صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 3: انکل اور آنٹی

پھر اُس نے اپنے شاگردوں کی طرف نظر کر کے کہا، ”مبارک ہو تم جو غریب ہو کیوں کہ خدا کی بادشاہی تمہاری ہی ہے۔ مبارک ہو تم جو اب بھوکے ہو، کیوں کہ آسودہ ہو گے۔ مبارک ہو تم جو اب روتے ہو، کیوں کہ ہنسو گے۔“ لُوقا 6 : 20۔ 21 مجھے دانی ایل نے صرف اتنا بتایا تھا کہ روزانہ شام کو ایک گھنٹہ ہوم ورک کرنے میں بہت سے بچوں کی مدد کرنی ہے کیوں کہ

Read more

مفت مشورے

یوں تو اس مہنگائی کے دور میں مفت کچھ نہیں ملتا لیکن ہمارے ہاں مشورے مفت ملتے ہیں۔ آپ لینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں، آپ کو مشورے کی ضرورت ہے یا نہیں اس کی مفت کے مشورے دینے والوں کو چندا فکر نہیں۔ وہ اپنا فرض جان کر آپ تک مفت مشورے ضرور پہنچائیں گے۔ مفت مشورہ دینے میں نہ رکاوٹ ہے نہ پابندی، نہ قابلیت کی ضرورت ہے نہ کوئی خاص صلاحیت درکار ہے سو بزرگ بچے،

Read more

وجاہت مسعود سے ملاقات (ادھوری چاہت کی تکمیل)

اچھے طالب علم کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں کی تحریروں کے ساتھ شامیں گزارتا ہو، جن کی لکھت سے صبح کا آغاز کرتا ہو، ان لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتا ہے۔ میں خود کو اچھا طالب علم تسلیم تو نہیں کرتا مگر اس کے باوجود ان لوگوں سے ملنے کی چاہت ہمیشہ رہتی ہے جن کی نثر اور شاعری سے گاہے بگاہے مستفید ہوتا ہوں۔ میری عادت ہے کہ صبح اٹھتے ہی

Read more

میرا جی: نگری نگری پھرا مسافر

"چلو تم ادھر کو ہواہو جدھر کی”۔ یہ حالی کا منشور تھا۔ "اک پل میں منسوخ کیے دیتا ہوں/ اس دنیا کو اپنی انگلی کی مستانہ جنبش سے/اپنے ذہنی ساز کی بہکی لرزش سے”۔یہ میراجی تھے۔ حالی —اور ان کا زمانہ بہ قول حسن عسکری استعارے سے خوفزدہ تھا۔ استعارے کا ڈر کب پیدا ہوتا ہے؟ جب آدمی اپنی نفسی دنیا سے بیگانہ ہو جائے اور خود کو باہر کے سپرد کردے۔ شاعر اگر خود کو باہر کے سپرد کردے

Read more

شکست تخت پہلوی (1)

محمد رضا شاہ پہلوی کا دن صبح سات بجے نیواران محل کی خواب گاہ کے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ شروع ہو جاتا۔ محل کے کمپاونڈ میں شاہ کی رہائش بھی تھی اور دفتر بھی۔ "صبح بخیر اعلی حضرت” امیرپور شجاع نے کہا۔ جب تک شاہ حمام سے آتے، ان کا ناشتہ تیار ہوتا۔ ٹوسٹ پر ہلکا سا مکھن اور شہد، پانچ یا چھ دانے خاص قسم کے سوکھے آلو بخارے کے اور مالٹوں کا جوس۔ شاہ سادہ

Read more

اپُن کا کرانچی (3)

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

ناول: چینی جو میٹھی نہ تھی

”چینی جو میٹھی نہ تھی“ نو آبادیاتی پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ہے۔ پہلی بار یہ 2013 میں ولندیزی زُبان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ 2016 میں پاکستان سے چھپا۔ اس کا ایک اردو ایڈیشن حال ہی میں بھارت سے بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2016 میں صفدر زیدی کا ناول بھاگ بھری شائع ہوا جو پاک بھارت جوہری ٹکراؤ پر تحریر کیا گیا تھا اور 2022 میں ان کا ناول بنتِ

Read more

(شاعر کی جادو نگاریاں) قدیم ہندوستان کے شاندار دور کی خوبصورت تصویر کشی

سرور جہان آبادی کی نظم ”لکشمی جی“ کا ایک جائزہ لینا اس مضمون سے مقصود ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان جس سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی بحران کا شکار ہوا اس کے اثرات آج بھی اس خطے کو اپنی زد میں لیے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا گیا، ان کا قتل عام کیا گیا، ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا گیا، لوگوں سے ان کی شناخت کو چھینا گیا۔ ایسی

Read more

ایران کے اسرائیل پر حملے میں اب تک جیت ایران کی؟

جنگ اور سیاست کو دفاعی ماہرین صدیوں سے شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے آئے ہیں۔ شطرنج کی بساط پر ہر شاطر کے پاس بادشاہ کو بچانے کے لئے سپہ سالار وزیر کی قیادت میں آٹھ پیدل سپاہی، دو رخ، دو گھوڑے اور دو ہاتھی ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں بڑے کھلاڑیوں کے لئے وہ وقت لڈیاں ڈالنے کا ہوتا ہے اگر کسی چال کی صورت میں اپنے سپاہی کو شہید کروا کر دوسرے کا ہاتھی، گھوڑا یا رخ گرا

Read more

خیراتی ہجومیہ، فتاویہ، پلاٹستان

پاکستان اور اسرائیل نظریات کی بنیاد پر بنے۔ اسرائیل نے زوال سے ترقی کا سفر طے کیا جبکہ ہم نے زوال آمادہ قوم کی حیثیت سے شروعات کیں اور زوال پذیری کی حد کو عبور کرنے کے بعد بڑی کامیابی سے زوال یافتہ قوم کے اعزاز کا گولڈن بٹن بھی پا لیا۔ ادھر انڈیا نے آزادی لی تو ہم نے محض پاکستان حاصل کیا جبکہ انگریز بھی ہماری مزید ذمہ داری اٹھانے سے آزاد ہوا۔ ایک طرف ہم نے خودی

Read more

سچائی – اطالوی افسانہ

افسانہ: لؤئیجی پیراندیلو۔ (اٹلی) مترجم: جاوید بسام۔ (کراچی) سارا ارجنٹو کو جس کی عرفیت ترارا تھی، جوں ہی کمرہ عدالت کے باقی حصوں سے باڑ لگا کر کٹہرے میں لایا گیا۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے پیلے پھولوں والا ایک سرخ سوتی رومال نکالا اور نشست پر احتیاط سے پھیلا دیا۔ تاکہ اس کے تہوار جیسے لباس پر داغ نہ لگے، لباس اور رومال بالکل نیا تھا۔ جب وہ آرام سے بیٹھ گیا تو کسانوں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 2 : آب زمزم سے بپتِسمہ

۔ تو یوحنّا نے اُن سے جواب میں کہا، ”میں تو تمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہوں مگر جو مجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے۔ میں اُس کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق نہیں۔ وہ تمہیں روح القدس اور آگ سے بپتِسمہ دے گا۔“ لُوقا 3 : 16 یہ اُس دور کی کہانی ہے جب پاکستان کو بنے ہوئے چودہ پندرہ برس ہی ہوئے تھے۔ زندگی بڑی سادہ تھی۔ کلومیٹر کی جگہ مِیل اور فرلانگ ہوتے تھے،

Read more

افسانہ: آٹھوں گانٹھ کمیت

یوں نہیں ہے کہ میری بیوی میرا دھیان نہیں رکھتی بل کہ واقعہ تو یہ ہے کہ اس کم بخت کا دھیان میری ہی طرف رہتا ہے۔ اَجی یہ کم بخت جو میری جیبھ سے پھسل پڑا ہے تو اس سے یہ تخمینے مت لگا بیٹھنا کہ خدانخواستہ ہم دونوں میں محبت نہیں ہے۔ میں اس خُوشبو بھرے جذبے سے دست کش ہو سکتا ہوں، نہ میری بیوی، کہ یہ سالی محبت ہی تو ہے جس کی آڑ میں کئی

Read more

غیر پیشہ ورانہ سیاسی روّیے بمقابلہ پیشہ ورانہ غیر سیاسی روّیے

پیشہ ورانہ روّیے غیر سیاسی ہوں گے اور سیاسی روّیے غیر پیشہ ورانہ ہوں گے، بیک وقت دو کشتیوں میں سواری ممکن نہیں۔ پیشہ ورانہ روّیوں کو سمجھنا مشکل نہیں اور سیاسی روّیوں کو سمجھنا آسان نہیں۔ مجھے بہت وقت لگا۔ سمجھ میں یہ آیا کہ سیاسی نظریہ رکھنا ایک بات ہے اور اس نظریے کی بنیاد پر سیاست کرنا الگ بات ہے۔ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ جب سیاسی مفادات وابستہ ہوتے ہیں تو نظریہ کہیں پیچھے رہ

Read more

نام میں کیا رکھا ہے : کیف الحال سے چوتھا انتخاب

پچیس سال پرانی یہ تحریر اردو ادب کی مزاحیہ صنف میں موجود قحط کو کم کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد نہ تو اہل عرب کی تذلیل ہے اور نہ ان کا مذاق اڑانا بلکہ یہ بتانا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست سے بنے انسان ہیں، جن کے زندگی گزارنے کے اپنے قاعدے قانون ہیں اب ان سے ہماری نا واقفیت کیا کیا گل کھلاتی ہے یہ ہمارا قصور ہے۔ تحریر کہ بعض حصوں

Read more

بڑے لوگوں کا بچپن: باتیں رضیہ فصیح احمد سے

ویسے تو اردو ادب کی لیجنڈ، ”آبلہ پا“ ناول آدم جی پرائز یافتہ، رضیہ فصیح احمد، جنہیں میں رضیہ آپا کہتی ہوں، میری زندگی میں ابتدائی لڑکپن سے ہی داخل ہو چکی تھیں لیکن صرف اپنی تحریروں کے حوالے سے۔ خوش قسمتی سے اب وہ باقاعدہ میری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ عمر کے فرق پہ مت جائیے گا۔ ہم دونوں ہی امریکہ نقل مکانی کے تجربے سے آشنا ہوئے اور ہم مزاج لوگوں کے متلاشی رہے ہیں۔ اسی تلاش

Read more

جوتی کلش چھلکے

آصف فرخی نے کسی زمانے میں اپنے ایک انگریزی مضمون میں محمد سلیم الرحمن کو Invisible Man لکھا تھا. اب ان وزیبل مین کا ترجمہ کیا ہو ؟ "نادیدنی آدمی” مگر نہیں؛ یا شاید "غیر مرئی آدمی”! غیر مرئی یعنی جسے کوئی دیکھ نہ سکے چھو نہ سکے! مگر سب سے سچی بات تو میر صاحب نے کہہ رکھی ہے دیدنی ہے پہ بہت کم نظر اتا ہے میاں  ہمارے سلیم صاحب ہیں ایسے ہی ادمی: دیدنی آدمی اور دیدنی

Read more

کاشف رضا اور ایک عورت کا باغ

نئی صدی کے طلوع ہوتے ہی جن نئے تخلیق کاروں نے ادبی منظر نامے پر اپنے دستخطوں کی ایسی فصل سجائی کہ وہ مرکز نگاہ ہو گئے ان میں سید کاشف رضا کو میں بہت نمایاں دیکھتا ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی ہیں اور ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ؛مگر ان کی ادبی اور علمی وابستگیوں کا دائرہ متنوع اور نہایت وسیع ہے۔ وہ عمدہ تخلیق کار ہیں ؛ عمدہ اور مختلف۔ شاعری، فکشن، تراجم غرض کون سا

Read more

ساحل پر لیٹی ہوئی عورت

شکاری مرگول آنکھوں سے اندھا تھا۔ اس کے اندھا ہونے کے پیچھے بھی ایک پراسرار داستان تھی۔ ہوا یو ں کہ ابھی یہ نگر آباد ہی ہو رہا تھا جس میں وہ رہتا ہے کہ وہ ایک تیز رفتار ہرن کے پیچھے بھاگتا ہوا یہاں تک پہنچا۔ وہ ہانپ رہا تھا اور ہرن یہاں پہنچ کر پہاڑی کے نیچے اوجھل ہوگیا۔۔۔ وہ سرحد تھی اور اس سے آگے جانے کاقانوناً حکم نہ تھا۔۔۔ اور قانون صرف انسان کے لیے ہے

Read more

قصوں کے میلے سے کچھ سوغاتیں

ایک محتاط اندازے کے مطابق مختلف معیاری، جامع اور ہمہ رنگ اصناف کے باوجود، نثری ادب میں ”آپ بیتی اور سوانح“ کو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنف کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ دیگر شعبۂ ہائے زندگی کے نمائندہ افراد کی تحریر کردہ آپ بیتیوں کے مقابل، اردو شعر و ادب سے وابستہ صاحبان قلم کی آپ بیتیاں اپنی ادبی چاشنی، مرصع اسلوب، دل آویز انداز بیاں، دل چسپ مشاہدات و واقعات کی بنا پر صاحبان ذوق

Read more

اُفتادِ طبع

اسے اُفتادِ طبع کا نام ہی دیا جاسکتا ہے کہ سماجی نفسیات پر انفرادی نفسیات غالب رہی۔ پہلی باقاعدہ نوکری، ایک نیا سماجی ادارہ اور گروہ جس کا مجھے حصہ بننا تھا۔ میرے لیے اگر کچھ نیا ہی پریشان کُن ہوتا تو ۔ نہیں ایسا تو نہیں۔ جو سفر جامعہ کراچی سے ہوتا ہوا گزرا وہ میرے لیے نئے نظریات و تصورات کا سفر ہی تھا۔ تو اس نئے سماجی ادارے سے منسلک ہونا پریشان کن کیوں ہوا؟ کیوں رہا؟

Read more

راجو بن گیا فلپس : کیف الحال سے تیسرا نمک پارہ

ابتدائیہ : یہ لگ بھگ پچیس سال پرانی تحریر ہے جو اس وقت لکھی گئی جب لکھاری حکومت پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے ایک نیم فوجی ادارے دفاع المدنی (شہری دفاع) کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ تحریر کیے گئے ہر مضمون کا ایک خاص موضوع تھا۔ جس میں مزاح کے ساتھ معلومات تحریر کی گئی تھیں۔ راجو بن گیا فلپس کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں رہنے والے غیر مسلم لوگوں کے مسائل اور ان سے تعلق

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 1 : بشیر چاچا

”یہ گرجے، یہ مسجدیں، یہ مندر تو صرف کچھ لوگوں کی روزی چلاتے ہیں ورنہ خدا کو کیا پڑی کہ وہ اس کا حساب رکھے کہ کون گرجا میں جاتا ہے، کون مسجد میں، اور کون مندر میں،“ جمعدار بشیر دین کہتے، ”میرا مذہب تو بس میرے اور خدا کے درمیان ہے۔ میں پچھلے بیس سال سے کسی چرچ میں نہیں گیا مگر میرا ایمان خداوند خدا اور یسوع مسیح پر لوہے کی طرح مضبوط ہے۔ کون مائی کا لال

Read more

ماریہ سے ماریہ تک کا سفر

کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جن کے اوپر لکھنے سے پہلے آپ کو اس ذہنی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے جس میں اس موضوع سے منسلک خبر آپ کو مبتلا کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ قارئین ایسے ہوں گے جو یہ بتانا فرض منصبی سمجھیں گے کہ یہ مسائل تو اب وجود ہی نہیں رکھتے اور آپ پچھلی صدی میں جی رہے ہیں اس لیے آپ ان مسائل کے بارے میں

Read more

اُردو غزل کا سفر: جمود، پسپائی یا پیش رفت

غزل یوں تو فارسیوں سے اِدھر اردو والوں کے ہاتھ لگی تو اس نے اپنا رنگ ڈھنگ بدلا۔ یہ ویسی نہ رہی تھی جیسی ایران میں تھی مگر 1857 ء کی جنگ آزادی سے لے کر انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے تک مجموعی طور پر اُردو شاعری کا مزاج بہت بدلا تو غزل بھی بدلتی گئی۔ کہہ لیجیے بدلتے ہوئے سیاسی سماجی حالات اسے بھی مسلسل بدل رہے تھے۔ 1857 ء کے ہنگامے میں غالب دہلی میں تھے اور انگریز مقامیوں

Read more

ملتانی ملنگ

”ہیلو ہیلو! ایکسیوز می۔“ اس نے ضرورت سے زیادہ بلند آواز میں سب کو متوجہ کیا اور کھانسنے کے بعد ڈائس پر رکھی تحریر پڑھنے میں لگ گیا۔ یہ رپورٹ اُس نے ابھی ابھی باہر انتظار گاہ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ اُس کے بال بکھرے تھے اور لگ بھگ چار پانچ دن کے بالوں نے بھری رخساروں پر سیاہی پھیری تھی۔ اُس کی توند ایک نیم فارمل قسم کی شرٹ میں تقریباً ایسے پھنسی تھی کہ جلد کی آخری

Read more

سندھ، انگریز اور کراچی

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

موت کا کنواں اور ذوالفقار علی بھٹو

ننگے پاؤں (10) میری پنجابی شاعری کی کتاب منتر کی ایک غزل کا مطلع ہے نرم گلابی بلہاں اتے لپ اسٹک چمکائی میرے سامنے بہہ کے اوہنے چورن نوں اگ لائی جنہوں نے چورن کو آگ لگانے کا منظر نہیں دیکھا وہ میرے اس پنجابی شعر کا مزا نہیں لے سکتے۔ ایک چورن بیچنے والا بائیسکل کو ہاتھ سے تھامے، اس کے کیرئیر پر چورن کا چھابا سجائے، دن کے پچھلے پہر گلی سے یہ آواز لگاتے ہوئے گزرتا ”

Read more

کیا سنسر شپ سے بھٹو کا نام تاریخ سے مٹ گیا؟

پاکستان میں سنسر کی تاریخ ہماری قومی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے۔ قائد اعظم کی تقریر اخبار میں سنسر کرنے کی کوشش ہوئی۔ فاطمہ جناح کی ریڈیو پر تقریر سنسر ہونے پر خاصا شور مچا۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ماضی کی سیاسی شخصیات پر بات کریں تو ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ سنسر کی زد میں کوئی سیاست دان نہیں آیا۔ ضیا الحق کے لیے بھٹو کا نام چھیڑ بن گیا تھا، اس لیے ان کے

Read more

روزے اور پکوڑے

قیدِ رمضان میں بھی یار لوگ کارِ شیطانی سے باز نہیں آتے۔ یہ ہوائی کسی دشمن نے نہیں، دوستوں نے اڑائی ہے کہ ہم پکوڑے کھانے کے شوقین ہیں اور اس درجہ شوقین ہیں کہ اگر کوئی پکوڑے جیسی ناک والی حسینہ اپنے ہاتھ میں پکوڑوں کی پلیٹ لیے ہمارے روبرو آئے تو ہم اس کی ناک پر ثمرقند و بخارا قربان کر دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ حسینوں اور پکوڑوں کے بارے میں ہمیں اپنی وارفتگی سے انکار

Read more

ناول ’ہڑپا‘ کا تخاطب پنجاب کی دیہاتی عورت

بہت کم ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اُردو ادب میں بہت ہی قلیل عرصہ میں ایسی معیاری تخلیقات پیش کی ہیں کہ جو بہت جلد عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ انہیں میں سے ایک ڈاکٹر طاہرہ اقبال ہیں جنہوں نے اپنے وسیع مشاہدہ و فکر و فن کی مدد سے منفرد اسلوب اختیار کیا اور اسے طاقت بناتے ہوئے پنجاب کی معاشرت و ثقافت کو اس کی حقیقی پہچان کے ساتھ بیان کیا۔ وہ باریک بین ہیں

Read more

ایک شام، انور مقصود کے ساتھ

میں زندگی میں ترتیب اور پلاننگ کا قائل ہوں، لیکن وقت اور حالات نے سکھایا ہے کہ کبھی کبھی اچانک اور بے ترتیب منصوبے ہمیں زندگی کی ان راہوں اور رازوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو ہماری زندگی کے خوبصورت لمحوں میں شمار ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ 25 فروری کو پیش آیا۔ جب کینیڈا سے آئے معروف ماہر نفسیات اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل کراچی میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز

Read more

بیگم سے جوال تک : کیف الحال سے دوسرا نمک پارہ

تحریر جو لکھاری کی خود نوشت سوانح و سفرنامہ سعودیہ کے لئے سن 1999 ء میں لکھی گئی۔ چوبیس پچیس سال میں پل کے نیچے سے محض پانی نہیں بلکہ تبدیلیوں کا پورا سمندر گزر چکا ہے۔ عربی کے مخصوص الفاظ کی وضاحت جملوں کے آخر میں کی گئی ہے۔ یاد رہے یہ پچیس سال پرانی تحریر ہے۔ *** پاکستان میں رہتے ہوئے ہم اکثر اس بات کا رونا سنتے تھے کہ پاکستانیوں کو اپنے اوپر ہنسنا نہیں آتا، لیکن

Read more

کیفے ڈی خان

بشارت صاحب کا دفتر ہماری اکثر آماج گاہ ہوتا ہے۔ گو ہم دونوں کی دنیا علیحدہ ہے۔ مگر دوستی بہت گہری اور فہیم ہے۔ کل ان کے ہاں نعیم خان صاحب آئے تھے۔ ارب پتی مہاجر ہیں۔ چار ممالک میں دس ہوٹل ہیں۔ مصر ہیں کہ بیرونی دنیا میں چکن تکہ انہی نے متعارف کرایا۔ ہارن پور بھارت میں دادا نے 1936 میں کیفے ڈی خان بنایا۔ چکن تکہ ان کی ایجاد ہے۔ بٹوارے پر لاہور آ گئے۔ پنجاب سیکرٹریٹ

Read more

ناول بے چارے لوگ کا تعارف و جائزہ

ناول کے مصنف فیودر میخائلو وچ دستوئیفسکی ( 1821۔ 1881 ) روس کے دارالحکومت ماسکو میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی ایک خیراتی اسپتال میں ڈاکٹر تھے گھریلو حالات بچپن سے ہی عدم خوش حالی کا شکار تھے۔ جوان ہوئے تو سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویشن کی اور وزارتِ انجینئرنگ سے وابستہ ہو گئے۔ بوجہ عدم دلچسپی اس نوکری سے مستعفی ہوئے اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ آپ روسی ادب کے نامور ناول نگار، افسانہ

Read more

سعودی اور پٹھان : کیف الحال سے پہلا نمک پارہ

سن 2001 ء میں سر زمین سعودیہ سے کسی کو لکھا گیا ایک خط۔ سنہ 2004 ء میں یوسفی صاحب کے حکم پر اسے 20 سال کے لئے پالنے میں رکھ دیا تھا۔ اور اب یہ ”یوسفی سائفر“ ، انتہائی خفیہ سے عام ہونے کو ہے۔ مضمون میرے غیر مطبوعہ سفرنامہ سعودیہ، ”کیف الحال“ کا حصہ ہے۔ ٭٭٭ پہلی بار صحرا میں جا کر اصلی سعودیوں سے ملا تو ان گندمی رنگت والے جفاکش، محنتی اور محبت کرنے والے لوگوں

Read more

دادی پھر سو گئیں

نانی تیری مورنی کو مور لے گئے۔ باقی جو بچا تھا کالے چور لے گئے۔ وہ کھانسنے لگیں، کھانستے کھانستے ان کی آنکھوں میں پانی بھر آیا، وہ دوپٹے کے پلو سے آنکھیں صاف کرنے لگیں۔ زین ان کی کمر پر ہاتھ مارنے لگا۔ ”دادی سناؤ، دادی سناؤ“ کھاتے پیتے موٹے ہو کے چور بیٹھے ریل میں ان چوروں کی خوب خبر لی موٹے تھانے دار نے ”نئیں نہیں، وہ وہ لکڑی کی کاتی“ ۔ وہ پھر شروع ہو گئیں

Read more

بول مٹی دیا باویا!

کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ زندگی ایک سسکی سے شروع ہوتی ہے اور ہچکی پر تمام ہو جاتی ہے مگر کس کی سسکی ؛عورت کی؟ اور کب کی ہچکی؛ دمِ واپسیں پر؟ زندگی کو آغاز دینے والی سسکیاں تو لذت کے لمحے نگل جاتے ہیں گویا یہ اس سطح کا وجودی تجربہ نہ ہوا جو زندگی کی تفہیم ہو سکے۔ رہا آخری ہچکی کا تجربہ، یہ یقینی سہی مگر اس کا ذائقہ جو بھی چکھ لیتا ہے وہ

Read more

کیا ہمارے ادیب کا تہذیبی وجود خطرے میں ہے؟

اگر آپ ادیب اور تخلیق کار ہیں یا کچھ ادب شناس اور ادب پرور ہیں یا اگر یہ نہیں بلکہ صرف جز وقتی ادیب ہیں اور دانشوروں کی محفلوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں تو ”کیا ہمارا ادیب اپنی تہذیبی شناخت کھو چکا ہے؟“ کے سوال کا آپ تسلی بخش جواب دے سکتے ہیں۔ اور اگر فرض محال آپ اس سوال کا ’ہاں‘ یا ’ناں‘ کسی بھی ایک آ پشن میں مدلل جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو

Read more

آغا حشر اور ”رستم و سہراب“

نیر مسعود کے افسانہ ”گنجفہ“ میں سادے لب و لہجہ کو اختیار کرتے ہوئے اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ جیسی ہماری قسمت ہوتی ہے ویسے ہی ہماری زندگی گزرتی ہے۔ اس افسانہ کے ادبی نقطہ نظر میں کوئی طنز، کوئی دکھاوا، کوئی اغراق اور کوئی شکایت اور بناوٹ نہیں ہے۔ اس کے باوجود، اس افسانہ میں پھیلی ہوئی تلخی افسانہ کو ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ افسانہ کے تمام کردار توقعات اور حقیقت کے درمیان تکلیف دہ تضاد

Read more

نصیب

اس کے لمبے قد کے آگے جب وہ ڈیڑھ فٹیا کھڑا ہو کر اس کے کرتے کا دامن کھینچنے لگا تو یوں محسوس ہوا چیونٹی ہاتھی کی سونڈ میں چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہزاد بس کے انتظار میں اسٹاپ پر کھڑا تھا جب وہ کالا بھجنگ بچہ بھیک مانگنے کے لیے اس کے عین سامنے پہنچ گیا۔ کتنی ہی دیر تک شہزاد کو اپنے نزدیک کسی کی موجودی کا احساس نہیں ہوا۔ چار سالہ کم زور لڑکا بنا

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا افسانہ ”کالی“

جو آزادی اور حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں وہ اب تک کوئی دین اور مذہب نہیں دے سکا۔ اسلام چاہتا ہے عورت معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے قوم و ملت کی ترقی کے لیے آگے بڑھے اور مردوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے کام انجام دے۔ اسلام کبھی عورت کو مرد سے کمتر نہیں سمجھتا اور نہ ہی مرد کو عورت سے بلند مقام دیا بلکہ دونوں کو برابر سمجھا اور برابر کے حقوق دیے۔ البتہ

Read more

سجنی کی باہیں

جگمیت کو دودھیائی چاندنی سے نہایا ہوا مکان دور سے نظر آ رہا تھا۔ سرد تیز ہواؤں سے اس کو بار بار جھرجھری آ رہی تھی۔ وہ نجانے آج کتنے کلومیٹر پیدل چل چکا تھا۔ کتنی بسوں میں بیٹھ چکا تھا۔ اب وہ گھر کے پاس پہنچ چکا تھا۔ پھول پتوں سے لدی ہوئی باہر کی دیوار کتنی سندر لگ رہی تھی۔ باہر کی طرف بونے بونے درخت قطار میں کھڑے ہوئے ہوا سے جھوم رہے تھے۔ نیلے رنگ کا

Read more

ایموجی: ایک نئی عالمی زبان

لفظ معنی کی ترسیل کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔ جب لفظ نہیں تھے معنی تب بھی موجود تھے اور ان کے ابلاغ کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بھی موجود تھا۔ وہ ذریعہِ ابلاغ کیا تھا؟ انسانی عقل کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ وہ ذریعہ اشارے، علامتیں، چہرے کے تاثرات اور لمس تھا یعنی آج کا ترسیلِ معنی کا تیز ترین ذریعہ ایموجی، معنی کی ترسیل کا قدیم ترین ذریعہ ہے یوں کہیے کہ جب لفظ بھی نہیں تھے تب ایموجیز

Read more

نوشین و نکتہ چین

نوشین:اچھا یہ بتاؤ، کہ تم کسی گھسی پٹی، گئی گزری، گری پڑی، مہمل اور لغو چیز کی تعریف کر سکتے ہو اگر کرنی پڑ جائے؟ نکتہ چین:یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ ایسے کتنے ہیں جن کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ نوشین:ارے یہ تم کس طرف پلٹ پڑے۔ میں تو دیکھ رہی تھی کہ تمھارے ہاں خوش اخلاقی کے کچھ امکانات ہیں بھی کہ نہیں۔ نکتہ چین:نیٹشا کا کہنا تھا کہ خوش خلقی میں اگر شدید بیزاری نہیں تو شدید حقارت

Read more

عاصم بٹ منفرد ناول نگار

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کشمیریوں کی گوت بٹ سے تعلق رکھنے والا عاصم ان بہت ساری خصوصیات میں منفرد سا ہے جن کے لیے اس برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ لا ابالی، بے فکرے پن اور قہقہہ بار سی صفات سے عاصم بٹ کی ذرا کم کم ہی شناسائی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہری ذہانت آمیز سنجیدگی اور ہونٹوں پر جمی خاموشی پل بھر کے لیے دیکھنے والوں کو کئی سوالوں کی

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا ٹیلی تھیٹر ”ذرا سی عورت“

ازدواجی زندگی کو خداوند عالم نے عورت اور مرد دونوں کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے جہاں مرد کو عورت کے روپ میں اور عورت کو مرد کے روپ میں ہمسفر، بہترین دوست، ہمدرد، دکھ سکھ کا ساتھی ملتا ہے۔ مگر جب معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے مرد بھی نظر آتے ہیں جو انتہائی خشک مزاج ہوتے ہیں بیوی سے اظہار محبت تو دور بیوی تک کو فراموش کرنے لگتے ہیں ان کے لیے عورت یعنی

Read more

حمید خالو کے زیر، زبر، پیش

یوں تو ہمارے حمید خالو ہمیشہ کے خبطی ہیں مگر ایک قصے سے اُن کا خبطی پن اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اِس کی شروعات یوں ہوئی کہ ایک اتوار کی صبح دیکھا کہ چلے آ رہے ہیں دیسی مرغ لیے۔ ”لو بیٹی! بہت عمدہ مل گیا، گھر کا پلا ہے۔“ پھر میری طرف دیکھ کر بولے، ”اماں، دام بھی صحیح بتا رہا تھا، تو لے آئے۔ اب واپسی میں پیسے دیتا ہوا نکل جاؤں گا۔“ اور مرغ اُن

Read more

پنگوں کی کتھا: نیکی کر دریا میں ڈال

”سر جی! ذرا اسے بھی ’اٹیسٹ‘ (تصدیق) attest کر دیں“ ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک شخص پیلے دانت نکالے مسکرا رہا تھا۔ میرا برا منہ بنتا دیکھ کر اس نے مزید اضافہ کیا، ”میرا کزن ہے“ ۔ دل میں پہلا جملہ آیا، ”جان نہ پہچان میں تیرا مہمان۔ اور کیا زبردستی ہے“ ۔ یہ 1997 ء کی کسی عید کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ میں یعنی فلائٹ لیفٹیننٹ رضی چک لالہ (اب نور خان) ائر بیس

Read more

حاجی مُراد: ٹالسٹائی کا غیر معروف ناول

لیو ٹالسٹائی کو ‘جنگ اور امن’ اور ‘اننا کارینینا’ جیسے یادگار ناولوں کی بدولت عالمی کلاسیک ادب میں اہم مقام حاصل ہے لیکن حاجی مُراد  ان کا ایک غیر معروف کام ہے جو کاکیشیا  کے ہنگامہ خیز منظرنامے پر قلم بند کیا گیا ہے۔ 1912 میں بعداز مرگ شائع ہونے والا  یہ ناول ایک دل کش داستان پیش کرتا ہے جو نہ صرف ٹالسٹائی کی ادبی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے بل کہ وفاداری، احترام اور آزادی کی جدوجہد جیسے

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا ڈرامہ جنگل

جنگل ڈراما سندھ کے جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر ابھرا جہاں وڈیروں کے خلاف بات کرنے کی کسی میں جرات نہیں تھی ان کے خلاف ایک عورت نے قلم اٹھا کر ثابت کیا کہ ظلم کی اندھیری رات کو مٹا کر حق کے اجالے پھیلانے کی طاقت عورت رکھتی ہے۔ اس ڈرامے میں سندھ کی تہذیب و روایات رسم و رواج کو دکھایا گیا جو کسی صحت مند انسانی معاشرے کی روایات نہیں ہو سکتیں۔ عورتوں

Read more

اپُن کا کرانچی (1)

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

غضنفر شاہی، ماہ صیام اور عمران خان

آج مجھے غضنفر شاہی یاد آ رہے ہیں ایک تو اس لیے کہ ان کی دوسری برسی ہے اور پھر ایک وجہ یہ کہ ان کی برسی اس مرتبہ بھی رمضان المبارک میں آئی۔ رمضان ایک خاص موقع ہے اور ایسے خاص مواقع پر اپنے ہی شدت سے یاد آتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے ساتھ آپ نے خوبصورت لمحات گزارے ہوتے ہیں۔ جن کے ساتھ آپ کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے

Read more

کیجیے چائے چائے کیوں

اس وقت ہمارے ہاتھ میں چائے کی پیالی ہے اور ہم اس میں طوفان اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گویا غالب کے الفاظ میں : بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے! ہم سخن فہم بھی ہیں اور غالب کے طرف دار بھی لیکن ہماری سخن فہمی کو کوئی تسلیم نہیں کرتا، ہماری تشریحات سن کر لوگ الٹا غالب کی بھی مخالفت کرنے لگتے ہیں، اس لیے ہم نے سر بزم، شعر فہمی کا دعویٰ کرنا ترک کر دیا ہے۔

Read more

پاکستانی پنجاب، ایک عیسائی کے ووٹ کی بھیک ہے: قرارداد مقاصد کے پنگے کا دوسرا دکھڑا

 میں نے مضمون شروع کیا تھا، ”جب کراچی کے ایک ان پڑھ مچھیرے نے ہندوستانی فوج کی عزت خاک میں ملا دی“ ۔ اس دوران ایک صاحب کی پوسٹ ملی اور مجھے یہ جان کر جھٹکا لگا کہ ائرمارشل شربت علی چنگیزی (ریٹائرڈ) ستارہ جرات ہیں۔ بتانے والے نے بطور ثبوت ایک اخبار کا تراشہ بھی دکھایا اور کچھ دنوں بعد انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر ان کے نام کے ساتھ ستارہ جرات بھی لکھا دکھا دیا۔ پوچھا انہیں

Read more

کیفے وکٹر (افسانہ)

ماہ نومبر کے آخری دن تھے، موسم میں تبدیلی کا بھرپور اشارہ مل رہا تھا۔ جیکٹس اور سوئٹرز کے حصار جسم کو سردی کی شدت میں اضافہ کے سامنے بندھ باندھ رہے تھے۔ درخت زرد پوشاک اوڑھے نا جانے کس کے ہجر کا ماتم کر رہے تھے۔ ساحلی شہر ہونے کے باوجود ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو جانے کی وجہ سے موسم کی عجیب سی کیفیت تھی۔ میں اپنے آفس میں بیٹھا تحریر و تحقیق کے کام میں

Read more

اسی برس کا شاعر جسے اور بھی جینا ہے

کچھ دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ابھی اور جینا ہے۔ پھر ہنستے ہوئے اپنی بیٹی گیتی سے ہونے والی اس گفتگو کا ٹکڑا سنانے لگے جس میں ممتاز مفتی کا ذکر ہوا تھا۔ جی ممتاز مفتی جنہوں نے نوے برس کی عمر پائی۔ اور مشتاق یوسفی کا بھی، جو پچانوے برس جیے۔ شاید ایک آدھ مثال سو برس جینے والے ادیب کی بھی ان کے ذہن میں تازہ ہو گئی ہو گی مگر وہ یہ والا جملہ

Read more

ڈاکٹر ضابطہ شنواری، جامعہ اردو کے باضابطہ شیخ الجامعہ

االلہ اللہ کر کے وفاقی جامعہ اردو کے لیے پنج سالہ شیخ الجامعہ کا تقرر عمل میں آیا۔ ڈاکٹر ضابطہ شنواری اسم بامسمٰی یعنی نام کی طرح شخصیت بھی منفرد۔ عبدالحق کیمپس تشریف لائے اور سیمینار ہال میں اساتذہ سے غیر رسمی خطاب کیا۔ اساتذہ کے سوالوں کے جواب دیے، تجاویز اور اقدامات کو سراہا اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ ساتھ وہ وعدے بھی نہیں کیے جنہیں فی الحال ترجیہی بنیادوں پر توجہ دینا ممکن

Read more

ناول ’باپ اور بیٹے‘ کا تعارف و جائزہ

ایوان رتگینف روس کے عالمی شہرت یافتہ ادیب تھے جو 9 نومبر 1818 کو اور یول میں پیدا ہوئے۔ معیاری اور نئی روایات پر مبنی کام پیش کرنے کی وجہ سے انہوں نے عالمی کلاسیکی ادب میں اپنی منفرد شناخت پیدا کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر حصہ خاندانی جاگیر پر ہی قابل اساتذہ کی زیر نگرانی گزارا۔ اعلی تعلیم کے لیے ماسکو یونیورسٹی میں داخل ہو گئے، وہاں ایک سال گزارنے کے بعد وہ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں

Read more

استاذالاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا

دنیائے اردو ادب کے ممتاز اور بین الاقوامی شہرت و مقبولیت کے حامل معروف محقق، ادیب، نقاد، مفکر، مدون، مولف، مصنف، ماہر اقبالیات، ماہر امجدیات، ادیب اور استاذ الاساتذہ جناب پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی تاریخ ولادت پاکستان سے ہم رشتہ ہے اور قیام پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ 23 مارچ 1940 یوم قرارداد پاکستان بھی ہے اور پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کا یوم ولادت بھی۔ سید فخرالدین بلے کی قائم کردہ ادبی تنظیم قافلہ کے

Read more

قرارداد مقاصد : ایک اور پنگا (پہلا دکھڑا)

محترم وجاہت مسعود کا ”گدلا تالاب“ دیکھتے ہی کھجلی میرے قلم میں بھی ہوئی، لیکن میں نے اسے سیاہی کی شکل دینے سے گریز کیا۔ پھر مجیب الرحمن شامی کا ”رد گدلا پن“ پڑھ کر اور اس کے جواب میں محترم وجاہت کا ”جواب شکوہ“ پڑھ کر یقین جانیں عرصے بعد خوشی ہوئی، وجہ صرف یہی کہ یہ دو پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان سیاست سے بالاتر ہو کر ایک تاریخی واقعہ پر علمی بحث تھی، جس میں ایک دوسرے

Read more

”شوگر سٹریٹ“ میں نجیب محفوظ کے ساتھ

اردو ادب کی ایک اچھی روایت یہ ہے کہ جو بھی کتاب بین الاقوامی سطح پر قارئین کی توجہ کا مرکز بنتی ہے، اردو مترجم فوراً اس کا اردو ترجمہ کر کے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر دوسری زبانوں کے فکشن کی تقریباً تمام مشہور کتابوں کے اردو تراجم دستیاب ہیں۔ مگر اس سے ایک طرف جہاں اردو زبان کا دامن وسیع ہو رہا ہے اور اردو ادب میں نت نئے خیالات متعارف ہو

Read more

کچھ غیر دیانتداری کی باتیں

دنیا کے سب معاشروں میں جینوئن ادیبوں کے ساتھ ہمیشہ یہ المیہ رہا ہے کہ یا تو معاصر زمانے نے ان کی قدر نہیں کی یا پھر ان کے کام کو چوری سے مطلب اپنے نام سے چھپایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ بعد میں اس کی قدر قیمت کس طرح متعین کرتی ہے یہ ادیب کا مسئلہ نہیں۔ ملکی، غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت، ادبی جلسے، جلوسوں میں اپنی موجودگی، طاقت ور لوگوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ

Read more

شاعری کا عالمی دن اور صحرائے تھر کے رومانوی دوہے

صحرائے تھر میں ریت کے ٹیلوں پر کبھی زندگی تلخ تر ہو جاتی ہے، تو کبھی رومان پرور محسوس ہونے لگتی ہے۔ کبھی ایسا سکون محسوس ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن اور زمین کی گردش تک سنی جا سکتی ہے۔ کبھی ہواؤں کا ایسا شور اٹھتا ہے کہ اپنا کہا بھی سنا نہیں جا سکتا۔ کبھی آسمان اتنا قریب محسوس ہوتا ہے کہ دل بے چین ہو کر ستاروں کو چھونے کے لیے مچلتا ہے۔ کبھی وہ اتنا دور

Read more

پنگوں کی کتھا : اسلام آباد ایئرپورٹ

سن 1993 کی ایک سرد رات، کسی دوست نے مجھے اسلام آباد کے ( چک لالہ والے پرانے ) ائر پورٹ پر چھوڑا۔ نائٹ کوچ کے سستے ٹکٹ پر کراچی جانے کے لئے میرے پاس چانس کی سیٹ تھی اور حسب توقع پاکستان انٹر نیشنل کی فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ تھی۔ اس لئے عارضی ٹکٹ کے مسافر کو بورڈنگ کارڈ ملنے یا نہ ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بارش نے بھی زور پکڑ لیا

Read more

”اور ڈان بہتا رہا“: تعارف و جائزہ

اور ڈان بہتا رہا کے خالق نوبل انعام یافتہ روسی ادیب میخائیل شولو خوف ڈان کے علاقے کاسک کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دور حاضر میں اس علاقے کو ویشانسکایا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 1913 ء میں شولوخوف نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور بالشویکوں کی شراکت میں سفید روسیوں کے خلاف خانہ جنگی میں حصہ لیا۔ 1922 ء میں وہ صحافت کے شعبے سے منسلک ہو کر ماسکو چلے گئے اور کئی اخبارات کے لیے افسانے

Read more

محبت کی بارش اور دوستی کی قوس قزح

پاکستان میں ایک ماہ کے قیام کے دوران میں اپنے ادبی دوستوں کی محبت کی بارش میں اندر تک بھیگ گیا۔ اس دفعہ وہ بارش موسلا دھار بھی تھی اور بارش کے بعد دوستی کی قوس قزح کے سات رنگ بھی چاروں طرف بکھر گئے تھے۔ دوستی کی قوس قزح کا پہلا رنگ اس وقت دکھائی دیا جب معروف افسانہ نگار فرحت پروین نے اپنے ہاں مجھے اور میری پیاری بہن عنبرین کوثر کو ایک شام پر تکلف چائے پر

Read more

موپاساں کے افسانہ ”بدنصیب روٹی“ کا کرداری مطالعہ

مختصر کہانی جیسے ایک نشست میں پڑھا جا سکے یا ایسی کہانی جو گھنٹے کے آدھ حصے میں پڑھی جا سکے افسانہ کہلاتی ہے۔ عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسی کہانیاں لکھنے والے لکھاریوں میں ایک اہم نام موپاساں کا ہے۔ جیسے جدید مختصر افسانے کا بابا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ چند صفحات کی کہانی میں زندگی کی ایسی ایسی جہات بیان کر دینا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے، موپاساں کا کمال فن ہے۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ان کے ”آدرش“

ڈاکٹر خالد سہیل سے میرا تعارف اپنی پیاری تخلیق کار دوست دعا عظیمی کی بدولت ہوا۔ وہ مجھے اکثر ہی ان کی شخصیت، ان کے فلسفے اور ان کے افکار و نظریات کے گن گاتی نظر آتی تھی اور میں یہ بھی جانتی تھی کہ دعا کو بے وجہ کسی کی تعریف کرنے کی عادت نہیں ہے۔ سو اس تجسس میں، میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کے بارے میں پڑھنے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ ان کی

Read more

شاہکار فلم "گرم ہوا ” سے وابستہ قصے.

اس کا نام بدر بیگم تھا۔ وہ بستی جس کا آگرہ کے نام سے زیر آسماں چرچا ہے اس کے ایک کوچے میں اس کا گھر تھا۔ زندگی ایسی مشکل کہ اسی شہر کے ایک باسی جو بعد میں دلی میں بلی ماراں کی گلی قاسم جان میں جا بسا، کی دنیا سے مختلف دم نکلنے کا باعث بننے والی ہزاروں خواہشیں تو کیا چند عمومی خواہشیں بھی پوری کرنے کی استطاعت نہ تھی۔ چنانچہ سولہ برس کی عمر میں

Read more

وہ ورق تھا دل کی کتاب کا: ایک شاہکار

اس کتاب کے مصنف محمد اقبال دیوان صاحب ہیں۔ دیوان صاحب کا تعلق ریاست جونا گڑھ کے دیوان اور پیٹل گھرانے سے ہے۔ آپ طویل عرصے تک بیوروکریسی کا حصہ رہے ہیں۔ ساٹھ سے زائد ممالک کی یاترا کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا مشاہدہ عمیق ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر دیوان صاحب کی معلومات، مطالعہ، مشاہدہ اور اپنے موضوعات پر گرفت دیکھ کر رشک آتا ہے۔ اس کتاب میں پیار و محبت کے قصے، راز و

Read more

میر تقی میر کے ساتھ ایک نشست

فانی: معزز خواتین و حضرات السلام علیکم! آج ہمارے درمیان ایک ایسی شخصیت موجود ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے ان کا نام سنا ہو گا اور کافی لوگ ان کے کلام سے واقف بھی ہوں گے۔ بہر حال میں اپنی اس تحریری انٹرویو کو آگے بڑھاتے ہوئے جناب میر تقی میر کو اکیسویں صدی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ میر صاحب! سب سے پہلے میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو

Read more

خوشی آئین میں لکھی ہوئی دفعات جیسی ہے

(خوشی کے عالمی دن پر لکھی نظم) ہمیں یہ حکم آیا ہے کہ ہم خوش خوش نظر آئیں سو ہم بھی مان لیتے ہیں کہ ہم خوش ہیں، بہت خوش ہیں ‌ جو سب کہتے ہیں ‌وہ سب جھوٹ ہے، ہم مان لیتے ہیں ہمیں تسلیم ہے اب آپ نے جو کچھ بھی فرمایا، وہی سچ ہے یہ جتنی لُوٹ ہے، سچ ہے یہاں جو جھوٹ ہے سچ ہے ہمیں تسلیم ہے صاحب بہت تعظیم ہے صاحب اگرچہ رائیگانی ہے،

Read more

فرد، نیا سماج اور سیرت رسول ﷺ

آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے جب میں سیرت النبی ﷺ پر اپنی کتاب مکمل کر چکا تھا اور اس کا مقدمہ لکھنے سے پہلے کتاب کے نام کی بابت سوچ رہا تھا جو جیسے ایک چھپاکا سا ہوا تھا اور روشنی کی ایک لکیر دور تک میری رہنمائی کرتی چلی گئی۔ میں نے قلم اٹھایا اور ”پیکر جمیلﷺ“ لکھ دیا تھا۔ مجھے اس نام تک راغب اصفہانی کی ”مفردات“ میں موجود ”حسن“ کی اس تعریف نے پہنچایا

Read more

تین راہی، میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول

میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول ”دی تھری“ جس کا اردو ترجمہ ”تین راہی“ کے نام سے انور عظیم نے کیا پہلی مرتبہ 1901 میں روسی زبان میں شائع ہوا۔ انیسویں صدی کے آخری عشرے کے روسی پس منظر میں تحریر کیے گئے اس ناول میں غربت و افلاس اور سماجی نا انصافیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بہترین کردار نگاری اور سماج عکاسی کی مدد سے گورکی نے بڑی مہارت سے ایسی داستان قلم کی ہے کہ جس میں

Read more

نعیم بخاری سے طاہرہ کاظمی اور پھر نعیم بخاری

ننگے پاؤں (9) قرض داری بشرط استواری چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے غلام علی نے اس غزل کو کیا گایا کہ اس کلاسیک شاعری کو عوام کے دلوں میں امر بنا دیا۔ اس غزل میں حسرت موہانی نے محبت کی بیتابیوں کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا

Read more

جانب منزل چلا چل قسط نمبر 1

سفر امریکہ کا اولین مقصد حصول علم تھا سو جس دن سے امریکہ کے سفر کی تیاریوں کا آغاز ہوا تب سے میرا ذہن امریکہ تو کم کہیں اور جانے کی طرف مصروف تھا۔ ادھر ڈیفنس میں نئے تعمیر کردہ خوبصورت گھر کو بند کرنا میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کیونکہ ابھی تو نئے گھر کی میٹھی مٹیالی سوندھ بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بلاوا آ گیا تھا۔ کیا رکھتی کیا بانٹتی کیا کیا لے کر جاتی شادی

Read more

پونم پریت افسانہ (آخری قسط)

میں نے یادوں کے جھروکوں سے باہر دیکھا تو ایک ایک سروس ایریا کا سائن بورڈ نظر آیا۔ میں نے توقف کیا۔ گاڑی کو ری فیول کیا اور ریسٹورنٹ کے باہر کھلے برآمدے میں بیٹھ کر میک ڈانلڈ کا میک عریبیہ کھانے لگا۔ تازہ دم ہو کر جب دوبارہ موٹر وے پر آیا تو دماغ میں لاہور کے گیسٹ روم کا منظر ابھی تک قائم تھا : ’صبح جب میری آنکھ کھلی تو کمرے کا عجیب منظر تھا۔ کھڑکی کے

Read more

سال 2023 کا پوٹھوہاری کتابی سرمایہ

2023 پوٹھوہاری زبان و ادب کے لیے اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں پوٹھوہاری کی کتب شائع ہو کر منظر عام پر آئیں، یہ 23 کتب پوٹھوہاری زبان و ادب کی بیشتر اصناف کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ درجنوں کی تعداد میں پوٹھوہاری کتب اب بھی اشاعت کی منتظر ہیں لیکن مصنفین اور مرتبین کی مالی مشکلات اور سر کاری اداروں کی عدم توجہی کے

Read more

پونم پریت افسانہ (4)

ہم موٹروے پر شیخوپورہ پہنچے تو پونم نے کسی ریسٹ ایریا میں رک کر ہوا خوری کرنے کی خواہش کی۔ ہم گاڑی پارک کر کے تھوڑی دیر ٹہلتے رہے۔ پونم نے اگلے روز لاہور سے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور اس سے اگلے روز علی الصبح برطانیہ کے لئے پرواز بھرنی تھی۔ اس لئے پونم کی خواہش پر ہم نے اگلی دو راتیں لاہور میں ہی گزارنی تھیں۔ اس کے کہنے پر میں نے ملک الطاف حسین کے توسط سے

Read more

آخری پنگا : ہیما مالنی سے جاں نثار اختر اور پھر ہپی کا شافی علاج بدست سنیاسی باوا

میں نے کہا۔ میں ایک ٹیکنیکل اسکول کا پرنسپل ہوں اور پانچ بجے میری پہلی کلاس ہے۔ لیکن گورے کی سلاجیت، آپ کی اسٹوری، قاسم جٹ اور محمد علی کے لئے میرے بہت سے کام باقی ہیں۔ کیونکہ شاید میں پھر پکڑ میں نہ آ سکوں۔ محی الدین نواب نے میری آنکھوں میں جھانک کر پوچھا، ”کیا میرے لئے بھی“ ۔ میں نے کہا۔ سر، ہم دونوں میں سے کوئی، شاید سال بھر بعد یہاں نہ ہو۔ آپ مجھ سے

Read more

ہرے بھرے تصور کی موت

جب سے نت نئے گیجٹس گھر گھر پہنچنے لگے ہیں ؛ ہر کوئی انہیں ہاتھوں میں تھامے یا منہ کے آگے دھرے ان کے ڈسپلے پر نظریں ٹکائے ملتا ہے۔ اس کا اچھا برا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ انٹرنیٹ پر تحریریں پڑھی جانے لگی ہیں۔ اخبارات اور جرائد کی اشاعتیں سکڑ گئی ہیں۔ آن لائن بکس پلیٹ فارمز کھل گئے۔ ریختہ جیسی ویب سائٹس پر ہزاروں کتابیں چڑھا لی گئی ہیں اور کتابوں سے بھری لائبریریوں میں دھول اڑنے

Read more

پونم پریت ( افسانہ) (قسط نمبر 3 )

میرے اسلام آباد منتقل ہو جانے کے بعد بڑی ماں کو میری شادی کی تشویش ستانے لگی۔ میں ہر سال گرمیوں میں گاؤں جاتی ہوں۔ تین سال قبل گئی تو انھوں نے تین رشتے میرے سامنے رکھ دیے۔ میں ایسے موقعوں پر خاموشی سے موضوع بدل جایا کرتی تھی۔ مگر اب کی بار وہ اصرار کرنے لگ گئیں۔ میں چونکہ شادی کا ارادہ ہی ترک کر چکی تھی لہٰذا انکار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ محبت، دوستی یا کم

Read more

پنگوں کی کتھا۔ چھٹا پنگا : کرنا پیدا میرا، سلاجیت خالص، شہر کراچی میں

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس

Read more

پراسرار میزبان اور مجھے، آپ کی یاد آتی رہی، رات بھر

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس

Read more

صدیق عالم؛ زندگی اور موت کی پیشگوئی کرنے والا کہانی کار!

کہانی کا آغاز اگر اس جملے سے ہو کہ مجھے ایک خط ملا جس میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ ایک ماہ بعد میری موت واقع ہو جائے گی تو بتائیے آپ کہانی پڑھنے کی خواہش کریں گے یا بیزاری سے کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے کہیں گے کیا بے سروپا بات ہے؟ مگر کیا کیجئے کہ ہمیں تو اس ایک جملے نے کسی ہشت پا کی طرح جکڑ لیا اور ہمارے پاس یہ گنجائش ہی نہ رہی

Read more

ادب، عورت اور مرد

عین اس وقت کہ جب ایک طرف عورت مارچ چل رہا ہو، عورتوں کے حقوق پر مذاکرے ہو رہے ہوں اور اکادمی ادبیات والے فرض کفائیہ ادا کرنے کو عورتوں کے مشاعرے کا اہتمام کیے بیٹھے ہوں ادارہ اردو کا ایک سیمینار ”ادب، عورت اور مرد“ کے عنوان نے اس سوال پر رکھ لینا کہ ”صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟“ بظاہر ایک شرارت لگتا ہے لیکن جس سنجیدگی سے یہ سوال میرے سامنے رکھا گیا، اس سوال

Read more

جوزف پینے برینن کی کہانی: آخری حربہ

مترجم: جاوید بسام۔ ”یور آنر! میں اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“ کیلتھ نے کہا۔ ایک لمحے کے لیے کمرہ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بس ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ پھر روبوٹ جج نے جواب دیا۔ ”درخواست منظور کی جاتی ہے۔“ کیلتھ نے سوچا ایک آزاد سرکٹ متحرک ہو گیا ہے۔ اپیلیں بغیر کسی استثنا کے ہمیشہ منظور ہو جاتی ہیں۔ ایک احمقانہ کوشش جس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلتا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور

Read more

چلو اچھا ہوا

شنکر نے اس وحشتناک بت کی تراش کو مکمل کیا اور بڑبڑانا شروع کر دیا۔ ”میری محبوبہ، آج میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ہاں، وہ بھی دل کی گہرائی سے۔ تمہیں شاید یہ بھی اندازہ نہیں کہ میں تمہارا شکر گزار کیوں ہوں! کچھ عرصہ پہلے جب میں ایک بھنور میں پھنس گیا تھا تو میں نے تمہیں فون کیا۔ تم نے کتنی آسانی سے مجھے ٹال دیا۔ اور میں نادان یہی سمجھتا رہا کہ تم فوراً میری

Read more

آسکر وائلڈ، رحم دل شہزادہ اور امی

حیدر آباد میں گرمیوں کا موسم بہت سخت ہوتا ہے دن میں لو اور گرد کے ساتھ دھوپ، جبکہ حیدرآباد کی راتیں ٹھنڈی ہوتیں ہیں، وہی لو رات میں ٹھنڈی ہوا کا روپ دھار لیتی ہے، دن بھر کی گرمی کے ستائے لوگ رات میں پرسکون نیند کے مزے لیتے ہیں، اکثر لوگ زیادہ تر کام رات میں نپٹاتے ہیں۔ ہمارے بچپن کے دن حیدرآباد سندھ میں گزرے ہیں کیونکہ ڈیڈی کی سرکاری نوکری واپڈا میں تھی، ابتدائی تعلیم بھی

Read more

افسانہ نجو اور آپا

دوپہر کا وقت تھا۔ چھتی گلی میں سناٹے کا راج تھا۔ اس گلی کے تقریباً سب مکانوں کی آمنے سامنے سے چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ اس لیے چھتی گلی کے نام سے مشہور ہو گئی۔ ابھی سارے گھروں کے دروازے بند تھے۔ سوائے نجو کے گھر کے۔ نجو کون تھی؟ کہاں کی رہنے والی تھی؟ کوئی ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔ وہ جب بھی اپنی کہانی سناتی تو ہر بار ایک نئی جگہ اور نئے رشتے کا اضافہ ہوا ہوتا۔

Read more

کہانی۔ پرشالی جین

ترجمہ۔ سائرہ ممتاز اودھو۔ بھور کے پنچھی چمکیلے پر پھیلا رہے تھے، سورج ابھی ابھرا نہیں تھا۔ ہوا صاف تھی، یمنا ندی ایسی مانو شیشہ ہو، اور جھانکنے پر ندی کی تہہ نظر آتی تھی۔ اتنے میں دو جوان ایک جانب سے آتے دکھائی دیے، ایک سی چال، ایک جیسی دھوتی اور ایک جیسے انگ وستر، دیکھنے پر لگتا تھا جڑواں پکھیرو ہوں۔ ”آج ہوا کچھ زیارہ ہی ٹھنڈی ہے، ہے نا مادھو؟“ اودھو نے اپنا انگ وستر کستے ہوئے

Read more

موہنی مصلن

کھلی کھلی اجلی سی سردیوں کی دھوپ میں سرسوں کے پھول لہرا کر موسم کو زرد رنگ دے گئے تھے۔ یہ لپکتا لہکتا کھیت برف پوش پہاڑوں کی یخ بستہ ہوا میں تیلئر کی ڈار کی طرح اوپر سے اوپر جا تا دکھائی دیتا تھا۔ اس نے دو پھول توڑ کر ہاتھ میں پکڑ لیے اور ایک ایک کر کے اس کی پتیوں کو سہلانے لگی جیسے سنار کی نرم و نازک انگلیاں سنہری جھمکوں کو چمکا رہی ہوں پھر

Read more

ڈاکٹر امجد طفیل کی تنقیدی بصیرت پر ایک نظر

ڈاکٹر امجد طفیل کا عمر بھر کا تنقیدی سرمایہ، جو گزشتہ چالیس سال میں وقفے وقفے سے مختلف مضامین کی صورت میں ظہور کرتا رہا ہے ؛ اب سنگ میل سے پانچ کتابوں کے لگ بھگ اٹھارہ انیس سو صفحات کے مواد کے ساتھ ہمارے سامنے ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ ہم عصر اردو افسانہ: اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں نظری مباحث بھی ہیں اور اس صنف کے

Read more

یوم خواتین: ”یکساں ہے حق جینے کا“

خواتین کا عالمی دن قریب ہے۔ آج کوئی بھی باشعور شہری اس دن کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ جدید ٹیکنالوجی کی تمام تر ترقی کے باوجود ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں پر قدامت پرستانہ سوچ کے سبب اس دن کو بھی مغربی ایجنڈا کہہ کر رد کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کے حقوق اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پروگرامز صرف بڑے شہروں کا خاصہ ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز

Read more

ہمارا جغرافیہ ( مزاح)

حدود اربعہ : دیس کے مشرق میں اقتدار کا سمندر ہے اور مغرب میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے ہیں۔ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ مایوسیوں کے کالے باغ بھی قابل ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہ گراں اور ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے صحت

Read more

ناول اینمل فارم کا تعارف و جائزہ

اینمل فارم کی اشاعت 17 اگست 1945 کو انگلستان میں ہوئی اینمل فارم ایک کلاسیک اور با اثر تصنیف ہے جس میں ایک فکر انگیز کہانی بیان کی گئی ہے۔ ناول کا پلاٹ انقلاب، طاقت، بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول طنزیہ ہے اور اس کا انداز تحریر علامتی ہے۔ جارج آرویل نے سیاسی، سماجی اور مقتدر طاقتوں کے لیے علامتی طور پر مرکزی کرداروں کے لیے مختلف جانوروں کا استعمال کیا ہے۔ ہر

Read more

اصول انتقادیات ادبیات – ایک تنقیدی جائزہ: جابر علی سید

ڈاکٹر انیلا سلیم اورینٹل کالج سے تعلق رکھنے والی استاد محقق و نقاد ہیں۔ ایچ ڈی کی ڈگری ”جابر علی سید حیات اور ادبی خدمات“ کے عنوان سے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی زیر نگرانی مقالہ لکھ کر اوریئنٹل کالج لاہور سے ڈگری حاصل کی۔ جابر علی سید کے فن و فکر اور ادبی کارناموں کے حوالے سے اب تک ان کی دو کتب ”اصول انتقادیات ادبیات ایک تنقیدی جائزہ از جابر علی سید“ ترتیب و تدوین کے حوالے سے اور

Read more

پاکستان میں اردو افسانہ

مجھ سے ملنے والے اکثر نوجوان جو افسانہ لکھنا چاہتے ہیں، یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کوئی ایک کتاب بتائیے کہ ہم اردو افسانے کا سفر جان لیں۔ اگرچہ یہ سہل انگاری مجھے پسند نہیں اور ایسا سوال کرنے والوں کی بابت شک میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ افسانہ نگاری ایسے نوجوان کی پہلی ترجیح ہے بھی یا بس گھومتے گھماتے ادھر آ نکلے ہیں اور اسے تخلیقی سطح پر اپنے وجود کا مسئلہ بنانے کی بجائے محض

Read more

شامی اور لبنانی مسلمانوں کی دیسی اسلام پر حیرت کے قصے

پاکستان میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران یوں سمجھتا تھا کہ ساری دنیا کے مسلمان پاکستانی مسلمانوں جیسے ہی ہیں۔ مگر جوں جوں دیگر غیر مسلم اور مسلم معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملا اندازہ ہوا کہ میرا تصور بالکل غلط ہے۔ اس لیے اس تصور کو میں نے مسترد کر دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پہلا والا تصور مسلمان غلط تھا تو اس کی جگہ کس تصور نے جگہ پائی ہے؟ میرے اندر پاکستانی

Read more