ہم سب شاعر، استاد اور ادیب ڈاکٹر توصیف تبسم کے نام سے جانتے ہیں پچانویے برس کی بھر پور اور قابل رشک زندگی گزار کے اگلے جہان کو رخصت ہو گئے۔ کہہ لیجیے وہ شخصیت چلی گئی جو ایک تہذیب کی نمائندہ تھا۔ شعر و ادب ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ جب تک وہ اسلام آباد کے جی نائن کے علاقے میں رہے ملاقات کی صورتیں تواتر سے نکلتی رہتی تھیں پھر وہ ڈی ایچ اے منتقل

Read more

”انارکلی“ ۔ اردو کا ایک شاہکار ڈرامہ

ادیب کا اخلاقی فرض یہ ہے کہ وہ، اپنے جمالیاتی شعور و ذوق کے ساتھ، فکر کی موزونیت، اسلوب کی نفاست اور تشبیہات کی فنکاری کو ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ، تقدیر کی لعنت اور روحانی جاہ و جلال کی جستجو کے درمیاں الجھے ہوئے انسانوں کی کشمکش، جرات اور دانش مندی کی وضاحت کرتے ہوئے، فن کا لازوال جواز پیش کرتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں انارکلی کو اردو کے ایک

Read more

محقق شیخ عزیز کی رقم کی گئی ”سندھ کی محلاتی داستانیں“

”یہ داستانیں، محض کہانیاں نہیں، جو کسی کہانی نویس یا افسانہ نگار کے ذہن کا اختراع ہو یا کسی محروم دماغ کے خوش کن مستقبل کی خواہش کا پرتو ہوں۔ بلکہ یہ کہانیاں وہ واقعات ہیں، جن کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے، جس طرح وہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ البتہ ماضی کے داستان گو اساتذہ کی طرح ان واقعات میں انداز بیان کو اسی طرح تبدیل کیا گیا ہے کہ ان واقعات میں تخیل کے ساتھ ساتھ زبان

Read more

2023 ء کا نوبل انعام برائے ادب

ادب کا نوبل انعام برائے 2023 ء ناروے کے مصنف جون فوس کو اس کی اختراعی و عصری تخلیقات کے لیے دیا جائے گا۔ سویڈش اکیڈمی نے رواں ماہ اس عالمی اعزاز کا اعلان کیا کہ 2023 ء کا ادب کا نوبل انعام ناروے کے جان فوس کو دیا جائے گا۔ فوس کے ڈراموں کو عصری عالمی سطح پر کافی مقبولیت حاصل ہے۔ سویڈش اکیڈمی کے مطابق، فوس ”اپنے جدید ڈراموں اور نثر کے لیے شہرت کے حامل ادیب ہیں۔

Read more

سفر تمام ہوا ہمرہاں بدلتے ہوئے : توصیف تبسم

:ادھر دفتر میں لنچ بریک کا وقت ہوا اور ادھر واٹس ایپ پر کال کی گھنٹی بجنے لگی۔ سکرین پر روشن سرخ اور سبز دائروں میں سے سبز پر شہادت کی انگلی پھیری اور رابطہ قائم ہو گیا ہیلو، السلام علیکم۔ کیا حامد یزدانی صاحب سے بات ہو سکتی ہے؟ میں توصیف ”تبسم بول رہا ہوں اسلام آباد سے۔“ دوسری طرف سے ایک مشفقانہ آواز کہہ رہی تھی۔ ” وعلیکم السلام، ڈاکٹر توصیف تبسم صاحب۔ میں، حامد یزدانی ہی بات

Read more

رؤف امیر ایوارڈ

(پاکستان یوتھ لیگ کی جانب سے ڈاکٹر رؤف امیر تعلیمی (وقف) ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رؤف امیر ممتاز شاعر، نقاد، محقق، استاد اور کئی کتب کے مصنف تھے اور جب وہ پاکستان چیئر، ایبلائی خان یونیورسٹی آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ورڈ لینگویجز، الماتی، قزاقستان میں خدمات سر انجام دے رہے تھے تو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ عالمی یوم تکریم اساتذہ کے موقع پر تقسیم ایوارڈ کی شاندار تقریب واہ کینٹ کے ایک

Read more

اے بے گنہی گواہ رہنا

(عزیز از جان دوست علی افتخار جعفری کے لئے یہ سطریں ان کی حیات مستعجل میں 2011ء میں تحریر کی تھیں۔ 9 فروری 2014 کو علی رخصت ہو گئے۔ دوست رخصت کہاں ہوتے ہیں۔ بس ہمارے شجر حیات کی ایک شاخ سبز کم ہو جاتی ہے۔ رائیگانی کچھ بڑھ جاتی ہے اور غریب الوطنی کا خنجر احساس میں کچھ اور گہرا اتر جاتا ہے۔) علی افتخار پانیوں کا شناور ہے دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے

Read more

اردو انشائیہ کی روایت

اردو ادب میں انشائیہ کب اور کیسے وجود میں آیا بہت ہی توجہ طلب موضوع ہے جس پر کافی بحثیں ہو چکی ہیں لیکن یہ فیصلہ کر پانا بہت ہی مشکل ہے کہ پہلا انشائیہ نگار کون ہے؟ جب ہم مغرب میں انشائیہ کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہماری نظر فرانسیسی ادیب مائیکل ڈی مونتین پر پڑتی ہے، مائیکل ڈی مونتین کو مغرب میں انشائیہ کا موجد و بانی قرار دیا جاتا ہے، فرصت کے لمحات میں انھوں

Read more

ہم نے جو بھلا دیا

جن دنوں میں زرعی یونیورسٹی لائل پور/فیصل آباد میں پڑھ رہا تھا، سرگودھا سے ایک نوجوان آتا، شہر کا ایک دوست ساتھ لیتا میرے ہاں آ جاتا تو خوب محفل جمتی تھی۔ میں جب سرگودھا گیا تو پہلی بار اسی دوست کے ساتھ وزیر آغا سے ملنے گیا تھا۔ یونیورسٹی کا زمانہ لد گیا تو ہمیں وقت جہاں لے جانا چاہتا تھا، ہم چلے گئے۔ ہمارے بیچ کوئی رابطہ نہ رہا۔ دوسرے شہروں میں کئی برس گزارنے کے بعد جن

Read more

جادوگر نے رکابی ہتھیا لی: نجیب محفوظ کا افسانہ

عنوان: جادوگر نے رکابی ہتھیالی۔ افسانہ: نجیب محفوظ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ ایک دن ماں نے مجھ سے کہا۔ ”وقت آ گیا ہے کہ تم کام میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔“ پھر جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے مزید کہا۔ ”یہ ایک پیاستر لو اور بازار سے کچھ پھلیاں خرید لاؤ، لیکن کھیل میں مت لگ جانا اور احتیاط کرنا کسی گاڑی سے ٹکرا نہ جاؤ۔“ میں نے رکابی لی، چپلیں پہنیں اور ایک دھن گنگناتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیا۔ جس

Read more

کچھ ملکوں میں تاریخ خود کو دہراتی ہے

  سوگ کے چند دن تو گزر گئے۔ شروع میں تو جس نے سنا، سکتے میں آ گیا۔ اگلے کئی دن سب نے دلوں میں گہرا الم محسوس کیا۔ سب بار بار افسوس کرتے۔ سوچتے : یہ بھی ہونا تھا۔ یہ ہوا کیسے؟ بے یقینی کی کیفیت محسوس کرتے۔ پھر سوچتے : یہاں وہ سب بھی ہوجاتا ہے، جو کسی نے سوچا نہیں ہوتا، البتہ کسی شریر بچے یا کسی داستان گو کے تخیل میں آ سکتا ہے۔ وہ جھنجھلا

Read more

منور آکاش: ترجمہ شدہ آدمی

منور آکاش کو میں نے پہلی دفعہ کب اور کہاں دیکھا، مجھے یاد نہیں۔ نہ ہی یہ یاد ہے کہ ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ یقیناً ہم پہلی دفعہ گول باغ کی کسی محفل، ملتان آرٹس فورم یا ذکرین لٹریری فورم کی کسی نشست میں ملیں ہوں گے۔ مجھے اتنا یاد ہے اس زمانے میں وہ اتنا دل برداشتہ نہیں ہوا تھا کہ ہمہ وقت اپنا سر بالوں سے پاک رکھے، بلکہ اس زمانے میں کونے کھدرے کے بالوں

Read more

آہ مستونگ!

آپ کی نعت کے ہم ہیں قابل کہاں کس زباں سے کہیں آپ کے امتی ہیں آپ جودوسخا، ہم ہیں ننگ جہاں ہم ہیں بار زمیں، آپ خیر الزماں آپ کی نعت کے ہم ہیں قابل کہاں آپ صدق و صفا، ہم ہیں مکروریا آپ لطف و کرم، ہم ہیں جورو جفا آپ کی نعت کے ہم ہیں قابل کہاں آپ رحم و دیا ہیں، خطا پوش ہیں ہم ہیں قزاق سب، ہم خطا بین ہیں آپ پورے محبت میں

Read more

ایک مسلسل احتساب

نجیب محسن وہاں عین برانچ کھلتے ہی پہنچ گیا تھا۔ اپنی نئی پوسٹنگ پر جب سے وہ وہاڑی آیا تھا تو اس کی بیوی مائرہ کی سانسیں کچھ زیادہ ہی اکھڑ گئی تھیں۔ مائرہ کے لیے جیسے کچھ بھی ٹھیک نہ ہو رہا تھا۔ یوں تو اس کا یہ عارضہ پرانا تھا مگر الرجی کا ایسا حملہ کہ چھاتی ہر بار زور سے دبا کر سانس بحال کرنی پڑے، ایسا پہلے نہ ہوتا تھا۔ ایسا کرنے سے اس کی پسلیاں

Read more

ملتان کے سات اخبارات کے ابتدائی دنوں کی کہانیاں

رضی الدین رضی کی یاد نگاری صحافتی زندگی کے حوالے سے اپنی یادوں کو قلمبند کرنے بیٹھا تو گویا دبستاں کھل گیا۔ کون سی خبر کب بنائی؟ کس ادارے میں کس کے ساتھ کام کیا؟ کس نے کتنی تن خواہ ہضم کی؟ کون اب کس حال میں ہے؟ اور کون اب حال میں ہے نہ مستقبل میں صرف ماضی بن چکا ہے؟ ایک ایسا ماضی جو ہمیں ناسٹلجیا میں لے جاتا ہے اور معطر رکھتا ہے۔ خیالوں کے اسی تسلسل

Read more

حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم

اگلے روز محترم محمد سلیم الرحمن سے ہلکی سی ڈانٹ کھائی تو قسم سے سرشار ہو گیا۔ ہوا یوں کہ محمد حسن عسکری کے ترجمے ”موبی ڈک“ پر ایک تعارفی شذرہ لکھتے ہوئے اس ترجمے کے بارے میں مظفرعلی سید کا ایک تبصرہ یاد آیا جو انہوں نے ڈی ایچ لارنس کے منتخبات کے ترجمے کے دوران لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”سمندر کی زندگی، وہیل کے شکار کی تفصیلات، ملاحی کی اصطلاحات، اور دیگر کوائف اس میں

Read more

وہ اک تارا :قسط نمبر 4

ویک اینڈ پر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ان کی کلاس کی ایک خصوصی وزٹ کالوگا کے لئے تھی جہاں دنیا کا پہلا ایٹمی بجلی گھر ہے۔ دو دن کے اس پروگرام نے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔ اگلے دن یونیورسٹی آئی تو جیسے ساری تھکن اڑنچھو ہو گئی تھی۔ ڈپارٹمنٹ میں خبر گردش کر رہی تھی کہ انقلابی شاعر یوجینی یوٹو شینکو کا لکچر ہے۔ ہیثم غالباً چھٹی منانے کے موڈ میں تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا۔ دوپہر

Read more

شاہد مسعود اور اس کا ”وقتاً فوقتاً”

گہر کیا ہے صدف کی داستاں ہے کچھ روز ہوتے ہیں کہ شاہد مسعود کے بارے میں ایک پوسٹ پر میں نے لکھا تھا کہ شاہد مسعود ایک چھٹا ہوا بدمعاش ہے جس نے اپنی ساری زندگی شرافت اور خاموشی میں بسر کر دی۔ میرے تبصرے پر وہ اب تک چپ ہے۔ میرا پہلا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ مجھے خود سے زیادہ چھٹا ہوا بدمعاش سمجھتا ہو اور اس نے جوابی حملے کی بجائے خاموشی کی

Read more

اسد محمد خاں: تہذیب، تاریخ اور فرد سے مکالمہ

”ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی“ کے ساتویں حصے میں اسد محمد خاں نے، جو ٹکڑے جوڑے ہیں ان میں اپنے بھتیجے / بھائی ناصر کمال کو بھیجی گئی ای میلز بھی ہیں۔ ناصر کو بھیجی گئی ایک ای میل میں پس نوشت کا اضافہ ملتا ہے جس میں ہمارے افسانہ نگار نے اپنے آنے والے ناول سے اقتباس دینے سے پہلے اپنا نام ’اسد محمد خاں‘ نہیں بلکہ ’اسد بھائی خانوں‘ ۔ لکھا ہے۔ ناول کا یہی اقتباس ”خانوں“ کے

Read more

امجد اسلام امجد کا فلیمنگ روڈ

معروف شاعر اور ڈراما نگار امجد اسلام امجد سے میری آخری ملاقات جولائی 2022 میں ان کے گھر پر ہوئی۔ وہ بڑی دلچسپ گفتگو کرتے تھے اس لیے کوئی نشست کتنا ہی طول کھینچ جاتی بندہ بور نہیں ہوتا تھا۔ اس دن ان سے بات چیت زیادہ تر لاہور میں ان کے آبائی علاقے فلیمنگ روڈ کے بارے میں ہوئی جہاں 30 کی دہائی کے اوائل میں، سیالکوٹ سے ہجرت کے بعد ، ان کا خاندان آباد ہوا تھا۔ فلیمنگ

Read more

مبارک قاضی اور شہر کی دیواروں پہ رہ گئے اشعار

موجودہ دور میں بہت کم زبانیں ایسی رہ گئی ہیں جن کے بولنے والے اپنی صلاحیتوں کا اظہار انہی زبانوں میں کریں۔ بڑی زبانیں جیسے انگری، مینڈریڈ یا ہندی و اردو وغیرہ چھوٹی زبانوں کے لئے خطرہ ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی زبانوں کے قاری بڑی تعداد میں موجود ہیں اس لئے اکثر لکھاری انہی بڑی زبانوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مگر جو مٹھاس مادری زبان میں موجود ہے اور ایک لکھاری جس طرح اپنی مادری زبان میں اپنے خیالات

Read more

حاجی بھائی پانی والا۔ ایک تاثر

تقریباً چھبیس ستائیس برس قبل جب ساقی فاروقی صاحب نے اپنی نظم ’حاجی بھائی پانی والا ”ہمارے دوستوں یامین، الیاس ملک اور زکریا شاذ کو لندن سے بذریعہ ڈاک ارسال کی تو یہ ابھی احمد ندیم قاسمی صاحب کے جریدے“ فنون ”میں نہیں چھپی تھی۔ اس ارسالگی کی وجہ ہمارے ان دوستوں کا ساقیؔ صاحب سے وہ تعلق تھا جو ان لوگوں نے برسوں کی خط و کتابت اور لاہور میں کشور ناہید صاحبہ کے گھر ساقی صاحب سے ایک

Read more

شکیلہ رفیق کے افسانوی کردار: سماجی حبس اور جنسی گھٹن

شکیلہ رفیق افسانہ نگاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں جو حقیقت پسندی کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے فنکار تخیل کے مقابلے میں تجربے اور مشاہدے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اپنے فن میں معاشرتی حالات اور تضادات کی عکاسی کرنے اور سماجی سچائیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شکیلہ رفیق اپنے افسانوی مجموعے ’قطار میں کھڑا آدمی‘ کے دیباچے میں لکھتی ہیں : ”میں بھی اپنی کہانیوں کے موضوعات براہ راست زندگی

Read more

وہ اک تارا (3)

ہیثم یہاں سے ٹرین میں اب سیدھا اپنے گھر چیچنیواینگوش جانا چاہتا تھا۔ پر اینا نے کہا۔ ”نہیں ہیثم منرالنئے وودی تک چلتے ہیں۔ تم نے یہاں کے شفا بخش چشموں اور حماموں کا ذکر کیا ہے۔ پھر پیاتی گورسک بھی وہیں قریب ہی ہے۔ ہمارے شاعر میخائل لیرمونتوف یہاں اکثر آیا کرتے تھے۔ ایسے مواقع کب ملتے ہیں۔ تم تھے تو یہاں آ گئی ہوں۔ اب جو جو اہم چیزیں ہیں وہ دیکھتے جاتے ہیں۔ “ گاڑی سے کوئی

Read more

وارث علوی: ناقدوں کے ناقد

اب تو اس واقعے کو کئی برس ہو چلے ہیں، رات گئے منشا یاد کا فون آیا اور چھوٹتے ہی پوچھا تھا: ”آپ ای میل کا جواب کیوں نہیں دیتے؟“ حملہ اتنا اچانک تھا کہ میں ایک لمحے کو بھونچکا رہ گیا، سوچا لیکن سمجھ میں کچھ نہ آیا تو الٹا سوال کر دیا : ” کون سی میل کا جواب منشا صاحب؟“ ”میں ساجد رشید کی میل کا ذکر کر رہا ہوں، ساجد نے ایک میل تین بار بھیجی

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (15)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

عمیر نجمی: جدید اُردو غزل کا مصور شاعر

اکیسویں صدی اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ شاعر میسر آ رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے اردو غزل کا بانکپن مضمحل ہونے کی بجائے مزید نکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے سوشل میڈیا نے اردو غزل کو مزید وسعت دی ہے۔ شاعر پہلے غزل کہتا تھا۔ دوست احباب کو سُناتا تھا۔ اس کے بعد بھول بھال جاتا تھا۔ زیادہ تعریف و تحسین کی خواہش ہوئی تو

Read more

مبارک قاضی: بلوچستان کے خدائے سخن تھے

نامور مزاحمتی شاعر مبارک قاضی کے انتقال کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو بلوچستان کے میر تقی میر تھے۔ جیسے ہم اردو کے مزاحمتی شاعروں میں فیض، فراز اور جالب سے محبت کرتے ہیں بلوچستان کے عوام اسی طرح مبارک قاضی کو مبارک سمجھتے تھے۔ کسی اور کی تو بات ہی چھوڑیں میں جو شعر و ادب اور صحافت سے جڑا رہتا ہوں اور خود کو باخبر بھی سمجھتا ہوں، مجھے بھی آج ان کے انتقال کے بعد

Read more

چوتھا کونا دھندلا خاکہ اور احمد ہمیش

کئی سال پرانا واقعہ ہے ؛ جون کا مہینہ تھا۔ شاید دوسرا ہفتہ رہا ہو گا میں اندرون سندھ سے گھومتا اور وہاں کی شدید گرمی سے اُکتایا ہوا کراچی پہنچا تھا اور خواہش کرنے لگا تھا کہ کراچی کے کچھ ادبی دوستوں سے ملاقات ہو جائے۔ کیسے؟ کہ میرے پاس کسی کا فون نمبر تھا، نہ اتا پتا۔ خیر اُن دنوں، محمود واجد کا ”آئندہ“ باقاعدگی سے نکل رہا تھا۔ یاد آیا اُن کا ایک پرچہ، میں گھر سے

Read more

عطا الحق قاسمی کے سفر نامے

کچھ سال ہوتے ہیں، میں نے اورحان پامک کی ایک کہانی پڑھی تھی وہی جس میں پامک نے لکھ رکھا ہے کہ جب فتح مند فاخر شاہ نے صلاح الدین خان کو شکست دے کر قتل کر دیا تو رواج کے مطابق کتابوں کی جلدیں اکھڑوا کر انہیں ازسر نو مرتب کروایا گیا۔ یوں صلاح الدین خان کے کارنامے فاخر شاہ کا حصہ ہو گئے۔ جب کتاب کے تصویری حصے میں شاہی مصور فاخر شاہ کو داخل کر رہے تھے

Read more

پنچم کا فراق

جنوں پریوں کا گانا (2)  ’ خاں صاحب آپ میرے گھر میں رہیں‘ استاد نزاکت علی خاں صاحب ایک دو ہفتے کے بعد مجھے لاہور سے اسلام آباد ملنے آ جاتے، کہتے لاہور میں ان کا دل نہیں لگتا، میرا دو بیڈ روم کا گھر کوئی اتنا بڑا تو نہیں تھا کہ میں کسی کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دے سکتا لیکن جب خاں صاحب تیسری بار مجھ سے ملنے آئے تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں

Read more

گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں

ن م راشد کی نظم ”گماں کا ممکن : جو تو ہے میں ہوں“ میرے لیے یوں اہم ہو گئی ہے کہ اس کے وسیلے سے اگر کوئی چاہے تو ان سارے مخمصوں کی بنیاد کو تلاش کر سکتا ہے جو راشد کی شاعری میں یہاں وہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ یہی مخمصے اس کے زندہ وجود ہونے پر دال بھی ہیں جو سوچتا ہے، کئی سوالات اٹھاتا ہے اور اپنے تئیں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے جتن کرتا ہے۔ اچھا،

Read more

ہابیل اور قابیل: جیک لنڈن کی ایک کہانی

وہ اسے دروازے پر کھڑی ملی۔ ”تم کچھ جلدی نہیں آ گئے جارج؟“ ”جلدی کہاں؟ ساڑھے آٹھ تو ہو گئے ہیں۔ اور ٹرین سوا نو بجے چل پڑتی ہے۔ اگر اگلی ٹرام نہ پکڑی تو ٹرین نکل جائے گی۔ کہاں ہے الیگزینڈر؟“ ”میں ابھی بلاتی ہوں۔ “ لیکن وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپا نہ سکی۔ جارج نے نرم لہجے میں کہا۔ ” فکر نہ کر و، شارلٹ۔ ڈاکٹر فرینکلن اپنے شعبے میں اونچا نام رکھتا ہے۔ الیگزینڈر ٹھیک

Read more

جو تیری طرح جیتے ہیں وہ مرتے کب ہیں

جاوید حیدر سے پہلی ملاقات کی دو باتیں میں آج تک نہیں بھولا۔ ایک تو یہ کہ ان کی قمیض کے اوپر والی جیب سے تھوڑا باہر جھانکتا ہوا سگریٹ کا پیکٹ اور ان کا ہاتھ جن سے ہاتھ ملانے سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ گرم ہیں۔ ”آپ کو بخار ہے۔“ میں نے پوچھا تھا۔ ”نہیں تو بالکل نہیں۔“ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ ”میرے ہاتھ گرم ہی رہتے ہیں مگر مجھے بخار نہیں ہے۔“ ہماری پہلی

Read more

گرمیوں کی ایک رات

منشی برکت علی عشا کی نماز پڑھ کر چہل قدمی کرتے ہوئے امین آباد پارک تک چلے آئے۔ گرمیوں کی رات، ہوا بند تھی۔ شربت کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے پاس لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ لونڈے چیخ چیخ کر اخبار بیچ رہے تھے، بیلے کے ہار والے ہر بھلے مانس کے پیچھے ہار لے کر لپکتے۔ چوراہے پر تانگہ اور یکہ والوں کی لگاتار پکار جاری تھی۔ ’’چوک! ایک سواری چوک! میاں چوک پہنچا دوں!‘‘ ’’اے حضور کوئی

Read more

مصر کے بازار میں پاکستانی شاہ کار

مصر کے صدر جمال عبد الناصر پاکستان کے مقابلے میں بھارتی قیادت سے زیادہ قریب تھے اور پاکستان کے بارے میں یعض اوقات چبھتے ہوئے جملے بھی کہہ جاتے تھے جیسے کہ14؍ اگست کو پاکستان کے ساتھ اسلام بھی اتارا گیا ہے۔ اس جملے کے راوی سردار محمد اکبرخان ترین ہیں جن کا شمار بلوچستان کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ وہ وکیل ہیں لیکن ہماری فیوڈل کلاس کے ایک حصے کی روایت کے مطابق تاریخ اور سیاسیات عالم سے

Read more

گفتگو روشنی ہے

(محمد حمید شاہد ہمارے درمیان موجود ایک نادرہ روزگار، منفرد اور رسیلے شخص کا نام ہے۔ کیا خوبصورت زندگی ہے کہ علم، حیرت اور تخلیق سے عبارت رہی ہے۔ محترمہ لبنیٰ صفدر نے لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ”ارژنگ“ کے لیے محمد حمید شاہد سے ایک مصاحبہ کا اہتمام کیا، جس میں بہت اہم ادبی موضوعات زیر بحث آئے۔ محمد حمید شاہد کے جوابات تو اپنی جگہ گہر بار تھے لیکن لبنیٰ صفدر نے بھی سوال کرنے کا حق

Read more

ناول بت پرستوں کی نئی نسلیں (14)

نوٹ : بُت پرستی اُن کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو اُن کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ِہلاہل تھا، جو اُن کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بُت کو تراش کر اُس کی پُراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود اُن کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

گناہ کی تقریظ

(فروغ فرخ زاد کے نام) دیوی، دیکھو! یہ میں ہوں، ہماچل کی ترائی میں بھٹکتا وارفتہ اور آشفتہ خواہش میری آنکھ میں نرت کرتی ہے بھوگ مری انگلیوں میں برجو مہاراج جیسا ناچتا ہے اندرانی رحمان جیسی سجل کاٹ ہے کامنا کی چھاتیوں میں میں نے گناہ کو تکریم دی اور اعلان کیا گناہ شعور سے کیا گیا فیصلہ ہے پرکھوں کی خجالت سے انکار کرتے ہوئے کائی لگی راہوں سے گریز کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے اندھیروں سے پرے

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر2

جس شام وہ ماسکو ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹیں خرید کر گاڑی کے انتظار میں ویٹنگ لاؤنج میں پاس پاس بیٹھے۔ ہیثم نے اس کی قدرے سرخی مائل تھکی تھکی آنکھیں دیکھ کر پوچھا۔ ”خیریت؟“ ” ہیثم میں ساری رات اس خطے کو جوبحر منجمد شمالی کی برفانی دلدلوں سے تبت اور ہمالیہ تک پھیلا ہوا کبھی کا دشت ایشا اور آج کا وسط ایشیا کہلاتا ہے، پڑھتی رہی۔ یقین مانو اس کی دلچسپ تاریخ نے مجھے آنکھ نہیں جھپکنے دی۔

Read more

بخت یوسف

آج کے یوسف کو کنویں میں پھینکنے والا کوئی نا تھا۔ انسان کی اس سے بڑی خوش بختی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا کوئی بھائی نا ہو۔ یعقوب اپنے بیٹے سے محبت کے لیے گاؤں بھر میں مشہور تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام یوسف رکھا تاکہ وہ مصری تاریخ میں بسی باپ بیٹے کی لازوال محبت دہرا سکے۔ یوسف بھی باپ سے لمحہ بھر جدا نا ہوتا تھا۔ باپ بیٹے کی یہ محبت دیکھ کر پورا

Read more

ماڑی چڈھیاں والی

جب وہ میرے پاس بیٹھے بیٹھے ان سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی جو ایک ایسے ہال میں اترتی تھیں جس کی دیواروں پر چھت تک نصب چوبی تختے کتابوں سے لدے ہوئے تھے، جی، ان کتابوں سے جو میری عمر بھر کی کمائی تھیں اور نہ جانے ایک ایک کر کے میں نے کہاں کہاں سے اور کتنے جتنوں سے جمع کی تھیں، تب مجھے یاد آیا تھا کہ پچھلی بار اس نے میرے پہلو میں بیٹھے بیٹھے یوں

Read more

چراغ آفریدم… رفعت سجاد کا ناول ”چراغ آخر شب“

چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ پنجواں میں بالن آئیاں بھلا اور یہ پانچواں چراغ جلایا ہے رفعت ناہید سجاد نے۔ ”چراغ آخر شب“ جب ابھی چھپا بھی نہیں تھا، (اور اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے میں دکھی اور بہت شرمندہ ہوں) کہ مجھے ایک سخت وہم نے آ لیا تھا کہ رفعت نے یہ ناول قرۃ العین حیدر کے ناول "آخر شب کے ہمسفر” کے چھتنار درخت تلے بیٹھ کر تحریر کیا ہو گا کیونکہ اس کے عنوان سے

Read more

میر تقی میر کی آہ سے میری آہ تک

فسانہ ہائے شب غم ہے داستاں میری گئی نہ آہ کبھی سوئے آسماں میری جی ہاں یہ میری ہی ایک غزل کا مقطع ہے مگر زمین میر تقی میرؔ کی ہے میر تقی میرؔ جدید اردو طرز سخن کا بانی ہے۔ اس سے پہلے دکن کے ایک بادشاہ کو اردو کا اولین شاعر اور اردو غزل کا جدید معمار تصور کیا جاتا ہے۔ تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا

Read more

وجاہت مسعود! ہم تمہارا انتظار کرتے ہیں

جب تم دونوں، معاف کرنا، چاروں آنکھوں سے شرارت اور غصہ انڈیلتے ہوئے جمال اشرف کے پنجابی افسانے پر خوفناک سوال پوچھتے تھے تو صابر لودھی اور اقبال حیدر بٹ ہی نہیں، پوری پنجابی مجلس محظوظ ہوتی تھی ادھر مجلس اقبال کے اجلاس میں، شفقت اللہ اور میں تمہارا انتظار ہی کرتے رہ جاتے کہ گورنمنٹ کالج بہر حال تمہارے لئے ایک ٹوڈی درس گاہ تھی ہم تمہارا انتظار کرتے رہے تم بیاہ کر کرشن نگر جا پہنچے اور پھر

Read more

ناول نین تیرے انجان

ناول نگار کنول بہزاد تبصرہ دعا عظیمی ’نین تیرے انجان‘ جسے کنول بہزاد صاحبہ نے لکھا ہے اپنے عنوان کی طرح رومانوی ناول نہیں ہے۔ یہ ایک معاشرتی ناول ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک دیہات سے ابھرتی ہوئی یہ کہانی چلتے چلتے پاکستان کے دل تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان کا دل یعنی لاہور۔ شہر لاہور کی محبت لکھنے والی کے قلم سے یوں ٹپکتی ہے جیسے رس گلے سے شیرہ ٹپکتا ہے۔ بندہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے

Read more

جاوید انور: ہزارے کا مہمان کیا بولتا

جاوید انور بیسویں صدی کے ربع آخر کے نظم نگاروں میں ایک نمایاں نام تھا۔ میں نے ”تھا“ لکھ دیا اور لکھ چکا تو دل میں ایک ٹیس اٹھی کہ یہ نام تو ابھی دل میں زندہ ہے مگر ہمارا یہ نظم نگار دوست نہیں رہا۔ میں آج اس کی ایک بہ ظاہر نٹ کھٹ نظم کو یاد کرنا چاہ رہا ہوں۔ ہمارے اس دوست نے ادھر ادھر بہت ہنگامہ بپا کیا اور دیار غیر میں جا بسا تھا پھر

Read more

گلزار ملک کا ناول: ”گمشدہ میراث“

فیصل آباد میں ادبی اور شعری روایت آغاز سے اب تک کم و بیش ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے۔ پرانے اخبارات، رسائل اور انجمنوں سے مل جانے والی قرار داد کے ذریعے سے یہاں کا جو شعری منظر نامہ مرتب ہوتا ہے اس میں ن م راشد پہلے اور بڑے شاعر ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بہت سارے ایسے شاعر اور شاعرات سامنے آتے ہیں جنہوں نے اس شعری منظر نامے میں اپنی اپنی

Read more

مجھے یہ نظم نہیں لکھنی چاہیے تھی

یہ نظم لکھنے سے بہتر تھا میں کچھ دیر چھت پر چہل قدمی کرتے ہوئے چہار اطراف دور تک پھیلی اونچی نیچی بے ہنگم عمارتوں کی ساخت پر غور کرتا یا پلستر کی دراڑوں سے نکلتی چیونٹیوں کے بارے میں سوچتا کہ ان کی اوسط عمر کتنی ہے یہ نظم لکھنے سے بہتر تھا میں ریڈیو کے لیے نئے سیل خرید لاتا جو کب کے ختم ہو چکے ہیں یا پرانا ٹیپ ریکارڈر ٹھیک کرانے چلا جاتا جو کئی برسوں

Read more

تصوف کی بھینٹ چڑھائی گئی لڑکی کی کہانی: دخترِ رومی

انعام ندیم ایک عمدہ شاعر، مرتب اور مضمون نگار تو ہیں ہی لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ ایک مستند مترجم کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ کردہ ناول ”دوزخ نامہ“ سن دو ہزار میں چھپا اور مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے کچھ اور ترجمے سامنے آئے، جن میں ”بھیشم ساہنی کی کہانیاں“ ، ربی سنکر بال کا مولانا روم پر لکھا ناول ”آئنہ سی زندگی“ اور حال ہی میں برطانوی مستشرق مینوئل موفروئے

Read more

شوکت واسطی کی شاعرانہ جنت

میں وہ خوش بخت ہوں جسے زندگی میں بالکل الگ مزاج رکھنے والے کہہ لیجیے عام روش سے ہٹے ہوئے مگر اپنے فن میں ماہر لوگوں سے ملنا رہا ہے۔ انہیں محض اپنے فن میں ماہر کہنا شاید ایسی شخصیات کی توہین ٹھہرے کہ وہ جس فن سے وابستہ رہے اور عمر بھر رہے، اُس کی فضا میں ہی رہے ؛ وہ بھی یوں، جیسے مچھلی پانی میں رہتی ہے۔ گویا اُن کا جینا مرنا وہی تھا اور اسی سے

Read more

بدقسمتی انسانوں تک کیسے پہنچی؟ (امیزون کی لوک کہانی)

یہ کہانی سرینام کے امیزون کے قبائل کی لوک کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کہانی کو ہم نے ولندیزی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ کوشش ہے کہ اردو قاری تک امیزون کے خطے کی کہانیاں پہچائی جا سکیں: صفدر زیدی بہت ہی پرانی بات ہے، اس وقت تک ہمارے دادے اور نانے تک پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت دنیا بالکل مختلف نظر آتی تھی۔ درخت ہمیشہ پھلوں سے لدے ہوتے تھے۔ جانور مکمل امن سے ایک دوسرے

Read more