ڈاکٹر خالد ظہیر اور اویس اقبال کے مابین مکالمہ

عوام بھیڑوں کے ایک ریوڑ کی مانند ہوتے ہیں جو زیادہ تر ناک کی سیدھ میں چلنے کے عادی ہوتے ہیں، اس ہجوم میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہجوم سے ہٹ کر مختلف زاویوں سے سوچنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مثلاً مذہب ایک ایسا پہلو ہے جس پر زیادہ تفکر و تدبر نہیں کیا جاتا، ماں کی گود میں جو مذہب نصیب ہو جاتا ہے اکثریت اسی پر کاربند رہتی ہے، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں

Read more

لہو لہو پارا چنار

ہم سے قاتل کا ٹھکانہ نہیں ڈھونڈا جاتا ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں ہماری بدقسمتی کہیں یا بے حسی ہم کسی بھی سانحے کے بعد ایک دن یا بہت زیادہ ہو تو دو دن اس سانحہ کا بہت ہی دھوم دھام سے سوگ مناتے ہیں لیکن اب تو یہ حالات ہیں ہمارا سوگ بس صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر منحصر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا لہو اتنا سستا ہو گیا ہے کہ جس

Read more

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی

پیارے وطن پاکستان میں جہاں بے شمار مسائل ہیں وہیں پر دہشت گردی وہ پیچیدہ اور تکلیف دہ مسئلہ ہے جو اب تک سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی جانیں نگل چکا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگ دہائیوں سے تشدد، شدت پسندی، سیاسی کش مکش، عدم استحکام اور سماجی طبقاتی جال میں ایسے پھنسے ہیں کے آج تک نکل نہیں پائے۔ دہشت گردی کے پیچھے اصل وجہ معلوم ہونے کے باوجود ہم آج تک اس کا قلع قمع

Read more

ذہنی مریضوں کے ساتھ ماضی میں کیسا برتاؤ کیا جاتا تھا؟

ماضی میں نفسیاتی یا ذہنی مریضوں کے علاج کے طریقے اکثر سخت اور غیر سائنسی تھے، کیونکہ اُس دور میں ذہنی بیماریوں کی وجوہات اور علاج کے بارے میں بہت کم علم تھا۔ قدیم زمانوں میں، ذہنی مریضوں کو اکثر شیطانی قوتوں یا بدروحوں کا شکار سمجھا جاتا تھا، اور ان کا علاج مذہبی رسومات، دعاؤں، اور جادو ٹونے سے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ان مریضوں کو زنجیروں میں باندھ کر قید کیا جاتا، یا دور دراز مقامات

Read more

ایک اور زینب: دادی صفائی کر لوں گی مگر سکول نہیں جاؤں گی

اکتیس اکتوبر کا سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ایک دفعہ پھر اُن تمام معصوم بچوں کی یاد تازہ کر گیا جن کے ساتھ درندگی اور بدفعلی کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ایک اور بابا کی پری، ماں کی راج دلاری کا ہے، جس کو ایک بے حس، بے ضمیر 23 سالہ جانور سے بھی بدتر شخص نے ایک چھ سالہ بچی کو اپنی ہوس کا شکار بنایا اور پتا نہیں اس سے پہلے وہ کتنی ننھی معصوم کلیوں کے

Read more

لاوارثوں کا وارث

آج کا دن اس شخص کے نام جو کہنے کو تو انسان ہے لیکن صفات فرشتوں والی۔ میں نے اپنی زندگی میں اس شخص کو انسانیت کی خدمت پر ہی دیکھا اور میرے لیے یہ باعث فخر ہے کہ میں نے اس شخص کے سائے میں کام کیا اور اس کی تعلیمات سے انسانیت کی عظمت کو جانا۔ جس کے ایک قول نے میری زندگی بدل کے رکھ دی کہ دنیا میں انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں۔ ہاں جی

Read more

پروفیسر لوگ کا گھر

خواجہ صاحب پروفیسر لوگ ہیں۔ اُوپر تلے دونوں اڑوت، بے کیف اور دانشور۔ چھوٹے خواجہ کیمسٹری پڑھے ہیں لیکن زندگی کی کیمیا میں ان کا ری ایکشن نہیں چلا۔ مزدور صفت، سنجیدہ مزاج جتنے یہ خود ہیں اتنا ہی آنگن ان کا سونا ہے۔ کرسیاں، پیڑ، اور چارپائی سب اپنی جگہ پر رکھے رہتے ہیں۔ اور ہوا پتے بکھیرتی رہتی ہے۔ صاحب اپنے سارے کام خود کرنے کے قائل ہیں۔ اس لیے کسی سے مشورہ مانگنا کسر شان سمجھتے ہیں۔

Read more

اردو کا دیوانہ اور من کا سچا خلیل الرحمن چل بسا

خلیل الرحمن اور ان کی اہلیہ انجم خلیل سے میرا غائبانہ تعارف اس وقت ہوا جب مجھے امریکہ میں بسے محض چند ہی سال ہوئے تھے۔ ہر پاکستانی گروسری اسٹور اور پاکستانی ریسٹورنٹس میں اردو ٹائمز رکھے ہوتے۔ یہ اخبار مفت ملتا اور میں کہ ایک بے وطن اور اردو سے بچھڑی ایسے لپک کے یہ اخبار اٹھاتی جیسے کوئی میلے میں گم ہوا بچہ اچانک اپنی ماں کو دیکھ کر اس کے سینے میں ہمک آئے۔ یہ کون ہے

Read more

شرمگاہ کی کہانی

میرے ماں باپ جغرافیائی اہمیت کی حامل ایک وادی میں، گاؤں والوں کی مرضی سے مل جُل کر دُکھی رہتے تھے۔ میرے خوش شکل ماں باپ کے سر ایک ہی سائز اور شکل کے تھے گویا کسی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔ وادی میں تفریح کے مواقع بہت کم تھے اور جو تھے وہ بہت مہنگے تھے۔ اس لیے انہوں نے ایک کھلونا گھر لانے کا سوچا۔ لہذا جب میں اس دنیا میں لائی گئی تو میں بہت خوبصورت تھی

Read more

سرکاری اسپتالوں کا ایمرجنسی اسٹاف قابلِ تعریف ہے

پچھلے دو عشروں سے ملکی حالات کچھ ایسے رُخ چلے کہ خاص و عام صبر کی بیش قیمت نعمت سے محروم ہو گیا۔ یہ مجھ اکیلے کا ہی نہیں بلکہ آپ کا بھی مشاہدہ ہو گا! اپنے گرد و پیش، گھروں، گلی محلّوں، آس پڑوس، بازاروں، سنیماؤں، ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ، جہاں دیکھئے یہ محرومی نظر آتی ہے۔ کبھی ہم خود بھی جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اس کے فریق بن جاتے ہیں۔ اس فہرست میں ایک نام شامل نہیں

Read more

جب وزیر اعظم پاکستان اسلام آباد ائرپورٹ پر لاپتہ ہو گیا

”اس تحریر کا اصل راوی گمنام ہے اور میں صرف اس کے سنائے واقعے کو تحریری شکل دینے کی ذمہ دار ہوں“۔ آج کی نوجوان نسل عمومی طور پر سیاست دانوں سے بے زار ہے اور یہ ماننے سے انکاری ہے کہ پاکستان میں کوئی شخص صاحب اقتدار رہتے ہوئے کرپشن سے پاک وقت گزار جائے۔ ویسے تو یہ تحریر جون 2024 میں صاحب کردار کے لئے لکھی گئی تھی مگر کسی ”اگر مگر“ کا شکار ہو کر ”اِدھر اُدھر“

Read more

ادارہ شماریات کی رپورٹ اور بے وقت کی راگنی

ادارہ شماریات پاکستان نے سال 2023 ء میں ملک بھر میں کی جانے والی ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت ملک میں بولی جانے والی مختلف مادری زبانوں پر رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق ملک بھر میں پنجابی بولنے والے 8 کروڑ 89 لاکھ، پشتو بولنے والے 4 کروڑ 36 لاکھ، سندھی بولنے والے 3 کروڑ 44 لاکھ، سرائیکی بولنے والے 2 کروڑ 88 لاکھ، اردو بولنے والے 2 کروڑ 22 لاکھ، بلوچی بولنے والے 81 لاکھ 17 ہزار،

Read more

کپتان کی سخاوت اور کارکنوں سے پیار کا ایک واقعہ

گزشتہ دنوں جید صحافی حبیب اکرم صاحب کا ایک کلپ دیکھا جس میں وہ ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں جس میں کپتان کی مال و دولت سے بے نیازی اور اپنا سب کچھ کارکنوں پر وار دینے کا تذکرہ تھا۔ پہلے حبیب اکرم صاحب کا بیان کردہ واقعہ دیکھ لیتے ہیں۔ سچے صحافی حبیب اکرم راوی ہیں، ”ایک دفعہ، عمران خان صاحب اپنے کنٹینر پہ تھے۔ اور یہ دھرنے کے دنوں کی بات ہے۔ ان دنوں کیا ہوا کہ

Read more

زارا قتل کیس۔ کاش یہ آخری نوحہ ہوتا

زارا کا نوحہ اس لیے لکھا گیا کہ یہاں پہ سفاکیت بربریت کا ننگا ناچ حد سے زیادہ ہی بڑھ گیا تھا وگرنہ ہر دوسرے گھر میں کوئی نا کوئی زارا موجود ہے جو یا تو جذباتی طور پہ مر چکی ہے یا مرنے کے مراحل طے کر رہی ہے۔ کیا ہے یہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ کا عظیم خاندانی نظام جس میں خاندان تو مر جاتا ہے بس نظام سڑاند چھوڑنے کو بچا رہتا ہے۔ ایسے ہر گھر

Read more

برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر (رابندر ناتھ ٹیگور ) قسط 6

حسن فطرت سے اُسے عشق ہے۔ یہ صبح شام موسموں کے بدلتے رنگوں کے ساتھ کیسے پرانے پیرہن اُتار کر نئے پہنتی ہے۔ اُن پرانے اور نئے رنگوں میں حُسن و رعنائیوں کے جلوے اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کرتے ہیں۔ اس کا اظہار بھی کیا خوب ہے۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہے بارش بند نہیں ہوتی میں نہیں جانتا میرے اندر کون سی بیتابی ہے ایک جگہ لکھتے ہیں۔ طلوع آفتاب زمین کو زریں تاج

Read more

ڈاکٹر تنویر حسن خواجہ۔ یادوں کی باز گشت

فون بجتا ہے۔ وقار کی روہانسی آواز آتی ہے ”تنویر ہمیں چھوڑ گیا ہے“ ۔ مگر میں کیسے مان لوں۔ وہ تو ٹوٹتے تعلق کو بھی آخری دم جوڑ لیتا تھا۔ کچھ لمحوں کے بعد یاسر کا فون آتا ہے۔ مگر میں کیسے یقین کرتا، وہ تو ہم سے زیادہ زندہ تھا۔ کیا خبر تھی کہ دوسروں میں زندگی بانٹتے بانٹتے اپنی سانسوں کی ساری نقدی لٹا دی۔ میں سکتہ میں رہ گیا۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ ماما

Read more

کچھ یادیں

جون ایلیا اپنی وفات سے ایک سال پہلے ہماری دعوت پر ایک مشاعرہ پڑھنے جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال تشریف لائے تھے۔ یہ مشاعرہ سٹیزنز فورم خانیوال کے زیرنگرانی ہوا تھا۔ ڈگری کالج خانیوال کے لان میں منعقدہ اس مشاعرے میں پہلی بار خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔ سامعین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ فرشی نشست تھی اور سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ رات گئے مشاعرہ چلتا رہا۔ جب جون ایلیا پڑھنے بیٹھے تو

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 26 : شکستِ آرزو

” ڈرو مت، کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں ؛ پریشان نہ ہو، کیونکہ میں تمہارا خدا ہوں۔ میں تمہیں تقویت دوں گا، میں تمہاری مدد کروں گا، اور میں اپنے راست باز دائیں ہاتھ سے تمہیں سنبھالوں گا۔“ اشعیا 41 : 10 نیلوفر لاہور میں مزنگ کے محلّے میں رہتی تھی جو اس زمانے میں ثقافتی لحاظ سے اہم محلہ تھا۔ وہاں کی تنگ گلیاں زندگی سے بھرپور تھیں، اور محلے کے چائے خانے دن رات آباد رہتے تھے۔ جِم

Read more

’مشک پوری کی ملکہ‘ اور ’بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب‘: ایک تقابلی جائزہ

محمد عاطف علیم، مشک پوری کی ملکہ کے مصنف، ایک معروف کالم نگار، فکشن نگار، اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ان کے ادبی سفر میں مشک پوری کی ملکہ کے علاوہ ان کا ناول گردباد اور کہانیوں کا مجموعہ شہرِ نامطلوب بھی شامل ہیں، جو قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ محمد عاطف علیم 10 مئی 1964 کو ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔

Read more

مُلازم رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کر لیں

محبتوں کے دُکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں تو یہ عمر بھی نہیں دیکھتے۔ میں نے چائلڈ لیبر کے خلاف بہت لکھا ہمیشہ غریبوں کا ساتھ دیا مگر اس دفعہ مجھے تصویر کا دوسرا رُخ بھی نظر آیا۔ جب تک میں نے بُرائی کے پھل کو نہیں دیکھا تھا میں سمجھتی رہی کہ لوگ غریبوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ہم اپنی نواسی کی پیدائش کے چھے ماہ بعد ہمراہ بیٹی

Read more

انسانیت کا قتل: کوٹلی مرلاں میں گھریلو تشدد کا لرزہ خیز واقعہ

ڈسکہ کے نواحی گاؤں کوٹلی مرلاں میں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی زوال اور گھریلو تشدد کی بڑھتی ہوئی شدت کا ایک اندوہناک ثبوت ہے۔ اس واقعے میں ایک حاملہ خاتون، 26 سالہ زہرا، کو اس کی ساس اور نندوں نے سفاکی سے قتل کر دیا۔ زہرا سات ماہ کی حاملہ تھی اور ایک چھوٹے بچے کی ماں بھی تھی۔ وہ اپنے شوہر قدیر کی غیر موجودگی میں، جو بیرون ملک ملازمت کے سلسلے میں

Read more

رائیگانی

ٹپ ٹپ ٹپ، بارش برستی چلی جا رہی ہے اور رائیگانی کا احساس بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ رات کی تاریکی میں کتنے لمحے آنکھوں میں جل بجھ رہے ہیں، جن میں تارے پاؤں میں بچھتے چلے جا رہے تھے اور پھر تاروں کو ریت بنتے دیر ہی نہیں لگی۔ کتنے لوگ یادوں کی بارات میں چلے آ رہے ہیں جو اپنا مقام بنانے سے پہلے بجھ گئے۔ جو بہت کچھ بن سکتے تھے، بہت کچھ ہو سکتے تھے لیکن

Read more

عاطف توقیر کا شعری مجموعہ: "رد”

عاطف توقیر 23 جولائی 1979 کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک شاعر، مصنف اور میڈیا میں محقق ہیں۔ ”رد“ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو 2022 میں عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ عاطف توقیر آج کل جرمنی میں مقیم ہیں اور وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں عطف توقیر نے اس شعری مجموعہ ”رد“ میں یہ واضح کیا ہے کہ ایک فرد خود اپنے اندر کیا محسوس کرتا ہے اور ایک فرد جو معاشرے میں

Read more

جاپان کے شہر یوکوہاما میں!

جاپان کا ریلوے نظام دنیا کے بہترین ریلوے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کئی قسم کی ٹرینیں چلتی ہیں، جو مختلف شہروں اور علاقوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ جاپان کی بلٹ ٹرین تو خیر نہایت مشہور ہے۔ یہ ٹرین کئی گھنٹوں کا سفر محض چند گھنٹوں میں طے کر لیتی ہے۔ اوساکا سے کھانا گاوا (Kanaghawa) پریفکچر کے لئے مجھے بلٹ ٹرین کے ذریعے روانہ ہونا تھا۔ یہ تقریباً اڑھائی گھنٹوں کا سفر تھا۔ متعین وقت پر ریل

Read more

اُلٹے جھُمکے عرف آلۂ سماعت

اشارہ تو بیگم ایک دو مرتبہ پہلے بھی کر چکی تھیں مگر آج کچھ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آرہے تھے، کہ گھورتی آنکھوں غصے سے پھول چکے لال رخساروں والا چہرہ قریب آتے آتے کچھ رحم کھاتے انداز میں بدل چکا تھا۔ اور میرے کندھے ہلا کر متوجہ کرتے بتا رہی تھی کہ انہیں یقین ہو چلا ہے کہ ہمیں اب سنائی کچھ نہیں بلکہ خاصا کم دیتا ہے۔ وہ ”واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے، تُساں تے

Read more

سالک کی مختصر نہایت ہی مختصر سوانح عمری

ایک کیف تھا سرور تھا انبساط تھا بے قراری تھی وارفتگی تھی سرشاری تھی جی میں آئی کہ اپنی سوانح عمری لکھوں لیکن ایسی سوانح عمری جو منفرد ہو جداگانہ ہو ایسی سوانح عمری جیسی پہلے کسی نے نہ لکھی ہو۔ یہ دو ہزار سترہ کی بات ہے جب میری عمر پینسٹھ برس تھی اور مجھے اپنے پچھلے پچاس برس کی کہانی لکھنی تھی جب سے میں نے زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا تھا۔ میں جانتا

Read more

نادرا اور دیہی سندھ کے عوام کا نحیف تعلق

بِلا تردد، نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں تصحیح، تصدیق اور تجدید کے بہت سے نظام، ادارہ کے قیام سے لے کر ماضی قریب تک متعارف کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام خصوصاً سندھ کے دیہی عوام کی جانب قارئین، حکامِ بالا اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے جو اب بھی نادرا میں رجسٹریشن کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ کے دیہی

Read more

ناول ”سندھو“ کا تہذیبی مطالعہ

ایک عرصے تک آثارِ قدیمہ کے ماہرین وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں لاعلم تھے۔ ان کا خیال تھا کہ برِ صغیر میں انسانی تہذیب کا آغاز آریاؤں کی آمد سے ہوا ہے جو 2500 ق م سے 1500 ق م تک ہندوستان میں وارد ہوتے رہے۔ گزشتہ صدی کی دوسری دہائی میں جب سندھ کی قدیم تہذیب کی دریافت ممکن ہوئی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ یہاں، ایک ایسی تہذیب موجود رہی ہے جسے ترقی یافتہ تہذیبوں

Read more

بھارتی ولاگرز، کرکٹ اور گودی میڈیا

بھارت اور پاکستان کے سیاسی حالات بہت پیچیدہ رہے ہیں، کسی زمانے میں صدیوں سے متحدہ ہندوستان میں رہنے والے یہ ملک، انگریزوں کے جاتے ہی پلک جھپکتے میں یوں ایک دوسرے کے دشمن ہوئے کہ دنیا حیران ہے، دونوں ملکوں کی سرکاروں نے ہر دور میں اس دشمنی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خوب نچوڑا، نصابی کتب میں ایک دوسرے کا نقشہ یوں کھینچا کہ پاکستان میں آئندہ آنے والی جنریشنز کے نزدیک اس پار شیطان جبکہ بھارت

Read more

نسل نو کی نفسیات ہندوستانی معاشرتی تناظر میں

نوے کی دہائی میں جنم لینے والی نسل آج جذباتی تنہائی اور اداسی میں گرفتار ہے۔ عہد جدید میں وقت کی رفتار نے اشیاء کو اتنا متغیر کر دیا ہے کہ یہ پر تغیر حالات اور مشینی دنیا سے الگ خود کو ایلیئن اور کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھنے لگی ہے۔ جدید اصطلاح میں انہیں ’جنریشن می‘ (یعنی ’میری ذات پہلے‘ کی سوچ رکھنے والی نسل) کہا جاتا ہے۔ ان کی نفسیات، جذبات و خیالات، اور رویوں پر موجودہ

Read more

2اپنے پرائے کی جستجو: نیپال کی سیر۔

  کماری کا گھر دیکھنے پہنچے۔ کماری کون ہوتی ہے نیپالی کلچر میں؟ دلچسپ مگر تکلیف دہ قصہ ہے۔ صدیوں پہلے بادشاہوں، خداؤں اور دیویوں کے جھگڑے کے نتیجے میں کئی نسلوں تک لڑکیاں خدائی راستے میں قربان ہوتی رہی ہیں۔ ہم یہاں بچوں کی ذہنی صحت کی کانفرنس میں مدعو تھے اور پوری دنیا سے لوگ بچوں کی ذہنی صحت پر دو روز مقالے پڑھتے رہے تھے۔ کسی نے مگر بغل میں ہوتی اس رسم کا نہ سوچا جو

Read more

برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط ( 5)

رمضان میں یونیورسٹی بند ہونے اور عید پر گھر جانے کا پوچھنے پر میں نے فوراً کہا تھا۔ ”ارے نہیں آپا عید اپنی کلاس فیلو کے ساتھ باریسال منانے جاؤں گی۔ اپنے دیس کے اِس حصے کے رمضان کی رونقیں اور عید کو بھی تو دیکھوں۔“ باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عظیم اور لافانی شخصیت جن کی شاعری، مصوری، افسانہ، ناول، ڈرامہ، موسیقی، مقالہ نویسی غرض کہ کون سی صنف ایسی تھی جس کے وہ شہسوار نہ تھے۔ قلم اُن

Read more

افسانوں کا مجموعہ : خاموش دستک

حبیب شیخ کے 46 افسانوں پر مبنی کتاب ”خاموش دستک“ رواں سال پاکستان سے شائع ہوئی ہے۔ میں حبیب شیخ صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ یہ کتاب مجھے بطور خاص اپنے آٹو گراف کے ساتھ ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ کتاب کا تعارف ’پیش در پیش‘ کے عنوان سے مصنف نے خود تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کی کہانی بہت دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے۔ یہ کہانی

Read more

کہانیاں جہان گم گشتہ کی

  بڑے عرصے بعد کوئی ایسی چونکا دینے والی کتاب پڑھی جس نے اپنے فکری موضوعات سے ہی نہیں بلکہ اپنے زرخیز تخلیقی اسلوب سے بھی بے حد متاثر کیا۔ مطالعے سے قبل یہ میرے لیے فقط ایک تخلیقی نثری کتاب تھی، مگر ان کہانیوں میں اتر جانے کے بعد یہ میرے لیے دکھ درد کی ایسی بپتا بن گئی کہ جس میں نگہت سلیم صاحبہ نے جانے کتنی محرومیوں، حسرتوں، خواہشوں اور خاک ہوتی تشنہ انسانی آرزوؤں کو یکجا

Read more

1 :اپنے پرائے کی جستجو: نیپال کی سیر

سرحدوں کی اپنی سائنس ہوتی ہے۔ سائنس ہوتی ہے یا پھر ان دیکھے خدا کے نمائندے ان کو ہر کچھ سال بعد گڈمڈ کر کے اپنے بنائے ہوئے انسانوں کو بے چین رکھتے ہیں۔ مغرب والوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ دونوں میں سرحدوں کے روایتی تصور کو قریباً مٹا ہی دیا گیا ہے۔ ہاں مشرق پر جبر اور سرحدوں کے ردو بدل کی پالیسی پر مغرب اور ہمارے ہاں کے سامراجی خدا شاید اب بھی ایک صفحے

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند: آخری قسط

  ” اوہ۔ میرے خدا، یہ کیا ہو گیا۔ اب شاہ بانو کہاں ہے“ ۔ مہرین نے شرجیل کو بتایا تو وہ بے چین ہو اٹھے ” اللہ ہی بہتر جانتا ہے شاید اپنے بھائی ثمر کے پاس چلی گئی ہو“ ” میں اس خبیث شخص کا خون کر دوں گا“ ” نہیں بھائی جان! آپ اب کچھ نہیں کریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے ظلم کو روک دیا جائے اور یہ کام میں کروں گی“

Read more

آج کی عورت مضبوط اور پڑھی لکھی ہے

ایک وقت تھا جب عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا۔ گھروں میں بھی امتیازی سلوک ہوتا تھا۔ لڑکوں کو ہر معاملے میں برتری حاصل تھی حتیٰ کہ بوٹیاں اور اچھا کھانا ان کی پلیٹ میں ڈالا جاتا تھا۔ تعلیم کے معاملے میں بھی لڑکوں کو ہی اہمیت دی جاتی تھی جبکہ لڑکیوں کو صرف دینی تعلیم تک ہی محدود رکھا جاتا تھا اور چھوٹی عمر سے ہی گھر داری اور دیگر امور سکھائے جاتے تھے کہ اس نے

Read more

جہاں کہیں بھی محبت نہیں ہے : افسانہ

یہ تیسری بار تھی کہ وسیم نے کسی پیشہ ور عورت کے ساتھ ہوٹل میں رات گزاری اور انجام پچھتاوے کی صورت میں ہوا۔ لڑکی تو اس بار بھی حسین و جوان تھی اور تعاون کرنے والی بھی، مگر خود اُسے ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اصل میں چاہتا کیا ہے؟ پہلے دو بار بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اُس کے انتخاب میں کوئی کمی نہیں تھی اور نا ہی اہتمام میں کوئی کجی۔ پہلی دو بار

Read more

موچی کے بالشتیے اور بادشاہ کا لباس فاخرہ

میرا جی کو گھر یاد آتا تھا اور مجھے ماں یاد آتی ہے۔ میرے بچپن میں جاڑا بہت کڑاکے کا پڑتا تھا۔ ماں نرم روئی کا لحاف مجھ پر ڈال کر سر پر اونی ٹوپی اوڑھا دیتیں۔ اور پھر روئی کے ڈھیر میں چھپے اس ’گولو شاہ‘ کو مزے مزے کی کہانیاں سناتیں۔ میری پسندیدہ کہانی ایک غریب موچی کے بارے میں تھی جس کے تیار کئے ہوئے ادھورے جوتے کوئی رات کے اندھیرے میں مکمل کر دیتا تھا۔ ایسی

Read more

منیر نیازی کی شاعری کی خصوصیات

منیر نیازی کی شاعری کی خصوصیات: ؎ ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں قیام پاکستان کے بعد شعراء میں منیر نیازی کی شاعری انفرادیت کا نشان ہے۔ انہوں نے فرد کے باطن کی گہرائی میں اتر کر فکر کے ایسے موتی دریافت کیے جن کی چمک دھمک بالکل نئی تھی اور ایسا پیرانہ شاعری اختیار کیا جو ایوان شاعری میں نئے موز کی اطلاع دیتا دکھائی دیتا ہے۔ منیر نیازی کا تعارف:

Read more

یا رب! مجھے صبرِ جمیل عطا فرما

میری نیک سیرت، خدمت گزار اَور خوش اخلاق اہلیہ شاہدہ اِکیاون سال کی رفاقت کا حق ادا کر کے 31 ؍اکتوبر کی رات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اُنہیں مرگی کا دورہ پڑا جو جاں لیوا ثابت ہوا۔ اِنَّا لِلَّٰہ و َاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُونَ۔ وہ ڈیڑھ دو سال سے اکثر یہ کہا کرتی تھیں ”اللہ! تُو جب بھی بلائے، مَیں تیار ہوں۔“ میری جب نومبر 1973 میں شاہدہ سے شادی ہوئی، وہ مسٹر بھٹو کا دورِ حکومت تھا جو

Read more

چلتا پھرتا ٹی ہاؤس

یوں تو ریل کی سیٹی ہماری گھٹی میں شامل ہے کہ بابا مرحوم ایک زمانے ریل کے نوکر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں کوئی کلاک نہیں تھا۔ گاڑیوں کے ٹائم پر ناشتہ ہوتا۔ ماں آواز لگاتی اٹھو! ریل کار گزر گئی، تم ابھی سو رہے ہو۔ لنچ تیزگام کی آمد پر ہوتا۔ ڈنر خیبر میل کے ڈیپارچر پر۔ بچپن میں چھپن چھپائی ریل کے پرانے بوسیدہ انجنوں کے بیچ ہوا کرتی۔ خیر یہ تو غیر ضروری تمہید باندھی گئی

Read more

علمی عدم اطمینان کے نفسیاتی اثرات

علمی عدم اطمینان کے لئے نفسیات کی زبان میں کوگنیٹو ڈسونینس ( Dissonance) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں کسی فرد کو اس بات پر احساس ہونے لگتا ہے کہ اس کے حاصل کردہ علوم، ذاتی تجربات کی بنیاد پر قائم خیالات، مذہبی عقائد، ایمان، سیاسی نظریات اور سماجی روایات اس کے عملی کردار سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اور وہ شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اس کے ظاہری

Read more

لیا درس نسخۂ عشق کا

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا مگر یہ اصل نام نہیں۔ ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور، نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔ ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔

Read more

پرانے کمپیوٹر اور موبائل فون کے مدر بورڈز سے سونا نکالنے کا رجحان

آآآآ، پرانے کمپیوٹر بیچو ہا، پرانے موبائل فون بیچو ہا، نقد نقد پیشے لِیو ہا۔ ”ابّے بھورُو! تَنے سے آواج نہ لاگے۔ کل راتو ساہدرہ میں کانڈی کے ہوٹل ما تَنے پورا کڑاہی گوست کھا گِیو، اِب کے تَنے سے آواج نہ لاگے“ ۔ ”ابّے اُستاد طوطُو! کا یاد دِلا دیا۔ کڑاہی گوست اپنو جگہ پر قائدِ اعجم کالونی والے مرغی کے چنبوں والے کوئلہ کباب کا جو مجا ہے قشم شے پورے بہاول پور کے کِشی ہوٹل ما وہ

Read more

چکوال میں بیوہ کے ذہنی مریض بیٹے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ

جمعرات کی شام چکوال شہر میں چوا چوک کے قریب واقع ایک کم آبادی والے محلے رحمن آباد میں جب اندھیرا چھا رہا تھا تو 68 سالہ ایک ماں کی زندگی بھی تاریکی میں ڈوب رہی تھی۔ کیچڑ زدہ کچی گلی کے کونے پر واقع دو کمروں کے چھوٹے سے گھر کے باہر ایک لوڈر رکشہ کھڑا تھا جس پر اس بدقسمت ماں کا چھوٹا بیٹا اور بیٹے کا ایک دوست گھر کا سامان رکھ رہے تھے۔ مالک مکان سر

Read more

جب امیر پھپھو گھر آئے

خالہ کہاں تھیں آپ اتنے دنوں سے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے آپ کو، قسم سے ہم سب اداس ہو گئے تھے۔ خالہ کے گلے لگتے ہوئے بینا نے پیار بھرا شکوہ کیا۔ تم تو ایسے مل رہی ہو جیسے برسوں بعد آئی ہوں۔ بینا کی محبت پہ خالہ نہال ہو گئیں۔ آج بھی نہیں آتیں تو میں ذاکر کو بھیجنے والی تھی آپ کو لینے، آپ تو بھول ہی گئیں بہن کو۔ پورے تیرہ دن بعد آئی ہیں۔ امی کا

Read more

اداسیوں کے البم میں ماں کی تصویر

ماں جب تمھیں سوچتی ہوں تو بہت سی منتشر یادیں میرے اردگرد جگنوؤں کی طرح بکھر جاتی ہیں اور ان یادوں میں میں خود کو ایک چھوٹی سی کمسن بچی دیکھتی ہوں کبھی نو عمر لڑکی، کبھی بچپن اور نوجوانی کی دہلیز پہ کھڑی معصوم سی بچی، حالانکہ ماں یہی تو وہ دن تھے جب تم میرے باپ کے سنگ بیاہ کر آئی تھی اور خود بھی ایک کمسن سی الھڑ سی لڑکی تھیں۔ ماں تم نے ہر لڑکی کی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 25 : آرزو

” کیوں کہ گزرے ہوئے وقت میں تم نے قوموں کی مرضی پوری کرنے میں بہت وقت گزارا ہے، جب کہ تم عیش پرستی، شہوت پرستی، شراب نوشی، نشے، عیاشی اور بت پرستی کے کاموں میں شامل رہے۔ “ 1 پطرس 3 : 4 مریم کا رُواں رُواں زندگی سے لبریز تھا۔ وہ زندگی کو چُسکیاں لے کر جُرعہ جُرعہ پیتی تھی اور اکثر کسی دانا کا قول دہراتی تھی کہ ”زندگی ایک پیاز کی طرح ہے۔ بس چھیلتے جاؤ

Read more

شرجینہ کے بلڈ پریشر کا علاج کیا تھا؟

صاحب آپ نے کہا ڈرامے کو ڈرامہ ہی رہنے دیں، حقیقت نہ بنائیں۔ بجا فرمایا آپ نے! ایک سوال پوچھیں آپ سے؟ آپ کو وہی ڈرامے بھاتے ہیں نا جو زندگی سے قریب لگتے ہوں، جنہیں دیکھ کر آپ بے اختیار سوچیں۔ ارے یہ تو میں ہوں۔ یہ سب کچھ تو میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ڈرامے کے کردار آپ کے گھر کے افراد بن جائیں۔ وہ آپ کی زندگی میں شامل ہو جائیں۔ ایسا ہو گا تو آپ ڈرامے

Read more

ایک صوفی اور آزاد عورت کی محبت

اسوج کا مہینہ شروع ہوتے ہی گرمیاں رخصت مانگتی ہیں اور جاڑا دستک دینے لگتا ہے۔ اس مہینے میں بارش ہو جائے تو کسان بھی نہال ہو جاتا ہے، ’برسے اسوج تو ناج کی موج‘ ۔ ہلکی ہلکی خنکی بھلی لگتی ہے۔ بارش رک گئی تو راجو بازار سے واپس چل پڑا۔ سہانا موسم اور تنہائی، وہ اردگرد لگے بل بورڈز دیکھتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف کھلی خود رو بھنگ کے پھولوں کی بھینی

Read more

روبوٹ سیکس کا انقلاب، دانش مندان دیں کے لیے لمحہ فکریہ

ہم عنقریب ایک ایسے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں ممکن ہے 2025 میں ہو جائے کہ جہاں سیکس کی کیمسٹری بالکل ہی تبدیل ہو جائے گی۔ خواتین ایک بھرپور سیکس سے مستفید ہو سکیں گی، جتنی بار بھی سیکس کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، سرعت انزال یا ٹائمنگ ایسے مسائل کا کوئی چانس نہیں ہو گا۔ مطلب ایک مثالی اور پر تسکین قسم کے سیکس کی راہ ہموار ہوگی جس میں خواتین کی تشنہ جنسی پیاس کی تکمیل

Read more

ڈاکٹر بہو کو دفع کریں

تمہارا چہرہ لمبوترا سا ہے۔ پاؤں بہت بڑے ہیں مردوں جیسے۔ کھانا تو ماں نے سکھایا ہی نہیں ڈھنگ کا پکانا۔ روٹی گول کب بناؤ گی۔ تمہارے ماں باپ کے گھر ہوں گے یہ ایک وقت کا کھانا اگلے دن کھانے کے رواج۔ ہمارے ہاں بی بی تازہ سالن بنتا ہے روز۔ دماغ ُسن ہی رہتا ہے۔ یاد نہیں رہتا کچھ۔ بیٹی کو گھر داری سکھاؤ۔ تم نے یہ ڈگریاں لے کر کون سے تیر مار لیے ہیں جو اس

Read more

شرجینا کا بچہ کیسے ضائع ہوا؟

صاحبو۔ ہم ڈرامے نہیں دیکھتے مگر کبھی کبھار احباب ہمیں کسی نہ کسی ڈرامے کا حصہ ضرور بنا دیتے ہیں۔ مشہور شاعر سلمان حیدر نے لکھا کہ اللہ نہ کرے شرجینا کو کچھ ہو جائے ورنہ مصطفی کو میری بیوی اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نہیں بخشیں گی۔ پڑھ کر ہم بے ساختہ ہنس دیے مگر پھر سوچا کہ کون ہیں یہ شرجینا اور مصطفی؟ ادھر ادھر پوچھنے کے بعد علم ہوا کہ ایک مشہور ڈرامے کے کردار ہیں اور عزیزی

Read more

چار بیرنگ خط جو کوئٹہ نہیں پہنچے

میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑی تھی، تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے پچھلے والی گلی میں ایک بہت پرانا، شاید پچاس سال پرانا لیٹر باکس تھا۔ کسی نے اس کا دروازہ کسی نے توڑ دیا تھا۔ بلندی سے صاف سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اندر خطوط ہیں یا نہیں میرے لیے یہ کافی حیرت انگیز منظر تھا۔ بچپن سے ہی یہ لیٹر باکس میرے لیے ایک فینٹسی جیسا تھا۔ جب بھی میں اسے دیکھتی تھی، سوچتی

Read more

مناہل ملک کا دھندا اور معصوم عوام

اس قوم کا کیا کیا جائے، ملک میں نئے چیف جسٹس کی تعیناتی حکومت کے لئے درد سر بنی ہوئی تھی کہ اس دوران ٹک ٹاکر مناہل ملک کی بلیو ویڈیوز لیک ہو گئیں، قوم ملک کے مستقبل کو چھوڑ کر مناہل ملک کی ویڈیوز کے پیچھے پڑ گئی، میرے دو پیارے دوستوں نے فوراً مناہل ملک کی بلیو ویڈیوز واٹس ایپ پر بھیج دیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ میں نے ایک عرصہ شوبز کی بیٹ کی ہے

Read more

ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی

نام عبید الرحمن عرفیت بڑے بھائی، عمر بہتر برس، رنگت آبنوسی (شیشم کی لکڑی کے رنگ کی) اردو زبان بولتے ہیں۔ سیٹھوں میں زندگی گزری۔ راز داری کے اہتمام اور کسی کام سے انکار نہ کرنے کی وجہ ان اہل زر کی نجی زندگی میں بہت دخیل رہے۔ کوئی مجرا، کوئی بسنت، سن ستر سے اسی کی دہائی میں تھائی لینڈ کا کوئی دورہ نہ چھوڑا۔ تھائی لینڈ میں یہ عیاشی کا بہترین دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب

Read more

رابندر ناتھ ٹیگور: بر صغیر کا نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر: (3)

اس وقت ڈیڑھ بجا ہے۔ ڈپارٹمنٹ سے واپس آ کر ابھی میں نے کمرے میں آ کر کتابیں اپنی منی سی میز پر رکھی ہیں کہ جب فاخرہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کوریڈور میں ہی کھڑے کھڑے اُس نے دروازے کا پٹ ذرا سا کھول کر اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ہے کہ مجھے کھانے کے لئے جانا ہے کیا؟ میں نے ساڑھی بدلنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ لمبے کو ریڈور

Read more

آزاد وطن کے غُلام باشندے

صبح صبح جب ان دیکھے گہرے زنجیروں میں جکڑے میرے وطن کے سینے پر پُر کشش ہوائیں چلتی ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے دنیا کی تمام رعنائیاں میرے وطن کے گِرد چکر کاٹ رہے ہوں۔ درختوں سے اُڑتے بے شُمار پرندے جیسے کہے رہے ہوں ہم آزاد ہیں، ہم جو چاہیں جو کہیں، جو چاہیں سُنیں اک نئی صبح لیے اپنی قسمت پر رشک کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں کی ایک کُھلی کتاب میرے

Read more

کردار و رویے کی خرابی/ کنڈکٹ ڈس آرڈر

اویس کے والد فوج میں تھے جب کہ وہ اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ اس بچے کی پیدائشی طور پر پیشانی باہر کو نکلی ہوئی تھی، جس کو آپریشن کے ذریعے ٹھیک کرنے کی کوشش تو کی گئی لیکن کافی حد تک نقص برقرار رہا۔ بعد کے دنوں میں جب وہ بڑا ہوا تو دیکھا گیا کہ اس میں نافرمانی کا عنصر بہت زیادہ تھا۔ وہ ایک بگڑا ہوا بچہ تھا۔ اس نے بہت

Read more

بچوں کی پرورش میں والدین کا منفی کردار

میری بیٹی نے بہت چھوٹی عمر میں سکیٹنگ شروع کر دی تھی۔ اس وقت مجھے خدشہ رہتا کہ کہیں گر کر ناک نہ تڑوا لے۔ جب اس نے سکیٹنگ میں رقص کی بندشوں کو بھی شامل کر لیا تو کئی مرتبہ گر جاتی۔ مڑ کر ہماری طرف دیکھتی۔ اکثر اس کی ماں گھبرا کر ’بسم اللہ، بسم اللہ‘ کہنے لگتی۔ ماں کو خوفزدہ دیکھ کر بیٹی بھی رونا شروع کر دیتی۔ جب ماں پاس نہ ہوتی اور میں بھی کوئی

Read more

متوازی سنیما کیا ہے؟

متوازی سنیما کی وضاحت کرنے سے پہلے اس بات کا اعتراف یا ادِراک کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی اصطلاح کی محدود تعریف پیش کرنا آسان نہیں ہے۔ مختلف اصطلاحوں کی لوگ اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق تعریف کرتے ہیں اور کسی ایک تعریف پر سب کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ متوازی سنیما کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دراصل 1960 میں آنے والی سنیما کی ”نئی لہر“ کا ہی دوسرا نام ہے۔ کچھ اور یہ

Read more

کانٹے اور سرخ رنگ کا ایک تیز خوشبودار لونگ کا پھول

تبصرہ نگار۔ ساجدہ فرحین فرحی The Thorn the Carnation یہ وہ ناول ہے جو یحییٰ سنورنے جیل میں لکھا یہ ناول ایک زمانے میں سب سے زیاد فروخت ہوا یہاں تک کہ اسے صیہونی حکومت کے دباؤ میں سائٹس سے ہٹا دیا گیا برطانیہ کے وکلاء برائے اسرائیل (UKLFI) نے ایمیزون کو بتایا تھا کہ یہ ایک ”غیر قانونی کام“ ہے۔ 18 اپریل 2024 کو UKLFI نے Amazon کو مطلع کیا کہ اس نے برطانیہ کے ”انسداد دہشت گردی“ قوانین

Read more

افسانہ بدبخت: ننگر چنہ

اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹوں کے میلے کا منظر تھا اور وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی ہاتھ پاؤں مہندی میں سرخ دیکھ کر بہت ہی خوش ہو رہی تھی۔ اڑوس پڑوس کی جوان اور بوڑھی عورتیں اس کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ سرخ رنگ کے نئے کپڑے پہن کر اس کے گال بھی خوشی کے مارے لال ہو گئے تھے۔ آج سے قبل سردی ہوتی کہ گرمی، وہ پرانے اور اترن کے کپڑے پہن

Read more

داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر

مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحۂ قتل کے بارے میں ہماری شنید معلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر ان دنوں کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی، کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ انہی مصطفے زیدی کا شعر ہے داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ان دنوں نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال

Read more

کیلوِن باؤری۔ بے گناہ قید کاٹنے سے کامیاب کاروباری شخصیت بننے تک کا سفر

تحریر: فیتھ کریمی، ترجمہ: دانش علی انجم یہ جون 2017 ء کی ایک دوپہر کا واقعہ ہے۔ کیلوِن باؤری نے اپنی سیاہ واکس ویگن جیٹا گاڑی کو ”گرین ہیون کوریکشنل فیسلٹی“ (سٹورم ول، نیویارک کی ایک جیل) کے باہر کھڑا کیا اور سیمنٹ و سریے سے بنی ان مضبوط دیواروں پر ایک نظر ڈال کر گہری سانس لی۔ محض چند ہفتوں قبل تک وہ انہی دیواروں کے اندر مقید دیگر قیدیوں میں شامل تھے لیکن آج وہ بطور ایک قیدی

Read more

ایک عورت ہزار دیوانے

اس سماج میں عورت سے جو رویّہ اختیار کیا گیا ہے اس سے عورت کی سماجی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ عورت کو بس ایک سیکس اوبجیکٹ سمجھا جاتا ہے اور ہر مرد کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اس گوشت کے ٹکڑے سے کھیلنے کا موقع ملے۔ یہ انسان کی فطری جبلت ہے یا سماجی تربیت کا نتیجہ ہے جو بھی بولیں مگر اس معاشرے میں عورت کی حیثیت اتنی سی ہے۔

Read more

سموگ میں ڈوبا لاہور

گزشتہ ہفتے جمعرات سے اتوار تک تین راتیں اور چار دن لاہور میں رہا ہوں۔ میری بہن کی بیٹی کی شادی تھی۔ اپنے خاندان کا بڑا ہونے کی وجہ سے میری اس شادی سے متعلق ہر تقریب میں شرکت لازمی تھی۔ میرے دیرینہ قاری اگرچہ اس حقیقت سے اب تک بخوبی آگاہ ہوچکے ہیں کہ میں گزشتہ کئی برسوں سے لاہور جانے سے گھبراتا ہوں۔ بارہ دروازوں کے اندر بسے میرے بچپن کا شہر اب نودولتیوں سے مختص ثقافت کی

Read more

پاکستانی سیاست میں خواتین کا موثر کردار

عمران خان اور ان کا خاندان وطن اور ہم وطنوں کے ساتھ محبت کا وہ قرض چکا رہا ہے جو انہوں نے لیا بھی نہیں، دوران قید کپتان کے کردار نے انہیں ان کی ہم عصر سیاسی قیادت میں مزید ممتاز کر دیا۔ عمران خان کی طرح ان کی بہنیں بھی نڈر اور بہادر ہوں گی اس کا کسی کو اندازہ تک نہیں تھا۔ عمران خان جس روز سے جیل میں قید ہیں اس دن سے ان کی بہنیں اپنے

Read more

پردہ بکارت کی سلامتی مرد کی ترجیح ہوتی ہے اور خاتون کی؟

کیا کوئی باشعور لڑکی بھی ”نیک اور پاکباز“ شوہر کی تلاش کا اشتہار دے سکتی ہے؟ کیا وہ بھی کوئی معقول یا قابل شوہر کی تلاش کے لیے بائیو ڈیٹا طلب کر سکتی ہے؟ اگر مرد کی نظر میں کسی بھی خاتون کے نیک و باکردار ہونے کا معیار ہائمن ”پردہ بکارت“ کی سلامتی اور تحفظ ہے تو ایک خاتون بھی تو اپنی ترجیحات کا اظہار کر سکتی ہے کہ ”اسے ایک ایسے باکردار شوہر کی تلاش ہے جس کے

Read more

گرجاکھ

وہ بس ایسا ہی ہے۔ قدیم، سنہری اور روہانسو۔ جس کے سینے میں میری ماں دفن ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو اس کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ پہیے دوڑاتا پھرتا تھا۔ بوگن ویلیا جسے دیکھتے ہی ابا جی ایک مضبوط ٹہنی توڑ کر میرے ہاتھ میں پکڑا دیتے۔ ہر گھر میں کیکر کے درخت اور بکریاں تھی جو ذرا سا پچکارنے پر کلاچے بھرتی غائب ہو جاتی۔ کہتے ہیں وہاں پہاڑی کے اُوپر میراں شاکر شاہ کے مزار کے

Read more

بیگم اختر: زندگی اور غزل کا استعارہ

بیگم اختر نے غزل کو محض گایا نہیں، بلکہ اسے بسر کیا تھا۔ ان کی غزل گائیکی ایک پوری صدی پر چھائی ہوئی ہے، جس نے ہندوستان میں گائیکی کا ایک نیا اسلوب متعارف کروایا۔ روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک پل باندھتے ہوئے، انہوں نے غزل اور اس کی گائیکی کو گراموفون سے جوڑ دیا۔ بیگم اختر کا انتقال 30 اکتوبر 1974 کو احمد آباد میں ہوا، جب ان کی عمر 60 برس تھی۔ اس برس ہم ان کی

Read more

ڈاکٹر کبیر اطہر کا تصور مسیحائی

مسیحائی کا دائرہ کار جسمانی اور روحانی عوارض کو محیط ہے۔ دونوں عوارض انسانی ذات سے متعلق ہیں۔ کچھ عوارض کا تعلق فرد کے بجائے سماج سے ہوتا ہے۔ یہ عوارض براہِ راست لوگوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے ان عوارض کے لیے ایک مسیحا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کبیر اطہر معروف آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ اُن کی شاعری میں جابجا انفرادی اور اجتماعی عوارض کی جانب اشارہ ملتا ہے۔

Read more

جمہوریت سیکھنا پڑتی ہے

پچھلے 25 برس میں ہمارے عامل صحافیوں کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے آ گئی ہے۔ دوسری طرف کچھ صحافیوں کی قسمت ایسی کھلی ہے کہ وہ مشاہرے وغیرہ کے جھنجھٹ سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ رزق میں ایسی کشائش آئی ہے کہ باقاعدگی سے ترقی یافتہ مغربی ممالک میں چھٹیاں وغیرہ مناتے ہیں اور واپسی پر ہمیں یورپ کی صاف ستھری سڑکوں، عالی شان عمارتوں اور خوابناک تفریح گاہوں کے قصے سناتے ہیں۔ درویش کو چند

Read more

میرؔ تقی میر: صاحب دیوان کی دیوانگی

ڈنمارک کے وجودی فلسفی سورن کرکیگارڈ نے ایک جگہ لکھا ہے، ”شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے درد و غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں“ ۔ میر تقی میرؔ کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میرؔ سے سب کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ! جب ہم میرؔ تقی میرؔ کی داستان حیات کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس

Read more

ہر شخص بھکاریوں کے نشانے پر، جہاں جاؤ وہاں گداگر

میرے گھر کے قریب اکثر ایک عورت اپنی گود میں ایک بچہ اٹھائے لوگوں سے بھیک مانگ رہی ہوتی تھی۔ اس عورت کی گود میں موجود بچے کی حرکات اپنی عمر کے باقی بچوں کی حرکات سے بہت مختلف ہوتی تھیں جہاں ایک سے دو سال کی عمر کے باقی بچے روتے ہیں کھیلتے ہیں دوسروں کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرواتے ہیں وہاں وہ بچہ صرف اس عورت کے گود میں یا تو سو رہا ہوتا تھا یا پھر

Read more

دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more

اعلیٰ تعلیم کا بدلتا ہوا منظر نامہ

برسوں پہلے ہمارے زمانے میں ہم میٹرک پاس کرنے کے بعد مزید دو سال تعلیم حاصل کرتے تھے تو ہماری تعلیم انٹرمیڈیٹ کے برابر گنی جاتی تھی اور پھر اس کے بعد دو سال کا بی اے یا بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد کہا جاتا تھا کہ ہم نے گریجویشن مکمل کر لی ہے۔ اس کے بعد دو سالہ ماسٹرز پروگرام تھے جن میں ہم داخلہ لیتے تھے اور اپنی ڈگریاں حاصل کر لیتے تھے، زیادہ تر پروگرام

Read more

لکسمبرگ میں مروجہ اخلاقی اقدار

آج اتوار تھا سارا دن ہی گھر میں رہے شام کو اچانک ہی پروگرام بن گیا کہ ڈیری فارم سے ضوحا کے پینے کے لیے تازہ دودھ خرید کر لانا ہے۔ گھر سے باہر نکلے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ دھیمی سی رفتار کے ساتھ ہوا بھی چل رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود موسم میں خوشگواری اور خوبصورتی کا تاثر غالب تھا۔ میں نے گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر اپنے دائیں بائیں گردن گھما کر ماحول کا

Read more

ہر دن ماں کا ہے

یہ مضمون میں نے اس دنیا کی تمام ماؤں کی عزت و احترام میں لکھا ہے، جو میری اپنی ماں سے متاثر ہے۔ آج صبح جب اپنی بوڑھی ماں کو کام کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ میں نے اب تک بہت سارے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے مگر اپنی ماں پر آج تک ایک جملہ بھی نہیں لکھ پائی۔ مگر جب ماں پر کچھ لکھنے کے لیے اپنا قلم اٹھایا تو ماں کی اہمیت کا اندازہ

Read more

انسانی دماغ ایک چاند ہے

آج کل سب کی سوچ اسی خیال کے متعلق ہے کہ پاکستان باقی تمام ممالک سے ہر شعبے میں پیچھے ہے۔ مگر غور کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی اس کی وجہ تلاش نہیں کرتا۔ کوئی بھی ملک یا قوم وہاں موجود بڑے لوگوں یا سیاست دانوں سے نہیں جانی جاتی بلکہ وہاں کے عوام ان کے رہن سہن کا طریقہ اس ملک کی پہچان ہے۔ پاکستانی ہونے کے تحت ہم پر ایک مہر لگ چکی ہے۔ وہ

Read more

شعر و شاعری، ریڈیو پاکستان اور ڈاکٹر حسن زی

پاکستان میں اکثر شاعروں، فنکاروں، میوزیشنوں اور لکھنے والوں کی شروعات ریڈیو پاکستان سے ہوئی۔ جیسے، موسیقار لال محمد اور بلند اقبال المعروف لال محمد اقبال، احمد رشدی، مسرورؔ انور، جاوید اللہ دتہ اور بہت سے دوسرے۔ نگار ویکلی کے نامور لکھنے والے جناب اقبال راہی (م) کی معرفت میری شاعر، مصنف، انڈیپنڈنٹ فلم ساز اور ہدایت کار ڈاکٹر حسن زی سے ملاقات ہوئی تو علم ہوا کہ ان کے فنی سفر میں بھی ریڈیو پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلے

Read more

نواز شریف دل برداشتہ کیوں ہیں؟

ہندوستان کا بٹوارا انسانی تاریخ میں ایک منفرد تجربہ ہے۔ زمانہ امن میں شاید ہی کہیں ایسا ہوا ہو کہ چند مہینوں کے اندر ایک کروڑ سے زائد انسانوں کو مجبوراً نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس افراتفری میں مرنے والوں اور بچھڑنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک رہی۔ اس خونچکاں انسانی المیے میں ہر گھرانے کی اپنی ایک داستان تھی اور ہر فرد کی ایک کہانی تھی۔ میرے بچپن تک اس اکھاڑ پچھاڑ کے معاشی اور

Read more

سیاست، ریاست اور غلاظت

بدقسمتی کہیں یا موجودہ حالات کی ستم ظریفی، ایسے ملک میں آنکھ کھولی جہاں آج تک بس خوشحالی اور ترقی کے لئے صرف مسلسل جدوجہد ہی دیکھی۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس جدوجہد میں مزید اضافہ دیکھا اور نتائج زیرو۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا نے اتنی ترقی کرلی، ٹیکنالوجی کا جدید دور دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہمارے قدم اب تک ڈگمگا رہے، ہم نے چاند کیا پہنچنا یہاں تو ہم اپنے گھروں میں خیریت سے

Read more

کیا آپ ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں

دنیاوی معاملات میں جب کوئی شخص ہمارے پاس معلومات لے کر آتا ہے تو ہم اس کی تصدیق طلب کرتے ہیں ان معلومات کے کھرا ہونے کی جانچ کرتے ہیں لیکن جب معلومات کا تعلق دین سے متعلق ہو کیا ہم ان معلومات کی صحت کی جانچ کرتے ہیں؟ یا سنی سنائی بات پر نسل در نسل عمل کرتے ہیں۔ سچائی کو دریافت کرنے کا ہمارا معیار دوہرا اور منافقانہ کیوں ہے؟ ہمارے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان

Read more

جنریشنل ٹراما، کبھی میں کبھی تم

مصطفی اور شرجینہ اس کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مصطفی شرجینہ کے ساتھ خوش ہے زندگی ہنسی خوشی چل رہی ہے۔ لیکن اچانک سے نازک موڑ آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ شرجینہ اور مصطفی صاحبِ اولاد ہونے والے ہیں۔ لیجیے صاحب پروگرام تو وڑ گیا نا۔ بہت سے لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ دونوں کردار بہت ہی مختلف خاندانوں سے آئے ہیں۔ جہاں شرجینہ کو بیٹی ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا پیار ہمیشہ وافر ملا

Read more

بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ

تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف)

Read more

امن، رواداری، مزاحمت، سرزمینِ سندھ اور عاشقانِ دھرتی

جس طرح دنیا بھر میں انسانی ذات کو سنگین مسائل کا سامنا ہے ہر طرف آگے جانے کی دوڑ میں انسانیت پیچھے جا رہی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دور انسانی حقوق کی پامالی کا دور ہے۔ دنیا کہ سارے مسائل اپنی جگہ لیکن ہم اُس دھرتی کی طرف جائیں گے جس کی تاریخ انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کی ضامن رہی ہے جب دنیا کے ممالک جنگی جارحیت کی لپیٹ میں تھے تب وادیِ سندھ

Read more

ایک ننھی سی مسکراہٹ: ہندی کہانی

(تحریر: گیتا انجلی شری، ہندی زبان سے ترجمہ: وقار احمد) اپنے کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج آفس بھی نہیں گئی۔ کھانے کا پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے راجن نے

Read more

سیاست اور سماج: ایک مثالی پاکستانی معاشرہ

پاکستان ایک مثالی معاشرہ ہے جہاں ہر ذی روح کو عزت و منزلت و برکات نصیب ہیں۔ پیارے وطن کا ہر ایک ادارہ مکمل دیانت داری، لگن، خلوص اور عمدگی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ تمام سیاستدان، ریاستی ادارے اور ہمارے محافظین، اپنی تئیں، شانہ بشانہ خدمات سے اپنے عوام کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے لیے ہر لحظہ اور لمحہ، مسلسل، مصروفِ عمل ہیں۔ الحمدللہ! بات سادہ لوگوں یعنی معزز اور محترم شہریوں کی ہو تو ان کی

Read more

ملکی حالات اور دوسری ہجرت

میں نے ہجرت کا بیج کیا بویا پاؤں جڑ سے اکھڑ گِئے میرے تاریخ انسانی میں ہجرت کوئی نئی بات نہیں یہ عمل مختلف محرکات کی بنا پر ازل سے ہوتا آیا اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس کے عوامل معاشی۔ سماجی۔ سیاسی یا کچھ اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہجرت انسان ہی نہیں پرندے اور مختلف جانور بھی موسم کی تبدیلی اور خوراک کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ اسی میں ان کی بقا ہے۔ لفظ خانہ بدوش جس

Read more

ڈرامہ دنیا پور اور فن کے نام پر عورت کی تذلیل

فلم اور ڈرامہ فنون لطیفہ کے نہایت اہم شعبے ہیں جو کسی قوم کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ قوموں کی شناخت، ان کے فکری ارتقاء اور سماجی شعور کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے، جہاں فلم اور ڈرامہ نے نہ صرف ملک کی قومی شناخت کو مستحکم کیا، بلکہ عالمی سطح پر اس کے وقار

Read more

جب بل نے خود کشی کرنے کی کوشش کی

میموریل یونیورسٹی کینیڈا میں ہمارے معزز و محترم پروفیسروں میں سے ایک ڈاکٹر یوجین وولف تھے جو انگلستان سے دو سال کے لیے کینیڈا تشریف لائے تھے۔ ڈاکٹر وولف ایک سائیکوتھراپسٹ تھے۔ انہوں نے جب گروپ تھراپی کا پروگرام شروع کیا تو انہیں ایک ایسے طالب علم کی ضرورت تھی جو ان کے ساتھ کام کرے۔ یہ میری خوش بختی تھی کہ انہوں نے تیرہ طلبا و طالبات میں سے مجھے چنا اور مجھے ان کے ساتھ دو سال کام

Read more

بیٹیوں کے باپ

آئیے آج آپ کو ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جو شاید آپ کی بھی ہو۔ اپنی کہانی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں ہی ہوئی ہو۔ بعض اوقات ایک ایسی دنیا جہاں آپ اس دنیا کی تلخی سے چھٹکارا پانے کو قدم رکھتے ہوں وہ بھی آپ ہی کی دنیا ہے۔ کسی کو دکھائی اس لیے نہیں دیتی کہ وہ دنیا خاص آپ ہی کے لیے بنی ہے اور آپ ہی نے بنائی ہے۔ اسی لیے بسا

Read more

مکھوٹا: نجیبہ عارف کا طلسم کدہ

”مکھوٹا“ نجیبہ عارف کا حال ہی میں چھپنے والا 128 صفحات کا ناول ہے۔ سلیم الرحمٰن کی خوبصورت شاعری اس کا دروازہ کھولتی ہے۔ چند سطور پر مشتمل انتساب کے بعد مصنف کے بارے میں جیسے خود اس کی اپنی تحریر کا ایک مختصر سا اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے جس سے اس کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کِس مزے کا ہے یہ ٹکڑا۔ ذرا پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف کو ناول لکھنے

Read more

جھونپڑی

فلک پر کالے بادل چھا رہے تھے اور ہوا کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ اس عالم میں کچھ لوگ اس نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ” امّاں، تم آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیا بارش ہونے والی ہے؟“ شمائلہ کی آواز میں معصومیت اور اندیشے نجانے کب سے مدغم ہو چکے تھے۔ پینتیس سالہ ماں جو معاشرے کی مار کی وجہ سے پچاس سال سے بھی زیادہ عمر رسیدہ لگ رہی تھی بہت آہستہ سے

Read more

نابینا کی شادی، رتن ٹاٹا، لمحہ سراب ہوا چاہتا ہے

آج کل بہاول پور کا موسم ملک کے سیاسی حالات کی طرح ”بے اعتبارا“ ہوا پڑا ہے۔ کسی رات تو اس قدر خنکی ہوتی ہے کہ چھت پہ سوئے ہوئے کمبل بھی کام نہیں کرتا اور اگلی رات قمیص اتار کر سوئے رہو بس فجر کے وقت تھوڑا ٹھنڈ لگتی ہے۔ نا جانے گلوبل کلائمٹ چینج کے اثرات ہیں؟ انڈیا اور پاکستان میں نئے لگنے والے ریڈارز اور آٹومیٹک ویدر سسٹم کی انسٹالیشن ایک وجہ ہے؟ فضا کے اوپر بڑی

Read more

سوئٹزر لینڈ، خوابوں کی سر زمین

صبح سویرے ہی آنکھ کھل گئی کمرے سے باہر نکلا تو یوں محسوس ہوا کہ کسی اور ہی دنیا میں موجود ہوں۔ رات دیر سے پہنچے تھے چاروں طرف اندھیرا تھا اور تھکے ہوئے بھی بہت تھے اس لیے گرد و پیش سے بے خبر فوراً ہی نیند کی گہری وادیوں میں اُتر گئے۔ اب جو چاروں طرف کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ہم ایک جنت نظیر وادی میں موجود ہیں جس کے چاروں طرف فلک بوس

Read more

بے رحم ماضی اور پُر امید مستقبل: کتاب ”دی ریشنل آپٹمسٹ“

کسی دن مطالعہ کرتے ہوئے یہ پیرا نظر سے گزرا کہ کیا یہ کسی معجزے سے کم ہے کہ آپ تقریباً آٹھ ارب لوگوں اور بے شمار زندہ مخلوقات کے ساتھ ایک بڑی چٹان پر سوار ہیں، جو خلا میں تیر رہی ہے اور ایک عظیم آگ کے گولے کے گرد گھوم رہی ہے۔ پھر بھی آپ مزید معجزات کی تلاش میں ہیں؟ ہماری زندگی، ہمارا وجود، اور یہ کائنات خود ایک عظیم معجزہ ہے۔ حال ہی میں، میں نے

Read more

پلاؤ کھائیں گے احباب، فاتحہ ہو گی!

صاحبو، سوچ تو ہم عرصے سے رہے تھے کہ کیا ہو گا؟ بعد مرنے کے میرے کیا ہو گا؟ دل ناداں بہت کچھ کا تمنائی تھا جس میں پلاؤ اور زردہ سر فہرست تھے کہ دونوں ہمیں بہت پسند ہیں اور اس وقت تو نشہ ہو جاتا ہے جب ہم دونوں کو قورمے کے ساتھ ملا کر کھائیں ( چمچ کے ساتھ ) ۔ کئی لوگوں کی آنکھیں باہر نکل آتی ہیں اور زیرلب پینڈو کا لفظ بھی ہم سن

Read more