منٹو کے افسانوں میں سماجی اخلاقیات

سماجی اخلاقیات سے مراد وہ اصول و ضوابط ہیں جن کی ایک معاشرہ اپنے افراد سے بطور طرز عمل توقع رکھتا ہے۔ دراصل یہ انسانی ہمدردی کے وہ اخلاقی اصول ہیں جو گروہوں اور معاشروں کی بہبود کا وسیلہ ہیں۔ یہ اجتماعی خیر اور انسانی عزت و عظمت کو ترجیح دینے کا دوسرا نام ہیں۔ ان سماجی اخلاقیات میں سچائی، دیانت، ہمدردی، انصاف، مساوات، رواداری اور احترام آدمیت وغیرہ نمایاں ہیں۔ یہ انفرادی اخلاقیات سے اس لیے ممتاز ہیں کہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 33

بوڑھی عورت اور چین کا ثقافتی انقلاب یہ بات مجھے بہت عرصہ بعد سمجھ میں آئی کہ جب میں اور فہمیدہ اپنی چین نوازی اور روس نوازی کے حوالے سے بحث میں مصروف تھے تو احفاظ خاموشی سے کھڑے مسکرا کیوں رہے تھے۔ احفاظ ہماری شادی سے پہلے بھی 1969 میں اپنی نوجوانی کے زمانے میں چین گئے تھے۔ (یہ وہی سال تھا جب میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا) ۔ احفاظ کا تعلق بھی چین نواز کیمپ

Read more

عورت کی کئی شناختیں : ایک نفسیاتی اور سماجی الجھن کا تجزیہ

عورت کو زندگی میں بیک وقت کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اس کی زندگی محض ایک کردار تک محدود نہیں رہتی؛ وہ بیک وقت ماں، بیوی، بیٹی، پروفیشنل، طالبہ، دوست، اور بعض اوقات ان سب کرداروں کا امتزاج بھی ہوتی ہے۔ یہ شناختیں اگرچہ ظاہری طور پر مضبوط اور مکمل ہونے کا احساس دیتی ہیں، لیکن ان کے باطن میں ایک مسلسل کشمکش، بوجھ اور تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ ایک ایسا ذہنی دباؤ جو معاشرتی توقعات، جذباتی تقاضوں، اور

Read more

تنقیدی جائزہ: ”اپنا گریباں چاک“ از جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ آپ بیتی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے 2002 ء میں شائع ہوئی۔ آپ بیتی لفظ کے معانی ”سرگزشت“ یا ”جگ بیتی“ کے ہیں۔ آپ بیتی اصل میں

Read more

راجہ انور بطور ادیب اور مصنف

راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔ ”وہ دیکھو! راجہ انور!“ دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔

Read more

”فیل می“ ایک سماجی برائی

ہمارے سماج کو بہت سی سماجی برائیوں کا سامنا ہے لیکن سوشل میڈیا کے عروج اور موجودہ منظر نامے میں سب سے بڑی بیماری ”Feel Me“ ہے۔ یہ ایک نفسیاتی الجھن ہے جو ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس بیماری کی علامات نہ صرف ہمارے ناخواندہ طبقے میں نظر آتی ہے بلکہ پڑھے لکھے طبقے میں بھی کافی حد تک اس کے آثار اب دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بیماری

Read more

خواب، محبت اور زندگی (32)

حصہ دوم۔ دی لیفٹ یہ حصہ بنیادی طور پر میرے لیفٹسٹ آدرشوں اور خوابوں سے لے کر عملی جدوجہد کا حصہ بننے تک کے سفر کی کہانی ہے۔ میں کیسے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن NSFکا حصہ بنی۔ میں نے کیسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے کامیاب انتخابی مہم چلائی اور کراچی یونیورسٹی کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹ کی اکنامکس سوسائٹی کی پہلی ترقی پسند لیفٹسٹ خاتون نائب صدر منتخب ہوئی۔ اور بہت سے فیصلہ کن لمحات اور واقعات کے ساتھ

Read more

پیش بین (اٹلی کی ایک ترجمہ کہانی)

  افسانہ: لوئیجی پراندیلو ترجمہ: جاوید بسام نینو میندولا اپنے فارم  سے واپس آ رہا تھا، جب گاڑی سڑک کے کنارے سان بیاجیو کے چھوٹے گرجے پر پہنچی تو اس نے پہاڑی پر واقع قبرستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ جان سکے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور قبرستان کے نگراں نوچو پمپینا کے بارے میں بلدیہ کو جو شکایات موصول ہوئی ہیں ان میں کتنی سچائی ہے۔ نینو میندولا تقریباً ایک سال سے بلدیہ کا کونسلر

Read more

”رف رف رفتن“ کا راشد جاوید

فنکار غبارے میں ہوا کی طرح آسمان پر سفر کرتا ہے۔ تحریر کا وزن اس کے تخلیقی سفر کا اعادہ کرتا ہے۔ راشد جاوید بھی جس غبارے میں سوار ہیں اس کی ہوا خاصی مضبوط اور گرہ سخت ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ”رف رف رفتن“ پڑھ کر ہوا۔ اس سے قبل ان کے پنجابی کے دو افسانوی مجموعے ”مٹی اتے لیک“ اور ”جنگل اگی چپ“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی کہانیوں کا مجموعہ ”Fructured

Read more

زبانیں جو دریا بن گئیں

  شام کے سات بج رہے تھے، لیکن کراچی کا آسمان اب بھی سورج کے کچھ ذرے تھامے ہوئے تھا۔ باہر سڑک پر چائے والے کی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی، اور اندر سارہ ندیم کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دنیا سمٹ آئی تھی۔ نیویارک، برلن اور کراچی ایک ساتھ سانس لے رہے تھے۔ زوم میٹنگ میں تین چوکٹھے تھے، تین وقت، تین زبانیں، لیکن ایک ہی دھڑکن۔ ایک ہی سوال سب کے ذہن میں گونج رہا تھا:

Read more

غنی خان اور اپنا ادبی فلسفہ

غنی خان بابا جدید پشتو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور ان کا اپنی شاعری میں فلسفیانہ لب و لہجہ ہے۔ شاعر اپنی کلیات میں زندگی کا ایک فلسفہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم بلا کے سامنے کتنے ہی بے بس کیوں نہ ہوں، ہمیں کم از کم احساس تو ہوتا ہے کہ شان و شوکت کے ساتھ جینے اور روحانی پاکیزگی کی قدر سیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ غنی خان انسانوں کو اپنی زوال

Read more

ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل: یہ 2025 ہے یا پتھر کا زمانہ؟

دنیا مریخ پر قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، مصنوعی ذہانت انسانی زندگی میں نئی آسانیاں پیدا کر رہی ہے، اور افریقہ جیسے خطے جہاں کبھی بھوک و جہالت کا راج تھا، آج وہاں انسانی حقوق، نفسیات اور سائنسی شعور کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ مگر افسوس! پاکستان جیسے ملک میں 2025 کے سال میں بھی ایک 17 سالہ لڑکی کو صرف ”نہ“ کہنے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا

Read more

شہناز رحمت اللہ۔ بلبلِ بنگال

جنریشن ایکس کرہِ ارض پر پائی جانی وہ نسلِ انسانی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہوئی۔ پوری دنیا کے تناظر میں بات کی جائے تو یہ نسل شہری حقوق کی تحریکوں، انسان کے چاند پر قدم رکھنے اور ویتنام کی جنگ جیسے واقعات کی شاہد ہے۔ ہمارا تعلق بھی جنریشن ایکس سے ہی ہے۔ جو اپنے بچپن سے ہی مشہور شاعر اور ادیب جمیل الدین عالی کے لکھے ”سوہنی دھرتی اللہ رکھے“ ، اور ”جیوے جیوے پاکستان“

Read more

امیر حسین جعفری کا جشن صحت

(نوٹ : یہ مضمون ایک سال پیشتر نو جون دو ہزار چوبیس کو کینیڈا کی فیمیلی آف دی ہارٹ کی ایک تقریب میں پڑھا گیا تھا۔ ) اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے

Read more

وصل کی راحت کے سوا

رات کے سناٹے میں برگد کے پتے سرسرا رہے تھے جیسے ہوا نے کسی پرانی شاعری کو چھو لیا ہو۔ شکستہ خامشی کے اندر کوئی آواز سنائی دی تھی، شاید اپنی ہی۔ درخت کی جڑیں نیچے زمین میں گہری تھیں، مگر کچھ جڑیں اب بھی ہوا میں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان کا جھولنا کچھ ایسا تھا جیسے کسی نے بات شروع کی ہو مگر پوری نہ کی ہو۔ وہ ان جڑوں کو دیکھتی رہی۔ ہر جڑ جیسے کسی ادھورے لمحے

Read more

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری

رات سونے سے پہلے اپنے چھوٹے بیٹے کو کہا کہ کل صبح سکول اسمبلی میں ہونے والی تقریر ذرا سنا دو۔ اُس نے حکم کی تعمیل کی اور فٹا فٹ رٹے رٹائے چند جملے سنا دیا اور میں نے خوش ہو کر اُسے شاباش دی۔ چند ثانیے بعد اچانک میرے ذہن میں خیال آیا تو پوچھا بیٹا! یہ تو بتاؤ اسمبلی میں قومی ترانے کے بعد علامہ اقبال ؔکی مشہور زمانہ نظم ”لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا

Read more

جنگ کا بیوپار اور بنیے کا پوسٹ کارڈ

منٹو اپنے ہی رنگ کا لکھنے والا تھا۔ امرتسر کے شرارتی لڑکے کی ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں کہ 1919 ءکا جلیانوالہ باغ ہو گیا۔ پنجاب میں مارشل لا لگ گیا۔ امرتسر کی سرکش گلیوں میں رینگنے پر مجبور کیے گئے محکوم ہندوستانیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے انگارے سلگتے تھے لیکن سروں میں آزادی کی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ ریٹائرڈ مگر دل پھینک سب جج غلام حسین کے سات سالہ لڑکے نے اردو زبان کے پرچے میں بار

Read more

غصے کی خود کاشتہ فصل

اسد محمد خان بے شک اس عہد کم کمال میں اردو ادب کے ترکش کا خدنگ آخریں ہیں۔ کراچی میں مقیم اس مشت لعل و جواہر سے تعلق آشکار یا ربط دروں نہ رکھنے والے بدنصیب کو بلاتاخیر کور چشم اور کم سواد ننگ اسلاف کی فہرست میں شامل کر دینا چاہیے۔ اسد محمد خان نے کہانی کی بنت میں ایسا نسخہ ایجاد کیا ہے کہ وہی اس رنگ کے خاتم ہیں۔ برصغیر کے دور دراز منطقوں کے جغرافیے کے

Read more

فرخندہ شمیم: ایک مکمل عہد کی ترجمان

فرخندہ شمیم، یا مسز احمد، ایک ایسا نام ہے جسے روایتی حلقوں میں زیادہ شہرت نہیں ملی، مگر دراصل یہ نام ایک عہد کی داستان ہے جو حوصلے، قربانی، شعور، خلوص اور بے مثال قیادت کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ کراچی کے کاروباری افق تک پہنچنے والا یہ نام، نہ صرف ایک خاتون کی شخصی ترقی کا سفر ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی کشمکش کا آئینہ بھی ہے۔ فرخندہ کی شخصیت کی اولین تشکیل اُن کی

Read more

راجہ گدھ کا موضوعاتی مطالعہ اور تجزیہ

1۔ تعارف اور کہانی کا خلاصہ مشہور کتابوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سمجھا کم جاتا ہے اور انہیں سجاوٹ اور دکھاوے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے لیے ایک عام رائے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، بن جائے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ راجہ گدھ کے ساتھ ہوا۔ راجہ گدھ سب سے پہلے 1981 میں شائع ہوا اور اپنی پہلی اشاعت سے ہی مقبول ہو گیا۔

Read more

مذہبی متن اور مابعد جدیدیت

ہر خطے کا کلچر ادب کے ذریعے منعکس ہو کر زندگی کی تصویر کشی کر تا ہے۔ نتیجتاً خاص ماحول، حالات اور سماجی سر گرمیاں کسی نکتہ نظر کو پروان چڑھانے میں معاون بنتی ہیں۔ نکتہ نظر تغیر و تبدل اور تعمیر و تشکیل کے بعد کسی نظریے یا تھیوری کی شکل میں ترتیب پاتا ہے۔ مغرب میں سماجی سیاسی اور معاشی سرگرمیاں خاص نہج پہ دکھائی دیتی ہیں اور گزشتہ صدی سے پہلے یعنی جنگ عظیم دوم سمیت کئی

Read more

کیوں نہ بیٹیوں کی پیدائش پر پابندی لگا دی جائے؟

اردو ادب کی عہد ساز شخصیت قرۃ العین حیدر اور اُن کا لکھا ہوا شاہکار ناول ’اگلے جنم موہے بِٹیا نہ کیجو‘ دونوں ہی آج بہت یاد آ رہے ہیں۔ انہوں نے برسوں پہلے آج کے حالات کو بھانپ لیا تھا اور خواتین کے درد اور خیال کو لفظوں میں ایسا پرویا کہ ہر دور کی عورت کی ترجمانی ہونے لگی۔ اُن کا یہ ناول صدیوں سے بیٹیوں کے دل کی کسک، ان کی آرزوؤں کے کچلے جانے اور معاشرتی

Read more

”رقصِ وجداں“ : ساحر راہُو کا آٹھواں مجموعۂ کلام

ساحر راہُو دورِ حاضر کے سندھی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں اور غزل کی صنفِ سُخن ان کی پہچان ہے۔ ان کی شاعری کے 7 مجموعہ ہائے کلام اس سے پہلے شائع ہو کر ادبی حلقوں میں مقبولیت پا چکے ہیں۔ جن میں سے ایک مجموعۂ کلام اردو میں بھی ہے۔ ان کی طبع شدہ شاعری کی کتب کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ خواب کھتُھوریٔ چند (خواب، خوشبو اور چاند) 2۔ سانوری شام (سانولی شام) 3۔ ”نینڑ سجدے

Read more

ستارے، شاہ لطیف اور وادی سندھ کی تحریر

ہزاروں سالوں سے سندھ کی لوک دانش میں ستاروں اور برجوں سے متعلق مختلف روایات موجود رہی ہیں۔ ان فلکی مظاہر میں ”کَتِی“ (سات ستار ے ) ، ”ٹیڑو“ (تین ستارے ) ، ”کھٹ“ (چارپائی، چار ستارے ) ، ”وچھوں“ (بچھو) ، ”کہکشاں“ (ملکی وے ) ، قطبی ستارہ، ”سہیل ستارہ“ (کینوپس) ، ”سُہاؤ ستارہ“ (صبح کا ستارہ) ، ”وِہاؤ تارو“ (شام کا ستارہ) ، اور ”لدھو“ یا ”لدھا تارا“ (جُڑواں ستارے ) شامل ہیں۔ شاہ لطیف نے اپنی شاعری

Read more

نگوگی وا تھیونگو: ایک بڑے مابعد نوآبادیاتی مفکر کی رخصتی

28 مئی 2025 کو جب جارجیا، امریکہ کے ایک ہسپتال میں نگوگی وا تھیونگو (Ngũgĩ wa Thiong ’o) نے آخری سانس لی، تو صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ عالمی ادب، ایک بڑی اور توانا آواز سے محروم ہو گیا۔ نگوگی صرف ایک فکشن رائٹر نہیں تھے، بلکہ وہ نوآبادیاتی استبداد، لسانی سامراج، ثقافتی جبر اور مابعد نوآبادیاتی آمریت کے خلاف ایک مسلسل مزاحمتی بیانیے کا نام تھے۔ وہ ایڈورڈ سعید، فرانترز فینن، ایمی سیزر، ہومی کے بھابھا، گائتری چکروتی سپیوک،

Read more

پروفیسر خورشید احمد: زندگی اور خدمات

پروفیسر خورشید احمد ( 1932۔ 2025 ) پاکستان کے ایک نامور ماہرِ معاشیات، فلسفی، اور سیاستدان تھے جن کی خدمات نے علم، اسلامی معیشت اور عوامی خدمت کے شعبوں کو محیط کیا۔ آپ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد 93 سال کی عمر میں برطانیہ میں وفات پا گئے۔ آپ کا شمار ان مایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی اقتصادیات کو باقاعدہ ایک علمی شعبہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جماعت اسلامی میں آپ کی قیادت

Read more

خواب، محبت اور زندگی 28

انٹر سائنس کے دوسرے سال میں مجھ پر اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ میری افتاد طبع سائنس کے مضامین سے میل نہیں کھاتی، میں ٹھہری شعر و ادب کی دلدادہ۔ مجھے آرٹس پڑھنا چاہیے تھا لیکن امی کی مجھے ڈاکٹر بنانے کی خواہش آڑے آ گئی تھی۔ سائنس کے مضامین لے تو لئے تھے لیکن پڑھنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ ویسے بھی میں کبھی بھی پڑھاکو طالبعلم نہیں رہی تھی۔ مجتبیٰ صاحب نے ایک دفعہ میرے

Read more

مصنوعی ذہانت: کیا ہم تخلیقی ادب کی آخری دہائی میں سانس لے رہے ہیں؟

سوشل میڈیا کے افق پر اکثر یہ نوحہ خوانی سنائی دیتی ہے کہ کتابوں سے رشتہ کمزور ہو چکا ہے، اور قرطاس و قلم کی یہ میراث شاید عنقریب تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ لائبریریوں کی حاضری میں مسلسل کمی اور کتاب خانوں کی خاموشی، اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ لیکن میرا آج کا سوال اس سے کہیں زیادہ بنیادی، کہیں زیادہ گہرا اور حساس ہے۔ کیا ہم اس ادبی زوال کے پیش خیمہ کو محسوس کر

Read more

مصوری اور ادب ایک مطالعہ

تاریخی پس منظر میں جھانکا جائے تو مصوری (آرٹ) ایک نمایاں حیثیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی، سماجی اور مذہبی حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اقوام کی تہذیب و تمدن پرکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مصوری کو ایک تصویری زبان بھی کہا جا سکتا ہے جو ہر دور میں بولی جاتی رہی ہے۔ زمانہ قدیم سے اب تک تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس کے مقاصد میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔

Read more

معتبر سندھی شاعر، عالم و محقق ڈاکٹر عطا محمّد حامی

پچھلے دنوں 3 جون 2025 ء کو سندھی زبان کے قادر الکلام شاعر، معتبر عالم، محقق، معلم، سیاستدان، سماجی کارکن، سچل سرمست کے شارحین میں سے ایک اہم شارح اور مترجم، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کے انتقال کو 43 برس مکمل ہوئے۔ ان کی یاد میں ”حامی یادگار کمیٹی“ کی جانب سے اس شام سچل اکیڈمی خیرپور کے آڈیٹوریم میں ان کی برسی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقامی ادباء و شعرا نے ان کے فن، فکر اور

Read more

خواب، محبت اور زندگی 27

وہ خوبصورت خاتون جو میری بہن بھی ہو سکتی تھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے 1965 میں میرے میٹرک کرنے کے بعد ہم عزیز آباد کے ایک کشادہ گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔ عزیز آباد کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ایک زمانے میں یہ کتنا صاف ستھرا اور خوب صورت علاقہ ہوتا تھا۔ کئی سال بعد اس کی وجہ شہرت ایم کیو ایم کا ہیڈ کواٹر ہونا بنی۔ ایک تعمیراتی کمپنی

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پہلی فکشنل کتاب ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا تعارف

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو گزشتہ چار دہائیوں سے خواتین کے طبی اور سماجی مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اپنی بیباک کالم نگاری پر مشتمل چھ کتابوں اور پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کے بعد ، اب فکشن کی دنیا میں ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے فکری و تخلیقی سفر کا ایک نیا، چونکا دینے والا موڑ ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے فکشن کا اسلوب ایک

Read more

دوستانہ، منافقت اور ہم

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مسائل کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں وہاں دوستوں کی محفلوں کو ہمیشہ ایک ایسے گوشۂ عافیت کے طور پر دیکھا گیا جہاں انسان اپنی ذہنی پریشانیوں، فکری الجھنوں اور روزمرہ کی تھکن سے کچھ دیر کو نجات حاصل کرتا ہے۔ ان محافل میں انسان بہت سی ایسی توجیحات کے تحت اپنے بے قراری اور بے زاری کے رویوں کو ایک لمحے کے لیے مکمل طور پر بھول جاتا ہے اور یہی ان

Read more

ثنا یوسف میں شرمندہ ہوں

سب جانتے ہیں میں کتنا کٹر، مذہبی، بنیاد پرست اور قدامت پسند واقع ہوا ہوں۔ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے اور خانوادے سے ہے۔ ہمارا شجرہ ہمیں جیلان تک لے جاتا ہے ؛ سو قادریت ہماری رگ و پے میں ہے۔ میرے ابو جی کٹر مذہبی، میرے دادا پکے بنیاد پرست الغرض آٹھ صدیوں کا جینیاتی سفر اسی مذہبی شناخت کا سفر ہے۔ میں بھی خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ یونی ورسٹی میں بھی میری سر توڑ کوشش رہی کہ

Read more

تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز

کتاب: مور پنکھی مصنف: جاوید صدیقی تبصرہ : عرفان علی ڈنور مجھے جاوید صدیقی صاحب کی کہانیوں اور خاکوں میں کرداروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور ان کی شکلیں دکھائی دیتی ہیں فسوں گر کا یہی کمال ہوتا ہے صاحب! جو جاوید صدیقی صاحب کا کمال ہے۔ ایک تو بہت کم لکھا ہے، مطالعہ کرنے والوں کی تشنگی بڑھا رکھی ہے، اصلی شطرنج کے کھلاڑی ہیں، تھوڑے سے دانے پلیٹ میں بھلے لگتے ہیں، (سندھی میں کہاوت ہے )

Read more

فرد فرد مجموعہ خیال

میں نے اپنے دیرینہ شناسا اور ایک عرصہ سے دوست ڈاکٹر ساجد علی کی کتاب ”فرد فرد مجموعہ خیال“ آخر کار پڑھ ہی ڈالی۔ اتنی دیر بعد کیوں؟ وجہ یہ کہ کچھ مضامین پہلے سے پڑھے ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی کتابیں موصول ہوئیں جن میں فیاض باقر جو ہیں تو پی ایچ ڈی ہی لیکن ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے کہ باہر کے ملکوں میں رواج نہیں، کی انگریزی کتاب تھی جو بھیجے

Read more

تاجدار غزل گوئی

خالد بزمی اردو ادب کے جدید اور حساس مزآج شاعر ہیں جنہوں نے اپنی غزل گوئی سے نئی فکری جہات کو متعارف کرایا ہے۔ ان کے دوسرے مجموعۂ غزلیات ”آغوشِ صدف“ میں ایک سو اٹھارہ غزلیں شامل ہیں جو ان کی تخلیقی وسعت، فکری تنوع اور فنی پختگی کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ مجموعہ نہ صرف ان کی شعری ریاضت اور جمالیاتی شعور کا مظہر ہے بلکہ جدید اردو غزل کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ بھی ہے۔ اشکوں

Read more

کارل مارکس کا تخلیقی سفر (تخلیقی اقلیت سے ایک باب)

  حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب: ”تخلیقی اقلیت“ ، ڈاکٹر خالد سہیل کی انگریزی تصنیف: CREATIVE MINORITY کا اُردو ترجمہ ہے۔ ’تخلیقی اقلیت‘ میں منتخب تخلیقی شخصیات، جن میں فلسفی، سائنسدان، ادیب، شاعر، فنکار اور انقلابی رہنما شامل ہیں، جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں ان کے نظریات، فکر، اور فلسفے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے بطور نفسیات دان ان معتبر شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ بھی

Read more

”سب رنگ“ ڈائجسٹ : باز گشت

اس دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے اپنے بچپن میں قصے کہانیاں نہ سنی ہوں اور اسے ان سے دلچسپی نہ ہو۔ درسی کتب میں آغاز ہی سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں شامل کی جاتی ہیں تاکہ بچے ایک طرف تو خوشی خوشی کہانیاں پڑھیں اور ساتھ ہی ساتھ زبان کے اتار چڑھاؤ سے بھی کماحقہ واقفیت حاصل کریں۔ پاپولر ادب نے کئی دہائیوں سے اُردو زبان و ادب پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ان مشہور

Read more

جناب شیخ کا نقشِ قدم

پہلی ملاقات ایک ادبی کانفرس کے دوران میں ہوئی۔ وہ سٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں سامعین میں موجود تھا۔ کچھ استثنا کے ساتھ یہ صورت ہنوز برقرار ہے۔ کئی تقاریب میں ہم اکٹھے جاتے ہیں۔ وہ سٹیج پر براجمان ہوتے ہیں اور میں انھیں سامعین میں بیٹھ کر دیکھ دیکھ جیتا ہوں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی ادارے میں کولیگ کی حیثیت سے انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ جہاں دیدہ، زیرک، معاملہ

Read more

مجھے چپ رہنے کا کہتے ہیں لیکن قوم ترقی کرتی جا رہی ہے

کچھ دن پہلے ہمارے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب نے استاد کی عظمت کو سراہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اپنے اساتذہ کی بدولت ہوں ،مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کو تنقیدی ریسرچ کے اندر اپنا کردار ادا کرنا چاہے۔ مگر میرے کچھ سوال ہیں جو میں نہایت ادب سے آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ آج کل کے معاشرتی و سیاسی ماحول میں اگر کوئی فرد سچ

Read more

یوسف خالد کی قطعہ نگاری

قطعہ نگاری کا سلسلہ تو اردو شاعری کے آغاز سے ہی ہو گیا تھا لیکن اس صنف نے بیسویں صدی کے نصف میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور ادب کی مسلمہ اصناف کے مدِ مقابل اپنا مقام بنا لیا۔ اس دور میں شعرا کے باقاعدہ مجموعے اشاعت پذیر ہونے لگے جن کا سلسلہ معاصر عہد تک جاری و ساری ہے۔ اس صنف کو مولانا حالی، اکبر الہ آبادی، علامہ اقبال، مجید لاہوری، ظفر علی خان، اختر شیرانی

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول ( 10)

اس نے خود سے کہا۔ ”شریر جانے مٹی کیوں ہوا جار ہا ہے اور من بھی کیسا اجڑا، اجڑا ہے؟ کسی کام کے کرنے پر طبیعت ہی مائل نہیں۔“ یوں کام کرنے کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس گھر میں تھوک کے حساب سے نوکر تھے۔ پر رسوئی گھر کا بیشتر کام اسے ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس کا سسر ڈاکٹر جو چند سال قبل بنگال کا وزیر صحت تھا کھانے پینے اور برتنوں کی صفائی میں کچھ زیادہ

Read more

سردی کی بارش میں سفر

سردی کی بارشوں میں وہ سفر جو گرمیوں میں وادی پر خار سے گزران جیسا ہوتا ہے غزل حافظ کی طرح گلزار ہو جاتا ہے۔ اس سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ گانے بج اٹھے۔ ان میں نصرت فتح علی خان کی ایک مشہور قوالی ’ایسا بننا سنورنا ہو مبارک تمھیں‘ بھی سنی۔ کچھ دھیان قوالی میں موجود اشعار کی طرف بٹ گیا۔ ان اشعار میں موجود تصور عشق اور معاملات بندی کے تجزیے کرنے لگے۔ وہاں محبت

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے لیکچر پر تاثرات

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے لیکچر پر تاثرات ”اردو ناول کی عالمی منظرنامے میں غیر موجودگی: حقیقت یا خیال؟“ تاریخ: 30 مئی 2025 (حسینہ معین ہال) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ”اردو ناول کی عالمی منظرنامے میں غیر موجودگی: حقیقت یا خیال؟“ کے موضوع پر ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا لیکچر اردو ادب کے عالمی تشخص کے حوالے سے ایک نہایت بصیرت افروز اور فکری اہمیت کا حامل بیان ہے۔ اس میں انہوں نے نہ صرف اردو ناول کی موجودگی

Read more

اصغر ندیم سید کی افسانوی نثر کا اجمالی جائزہ

ادبی دنیا میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جانے والے اصغر ندیم سید کا پہلا بڑا حوالہ ڈراما نگاری ہے مگر محض ڈراما نویسی تک محدود کرنے سے ان کے مقام و مرتبے کی تصویر مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس مختصر مضمون میں شاہ جی کے ناولوں اور افسانوی مجموعے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آدھے چاند کی رات ”آدھے چاند کی رات“ اصغر ندیم سید کا اولین ناولٹ ہے جو پہلی بار 1993 ء میں منظرِ

Read more

خواب، محبت اور زندگی (26)

جب سینما دیکھنے پر تھپڑ کھایا اس زمانے میں ذاتی حوالے سے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو برسوں میرے لئے شرمندگی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنا رہا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی۔ اس واقعے کا تعلق میری اسکول کے زمانے کی ایک سہیلی سے تھا جو پڑھائی کے ساتھ نرسنگ کا جز وقتی کام بھی کرتی تھی۔ اس لئے ہمارے مقابلے میں ایک طرح سے اسے مالی خود مختاری حاصل تھی۔ ایک روز

Read more

پہاڑوں کی سرزمین کی صدائے محبت

میں ڈاکٹر خالدہ نسیم کو ان کے ادبی سفر کی پہلی کتاب ”Echoes from the Mountains کی اشاعت پر مبارکباد دینا چاہتی ہوں اور شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اتنے خلوص سے یہ کتاب مجھے بھجوائی اس تقریب میں مدعو کیا اور مجھے اس کتاب پر رائے کے اظہار کا موقع دیا۔ یہ کتاب انسانیت، تہذیب، اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں سے محبت اور اپنے نظریات کے لیے صعوبتیں برداشت کرنے اور بہادری سے کھڑی رہنے والے

Read more

لورالائی کی ثقافت اور ماحولیاتی تبدیلی

لورالائی، جو جنوبی بلوچستان کے نیم پہاڑی اور نیم میدانی علاقے میں واقع ہے، محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تمدنی اور ثقافتی اکائی ہے، جو نسلوں سے زرعی معیشت، چراگاہی زندگی، آبادی کی سادہ طرزِ حیات، مقامی اقدار، اور قدرتی وسائل پر انحصار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قدرتی ماحول میں تبدیلی واقع ہوئی، بارشوں کی مقدار میں کمی آئی، چشمے سوکھنے لگے اور کاریزات بند ہونے لگے، تو اس کے اثرات

Read more

لیاری۔ مارا ماری سے کانا یاری تک

ملک کے ناخداؤں نے لیاری میں دانستہ خون ریزی برپا کی۔ جب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے ساتھیوں میں ایسے اختلافات پیدا کیے گئے کہ بچھے ہوئے دسترخوان پر ہی دوست کے ہاتھوں دوست قتل ہوئے اور پھر دوستی سے دشمنی کی داستان نسل در نسل چلتی چلی گئی۔ جی ہاں بالکل گینگ آف واسع پور کی طرح لیاری کی گینگ وار بھی ایک ایسی ہی فلمی کہانی لگتی ہے لیکن یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ رونگٹے

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (آخری حصہ)

فلسطینی ادیبوں کا ذکر کیا جائے اور فلسطین کے عظیم عاشق، کہانی کار، مصور، صحافی، مزاحمت کار و قائد غسان کنفانی کی بات نہ کی جائے، یہ ممکن نہیں۔ 1948 کی عرب اسرائیل جنگی تباہی اور ان کے خاندان کی جلاوطنی و دربدری ان کی بچپن کی یادوں کا ہمیشہ حصہ رہی۔ یہی وہ دن تھے جن کے مصائب و تکالیف ان کی تخلیقی کائنات کا حصہ بنے۔ 1959 میں انھیں بیروت آنے اور آزادی فلسطین کے لیے کام کرنے

Read more

پنجابی زبان اور اس کا ارتقا

پنجابی زبان برصغیر کی ایک قدیم اور معروف زبان ہے جو بنیادی طور پر پنجاب کے علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند۔ آریائی زبانوں کے خاندان سے ہے، اور اس کا ارتقاء ہزاروں سال پر محیط ایک تاریخی اور ثقافتی عمل کا نتیجہ ہے۔ 1۔ پنجابی زبان کی ابتدا پنجابی زبان کی جڑیں سنسکرت، پراکرت، اور پھر شہستری اپ بھرنشش (Apabhramsa) زبانوں میں ملتی ہیں۔ ان زبانوں کا ارتقا ویدک زمانے (تقریباً 1500 قبل مسیح) سے

Read more

چائلڈ میرج رسٹرین بل 25۔ 2024 اور مُلّا

  سب سے پہلے تو شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی مگر یہ بل پاس ہو گیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مائیک والے مولوی سے لے کر اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھے ہوئے سند یافتہ تک کو یہ بل بے دینی اور غیر اسلامی لگ رہا ہے۔ سوال ہے کہ کیا اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکی کی شادی پر پابندی سے دینی احکام میں کوئی خلل واقع ہو رہا ہے؟ چائلڈ میرج رسٹرین بل

Read more

فلسطینی شاعر محمود درویش کا خواب

فلسطینی شاعر، ادیب اور مفکر محمود درویش نے اپنی شاعری اور تحریروں میں آزادی، زندگی اور جدوجہد کے موضوعات کو نہایت گہرائی سے اجاگر کیا ہے ان کے الفاظ اور خیالات فلسطینی قوم کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں جہاں زندگی کی قدر اور آزادی کی طلب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ محمود درویش کا کلام فلسطینی قوم کی وہ دردناک داستان ہے جو کئی دہائیوں سے ظلم بے دخلی اور جبر کے

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (دوسرا حصہ)

فلسطین سے محبت کی سرشاری میں جب ناول میں اس دھرتی کے شعرا کا ذکر آیا، تب بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں ان نظموں کا مطالعہ کروں جو ان جری شعرا  نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس مٹی کی محبت میں اپنا قلم دکھ، درد اور رائیگانی کی سوز بھری روشنائی میں ڈبو کر، محبت سے رقم کیں۔ جن شعرا نے اپنی شاعری میں ابتدا ہی سے عرب اسرائیل تنازعے کو بیان کیا، ان میں نزار

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد: ایک مسیحا، ایک مجاہدہ

جب بھی علم و خدمت اور مزاحمت کے امتزاج کی کوئی مثال درکار ہو، جب بھی عورت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہو اور جب بھی استقامت ہمدردی اور پیشہ ورانہ شرافت کا نام لیا جائے تو ایک عورت کی شخصیت روشن ستارے کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہے۔ وہ نام محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے لمحہ لمحہ عبارت ہے۔ 21 ستمبر 1950 کو پنجاب

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

پرانی یادیں: اسکول کے سال

میں پشاور کے جس کنٹونمنٹ بورڈ ہائی سکول میں پڑھتا تھا وہ ایک لوئر مڈل کلاس طبقے کے افراد کے بچوں کا سکول تھا۔ عموماً ایسے سکول کی حالت حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے نا گفتہ بہ ہوتی تھی اور اساتذہ کا اپنا معیارِ تعلیم بھی کچھ خاص قابل ذِکر نہیں ہوتا۔ مگر میں اور میرے ہم جماعت خوش قسمت تھے کہ ہمیں چند ایسے اساتذہ ملے جنھوں نے ذاتی دلچسپی اور محنت کی بدولت اس اسکول میں

Read more

فرخ یار کا عشق نامہ

خلقت کے اجتماعی حافظے اور اس کے تخیل کی حیران کن کرشمہ سازیوں (یا کارستانیوں؟) نے جہاں گزشتہ کئی صدیوں سے شاہ حسین اور میلہ چراغاں کی رنگا رنگی کو لازم و ملزوم کر رکھا ہے وہاں شاہ حسین کی تصویر بھی بہت کچھ بدل دی ہے۔ سوال ہے کیا شاہ حسین واقعی یہی کچھ تھے : تکالیفِ شرعی سے آزاد بلکہ ان کی تضحیک و تحقیر کرنے والے، افعال شنیعہ میں مبتلا، مے نوش و امرد پرست و ہر

Read more

جاوید اقبال اعوان سے آخری ملاقات

لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل کو ہوئی۔ تقریب سے

Read more

فارغین مدارس عملی زندگی میں ناکام کیوں؟

مجھے شدّت سے احساس ہے۔ کیونکہ میں اک مدرسے کا فارغ التحصیل  ہوں لیکن ہنوز میرا تعلیمی سفر جاری ہے۔ یہاں ناکام لکھنے سے ہر جہت سے ناکامی مراد نہیں۔ بلکہ کچھ مخصوص پہلووں سے ہے۔ فارغین مدارس کی معاشی زندگی کے بارے میں عوام سنجیدہ ہیں، نہ تنظیمیں، نہ انجمنیں، نہ حکومتی اراکین۔ہم میں سے ہر اک انفرادی طور پر اک سرسری جائزہ لے تو اندازہ ہو گا۔ کسی بھی مسلکی تخصیص کے بغیر مدارس کے فارغین کرام کی

Read more

آذری احسان فراموش نہیں

آذربائیجان کی ترقی، خوش حالی اور کامرانیوں کی خبریں پڑھتاہوں تو بہت کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ہمارے قصے کہانیوں میں کوہ قاف کہلاتے پراسرار پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ ملک ہر اعتبار سے بہت خوب صورت ہے۔ وہاں جانے کا اتفاق پہلی بار 1994ء کے موسم سرما میں ہوا۔ ان  دنوں فوجی اعتبار سے اس ملک سے طاقتور آرمینیا نے آذربائیجان کے سرحدی علاقے ناگورنوقرہ باغ پر حملہ کر کے نسلوں  سے آباد آذری آبادی کو وہاں سے

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

ن م راشد اور کالا جادو

ہمارے استادِ محترم علم و ادب کی کہکشاں کے وہ روشن ستارے ہیں جن کے دامنِ فکر سے فصاحت و بلاغت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ ان کی صحبت میں بیٹھنا گویا الفاظ کی بزم میں شریک ہونا ہے۔ ان کی گفتگو ایسی خوشبو ہے جو سننے والے کے ذہن و دل کو معطر کر دیتی ہے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی کی دبیز تہہ تو ضرور ہے، مگر اس تہہ کے نیچے مزاح کی چمکدار لکیر بھی چھپی ہوتی ہے،

Read more

مختار صدیقی کی نظم ”ٹھٹھہ“ ایک مطالعہ

مختار صدیقی نے نظم ”ٹھٹھہ“ میں دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے : ایک تو آباد تہذیبوں کے ویران ہونے کا نوحہ اور دوسرا بابِ فنا یعنی موت کا ذکر۔ اور ان دونوں موضوعات کو مختار صدیقی کے ہاں بنیادی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاں مناظر فطرت کی عکاسی بھی بھر پور انداز سے نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”جہلم کا بہتا پانی“ عمدہ مثال ہے۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ زندگی کی

Read more

ستارہ رقص میں ہے

مونا شہاب کی شاعری کا تیسرا مجموعہ دیکھا؛ کتاب کا نام ”ستارہ رقص میں ہے“ پڑھتے ہی عشرت آفریں کی ایک نظم ”فرصت“ کی طرف دھیان چلا گیا۔ اس نظم میں وہ کہتی ہیں : ”میں خود پر منکشف ہونے کی ساعت میں کسی گل رنگ فرصت میں تمہیں جب یاد کرتی ہوں مرے چاروں طرف جیسے ستارے رقص کرتے ہیں زمانوں سے زمانوں تک جہانوں سے جہانوں تک محبت کے ہزاروں استعارے رقص کرتے ہیں پرندے تتلیاں اور پھول

Read more

خطۂ لاہور سے رخصتی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔ ایجوکیشن کالج لاہور سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے اور نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی میں بطور سائنس ٹیچر جاب کر رہے تھے جو کہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ہماری رہائش بھی یہیں ہوسٹل میں تھی۔ ایک شام والی بال کھیل کر کمرے میں واپس آئے تو وہاں پر ارشد کو موجود پایا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے ہماری تعلیمی قابلیت اور

Read more

رقص نامہ: پر ایک نظر

  اکیسویں صدی کے لکھاریوں میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، سید محمد اشرف، رحمان عباس، محسن خان، صدیق عالم، زیف سید، اختر رضا سلیمی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات جیسے اہم لکھاری شامل ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک نام جیم عباسی کا بھی ہے۔ جن کے اب تک دو ناول ”رقص نامہ“ اور ”سندھو“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری

Read more

اردو بازار کے بزنس ٹائیکون

شام ڈھلنے لگی تو اورینٹل کالج سے باہر نکل آیا۔ چند قدم چلنے کے بعد دائیں طرف مڑ گیا۔ کالج کی دیو مالائی عمارت داہنے ہاتھ پر تھی۔ رک کر اس مادر علمی کو آخری بار دیکھا۔ اس کا نقشہ اپنی روح میں جذب کر لینا چاہتا تھا۔ تنگ سڑکوں پر گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ پیدل چلنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ بچتا بچاتا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے بہت پہلے اورینٹل

Read more

جون ایلیا: روشنی کا مسافر

فنکار وہ ہستی ہے جو اپنی رضا و رغبت سے خود کو اپنی ذات کی آگ میں جھونک دیتا ہے، اس لیے کہ دنیا کو روشنی میسر آ سکے۔ وہ دنیا باہر کی بھی مگر پہلے اپنے اندر کی۔ اسی لیے فنکارانہ سفر سپردگی، تنہائی اور داخلی کرب کی ایک طویل داستان ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطن کے دکھ کو جمال میں ڈھال کر دوسروں کے لیے امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔ جون ایلیا کی زندگی اس سچ کی

Read more

رضی الدین رضی کی کہانی میری زبانی

ملتان آرٹس کونسل کے روح رواں محترم سلیم قیصر نے محترم شیخ رضی الدین رضی کی عمر رواں کے 60 سال مکمل ہونے پر ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ علم و ادب کی مہان ہستیوں، اساتذہ، ادیبوں، صحافیوں اور مداحوں نے شرکت کر کے تقریب کو گل و گلزار بنایا۔ یہ سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ ایسی تقریبات ہزاروں، لاکھوں نظروں سے گزرتی ہیں۔ ”شام دوستاں آباد“ نے اس کہکشاں میں اس

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین

تاریخ کو فکشن کے ساتھ جوڑ کر پڑھنا اور سمجھنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ اس لیے کہ جو سچ اکثر تاریخ کی کتب میں طاقتور حکمرانوں کی منشاء و صوابدید پر ان کے من پسند مؤرخین اپنی مرتبہ تاریخی کتب میں درج کرتے ہیں، وہ وقت کے حقیقی سچ سے مختلف و متضاد ہوا کرتا ہے۔ تاریخ گہنانے کے صدیوں سے جاری عمل میں اگر کہیں تاریخ اپنی حقیقی صورت میں دکھائی دیتی ہے تو فقط انہی ادیبوں اور شعراء

Read more

بابا بلیک شیپ کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ

میرا چھوٹا بھتیجا خوشی خوشی انگریزی نظم ”Baa Baa Black Sheep“ گنگنا رہا تھا۔ اس کے لہجے میں ایک معصوم خوشی، نرمی اور بے فکری تھی۔ نرسری کلاس کے دنوں میں ہم بھی اسی طرح جھوم جھوم کر انگریزی نظمیں گاتے تھے اور سیکھنے کے عمل کو تفریح کے طور پر محسوس کرتے تھے۔ آج، جب میں نے اس مشہور زمانہ نظم کو مکمل توجہ سے سنا، تو اس کے الفاظ میرے لیے یکایک اجنبی اور کسی حد تک چونکا

Read more

اردو ادب میں بائیو ٹیررازم کے موضوع کی غیر موجودگی

1۔ بائیو ٹیرر ازم ( حیاتیاتی دہشت گردی) یہ ایک سنگین اور خطرناک قسم کی دہشت گردی ہے جس میں خطرناک حیاتیاتی ایجنٹس (جراثیم، وائرس، بیکٹیریا، یا زہریلے مواد) کو استعمال کر کے انسانوں، جانوروں یا پودوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے، یا معاشی و سماجی نظام کو درہم برہم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں انسانی سماج کووڈ جیسی بیماری سے برسرِ پیکار رہا جس سے وبائی امراض کی تباہ کن طاقت کا

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

ایک زمانہ گزر گیا مگر میری دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس ملائم ڈھلکتے کپڑے کا لمس ابھی تک زائل نہیں ہوا جس کا تانا ایک رنگ کے ریشم کا تھا اور بانا دوسرے رنگ کے دھاگے کا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو تانے بانے میں ایک تند کتھئی سی تھی اور دوسری بادامی۔ بچپن میں رنگوں کی اتنی پہچان تو نہ تھی، یہ تو اب پیچھے کہیں دور جیسے مجھے نظر آتے ہیں ویسے رنگوں کے

Read more

ادب اور سیاست

پرانے وقتوں سے ادب نکمے لوگوں کی تخلیق کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ادب سے شغف صرف شغل کی حد تک تو ٹھیک سمجھا جاتا تھا مگر اس کو ایک کارآمد شے کے طور پر دیکھنا بھی ناممکن تھا۔ اس لئے افلاطون کی مثالی ریاست میں شعراء پر پابندی ہے۔ افلاطون کا شعراء کے ساتھ یہ سلوک محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پاس بہت سے شواہد موجود تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ اس نے دنیا کو اصل

Read more

لفظوں کی موت

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ فنا ہو جاتی ہے۔ مگر لفظ کی موت ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات کا دائرہ کار وسیع ہے۔ لفظوں کی موت سے زبان بھی آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ لیکن لفظوں کی موت کیسے واقع ہوتی ہے چلیں میں آپ کو ایک قصے سے سمجھاتی ہوں۔ ایک دن میں نے اپنے طالب علم کو اسلامیات کا سوال یاد کرنے

Read more

ڈاکٹر سنتوش کامرانی کا طلبا و اساتذہ کے لیے قیمتی ادبی تحفہ

ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر سنتوش کامرانی ڈاکٹر سنتوش کامرانی سے میرا تعارف کووڈ کی وبا کے دنوں میں ہوا جب ہم زوم پر گرین زون فلسفے کے سیمینار منعقد کر رہے تھے۔ میں شروع سے ہی ان کی قابلیت اور شخصیت سے متاثر تھا۔ دھیرے دھیرے وہ میرے دوست بن گئے۔ جب میں نے ان کے کالم ’ہم سب‘ پر پڑھے تو ان کی شخصیت کے ساتھ ان کی علمیت سے بھی متاثر ہونے لگا اور پھر ایک دن مجھے

Read more

دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ

  3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر

Read more

افسانہ ”بلا عنوان“ پر ایک سرسری نظر

  بلوچستان میں افسانوی ادب اپنے جغرافیے، سماج اور آب و ہوا سے مکمل ہم مزاج اور مماثل ہونے کی وجہ سے ہم عصر ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کثیر اللسانی ہونے کے باوجود اس خطے نے نہ صرف مقامی ادب میں اپنی مقامیت کو محفوظ کیا ہے، بلکہ اردو ادب میں بھی بلوچستانیت کو قومی سطح پر خوب متعارف کرایا ہے۔ بلوچستانیت کی اس مہم میں ڈاکٹر ضیاء الرحمن ایک بڑا معتبر نام ہے، اور ان کے

Read more

سموکنگ۔ راحتِ جاں یا عذابِ جاں

عالمی ادارۂ صحت ایک عرصے سے ٹوبیکو کنٹرول یعنی تمباکو پہ قابو پانے کی کوششوں میں سر گرداں ہے۔ اس کارِ خیر میں اس کے شریکِ کار دنیا کے 194 ممالک بھی ہیں جن کا مالی تعاون اور مدد اسے حاصل ہے۔ اب کچھ عرصے سے بعض ادارے، تنظیمیں، اور افراد عالمی ادارۂ صحت سے بھی چار قدم آگے بڑھتے ہوئے ’اینڈ سموکنگ‘ یعنی سگریٹ کے مکمل خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ سگریٹ

Read more

تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

ایوب خان کا دور، جو اکثر سنہری دور کہلایا جاتا ہے، اتنا چمک دار تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ملک میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا ایسا شور تھا کہ اگر کسی نے رات کو آنکھ کھولی تو لگا جیسے کوئی نیا صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ سڑکیں، ڈیم، صنعتیں اور وہ مشہور و معروف ”ترقی“ جو صرف چند خاص علاقوں اور خاص طبقات تک محدود تھی۔ سب ایوب خان کی حکومت کے چمکتے دمکتے کارنامے تھے۔

Read more

قرۃ العین حیدر کے ناول ”سیتا ہرن“ کا لسانیاتی جائزہ

قرۃ العین حیدر اردو ناول کی ایسی ادیبہ ہیں جنہوں نے زبان کے جمالیاتی، فکری اور تہذیبی امکانات کو ایک نیا اسلوب عطا کیا۔ ان کا ناول ”سیتا ہرن“ نہ صرف ایک تخلیقی بیانیہ ہے بلکہ زبان کی تہذیبی نفسیات، تاریخی لحن، اور علامتی اظہار کا بہترین مظہر ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ناول ”سیتا ہرن“ کا لسانیاتی تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ قرۃ العین حیدر نے زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ

Read more

مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں (5)

بیٹا  اور بہو میرے ساتھ تھے اور وہ ہر طرح سے میری خبر گیری کر رہے تھے مجھے جو کچھ کھانے کو دیتے وہ چیز مجھ سے کھائی ہی نہیں جاتی۔ خدا خدا کر کے وہ رات گزری۔ رات بھاری سہی کٹے گی ضرور دن کڑا تھا مگر گزر کے رہا دوسرے دن پھر وہی  ایکسرے، وہی سارے مراحل جن  سے پہلے گزر چکی تھی۔ ان ساری تکالیف کو برداشت کیا، نرس نے شام سے پہلے آ کر پٹیاں تبدیل

Read more

فکری دیوالیہ پن

  جاوید اختر نے جب یہ کہا کہ اگر اُنھیں پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ جہنم جانا پسند کریں گے تو اُنھوں نے محض ایک تلخ فقرہ نہیں اچھالا بلکہ اپنی اُس شناخت کو بھی مجروح کیا جس کی بنیاد پر وہ دہائیوں سے خود کو ترقی پسند اور بائیں بازو کا ہم خیال قرار دیتے آئے ہیں۔ فکری دیوالیہ پن تبھی آشکار ہوتا ہے جب کسی دانشور کے الفاظ اُس کے

Read more

دا کائٹ رنر موضوعاتی مطالعہ : پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں (حصہ اول)

  1۔ تعارف اور کہانی کا مختصر خلاصہ دا کائٹ رنر (The Kite Runner)  اس صدی کا مشہور انگریزی ناول ہے جسے افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی نے تحریر کیا۔ یہ ان کا ڈیبیو ناول تھا جو 2003 میں شائع ہوا اور فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ناول افغانستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، سماجی عدم مساوات، دوستی، غداری، ندامت اور کفارے جیسے موضوعات کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی کابل کی پرانی خوبصورتی سے

Read more

امرتا پریتم اور دکھوں کے پنجر

  ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور ہجرت پر لکھی جانے والی بعض کہانیاں ایسی سوہان روح  ہیں کہ جنھیں پڑھ کر کوئی حساس انسان سکون کی نیند نہیں سو سکتا، درد و رقت کے یہ زخم خودبخود روح کی گہرائیوں میں اتر کر آپ کا قلبی و ذہنی سکون تہس نہس کر دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جب جب سرحدی اطراف میں پھیلی نفرت کی وجوہات کا تعین کرنا چاہیں گے ہمیں تب تب تاریخ کے اس

Read more

ابھرتا ہوا ستارہ

ہم نے آندھی میں چراغوں کو جلائے رکھا اور بہر طور چراغوں کی حفاظت کی ہے جب کبھی ظلم ہوا ہے کہیں انسانوں پر ہم نے ہر ظلم کی پرزور مذمت کی ہے آج کی تحریر اس ابھرتے ہوئے ستارے کے نام جس کا عقیدہ، مذہب، عشق اور جنوں صرف اور صرف انسانیت ہے۔ جس کا جذبہ اس کی شاعری اور لگن اس کا کام ہے۔ وہ کوئی بھی کام کرتا ہے پوری ایمانداری اور دل کی لگن کے ساتھ

Read more

مثالی ٹیچر کی پہچان

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کہ میں کیوں سوچتا ہوں، میں لوگوں سے ملتا ہوں، جانتا ہوں، مجھے گفتگو کرنے کا شوق ہے، میں اجنبیوں سے بھی گفتگو کرتا ہوں، مجھے نئے لوگوں سے ملنا بھی پسند ہے اور میں پہل بھی کرتا ہوں، لیکن کبھی کبھار اندر سے آواز آتی ہے کہ شاید یہ بہتر نہیں ہے، یا شاید گفتگو کرنا ہی نہیں چاہیے بہرحال مجھے یہ آواز مسلسل یاد دہانی کرواتی ہے کہ اپنا سکون اپنے اندر ہی

Read more

وہ پاکستانی جس نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کو عام کرنے کے جرم میں 33 سال جیلوں میں گزارے

باچا خان ایک غدار یا عوام دوست؟ لڑکپن سے ہی میں ان کے بارے میں بہت سی منفی باتیں پڑھتا یا سنتا رہا ہوں۔ لیکن کافی عرصہ پہلے میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ جو کچھ بھی سنوں یا پڑھوں، اسے سو فیصد سچ اور حقیقت تسلیم نہ کروں، بلکہ اس میں شک کی گنجائش رکھوں اور خود اس پر تحقیق کروں۔ باچا خان کے بارے میں سچ کی تلاش میری مسلسل کوشش تھی کہ اتفاقاً الجزیرہ چینل

Read more

جلیل عالی : برگ و ثمر سے آگے

  میں نے اپنے مشاہدے، تجربے اور جا چکے وقتوں کی کہانیاں بزرگوں سے سُن سُن کر یہ گماں باندھ رکھا ہے کہ گزرے زمانوں میں خال خال ہی لوگ سات دہائیوں سے اوپر جاتے ہوں گے۔ ہمیں تو جو لمبی عمر پا لیتا ملتا رہا انجام بہ خیر کی دعائیں مانگتا نظر آیا۔ کمر جھک ہوئی جیسے بڑھتی عمر کی بھاری بوری کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہو۔ کردہ ناکردہ گناہوں کا احساس وہ دوسرا بھاری پتھر ہوتا جو ایسوں

Read more

نیپال میں اردو

اردو شاید دنیا کی وہ واحد زبان ہے جس نے زبانوں کے اعتبار سے نسبتاً کم عمری میں ہی بہت زیادہ ترقی کی ہے بدقسمتی سے ہندوستان کہ جہاں سے اغلباً اردو کا آغاز ہوا قیام پاکستان کے بعد بلکہ اس سے قبل ہی اسے وہاں جائز مقام نہیں دیا گیا غیر ضروری طور پر زبردستی بے شمار سنسکرت الفاظ شامل کر کے اردو کو ہندی کا نام دے دیا گیا۔ اس کے خلاف روا رکھنے جانے والے رویے کے

Read more

افغان، بھارت روابط! بھارت کی نئی جنگی حکمتِ عملی؟

6 اور 7 مئی کی درمیانی رات سے 10مئی کی دوپہر تک جنگی جھڑپیں تو بھارت اور پاکستان کے مابین جاری رہیں۔ میری تمام تر توجہ کا  مرکز لیکن امریکی صدر ٹرمپ رہا۔ 7 مئی کے روز اسے جب پاکستان کے تین اہم شہروں میں واقع مساجد اور مدارس پر میزائل حملوں کی خبر ملی تو کیمروں کے روبرو کندھا  اچکاتے ہوئے موصوف نے کمال بے اعتنائی سے اس خیال کا اظہار کیا کہ مذکورہ حملوں کے ذریعے بھارت نے

Read more

کیا پاکستان میں عورت واقعی خوش ہے؟

”پاکستان میں عورتوں کے حالات تو بہت اچھے ہیں، وہ تو خوشحال ہیں، انہیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟“ یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے۔ سنجیدہ مباحثے ہوں یا سوشل میڈیا کی بحثیں، کچھ مرد ہی نہیں، اکثر خواتین بھی یہی کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ”ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ہمارے سب حقوق ملے ہوئے ہیں“ ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر ہر سال سینکڑوں خواتین غیرت کے نام پر کیوں قتل

Read more

جنگ اور اداسی کے دن

گرمی کی رت میں یہ املتاس کے درختوں پر پیلے پھول کھلنے کے دن ہیں۔ چند روز قبل جب گلِ موہر کی سرخ بہار اپنے جوبن پر تھی، تب ہم نے سرحد کی دونوں اطراف جنم لینے والی جنگی کشیدگی کے سبب تشویش، خطروں اور پھر اندیشوں میں گھرے وہ دن بھی دیکھے کہ جن کا ذکر اب تک تاریخ کی کتب یا ادب کے فن پاروں میں پڑھتے آئے تھے، اور پھر جب سیز فائر کے نقارے پر سکون

Read more

جوہر کانفرنس کراچی، 2049

نیورو کلچرل سینٹر کا بلوری گنبد رات کے نیلے آسمان تلے روشنی بکھیر رہا تھا۔ یہ وہ کراچی نہیں تھا جسے ہم نے دیکھا تھا۔ شور و غل سے بھری سڑکیں، دھول مٹی، اور ہجوم۔ یہاں سب کچھ بدل چکا تھا۔ فضا میں اڑتے ٹرامز، بایومیٹرک درخت، اور جذبے کو پڑھنے والے سینسرز شہر کی نئی زبان تھے۔ سینٹر کی عمارت، جو خود ایک سائبر خواب تھی، کے گرد روشنی کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ ہر دیوار پر الفاظ جگمگا

Read more

اردو ادب کے معروف محقق

اردو ادب کے معروف محقق، نقاد، فکشن نگار اور شاعر شمس الرحمٰن فاروقی اُردو ادب میں اپنی پہچان آپ ہیں۔ ان کی تخلیقات کی بات کی جائے تو بیک وقت شاعری، لغت نویسی، فکشن، تنقید اور ترجمہ جیسے کئی فنوں پر ان کی کئی کتب ملتی ہیں جن میں اُردو ادب کا معروف ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ مختصر ناول ”قبض زماں“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”سوار اور دوسرے افسانے“ شامل ہیں۔ تنقید کے میدان میں ان کا سب

Read more

یونی لو وائرس ( 2 )

ایک عرصہ سوچنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ کسی سمجھدار شخص کو کیوں نہ دیکھا جائے۔ اگر وہ صرف لڑکی ہوتی تو بات ہضم بھی ہو جاتی، لیکن اس کا دلکش اور خوبصورت ہونا کچھ زیادہ ہی ناقابلِ ہضم تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہم تو ہر دوسری لڑکی کو دیکھتے ہی دیکھتے تھے اور ہر ایک پر دل بھی آ جاتا تھا۔ ”نظریں سلطانی ہوتی ہیں جو کہیں بھی جا سکتی ہیں اور دل شاہ جہاں جو کسی

Read more

عزیز دوست کے نام ایک اختلافی کالم

برادرم یاسر پیرزادہ سے رشتہ مودت پر دو دہائیاں گزر چکیں۔ اچھی دوستی کی بنیادی شرط ہم دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے یعنی مجموعہ اضداد۔ یاسر بھائی اعلیٰ سرکاری افسر ہیں، خوش شکل، خوش لباس، خوش اطوار، شگفتہ طبع، دوست نواز، مہمان نواز، صاحب مطالعہ، صاحب فکر، معاملہ فہم، صاحب طرز نثر نگار اور۔۔۔ کشمیری نژاد لاہوری ہونے کے باوصف اچھے پکوان کا ذوق ضرور ہے، اناج کے مگر دشمن نہیں ہیں۔ سررشتہ قضا و قدر نے مقدرات

Read more

پروفیسر فریدہ فیض اللہ

  ایک بار ایک حد تم نے پار کرلی اور نئی اُڑان بھر لی تو سمجھو زمین کی قید سے آزاد ہوئی اب خلا اور وقت آواز اور روشنی کی حدوں کو پار کرنا ممکنات میں ہے تخیل (پسٹن) کو بھڑکاتا ہے پہلے جذبہ اونچا اُڑتا ہے پھر راکٹ گھن گرج کے ساتھ نکل جاتا ہے درج بالا اشعار دراصل پروفیسر فریدہ فیض اللہ کی انگریزی شاعری کا ترجمہ ہے۔ پروفیسر صاحبہ کراچی کے عبداللہ کالج میں انگریزی کی استاد

Read more