ڈی آئی سی یا سی آئی ڈی؟

کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں؟ فیمنزم پہ لکھنے بیٹھیں تو گائنی پیچھے رہ جاتی ہے۔ گائنی پہ قلم اُٹھائیں تو فکشن اور تنقیدی مضامین روٹھ جاتے ہیں۔ کیی کراں؟ منجی کتھے ڈھاواں؟ پچھلے دنوں طوفان برد و باراں نے لوگوں کو گھروں میں دبک جانے پہ مجبور کیا۔ ہم وہ بھی نہ کر سکے کہ طوفان اور بارش مریض کا لحاظ تو کرتا نہیں۔ کال آئی کہ قریبی ہسپتال سے ایک مریضہ آ رہی ہے سی ٹی جی انتہائی

Read more

ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات اور ممکنہ حل

ضلع کرم جو کہ پاکستان کے جغرافیائی سیاسی تاریخی اور سماجی منظرنامے میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے قدرتی حسن اور ذخائر سے مالامال دلفریب وادی کئی دہائیوں سے اس خونریزی جنگ کے لپیٹ میں ہے۔ ضلع کرم میں بنیادی طور پر دو مکتبہ فکر کے لوگ آباد ہیں ایک اہل تشیع جو 43 فیصد ہے اور دوسرا گروہ اہل سنت کا ہے جو 57 فیصد ہے دونوں فریق ایک دوسرے کی خون کے پیاسے ہیں جس میں ایک بنیادی

Read more

ارنگ کیل، جادوئی وادی

بچپن میں محمد علی سدپارہ کو اس کی ماں پہاڑوں پر چڑھنے سے منع کرتی تھی تو وہ کہتے تھے ماں میں نہیں جاتا پہاڑ مجھے بلاتے ہیں۔ پہاڑ بھی انہیں بلاتے ہیں جو انہیں جی جان سے چاہتے ہیں ایسے ہی بلاوے ہمیں بھی آتے رہتے ہیں ایسے ہی ایک بلاوے کو آواز دوست سمجھتے ہوئے دوستوں سے مشاورت کی اور ہم پانچ دوست تیار ہو گئے سارے دوست چونکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے چھٹیاں

Read more

چوؔن برس قبل سوات اور باجوڑ میں

مردان سے گزرتی مرکزی سڑک کے ہوٹل میں کھانا کھا کچھ دیر آرام کے بعد ہمارا قافلہ سوات کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ ہم سالار قافلہ تھے اور دو سال پرانی ہو چکی بیگم، بڑی آپا، سات سے تیرہ برس عمر تک کی ایک بھانجی تین بھتیجے اور دو بھتیجیوں سمیت کل نو افراد اڑسٹھ ماڈل ٹویوٹا کرونا میں سیٹوں کے پاؤں میں بھی رکھے سامان کے اوپر یوں ٹھنسے تھے کہ کار کی چھت پہ لگے جنگلے میں

Read more

جونؔ ایلیا کو کس بات کا غصہ ہے؟

مری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا اُردو شاعری میں جعفر ؔزٹلی سے شروع ہونے والا مزاحمتی سلسلہ کئی ادوار کا سفر طے کر کے مرزا غالبؔ تک پہنچا۔ غالب ؔ نے رہی سہی کسر نکال دی، غالبؔ کے بعد جونؔ ایلیا کی باری آتی ہے جس نے اُردو غزل کو سراپا مزاحمت کا استعارہ بنا ڈالا۔ جون ؔایلیا کے ہاں کوئی ایسا موضوع چُھوٹ نہیں گیا جس پر جونؔ نے اپنی رائے

Read more

سوشل میڈیا: چیلنجز، مضمرات اور ان کا سدباب

پچھلی دہائی سے اب تک، سوشل میڈیا ایک طاقتور قوت کے طور پر ابھرا ہے جس نے لوگوں کے باہمی روابط، بات چیت کرنے اور معلومات کے استعمال کے طریقے کو از سر نو تشکیل دیا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، ٹِک ٹِک اور لنکڈ اِن جیسے پلیٹ فارمز نے لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی ذاتی معلومات دوسروں پر عیاں کرنے اور عالمی واقعات کے بارے میں باخبر رہنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا

Read more

نواز شریف کی سیاسی خاموشی

نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کی سیاست بھی نواز شریف ہی کے گرد گھومتی ہے ۔وہی مسلم لیگ ن کی سیاست کا بنیادی نقطہ ہیں اور پارٹی سے جڑے معاملات پر بھی ان ہی کی طرف دیکھا جاتا ہے ۔مگر نواز شریف موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کے معاملات پر کافی سیاسی تنہائی کا شکار ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ یا

Read more

چوہدری ظہور الہی کی 44 ویں برسی

27 فروری 1973 ء کو قومی اسمبلی کے ایوان میں (اس وقت سٹیٹ بنک بلڈنگ میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوتا تھا) میں 1973 ء کے آئین کے مسودہ پر پر بحث جاری تھی کونسل مسلم لیگ (جو اس وقت حقیقی معنوں میں قائد اعظم کی مسلم لیگ کی وارث تھی) کے سرکردہ رہنما چوہدری ظہور الہی دھواں دھار تقریر کر رہے تھے ان کا ساڑھے چار گھنٹے کا مسلسل خطاب یادگار تقریر تھی قومی اسمبلی میں حاجی سیف

Read more

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہے کہ اپنے نام ہی میں مے کدہ آباد کردے، اور بقول سیدنا ذہین شاہ تاجی کے مئے بن کر مے خانہ بن کر ہستی کا افسانہ بن جا RefaEli-Bar اسرائیل کی دگج اور دنیا میں نام چین ماڈل مانی جاتی تھیں۔ ریمپ پر چلتی تھیں تو گردشیں بدن کا طواف کرتی تھیں اور زمانے ٹھہر کے دیکھتے تھے۔ چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے آئی پی پی ز والوں کی

Read more

دیشت گردی کا تسلسل اور حکمت عملی کا فقدان

کیا ہمارے ہیلی کاپٹر صرف دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والوں کی لاشیں ڈھونے کے لیے ہی رہ گئے ہیں۔ کیا بلوچستان کے پہاڑوں میں دہشت گردوں کے قائم کردہ فراری کیمپوں کا سراغ لگا کر ان کو گھیر کر تباہ کرنے کے کام نہیں آ سکتے؟ بلوچستان کے سنگلاخ اور بے آب و گیاہ پہاڑ کون سے کوہ ہمالیہ ہیں جہاں ان دہشت گردوں کے قائم کئیے اڈوں کو ڈھونڈا اور تباہ نہیں کیا جا سکتا۔

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر: سعدی یوسف

”دیکھو نا۔ ماموں نے میری طرف دیکھا تھا۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ آپ اپنے وطن نہ جا سکیں۔ صدی کا چوتھائی حصّہ یعنی پورے پچیس سال ہوتے ہیں وہ عراق نہیں گیا۔ اس نے بغداد نہیں دیکھا۔ وہ بصرہ نہیں گیا۔ بصرہ جہاں اس نے جنم لیا، جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں اس کا خاندان ہے، جہاں اس کی ماں جیسی بڑی بہنیں اس کی راہ تکتی ہیں۔ اس کا گہرا دوست الجواری بھی ابھی تک دمشق میں

Read more

اہلِ جہاں اِسے کُرسی کہتے ہیں

اِس کی نہ تو کوئی آنکھیں نہ ہی کان، نہ ہی منہ اور نہ ہی کوئی لمبی سی دُم ہوتی ہے۔ ہاں چار ٹانگیں اور دو عدد بازو ضرور ہوتے ہیں۔ چشمِ عیاں سے دیکھیں تو بظاہر ایک معمولی سی اور بے جان شے نظر آتی ہے، مگر ہے بڑے کام کی چیز۔ سینگ نہ رکھتے ہوئے بھی اکثر و بیشتر ایسا دھاوا بول دیتی ہے کی بڑے سے بڑے سانڈ اور بھینسے بھی اِس کے سامنے حقیر و ناتواں

Read more

‏شہرِ خموشاں کے گمشدہ مندر

سعادت حسن منٹو سے تو آپ واقف ہوں گے؟ وہی منٹو جو تقسیم ہند کے درد کی کہانیاں سناتے سناتے مر گیا لیکن یار لوگوں نے اس پر فحاشی کا الزام لگا کر بدنام کیا ہوا ہے۔ اپنے ایسے ہی ایک ”فحش“ افسانے ٹھنڈا گوشت میں منٹو ہمیں ایک سکھ ایشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔ سن سنتالیس کے فسادات کے دوران یہ ایشر سنگھ اپنے ہم مذہبوں کے ہمراہ ایک مسلمان گھر پر دھاوا بولتا ہے اور چھ لوگوں

Read more

جھیل ہیورون کا ویران جزیرہ اور بحری جہازوں کا قبرستان

سحری سے پہلے نکل کوئی چار گھنٹے کار چلاتے ہم دونوں بھائی لیک ہیورون ( Lake Huron ) کے کنارے آباد قصبہ ٹوبر موری (Tobermory) کے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ناشتہ کرتے گپیں لگا رہے تھے۔ یہ ریسٹورنٹ جھیل سے نکلتی گھنے درختوں کے جھنڈ سے گزر کے آتی پانی کی کھاڑی کے کنارے تھا، جس میں خشکی سے جھیل میں پرائیویٹ کشتیاں اتارنے کی ڈھلوان اور پانی کے اندر ان کی پارکنگ کا مرکز ہے جسے میرینا کہا جاتا ہے۔ کھاڑی کے

Read more

بلوچ سوال

آج کل ہر کوئی بلوچستان کے بارے کچھ بول یا لکھ رہا ہے۔ حالانکہ بلوچستان اتنے عرصے سے خون میں لت پت ہے کہ اسے پاکستانی مرکزی شعور نے پس منظر میں دھکیل رکھا ہے۔ اس کے باوجود بلوچ قومی سوال ابھر کر سامنے آ ہی جاتا ہے اور پھر سب بلوچستان کے معاملات کے ماہر بن جاتے ہیں۔ موسی خیل میں عام شہریوں کے بہیمانہ قتل، جن میں سے زیادہ تر سرائیکی اور پنجابی تھے، کے بعد جس انداز

Read more

جون ایلیا کے کلام میں کردار نگاری

جون ایلیا کا اصلی نام ”سید حسین جوؔن اصغر“ ہے۔ انھوں نے اپنا تخلص ”جوؔن“ لکھا۔ سادہ اور چمکتی ہوئی زبان میں نہایت گہری اور شور انگیز باتیں کہنے والے ہفت زبان، شاعر، صحافی، مفکر، مترجم، نثر نگار، دانشور اور بالاعلان نفی پرست اور انارکسٹ جون ایلیا ایک اوریجنل شاعر تھے۔ جن کی شاعری نے نہ صرف ادب نوازوں کے دل جیت لیے بلکہ آپ نے اپنے بعد آنے والے ادیبوں اور شاعروں کے لیے زبان و بیان کے نئے

Read more

قلم و قرطاس کا قلندر

اپنے وادیٔ سوات میں، پشاور جی ٹی روڈ پر بری کوٹ ٹاؤن سے تین چار کلومیٹر آگے لنڈا کی چیک پوسٹ کے سنگم اور دریائے سوات کے دیار میں دو زندہ و تابندہ جڑواں بستیاں بڑی بے ہنگم طور پر پھیل رہی ہیں، نام ہیں کوٹہ اور ابوہا۔ انہیں بستیاں کہنا، لفظ بستی کی بے حرمتی ہے، کہ ان میں کل کی اُس بستی پن کی رونق آج کہاں؟ آبادی کے بے ربط و بے ترتیب بڑھوتری کے باعث دونوں

Read more

میں کیسے لکھتا ہوں

میرے والد، ناصر کاظمی، ایک معروف شاعر تھے۔ تقریباً چار برس کی عمر میں، ایک دن اپنے صحن میں لگے پودوں کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا: ”پاپا، پتّے!“ حنیف رامے صاحب کا بیان ہے کہ اس روز ناصر نے دوستوں کو بتایا کہ اس کے بیٹے نے اپنی پہلی نظم کہہ دی ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کے لیے تخلیقی ہونا لازم ہے۔ یہ نہ صرف ان کی نشو و نما بلکہ بقا کے لیے ضروری ہے۔ اپنی خوراک ڈھونڈنے

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے (5)

قصائی گلی میں ایک چوبارے کی گلوکاراؤں کا پسندیدہ گیت، جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے، تھا جو میں نے اس گلی سے چوری چھپے گزرتے ہوئے کئی بار سنا۔ میڈم نور جہاں نے یہ گیت فلم انار کلی کے لیے گایا تھا۔ کہتے ہیں انور کمال پاشا اور ان کے والد حکیم احمد شجاع جب میڈم کے پاس انہیں اس فلم میں ہیروئن کے طور پر سائن کرنے گئے تو انہوں نے بات اس طرح شروع کی۔ میڈم

Read more

معلق محل سے آتی صدائیں

کہانی ختم نہیں ہوتی، کہانی کہنے والے کو کسی موڑ پر خاموش ہونا پڑتا ہے۔ جیسے ہم سب کو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سردیوں کی کہر زدہ شام ہو گی یا موسم گرما کی صبح میں پھیلتی ہوئی دھوپ، ایک روز خاموش ہونا ہے۔ ہماری چپ سے دنیا کا شور ختم نہیں ہو گا، بچے بستہ اٹھائے روزانہ کی طرح سکول روانہ ہوں گے، سبزی والا اپنی ریڑھی پر، معمول کے مطابق، ہرے پتوں پر سرخ

Read more

عورتوں میں فسٹیولا

پیشاب کی بدبو کا بھبھکا اتنا زور آور تھا کہ مجھے لگا نتھنوں کے بال جل جائیں گے یا سانس بند ہو جائے گی۔ اپنے کمرے میں فائل پر لکھتے ہوئے لگا میں سالوں پہلے کے بوہری بازار میں کسی عوامی پیشاب خانے کے باہر سے گزر رہی ہوں یا پھر کسی ایسی دیوار کے قرب میں ہوں جس پر موٹے موٹے حروف میں کندہ ہوتا ہے ”یہاں پیشاب کرنا منع ہے یا یہاں پیشاب کرنے والا کتے کا بچہ

Read more

8 ستمبر: یوم نفاذ اردو بطور قومی زبان

اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھیں جاتی ہے اور یہ مختلف اقوام کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ بطور دفتری زبان بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق اردو کو کئی برس قبل دفتری اور قومی زبان بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن یہ وعدہ آج تک مکمل طور پر ایفا نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں اردو کو بطور مادری زبان

Read more

الوداع چترال اور اہل چترال – حصہ دوئم

دوپہر کا کھانا کھا کر ہم لوگ پامیر ہوٹل گئے جہاں سے بمبوریت کے لیے روانگی ہوئی۔ گاڑی کا ڈرائیور مقامی تھا۔ جس نے آیون گاڑی روک کر ہمیں وہ راستہ دکھایا جو فاریسٹ والوں نے بمبوریت تک کھرہ کے جنگل سے پہاڑوں کے گردا گرد کاٹ کر بنایا تھا۔ یہ راستہ دشوار گزاری اور خوبصورتی دونوں لحاظ سے بے مثال تھا۔ پتہ نہیں اسے کیوں بند کر دیا گیا۔ بمبوریت میں سچی بات ہے ویرانی کی دھول اُڑتی تھی۔

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے۔ 4۔

انور مسعود کی پنجابی شاعری کا معیار اکبر کے فتح پور سیکری کے بلند دروازے سا ہے۔ زبان و بیاں کی بات ہو تو ”جہلم دے پل تے“ جیسی نظم کا مقابل نہیں لایا جا سکتا۔ میری رائے میں اردو کے مقابلے میں پنجابی میں انہوں نے سنجیدہ موضوعات کو بھی خوب خوب برتا۔ ذرا یہ مصرعے ملاحظہ ہوں۔ ع۔ الہڑ شیں مٹیاراں ورگی چڑتل کہیڑا چہلے۔ ع۔ نی کاہدا چامل چڑھیا جے کیوں ہاسے ڈھل ڈھل پیندے جے اس

Read more

بلوچستان اور امن۔ جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو

بلوچ عوام کی اکثریت غریب اور شرحِ خواندگی میں سب سے پیچھے ہے۔ ان کے مسائل کا کسی سطح پر بھی سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا جاتا۔ بلوچستان کے مسائل کا ہمیشہ ادھورا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جب تک زمینی حقائق اور سماجی احوال پر دسترس نہ ہو اس وقت تک مسائل کی حقیقی نوعیت سے آگہی ہو سکتی ہے اور نہ ہی علاج ممکن ہے۔ عام بلوچ آج بھی قبائلی نظام کے اندر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے

Read more

A City in City

واپسی پہ میں نے نومی کو نیشنل کالج آف آرٹس کے سامنے استنبول چوک میں موجود ایک چھوٹے سے پرندوں کے شہر کا حوالہ دیا تو ہمارے دورے کا اختتام ہو چکا تھا۔ یہ ایک دلچسپ دورہ تھا۔ میرے لیے سب سے مشکل کام صبح سویرے جاگنا تھا۔ دو ہی آپشنز تھے۔ یا تو سویا ہی نہ جائے یا پھر دورہ کینسل کر دوں۔ قرعہ پہلے آپشن کے حق میں نکلا۔ معمول جیت گیا اور میں جاگتا رہا۔ آٹھ بجے

Read more

زندگی کے زنداں میں میری قید جاری ہے

فرح نے ایک مضمون میں کامران کی بیماری، اُس کی شاعری کا مجموعہ ’وحشت ہی سہی‘ کی اشاعت کا معاملہ، پردیس اور دو چھوٹے بیٹوں کا خیال، کاروبار کو دیکھنا، ڈاکٹروں کا مایوس کُن جواب اور فرح کا دیوانہ وار نئے ڈاکٹر کی تلاش میں مارے مارے پھرنا، کامران کو حوصلہ دینا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ چراغِ سحری ہے اور موت سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے، نجانے یہ مضمون لکھنے کا حوصلہ فرح میں کہاں سے آیا

Read more

دل پہ دستک دیتی شاعری

  خیبر پختونخواہ کے ایک سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھنے والے جری جذبوں اور کومل احساسات کے مالک طارق ہاشمی اپنی خواہشات اور لگن کی جمع پونجی سے قریہ قریہ علم کے بیج بوتے اب جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ادب کے ایک استاد کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے اپنے ذوق کی تسکین اور علم و ادب کے پودے کو تناور درخت کے روپ میں دیکھنے کے لیے اورینٹل کالج لاہور

Read more

لاشیں اور بیانیہ

نوروز خان زرکزئی کو بلوچستان والے ’بابو نوریز‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، یہ صاحب کچھ شورش پسند واقع ہوئے تھے، پہلے قلات کے حقوق کے لیے انگریز سے لڑتے رہے، انگریز گئے تو نئے حاکموں سے بِھڑ گئے۔ جب 1955ء میں ون یونٹ بنا تو بلوچستان کو اپنے حقوق و نمائندگی میں مزید کمی کی شکایت ہوئی، نوروز خان پھر لگ بھگ ایک ہزار ساتھیوں سمیت پہاڑوں پر چڑھ گئے اور مزید شدت سے پاکستانی حکام سے برسرِ

Read more

1جماعت اسلامی کا 84 واں یوم تاسیس۔ پارٹ

26 اگست 2024 ء کو جماعت اسلامی کا 84 واں یوم تاسیس اور 83 ویں سالگرہ ہے ہر سال جماعت اسلامی یوم تاسیس پر پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ 26 اگست 1941 ء کو سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قیادت میں لاہور میں 75 ارکان کے تاسیسی اجلاس میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے گنتی کے چند ساتھیوں کے ساتھ پنجاب کے دل میں پودا لگایا جس

Read more

کالاشی ثقافت کے مزید دلکش رخ

ڈین کا مقصد دراصل کالاش قوم کو ضبط نفس کی تعلیم دینا ہے۔ بالعموم اس کا دورانیہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہے یعنی 14 اگست سے 29 ستمبر تک۔ بزکشی کی ادائیگی گویا اس قانون کے خاتمے کا اعلان ہے۔ اس رسم کے بعد ایک دن کے وقفے سے پوڑ کا میلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب ہم سب کے چہروں پر بزکشی سے متعلق سوال رقم تھا۔ جسے انہوں نے پڑھا پر ان کے بولنے سے پہلے چائے آ

Read more

انصاف کی منڈی میں دس سالہ بچی کی بے آبرو لاش

  غربت جہالت کی ماں ہے، پسماندہ علاقے اکثر بیک وقت مفلسی اور جہالت کا شکار ہوتے ہیں، بھوک اور محرومی انہیں عقائد کی سنہری زنجیر پہنا دیتی ہے۔ ضعیف الاعتقادی انہیں ناخداؤں کو سجدہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، فیملی پلاننگ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے لئے گناہ کبیرہ ہے، وہ رزق کا ذمہ رزاق پہ چھوڑ دیتے ہیں اور پھر کثرت اولاد کو بھوک سے بلکتے بھی دیکھتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے گاؤں دیہات کے وہ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے لئے ’فروغ گلشن و صوت ہزار‘ کا پیغام

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا شفقت نامہ ’ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد اور گناہِ پُرلذت‘ کے بامعنی عنوان سے یکم اگست کو موصول ہوا۔ مندرجات ایسے بصیرت افروز اور نکتہ آفریں تھے کہ فوراً قلم اٹھانے کر ’جواب دوست‘ رقم کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ آپ جیسے ہمہ وقت سرگرم عمل دوست سے اپنی مصروفیت کا ذکر چھیڑنا رفعت تخلیق کی نسیم سبک رو کے سامنے مکروہات دنیا کے کباڑ خانے کی نمائش کے مترادف ہے لیکن اے

Read more

سفر تو آغاز ہو چکا ہے: ایک پہر نجیب احمد کی شاعری کے ساتھ

اُڑ نہ جائیں پھر درختوں سے ہرے پتوں کے غول اِک یہی ڈر تھا، مرا کچھ اور سرمایہ نہ تھا اس پُر تاثیر شعر کی وجدانی کیفیت کی گونج میں جھومتے ہوئے، سرمائے شمالی سے ٹھٹھرتے اِس شفّاف دن کی آخری ساعتوں سے ہم نگاہ، میری آنکھیں آسمان کے وسیع رنگین کینوس پر آج جو براہِ راست فضائی مظاہرہ دیکھ رہی ہیں وہ حیرت انگیز بھی ہے اور دل کش بھی۔ فلیم بورو کی نِیم شہری آبادی سے گریزاں اس

Read more

ہزارہ کی کہانیاں

اردو میں تاریخی ناول لکھنے کی روایت ایک صدی سے پرانی ہے۔ عبدالحلیم شرر اور راشد الخیری سے لے کر اسلم راہی، ایم اسلم اور نسیم حجازی تک درجنوں لکھنے والوں کی ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے۔ جنہوں نے اسلامی تاریخ کے خاص واقعات اور نامور شخصیات پر سینکڑوں ناول لکھے ہیں۔ یہی مصنفین اسلامی تاریخ میں مبالغے گھولنے اور مسلمانوں کو ایسے جنگ جو مجاہدین کے طور پر پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں جو اپنے مذہب کی

Read more

سوغات

احمد سلیم سلیمی صاحب کی چوتھی سوغات ”کھڑکی بھر چاند“ مجھ تک پہنچی ہے۔ آج شتیال، منیکال، گیال، شمشال، سمال اور جوٹیال کا چاند پرتگال میں اترا ہے۔ وطن سے کوسوں دور دیار غیر میں وطن کے حقیقی باسی، راقم کا پسندیدہ اور عظیم قلمکار کی تخلیق کردہ شاہکار ناول کا ملنا بھی خداوند کی طرف سے انعام ہے۔ میں ”کھڑکی بھر چاند“ کو پڑھے بنا یقین سے کہہ سے سکتا ہوں کہ اس ناول کو پڑھنے کے لئے دیا

Read more

ہے حرم میں شیخ لیکن میر وہ محرم نہیں

رانڈ رہے جو رنڈوے رہنے دیں رنڈی کس کی جورو، بھڑوا کس کا سالا زیرِ نظر مضمون کا موضوع کوئی رنڈی، بھڑوا یا سالا نہیں بلکہ ہندوستانی خطیب مولوی عقیل الغروی کا شاعر میر انیس کے فن پر وہ تبصرہ ہے جو پاک و ہند کے بعض عوامی اور علمی و ادبی حلقوں میں شدت کے ساتھ محل نزاع ہے، چند ثانیوں پر مشتمل موردِ بحث مقتبس ویڈیو کا پس منظر بتاتا ہے کہ یہ ادبی نشست انجمن ترقی اردو

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے

اپنے پنڈی وال دوستوں میں راجہ رجب کی ایک نمایاں حیثیت ہے۔ ہم تمام دوست دوسری جگہوں سے آ کر راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔ لیکن ہم سب میں بڑے پنڈی وال راجہ رجب ہی ہیں کیونکہ آپ کا آبائی تعلق بھی ضلع راولپنڈی سے ہے۔ والد راجہ لہرا سب 1965 کی جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد تحصیل کہوٹہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے اور ایک رشتہ دار کی مدد سے بوہڑ بازار میں پرانی کتابوں کی ایک دکان

Read more

جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے : جناب شہزاد احمد کی برسی پر

”بھئی، حامد۔ یہ بتاؤ کہ تم مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہو یا کلاس؟“ شہزاد احمد صاحب کے اس اچانک سوال نے مجھے ہڑبڑا دیا ہے۔ سال انیس سو اٹھاسی ہے۔ شاعروں سے بھری ویگن اپنی سی رفتار سے لاہور سے جڑانوالہ کی جانب رواں دواں ہے جہاں سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کے لیے مقامی انتظامیہ نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا ہے۔ لاہور سے جن شعرا کو مدعو کیا ہے ان میں شہزاد صاحب کے

Read more

شمالی علاقہ جات کی سیر ( 5 )

مری پاکستان کا خوبصورت سیاحتی مقام ہے، ہم کشمیر سے مری شام پانچ بجے پہنچے۔ آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، مری ٹھنڈا تھا، لیکن وادی سوات کے بحرین اور کالام جیسا ٹھنڈا نہ تھا، ٹھنڈی ہوا، گہرے بادل اور سر سبز پہاڑوں نے مری کو دلفریب بنایا ہوا تھا۔ مری میں قیام کے لیے بہت زیادہ ہوٹل ہیں، ہم جیسے ہی ہوٹلز کی لوکیشن پہ پہنچے تو پہلے سے کچھ لوگ کھڑے ہوئے تھے، وہ ہمیں ہوٹلز کی

Read more

زندگی ریل کا سفر تو نہیں

شاعرانہ تخیل اور فکری جہت، اپنے لیے اظہار کے قالب کا اہتمام خود ہی کیا کرتی ہیں۔ ذہن میں رہے کہ تخیل کی موزونیت وہ نکتہ ہے جو کسی شعری صنف میں جان ڈالتا ہے، باقی شاعر پر منحصر ہے کہ وہ علائم کی پہلو داری اور لفظیات کی لطافت سے اس صنف کو ، چاہے تو بامِ عروج پر پہنچا دے، چاہے تو عامیانہ بنا دے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے نثری نظم نے متنازع ہو نے کے باوجود اپنے

Read more

میریٹل ریپ: ’وہ پورن فلمیں دیکھ کر وہی سب میرے ساتھ دہرانے کی کوشش کرتا‘

جب 34 سالہ انگرڈ ریٹا نے حال ہی میں نیٹ فلکس کے ایک شو ’بلائنڈ میرج‘ میں شوہر کے ہاتھوں ریپ ہونے کا دعوی کیا تو انھوں نے شادی شدہ جوڑوں کی زندگی کا ایک ایسا راز افشاں کیا جو ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عام ہے اور بڑھتی ہوئی آگہی کے باوجود خواتین اس معاملے پر بات کرنے سے کتراتی ہیں۔

Read more

لوریتو گاؤں کا تاریخی پس منظر

میرے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ کہ آج جو تحریر میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں۔ یہ میرے آبائی گاؤں لوریتو چک نمبر 270 TDA لیہ کے بارے میں ہے جسے تھل کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے خطے جنوبی پنجاب ضلع لیہ میں اپنی ایک منفرد پہچان اور شناخت کی وجہ سے مقبولیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس تحریر کو لکھنے کے لئے میں اپنے ان سب دوستوں، عزیزوں، بزرگوں خاص طور پر اپنے

Read more

شمالی علاقہ جات کی سیر۔( 2 )

شام کو کالام کے سیاحتی مقامات کی سیر کے بعد ہم نے بشام جانے کا ارادہ کیا جو کالام سے 137 کلو میٹر دور پڑتا ہے، وہاں جانے کا مقصد صرف قیام کرنا تھا تاکہ اگلے دن کاغان اور ناران کے لیے جلد نکلا جا سکے۔ رات ہم نے بشام میں گزاری۔ اگلی صبح گاڑی تھاہ کوٹ سے براستہ ہزارہ موٹر وے ناران کے لیے روانہ ہوئی۔ گاڑی بلند و بالا پہاڑوں کے حصار میں فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھ

Read more

ضلع کرم میں فسادات اور زمین کا تنازع جہاں ’چند کنال رقبہ سینکڑوں جانیں کھا چکا ہے‘

ہر چند ماہ بعد ایک ایسا وقت آتا ہے جب پاڑہ چنار سے پاکستان کے کسی بھی حصے میں جانے کے لیے ایک قافلے کی شکل میں ہی سفر کیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں لوئر کرم سے گزرتے ہوئے ان پر حملے کا خوف رہتا ہے۔ ایک ایسا حملہ جو زمینوں کے اس تنازعے سے جڑا ہے جس سے اٹھنے والی لڑائی چند گھنٹوں میں فرقہ ورانہ فسادات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

Read more

سمپورن سنگھ کالرا : سرحد کے دونوں جانب مہکتا گلزار

دُنیا سے عدم اطمینان کا اظہار ہر بڑے فن کی بنیاد بنتا ہے۔ ہر نئی ایجاد، نئی کہانی یا نئی نظم، گویا دُنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا پھر کسی خلا کو پُر کرنے کی کاوش۔ شاعر اور ادیب نغموں، نظموں اور کہانیوں میں دُنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں۔ اِن کی تحریر میں ایک نئی دُنیا بستی ہے جو پڑھنے والوں کی آنکھوں میں بھی بَس جاتی ہے۔ یہ دُنیا در دُنیا بساتے ہیں۔ پھر ایک

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی تحفہ اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کا گناہِ پُرلذت

محترمی و مکرمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے کا آغاز ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم سے کیا تو مجھے بھی ان کی ایک ‘نظم فرض کرو’ کے چند اشعار یاد آ گئے۔ فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ’فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ہم نے ڈھونڈے بہانے ہوں فرض

Read more

تاریخی اور قابل ذکر تعلیمی درسگاہ: سینٹ ڈنیسز سکول، مری

تعلیم و تربیت اور ہنر، ماحول اور پرورش کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ اور اگر تعلیم اور تربیت کا یہ اہتمام کسی ایسی درسگاہ پر ہو جو قدرت کی حسین وادیوں اور خوبصورت مقام پر واقع ہو، تو زندگی کا مقصد بڑا واضح ہو جاتا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے تعلیم و تربیت، کتابوں اور سفر جیسے اپنے شوق کو اپنے پروفیشن میں اپنانے کا موقع ملا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کو سرانجام دینے کے

Read more

پتھر کی زبان اور صندل کی گیلی لکڑی کا دھواں! فہمیدہ ریاض، حصہ اوّل

وہ آج اگر ہمارے درمیان ہوتیں تو اٹھتّر برس کی ہوتیں، لیکن جنم دن کا بچھڑنے کے دن یا سال سے تو کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ طبعی عمر میں تو وہ 72 سال کی تھیں لیکن اپنے جوہر میں وہ ”مٹی کی مورت“ جیسی انسان خالص اور پویتر مٹی جتنی ہی قدیم تھیں، اپنی شاعری میں آبشاروں کی روانی جیسا اظہار کرنے والی یہ شاعرہ تو پانی جتنی پرانی تھیں، اس کا مزاحمتی اور باغیانہ وجود تو تب سے تھا

Read more

کرّم میں 43 ہلاکتیں: بوشہرہ میں زمین کا تنازعہ پرتشدد فرقہ وارانہ لڑائی میں کیسے بدل جاتا ہے

ضلع کرم کے صدر مقام پاڑہ چنار کا نواحی علاقہ بوشہرہ بظاہر خیبر پختونخوا کے کسی عام پہاڑی علاقے جیسا ہی ہے لیکن یہاں واقع زمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جس پر تنازعے نے اب تک درجنوں افراد کی جان لے لی ہے۔ گلاب ملی خیل اور مدگی کلے کے دیہات کے رہائشی ایک دوسرے پر تصادم کو ہوا دینے کے الزامات عائد کرتے ہیں لیکن یہ فرقہ وارانہ فساد میں کیوں بدل گیا۔

Read more

نئی تنقید اور ابہام کی سات قسمیں

آئی۔ اے رچرڈز، ایف آر لیوس اور ولیم ایمپسن جیسے ماہرینِ ادبیات نے نئی تنقید کے دبستان کی فکری بنیادیں استوار کیں۔ ان نئے ناقدین نے ادب کے مطالعہ کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی پوری توجہ متن کی Close reading پر مرکوز تھی۔ یعنی اس کی توجہ کا مرکز، متن کی زبان، بحر، منظر کشی، تشبیہ و استعارہ اور کئی قسم کی صنعتوں اور تجانیس جیسے متنی پہلو تھے۔ اس میں تاریخ، مصنف کی سوانح حیات جیسے

Read more

دیسی کار مکینکوں کی جگاڑیں جن کی مرسیڈیز کمپنی بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئی

اکتوبر سینتالیس میں ہجرت کر پاکستان پہنچنے کے چند دن بعد لاہور سے اپنے ننھیال پنڈی بھٹیاں جانے کے لئے سرداری لال کی گیس پلانٹ لاری میں وی آئی پی مسافر تھے۔ بس کے پیچھے بڑے سے چھجے پر پانی والے گیزر کی طرح کا بڑا سا فرنیس لگا تھا جس کو لکڑی اور کوئلہ کے آمیزہ سے جلائی آگ پانی کی بھاپ کو گیس میں تبدیل کرتے انجن تک پہنچا رہی تھی۔ یہ جنگ عظیم دوم میں پٹرول کمی

Read more

”غدّاران ِوطن“ اور ”جارُوب کَش بیانیہ“

’جارُوب‘ یعنی جھاڑو، فرش پہ بکھری پڑی اشیا میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ سب کچھ سمیٹ کر کسی کونے میں جمع کردیتا ہے۔ جھاڑو پھیرنے ہی کے انداز میں، کسی موضوع کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور ٹھوس موقف اختیار کرنے کے بجائے محض پلڑوں کا توازن قائم رکھنے کے لئے عمومی فتویٰ نما بیان جاری کر دینے کو انگریزی میں (Sweeping Statement)  کہتے ہیں۔ اس کا مہذب ترجمہ تو ”جارُوب کَش بیانیہ“ ہی ہوسکتا ہے لیکن عام فہم

Read more

میں محبت سے مارا جاؤں گا

مجھے کتب بینی کرتے ہوئے بیس سال سے اوپر ہو چکے ہیں۔ فلسفہ، نفسیات، ادب، تاریخ اور دیگر اہم فکری موضوعات پہ جب بھی کوئی کتاب پڑھنے کے واسطے منتخب کرتا ہوں تو کتاب کے کور سے بھی پہلے کتاب کے عنوان کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ بطور مصنف و قاری میری نظر میں کسی بھی کتاب کو چند الفاظ یا کسی جملہ میں سمیٹنا اک کٹھن کام ہے۔ بہرطور سڈنی سے تعلق رکھنے والے شاعر ارشد سعید کی کتاب

Read more

کیلگری، امبرسر اور لاہور – مکمل کالم

ہر شریف آدمی کی طرح میری بھی طویل پروازوں سے بہت جان جاتی ہے، بندہ نہ کسی سٹیشن پر رک کر نان پکوڑے کھا سکتا ہے اور نہ کسی ڈھابے پر بریک لگا کر چائے پی سکتا ہے، ایسی فلائٹ میں نازنینیں بھی صرف پروفیشنل سفر نامہ نگاروں کے حصے میں آتی ہیں جن کے کندھے کے ساتھ سر ٹکا کر وہ باآسانی سو جاتی ہیں اور منزل مقصود تک پہنچتے پہنچتے اُن پر فریفتہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ اپنی

Read more

اظہار الحق: نئی زمینیں اور نئے آسماں

مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اظہار الحق میرے گنتی کے محبوب شاعروں میں سے ایک ہیں اور اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں انہیں ان کے ہم عمر ہم عصروں ہی میں نہیں اردو غزل کی مجموعی روایت میں ایک ایسے منظر نامے اور ایسی فضا کو ایزاد کرتے دیکھتا ہوں جو بڑی حد تک انہی سے منسوب ہے۔ ہر دس پندرہ برس بعد غزل کو نیا کرنے والے

Read more

ضیاء الحق دور میں ملٹری کورٹ اور حمید بلوچ کا ٹرائل

پانچ جولائی انیس سو ستتر کا بد قسمت دن پاکستان کی تاریخ میں تیسرے ملٹری رول کی ابتدا کا دن تھا جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سبک دوش کرتے ہوئے مسند اقتدار پر خود براجمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ یوں پاکستان کا متفقہ طور پر منظور شدہ انیس سو تہتر کا آئین معطل ہو چکا تھا اور طاقت کی مرضی اور منشاء ہی کار مملکت خداداد سر انجام دینے کے لیے واحد اصول کی شکل

Read more

دلوں میں بستے جنگل

جولائی کی حبس زدہ صبح دارالحکومت کی ایک کنکریٹ کی بنی سفید بے لچک سڑک پہ گاڑی چلاتے اور دونوں طرف معدوم ہوتی ہلکی سُرخ پہاڑیوں کا نوحہ پڑتے ایک ہی خیال تواتر سے آپ کے دل میں ترازو رہتا ہے کیا یہ وہی خوبصورت، پُرسکون اور سرسبز قصبہ ہے جس کا آسمان پرندوں، سبز شاخوں اور مری کی پہاڑیوں سے اُترتی خنک ہوا سے نیلگوں رہتا تھا؟ آج سے چار عشرے پہلے کا اسلام آباد شاید ہی کسی کو

Read more

یوم عاشورہ پر جنگ کی ڈائری

انتفاضہ (احتجاج میں شریک امریکی طلبہ کے نام) یہ ہتھکڑیاں یہ زنجیریں بندی خانے اور تعزیریں کچھ نیا نہیں ہے لال مرے ایسا ہی ہوتا آیا ہے سچ بولنے کی پاداش ہے یہ تو یہ سب کچھ سہنا ہو گا دشوار سہی رستہ لیکن اس پر چلتے رہنا ہو گا یہ ہتھکڑیاں یہ زنجیریں بندی خانے اور تعزیریں کل یہ تیرا گہنا ہو گا ***         *** آج کی کربلا حسین آپ کے ماتم گزار ہیں ہم لوگ

Read more

پنجاب: لواخ کے بدلتے معنی کے تناظر میں

وہ شاعر اور ادیب جو مٹی کے بیانیے پر حملہ آور فاتحین کے بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں، مقامی کلچر اور زبان کے دشمن ہوتے ہیں اور کسی قوم کی پستی کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی نظریہ ساز ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مٹی سے جڑے ادیب اور شاعر اپنی اصل شناخت کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں ؛اختر رضا سلیمی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔

Read more

قوم کے انہدام کا فسانہ

بحیثیت پاکستانی قوم ہماری شناخت قائم ہوئے لگ بھگ ستتر سال گزر چکے ہیں مگر بد قسمتی سے ان ستتر سالوں میں سے چار عشرے ہم آمریت کی اندھیر نگری میں خوف، لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے مہیب بادلوں کے سائے میں بے سدھ پڑے رہے اور باقی عرصہ جمہوری آدرشوں کا علم تھامے نا انصافی، ظلم اور مساواتی کتاب کا پاٹھ پڑتے ہوئے پر پیچ راستوں پر پیش قدمی کرتے رہے۔ مگر سفر ہنوز جاری است ہمارا ماضی کسی

Read more

جنت کا ایک پلاٹ (مکمل کالم)

مراکش سے لندن کی پرواز قدرے تاخیر سے روانہ ہوئی، جہاز کے کپتان نے اس کے لیے معذرت بھی کی جسے سن کر یوں لگا جیسے وہ لطیفہ سنا رہا ہو، بعد میں پتا چلا کہ وہ واقعی لطیفہ تھا۔ ہوائی جہاز میں کیے جانے والے اعلانات ایسے ہی ہوتے ہیں، کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کپتان کیا کہہ رہا ہے، نہ جانے یہ مائک کو منہ کے بالکل ساتھ لگا کر کیوں بولتے ہیں۔ لندن اترے تو احسان شاہد

Read more

نعت نجات: سجاد حیدر، تجلیوں کی دھنک

حضورِ اقدس کی ذاتِ مبارکہ کے اوصاف اعمال کا تذکرہ نعت کہلاتا ہے۔ نعت لفظ اپنی بنیاد میں تعریف ہے، تاہم اصطلاح بن کر اس لفظ کا تعلق حضرت محمد کی تعریف سے جڑ گیا ہے اور یوں اس لفظ کا مرتبہ بلند ہو گیا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک عظیم الشان شخصیت کی تعریف کے لیے منتخب ہو گیا ہے۔ نعت روایت اپنی زمانوی حدود و قیود سے آنحضرت سے ہی آغاز لیتی ہے۔ چوں کہ ہمارے یہاں ادب

Read more

راشد عباسی: پہاڑی زبان و ادب کی ترویج کے لئے سرگرداں شخصیت

فیس بک پر بہت سے قریبی لوگ اجنبی سے محسوس ہوتے اور کچھ لوگ، جن سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہوتی پھر بھی وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ چند سال قبل راشد عباسی صاحب سے فیس بک پر تعلق جڑا تو تھوڑے دنوں بعد ہی اجنبیت اپنائیت میں بدل گئی۔ فیس کے بعد واٹس ایپ پر رابطہ ہوا تو قربت مزید بڑھ گئی۔ راشد عباسی صاحب پہاڑی زبان اور اردو کے نامور لکھاری ہیں۔ وہ دونوں زبانوں میں

Read more

کیا آپ موت کا انتظار کر رہے ہیں؟

میں یہ مضمون اپنے ایک بچپن کے دوست کے والد کی زندگی کی کہانی سے شروع کر رہا ہوں۔ میرے دوست ارشد محمود کے والد چوہدری سلیم احمد 1950 میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک مضافاتی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میاں محمد بخش کالج میرپور سے گریجویشن کرنے کے بعد واپڈا میں ملازمت اختیار کر لی جہاں وہ انسپکٹر آف ورکس تعینات ہو گئے۔ اگلی ایک دہائی کے دوران ان کے ہاں تین بیٹیاں اور ایک بیٹے نے

Read more

خود کلامی: اختر رضا سلیمی کا تخلیقی سفر

(بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کے بعد وادیِ تفہیم کی طرف ایک سفر) بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ میں نے رات گئے پوری توجہ سے سنی۔ ڈاکٹر روش ندیم صاحب، محترمہ ڈاکٹر صنوبر الطاف اور ڈاکٹر قاسم یعقوب صاحب کی گفتگو سنی تو نیند اڑ گئی۔ وہ گوشے جو تاریکی میں تھے ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آتے چلے گئے۔ سونا سوگند ہوا تو خود کلامی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل

Read more

امریکہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں

میں پہلی مرتبہ ستمبر 1985 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ آیا۔ میری آمد کولمبیا کالج کے شعبہ فلم اور ویڈیو میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تھی۔ مذکورہ کالج کے دو کیمپس تھے۔ ایک ریاست ایلی نوائے کے شہر شکاگو کے ڈاؤن ٹاؤن میں دوسرا ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس انجیلس میں مشہورِ زمانہ ہالی ووڈ کے قریب فلم /ٹی وی سِٹی میں۔ دونوں شہروں کے درمیان 1744 میل ( 2790کلو میٹر) کا فاصلہ ہے۔ میں نے پہلے شکاگو

Read more

نام سے امکان تک

مجھ سے اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ اردو ادب کی موجودہ دور میں کیا صورتحال ہے۔ماضی میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو اک طویل بہترین نظم و نثر لکھنے والے کی قطار ملتی ہے۔بہترین افسانہ نگاروں سے لے کر آزاد نظموں اور غزل لکھنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے آنے سے کیا لکھنے والے کم ہو گئے ہیں؟ اور اس سے بھی اہم سوال کہ اچھے لکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ کیا

Read more

دھنیے سے اسرائیلی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں

انسان کبھی نہیں بدلتا۔بس زمانہ بدلتا ہے۔ جب سے پہلی ریاست وجود میں آئی تب سے اب تک جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ان میں ناکہ بندی اور محاصرے نے مرکزی کردار ادا کیا۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ محاصرہ زدہ علاقے کے عام لوگ بھی جب جنگ کا ایندھن بنیں گے اور ان پر عرصہِ حیات تنگ ہو گا تو وہ اپنے حکمران یا منتظم یا سپاہ سالار پر دباﺅ ڈالیں گے کہ وہ حملہ آور کی شرائط تسلیم کر

Read more

انجم سلیمی کے شعری مجموعہ” میں” کا تنقیدی جائزہ

پاکستان کے اہم شاعر، عالمی شہرت یافتہ، اپنے سنجیدہ لہجے کے حوالے سے معروف، انجم سلیمی صاحب 1963 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ 80 کی دہائی میں لائل پور شہر کی علمی ادبی سرگرمیوں سے منسلک ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے فیصل آباد شہر کے ثقافتی ورثے کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ”سُکے اتھرو“ 1982 میں منظر عام پر آئی اور پنجابی شاعری میں اہم جگہ بنا گئی۔ 1996 میں دوسری کتاب

Read more

مجھے اب سوات نہیں جانا۔

ہم پنجابی لوگ گرمی کے ستائے ہوئے ہر سال جون یا جولائی کو پاکستان کے شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں جہاں ہر طرف ٹھنڈک اور خوبصورتی آنکھوں کو آرام اور روح کو تسکین پہنچاتی ہے محض چار دن کی سیر جیسے تین مہینوں کی گرم کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں قدرتی نظارے خدا کے وجود کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں، فضاؤں میں چشموں کی حمد سنائی دیتی ہے بادلوں کی اٹکھیلیاں انسانوں کے

Read more

اِمتیاز امانت! آموں کا اِنتظار ہے یار

گزشتہ برس جون کے ابتدائی ایام میں ہم ملکہِ کوہسار مری کے دامن میں واقع ہوٹل میں ایک کانفرنس میں مشغول تھے۔ باہر کا موسم ہوا کی خُنکی کو ساتھ لئے خود ہی خود بارش میں نہائے جا رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے بھیگے بھیگے جھونکے اٹکھیلیاں کرتے اچانک سے کھڑکی رستے کمرے میں داخل ہوتے تو ہماری توجہ مقرر کی گفتگو سے ہٹا کے پریوں کے کسی تصوراتی دیس لے جاتے۔ کھٹرکیوں سے رمِ جھم کی بھینی بھینی پُھوار

Read more

مہنگائی مار گئی؟ پہلی قسط

ہم نے اکثر لوگوں کو مہنگائی بڑھنے کا رونا روتے ہوئے دیکھا ہے لیکن سچی بات ہے کہ ان کے طرز رہائش، بود و باش اور کھانے پینے کے اطوار سے کہیں غربت نہیں جھلکتی۔ لوگ کہتے ہیں کہ چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں لیکن ساتھ ہی وہی چیزیں مقدار میں کمی لائے بغیر خرید بھی لیتے ہیں۔ دروغ بہ گردن راوی۔ ہم راجہ بازار پنڈی گئے تو وہاں ایک دکاندار سے مہنگائی پر بحث ہونے لگی اور ہم

Read more

میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر

میری اس سے پہلی ملاقات اوڈیسا کی بندرگاہ پر ہوئی تھی۔ متواتر تین دن تک اس کا وہ کسا ہوا بدن، لمبوترا جسم اور نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی والا خوبصورت مشرقی چہرہ میری توجہ اپنی طرف کھینچتا رہا۔ مجھے نہیں پتہ کب مگر وہ یونہی اچانک کہیں سے نمودار ہو کر میری نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ گھنٹوں سمندر کے سنگی پشتے پر کھڑا بندر گاہ کے گدلے پانیوں کو گھورتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بادام

Read more

خدا نے دانیال طریر کی نظم کیوں نہیں پڑھی؟

مختار صدیقی نے لکھا، ’عشق کا نام نشان مٹائے کیسے کارگزاروں کا‘۔ سوال یہ ہے کہ عشق کے ہاتھوں مٹنا بھی کسے نصیب ہوتا ہے۔ کوئی عامی ہو یا نامور، ہست کی گرم بازاری سے نیست کی بے معنی خامشی تک باد فنا کا بے آواز اشارہ ہی کافی ہے۔ فلک کی پہنائیوں میں سرگرداں ان گنت ستاروں میں کون جل اٹھا، کب جل بجھا، کسے خبر ہوتی ہے۔ مختار صدیقی نے عشق کا نشان مٹنے کا شکوہ کیا تھا

Read more

جون ایلیا کے شعری عجائبات

عجیب شاعر ہے ایک سرا پکڑتا ہوں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ شاعری اور شخصیت میں یکساں عجائبات حیرت و انبساط کا سبب بنتے ہیں۔ علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود طبیعت و مزاج میں حد درجہ لا ابالی پن عجیب دکھائی دیتا ہے۔ شاعری سے لگاؤ گھریلو ماحول کا نتیجہ تھا۔ پہلا شعر آٹھ سال کی عمر میں کہا، ملاحظہ کیجیے۔ چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

Read more

کاہان: بلوچستان کا امن اور نمائندگی سے محروم دور دراز علاقہ جہاں 180 سال قبل برطانوی فوج کو بھی سمجھوتہ کرنا پڑا تھا

برطانوی فوج کے جنرل سر جان کین نے کاہان پر قبضے کا حکم تو دیا لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہاں پہنچنا اور پھر قبضے کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہوگا۔ مری قبائل اور انگریزوں کے درمیان مجموعی طور پر پانچ بڑی جنگیں ہوئیں جن میں سے دو میں مریوں کو جبکہ تین میں انگریزوں کو شکست ہوئی۔

Read more

خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟

ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کر کے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام آدمیت اور اقبال سے الفت محمد سیکھی۔ میرا جی کو جنگلوں میں میرا کی تلاش میں سرگرداں پایا، راشد کو انتقام میں جمالیات کا حظ اٹھاتے دیکھا، مجید امجد کو وقت کے بھید میں مقید پایا، منیر نیازی کو

Read more

امریکی اور پاکستانی شاعرات کے تخلیقی سفر کا مَوازنہ

شاعری ہمیشہ سے ہمارے ذاتی تجربات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا مرکز ہے اور اس قابل ہے کہ اسے سب سے زیادہ طاقتور اور انسان کو بدل دینے والا فن سمجھا جائے۔ جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو لکھنے کا عمل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے سوچ کو تحریک ملتی ہے، جہاں لاشعور شعور میں جنم لیتا ہے اس لیے شاعروں اور ادیبوں کا ایک خاص کردار ہے جو اپنے معاشرے کے لحاظ

Read more

سندھ کی اونٹنی پر وڈیرے کا ظلم

دو روز سے سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپ دیکھ رہا ہوں کہ سندھ کے ایک وڈیرے نے اپنے کھیتوں میں اونٹنی کے جانے پر اس کی ٹانگ کاٹ ڈالی، اونٹنی کا مالک کٹی ٹانگ اور زخمی اونٹنی کی تصاویر دکھا رہا ہے، پھر ایک ویڈیو نے تو دل ہی ہلا دیا جس میں اونٹنی شدت درد سے کراہ رہی ہے، اس بے زبان کی آہ و بکا صرف خدا تعالی ہی سن سکتا ہے کیونکہ سندھ کے حکمران تو اندھے

Read more

’اونٹنی کو بچانے کے لیے اسے مسلسل کھڑا رکھنا پڑے گا‘: سانگھڑ میں اونٹنی کی ٹانگ کاٹنے پر ملزمان گرفتار

’اونٹنی کا درد گھٹانے اور زخم خشک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کو کھڑا رکھنا ہوگا۔ اگر بیٹھے گی تو اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔‘ سماجی کارکن سارہ جہانگیر اس آٹھ ماہ کی زخمی اونٹی کے بارے میں بتا رہی تھیں جسے ان کی تنظیم سی ڈی آر ایس بینجی پراجیکٹ فار اینیمل ویلفیئر نے سانگھڑ سے ریسکیو کر کے کراچی کے ایک شیلٹر ہوم میں منتقل کیا ہے اور یہ فی الحال وہاں زیرِ علاج ہے۔

Read more

عوام پر نئی مہنگائی مسلط کرنے کا "باریکی” سے تیار ہوا منصوبہ

ہم میں سے بہت پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بہت دنوں بعد سمجھ آئے گی کہ بدھ کی شام پیش ہوا سالانہ بجٹ بنیادی طور پر ”ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے“متوسط طبقے کو سفید پوشی سے محروم کرنے کا سفاک منصوبہ ہے۔ روزمرہّ زندگی کی بے تحاشہ اشیائے صرف پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ مہنگائی کا ناقابل برداشت سیلاب برپا کرے گا۔ غریبوں کی زندگیاں مزید اجیرن اور تنخوار دار طبقے سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس

Read more

امیر حسین جعفری: انسان دوست شاعر اور ہر دلعزیز دوست

ایک ایسی جگہ پر جہاں خالد سہیل اور امیر جعفری دونوں موجود ہوں اور ایک میزبان محفل ہو اور دوسرا مضمونِ محفل تو میرے لیے بہت مشکل ہے کہ میں کس پر پہلے بات کروں یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ہی میرے محترم عزیز دوست ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں یہاں ہر کھڑے ہو کر بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں تو یہ بہت رسمی سا جملہ ہے حقیقت یہ ہے

Read more

مرے قلم میں تیری خوشبوئیں مہکتی ہیں

خیبر پختون خوا کا ایک اہم ادبی مرکز شہر فراز کوہاٹ بھی ہے۔ کوہاٹ میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تینوں زبانوں میں سخن سرائی ہو رہی ہے۔ یہاں کے سخن وروں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان ادیبوں میں میر عبد الصمد، جسٹس ایم آر کیانی، آغا برق کوہاٹی، رحیم گل، احمد فراز، ایوب صابر، احمد پراچہ، عزیز اختر وارثی، شجاعت علی راہی، سعد اللہ خان لالاؔ، سید عطوف

Read more

اے کشتۂ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا

ارضِ وطن میں تعلیمی انحطاط اظہرمِن الشمس مگر اب فکری انحطاط کے مظاہر بھی جابجا۔ جب مغرب کی فکری یلغار کے زیرِاثر عالمِ اسلام کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کی مرعوبیت کو دیکھتا ہوں تو فشارِ خوں بلند ہوجاتا ہے۔ یہ طبقہ حکمت کی عظیم النظیر کتاب سے رَہنمائی کی بجائے اُن پر وردۂ شَب اہلِ مغرب کا لکھا ہی حرفِ آخر سمجھتا ہے۔ کاش کہ وہ اُس علیم و خبیر کی کتاب کا گہرائی میں جاکر مطالعہ بھی کر

Read more

پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور جمہوریت

پاکستان میں پچھلی ایک دہائی سے دو جماعتی نظام پہ قدغن لگی ہے۔ اور اس وقت تیسری جماعت نے شورِ سلاسل کو واضح کر دیا ہے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ تبدیلی واقعی دستک دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی کسی سیاسی جماعت کے نعرے، کسی لیڈر کی تقریر، یا کسی تحریر سے ماخوذ نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ تبدیلی حقیقی معنوں میں اس مرتبہ ممکن ہے کہ عوام کا مزاج تبدیل کر دیے۔ پاکستان میں اس وقت الیکشن کمیشن

Read more

کچھ باتیں ڈاکٹر وزیر آغا  کی (1)

1988 میں، مَیں گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کورس کی کتابوں کی جلد بندی کروائی تو جلد کے اندر کی جانب جو اخباری کاغذ لگائے گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ پر ایک پرکشش اور بارعب تصویر چَھپی ہوئی تھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا، "وزیر آغا، ایک ہمہ جہت ادیب”۔ جانے کیوں وہ تصویر میرے دل پر نقش ہو گئی۔ کوئی دو برس بعد اتفاقاً اردو بازار گوجرانوالہ سے مشفق خواجہ کے رسالے "تخلیقی ادب”

Read more

بلوچ تنازعہ کی نئی حرکیات!

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سمی دین اور ماہ رنگ بلوچ جیسی فعال خواتین کی پُرامن سیاسی جدوجہد بلوچستان میں عرصہ دراز سے جاری مسلح بغاوت کی راہ ہموار بنانے کے علاوہ سرمچاروں کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ ایسی ملتبس تحریکوں کو عام طور پر مغربی اقوام انسانی حقوق کی بحالی اور جمہوری آزادیوں کے محرک کے طور پر سراہتی ہیں، جیسے ابتداء میں بہار عرب کو سراہا گیا تھا تاہم ان پیچیدہ

Read more

ادب برائے؟

ایک زمانے میں جب کمیونسٹ پارٹی میں ہوا کرتے تھے تو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی یا ادب برائے مقصد یا ادب برائے نظریہ کی پرانی بحث کبھی پڑھنے کو مل جاتی، کبھی سننے کو تو کبھی اس ضمن میں کچھ کہنے کو۔ نظریہ نظریہ کی تکرار، پیچھے امام کے اللہ اکبر کہنے والوں کی قسم کے احباب ویسے ہی کیا کرتے جیسے طالبان بعد میں شریعت شریعت کی یا ان سے پہلے تبلیغی جماعت والے پورا کا

Read more

ظہور احمد: غیر ملکی سفیر کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں سزا پانے والے پولیس اہلکار کی رہائی کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظہور احمد کو مبینہ طور پر ایک غیر ملک سفیر کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے الزام میں مقامی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

Read more

نواز شریف اور یوم تکبیر

11 مئی 1998 ء کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف قازقستان کے دورہ پر تھے۔ الماتے قازقستان کا آب و ہوا کے لحاظ سے پاکستان کا مری ہے۔ 1997 تک یہ قازقستان کا دارالحکومت رہا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر نواز شریف مشاہد حسین کے ہمراہ الماتے کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انہیں پیغام ملا کہ ان کا ملٹری سیکریٹری بار بار فون کر رہا ہے اور ان سے اہم بات کرنا چاہتا

Read more

عدلیہ کی بے توقیری

ہر انسان اپنی عزت و تکریم کا خود ذمہ دار ہے۔ اعلی اوصاف کا اظہار عزت اور تکریم کا سبب ہے تو اس کے برعکس رویے اور اقدامات عزت و توقیر کی نفی کا باعث ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ عدلیہ کے ساتھ ظلم خود عدلیہ نے کیا تو یہ غلط نہ ہو گا۔ جسٹس منیر نے ”نظریہ ضرورت“ ایجاد کیا وہ جسٹس بندیال تک پہنچا تو ”گڈ ٹو سی یو“ کی صورت میں سامنے آیا۔ جسٹس منیر نے

Read more

مری

آج مری آنا ہوا۔ مری مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ میں 1978 سے مری آتا ہوں۔ مری ایک محبت تھا اس محبت کو بڑی محنت سے مری کے مقامی لوگوں نے خراب کیا۔ اب یہاں سیاح آتے ہوئے ہزار دفعہ سوچتا ہے کہ وہ مری کے لوگوں کی بدتمیزی کو برداشت بھی کر سکتے ہیں یا نہیں۔ میں مری مال جو کہ آج بہت پُرسکون رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں مسلسل چہل قدمی کر رہا تھا۔

Read more

خلیل جبران

انہوں نے 6 جنوری 1883 ء کو موجودہ لبنان میں نہایت غربت کے عالم میں آنکھ کھولی۔ ان کا نام خلیل جبران رکھا گیا۔ آج وہ دنیا بھر میں اپنی کتاب ”دی پرافٹ“ کی وجہ سے مشہور ہیں جو 1923 ء میں پہلی مرتبہ شائع ہونے کے بعد 108 زبانوں میں ترجمہ ہو کر کروڑوں کی تعداد میں بکی، اتنی کہ آج وہ شیکسپئیر اور لاؤزی کے بعد تیسرے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔ ان کی نظمیں

Read more

پھوہڑ عورت

اسے یقین ہو گیا تھا کہ عورت کی تعریف صرف اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے اس کی ماں نے اس کی تعریف کی کہ وہ بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔ کبھی تعریف نہ کرنے والی ماں کے منہ سے تعریف سن کر وہ ہواوں میں اڑنے لگی تھی۔ وہ شوق اور محنت سے سارے خاندان کے لیے پکاتی رہی۔ ماں کو باورچی خانے کی قید سے رہائی مل گئی اور اسے تعریف کے

Read more

حکمرانوں کی بے تدبیریاں

شیخ سعدی کی ایک حکایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار شکار کے دوران نوشیرواں نے اپنے ایک ملازم کو قریبی گاؤں سے نمک لانے کو کہا اور تاکید کی کہ پیسے دے کر لانا۔ لوگوں نے کہا اتنے سے نمک سے کیا ہو گا؟ نوشیرواں نے کہا کہ ظلم کی بنیاد دنیا میں رکھی گئی تو تھوڑا سا ہی تھا پھر جو بھی آیا اس میں اضافہ کرتا گیا اور ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اگر بادشاہ

Read more

جدید مری کا معمار کرنل جان پاول

جب مری میں انگریز نے قبضہ کیا تو وہاں پر اچھے اور شاندار ہوٹل بھی بنائے گئے۔ وہی پر کمرشل اور رہائشی زمین کی خرید و فروخت کا کام بھی شروع ہوا۔ جان پاول کے والد پاول فرینک مری کی زمینوں کی خرید و فروخت کے بانی تھے اور انہی کی خریدی ہوئی زمینوں پر جان پاول نے ہوٹل بنائے اور خوب نام کمایا۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جان پاول نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک ہوٹل

Read more

مبینہ طور پر جہیز کے معاملے پر ہونے والا لڑکی کا قتل اور سُسرال والوں سے لیا گیا بھیانک انتقام

انڈیا کے شہر پریاگ راج یعنی الہ آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں انشیکا کے خاندان والے درجنوں رشتہ داروں کے ساتھ آئے اور چند منٹوں میں دونوں خاندانوں کے درمیان شدید مار پیٹ شروع ہو گئی۔

Read more

پوٹھوہار اور اس کی تاریخ و قبائل پر لکھی گئی چند نایاب کتب

ویسے تو پوٹھوہار اور یہاں پر بسنے والے لوگوں پر مختلف کتب لکھی گئی ہیں۔ لیکن آج کوشش کروں گا کہ چند نایاب اور قیمتی کتب کے حوالے سے لکھوں۔ (ارتھ شاستر) سب سے پہلی کتاب کی اگر بات کی جائے تو بہت مشکل ہو جائے گا کہ وہ کون سی کتاب تھی اور کس نے لکھی لیکن اگر میں ارتھ شاستر از آچاریہ چانکیہ کا نام لوں تو غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ یہ کتاب 300 قبل مسیح یعنی

Read more

لاہوری دوستوں کو اپنی ہیرامنڈی کا تشخص ’مسخ‘ ہونے کا قلق

نیٹ فلیکس کی ہیرا منڈی پر بیسیوں اعتراضات ہو رہے ہیں۔ پہلی بار میرے بہت سے لاہوری دوستوں کو اپنی ہیرامنڈی کا تشخص ’مسخ ‘ ہونے کا قلق بھی ہے۔ ہر طرح کی دوربین و خودردبین نکل آئی ہے۔ کچھ تبصرے تو اتنے دردناک ہیں گویا بھنسالی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے دو ارب روپے کا قرضہ لے کے اس ’غیر مستند‘ فلم پر ضائع کر دیا ہو۔

Read more