دہقان قدیم اور تعلیم

زمانہ قدیم سے دریائے چناب اور دریائے جہلم اس خطے (ضلع جھنگ، ضلع ٹوبہ اور ان کے آس پاس کے علاقے ) کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ جہاں چاہتے بہتے، جہاں چاہتے ٹھہرتے۔ نہ کوئی روک، نہ کوئی ٹوک، جب دل کیا جو دل کیا بہا لے گئے اور نشانی کے طور پر ٹیلے (ریت) چھوڑ جاتے۔ جبھی یہاں کے باسیوں کا اس اجارہ داری کے خلاف کوئی چارہ نہ تھا۔ بودوباش انہی دریاؤں کے مزاج پر منحصر تھی۔

Read more

ایک بہتر انسان بننے کے راز – ہما دلاور کا تکریمی سوالنامہ

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، آداب! آپ سے ملاقات ہونا بھی ایک عجیب سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی تھکن سے چور مسافر کسی شفاف چشمے پر جا رکے، جیسے کوئی بھٹکا ہوا راہرو منزل کے نرم سائے میں آ بیٹھے یا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب دوبارہ جڑ جائے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ نے اپنے اخلاق کی ایسی آبیاری کیسے کی کہ مجھ جیسا مسافر، جس کے پاسپورٹ پر Red Zone کی مستقل شہریت کی مہر لگی ہوئی

Read more

ایک پیش گفتہ موت کی روداد از :گابرئیل گارشیا مارکیز

ایک پیش گفتہ موت کی روداد، عالمی شہرت یافتہ ناول نگار ”گابرئیل گارشیا مارکیز“ کا ناول ہے جس میں انھوں نے عزت کے نام پر ”سانتیا گو نصر“ کے سفاکانہ قتل کو بنیاد پر بنا کر معاشرے میں دندناتے ہوئے بھیانک اور غیر انسانی رویوں کو بے نقاب کرنے کی سعی کی ہے۔ سانتیاگو نصر کے قتل کی کہانی اس کے پڑوس میں ہونے والی انجلا ویکاریو اور بیاردوسان رومان کی شادی سے شروع ہوتی ہے۔ سہاگ رات کو جب

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 3 )

چند دنوں سے جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے پورا سوشل میڈیا اس سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب دیکھ کر جو تکلیف ہوئی وہ تو اپنی جگہ ہے مگر پھر یہ سوچ کر شرمندگی ہوئی کہ ہم اپنے بچوں کو کیا ایسا پاکستان دے کر جائیں گے جہاں کسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کی عزت جان اور مال محفوظ نہ ہو۔ میرے بچے پچھلے آٹھ سال سے دبئی میں رہتے ہیں ہم ہر سال اپنے پیاروں سے

Read more

یہ محنت کش بچے بھی پڑھنا چاہتے ہیں

کراچی میں ہماری رہائش گاہ کے قریب ہی کوئٹہ چائے ہوٹل ہے۔ چائے اور پراٹھا یہاں کی اصل سوغات ہیں جن سے لطف اندوز ہونے کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں اور یہاں ہر وقت گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ مجھے چائے کا شوق اور نہ ہی پراٹھے کی تمنا، البتہ میرے بچوں کو یہاں کا پراٹھا بہت بھاتا ہے اور وہ گاہے بہ گاہے یہاں سے پراٹھا سیر ہو کر کھاتے ہیں۔ اس ہوٹل کے سارے

Read more

سالک۔ پیراڈوکسیکل سے میٹافوریکل سفر

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

پاکستان میں تبدیلی مذہب کی وجوہات

پاکستان بھر میں ہندوؤں، مسیحیوں اور کیلاشیوں کے تبدیلی مذہب کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بعض حلقے اسے جبری تبدیلی مذہب قرار دیتے ہیں، تو بعض اسے برضا و رغبت مذہب اسلام میں شمولیت کہتے ہیں۔ پاکستان میں تبدیلی مذہب کے متعلق مختلف واقعات میں مذہب تبدیل کرنے والے افراد کے حوالے سے متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ بعض مواقع پر نابالغ کم عمر افراد سے زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ دوسری جانب ایسی مثالیں بھی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف

” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9 جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے

Read more

کتاب : روشن دان اور لنگر خانہ

صنف: خاکہ نگاری مصنف جاوید صدیقی (انڈیا) تبصرہ : عرفان علی جناح (ڈنور) میں کافی دیر سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں؟ بجلی بند ہے اور اندھیرے میں تھوڑی لالٹین کی روشنی کیے ہوئے میں یہی سوچ رہا ہوں کہ بات کا آغاز کس جگہ سے کروں؟ لالٹین کی جگہ میں ٹارچ کی روشنی کر سکتا تھا لیکن لالٹین کی نارنجی روشنی ملگجا سا اندھیرا پھیلا گاسلیٹ کی بو پھیلائے میں اپنے کسی نوسٹیلجیا کا

Read more

محبت ، ڈیٹنگ یا شادی

شادیوں کا سیزن عروج پر ہے، شہنائیاں بج رہی ہیں، بچے رو رہے ہیں۔ مٹیاں جالے کھا کر پل بھی رہے ہیں۔ اذیت اگلی نسل میں ٹراسنڈ ہو رہی ہے۔ میں اپنے پاپا سے پوچھتا ہوں، ہم شادی کیوں کرتے ہیں، وہ بولے بیٹا، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ جواب مجھے سمجھ نہیں آیا۔ والدین پر پریشر ہے، مکان بنا کر دو، بیگم نوکری چھوڑ، بچوں کو پالنے میں اپنی پروفیشنل لائف کے سمجھوتے کا معاوضہ مانگ رہی ہیں۔ نفسیاتی مسائل

Read more

راہنما ہو تو شاہ کریم جیسا

لفظ امام عربی کا لفظ ہے، اس کا معنی رہبر ہے۔ جس کی جمع آئمہ ہے۔ یہ اسلامی رہبری کا عہدہ ہے جو اکثر مسلمانوں کی جماعت کے رہنما کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پرنس کریم آغاخان شیعہ امامی اسماعیلی جماعت کے سلسلہ امامت کے انچاسویں امام تھے۔ آپ نے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک ویژنری امام یعنی رہبر ہونے کا حق ادا کیا۔ رہبر کا کام راستہ دکھانا ہوتا ہے۔ آپ نے انیس سو پچاس کی دہائی

Read more

مقامِ محبت :آگاپے

بے شک محبت کے مقامات کو سمجھنے کا ایک رُخ مذہبی بھی ہے۔ اور مذاہب میں بلاشبہ مسیحیت نے محبت کو عقیدے کا درجہ دیا ہے۔ عقیدے جہاں تخریب کرتے ہیں وہاں کہیں کہیں تخلیق اور تعمیر کے اچھوتے اظہار بھی انسانی سماج اور تمدن کا سہارا رہے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ میں انسانی سانحوں کی قیامت بپا تھی اور ایسے میں جنابِ مسیح کے چند نام لیواؤں نے نازی جرمنی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومت سے

Read more

محبوب اگر تھوڑا سا بھی کسی کا ہو تو اپنا نہیں لگتا

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو مکمل وابستگی، اخلاص اور بے غرضی پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ دل کا وہ نازک احساس ہے جو کسی بھی قسم کی تقسیم کو برداشت نہیں کرتا۔ جب کسی سے محبت کی جاتی ہے، تو یہ خواہش فطری طور پر پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی اتنی ہی شدت سے چاہے۔ محبوب کی مکمل توجہ، وفاداری اور ہمہ وقتی موجودگی محبت کی بنیاد ہوتی ہے، اور اگر اس میں کسی اور کا بھی حصہ

Read more

کیا مختلف سطح کی شناختوں میں توازن ممکن ہے؟

یہ سوال بہت دنوں سے دل و دماغ پر دستک دے رہا ہے کہ کیا فرد کے لیے مختلف سطح کی شناختوں میں توازن ممکن ہے؟ ہم جب دنیا میں آتے ہیں تو ہماری سب سے پہلی شناخت نسلی و لسانی ہوتی ہے، عام طور پر انسانوں کی نسلوں اور زبانوں کا تعلق کسی علاقے سے ہوتا ہے اس لیے اس سطح کی شناخت علاقائی بھی کہلاتی ہے۔ اس سطح کی شناخت ایک طرح سے مستقل ہوتی ہے اور آخری

Read more

سرنگ (افسانہ)

چاروں طرف اونچی دیواریں، ایسی بلند کہ سورج کی کرنیں ان سے ٹکرا کر بکھر جاتیں، روشنی کی ایک ہلکی سی شعاع بھی اندر داخل نہ ہو پاتی۔ دو طرف وہ کھڑکیاں جن کے پٹ شاید صدیوں سے مقفل تھے۔ اگر کبھی وہ ہمت کر کے انہیں کھولنے کی کوشش بھی کرتی، تو لکڑی کے چٹخنے کی ایسی دل خراش آواز گونجتی کہ خوف کے مارے اس کے ہاتھ کانپ جاتے۔ بقیہ دو طرف وہ دیوہیکل دروازے، جن کی ہیبت

Read more

پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کا سفر

یہ 2002 کی بات ہے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست، ویسٹ ورجینیا کے شہر ساؤتھ چارلسٹن میں تھا۔ اکثر غلام مصطفے ٰکلور کے اسٹور پر آتا جو زبردست انسان ہیں۔ سردیوں کی ایک شام اِن کے اسٹور پر، اونچے لمبے اور ہنس مُکھ شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ پروفیسر ڈاکٹر نوید زمان تھے۔ وہ دن اور آج کا دن ماشاء اللہ دونوں سے دوستیاں قائم ہیں۔ سال بھر پہلے ڈاکٹر نوید پاکستان آئے تو میں نے ان کا

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی وجد آفریں زندگی کے 29 خرد افروز واقعات

عالم اسلام کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) نے ہر پہلو سے بڑی کامیاب و کامران زندگی گزاری۔ راقم ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہے جس نے آپ جیسے قد آور طبیعات دان سے 1982 میں وسکانسن ریاست کے شہر میڈیسن میں لمبی پر مغز ملاقات کی تھی۔ وہاں آپ نوبل انعام ملنے کے بعد یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس ملاقات کا حال راقم کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالسلام،

Read more

اک راستہ ہے زندگی

زندگی کے سفر میں منزل سے کہیں زیادہ اہم اس سفر کا خوشگوار ہونا اور بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہونا ہے۔ میرے ادبی اور تخلیقی سفر میں ”ہم سب“ کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ اس نے نہ صرف میرے ابتدائی مضامین کی اشاعت کے ذریعے مجھے ادبی حوالوں میں معتبر پذیرائی دی اور سنجیدہ و ادبی ذوق رکھنے والے قارئین سے متعارف کروایا، بلکہ سب سے بڑھ کر ہم عصر اور نمایاں ادیبوں سے تعارف و ملاقات کا سبب

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

ایک ہے خالد سہیل میں بہت خوش ہوں کہ میں اس تقریب کا حصہ ہوں اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ڈاکٹر صاحب اور پرویز صاحب کا خالص مردانہ invitation جس میں صاحب کتاب moderator اور مقرر سب مرد حضرات تھے اور اس نے میرے اندر کے فمینسٹ کو جھنجھوڑا اور جب میں نے یہ اعتراض ڈاکٹر صاحب تک پہنچایا تو انہوں نے بڑی شان بے نیازی سے کہا محترمہ معظمہ کتاب میں نے آپ کو بھی دی ہے

Read more

نہر کنارے

موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں کی یہ گھنیری شام اور اس کی یاد، پانی میں کھڑی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرے بچپن کی دوست، میری سہیلی سمرا، جو اسی نہر کنارے مجھے ملا کرتی تھی۔ جس نے کہا تھا، ’جب سب ختم ہو جائے تو اسی نہر پر

Read more

جزیرہ وکٹوریہ کا بُچارٹ گارڈن

دنیا کے مشہور ترین پھول پھلواری باغوں میں سے ایک وینکوؤر کے فیری ٹرمینل کی حدود کی آرام گاہ سے نکل ہم اپنی کاروں میں بیٹھ چکے تھے اور چند منٹ قبل چھوٹا بحری جہاز لگتی فیری اب سامنے ایک پورا منہ پھاڑے نگلنے کی منتظر بہت بڑی وہیل مچھلی لگ رہی تھی۔ آگے والی کاریں آہستہ آہستہ چار قطاروں سے دو قطاریں بن کر اس وہیل کے کھلے دہانے میں داخل ہوتی جا رہی تھیں۔ یہ نچلی منزل پر

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

انگریز اور لاہور

لاہوریوں کی تو بات کیا کریں۔ ہم دوسرے شہروں کے لوگ بھی کسی نہ کسی حوالے سے لاہور کے رومانس میں مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے یہ تو طے ہے کہ ہم سب کو پروفیسر عزیز الدین کی کتاب کولونیل لاہور پڑھ کر بہت مزہ آئے گا۔ یہ کتاب دراصل ان کے 1990 کے عشرے میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے چھوٹے بھائی محمد تحسین نے کتابی شکل دی ہے اور اس کا تعارف وجاہت

Read more

کاغذ کے چند ٹکڑے

آج مجھے ان دنوں کی بے حد یاد آئی ’جب میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یونیورسٹی میں ہمارا آخری سمیسٹر چل رہا تھا اور ہمیں 40 دنوں کی تدریسی تربیت کے لیے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گلگت بھیجا گیا تھا۔ پہلے دن جب ہم اسکول پہنچے تو پرنسپل صاحب نے اپنے آفس میں ہمیں بلایا اور کچھ نصیحتیں کیں۔ جوانی کے شوق بھی عجیب ہوتے ہیں۔ ان دنوں میرے بال کافی

Read more

ناول ”اندھیرا خواب“ کا موضوعاتی تجزیہ

انسان کے تمام کارفرما عوامل کے پیچھے دماغ اور اس کی پیچیدگیاں ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک انسانی دماغ شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بٹا ہوا ہے۔ کسی بھی انسان کے گرد انجام پانے والے پسندیدہ اور ناپسندیدہ عوامل یا تو اس کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں یا پھر کہیں لاشعور میں پناہ لیتے ہیں۔ مگر وقتاً فوقتاً اس کا لاشعور اور ماضی اسے اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ انسان

Read more

ایک عصری ادبی معجزہ: ”ھِک مہمان چھوکری/ایک مہمان لڑکی“

ایسے وقت میں کہ جب وطن عزیز میں کتب اور مطالعہ کتب کا مستقبل تحفظات کا شکار ہے ؛ ادیب اور شعراء ذاتی خرچ پر چند سو نسخوں کی طباعت اور اشاعت کرتے، یا پھر پبلشر حضرات سے چند کاپیوں کا ”چندہ“ حاصل کر اعزازی کاپیاں ”ہدیہ“ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور بعضے بازار میں نظر نہ آنے والی کتابوں پر بھی انعامات اور اعزازات بٹور رہے ہیں، ایک سندھی ناول کے تیسرے ایڈیشن کی اشاعت یقینی طور پر،

Read more

یہ کہانی بھی ایک حقیقت ہے

قصے کہانیوں سے انسان کا واسطہ ازل سے رہا ہے اور ابد تک رہے گا۔ انسان کے ساتھ کہانی ہر زمانے، ہر دور بلکہ ہر لمحہ وابستہ رہی ہے۔ انسان کی زمین پر تخلیق، اس کا جنگل اور غاروں میں رہ کر ترقی کرتے کرتے ہوا میں اڑنا اور چاند پر قدم رکھنے تک سب ایک کہانی بلکہ کہانیاں ہیں۔ ہمارے استاد ناصر عباس نیر صاحب نے اپنے ایک افسانے ”کہانی کا کوہ ندا“ میں لکھا ہے کہ کہانی جھوٹی

Read more

تعلیمی نصاب اور رواداری: ایک فکری جائزہ

تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری، ثقافتی اور معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو افراد کو ذہنی، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں تعلیمی نظام، چاہے وہ نجی ہو یا سرکاری، بہت سے چیلنجز اور تضادات کا شکار ہے۔ ان میں سے ایک بڑا مسئلہ نصاب میں موجود مواد ہے جو عدم برداشت، فرقہ واریت اور شدت پسندی کے رجحانات کو غیر محسوس انداز میں فروغ دیتا

Read more

باغِ نشاط کی طرف

جب شروع شروع میں فنونِ لطیفہ کی دیوی نے میرے دل و دماغ کو روشن کیا تو سب سے منور علاقہ شاعری کا تھا۔ شعر پڑھنا، اس کے معنی کی گہرائیوں تک اترنے کی کوشش کرنا، بحور، اوزان کی ریاضی کی دریافت اور لفظوں کی نشست و برخاست کو سمجھنے کی سعی، میرے لئے سب سے زیادہ لطف انگیز کاروبار تھا۔ نئے نئے قافیوں سے پھوٹتے ہوئے چشموں کی تفہیم اور تازہ بہ تازہ مرکب الفاظ کی جادوگری سے واقفیت،

Read more

صحافت نہیں مری، اخبار اور نیوز چینلز مر رہے ہیں

صحافت نہیں مری، میڈیا کی زیست کے سامان بدل گئے ہیں۔ میڈیا (صحافت) اس وقت تک بقید حیات رہے گا جب تک ریاست آخری سانس نہیں لے گی۔ بلکہ جب تک انسان کا وجود باقی ہے میڈیا بھی رہے گا۔ ہاں میڈیا کا میڈیم پہلے بھی بدلا ہے، اب بھی بدل رہا ہے کیونکہ ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ ۔ خبر کہیں نہیں جانے والی۔ خبریت کو دوام ہے۔ خبر نکال کے دینے والے خبر نگار کی ضرورت

Read more

بسنت پنچمی اور سرسوتی

آپ نے بسنت کا تہوار تو بہت منایا ہو گا۔ بچپن میں، لڑکپن میں پتنگیں بھی بہت اڑائی ہوں گی۔ لیکن اس تہوار کے منسوبات سے واقف نہیں ہوں گے۔ آج ہم بات کریں گے ہندوستان میں منائے جانے والے خوبصورت تہوار بسنت پنچمی کے بارے میں، جو ہر مذہب کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔ قدیم ہندی اساطیر کے مطابق یہ تہوار علوم و فنون کی دیوی ماں سرسوتی سے منسوب ہے۔ یہ تہوار موسم بہار کے شروع میں

Read more

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا سعادت حسن منٹو، گائے ڈی موپساں، خواجہ غلام فرید، ترقی پسندی، میلو ڈرامہ اور بے پناہ آئیڈیلزم سے عبارت ہے۔ منٹو اور موپساں اُن کی آل ٹائم انسپائریشن رہے، چناں چہ اِنہی کے تقابلی جائزے پر اُنہوں نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا، جب کہ انگریزی، اردو اور سرائیکی پر یکساں دسترس نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ موپساں اور مشیل فوکو کو اردو، اور خواجہ غلام فرید کو انگریزی کے قالب میں ڈھال

Read more

مہک

ندیم تھکے ہوئے قدموں سے ایک نجی کمپنی کی بس میں بیٹھنے کے لیے ٹرمینل کی طرف جا رہا تھا۔ وہ رات اچھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ سفر سے پہلے اسے ہمیشہ ایک بے چینی ہوا کرتی ہے۔ اور ایسا بچپن سے ہی ہے اسے سفر کا ہمیشہ خوف ہوتا ہے، مگر سواری میں بیٹھ کر وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ ویسے تو

Read more

ڈیرہ اسماعیل خان: محبتوں کے شہر کا بدلتا چہرہ

اے مہمانو! اے ہجرت کر کے آنے والو! یہی وہ شہر ہے جس نے تمہیں اپنی بانہوں میں سمو لیا، تمہیں اپنوں کی طرح گلے لگایا، تمہیں زمین دی، روزگار دیا، محبت دی۔ جب تم اپنے علاقوں سے نکالے گئے، جب تمہارے گھر اجڑ گئے، جب تم بے سروسامانی کے عالم میں تھے، تو یہی ڈیرہ اسماعیل خان تھا جس نے تمہیں پناہ دی، اپنے دل و دامن میں جگہ دی۔ مگر آج، یہ شہر وہ نہیں رہا جو کبھی

Read more

 تعلیم یافتہ خواتین کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ مردوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں؟

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ بحث سننے میں آتی ہے کہ مرد، چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا انجینئر، کم پڑھی لکھی یا ان پڑھ لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں، لیکن خواتین ایسا کیوں نہیں کرتیں؟ یہ سوال صرف تعلیمی فرق کا نہیں، بلکہ معاشرتی رویوں، نفسیاتی عوامل، اور صنفی مساوات کے عدم توازن کا بھی ہے۔ مردوں کے لیے کم تعلیم یافتہ لڑکیوں سے شادی کرنا ایک ”آسان انتخاب“ سمجھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کے لیے یہ انتخاب اتنا

Read more

فیملی ویلاگنگ: معاشرتی اقدار کا سودا یا کچھ اور؟

شام ادریس، ڈکی بھائی، یا دیگر فیملی ولاگرز کی لڑائیوں اور تنازعات کا دائرہ صرف ”ویلاگ میں بیوی کو لانے“ تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک رواج بن چکا ہے جسے اب یوٹیوبر کی ”مجبوری“ سمجھ لیا جائے۔ ڈکی بھائی اگرچہ مذہبی یا معاشرتی اقدار کا پرچار نہیں کرتے، لیکن ڈاکٹر عفان قیصر جیسے ولاگرز اپنی ویڈیوز میں پردے کی اہمیت کا درس دیتے ہوئے بھی اپنی بیوی کو کیمرے کے سامنے بٹھا کر دوہرا معیار اپناتے ہیں۔ یہ سلسلہ

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 2 )

پرما مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بہت اچھی لگتی ہیں میری خواہش تھی کہ میری پہلی اولاد بیٹی ہو۔ تمہارے بعد دوسری اولاد کی کوئی خواہش مجھے اور بابا کو نہیں تھی۔ مگر یہ تم تھیں جسے ایک بھائی چاہیے تھا۔ آج سوچ کر اتنا عجیب لگتا ہے کہ فرجاد کے بغیر زندگی کتنی خالی ہوتی۔ تمہیں معلوم ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ بیٹی کی پیدائش پر سوگ مناتے ہیں اور بہت سے ماں باپ بیٹی کو پیدا ہونے

Read more

جرم محبت کی سزا

صبح اٹھتے ہی اخبار اٹھایا تو ایک لڑکی کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے جرم میں چچا کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر پڑھنے کو ملی۔ سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے قانونی نظام اور پورے معاشرے کو صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور سماجی جبر کے معاملات پر مسلسل توجہ دینے اور کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس لڑکی کا مقدمہ ایک خاتون جج کی عدالت میں زیر سماعت تھا جنہوں نے اس بات پر دکھ

Read more

نہرو کا بھوت کشمیر کب چھوڑے گا؟

  وہ 18 جنوری 1955 ء کا دن تھا جب ایک ایمبولینس ہسپتال میں تیزی سے داخل ہوئی۔ سٹریچر پر پڑے شخص کو جلدی جلدی ڈاکٹر تک پہنچایا گیا۔ اس کے منہ کے قریب لال رنگ کے قطروں کے کچھ داغ نمایاں تھے۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا اور مریض کے ساتھ آنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس کی جگہ ہسپتال نہیں قبرستان ہے، یہ مر چکا ہے۔ ڈاکٹر کو کیا معلوم تھا کہ یہ مردہ

Read more

سالک ’کی کہانی، درویش کی زبانی

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار! چلیے، آج دَرویش اور دُرویش میں فرق پر بات نہیں کرتے اور سیدھے ’سالک‘ پر آ جاتے ہیں۔ جن ’سالکین‘ سے میں، نام کی حد تک ہی سہی، بچپن سے آشنا تھا ان میں سے مولانا علم الدین سالک اور پروفیسر عبدالمجید سالک کے نام میں کبھی فراموش نہ کر سکا کیوں کہ و الدِ گرامی جناب یزدانی جالندھری ان علمی ہستیوں کا ذکر علامہ تاجور نجیب آبادی اور مولانا افسر امروہوی کے تذکرہ

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا

(یہ تحریر یکم فروری 2016 کو انتظار حسین کی رحلت سے چند گھنٹے قبل لکھی گئی۔ افسوس کہ یہ دعا بھی در ایجاب سے چند ہاتھ دور غبارِ رہ کی صورت تحلیل ہو گئی) ہفتے کی سہ پہر لاہور میں ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ شیر خان راستوں کے انتخاب میں صوبائی خودمختاری کے قائل ہیں۔ گورنمنٹ کالج جانا تھا۔ فیروزپور روڈ سے گزرتے تو قریب رہتا۔ گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتے ہوئے چونک کر پوچھا کہ ہم کہاں

Read more

ہندوستان سے ایک خط

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) عزیز از جان سعادت و اقبال نشان برخوردار کامران طول عمرہ بعد دعا اور تمنائے دیدار کے یہ واضح ہو کہ یہ زمانہ خیریت تمہاری نہ معلوم ہونے کی وجہ سے بہت بے چینی میں گزرا۔ میں نے مختلف ذرائع سے خیریت سے خیریت بھیجنے اور خیریت منگانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ایک چھٹی لکھ کر ابراہیم کے بیٹے یوسف کو بھیجی اور تاکید کی کہ اسے فوراً کراچی

Read more

آئزک نیوٹن: محبت اور سائنس

نیوٹن ایک انگریز سائنسدان تھے جن کا شمار تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی مکینکس کی بنیاد رکھی، کشش ثقل کا قانون پیش کیا، اور حرکت کے تین قوانین بیان کیے۔ یہ قوانین طبیعیات کی بنیاد بن گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ زمینی اور آسمانی اجسام ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ نیوٹن کے کام نے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھنے کے نظریے کو ختم کر دیا اور سائنسی انقلاب

Read more

تہی دست

جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے

Read more

نوجوان ادیبوں کے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کی روداد

میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں اقامت کے دوران یادداشت کے لیے چیدہ چیدہ نوٹس لکھتا رہا تاکہ جانے کے بعد وہاں کی تمام سرگرمیاں اپنے احباب سے شیئر کر سکوں مگر سچ پوچھیے تو اب سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بات کہاں سے شروع کروں اور کون کون سی کروں۔ ہر صوبے سے چار اور ملک بھر سے منتخب بیس ادیب دس روزہ قیام کے لیے رائٹرز ہاؤس (اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد) میں 15 جنوری 2025

Read more

انیتا آپا ( انیتا غلام علی) کا ایک خط

( خط سے پہلے تعارفی مضمون ملاحظہ ہو۔ ) میں نے اپنی کتاب ”سب میرے لعل و گوہر“ انیتا غلام علی کے نام کرتے ہوئے لکھا تھا، سیف (سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن ) کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا غلام علی (انیتا آپا ) کے نام جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے منچھر جھیل کی کشتیوں تک میں اسکول قائم کر کے محنت کش بچوں کی آنکھوں میں تابناک مستقبل کے سپنے دیکھنے کی جرات پیدا کی۔ ” اپریل 2012 ء میں اس

Read more

میرا ادبی نقطہ نظر

دو ادبی تکونیں جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت

Read more

صحافی اب ریاست کا چوتھا ستون نہیں رہے

اسلام آباد کے نوجوان صحافیوں کی اکثریت بہت مایوس ہے۔ انہیں قوی امید تھی کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے نہایت ”عجلت“ میں منظور کروائے پیکا قوانین کو صدر آصف علی زرداری لاگو نہیں ہونے دیں گے۔ توثیقی دستخط کرنے کے بجائے انہیں نظرثانی کے لئے پارلیمان کو واپس بھجوادیں گے۔ دریں اثنا صحافیوں کے ایک گروپ سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اپنے تحفظات کو تحریری طور پر بیان کرے۔ ان پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے پیکا قوانین

Read more

عصمت چغتائی کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت! پانچویں قسط

سوچیں! اگر یہ بچی بڑی ہو کر ویسی شمن نہ بنتی تو کیا بنتی؟ بچپن سے سب کی ڈانٹ پھٹکار سمیٹتی، نوکروں کے رحم وکرم پر پلتی، پیار کے دو شبد بھی جس کو مشکل سے میسر آتے۔ غصے، تنہائی، بے بسی، بے چارگی کی آگ میں جلتی ایک چھوٹی سی بچی۔ ”اس نے منہ پھیر لیا اور چھت پر لٹکے جالوں کو دیکھتی رہی جس میں نیم مردہ مکھیاں جھول رہی تھیں۔ اس پر پھر دورہ سا پڑ گیا۔

Read more

فرانسیسی مصّور کلاڈ مَونے اور میں

جب ہم این۔ سی۔ اے میں پڑھ رہے تھے تو میڈم سلیمہ ہاشمی نے ہمیں ایک ذمے داری سونپی جو کلاس ہی کا کام تھا۔ یہ کام ہمیں امپریشنسٹ مصوروں کی پینٹنگز کو روشنی اور رنگوں کے تال میل سے ہُو بہُو ان کے انداز میں کاپی کرنا تھا۔ اس اندازِ مصوری میں چھوٹے اور تیز برش سٹروک لگا کر روشنی اور سائے کے امتزاج سے پینٹنگز بنائی جاتی تھیں۔ اس کا مقصد قدرتی مناظر اور پینٹر کے جذبات کو

Read more

کیا محبت کے بغیر سیکس جنسی اذیت شمار ہو گی؟

معروف سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر خالد سہیل انسانی رشتوں پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں، وہ چند جملوں میں انسانی رشتوں پر ایسا بہت کچھ کہہ جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سننے والا حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ انسانی رشتوں کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”اگر تم اپنی اولاد کو بادشاہ بنانا چاہتے ہو تو پہلے اپنی شریک حیات کو ملکہ بنانا پڑے گا“ ”ایک ہی چھت تلے دو پارٹنرز کے خواب الگ الگ کیسے ہو سکتے

Read more

پروفیسر ممتاز حسین ایک سنجیدہ شخصیت

پروفیسر ممتاز حسین کا شمار میرے قابلِ احترام اساتذہ میں ہوتا ہے۔ جب میں نے 1990 میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال میں فرسٹ ائر میں داخلہ لیا تو مجھے ان کی شفقت اور محبت سمیٹنے کا موقع ملا۔ کمال کے انسان پائے۔ ممتاز حسین ایک ممتاز اور تجربہ کار پروفیسر ہیں جنہوں نے تعلیمی میدان میں 40 سال سے زائد کا طویل عرصہ گزارا ہے۔ یہ طویل عرصہ نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور لگن کی علامت ہے

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ۔ 1

(چار پانچ برس قبل میں نے اپنی بیٹی کی اٹھارہویں سالگرہ پہ اس کو پہلی نومبر سے تئیس نومبر اس کی سالگرہ کے دن تک روز فیس بک پہ ایک خط لکھا جس میں ایک ماں کی اس کی بیٹی کے بچپن کی یادیں محبت، نصیحت اور جذبات کا اظہار تھا۔ میں چاہتی تھی وہ میرے دل کی آنکھ سے دیکھے کہ وہ میرے لئے کیا ہے۔ کیسے اس کا بچپن ایک خوبصورت یاد کے طور پہ میرے دل میں

Read more

سیمک بلوچ کون ہے؟

امداد نام میں کوئی ایسی شے ضرور موجود ہے جو بچیوں کے حوالے سے نرمی برتی ہے۔ ایک امداد کو میں کئی سالوں سے جانتا ہوں جو میرے استاد ہیں۔ بہت اچھے ترقی پسند شاعر ہیں اور جب بھی خواتین کو درپیش مسائل پر بات ہوئی، تو ان کا نقطہ نظر یہی یہ ہے کہ خواتین کی آزادی ہی معاشرے کی حقیقی آزادی ہے۔ یعنی خواتین کی اپنی پسند کی تعلیم، ہنر، جاب اور جیون ساتھی۔ اور بتاتے ہیں کہ

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت قسط 3

” پھر میں نے اس سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں ایسا ہوا ہے! اس پر اس عورت نے کہا کہ ہاں! یہ بچہ ہے نا، اس کے باپ نے ایک دفعہ میرے گلے میں بجلی کی استری والی تار ڈال کر کھینچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کام اُلٹ ہو گیا! “ ۔ ” ارے! کیا اُلٹ ہو گیا؟“ بے ساختہ میں نے سوال کر ڈالا۔ ” یہی بات میں نے بھی اُس سے پوچھی تو

Read more

کتاب۔ بنجارا

مصنف۔ سعود عثمانی حاصل مطالعہ۔ نعیم فاطمہ علوی بنجارا سات ملکوں ( پاکستان، سعودی عرب، آذربائجان، ترکیہ، امریکہ، کینیڈا اور بھارت) کا سفر نامہ ہے۔ جو سعود عثمانی کے اسفار کی کتھا ہے۔ جس کتاب کو وصول پاکر احساس تفاخر ہو اور پڑھ کر قاری فرحت و انبساط میں ڈوب جائے۔ وہ کتاب کتنی بھید بھری ہوگی۔ سعود عثمانی، جتنے خوبصورت شاعر ہیں، اتنی ہی خوبصورت اور توانا نثر بھی لکھتے ہیں۔ قدرت بھی اِن پر مہربان ہے۔ انہیں دنیا

Read more

عطاء الحق قاسمی، منیر نیازی اور قیدی نمبر 804

اسے میری بدگمانی کہہ لیں، غلط فہمی کہہ لیں، وہم کہہ لیں، نفسیاتی کج فہمی کہہ لیں یا روح کی سچائیوں کو بیان کرنے والا وجدان کہہ لیں، برسوں کے مشاہدہ کے بعد میرے ذہن میں ایک خیال راسخ ہو چکا ہے کہ دنیا بھر میں مختلف ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جو کرکٹ میچ ہوتے ہیں ان میں سے نوّے فیصد سے زائد میچ پلانٹڈ ہوتے ہیں یہاں تک کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا کرکٹ

Read more

فلسطینی ورلڈ لٹریچر ایوارڈ کی کہانی

میں بے حد جذباتی ہو جاتی تھی۔ اپنی بے حد فعال، متحرک، صحت مند اور تندرستی جیسی نعمت سے گزاری گئی زندگی کو یکسر بھول جاتی تھی۔ اور قدرت کے اس اصول کی نفی کر رہی تھی کہ صبح کے بعد شام اور رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا کائنات ربی کا اصول ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں خصوصی توجہ کی مستحق بننا چاہتی تھی۔ کیوں؟ کیوں؟ جیسے سوالیہ نشان بالک ہٹ دھرمی کی تصویر پیش کر رہے تھے۔

Read more

واٹس ایپ صارفین

  یاد ہے بچپن میں کس طرح ہمیں ہمارے لاکھ نہ چاہنے کے باوجود بھی مہمانوں کو سلام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اور کس قدر حدود و قیود لگائی جاتی تھیں کہ مہمانوں کے سامنے یوں بولنا، ایسے بیٹھنا، یہ نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اب سوچا جائے تو وہ ملاقات کے بنیادی آداب تھے جو ہمیں سکھائے جاتے تھے۔ وقت نے برق رفتاری دکھائی اور روبرو ملاقاتوں کی جگہ واٹس ایپ وغیرہ نے لے لی۔ لیکن اس ملاقات

Read more

ووپرٹال شہر جرمنی صوبہ رہائن لینڈ فالز کا وزٹ

ووپرٹال کی وجہ تسمیہ وہاں بہنے والی ایک ندی ہے جس کا نام ووپر ہے اور ٹال وادی کو کہا جاتا ہے یعنی ووپر ندی کی وادی۔ اس شہر کی آبادی لگ بھگ چار لاکھ ہے یہ شہر لمبائی میں ہے جس میں دس ریلوے اسٹیشن ہیں۔ ووپرٹال ایک خوبصورت شہر ہے جو کولون اور ڈوزلڈورف کے تقریباً درمیان میں واقع ہے اسی کی دہائی میں میرے خالہ زاد بھائی میاں ساجد صاحب بھی یہیں اسی شہر میں رہتے تھے۔

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

کافکا کا ناولٹ: کایا کلپ

کایا کلپ کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر

Read more

سٹاک ہوم سویڈن کی سیر

ایک خواہش یہ رہی کہ دنیا کہ بڑے شہروں کی سیر کی جائے اکثر خواہشیں ہوتی ہی تشنہ رہنے کے لیے ہوتی ہیں۔ پیرس سے واپسی پہ جلدی ہی سٹاک ہوم کا پروگرام بن گیا۔ اور سٹاک ہوم کے آرلاندو ائرپورٹ پر فضائے سٹاک ہوم جو سمندر کی خوشبو سے معطر ہے۔ میں سانس لینے کی توفیق بلکہ سعادت کہنا چاہیے۔ ملی۔ صرف کتابوں میں پڑھنے یا فلموں میں دیکھنے سے بھی ذہن میں وہ تاثر قائم نہیں ہو سکتا

Read more

میاں بیوی کا رشتہ دل سے قبول نہ کیا تو کیا؟

شادی ایک خوبصورت بندھن ہے۔ اس خوبصورت رشتے کو اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لباس قرار دے کر خوبصورت ترین بنا دیا ہے۔ وہ تمہارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو۔ سورہ البقرہ ایک دوسرے کے لیے لباس سے مراد یہ ہے کہ لباس باعث زینت و احترام ہے، گرم و سرد موسم سے بچاتا ہے، انسان کے بہت سے عیب چھپاتا ہے، خوشی کا باعث بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح مرد و عورت

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت (2)

قصہ اسلامیہ ہائی اسکول چنیوٹ کا ” چنیوٹ کی شیخ برادری کے ایک نومسلم رئیس نے اسلامیہ ہائی اسکول قائم کیا جو آگے چل کر ڈگری کالج بن گیا۔ شیخ برادری ہم جیسے غریب بچوں کی تعلیم میں سہولت کار تھے۔ و ہاں ایک ایسا واقعہ ہوا جو بڑا قابلِ غور ہے۔ ہم ہر سال فیس معافی کی درخواست دیتے تھے۔ ایک سال ایسا ہوا کہ ہماری فیسیں معاف نہیں ہوئیں۔ جھنگ اور بالخصوص چنیوٹ میں سادات کی تعداد کافی

Read more

گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا پرانا؟

بہت پرانی بات ہے۔ ہماری عمر سات برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ وہ زمانہ نسبتاً محفوظ تھا، جب بچے بے خوفی سے باہر کھیلتے اور گھر والے بنا خوف سے دہلے سکون سے باہر کھیلنے دیتے۔ ایک سہ پہر گھر کے باہر کھیلتے کھیلتے ہم نے خاصی دور سے اپنے ایک رشتہ دار کو اپنے گھر کی جانب آتے ہوئے دیکھا۔ جو ہمیشہ ہی ہمیں بہت پیار کرتے تھے۔ اُدھر انہیں آتا دیکھا اِدھر ہم تیزی سے اپنے گھر دوڑ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی خود گزشت : سالک

میں ڈاکٹر خالد سہیل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی خود گزشت : ’سالک‘ بڑے رسان سے مجھے مطالعے کے لیے ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ جب میں ’سالک‘ کا مطالعہ کر رہا تھا تو مجھے اپنا آغازِ کتب بینی کا وہ زمانہ یاد آ رہا تھا جس کا آغاز میں نے سوانح عمریوں سے کیا تھا۔ مجھے وہ دن یاد آرہے تھے جب میں امیر تیمور کی آپ بیتی : ”میں ہوں

Read more

ٹرمپ کارڈ: ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

شطرنج اور تاش دو کھیل ہیں تاش کے 52 پتے ہوتے ہیں اور شطرنج کے 64 خانے۔ سیاست تاش اور شطرنج کا ملاپ ہے۔ تاش کے کھیل برج میں ایک پتا ’جو پھینکنے والے کھلاڑی کو جیت دلا دیتا ہے‘ ٹرمپ کارڈ کہلاتا ہے۔ ٹرمپ ’ہر بھیس میں ”ٹرمپ“ ہی ہیں۔ تاش کے کھلاڑی جانتے ہیں کہ جس کھلاڑی کے پاس ٹرمپ کارڈ ہو۔ ایک موقعے پر آ کر‘ بادشاہ کو مات دے دیتا ہے۔ ٹرمپ کارڈ کی تمام خوبیاں

Read more

نہ بڑا نہ کوئی چھوٹا

پچھلے دنوں میرے دوست فیصل کی کال تھی، کہنے لگا، ملک یار وہ ماسی سارہ فوت ہو گئی ہے۔ مجھے سن کے بڑا دھچکہ لگا، میں نے کہا یار گزشتہ ماہ ہی وہ ہمارے گھر سے ہو کر گئی ہیں بالکل ٹھیک تھیں، کیا ہوا انہیں۔ بس یار اچانک ہی کوئی بہانہ بنا، آج کل تو جوان جہان آدمی کا پتا نہیں چلتا وہ تو پھر بزرگ خاتون تھیں، فیصل نے جواب دیا۔ بات تو فیصل کی ٹھیک تھی لیکن

Read more

سلیم حسنی کی کال

”اداسی کا اسطورہ“ میں اُداسی کا سب سے بڑا بیٹا ہوں جس کی پرورش کے لیے اس نے ایک ایسی عورت کا انتخاب کیا جو رات کے لیے چاند بُنا کرتی تھی۔ میرے بہن بھائی مجھے دیکھتے ہی کچھ دیر کو احتراماً اداس ہو جاتے ہیں لاپتہ چہروں کے لواحقین شنوائی کی قربان گاہ پر میرے نام کی تصویریں چڑھاتے ہیں میں بے بس ماؤں کی آنکھوں سے شل ہوئے بازؤں کی طرح گر پڑتا ہوں تو مجھے کلیجے لگا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 32 : پچھتاوا

” خدا جو امید کا سرچشمہ ہے، تمہیں ہر طرح کی خوشی اور سکون سے بھر دے، تاکہ روح القدس کی قدرت کے وسیلے سے تمہاری امید زیادہ ہو جائے۔“ رومی 15 : 13 میں چھوٹکی گِٹّی کی طرف سے شاہی بازار میں داخل ہوا تو سامنے ہی مٹھائی کی دکان کے برابر دین دنیا بک ڈپو سے انکل شاہد نکل رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، مٹھائی والے کی ایک بات بتاتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں

Read more

عبدالرحیم مجذوب : شاعر ِ خوش نوا 2  

مجذوب اپنے فکری میلان، انداز و اطوار، ہیئت و موضوع، لفظیاتی نظام اور تخیل کے بنیاد پر پشتو شعر گوئی میں ایک جداگانہ اسلوب کے حامل ہیں۔ یونانی، ہندی دیومالائی اور اساطیری داستانوں، مغربی اور فارسی ادب کے گہرے مطالعہ کی بدولت انہیں پشتو کے باقی شعراء سے امتیاز اور انفرادیت حاصل ہے۔ دیشنت اور شکنتلا، شیکسپئیر کے وینس اور ایڈونس، کیٹس کے یونانی اساطیری کردار ’لیمیا‘ اورکیتھ ایف بی کی تخلیق کا منظوم پشتو ترجمہ ان کے فکری تکامل،

Read more

کیا آپ کے دل میں بھی کوئی تعصب چھپا بیٹھا ہے؟

میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں بعض انسان دوسرے انسانوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ انہیں کم تر کیوں سمجھتے ہیں؟ ان سے تعصب سے کیوں پیش آتے ہیں؟ پھر میں سوچتا ہوں کہ کوئی بچہ بھی تو متعصب پیدا نہیں ہوتا بچے تو ماں باپ سے محبت اور دوسرے انسانوں سے پیار کرتے ہیں۔ تو پھر یہ محبت پیار کرنے والے بچے نفرت اور تعصب کرنے والے انسان کیسے بن جاتے ہیں؟ تو کیا یہ کہیں ماحول کا اثر

Read more

سفر حجاز: روضہ رسول پر

جب بھی ہم حج یا عمرہ کے لئے سعودی عرب جاتے ہیں، نبی کے شہر مدینہ میں جانے اور مسجد نبوی میں حاضری کے لئے ہمارا دل بے قرار ہو جاتا ہے۔ جب ہم مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہیں تو دل میں خواہش ابھرتی ہے کہ روضہ رسول پر حاضر ہو کر حضور کی خدمت میں درود و سلام پیش کریں۔ یقیناً ہر مسلمان کے دل میں یہ آرزو ہوتی ہے کہ اسے حضور کی خدمت اقدس میں حاضری

Read more

گوگل، مصنوعی ذہانت اور والدین کا کھویا ہوا مقام

مصنفین: فینانہ فرنام اور کامران عباس زمانہ بدل رہا ہے اور اس تبدیلی نے زندگی کے ہر پہلو پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں خاص طور پر خاندان کے اندر نسلوں کے درمیان تعلقات پر ٹیکنالوجی اور معلومات کے نئے ذرائع نے گہرا اثر ڈالا ہے۔ ماضی میں بچے کسی بھی سوال یا مسئلے کے لیے اپنے والدین یا بزرگوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یہ عمل نہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ تھا بلکہ والدین کی عزت و

Read more

گئی تھی دل کی دوا لینے، نئے تحفے لے آئی

اسی دوران ایک ڈاکٹر نے آ کر کمرے میں شفٹ کرنے، نیز سٹریچر پر نہیں کرسی پر بٹھا کر لے جانے کا کہا۔ مستعد نرسیں جیسے گلو خلاصی کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ آناً فاناً بیڈ سے گھسیٹ کر سامنے پڑی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے گھٹنے کے نیچے لگے ٹانکوں پر خراشیں بھی آئیں اور تھوڑا سا وہ چھل بھی گیا۔ اب احتجاج کرنا کس قدر فضول لگا اس کا مجھے اچھی طرح احساس ہو گیا

Read more

ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں

ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں۔ اب کوئی زبان دان نکتہ چیں کہہ سکتا ہے کہ مینڈک ٹراتے ہیں، جھینگر تو جھنکارتے ہیں۔ اردو میں مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازوں کے لئے لفظ مخصوص ہیں۔ مثلاً گھوڑا ہنہناتا ہے، بندر خوخیاتا ہے، بکری ممیاتی ہے، چڑیا چہچہاتی ہے، کوئل کوکتی ہے، مکھی بھنبھناتی ہے، گلہری چٹچٹاتی ہے، مینڈک ٹراتا ہے اور جھینگر۔ جھنکارتا ہے۔ لیکن صاحب قسم لے لیں ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں اور وہ بھی کورس میں۔ اگست

Read more

سجن اور وزیر آباد یاترا

کئی برسوں سے یہ پروگرام بن رہا تھا مگر اس بار سب نے یک زبان ہو کر شرکت کی ہامی بھر لی۔ جس سے ہمیں امید بندھ گئی کہ اس مرتبہ ملاقات ہو جائے گی، یہ 1990 کی بات ہے ہم پنجابی کے پہلے اخبار سجن میں صحافت کے ساتھ زبان اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کسی نظریے کے لئے کام کرنے کا ڈھنگ سیکھ رہے تھے۔ حسین نقی ایک اہل زبان تجربہ کار صحافی نے پنجاب میں

Read more

علامہ اقبال اور ہائیڈل برگ میں شبنم اور ستاروں کا ایک مکالمہ

کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بہ طور اقبال شناس اور بہ طور قوم اس عالی دماغ کے پیغام کو تو رسمی طور پر بہت غیر معمولی طور پر اہمیت دی لیکن بہ طور فن کار ہم نے کبھی انھیں جاننے کی زیادہ کوشش نہیں کی۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال بہ طور مفکر تو بہت بلند ہوتے چلے گئے لیکن بہ طور تخلیقی فن کار ہم ان سے زیادہ آشنا نہ ہو سکے۔

Read more

روزمرہ کی نفسیات

تخلیق: صادقہ نصیر تبصرہ: نعیم اشرف بدین (سندھ ) کا باشندہ اور میرا سابق رفیقِ کار ابو بکر لغاری (فرضی نام) آج کل لاس ویگس (امریکہ) میں رہتا ہے۔ اس نے مجھے چند ماہ پہلے خبر دی کہ وہ سخت پریشان ہے اور اس کو خدشہ ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی میں طلاق ہونے جا رہی ہے۔ میاں بیوی کے تین بچے ہیں۔ میں نے اس کو فی الحال رُک جانے اور دماغ ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ

Read more

سعادت حسن منٹو کا ستر واں یوم وفات

18 جنوری 1955 مشہور پاکستانی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم وفات ہے۔ اردو زبان نے سعادت حسن منٹو جیسا متنوع، منفرد اور سب سے بڑا افسانہ نگار آج تک پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر کے ہم عصر تھے، اس وقت ان میں سے بڑا افسانہ نگار کون ہے کا سوال پیدا ہو سکتا تھا، لیکن اب بلا شک و شبہ سعادت حسن منٹو ہی اردو ادب کا سب سے بڑا اور لازوال

Read more

اردو، پشتو اور پنجابی فلموں کا بیک گراؤنڈ میوزک بنانے والے عابد علی نبھو

بیک گراؤنڈ میوزک کے ماہر سے میں بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ میری مشکل پھول نگر کے قاسم بُکڈپو والے ظفر اقبال نے حل کر دی۔ یہ اسکرین کے پیچھے ہنرمندوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ 2023 کی گرمیوں میں بالآخر ایورنیو فلم اسٹوڈیوز میں عابد علی نِبھو سے گفتگو ہو گئی۔ امید ہے یہ بات چیت پڑھنے والوں کو پسند آئے گی۔ ہماری تعلیم سا رے گا ما ” مجھے عابد علی کے نام سے کوئی نہیں جانتا لیکن

Read more

پی ایچ ڈی یورپ اور ہم ( 4 )

  دیبرسن، ہنگری پہنچے ہوئے ہمیں تیسرا دن ہو گیا تھا۔ ہم نے کرائے پر اپنے لئے مکان اور میڈم سحر ذوالفقار صاحبہ کے لئے اپارٹمنٹ حاصل کر لیا تھا۔ دونوں رہائشیں یونیورسٹی کی مین بلڈنگ سے مخالف سمت پر واقع تھیں یعنی بلڈنگ سے مشرق کی جانب اپارٹمنٹ اور مغرب کی جانب ٹرام نمبر 2 کے آخری اسٹاپ ڈوبیرڈو اُتسا کے قریب ہمارا مکان واقع تھا۔ ’اُتسا‘ ہنگیرین زبان میں گلی یا اسٹریٹ کو کہتے ہیں، ہمارا مکان فیادلم

Read more

متبادل دیکھ بھال: ماں یا باپ کے بغیر بچوں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

اکتوبر 2024 میں، میری پہلی ملاقات ڈاکٹر ایم اے صوفی فاؤنڈیشن لاہور کے توسط سے لاہور کے پانچ روزہ مطالعاتی دورہ پر صوبہ خیبر پختونخوا سے آئے والد کی اپنائیت سے محروم تقریباً ستر ( 70 ) بچوں سے ہوئی۔ یہ بچے ”متبادل دیکھ بھال کے گھروں“ سے باقاعدہ طور پر منسلک نہیں تھے بلکہ اپنی ماؤں یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، جبکہ ان کی تعلیم، صحت، اور دیگر ضروریات دونوں تنظیمیں (الخدمت فاؤنڈیشن، لاہور اور

Read more

میری کرسمس یا حقیقی مسائل

ہر سال دسمبر کے آتے ہی ایک مخصوص بحث ہماری سماجی فضا میں شدت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ سوال کہ کیا مسلمانوں کو کرسمس کی مبارکباد دینی چاہیے یا نہیں، ہمارے معاشرتی و مذہبی بیانیے میں نمایاں مقام حاصل کر لیتا ہے۔ کچھ لوگ اسے محبت، بھائی چارے اور رواداری کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ایک ایسا عمل ہے جو اسلامی عقائد سے متصادم ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعی یہی سب سے بڑا

Read more

”سات آسمان“ : جاگیرداری کا نوحہ

اصغر وجاہت ہندی ادب کا معتبر نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنے فن سے ہندوستانی قارئین کی کثیر تعداد کو متاثر کیا۔ ان کی بنیادی شناخت استاد کی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ ہندی کے طویل عرصہ استاد رہے ہیں اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں میں کئی لیکچرز دیے۔ انھیں کہانی بیان کرنے کے فن پر خاص مہارت رہی۔ فکشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباً تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور ادبی

Read more

راموز

اشاعت سے قبل اس رزمیہ نظم کا نام ”نئی آگ کا عہد نامہ“ تھا۔ یہ نظم اٹھارہ الواح (ابواب، فصل یا حصوں ) پر مشتمل ہے۔ راموز میں الواح کو ترتیب خالد احمد انصاری نے دی ہے اور مصوری دانش رضا نے کی ہے۔ اس نظم کی کئی الواح کے گم ہونے کے متعلق بھی افواہیں زیر گردش ہیں، مگر اس کی توثیق اب تک نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، یہ متفقہ امر ہے کہ راموز ایک نامکمل نظم ہے۔ جون

Read more

نفرت کے سائے

بھارت، جو کبھی اپنی تنوع میں خوبصورتی اور کثیر الثقافتی ہم آہنگی کا نمونہ تھا، آج مذہبی انتہاپسندی کے ایک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ ملک، آج ایک مخصوص سیاسی نظریے کے زیرِ سایہ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے لیے تاریک ترین دور کی مثال بن چکا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی کہانی اب صرف ایک قوم کی کہانی

Read more

شکیلہ رفیق کی یاد میں

شکیلہ رفیق بائیس جنوری دو ہزار پچیس کو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ وہ ایک حق گو انسان تھیں اور ایک مخلص دوست۔ ان کی افسانہ نگاری اور عصمت چغتائی سے ان کے انٹرویو کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار شاعری بھی کرتی تھیں۔ میں ان کی یاد میں آپ کے سامنے وہ مضمون پیش کرتا ہوں جو میں نے ان شاعری کے حوالے سے لکھا

Read more

ابا کا حقہ!

ڈیوڑھی کا دروازہ کھلتا، سائیکل کی کھڑ کھڑ کی آواز آتی، باورچی خانے میں چولہے کے سامنے بیٹھی امی آواز دیتیں۔ پاتھیوں ( اپلے ) کو آگ لگا دو۔

وسیع و عرض صحن اینٹوں سے بنا تھا اور اس کے ایک کونے میں بیری کا درخت تھا۔ بیری کے درخت سے ذرا ہٹ کر ایک طرف مٹی کی انگیٹھی رکھی تھی۔ بیری کے دوسری طرف صحن کے کونے میں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔ کوٹھڑی کی چھت نیچی تھی اور وہاں صبح شام چڑیوں کا ایک جھنڈ باجرہ چگتے نظر آتا۔ باجرے کے ساتھ ایک پیالے میں پانی بھی رکھا ہوتا۔ ابا ہر شام کوٹھری کی دیوار کے ساتھ میز رکھتے، اس پہ چڑھ کر چھت پہ مٹھی بھر باجرہ بکھیرتے، پیالے کا بچا ہوا پانی پھینک کر تازہ پانی بھرتے۔

Read more

درد کی غیر موجودگی: جینیاتی تغیر کے فوائد، نقصانات اور نفسیاتی و جذباتی پہلو

ایک دلچسپ اور نادر طبی اور جینیاتی کیفیت جہاں کسی فرد کو درد محسوس نہیں ہوتا، جسے ”کانجینیٹل انسینسٹیوٹو پین“ (Congenital Insensitivity to Pain) یا ”کانجینیٹل اینالجزیا“ کہا جاتا ہے، انسانی جسمانیات اور جینیات کے میدان میں ایک منفرد معمہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف فرد کی جسمانی حساسیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نفسیاتی، سماجی، اور جذباتی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ درج ذیل طبی، سائنسی، اور نفسیاتی تجزیوں کے ذریعے اس

Read more

زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے

”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“ یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود

Read more

منٹو، ہم اور ہمارا عہد

اگر یہ کہا جائے کہ یہ عہد سعادت حسن منٹو کا عہد ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ آئے دن جس طرح معصوم لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس عہد کو ایک منٹو کی بہت ضرورت ہے۔ اتنی ضرورت جتنی شاید 1947 ء میں ہندوستان یا پاکستان کو بھی نہ تھی۔ وہی منٹو جو نہ صرف اردو کا بلکہ دنیائے ادب کا بڑا افسانہ نگار ہے اور جس نے اپنے

Read more

سوشل میڈیا، ”شَٹَٹّا کلچر“ اور صاحب لوگ

والد صاحب میرے ساتھ انتہا درجہ کا پیار کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ کی وفات تو اُس وقت ہو گئی جب میری عمر تین سال یا اُس سے بھی کم تھی۔ والد نے ماں کی طرح پالا اور خیال رکھا اور آخری سانس تک پدرانہ محبت مجھ پہ نچھاور کرتے رہے۔ ایک بات پہ تھوڑا سا خفا ہوتے تھے کہ راقم صبح کی نماز گاؤں کی مسجد میں جا کر کیوں نہیں پڑھتا؟ سورج نکلنے تک لحاف میں کیوں پڑا رہتا

Read more

جاگیرداری سماج میں جمہوری حقوق کے خواب

بات قومی حقوق کی جدوجہد سے شروع ہوئی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ، تہذیب و ثقافت اور قومی آزادی، مساوات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور دہشت گردی کے پیچھے کار فرما ہاتھ سے ہوتی ہوئی سامراجی غلامی تک جا پہنچی۔ یہ برطانیہ کے شہر بارنسلے میں منعقد ہونے والی جی ایم سید کی 121 ویں برسی کی تقریب تھے، جِس کا اہتمام ورلڈ سندھی کانگریس برطانیہ نے کیا تھا، اور راقم کو بھی اپنے پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اظہار

Read more

پنجابی کہانیاں : ایک مطالعہ

”پنجابی کہانیاں“ ڈاکٹر سمیرا اکبر کی تازہ کتاب ہے جو تجزیہ پبلیکیشنز، فیصل آباد سے جنوری 2025 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اٹھارہ پنجابی افسانوں کو منتخب کر کے اُنھیں اُردو روپ دیا گیا ہے۔ افسانوں کا انتخاب ڈاکٹر صاحبہ کے ذوقِ مطالعہ پر منحصر ہے اگر کوئی صاحب اس کی تحقیقی اور تدوینی وجہ تلاش کرے تو اسے یقیناً مایوسی کا سامنا ہو گا۔ مذکورہ کتاب کے تمام افسانے انسان دوستی، رواداری اور محبت کے جذبے

Read more

ابلیس کے انسٹال کردہ روبوٹ

  اللہ نے قرآن میں انسان کو کائنات کے اسرار پر تدبر اور غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا ہے اور سورج چاند ستاروں کو انسان کے لئے مسخر فرما دیا ہے۔ گویا اللّٰہ نے اس بات کو اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا ہے کہ وہ دنیا میں با عمل زندگیاں گزاریں اور دینی عبادات کے ساتھ ساتھ دنیا کی پیدائش پر غور و فکر کریں اور کائنات کے اسرار کو جاننے کی کوشش کریں۔ انسان کو اشرف

Read more

”تاریک راہوں کے مسافر“ کی کہانی اور کردار

بالزاک کی مشہورِ زمانہ کتاب ”یوجین گرینڈٹ“ کا ترجمہ ”تاریک راہوں کے مسافر“ ( جو کہ پاکستانی ادب کے نامور مترجم رؤف کلاسرا نے کیا ہے ) پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آپ بھی اس میں شریک ہوں : یہ کہانی فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’سامیر‘ ، اس کے رہائشی اور خاص طور پر گرینڈ فیملی کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آج کل کے سماجی مسائل کا نقشہ بخوبی کھینچتی ہے۔ عین ممکن ہے

Read more

دہشت گردی کی جڑیں

دہشت گردی کا ہر واقعہ صرف ایک تباہی نہیں لاتا، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک اذیت بھی ہوتی ہے۔ جب ایک بم پھٹتا ہے، تو وہ صرف ایک جسم کو نہیں چیرتا، بلکہ ایک قوم کے دل کو بھی زخمی کرتا ہے۔ وہ لوگ جو ان حملوں کا شکار ہوتے ہیں، ان کی زندگی کے سچے معنی نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس بات کی علامت بن جاتے ہیں کہ دنیا نے ان کو اس قدر نظر انداز کیا کہ

Read more