ڈاکٹر ضیاء الحسن کا مجموعہ کلام: بار مسلسل

ضیاء الحسن ایک ممتاز پاکستانی دانشور ادیب نقاد اور استاد ہیں وہ اورینٹل کالج لاہور میں اردو ادب کے پروفیسر ہیں انہوں نے اپنی تعلیم اورینٹل کالج لاہور سے حاصل کی اور بعد میں اسی ادارے سے وابستہ ہو گئے جہاں انہوں نے اردو ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ان کا شمار ان علمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو ادب کو علمی اور فکری بنیادوں پر مضبوط کرنے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں انہوں نے

Read more

ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی

نام عبید الرحمن عرفیت بڑے بھائی، عمر بہتر برس، رنگت آبنوسی (شیشم کی لکڑی کے رنگ کی) اردو زبان بولتے ہیں۔ سیٹھوں میں زندگی گزری۔ راز داری کے اہتمام اور کسی کام سے انکار نہ کرنے کی وجہ ان اہل زر کی نجی زندگی میں بہت دخیل رہے۔ کوئی مجرا، کوئی بسنت، سن ستر سے اسی کی دہائی میں تھائی لینڈ کا کوئی دورہ نہ چھوڑا۔ تھائی لینڈ میں یہ عیاشی کا بہترین دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب

Read more

رابندر ناتھ ٹیگور: بر صغیر کا نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر: (3)

اس وقت ڈیڑھ بجا ہے۔ ڈپارٹمنٹ سے واپس آ کر ابھی میں نے کمرے میں آ کر کتابیں اپنی منی سی میز پر رکھی ہیں کہ جب فاخرہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کوریڈور میں ہی کھڑے کھڑے اُس نے دروازے کا پٹ ذرا سا کھول کر اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ہے کہ مجھے کھانے کے لئے جانا ہے کیا؟ میں نے ساڑھی بدلنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ لمبے کو ریڈور

Read more

ادب، نقاد اور عہدِ جنگ میں ادبی نقاد کا کردار

تاریخی کتب ان باتوں یا واقعات سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں سیاست داں نے فلاں جنگ میں کیا رول ادا کیا، کیا اُس کی کوششوں سے جنگ رُک گئی اور کیا مزید جانیں تلف ہونے سے بچ گئیں، کس سیاست داں نے ثالثی کا رول ادا کیا۔ کس نے جنگ کو مزید ہوا دی۔ اس طرح سیاست یا میڈیا کے رول پر ہمیشہ بحث ہوتی آ رہی ہے۔ کیا میڈیا غیر جانب دار رہا، کیا میڈیا نے دونوں فریقوں

Read more

ساناز داؤد زادہ فر: ایران کی معروف شاعرہ

ساناز داؤد زادہ فر (Sanaz Davood Zadeh Far) کا شمار ایران کی معروف شاعرات میں ہوتا ہے۔ یہ ایران میں پیدا ہوئیں لیکن آج کل جرمنی کے شہر لگزمبرگ میں مقیم ہیں۔ ساناز نے شعری سفر کا آغاز پابند شاعری سے کیا لیکن بہت جلد آزاد شاعری کی طرف مائل ہوئیں اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”روی حروفِ مردہ راہ می روم“ کے نام سے شائع ہوا۔ فروغ فرخ زاد کے بعد یہ پہلی ایرانی

Read more

کلیات جمال احسانی پر ایک مطالعہ

جمال احسانی اردو ادب کے ایک اہم شاعر ہیں جنہوں نے جدیدیت کے رجحانات کو اپنایا اور اپنی شاعری میں زندگی کے گہرے تجربات اور جذبات کی عکاسی کی۔ ان کی شاعری میں جو گہرائی اور نیا پن ہے وہ انہیں اردو ادب میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے جمال احسانی 21 اپریل 1951 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ تقریباً بیس سال کا عرصہ انہوں نے سرگودھا میں گزارا۔ پھر سرگودھا چھوڑ کر کراچی چلے آئے۔ انہیں تمام عمر

Read more

"شہزاد نئیر کی ”کہانی چل رہی ہے

شہزاد نئیر جدید اردو نظم و غزل گوئی میں بہت بڑا نام ہے۔ ان سے پہلا تعارف بھی ان کی بے باک غزلوں اور نظموں سے ہوا، جب 2020 ء میں جہلم لٹریری فیسٹیول میں میری پہلوٹی کتاب ”ڈھولکی“ کی تقریبِ پذیرائی تھی اور ہمیں لاہور سے ایک ساتھ سفر کرنا تھا۔ تب رَستے میں جو نظمیں اور غزلیں اِنھوں نے سنائیں، اُنھوں نے ورطہ حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔ مزید ملاقاتوں کے سلسلے چل نکلے اور ہر محفل میں

Read more

ڈرامہ نگار اور نقاد ظہیر انور کا ادبی تحفہ

آج ایک تحفہ موصول ہوا۔ ایک ادبی تحفہ جس کا نام ”بنگال میں اردو تنقید کی تاریخ“ ہے۔ میری نگاہ میں کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں جو ایک ادیب دوسرے ادیب کو بھیج سکتا ہے اور وہ بھی اپنی تخلیق کردہ کتاب اور وہ بھی ایسے دوست کی جو دوست ہی نہیں ہمراز و ہمزاد بھی ہو۔ میری خوش بختی کہ میں ظہیر انور کے تخلیقی سفر کا چار دہائیوں سے چشم دید گواہ ہوں۔ وہ ایک ہمہ جہت

Read more

داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر

مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحۂ قتل کے بارے میں ہماری شنید معلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر ان دنوں کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی، کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ انہی مصطفے زیدی کا شعر ہے داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ان دنوں نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال

Read more

یہ کار محبت ہے، یہ ہوتا ہی رہے گا

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ کوئی شخص آپ کو بعد میں کہیں جاکر ملا ہو مگر پہلے سے اس کی محبت آپ کے دل میں ڈال دی گئی ہو، اور یوں لگے جیسے ہم تو ازل سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ کسی اور کے ساتھ ایسا ہوا ہو، نہ ہوا ہو، میرے ساتھ ہو چکا۔ میں لائلپور کی زرعی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور گاہے گاہے لاہور گھوم آتا تھا۔ وہیں لاہور کی کسی

Read more

بیگم اختر: زندگی اور غزل کا استعارہ

بیگم اختر نے غزل کو محض گایا نہیں، بلکہ اسے بسر کیا تھا۔ ان کی غزل گائیکی ایک پوری صدی پر چھائی ہوئی ہے، جس نے ہندوستان میں گائیکی کا ایک نیا اسلوب متعارف کروایا۔ روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک پل باندھتے ہوئے، انہوں نے غزل اور اس کی گائیکی کو گراموفون سے جوڑ دیا۔ بیگم اختر کا انتقال 30 اکتوبر 1974 کو احمد آباد میں ہوا، جب ان کی عمر 60 برس تھی۔ اس برس ہم ان کی

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ۔ آخری قسط

تاریخ میں جب بھی میر کا ذکر ہو گا تب غالب کا ذکر ہونا لازم ہے، دونوں ایک دوسرے کی طرح قصیدہ گو اور درباری ہونے کے الزام سے کبھی آزاد نہ ہو سکے بلکہ یہ الزام مغلیہ سلطنت کے لگ بھگ سبھی شاعروں پر ہے۔ لیکن ظاہر ہے سبھی شاعروں کو ”جنرلائیزڈ“ کر کہے نہیں دیکھا جا سکتا۔ قصیدہ گوئی اور دربار کی ثنا خوانی کے زاویے میں مغلیہ دور کے شاعروں کو ان کے کلام، شعر اور خیال

Read more

نجیبہ عارف کے لیے

”راگنی کی کھوج میں“ تخلیقی نثر میں لکھی گئی ایسی کتاب ہے کہ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے اور ہر بار ایک نیا لطف اٹھایا ہے۔ میں اسے نجیبہ عارف کی بہترین کتب میں سب سے اوپر رکھتا ہوں۔ ایک کتاب؛ جسے میں فکشن کی کتاب کے طور پر پڑھتا رہا ہوں حالاں کہ یہ فکشن کی کتاب نہیں ہے، یقیناً نہیں ہے اور نجیبہ نے بھی اسے فکشن کہہ کر پیش نہیں کیا مگر اس میں، جس

Read more

آہ! رانا نوشاد قاصر

گزشتہ روز ڈاکٹر اسلم انصاری کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لیے اپنے دفتر سے نکل ہی رہا تھا کہ واٹس ایپ پر ڈاکٹر علی اطہر کا پیغام موصول ہوا کہ رانا نوشاد قاصر دکھوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ دوستوں کو اس خبر سے آگاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے فوری طور پر نوشاد قاصر صاحب کے انتقال کی خبر بنائی اور اسے اے پی پی کو جاری کر دیا اور ساتھ ہی یہ خبر ویب سائٹ گردوپیش

Read more

دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more

گنجینہ معنی کا طلسم

اردو غزل کو نئی نئی بصیرتیں عطا کرنے والے میرزا یاس یگانہ چنگیزی کی غزلیات اور رباعیات کے ایک مجموعے کا نام ”گنجینہ“ ہے، اس کتاب کے لگ بھگ وسط میں وہ معروف غزل دیکھنے کو مل جاتی ہے جس کا مطلع ہے : کس کی آواز کان میں آئی دور کی بات دھیان میں آئی ڈاکٹر محمد اقبال آفاقی پر بات کرنے بیٹھا تو اس غزل کے مقطعے کی طرف دھیان چلا گیا ؛ لیجیے پہلے وہی عرض کیے

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کے انتہائی اہم مدبر اور کلاسیکل شاعر ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اردو ادب بلکہ اردو ڈکشن اور لسانیات کو بھی نیا موڑ بخشا ہے۔ جنہوں نے اردو ادب کو کلیدی لغت دی اور کلی طور پہ فکر اور فن کو جدت بخشی۔ جس سے اردو ادب نے اپنی الگ حیثیت حاصل کی اور مقبولیت پروان چڑھی۔ اور اس دور کی مقبول ترین زبان فارسی کو نہ صرف ٹکر دی بلکہ اردو زبان کو اس

Read more

اسلم انصاری: وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ہونے سے ہم خود کومعتبر سمجھتے ہیں۔ وہ مسلسل کام کرتے ہیں، انتھک محنت کرتے ہیں۔ وہ کوئی شارٹ کٹ اختیار کرنے کی بجائے اپنی محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنی شہرت کے لیے کسی ادبی مرکز کے محتاج نہیں ہوتے ہوتے۔ کسی بڑے شہر میں ہجرت کرنے کی بجائے اپنی دھرتی اور اپنی جنم بھومی کو اپنا مسکن اور اپنی پہچان

Read more

شہر طلسمات کا طلسم: ڈاکٹر اسلم انصاری رخصت ہوئے

یادش بخیر! بہت دنوں سے ڈاکٹر اسلم انصاری کے ساتھ ان کی ملتان پر لکھی گئی نئی کتاب کے حوالے سے مکالمہ جاری تھا۔ مسودہ میرے حوالے ہوا۔ کمپوزنگ ہو رہی تھی کہ ایک دن میرے کمپوزر کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ اس کے دونوں موبائلز کوئی چھین کر چلا گیا اور یوں میرا کمپوزر کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا۔ یہ رابطہ اس وقت ختم ہوا جب ڈاکٹر اسلم انصاری کی کتاب کی کمپوزنگ تقریباً مکمل ہو چکی

Read more

جواں مرگ افغان قصہ نویس کا قصہ

افغان محقق سید محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر بریالی باجوڑی وغیرہم کے مطابق افغانستان میں ناول کی ابتدا 1938/39ع میں برہان الدین کشککی او ر محمد رفیق قانع کے ناولوں۔ ’پوشیدہ محبت‘ اور ’دو عاشق بھائی‘ سے تصور کیا جاسکتا ہے جو بعد میں اشتراکی فکر کے سرخیل نور محمد ترہ کئی نے ’بے تربیت بیٹا‘ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ تاہم اولین پشتو ناول کے درج بالا ظنی رائے کے ساتھ اختلاف کی کافی گنجایش ہے۔ بعد ازاں فارسی، روسی،

Read more

مشتاق شیدا: قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی

مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں، بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے

Read more

ڈاکٹر ابرار احمد اور سیربین

( ”اوڈیسی: نظم کی دنیا“ میں جب ابرار احمد کو ”معاصر نظم کا جمال“ کہا گیا تو مجھے اس کا تین سال پہلے محض 67 برس کی عمر میں بچھڑنا یاد آ گیا۔ 1954 ء میں جڑانوالہ پیدا ہونے والے ابرار احمد نے ایک شاعر کی حیثیت سے تب ہی شہرت پالی تھی جب وہ ملتان کے نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی بی ایس کر رہے تھے۔ لاہور میں مقیم ہوئے تو ان کی شاعرانہ شناخت مستحکم ہوتی

Read more

نجات

میاں بیوی اکیلے رہ گئے تھے بیٹا امریکہ میں سیٹ ہو گیا اور ڈالر بھیج کر بے فکر ہوجاتا۔ بیوی کو بڑھاپے اور جوڑوں کے درد نے کہیں آنے جانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا، دوائیں کھاتی پر کچھ اثر نا ہوتا۔ اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک عورت بشیراں رکھی ہوئی تھی جو صبح سویرے آتی اور رات آٹھ بجے جاتی۔ گھر کے سارے کاموں کے علاوہ اس کی دیکھ بھال بھی کرتی۔ شوہر خاصا صحت مند

Read more

بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ

تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف)

Read more

ہسپانوی ناول ’لاثار لیودے تورمیس‘ کا جائزہ

لاثار لیودے تورمیس ہسپانوی ادب کا ایک شاہکار ناول ہے جسے سولہویں صدی میں ایک نامعلوم ادیب نے قلم بند کیا۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق پہلی بار یہ 1554 میں چھپا۔ 1559 میں ہسپانوی کلیسا کی عدالت نے ناول پر پابندی عائد کر دی کیوں کہ اس میں کلیسا کے نمائندوں کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ ناول نے اتنی مقبولیت پائی کہ اس کا ترجمہ دنیا بھر کی زبانوں میں کیا گیا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1576 میں

Read more

فرینکسٹین، تخلیق کا المیہ

فرینکسٹین میری شیلی کا اکلوتا مگر شہرہ آفاق ناول ہے۔ یہ انگریزی ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس فکشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ میری شیلی مشہور برطانوی شاعر پی بی شیلی کی بیوی تھیں۔ ان کے والد ولیم گوڈون بھی ممتاز مفکر اور کالم نگار تھے۔ ان کی والدہ میری والسٹن کرافٹ ایک باغیانہ اور انقلابی سوچ کی حامل فیمینسٹ رائیٹر تھیں۔ میری شیلی پر اپنی والدہ کی قد آور شخصیت اور انقلابی فکر کا رنگ بھی نمایاں

Read more

مکھوٹا: نجیبہ عارف کا طلسم کدہ

”مکھوٹا“ نجیبہ عارف کا حال ہی میں چھپنے والا 128 صفحات کا ناول ہے۔ سلیم الرحمٰن کی خوبصورت شاعری اس کا دروازہ کھولتی ہے۔ چند سطور پر مشتمل انتساب کے بعد مصنف کے بارے میں جیسے خود اس کی اپنی تحریر کا ایک مختصر سا اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے جس سے اس کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کِس مزے کا ہے یہ ٹکڑا۔ ذرا پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف کو ناول لکھنے

Read more

لینن اور چولہا بنانے والا

تحریر: چیبیکن روسٹیسلاؤ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ مجھے یاد ہے کہ ایک چولہا بنانے والے آدمی یاکوف کونڈراٹی پیٹرووچ، سشینسکوئے (سائبریا) گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی مہارت اور ہنر کے باعث پورے ضلعے میں مشہور تھا۔ اس نے ہمیشہ بہترین چولہے بنائے۔ کیوں کہ اسے اپنا کام پسند تھا۔ وہ اکثر کہتا: ”اگر آپ کا چولہا ٹھیک کام نہیں کر رہا تو مجھ سے رابطہ کریں میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔“ اس باعث کونڈراٹی کو ہمیشہ بہت پیار

Read more

 علی اکبر عباس :حروف ِتازہ عبارت ہوئے کناروں پر

یقین جانیے، وہ دن ایسے تھے کہ نئی کتاب کی آمد توجہ کھینچ لینے والی خبر ہو جایا کرتی تھی۔ ایسی خبر، جو کسی اخبار رسالے میں چھپنے کی محتاج نہ ہوتی، سینہ بہ سینہ بہت تیزی سے سفر کرتی اور محافل میں موضوع ہو جاتی۔ لگ بھگ پینتالیس چھیالیس سال پہلے میں فیصل آباد کے چوک گھنٹہ گھر کے قرب میں واقع محفل ہوٹل میں بیٹھا تھا، وہیں جہاں شام ڈھلے ریاض مجید، احسن زیدی، انور محمود خالد، افتخار

Read more

سندھ گُلال: دھرتی کی محبت اور تاریخ کے ادراک کا سفر!

سندھ، سندھو ماتھری، تہذیبِ سندھو اور اس کے لوگوں کی تاریخ بے شمار حُسناکیوں، نشیب و فراز، رومانوی اور رزمیہ قصوں کہانیوں اور داستانوں خواہ حادثات و المیات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف صدیوں سے نو آبادیاتی اور ان کے حواری مقامی حکمران طبقات اور گماشتوں نے سندھ اور سندھ کے لوگوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب سُمنگ چارن اور بھاگُو بھان کی لوک رزمیہ شاعری سے لے کر شاہ

Read more

اللہ کا بڑا فضل ہے

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی

Read more

حوزے سارا ماگو کا ناول: "اندھے لوگ”

کافی عرصے سے ایک ناول زیرِ مطالعہ تھا جو گزشتہ روز اپنے اختتام کو پہنچا۔ مطالعے کے دوران کئی دن میں اس کتاب کی آغوش میں رہا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو پڑھتے وقت آپ کو بے چین کر دیتی ہے اور آپ کو یہ جاننے کی جستجو میں مبتلا کرتی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اگرچہ کافی عرصے سے کتاب بینی کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس ناول کو پڑھنے کے بعد یہ میرے پسندیدہ ناولوں

Read more

گرین زون فلسفے کے چار ستون

  اسلام علیکم خواتین و حضرات، سب سے پہلے بہت مبارکباد ثمر اشتیاق اور ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کا وقت میرے لیے بہت دلچسپ ہے کہ اس پراجیکٹ کا آغاز کووڈ کی وبا میں کیا گیا اور اس کی رونمائی اس وقت ہو رہی ہے جب ہم ایک apartheid state کی طرف سے مسلسل genocide کے eye witness ہیں اور اپنی آنے والی نسل کے لیے خدا مذہب انسانیت کو غزہ میں دفن کر چکے

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف(6)

وہ عرب دنیا کا ایک منتخب نام جس کی زندگی کا ہر اُتار چڑھاؤ، ہر موڑ، ہر تجربہ قاری کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اتنا سارا مال و متاع اس نے عربی زبان اور لوگوں کو تحفے کی صورت دیا۔ ابھی جو دو نظمیں آپ نے پڑھی ہیں۔ اِن میں مناظر رنگ، بچپن کی یادوں کی خوشبوئیں اور اس کے کرب کا اظہار نمایاں ہے۔ وطن سے جو قدم نکلا

Read more

جونؔ ایلیا کو کس بات کا غصہ ہے؟

مری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا اُردو شاعری میں جعفر ؔزٹلی سے شروع ہونے والا مزاحمتی سلسلہ کئی ادوار کا سفر طے کر کے مرزا غالبؔ تک پہنچا۔ غالب ؔ نے رہی سہی کسر نکال دی، غالبؔ کے بعد جونؔ ایلیا کی باری آتی ہے جس نے اُردو غزل کو سراپا مزاحمت کا استعارہ بنا ڈالا۔ جون ؔایلیا کے ہاں کوئی ایسا موضوع چُھوٹ نہیں گیا جس پر جونؔ نے اپنی رائے

Read more

ڈاکٹر خورشید رضوی کا نعتیہ مجموعہ ”نسبتیں“ ایک جائزہ

ڈاکٹر خورشید رضوی کا مجموعہ ”نسبتیں“ حمد، نعت، سلام اور منقبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ مجموعہ عصری لب و لہجہ، زبان و بیان اور انداز و اُسلوب سے مزین خاص رنگ و آہنگ کا مرہونِ منت ہے۔ چاروں اصناف میں زبان کی چاشنی اور خیال کی تازگی جھلکتی ہے۔ وہ اپنے دلکش پیرایۂ اظہار کی بدولت قاری کو گرفت میں لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہر صنف سخن میں انھوں نے کمال تکنیک کے ذریعے خیال کو ترتیب دینے

Read more

ملازمہ

  ” میرا گھر کتنا خوب صورت ہے۔ مہنگے مہنگے برتن، اتنا بڑا اوون، جدید چولھا، ڈیپ فریزر، ائر کنڈیشنڈ ماحول یہ سارا کچن میرا گھر ہی تو ہے۔“ لاریب نے صاف ستھرے فرش پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ چونکہ اس کا زیادہ وقت کچن میں ہی گزرتا تھا۔ ” لاریب۔“ باہر سے اس کی مالکن نرگس شمیم کی آواز گونجی۔ ” جی ممی۔ آئی۔“ لاریب اسے ممی ہی کہتی تھی۔ جیسے دوسری تین بچیاں کہتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ

Read more

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہے کہ اپنے نام ہی میں مے کدہ آباد کردے، اور بقول سیدنا ذہین شاہ تاجی کے مئے بن کر مے خانہ بن کر ہستی کا افسانہ بن جا RefaEli-Bar اسرائیل کی دگج اور دنیا میں نام چین ماڈل مانی جاتی تھیں۔ ریمپ پر چلتی تھیں تو گردشیں بدن کا طواف کرتی تھیں اور زمانے ٹھہر کے دیکھتے تھے۔ چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے آئی پی پی ز والوں کی

Read more

ریاست کہانی ( 5 مائکروف)

ریاست اور بم لاش دو سو کلومیٹر دور سڑک کنارے پڑی تھی۔ بوڑھے باپ نے کرائے پر گاڑی لی۔ مقتول کا سات سالہ بیٹا ساتھ بٹھایا اور سفر شروع کر دیا۔ چند ماہ پہلے سفید کپڑوں میں ملبوس ریاستی اہلکار اسے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اسی دن سے وہ اس خبر کا منتظر تھا۔ اس کا بیٹا مٹی اور خون میں لتھڑا اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا۔ ایک آنسو گرائے بغیر اُس نے لاش کو سیدھا

Read more

پیتل کا بھگوان

دسمبر کی یخ بستہ شام، ہلکی ہلکی برف باری شروع ہو چکی تھی جب حامد نے اپنی کار میں لگے ریموٹ کنٹرول سے گیراج کا دروازہ کھولنے کے لیے بٹن دبایا، وہ گھر سے ابھی کچھ فاصلے پر تھا لیکن وہ گیراج ڈور کو دیکھ پا رہا تھا، اس کا گھر گلی کا آخری گھر تھا، اور گلی میں داخل ہوتے ہی نظر آنا شروع ہو جاتا تھا، اس کا گیراج ڈور کنٹرولر کتنی دور سے سگنل پکڑتا ہے؟ یہ

Read more

دوسری پگڈنڈی

فیض سہ پہر کی نارنجی دھوپ میں اس پگڈنڈی کی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک طرف گہرائی میں مچلتی ہوئی ندی اور دوسری طرف سبزے سے نہائی ہوئی کھائیاں، اس کے نشیب و فراز، اور خوبصورت موڑ، وہ اس سارے منظر سے مسحور ہو چکا تھا۔ وہ اس لمبی پگڈنڈی پہ مگن چلا جا رہا تھا۔ دور سے اسے ایک مرد اور عورت مخالف سمت سے آتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ فیض نے ان پر توجہ نہیں دی۔

Read more

خال خیالی

سی ڈی شمس کو محض اِس واسطے اپنا اسم گرامی مکمل بتانے میں پس و پیش تھا کہ چراغ دین سورج کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز وہ احباب کو بارہا آگاہ کر چکا تھا کہ شم مس نہیں بلکہ شم س کہا جاوے لیکن احباب بضد تھے اور میم کی تشدید کو تشدد کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ سی ڈی شمس لب و رخسار کی دنیا میں گم رہتا تھا۔ حسن کے مختلف پہلوؤں پر نظروں کی پہنچ اور قلب

Read more

انوار فطرت اور ”سمندراااااا “

یہ لگ بھگ بائیس تئیس برس پرانی بات ہوگی میں نے معروف برطانوی شاعر ٹیڈ ہیوز پر ایک مضمون لکھا تھا۔ ظاہر ہے اس میں سلویا پلاتھ کا ذکر بھی آنا تھا کہ اس شاعرہ کی زندگی اور موت کے ساتھ یہ نام جڑا ہوا تھا۔ ان دنوں ہمارے درویش صفت شاعر اور صحافی انوار فطرت روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی کا ہفتہ وار ادبی صفحہ ترتیب دیا کرتے تھے۔ میں نے یہ مضمون انہیں بھیج دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ

Read more

پچاس کی دہائی کا پاک ٹی ہاؤس

سید راشد اشرف بے پناہ آدمی تھے۔ اردو ادب کے قبیلے میں کون ہے جو سید راشد اشرف کو نہیں جانتا۔ اور جو نہیں جانتا، اس کے جانے یا نہ جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جون 1932 میں پیدا ہونے والے سید راشد اشرف تو مارچ 2023 سے وجود اور عدم سے ماورا اس پینگ کے ہلارے میں ہیں جہاں شفق رنگ بدلیوں میں اڑان بھرتے پرندے ان کی ہر آن بلائیں لیتے ہیں۔ ***       

Read more

آدم اور گربہ: افسانہ

کاغذوں کے پلندے اسود ہوچکے تھے اور مصنف تھکان کے باوجود توقف پر راضی نہیں تھا چونکہ تسلسل نہ رہتا تو آمد رک جانے کا یقین تھا۔ کہانی روانی سے چل رہی تھی۔ ” چائے لاؤ۔“ تیز آواز قلم کے سفر کی طرح تھی۔ ” قہوہ دستیاب ہے فی الوقت۔ آج پھر بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا ہے۔ فریج کے دروازے کا ربڑ ڈھیلا ہے۔ واردات مکرر ہو چکی ہے۔“ لکھاری کی زوجہ بھی کم اہل زباں نہیں تھی۔

Read more

مشترکہ محبوبہ اور مولوی صاب

ہم سب پر یارِ مہرباں ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا تازہ کالم ”میری دو کمزوریاں میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ“ پڑھا اور حسبِ سابق اوّلین فرصت میں پڑھا۔ ان کے کالم کا مرکزی موضوع ”شوگر“ یعنی ذیابیطس جیسا موذی مرض ہے جو دنیا بھر میں انسان کی جان کو آیا ہوا ہے۔ کالم میں اس تشویش ناک امر کا اعلان بھی ملتا ہے کہ ستّر برس کے ہمارے یہ نوجوان، فعال اور سرگرم لکھاری، دانش ور اور مفکر دوست بھی

Read more

وارث علوی: اردو کا چومکھا نقاد

ہندوستان کے اردو نقادوں میں ہمارے ہاں شمس الرحمن فاروقی کے بعد سب سے زیادہ، اور جائز، شہرہ شاید وارث علوی کا ہوا جو اپنے بے باک انداز، جارحانہ اسلوب اور تابڑ توڑ تنقید کی وجہ سے بدنامی کی حد تک مشہور تھے۔ ان کے ہاں تنقید صرف ادبی تنقید نہیں رہتی بلکہ باقاعدہ مار کٹائی اکھاڑا بن جاتی تھی۔ یہ نہیں کہ ان کے قلم سے کسی کی تعریف نہیں نکلی۔ ضرور نکلی مگر یہ کہ جس پہ مرتے

Read more

در در ٹھوکر کھاتا ڈاکٹر مبارک علی

ڈاکٹر مبارک علی ایک ایسے مؤرخ ہیں جس سے شناسائی سکول کے زمانے میں ہوئی۔ سکول میں ایک چھوٹی سی لائبریری، الماریوں میں بند کتابیں جو چیخ چیخ کر قاری کو پڑھنے کی دعوت دیتے تھے مگر ہمارے علاقے میں غیر نصابی کتابوں کو پڑھنے کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے کبھی ان الماریوں کے تالے نہیں کھلتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہو گئے۔ نواب بگٹی شہید کیے گئے۔ طلبہ تنظیموں کے انقلابی

Read more

فہیم جوزی: میں کوئی اور

مجھے لگتا ہے کہ اقبال فہیم جوزی رسومیات ِغزل سے اوب، اکتا کر یا عاجز ہو کر نئی نظم اور نثم کی طرف آئے تھے۔ جس زمانے میں انہوں نے یہ راستہ چنا، غزل سے کنی کاٹ کر نئی نظم کی طرف آ نکلنا یوں بھی فیشن میں تھا اور مجھے کہنے دیجئے کہ جن لوگوں نے اس فیشن کی بنا رکھی تھی ان میں ایک نام فہیم جوزی کا بھی تھا۔ اور وہ لگ بھگ ڈانٹ ڈپٹ کرتے یہ

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

یہ نظم نمائندہ تھی اُن مظلوم، لاچار اور بے بس عراقی لوگوں کے جذبات و احساسات کی۔ جن پر امریکہ اور اس کی لونڈی اقوام متحدہ نے زندگی کی بنیادی سہولتوں کی کھلی فراہمی پر پابندیاں لگادی تھیں۔ یہ بہت لمبی نظم تھی۔ میں تو دم بخود تھی۔ ساکت تھی۔ شاعر کی جی داری اور جرات رندانہ پر حیران تھی۔ امریکہ تو پھیتی پھیتی ہو کے فضا میں بکھرا پڑا تھا۔ شاعر نے کچھ بھی تو نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے

Read more

ہم نام کا روزنامچہ

وحید الزمان طارق، میرے ہم پیشہ و ہم راز نہیں ہیں۔ وہ کبھی میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ بھی نہیں رہے لیکن وہ میرے ہم نام ضرور ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ وحید ِ یگانہ ہیں اور میں سبزۂ بے گانہ۔ وہ مردِ سپاہ ہیں اور میں روسیاہ۔ وہ طارق ہیں اور میں متروک۔ وہ سفینہ سوز ہیں اور میں غرقِ دریا۔ غرض یہ کہ ہم دونوں میں بعد المشرقین ہے لیکن کبھی کبھی ہمارے ستارے ایک

Read more

قمر رضا شہزاد کے نواح میں

قمر رضا کے ساتھ میری رفاقت کئی عشروں پر محیط ہے۔ میں نے اپنی کتاب ”وابستگانِ ملتان“ ملتان میں قمر رضا شہزاد کی ملتان آمد پر لکھا تھا کہ پانچ ہزار سال پرانا شہر ملتان آباد ہی قمر رضا شہزاد کے لیے کیا تھا کہ وہ آئے اور یہاں بسرام کرے۔ قمر رضا شہزاد نے ملتان کو اپنا مسکن تو کوئی کم و بیش پندرہ برس قبل بنایا لیکن وہ پہلے بھی تو میرے نواح میں رہتا تھا۔ ہم نے

Read more

اہلِ جہاں اِسے کُرسی کہتے ہیں

اِس کی نہ تو کوئی آنکھیں نہ ہی کان، نہ ہی منہ اور نہ ہی کوئی لمبی سی دُم ہوتی ہے۔ ہاں چار ٹانگیں اور دو عدد بازو ضرور ہوتے ہیں۔ چشمِ عیاں سے دیکھیں تو بظاہر ایک معمولی سی اور بے جان شے نظر آتی ہے، مگر ہے بڑے کام کی چیز۔ سینگ نہ رکھتے ہوئے بھی اکثر و بیشتر ایسا دھاوا بول دیتی ہے کی بڑے سے بڑے سانڈ اور بھینسے بھی اِس کے سامنے حقیر و ناتواں

Read more

ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی، مرزا فرحت اللہ بیگ کی زبانی

مولانا محمد حُسین آزاد کی آبِ حیات کے بارے میں محمود الحسن سے ہمکلام ہوتے ہوئے انتظار حُسین صاحب نے کہا تھا ”میں اسے ناول کہتا ہوں۔ اس میں پورا عہد جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔ شاعر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، لڑتے بھڑتے دکھائی دیتے ہیں، محفلیں تصویریں بن کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اس میں ناول کے امکانات نظر آتے ہیں۔“ کہنے کو ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی ادب کی فارم کے مطابق خاکہ ہے اور بیشتر نقاد

Read more

مصباح نوید، غلام معاشرہ اور غلام گردشیں

مجید امجد کے شہر ساہیوال کے ساتھ میری وابستگی کوئی 45 برس پر محیط ہے۔ 1978 میں جب میں نے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنی غزلیں بھیجنا شروع کیں تو انہی دنوں جعفر شیرازی صاحب سے بھی رابطہ ہوا۔ وہ خط و کتابت کا زمانہ تھا اور اخبارات میں قلم کاروں کی تخلیقات کے ساتھ ان کے پتے بھی شائع کیے جاتے تھے۔ سو شیرازی صاحب کے ساتھ قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔ شیرازی صاحب اسی زمانے میں ڈپٹی

Read more

شاعرہ: ایمی لوئیل

(Amy Lowell) شاعرہ: ایمی لوئیل مترجم: ناہید ورک ایمی لوئیل ( 1874۔ 1925 ) کا شمار ایک ایسی امریکی نژاد شاعرہ کے طور پر ہوتا ہے جو اپنی زندگی میں شاعری کے اُفق پر ایک توانا نام تو سمجھی گئی لیکن اپنے شعری سفر میں کم قدری کا شکار رہتے ہوئے کم کم مانی گئی۔ ایمی لوئیل اپنی نظم ”Lilacs“ کو اپنی پسندیدہ نظموں میں سے ایک شمار کرتی ہے۔ یہ نظم ایمی لوئیل کی اُن نظموں میں سے ایک

Read more

آگ کتنی روشن ہے: اختر حسین جعفری صاحب کی نظم پر ایک تاثریہ

زندگی کے سفر میں اپنی تنہائی کو مہکانے کا جو نسخہ میرے ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ کسی اچھی نظم کے ساتھ وقت گزارا جائے اور اگر وہ اجازت دے تو اس سے مکالمہ کیا جائے۔ ایسے میں میں نے محسوس کیا ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے میرا ذہن تخیل کے پروں پر سوار ہمیشہ کسی نئے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔ کبھی منظروں میں کھو جاتا ہے اور کبھی مصرعوں کے ساختیاتی حُسن میں گُم ہو جاتا

Read more

تاریخ ِفرعون

اس کتاب کو خواجہ حسن نظامی نے لکھا ہے، اس کی دوبارہ اشاعت 2019 میں ہوئی تھی۔ میں نے ایک کاپی آن لائن حاصل کی ہے۔ ایک بات کی وضاحت کردوں آن لائن کُتب بیچنے والے بھی اپنی دیانت کے حوالے سے اُتنے ہی دیانت دار ہیں جتنا کہ سبزی فروٹ والے، چونکہ آرڈر کرنے والا پاس نہیں ہوتا، اس لیے بوقت پیکنگ گلا سڑا مال پیک کر دیتے ہیں۔ کتاب کے صفحات 248 ہیں۔ یہ کتاب 1941 میں لکھی

Read more

لغت اور فرہنگ میں فرق

لغت اور فرہنگ ایک ہی شے کے دو نام نہیں بلکہ ان میں لطیف سا فرق موجود ہے جسے یونیورسٹی سطح کے طلبا بھی محسوس کرنے سے اکثر قاصر رہتے ہیں۔یہاں تک کہ انگریزی میں بھی دونوں کے لیےالگ الگ الفاظ مستعمل ہیں ۔انگریزی میں لغت کو Dictionary اور فرہنگ کو Glossary سے موسوم کیا جاتا ہے۔ذہن میں رہے کہ لغت میں زبان کے تمام الفاظ بلاتخصیص درج کر لئے جاتے ہیں ۔ اس میں ایسے الفاظ کا اندراج بھی

Read more

جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ: لوحِ طلسم

”لوح ِطلسم“ جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوی مجموعوں ”اک فرصت ِگناہ“ ، ”حرفِ دعا“ اور ”ٹھوکا“ کو یکجا کر کے کلیات کی شکل میں شائع کیا ہے۔ لوح ِطلسم کے پہلے حصہ میں ”اک فرصتِ گناہ“ کے 9 افسانے ہیں اور دوسرے حصہ میں ”حرف ِدعا“ کے 8 افسانے شامل ہیں۔ تیسرا حصہ ان کے 2012 ء میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ”ٹھوکا“ کے 19 افسانوں پر مشتمل ہیں۔ 318 صفحات پر

Read more

ایمن آباد، چندراوتی اور قدرت اللہ شہاب

لاہور سے گوجرانوالہ بذریعہ جی ٹی روڈ سفر کریں تو تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ سے دائیں جانب تقریباً چار کلومیٹر اندر جائیں تو ایک تاریخی قصبہ ہمیں ملتا ہے جس کا نام ’ایمن آباد‘ ہے۔ ایمن آباد اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ شاندار چاول پیدا کرنے کے لیے مشہور ہے۔ کبھی ایمن آباد انتہائی سرسبز و شاداب ہوا کرتا تھا، مگر پھر سرمایہ داروں نے یہاں فیکٹریاں لگا کر سارے سبزے کو

Read more

جب میں نے مائیکل اینجلو کو مسکراتے دیکھا

قائد اعظم ڈرامیٹک کلب اینڈ مووی سوسائٹی ہر سال و ائیوا لی فسٹا کے عنوان سے اپنا دو روزہ ایونٹ سٹیج کرتی ہے، جس میں پہلا دن شارٹ موویز، کلچرل ڈانسز اور لپ سنک بیٹل کے لیے مختص ہوتا ہے اور دوسرا دن موب ڈانس، ڈراموں اور ڈی جے نائٹ کے لیے۔ شعبہ اناٹومی کی سربراہ، ڈاکٹر صباحت گل اِس کی پیٹرن ہیں اور فائنل ائر ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے سٹوڈنٹ ارحم بن ریاست اِس کے صدر، جبکہ ڈائریکٹر

Read more

اجمل سراج: اک زمانہ چھن گیا

موت نے ہم پر بہت سے وار کیے، ہمارے بہت سے پیارے ہم سے چھینے، اور ہم نے اس کے ہر وار کو اپنے سینے پر جھیلا بلکہ سینے سے لگا کر بھی رکھا۔ لیکن اس مرتبہ تو موت نے ایک بار پھر ہم سے ہمارا پورا عہد اور پورا زمانہ ہی چھین لیا، جیسے اطہر ناسک کے ساتھ میرا ایک زمانہ ختم ہو گیا جس میں میری لڑکپن کی بہت سی آوارگی شامل تھی اور جس میں میرے لاہور

Read more

بچوں کے ادب کی فرانسیسی کہانیاں

نٹ کھٹ اور چلبلے بچپن کے شرارتی کارناموں کے نمائندے ننھے نکولس کی کہانیاں پڑھتے ہوئے آپ کو اپنے بچپن کی البیلی یادیں امڈ کر نہ آئیں یہ ممکن نہیں۔ ہم سب کی زندگی کا سب سے سنہرا دور بچپن کا ہوا کرتا ہے، شاید اس کی وجہ ہمارے ان پیاروں کا تب ہماری زندگی میں موجود ہونا ہے، جو وقت کے بے رحم ہاتھوں زندگی کی اگلی منزلوں میں ہم سے چھن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ترس آتا

Read more

نِکا: زندگی کی پرتیں کھولتا ہوا انیس احمد کا ناول

ناول کو پڑھنے سے پہلے ہی قاری اس ناول کے عنوان سے چونک اٹھتا ہے۔ نِکا؟ ارے یہ تو کسی کردار کا نام ہے۔ ناول میں کیا ہے؟ قاری کو ناول کے نام سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ اُسے تجسس رہتا ہے اور وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسا ناول نگار ہے جس نے ناول کے بارے میں کچھ بھی ناول کے عنوان میں نہیں بتایا۔ ہمارے ہاں ناول کے عنوان سے ہی ناول کا بیانیہ تشکیل

Read more

ترجمہ : اصول و مسائل

ترجمہ کا مطلب ہے ایک زبان کے متن یا الفاظ کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا، جس میں اصل معنی، مفہوم اور اسلوب کو برقرار رکھا جائے۔ ترجمہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مترجم کو دونوں زبانوں کی گہری سمجھ بوجھ ہونی چاہیے تاکہ وہ نہ صرف لفظی معانی کو منتقل کرے بلکہ ثقافتی اور جذباتی پہلوؤں کو بھی صحیح طور پر پیش کرے۔ ترجمہ کاری صرف الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں تبدیل کرنا نہیں

Read more

قرطاس پہ دستک

1۔ ایک بے تکی زندگی کا خلاصہ میں ساڑھے چار برس کا تھا، جب مجھے علامہ اقبال پبلک سکول شجاع آباد میں داخل کرایا گیا۔ علامہ اقبال ایک معیاری، لیکن آمرانہ مزاج کا حامل سکول تھا۔ میں ٹھہرا سدا کا کھلنڈرا اور کام چور، سیدھا ماں کے پلو سے لپٹ گیا اور لگا رحم کی دہائیاں دینے : ”نی مائے سانوں کھیڈن دے، میرا وت کھیڈن کون آسی!“ (ماں مجھے کھیلنے دے، پھر میرے ساتھ کون کھیلنے آئے گا۔) اور

Read more

اقبال ارشد کے غم کا فسانہ اور کہانی کا آخری کردار

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ابھی ان کی بینائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ ابھی ان کے قہقہے دور تک سنائی دیتے تھے۔ لیکن ان کے قہقہے تو ان کی بینائی ختم ہونے کے بعد بھی سنائی دیتے رہے کہ قہقہے بصارت کے محتاج تو نہیں ہوتے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار بابا ہوٹل میں دیکھا۔ اس وقت ابھی انہوں نے اپنے بیٹے عدنان کی جدائی کا صدمہ نہیں جھیلا تھا۔ ابھی برادران اقبال نے انہیں ان کے مکان

Read more

خندہ نواز ( طنزیہ و مزاحیہ شاعری) کا ایک مطالعہ

مزاح نگار اپنے لفظوں کی جادوگری سے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹوں کا غازہ ملتا ہے۔ مسکراہٹوں کا یہ غازہ اُن زخموں کے لیے مرہم ثابت ہوتا ہے جو بصارت سے نہیں بصیرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ ہنسنا انسان کی جبلت ہے۔ ایک مزاح نگار اپنے فن سے اس جبلت کو مہمیز کر تا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو بیمار اور وکیل ملزم دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ اس دنیا میں مزاح نگار ایک ایسی ہستی ہے جو آپ کے چہرے پر

Read more

ویسٹ لینڈ: بیسویں صدی کے ادب کا عظیم شاہکار

ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم ویسٹ لینڈ (Waste Land) جو پہلی جنگ عظیم کے بعد انیس سو بائیس میں لکھی گئی ہے۔ اس کو جدید شاعری کے تناظر میں سب سے موثر کام کہا جا سکتا ہے۔ اس نظم میں اس زمانے کے لندن کی جنگ عظیم اول کے بعد کی عکاسی کی گئی ہے۔ اگرچہ اس میں صحرا اور سمندر کے مناظر بھی شامل ہیں۔ اس زمانے کی نسل کی مایوسی اور انتشار کو اس نظم میں

Read more

مَیّا ری

میری ماں جب کسی آدمی کے ساتھ چارپائی کے اوپر ہوتی تو ہم تینوں بہن بھائی چارپائی کے نیچے ہوتے۔ ایسا میری ماں یقیناً ہم بہن بھائیوں کی حفاظت کی خاطر کرتی ہوگی۔ کیوں کہ ہمارا گھر بس ایک کمرہ تھا اور میری ماں ہم کو گھر سے باہر بھیجنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے کبھی کسی لمحے ہم کو خود سے دور نہیں کیا تھا۔ میرے باپ کے چھوڑ جانے کے بعد شاید میری ماں کو اپنے بچوں کا

Read more

جون ایلیا کے کلام میں کردار نگاری

جون ایلیا کا اصلی نام ”سید حسین جوؔن اصغر“ ہے۔ انھوں نے اپنا تخلص ”جوؔن“ لکھا۔ سادہ اور چمکتی ہوئی زبان میں نہایت گہری اور شور انگیز باتیں کہنے والے ہفت زبان، شاعر، صحافی، مفکر، مترجم، نثر نگار، دانشور اور بالاعلان نفی پرست اور انارکسٹ جون ایلیا ایک اوریجنل شاعر تھے۔ جن کی شاعری نے نہ صرف ادب نوازوں کے دل جیت لیے بلکہ آپ نے اپنے بعد آنے والے ادیبوں اور شاعروں کے لیے زبان و بیان کے نئے

Read more

اردو حروف تہجی کا مسئلہ اور معیاری اردو املا

دنیا کی ہر زبان میں اسی زبان اور دیگر زبانوں سے لیے گیے الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حروف تہجی کے ملنے سے الفاظ بنتے ہیں۔ اردو قواعد کی رو سے حروف کی ایسی ترکیب جس کا کوئی مفہوم اور معنی ہو لفظ موضوع کہتے ہیں۔ مگر حروف کی ایسی ترکیب جو بے معنی ہو مہمل لفظ کہا جاتا ہے۔ مثلاً روٹی ووٹی۔ یہاں ووٹی مہمل لفظ ہے۔اگرچہ یہاں اردو قواعد پر بات کرنا مقصود نہیں ہے البتہ

Read more

سورج اور سایہ: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

پرانے شہر کی دیواروں کے ساتھ طویل گزرگاہ پر، درختوں کی شاخیں یوں مل رہی تھیں کہ سبز اور سایہ دار برآمدہ سا بن گیا تھا۔ ان شاخوں کے درمیان اچانک چاند حیرت سے نمودار ہوا اور اس ویران اندھیرے راستے پر بے وقت قدم اٹھاتے تنہا دراز قد آدمی سے یوں مخاطب ہوا۔ ”ہاں، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“ اور جیسے ہی اُس آدمی نے خود کو ظاہر ہوتا محسوس کیا۔ وہ رک گیا اور اپنا ہاتھ سینے پر

Read more

میں کیسے لکھتا ہوں

میرے والد، ناصر کاظمی، ایک معروف شاعر تھے۔ تقریباً چار برس کی عمر میں، ایک دن اپنے صحن میں لگے پودوں کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا: ”پاپا، پتّے!“ حنیف رامے صاحب کا بیان ہے کہ اس روز ناصر نے دوستوں کو بتایا کہ اس کے بیٹے نے اپنی پہلی نظم کہہ دی ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کے لیے تخلیقی ہونا لازم ہے۔ یہ نہ صرف ان کی نشو و نما بلکہ بقا کے لیے ضروری ہے۔ اپنی خوراک ڈھونڈنے

Read more

طبلہ نواز

نبیل کے لئے ماضی کی وہ بہشت اب ایک دوزخ بن گئی تھی۔ وہ ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد وہ موسیقی کے شوق کی طرف پوری توجہ دے گا۔ طبلہ، اس کی روح، اس کا جنون۔ اور وہ پانچ سال تک اس کی ہر تال میں محو رہا۔ ریاضت، مشق، اور نبیل۔ چھوٹا طبلہ ’دایاں‘ اور بڑا طبلہ ’بایاں‘ ، ان پہ نبیل کی ہتھیلیاں اور انگلیاں اس طرح ٹکراتی تھیں جیسے کسی کمپیوٹر پروگرام

Read more

دو دوست: موپاساں کے قلم سے نکلا ہوا افسانہ

افسانہ نگار: گائے دَ موپاساں مترجم: محمد ریحان محصور پیرس شدید قحط کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ گھروں کی منڈیر پر پرندے اور نالیوں میں چوہے ناپید ہوتے جا رہے تھے۔ لوگوں کو جو کچھ مل جاتا، وہ کھا رہے تھے۔ موریسو، پیشے سے گھڑی ساز مگر عزلت پسند، بھوکے پیٹ اپنی پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالے، جنوری کی ایک روشن صبح میں چہرے پر اداسی سجائے، پیرس کی گلیوں میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی

Read more

مذہب، جنس اور موت کے بارے میں چبھتے ہوئے سوالات

  محترمی و معظمی تنویر احمد صاحب! آپ پچھلے چند ہفتوں سے جس باقاعدگی سے مجھ سے سنجیدہ مکالمہ کر رہے ہیں اور زندگی کے اہم موضوعات کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہیں ان سے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ ایک فلاسفر بننا چاہتے ہیں۔ آپ کی گفتگو سے بالکل نہیں لگتا کہ آپ کی طبعی عمر صرف اکیس برس ہے۔ آپ نے مجھے چند سوال بھیجے ہیں۔ میں ان کے مختصر جواب دوں گا تا کہ "ہم سب”

Read more

اُدین واجپئی اور شمس الرحمٰن فاروقی : ایک تاریخی مکالمہ

ایک ادیب کا تخلیقی و تنقیدی سفر کن کٹھن راستوں سے ہو کر گزرتا ہے؟ اس میں کون سے اور کیسے دشوار مقام آتے ہیں؟ کہاں عزت نفس کو چوٹ لگتی ہے؟ تو کہاں اس کے لفظوں کی تیزی نت نئے مخالف کھڑے کر دیتی ہے؟ پھر جب یہ آپ بیتی جب جگ بیتی کا روپ دھارتی ہے تو سننے میں دلچسپ مگر محسوس کرنے میں کیسی تلخ و تکلیف دہ ہو جاتی ہے کہ اس ادیب کے زمانے کے

Read more

شعیب سلطان خان: عہد ساز شخصیت

چند روز پہلے ملتان میں کسی خوش حال شخص نے باور کرایا کہ پاکستان میں پہلے کی سی غربت نہیں رہی۔ دیکھیں نا کہ پہلے پاکستان کے بڑے حصے میں لوگ روٹی کپڑا پہ یا زیادہ سے زیادہ سال بھر کے لیے گندم پہ کام کیا کرتے تھے۔ واقعی ایسا تھا کیونکہ جن وقتوں کی بات ہے تب صارفین کا معاشرہ بھی نہیں تھا۔ چونکہ بات سوسائٹی کی بنت بدلنے کی نہیں ہو رہی اس لیے مذکور مظہر کی تفصیل

Read more

وجاہت مسعود کو غصہ کیوں آتا ہے؟

وہ اس وقت کالم لکھ رہے ہوں گے؟ ابو بہانہ کا فون جب وجاہت بھائی نہ اٹھا سکے تو یہ سوال اس بندے سے کیا گیا جس نے ان کی جگہ فون اٹھایا۔ ہاں بھئی ایسا ہی ہے، آپ بہتر سمجھتے ہیں، یہ وقت ان کے لکھنے کا ہے۔ جب آگے سے ہمم کی ایک لمبی آواز آئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ریسیور کی دوسری طرف موجود آدمی یا تو کچھ سوچ رہا ہے یا جو پیغام

Read more

گلزار پاویل اور لائل پور کے دوسرے ادیب

حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد کے الیکشن ہوئے اور ڈمی امیدوار جیت گیا، اصل امیدوار کے ہارنے کی وجہ ڈمی امیدوار کی مقبولیت قرار پائی۔ بادشاہ گر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ان دنوں حلقے کے اجلاس محفل ہوٹل میں منعقد ہوتے تھے۔ اس الیکشن کی تفصیلات بیان کرنا راقم افورڈ نہیں کرتا ہے۔ اس پاداش میں حلقہ راندۂ درگاہ ہو گیا۔ آخر تھری سٹار ہوٹل کے مینجر ملک بشارت نے پناہ دینے کی ہامی بھر لی۔ وہ علمی و

Read more

بورخیس کی جادو نگری اور بابل کا کتب خانہ

  تحریر آمیز ہستی بورخیس کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے، جنھیں میں پہروں پڑھ سکتی ہوں۔ جن کی ایک ایک سطر، ایک ایک کہانی میں چھپے معنی کے نت نئے جہان دیر تک میرے ذہن پہ نقش رہتے ہیں۔ یہ معنی بھی عجب ہیں کبھی بنتے ہیں، کبھی الجھتے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے مجسم ہو کر میرے سامنے آ کھڑے ہوئے ہوں۔ یوں جیسے بورخیس کی بھول بھلیاں صرف کہانی میں ہی نہیں

Read more

آفتاب اقبال شمیم کی یاد میں

کوئی آٹھ برس پہلے، جس روز میرے گھر کتب خانے میں جڑواں شہر کے چنیدہ تخلیق کار آفتاب اقبال شمیم کے کلیات ”نادریافتہ“ کے استقبال کو موجود تھے اور ان کے فن کی تحسین کر رہے تھے تو کون کہہ سکتا تھا کہ ایسا موقع ان کی زندگی میں پھر نہ آئے گا کہ ہم سب یوں جمع ہو کر بات کر پائیں۔ یہ موقع کہیں اب جاکر نکلا ہے ؛ جی اُن کے چل بسنے کے بعد ؛ کاش

Read more

ملن کے گیت

سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم تھا کہ دیودار اور صنوبر کے درختوں پر جمی برف کی دھول کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کر سکے۔ ان ٹکڑوں سے لدی سرنگوں شاخوں سے جب ہلکی سی ہوا ٹکراتی ہے تو برف زمین پر گر کر یوں بکھر جاتی ہے جیسے جوانی کے خواب۔

Read more

رضیہ فصیح احمد کو نوے برس کا سفر مبارک ہو

رضیہ فصیح احمد کو پہلی ستمبر ان کی سالگرہ کے موقع پہ عمر کی نو دہائیوں کا سفر مبارک ہو۔ رضیہ آپا سے ان کی تحریروں کے حوالے سے واقفیت کا ذکر نہ کرنا تو بے ادبی ہوگی لیکن ان سے باقاعدہ طور پہ ذاتی دوستی کا آغاز محض پانچ سال پہ ہی محیط ہے۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ان کی تحریروں کے علاوہ انہیں بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت نے مجھے کئی حوالوں

Read more

کچھ اقبال ساجد کے بارے میں

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آپ کا ادبی مکتوب نظر نواز ہوا جس میں آپ نے لاہور کی ایک منفرد ادبی شخصیت زاہد ڈار صاحب سے قلمی تجدیدِ ملاقات کا سامان کیا ہے۔ آپ کے خط سے پاک ٹی ہاؤس اور اس کے مستقل ”نشینوں“ کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں اور زاہد ڈار کی شاعری سے بھی حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ اس حوالہ سے دل چسپ بات یہ کہ زاہد ڈار صاحب ان شخصیات میں سے تھے جن

Read more

فرمانروائے شہر کا بے ڈھب مُشاعرہ

اِ سے ”آپ امیر“ ِ شہر کہیے یا ”فرمانروائے شہر“ ۔ ایک ہی تو بات ہے۔ ویسے عام آدمی تو بے چارہ اِنتشار اور مصیبت کا شکار ہے۔ اِسے آپ معاف ہی رکھیں تو مہربانی ہوگی۔ ”تفریق و تشخیص“ کے معاملے میں یہ ہمیشہ ہی کُند ذہن اور لا تعلق واقع ہوا ہے۔ ہاں، فرمانروائے شہر کے ”خاصانِ خاص“ اِسے اپنے اپنے مزاج اور ”وابستگی“ کے اعتبار سے امیرِ شہر بھی کہہ سکتے ہیں اور فرمانروائے شہر بھی۔ خیر اِسے

Read more

فراقؔ: تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

بیسویں صدی عیسوی کو دنیائے اُردو ادب میں تحریکوں اور رجحانات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جبکہ انیسویں صدی میں یہ فضا یکسر مختلف تھی۔ مگر جیسے ہی یہ دور ختم ہوا عقلیت پسندی کی تحریک پوری شدت کے ساتھ وارد ہوئی۔ اور اس کے ساتھ کئی اور تحریکیں دیکھتے ہی دیکھتے منظر ِ عام پر آ نا شروع ہو گئیں۔ ان تمام تحریکوں کا ادب پر براہ راست اثر پڑا۔ شاعری ہو یا پھر نثر، فنی، فکری، لسانی، اسلوبیاتی

Read more

قرۃ العین حیدر اور تقسیم کی افسانوی تعبیر

اردو ادب کی عظیم ترین فکشن نگار کہلائی جانے والی قرۃ العین حیدر نے جہاں زندگی کے دیگر گوناگوں موضوعات پر قلم اٹھایا وہیں تقسیم ہند کے موضوع پر نہایت فکر انگیز ناول اور افسانے لکھ کر اردو ادب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کی تحریریں تقسیم ہند کے حوالے سے شناخت کے مسئلے اور تاریخ کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی اثرات کی نہایت باریک عکاسی پیش کرتی ہیں۔ اپنے ناولوں اور کہانیوں کے ذریعے وہ انسانی حالات

Read more

عطیہ سید کے فکشن کا اسلوب

اُسلوب وہ سر چشمہ ہے یا وہ فن ہے جو ادب کو غیر ادبی تحریر سے جدا بھی کرتا ہے اور ممتاز بھی اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ اسلوب فنکار کی شخصیت کا مظہر بھی ہوتا ہے کیونکہ اسی پیرائے میں فنکار کی شخصیت کی تمام تر رعنائیاں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ”اُسلوب سے مراد بات کو بلیغ انداز میں پیش کرنا ہے اور وہ تمام وسائل کو استعمال کرنا مراد ہے جن سے کوئی

Read more

بارڈر سے مائکرو فکشن – تین کہانیاں

1- جان بچانے کی خاطر جب یہ واقعہ پیش آیا، مجھے اُس پہاڑی سرحدی چوکی پر تعینات ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا۔ چوکی بلند پتھریلے پہاڑ کی ڈھلان پر بنائی گئی تھی۔ پوسٹ سے کوئی تین سو گز نیچے خشک برساتی نالہ تھا جس کا پاٹ کئی سو گز تھا۔ اس میں جابجا چھوٹے بڑے پتھر تھے۔ ہماری پوسٹ کے سامنے، نالے کے پرلے کنارے سے ایک ٹیکری بتدریج بلند ہوتی چلی گئی تھی۔ اس ٹیکری پر لگ بھگ

Read more

معاصر روسی افسانہ

الیکساندر سیپکن 28 ستمبر 1975 میں سینٹ پیٹرزبرگ جو تب لینن گراد کہلاتا تھا، میں پیدا ہوئے۔ 2015 میں اپنی افسانوں کی کتاب ”بڑھاپے سے پہلے کی عمر کی عورتیں اور دوسری بے اصول کہانیاں“ سے معروف ہوئے۔ وہ اب روس کے طنزیہ افسانہ نگاروں میں مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک ہیں اور ان کی لکھی کہانیاں روس اور امریکا دونوں ہی ملکوں کی محفلوں میں ثقہ اداکار و صدا کار پڑھ کے سناتے ہیں۔ وہ تزویراتی تعلقات عامہ

Read more

نیل پالش

درمیانے خد و خال کی حامل ندا نے نیل پالش کی شیشی کھولی۔ اور برش کو بھگو کر سلطانہ کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ برش کو سلطانہ کی چھوٹی انگلی کے ناخن پہ پھیرنے ہی والی تھی کہ سلطانہ نے پوری قوت سے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا اور آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ سلطانہ سلطانہ، بتاؤ کیا ہو رہا ہے تمہیں؟ مجھے تم سے ملے ہوئے پانچ دن ہو چکے ہیں لیکن تم نے اب

Read more

قوس قزح سی لڑکی

گلزار ملک کا شمار اردو کے معروف فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ فیصل آباد کے گاؤں گٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہد مسلسل اور سخت کوشی کو چھوٹی عمر ہی سے اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ اپنی منکسر المزاج طبیعت کی وجہ سے حلقۂ احباب میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ کہانی کو اپنا ذوق اور کہانی بنُنے کو اپنی فطرت گردانتے ہیں۔ اردو میں اب تک ان کے تین ناول چھپ چکے ہیں۔ افسانے میں بھی مہارت

Read more

گیا نگر میں لنکا، ایک تجزیاتی مطالعہ

اس کتاب کے مصنف اختر احسن ہیں۔ اس مجموعے کے کچھ حصے زین غزل کے عنوان سے مختلف رسالوں میں چھپتے رہے ہیں۔ پہلے پہل یہ زین غزل محمد حسن عسکری کے رسالے سات رنگ میں چھپی اور بعد میں اس کے کچھ حصے نیو یارک میں لکھے گئے۔ تب بھی اس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ گوتم کے نام سے اور دوسرا راون کے نام سے ہے۔ زین سے مراد ”بدھ مت“ مذہب کی ایک شاخ ہے جو

Read more

محمد خالد اختر کی کلک گہر بار: ایک جھلک

(صف اول کے اردو ادیب محمد خالد اختر نے دسمبر 1977 میں عطا الحق قاسمی کے کالموں کا انتخاب کیا اور اس پر ’عرض حال (جسے آپ دیباچہ بھی کہ سکتے ہیں)‘ کا عنوان باندھا۔ تب عطا الحق قاسمی صاحب کی عمر 34 برس تھی۔ انگریزی ادب میں ایذرا پائونڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نوجوان ادیب کی تحریر دیکھ کر اس کی ٹھیک ٹھیک قدر پیمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اردو ادب میں مولانا

Read more

لاہور کے ادبی درویش زاہد ڈار سے ملاقاتیں

محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب! میری آپ کے شہر لاہور کے کئی شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں سے بہت سی ملاقاتیں ہوئیں لیکن منیر نیازی کی ملاقات کی طرح اکثر اوقات وہ ملاقاتیں مختصر تھیں لیکن آج میں آپ کو ایک ایسی شخصیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن سے میری اسی کی دہائی میں تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں اور میں انہیں ایک ادبی درویش سمجھتا ہوں۔ اس ادبی درویش کا نام زاہد ڈار ہے۔ اگر کوئی اردو کا ادیب

Read more

پھیرو نہ نَجَر سے نَجَرِیا

سکھر میں پسینے سے شرابور کر دینے والی گرمی پڑ رہی تھی، لیکن مینارہ معصوم شاہ کی چوٹی پہ چاروں طرف بنی کھڑکیوں سے تیز اور ٹھنڈی ہوا چھنچھناتے ہوئے آتی تو کیف آور احساس میں لِپٹی غنودگی میں اضافہ ہو جاتا۔ میں اکیلا بیٹھا اوپر ہی اوپر سے سارے شہر کا نظارہ کر رہا تھا۔ دور سے پُرانا سکھر اور روہڑی نظر آ رہے تھے۔ روہڑی پہ مِصر کا گمان ہو رہا تھا۔ ٹِکٹِکی باندھے شہر کو تکتا رہا۔

Read more

تیل کا بادشاہ: شکست تخت پہلوی (10)

1972 میں ابوالحسن بنی صدر اپنے والد آیت اللہ نصر اللہ بنی صدر کی وفات پر عراق کے شہر نجف گئے جو پہلوی رژیم کے مخالفوں میں سے تھے۔ وہ خود جلا وطنی میں پیرس میں رہتے تھے اور اکنامکس پڑھاتے تھے لیکن ایران کے مستقبل کے بارے میں متفکر تھے۔ انہیں شاہ کی مقبولیت اور طاقت سے کوئی ڈر نہیں تھا۔ بنی صدر اور دوسرے جلاوطن لوگ یہ بات جانتے تھے کہ طاقت لوگوں کو سڑک پر لانے سے

Read more