پونم پریت ( افسانہ) (قسط نمبر 3 )

میرے اسلام آباد منتقل ہو جانے کے بعد بڑی ماں کو میری شادی کی تشویش ستانے لگی۔ میں ہر سال گرمیوں میں گاؤں جاتی ہوں۔ تین سال قبل گئی تو انھوں نے تین رشتے میرے سامنے رکھ دیے۔ میں ایسے موقعوں پر خاموشی سے موضوع بدل جایا کرتی تھی۔ مگر اب کی بار وہ اصرار کرنے لگ گئیں۔ میں چونکہ شادی کا ارادہ ہی ترک کر چکی تھی لہٰذا انکار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ محبت، دوستی یا کم

Read more

صدر زرداری کی حلف برداری

تقریباً تین برس قبل صحافیوں کے ”نگہبانوں“ نے محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی ایک گفتگو اپنے پسندیدہ چینل کو ”لیک“ کردی تھی۔ مذکورہ لیک آج کی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ان دنوں کے وزیر اطلاعات پرویز رشید سے ہوئی گفتگو کی ریکارڈنگ تھی۔ اس کے آشکار ہونے سے لوگوں کو پتہ چلا کہ ہفتے کے پانچ روز یہ کالم لکھ کر لوگوں کو اخلاقیات اور اصولوں کی بابت بھاشن دینے والا نصرت جاوید بذاتِ خود حکمرانوں سے ”ٹوکریاں“ لینے

Read more

پنگوں کی کتھا۔ چھٹا پنگا : کرنا پیدا میرا، سلاجیت خالص، شہر کراچی میں

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس

Read more

متشدّد اسکول ٹیچرز، ٹھرکی مُلّا اور لامذہب انڈیا

راقم کا خیال ہے کہ جینوین شاعر اور ادیب معاشرے میں جاری سوچ سے تھوڑا ہٹ کے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔ ایسا نہ ہو تو نہ تو وہ اچھی شاعری کر سکتے ہیں نہ اعلیٰ نثری ادب لکھ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اچھی شاعری اور دل کو چھو لینے والی نثر لکھی ہی اس وقت جا سکتی ہے جب دل و دماغ پہ آمد ہو رہی ہو اور آمد شاعر اور ادیب کے اپنے بس میں نہیں

Read more

پراسرار میزبان اور مجھے، آپ کی یاد آتی رہی، رات بھر

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس

Read more

9 مئی کے شرپسند

جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے پاکستان میں 14 ویں صدرمملکت کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ چاروں صوبائی اسمبلیاں اور ارکان پارلیمنٹ شام 4 بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حکومتی اتحاد کی جانب سے آصف علی زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی طرف سے محمود خاں اچکزئی آمنے سامنے ہیں۔ اظہر من الشمس کہ آصف زرداری 2 تہائی اکثریت حاصل کر کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سنی

Read more

بھوک، فاقہ کشی اور ڈپریشن، سنہرے خواب لیے کینیڈا جانے والے نوجوانوں کی زندگی وہاں کیسی ہے؟

کینیڈا میں ہر قدم پر تناؤ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی طالب علم نہیں جانتا کہ اس سے کیسے نمٹا جائے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان کینیڈا کی شہریت اور پی آر کے حصول کے لیے بھی ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں۔

Read more

دیہات میں نوجوانی کی منہ زور محبت

زمانے بیت گئے بے فصیل دل محلہ کسی فاتح کی توجہ حاصل کر سکا نہ کوئی مسافر دم بھر کو رکا۔ یادوں کی بے قفل حویلی پر نقب لگی نہ کسی مکڑی نے جالا تن کر اسے قصہ پارینہ بنانے کی جرات کی تھی۔ چٹخنی کے تکلف سے آزاد ماضی کی کھڑکی کسی مانوس چاپ پر باہر بند گلی میں کھلتی رہی، آہٹوں کے لاشے گرتے رہے، سماعتوں کے زخم رستے رہے روایات کے ماتھے پہ بل آئے نہ کھڑکی

Read more

چھوڑ دیا سگریٹ (عربی ادب سے ماخوذ)

مصنف: ابو المعاطیٰ ابو النجا مترجمہ رمثہ شاہد ہاشم نے سگریٹ کا ڈبہ نکالا اور بہت اہتمام کے ساتھ کھول کر اپنے ساتھی فتحی کو پیش کیا۔ اس کا ساتھی دوسرے کیبن میں بیٹھتا تھا اور ہاشم اکثر اس کے کے ساتھ گپ شپ کے بہانے سگریٹ کا لطف اٹھاتا تھا۔ اب بھی اس نے حسب عادت سگریٹ کا ڈبہ فتحی کی طرف بڑھایا تھا لیکن فتحی نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس کے چہرے پر واضح تذبذب دکھائی دے رہا

Read more

رول نمبر چار سو بیس

آٹھ بازاروں کی سرزمین پہ جہاں بہت اچھے دوست ملے، وہاں ایک بے جان درخت سے بھی دوستی رہی۔ دوستی سے محبت تک کا سفر کب، کیسے ہو گیا معلوم نہیں لیکن صبح اٹھتے، کمرے سے نکلتے اور رات کی اندھیر نگری میں چاند کو تلاش کرتے ہوئے جس چیز پر سب سے پہلے نظر پڑے وہ محبوب تو بن ہی جاتی ہے۔ وقت گزر گیا بس یادیں بچیں ہیں۔ میں اور میرا دوست یونی ورسٹی سے کافی دور ایک

Read more

ادب، عورت اور مرد

عین اس وقت کہ جب ایک طرف عورت مارچ چل رہا ہو، عورتوں کے حقوق پر مذاکرے ہو رہے ہوں اور اکادمی ادبیات والے فرض کفائیہ ادا کرنے کو عورتوں کے مشاعرے کا اہتمام کیے بیٹھے ہوں ادارہ اردو کا ایک سیمینار ”ادب، عورت اور مرد“ کے عنوان نے اس سوال پر رکھ لینا کہ ”صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟“ بظاہر ایک شرارت لگتا ہے لیکن جس سنجیدگی سے یہ سوال میرے سامنے رکھا گیا، اس سوال

Read more

پنڈت نہرو کا دادا کشمیری پنڈت تھا یا دہلی کا مغل کوتوال؟

دہلی کا تخت چھینا جا چکا تھا۔ لال قلعہ پہ برطانوی جھنڈا لہرا تھا۔ تحریک آزادی غدر کا نام پا چکی تھی۔ انگریزی افواج کتوں کی طرح سونگھتی مغلیہ شاہی خاندان کے افراد، ان کے بچوں، عزیز و اقارب اور ہمدردوں کو کونوں کھدروں سے بھی ڈھونڈتی سر قلم کرتی جا رہی تھیں۔ کوئی ایسا متنفس باقی نہ رہے جو کل کہاں مغلیہ سلطنت کا وارث ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ اس عتاب کا نشانہ غیر مسلم، ہندو سکھ وغیرہ

Read more

پونم پریت (2)

ہم کلر کہار کے سروس ایریا پہنچنے والے تھے۔ دونوں کو چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ میں نے پارکنگ کے کونے میں گاڑی روک دی اور پونم کو چائے وغیرہ پیش کی، ہم دونوں چند منٹ تک گاڑی سے باہر نکل کر ماحول سے محظوظ ہوتے رہے اور جب دوبارہ موٹر وے پر آئے تو چند منٹ کی خاموشی کے بعد پونم دوبارہ بولی: ”بابا کے جانے کے بعد میری طبیعت میں یاسیت اور افسردگی رہنے لگی تھی۔ کچھ

Read more

ملکہ الزبتھ اول: ’جب تین لاکھ پاؤنڈ کی مقروض مملکت کو مسلمان حکمرانوں نے تباہ کن انجام سے بچایا‘

کیتھولک سپین کے خطرے کے جواب میں ملکہ الزبتھ نے سفارتی اتحاد اور آزاد تجارتی سودوں کا ایک ’متاثر کن نیٹ ورک‘ بنایا۔ انھوں نے انگلستان کو مراکشی، عثمانی اور فارسی سلطنتوں سے جوڑا۔ 1600 تک ہسپانوی تسلط کے خلاف یہ اینگلو مسلم دیوار تقریباً 4,300 میل طویل ’مراکش سے قسطنطنیہ کے راستے اصفہان تک پھیلی ہوئی تھی۔

Read more

جوزف پینے برینن کی کہانی: آخری حربہ

مترجم: جاوید بسام۔ ”یور آنر! میں اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“ کیلتھ نے کہا۔ ایک لمحے کے لیے کمرہ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بس ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ پھر روبوٹ جج نے جواب دیا۔ ”درخواست منظور کی جاتی ہے۔“ کیلتھ نے سوچا ایک آزاد سرکٹ متحرک ہو گیا ہے۔ اپیلیں بغیر کسی استثنا کے ہمیشہ منظور ہو جاتی ہیں۔ ایک احمقانہ کوشش جس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلتا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور

Read more

رولاک: جنسی ہوس پرستی پر نفسیاتی الجھاؤ

نئی کتابوں اور نئے چہروں سے شناسائی کی خاطر ہم ہر سال لاہور کے بین الاقوامی کتاب میلہ میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ نئے مراسم قائم ہوں اور نئی تخلیقات سے آگاہی بھی حاصل کی جا سکے۔ رفاقت حیات سے بھی ہماری پہلی ملاقات اسی کتاب میلہ میں ڈاکٹر ظہیر عباس کے توسط سے ہوئی۔ ملاقات کا پس منظر بھی عجب تھا۔ کچھ یوم قبل سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں رولاک کی خبر ہوئی، اس لیے ہم

Read more

تقریظ نگاری – اپنی کتاب کی بے جا تعریف کروانا

تقریظ نگاری وہ فن ہے جس کے ذریعے کسی کتاب کا مصنف اپنی کتاب کی (بے جا ) تعریف و توصیف کسی نامور ادیب سے، اپنی دوستی، رشتہ داری، تعلق، واسطہ (یا پھر خدا کا واسطہ) دے کر، کرواتا ہے۔ اس تعریف و توصیف سے کتاب کی صحت پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے لیکن اس کی فروخت میں اضافہ ضرور ہوجاتا ہے۔ تقریظ کی تعریف اردو لغت میں اس طرح کی گئی ہے : ”مصنف کے علاوہ کسی

Read more

دھوپ چھاؤں سی۔ شمائلہ

صفحۂ ہستی پہ وارد مخلوق خدا بہ وجوہ کسی خاص مقصد، دھرتی کے سینے پہ وزن دراز ہیں۔ مخلوق خدا کے بے ہنگم اجتماع میں واحد اشرف مخلوق نے ایک طرفہ تماشا بپا کیا ہوا ہے۔ کوئی خوش تو کوئی غمزدہ، کوئی پرسکون تو کوئی بے زار، کوئی اعلیٰ تو کوئی آلہ کار۔ بعضے تو ایک جوش تغافل یا پھر تجاہل کامل کا طوفان لیے پھرتے ہیں، اور بعضے سینۂ دھرتی کی شش جہاتی تعمیر اور اسے سنوارنے سجانے کے

Read more

نفاذ اردو، کیا کیوں اور کیسے

دنیا کے کسی بھی ملک میں جب کسی بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس سے جڑے تمام رشتے، اس کی پیدائش سے متعلق تمام احساسات اور معاملات کم و بیش ایک ہی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اس بچے کی قوت گویائی کے وقت اس کے والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ سب سے پہلے امی یا ابو کہنا سیکھے اور یہاں یہ فرق واضح ہوتا ہے کہ عموماً ہر ملک کے لوگ اپنے بچے کو اپنی

Read more

44 سال بعد مرگِ یوسف کی خبر

چونکہ اس ریفرنس کے مدعی فیصلے سے مطمئن ہیں تو باقی لوگوں کو بھی مطمئن ہو جانا چاہیے۔ عام زبان میں فیصلے کی سمجھ یہ آئی کہ بھٹو کو پھانسی دینے والے کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

تاریخ کو "درست کرنا”، محض شاعری ہے

محترمہ بے نظیر بھٹو سے بطور صحافی جو رشتہ استوار ہوا اس کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری میرا احترام کرتے ہیں۔ عمر کے فرق کی وجہ سے ہم دونوں کے مابین بے تکلفی ممکن نہیں۔ موصوف کے ساتھ تنہائی میں ہوئی چند ملاقاتوں کے بعد مگر میں اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ موصوف کئی حوالوں سے وطن عزیز کی موجودہ سیاست کے لئے ان فٹ ہیں۔بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ نیک طینت انسان ہیں اور دل

Read more

آسکر وائلڈ، رحم دل شہزادہ اور امی

حیدر آباد میں گرمیوں کا موسم بہت سخت ہوتا ہے دن میں لو اور گرد کے ساتھ دھوپ، جبکہ حیدرآباد کی راتیں ٹھنڈی ہوتیں ہیں، وہی لو رات میں ٹھنڈی ہوا کا روپ دھار لیتی ہے، دن بھر کی گرمی کے ستائے لوگ رات میں پرسکون نیند کے مزے لیتے ہیں، اکثر لوگ زیادہ تر کام رات میں نپٹاتے ہیں۔ ہمارے بچپن کے دن حیدرآباد سندھ میں گزرے ہیں کیونکہ ڈیڈی کی سرکاری نوکری واپڈا میں تھی، ابتدائی تعلیم بھی

Read more

منٹو اور معاشرے کی روح کے زخم

  شہرت اور اہمیت کے لحاظ سے کرشن، بیدی، عصمت، حیات اللہ اور منٹو کے کارناموں پر نگاہ جاتی ہے، جن میں سے ہر ایک نے فکر و فن، موضوع و مواد اور انداز بیان پر قدرت حاصل کر کے اس میدان کو وسیع کیا جو پریم چند چھوڑ گئے تھے۔ منٹو کے بارے میں یوں اظہار خیال کیا گیا ہے : ” منٹو کا فنی شعور غالبا افسانہ نویسی کے لئے سب سے زیادہ موزوں تھا۔ اس میں ایک

Read more

ڈاکٹر امجد طفیل کی تنقیدی بصیرت پر ایک نظر

ڈاکٹر امجد طفیل کا عمر بھر کا تنقیدی سرمایہ، جو گزشتہ چالیس سال میں وقفے وقفے سے مختلف مضامین کی صورت میں ظہور کرتا رہا ہے ؛ اب سنگ میل سے پانچ کتابوں کے لگ بھگ اٹھارہ انیس سو صفحات کے مواد کے ساتھ ہمارے سامنے ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ ہم عصر اردو افسانہ: اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں نظری مباحث بھی ہیں اور اس صنف کے

Read more

نینا عادل کے ناول مقدس گناہ پر ایک نظر

اردو ادب میں ناول نگاری کی تاریخ اتنی پرانی نہیں ہے۔ 1869 ء میں لکھے گئے مولوی نذیر احمد کے ناول ”مراۃ العروس“ کو اردو کا پہلا مستند ناول خیال کی جاتا ہے لیکن کچھ محققین کی نظر میں مولوی کریم الدین کے ناول ”خط تقدیر“ کو اردو میں لکھا جانے والا پہلا ناول سمجھا جاتا ہے جو 1862 ء میں لکھا گیا تھا۔ بعض نقادوں کی نظر میں یہ دونوں حقیقی ناول نہیں بلکہ تمثیلی کہانیاں ہیں، ان کے

Read more

یوم خواتین: ”یکساں ہے حق جینے کا“

خواتین کا عالمی دن قریب ہے۔ آج کوئی بھی باشعور شہری اس دن کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ جدید ٹیکنالوجی کی تمام تر ترقی کے باوجود ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں پر قدامت پرستانہ سوچ کے سبب اس دن کو بھی مغربی ایجنڈا کہہ کر رد کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کے حقوق اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پروگرامز صرف بڑے شہروں کا خاصہ ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز

Read more

ہمارا جغرافیہ ( مزاح)

حدود اربعہ : دیس کے مشرق میں اقتدار کا سمندر ہے اور مغرب میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے ہیں۔ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ مایوسیوں کے کالے باغ بھی قابل ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہ گراں اور ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے صحت

Read more

کنفیوشس

جب انسان زندگی میں مختلف لوگوں سے ملتا ہے، مختلف ماحول سے گزرتا ہے، سیر و تفریح کے لئے سفر کرتا ہے، یا کتابیں پڑھتا ہے، اس کی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دنیا کے متعلق اس کے اپنی نظریات بن جاتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں موجود یا گزرے ہوئے لوگوں سے وہ متاثر ہوجاتا ہے۔ ان کے لئے کچھ لوگ ان کے آئیڈیل بن جاتے ہیں۔ وہ ان کی گزری زندگی سے متاثر ہوتا

Read more

ارشاد حقانی سے ارشاد بھٹی تک

یوں تو ہمارے جیسے ہر ڈھلتی عمر کے شخص کو لگتا ہے کہ ”ہمارا زمانہ اچھا تھا“ اور ہمارے ہاں تو قومی شعراء کے ذریعے باقاعدہ ماضی پرست بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ اس سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ بعض شعبوں میں واقعی ایسے ہیں جن میں نے ترقی کی بجائے تنزلی کا سفر بہت تیزی سے کیا ہے۔ چونکہ تمام شعبوں پہ بات کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں لہذا آج ہم صرف صحافت

Read more

ایک عالمی درویش،مقامی فقیر کے کوچے پر

میری خوش قسمتی ہے کہ میری زندگی میں علم و ادب کی دولت سے مالا مال ایسے لوگ شامل ہیں جن کا مقصد انسانوں کی خدمت کرنا اور ان کی بہتری کے لیے سرگرم عمل رہنا ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں سے ایک شخصیت نامور ماہر نفسیات، شاعر اور ادیب ڈاکٹر خالد سہیل ہیں۔ جن سے میرا تعلق گزشتہ تین سالوں سے ہے، لیکن اس سے قبل بھی میں نے ان کی تحریریں پڑھ رکھی تھیں لیکن ان سے باقاعدہ گفتگو کا آغاز تین سال قبل ہوا۔ اس کے بعد یہ تعلق ادبی دوستی سے مضبوط ہوا اور اب ایک رشتے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

Read more

پونم پریت ( افسانہ)   (قسط نمبر۔ 1 )

پونم سے میری پہلی ملاقات اسلام آباد میں مصوری کی ایک نمائش میں ہوئی تھی۔ نیشنل آرٹ گیلری میں سجائی گئی اس نمائش میں تجریدی آرٹ کے ذریعے لوک داستانوں کے رومانوی مناظر پر بہت باریک کام تھا۔ ایک کونے میں تجریدی فن کے ذریعے پریمیوں کے مختلف آسنوں کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ یہ درجن بھر فن پارے پونم پریت کے تھے۔ مصورہ کی تخلیقی صلاحیت، رنگوں کی زبان اور بے باکی نے مجھے اس کی طرف پہلی دفعہ مائل کیا۔ علیک سلیک کے بعد میں نے اس کو کوہسار مارکیٹ میں کافی پینے کی دعوت دے ڈالی۔

دو چار ملاقاتوں میں پونم کی شخصیت کے مزید پہلو سامنے آئے۔ وہ قریب ستائیس اٹھائیس برس کی ہوگی۔ گندمی رنگ، دراز زلفیں، پانچ فٹ قد سے ذرا اوپر قد، صراحی دار گردن، مست و بیدار آنکھیں اور بھر پور نسوانی حسن کی حامل پونم خوبصورت سے زیادہ پر کشش تھی۔ اپنا لباس خود ڈیزائن کرتی تھی، اکثر کرتہ پائجامہ پہنتی مگر موسم اور موقع کے مطابق شلوار قمیض، پائجامہ یا جینز اور شرٹ بھی پہن لیتی تھی۔ دوپٹہ یا سکارف وغیرہ سے بے نیاز ہونے کے باوجود اس کا پہناوا سادگی، وقار اور جدت کا دلکش امتزاج ہوتا۔ وہ عموماً کول واٹر ’پرفیوم‘ استعمال کرتی جس کی دھیمی، ٹھنڈی اور تازہ خوشبو اس کے قریب رہنے کی ایک امنگ سی بیدار کر دیتی تھی۔ اس کا شمار ان خواتین میں کیا جاسکتا ہے، جو انسان کے اندر سے اس کے بہترین اوصاف باہر نکال لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

Read more

کتاب ”اجالا“ اور صاحب کتاب پر تبصرہ

میں نے آنکھ کھولی تو اسکول کی الف بے سے پہلے ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے فلمی و غیر فلمی گانے مجھے ازبر تھے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کے ناتے نہ صرف سب کی آنکھوں کا تارا تھا بلکہ ان کے لئے ایک جیتا جاگتا کھلونا تھا۔ والدین سمیت تمام گھر والے گانوں کے شوقین تھے۔ مجھے گانے یاد کروائے جاتے اور پھر سب سن سن کر خوش ہوتے۔ بچپن سے ہی ریڈیو پاکستان کراچی کے بچوں کے پروگرام میں شرکت کرتا رہا۔ مزے کی بات یہ کہ گانوں کے ساتھ مجھے ان کے شاعروں اور موسیقاروں کے نام بھی یاد ہوتے تھے۔

Read more

ننھا شہزادہ

ادب کے کسی قاری نے جب تک انگریزی، فرانسیسی، روسی اور یونانی ادب کا مطالعہ نہیں کیا ہو تو وہ کوئی سنجیدہ قاری نہیں ہو سکتا۔ اتنا عرصہ ادب سے جڑے رہنے کے باوجود بھی جب کوئی پرانی کتاب پڑھنے کو ملتی ہے تو میں دھنگ رہ جاتا ہوں کہ جو ادب مغرب میں پچاس ساٹھ سال پہلے تخلیق ہوا ہے ہم آج بھی اس سٹینڈر کا ادب تخلیق نہیں کر پائے ہیں۔ اس کے وجوہات کیا ہیں وہ ایک الگ بحث ہے۔

کچھ دن پہلے ایک فرانسیسی ناول نگار آنتون دی سینٹ ایگزیوپیری کی ناول ”ننھا شہزادہ“ پڑھنے بیٹھ گیا تو میں حیران رہ گیا کہ جو کتاب 1946 میں چھپ چکی ہے، جس طرح اس ناول میں انسانی مزاج اور نفسیات کو بیان کیا گیا ہے ہم آج بھی ان موضوعات پہ بہت کم سوچتے ہیں۔

Read more

ادب محبت کا ایندھن ہے

ہمیں عام طور پر یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ ہم ایج آف آٹومیشن کے بچے ہیں۔ کبھی یہ اطلاع، کبھی طعنہ تو کبھی خوبی ہے۔

ادب کرنے کی روایت چاہے جتنی بھی آؤٹ ڈیٹڈ ہو، ہم سے نہیں چھوٹے گی ؛ دلزیب روایات کی امین نسل صد شکر ہم سے ابھی زیادہ دور نہیں گئی، یہ ہمارے والدین ہیں اور وقتاً فوقتاً ہمیں یاد بھی دلاتے ہیں کہ ہم جہاں بھی چلے جائیں اور جتنے بھی بدل جائیں مگر کچھ چیزیں ہماری پہچان ہیں اور اپنی پہچان کو نہیں کھونا ہے۔

Read more

ایکسپوژر۔ شارجہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والا عکس بندی کا بین الاقوامی میلہ 2024

شارجہ میں بسنے والے اور اس شہر کی ادبی اور ثقافتی فضا کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں ہر آن کسی نہ کسی ایسی تقریب کا اہتمام رہتا ہے کہ جس سے ادب و فن سے تعلق رکھنے والے حساس دلوں کی تسکین کا سامان رہتا ہے۔ اس سال فوٹو گرافی اور سینماٹوگرافی کے آٹھویں ایڈیشن کا آغاز بھی شارجہ ایکسپو سینٹر میں 28 فروری 2024کو حسب روایت شاندار انداز میں کیا گیا۔

Read more

یونان: بحیرہِ روم کی ہم جنس پرستوں کے لیے قدیم دوستانہ تہذیب

ایتھنز میں ایل جی بیٹی کیو پلس کمیونٹی کے لیے سرگرمی کے بارے میں ہینڈز پوائنٹ اہم ہے۔ ’یونان ایک قدامت پسند ملک ہے، آپ خاندان اور خاندانی اقدار کی لگام محسوس کرتے ہیں، جو کہ عجیب و غریب لوگوں کو پابند کرتے ہیں۔

Read more

اِک ذرا صبر کہ اِس جبر کے دن تھوڑے ہیں

اِس جوان کا والد پاکستان میں ایک علمی اور ادبی تشخص کا حامل انسان تھا جس نے ریڈیو ’ٹیلی ویژن‘ اخبار ’جرائد‘ رسائل ’کتابوں اور زبانی محافل کے ذریعے پاکستان کے مختلف طبقات اور کئی نسلوں کو ادب سکھایا‘ زبان سکھائی ’شاعری سکھائی‘ بولنے کا سلیقہ سکھایا ’محبت کا قرینہ بتایا‘ امن کا سلیقہ سکھایا اور زندگی کے آٹھ عشرے اسی خدمت میں صرف کر دیے۔ اگرچہ اس کے والد کی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان

Read more

گلگت بلتستان کا انمول تاریخی و ثقافتی ورثہ

ملک کے ایک موقر اخبار کی خبر ہے کہ واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم کی زد میں آنے والے آثار قدیمہ، چٹانوں پر کی گئی نقش و نگاری اور کندہ کاری کو محفوظ کرنے کے لئے ایک پرائیویٹ کمینی کے ساتھ ساڑھے چار کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کمپنی آٹھ ماہ کے اندر ڈیم کی سائیٹ پر موجود کندہ کاری کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے دستاویزی اور تھری ڈی فلم کی شکل میں محفوظ کرے

Read more

اصول انتقادیات ادبیات – ایک تنقیدی جائزہ: جابر علی سید

ڈاکٹر انیلا سلیم اورینٹل کالج سے تعلق رکھنے والی استاد محقق و نقاد ہیں۔ ایچ ڈی کی ڈگری ”جابر علی سید حیات اور ادبی خدمات“ کے عنوان سے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی زیر نگرانی مقالہ لکھ کر اوریئنٹل کالج لاہور سے ڈگری حاصل کی۔ جابر علی سید کے فن و فکر اور ادبی کارناموں کے حوالے سے اب تک ان کی دو کتب ”اصول انتقادیات ادبیات ایک تنقیدی جائزہ از جابر علی سید“ ترتیب و تدوین کے حوالے سے اور

Read more

ریاست کے وہی ہتھکنڈے، وہی اپنی جگ ہنسائی

پچھلے دو سال سے ہم خواب دیکھنے والے جس خبط میں مبتلا تھے اس کا ایک تاریک پہلو ابھی تک ہماری نظروں سے اوجھل تھا یا ہم خود ہی اس پر نظر ڈالنے سے ہچکچا رہے تھے۔ اس عرصے میں ہم نے سوشل میڈیا کے طفیل تیز رفتار پیغام رسانی کی مدد سے شعور کے اس درجے تک رسائی حاصل کی جس نے 8۔ فروری کے انتخابات کو یکسر ایک نیا رخ دے دیا۔ آلکس کے مارے، سست الوجود اور

Read more

پاکستان میں اردو افسانہ

مجھ سے ملنے والے اکثر نوجوان جو افسانہ لکھنا چاہتے ہیں، یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کوئی ایک کتاب بتائیے کہ ہم اردو افسانے کا سفر جان لیں۔ اگرچہ یہ سہل انگاری مجھے پسند نہیں اور ایسا سوال کرنے والوں کی بابت شک میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ افسانہ نگاری ایسے نوجوان کی پہلی ترجیح ہے بھی یا بس گھومتے گھماتے ادھر آ نکلے ہیں اور اسے تخلیقی سطح پر اپنے وجود کا مسئلہ بنانے کی بجائے محض

Read more

انتہاپسندی کا عفریت

جس معاشرے میں علم کے بجائے جہالت کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ وہاں عربی خطاطی پر مبنی ڈیزائن کو لوگ آیت قرآنی نہ سمجھیں تو کیا سمجھیں۔ اہل علم ہی نہیں، عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ عربی ایک زبان ہے۔ جس میں عام زبانوں کی طرح شاعری اور گیت بھی ہوتے ہیں اگر عربی لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو لوگ قدیم اردو شاعری کے رموز عشق اور غزلوں کو بھول کر عربی عشقیہ شاعری کا اردو ترجمہ

Read more

حلوہ اور عمومی رویہ

پچھلے کچھ دنوں سے ہر جگہ پہ ایک ویڈیو وائرل تھی کہ ایک عورت جس نے عربی کیلیگرافی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس پہ حلوہ لکھا ہوا تھا جس کو دیکھتے ہی کچھ حضرات بھڑک اٹھے اور انہوں نے کہا جی ان کے کپڑے چینج کروائے جائیں۔ پولیس آئی اور ایک ڈرامہ برپا ہوا۔ پولیس کا اس معاملے کا اچھی طرح سنبھالنا قابل تعریف عمل ہے۔ اور کچھ لوگوں کے مطابق یہ پولیس کی حیثیت کو بہتر کرنے کے

Read more

عربی رسم الخط والا عبایہ اور مشتعل ہجوم

جب سے لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے تب سے میرے مائنڈ میں ایک ہی چیز چل رہی ہے کہ کیا یہ بھی لاقانونیت کے پچھلے کئی دلسوز واقعات ہی کی طرح وکٹم بلیمنگ کی نذر ہو کر میری مادر گیتی کے ماتھے پر کلنک کا ایک مزید ٹیکا ثابت ہو گا۔ ایمن امرتسری نے نہ جانے کس پس منظر میں یہ شعر کہا ہو گا کہ رنج و راحت ایک سے ہیں مجھ کو مثل

Read more

میرا باس

جنوں پریوں کا گانا (4) ’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص) ’استاد سلامت

Read more

ریسکیو 1122کے زندگیاں بچانے والے مسیحا

کچھ عرصہ پہلے میرے ایک قریبی عزیز کو سر شام قدرے غیر آباد راستے میں چند آوارہ اور مسلح لڑکوں نے واردات کے دوران ریوالور کے بٹ مار کر شدید زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ میرا عزیز اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا اس نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے ریسکیو 1122 پر مدد اور طبی امداد کے لئے اپنے موبائل فون جو کہ خوش قسمتی سے ان جرائم پیشہ اناڑی لڑکوں کے

Read more

پنجاب کی وزارت اعلی: کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہو چکی مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلٰی منتخب ہو گئی ہیں۔ وہ پہلی دفعہ براہ راست اقتدار میں آئی ہیں، اس سے پہلے انہیں گورننس کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ مریم نواز شریف 28 اکتوبر 1973 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم کانونٹ آف جیسس اینڈ میری اسکول سے حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا۔ 1992 میں وہ کیپٹن (ر) صفدر کے

Read more

حلوہ۔ سر تن سے جدا

حلوہ کا جلوہ تو سب نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کیسے ملا حلوہ لکھا دیکھ کر آپے سے باہر ہو گئے، پاکستان میں سوجی، گاجر، بیسن، پیٹھا، دال و دیگر اشیاء سے بنائے گئے میٹھے کو حلوہ کہا جاتا ہے، پاکستان میں حلوہ ملا کی مرغوب غذا ہے، زمانہ قریب میں یا شاید موجودہ دور میں بھی مسلمان اپنے عزیزواقارب کی روح کے ایصال ثواب کے لئے روٹی اور حلوے پر ختم دے کر اسے مسجد کے ملا کو

Read more

پابلو نیرودا کی دوسری موت

مصنف: مارسیلا میچکوفسکی، مترجم فرقان علی خان اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ چلی جیسا ملک اپنی حالیہ تاریخ کے لحاظ سے گہرا پولرائزڈ ہے اور اپنے ممتاز شاعر پابلو نیرودا کی مطابقت پر بھی جنگ میں ہے۔ دسمبر میں، فوجی بغاوت کے پچاس سال بعد جو جنرل کو لایا آگسٹو پنوشے اقتدار میں آنے کے بعد ، چلی کے باشندوں نے آمر کی حکومت کے ذریعے اختیار کیے گئے بھاری ترمیم شدہ آئین کو تبدیل کرنے

Read more

پی ڈی ایم پارٹ ٹو: بند گلی میں

سوشل میڈیا پر ایک میسج خوب گردش کر رہا ہے۔ لکھا ہے! ‏مبارک ہو وعدے کے مطابق 300 فری یونٹ بلاول 200 فری یونٹ مریم نواز 300 فری یونٹ علیم خان ٹوٹل 800 یونٹ فری مارچ سے بجلی کے بل کی پریشانی دور ہو جائے گی پیارے پاکستانیوں۔ یہ وائرل پوسٹ شیئر کی جسے پڑھ کر مسکراہٹ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ صورتحال یہ ہے کہ فری یونٹ دینے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے تمام

Read more

حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو ”مابعد جدید مطالعہ ایک تعارف

ڈاکٹر نعیمہ بی بی کی تحریر کردہ کتاب ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ کا مابعد جدید مطالعہ، اردو شعر و ادب میں فکشن کا تنقیدی سرمایہ اور تجزیاتی مطالعہ نہ صرف یہ کہ اس کی فکری زرخیزی کو ابھارتا ہے بلکہ تنقید میں وسعت اور ہمہ گیری بھی پیدا کرتا ہے۔ مصنفہ کا رجحان مابعد جدید فکشن اور تکنیک کے مباحث کی طرف رہا ہے، مصنفہ کو اردو ناول میں تخصص حاصل ہے اور وہ مابعد جدید

Read more

اچھرہ کی مظلوم خاتون اور پروفیسر شیر علی کی معافی کے مابین مماثلت۔

کیا اس سرزمین پر باشعور ہونا جرم ہے؟ کیا اپنی انفرادیت کا کھلے عام اظہار گناہ ہے؟ کیا اپنی فکر کو تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کرنا ناقابل معافی جرم ہوتا ہے؟ یہاں جو عقل و شعور کی بات کرے اسے دائرہ انسانیت یا مذہب سے خارج کرنے کی باتیں کیوں شروع ہو جاتی ہیں؟ کیا مذہب و فرقہ انسانیت سے بالاتر ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی زبان اتنی مقدس ہو سکتی ہے کہ اس کے تحفظ کی

Read more

حضرت خواجہ عبدالخالق گوجدوانی اور سلطان عثمان غازی

حضرت خواجہ عبدالخالق گوجدوانی قدس سرہ 12 ویں صدی عیسوی کے نامور اولیائے اکرام میں سے ایک تھے۔ آپؒ حضرت امام مالکؒ کی نسل سے تھے۔ آپؒ کے والد حضرت عبدالجمیلؒ بھی ایک ولی اللہ اور عارف تھے۔ آپؒ کا پایہ و مرتبہ بہت بلند تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آپؒ کی حضرت خضر علیہ السلام سے دوستی تھی اور اکثر ان سے گفتگو اور بات چیت کیا کرتے تھے۔ آپؒ کے والد حضرت عبدالجمیلؒ بارہویں صدی کے اوائل میں

Read more

سندھ میں تعلیم کے شعبے کو توجہ کی ضرورت ہے

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں اب کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہوں نے اپنے ممبران سے مخاطب ہو کر یہ بات کی ہے۔ ٰ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین کی طرف سے پہلی بار اس بات کو سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اگر پارٹی میں یہ احساس ہے تو مثبت بات ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے شہید بینظیر بھٹو 2007 میں یو اے ای میں اپنے پروگراموں میں اس بات کا ذکر کیا

Read more

وہ اک شام جو ٹھہر گئی (طنز و مزاح)

کہا جاتا ہے کہ زندگی کے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ تمام عمر کے لیے ساکن ہو جاتے ہیں اور کچھ شامیں ٹھہر جاتیں ہیں۔ مگر مجھے یہ جملہ کبھی سمجھ نہ آیا کہ شام ٹھہر جانے کے کیا معنی۔ میں اکثر یہ بڑ ہانکا کرتا تھا کہ ”بھئی کوئی سر پھرا فلاسفر ہو گا جس نے یہ گپ اڑائی ہو گی“ ۔ پھر یوں ہوا کہ ایک شام آئی، آئی کیا ٹھہر گئی اور ریشے ریشے میں ہلکے

Read more

حکیم فخر عالم کی نادر تالیف۔ ”طبی اخلاقیات“ پر ایک نظر

شعبۂ کلیات، اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ ای میل:ashharkulliyat@gmail.com موبائل نمبر: 9891918622 کتاب کا نام : طبی اخلاقیات مؤلف : حکیم فخر عالم صفحات :234 مطبوعہ : 2023ء قیمت : 150 روپے شائع کردہ : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی ”طبی اخلاقیات“ سے معنون حکیم فخر عالم صاحب کی یہ کتاب اطبا کے کردار، عادات و اطوار سے بحث کرتی ہے۔ موضوع کی تمہید یوں ہے کہ فن طب اشرف المخلوقات حضرت

Read more

ماہنامہ بچوں کی دنیا کے 75 سال

پاکستان سے شائع ہونے والے بچوں کے رسائل میں سب سے قدیم رسالہ تعلیم و تربیت ہے، جو مارچ 1941 ء سے مسلسل شائع ہو رہا ہے، پاکستان کا دوسرا قدیم ترین رسالہ محمد امین شرقپوری کا جاری کردہ ماہنامہ بچوں کی دنیا ہے، جو 1948 ء سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کے بانی محمد امین شرقپوری 1912 ء میں شرقپور میں پیدا ہوئے، شرقپور ہی سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی، بیس سال کے تھے تو دہلی جا

Read more

نیو کالونیل ازم اور لاہور میں خاتون پر حملہ آور کی ذہنیت

پاکستان میں مذہبی منافرت کی جڑیں برطانوی سام راج کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، مذہب کا کالونیل استعمال ملکہ برطانیہ کی سرپرستی میں کیا گیا، لڑاؤ اور حکومت کرو کا کالونیل منصوبہ کامیاب رہا برطانوی سام راج نے مذہبی شدت پسندی کو دوام بخشنے کے لیے دھرتی کا سینہ چیر کر انسانوں کے خون سے سرحدی لکیریں کھینچ دیں۔ یہ سرحدی لکیریں دونوں اطراف برابر آگ لگائے رکھتی ہیں۔ پاکستان کے مسلمان کو پاکستان کے مسلمان سے ہی جان

Read more

مزاح اور ماحولیات

”ماحولیات“ سے کیا مراد ہے؟ اپنے اس سوال کی سادگی پر پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون ”ہوسٹل میں پڑنا“ یاد آ گیا ہے جس میں ایک ”ہونہار“ فرزند سے اس کا والد استفسار کرتا ہے : ”تمہارا ‘شخصیت’ سے آخر مطلب کیا ہے؟“ بات ادھوری رہ جائے گی اور اثر بھی زائل ہو جائے گا، اس لیے پدر و پسر کے مابین یہ مکالمہ پطرس بخاری ہی کے الفاظ میں بیان کرنا مناسب ہو گا: ”میں تو خدا سے یہی

Read more

خبر، افسانہ اور شاعری

خبر غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ افسانہ بھی غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ فرق حقیقی اور غیر حقیقی کاہے لیکن اس فرق کی دھجیاں افسانے کی اس تعریف نے اڑا دیں کہ افسانے کے واقعات و کردار غیر حقیقی ہوتے ہوئے بھی حقیقی اور حقیقی ہوتے ہوئے بھی غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ شعر کی جس تعریف نے حال ہی میں دماغ کو چھوا وہ یہ کہ شاعری ضابطۂ حیات ہے یہ جینے کی اصول سکھاتی ہے۔ اس تعریف

Read more

اسلام خطرے میں ہے؟

ستانوے کی بات ہے میں ریلوے روڈ پر واقعہ مرکزی جامعہ مسجد سے نماز پڑھ کر جیسے ہی جی ٹی ایس چوک کی طرف موڑا تو چند قدم آگے دائیں طرف موجود باریش لوگوں کے ایک گروہ نے مجھے روک لیا۔ پہلے بھی چند لوگ ان کے پاس رکے ہوئے تھے اور متفکر نظر آرہے تھے۔ میرے پاؤں کی طرف غور سے دیکھتے ہی ایک نوجوان نے بلند آواز سے کہا کہ یہی ہے وہ۔ اس فقرے سے باقی لوگوں

Read more

ایڈورڈ سعید: ایک نبض شناس

مصنف: مصطفیٰ بایومی، مترجم فرقان علی خان جیسے جیسے غزہ میں جنگ چھڑ رہی ہے، اسکالر اور کارکن کے الفاظ قابل قدر محسوس ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ 2003 میں اپنی موت کے 20 سال بعد ، ایڈورڈ سعید۔ ایک ایسا شخص جو مختلف طور پر اپنی شاندار ذہانت، سیاسی وکالت، موسیقی کی عمدہ صلاحیتوں، اور فیشن کے سنجیدہ احساس کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس بار، سعید کے الفاظ اور موجودگی غزہ

Read more

باغی عورتیں

20 دسمبر 2020 کی خنک دوپہر کریمہ بلوچ نے اپنا گرم کوٹ پہنا اور حسب معمول اپنے شوہر کی طرف مسکرا کر بولی ”تھوڑی چہل قدمی کر کے آتی ہوں“ ۔ خوبصورت چہرے اور چمکتی ہوئی آنکھوں والی کریمہ اکثر جھیل کے کنارے گھنٹوں ایسے ہی وقت گزارتی تھی۔ شاید یہاں اسے تربت کی ساحلی پٹی سے کوئی نسبت محسوس ہوتی ہوگی۔ یہ کریمہ کی زندگی کی آخری دوپہر تھی۔ اچانک صفحہ ہستی سے غائب ہو جانے کے دو دن

Read more

مقامی علمی ادبی اور ثقافتی سرمائے کی عالمی پہچان

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے زیر اہتمام ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بہ طور مہمان خصوصی شرکت کے لیے آپ نے یاد فرمایا تو مجھے کانفرنس کے نئے موضوع کو دیکھ کر اچھا لگا ورنہ جامعات میں لگے بندھے موضوعات پر اوروں سے اخذ شدہ باتیں اور مرعوب کرنے کو درآمدی اصطلاحات کی تکرار ہی سننے کو ملا کرتی ہے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز ڈاکٹر

Read more

کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم

منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے : ”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔” فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ

Read more

فروغ فرخزاد: ایرانی شاعرہ جن کی تصانیف شہوت انگیز اور مخرب اخلاق کہہ کر تہران کے چوک پر نذر آتش کی گئیں

تاہم اردو دنیا میں پروین شاکر اور فروغ فرخزادہ کا موازنہ کیا جاتا ہے لیکن فروغ کے بارے میں مغربی دنیا جتنا جانتی ہے اور انھیں عالمی ادب میں جو پذیرائی حاصل ہے وہ پروین شاکر کے حصے میں نہ آ سکی ہے۔

Read more

نیل کے ساحل پر کچھ دن اور

ہرم خوفو کے اندرونی حصے کی مہم جوئی کے بعد تجسس تمام ہو چکا تھا۔ یہ تجسس ہی ہوتا ہے، جان لینے کی جستجو، سر کر لینے کی خواہش، جو کسی بھی مہم جو کو مہمیز کرتی ہے۔ بقیہ دو اہرام جن کے بارے میں شنید تھی کہ تنگ تر ہیں، انہیں اندر سے جان لینے کی کوئی جستجو باقی نہ رہی۔ لہذا تانگے بان کو واپس چلنے کو کہا۔ گھوڑے کی ٹاپ اور تانگے کے ہچکولوں نے پیچھے بہت

Read more

آزاد میرا تتلیاں ورگا

مجھے بتایا گیا کہ پنجابی سیکھنے کے لئے پنجابی شاعری پڑھیں، پنجابی پروگرام دیکھیں اور پنجابی گانے سنیں۔ پنجابی شاعری پڑھنا تو فی الحال میرے بس کا روگ نہیں ہے تو میں نے پنجابی گانے سننا ذرا دلچسپ جانا تو مجھے ریفر کیے گئے پنجابی گانوں میں سے ایک کی موسیقی مجھے کافی اچھی لگی۔ مما کے فون میں گانوں کے جو کلپس ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر وڈیوز نہیں ہوتی تو مجھے اس کی شاعری کی کوئی خاص

Read more

ملکو کا گیت اور اہل یوتھ

سال 2023 ء اختتام کو پہنچے ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ہم نے 2023 ء میں کیا کارنامے سرانجام دیے۔ پچھلے سال ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ یہ باتیں ایک طرف رکھتے ہوئے معمول کے موضوعات پر بات کر لیتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل جس کی ذہن سازی حسب معمول ایک اداکار نے کی پاکستانی سیاست اور سماج پر غالب نظر آتی ہے اپنے اندر تعمیر وطن کی بجائے محض شور شرابے پر یقین

Read more

مقامی زبانوں کا تحفظ کیوں ضروری؟

(کلیدی خطبہ: افتتاحی تقریب، پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ۔ 16 فروری، 2024 ) تقریباً چالیس برس پرانی بات ہے، بی اے کی فلسفے کی کلاس میں، میں اپنی پروفیسر صاحبہ سے اس بات پر الجھ پڑی تھی کہ خیال لفظ کا محتاج نہیں بلکہ لفظ سے ماورا کوئی شے ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میرے ذہن میں ایسے ہزاروں خیالات ہیں جنھیں بیان کرنے کے لیے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ پروفیسر صاحبہ نے بہتیرا سمجھایا

Read more

چیخوف کے ناولٹ ”تین سال“ کا کرداری مطالعہ (قسط 02 )

فیودر استیپانچ بھاری پاٹ دار آواز کا حامل ایک اسی سالہ خود پسند بوڑھا شخص ہے جو عورت اور مرد کو برابر نہیں مانتا۔ اس کا ثبوت وہ یوں دیتا ہے کہ اپنی بیٹی کو بیٹوں کے برعکس نہ ہی سکول بھیجتا ہے اور نہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ اس بات پر خفا نظر آتا ہے کہ اس کے بیٹے الکسئی فیودرووچ نے شادی کرتے وقت باپ سے اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ یہ ایسا

Read more

ضمیر نامہ

وطن عزیز میں ان دنوں سوتے، جاگتے اور اونگھتے ہوئے ضمیروں کے خوب چرچے ہیں۔ ضمیر سے مراد باطن، قلب، اخلاقی آگاہی اور خیر و شر میں تمیز کرنے کی حس ہے۔ انگریز لوگ اسے conscience کہتے ہیں۔ ہر شخص کے اندر ایک عدد ضمیر ہوتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ جی چاہا تو جاگ لیا، جی چاہا سویا کیا۔ قوم کے ہر فرد کا ضمیر اپنے تئیں بیدار اور زندہ ہوتا ہے

Read more

کچھ الٹا سلٹا لکھیں یوں سب سیدھا سیدھا ہو جائے

میں نے آج اک کتاب آ مین سرچ فارمیننگ شروع کرنے کا ارادہ کیا تو وقت میسر ہونے پر کمرے کا رخ کر لیا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ یہ کتاب ہولوکاسٹ کے دوران اک قیدی کی روئیداد ہے جس نے اپنی قید کے دوران یہ جانا کے زندہ رہنے کے لئے مقصد حیات کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کسی انسان کے پاس ایسا کوئی مقصد حیات موجود ہے تو وہ کٹھن سے کٹھن حالات سے آسانی سے

Read more

پہلوان سخن سے بناکا گیت مالا اور ”ایکس“ تک‬

اردو شعر و ادب سے ذوق رکھنے والے احباب کے لیے شیخ امام بخش ناسخ ملقب بہ پہلوان سخن کا نام اجنبی نہ ہو گا۔ آپ اردو کے کلاسیکی شعراء میں اہم مقام کے حامل ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فیض آباد میں پیدا ہوئے اور انیسویں صدی میں لکھنو میں انتقال ہوا۔ ان کی سوانح سے پتا چلتا ہے کہ کسرتی بدن اور جسمانی ورزش کے شوق کے سبب فن پہلوانی میں اچھا خاصا درک رکھتے تھے۔ اردو شاعری کی

Read more

”پاپا“ ناجی صاحب

غلطی سے انہیں گفتگو کی روانی میں ”ناجی صاحب“ پکارتا تو خفا ہوجاتے۔ میز پر ہاتھ پٹختے ہوئے بلند آواز سے یاد دلاتے کہ ”میں تمہارا پاپا ہوں“ اور پاپا اب دنیا میں نہیں رہے۔ ان سے پہلی ملاقات آج بھی دل ودماغ پر نقش ہے۔ 1970ء کے ابتدائی ایام تھے۔ وہ ہفت روزہ ”شہاب“ کے مدیر تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہورکے دو دوستوں کے ساتھ میں اس ہفت روزے کے دفتر ان سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔ ہم وہاں

Read more

یوسف امام کی کتاب "نقوشِ حیات رفتہ” پر تبصرہ

مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس کتاب: نقوش حیات رفتہ (یادداشتیں ) مصنف: یوسف امام پبلشر: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ سن اشاعت: فروری 2024 ء ”نقوش حیات رفتہ“ یوسف امام کی یادداشتوں پر مشتمل ان کے سوانحی مضامین اور شاعری کا مجموعہ ہے۔ یوسف امام صاحب زمانہ ٔطالب علمی سے ہی فعال شخصیت تھے۔ ہم نصابی سرگرمیوں اور ترقی پسند مصنفین کی ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ کالج کے طلبہ یونین میں انتخاب جیت کر نائب صدر اور ( صدر

Read more

’الکیمسٹ‘ میں خدا شگون کی زبان میں گفتگو کرتا ہے

پائیلو کوئلہو کے عالمی شہرت یافتہ ناول ”الکیمسٹ“ کا بہتر زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور اس کی اب تک ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ 1988 میں جب یہ پہلی مرتبہ پرتگیزی زبان میں چھپا تو اس کی صرف نو سو کاپیاں فروخت ہو سکی تھیں اور ناشر نے اسے دوبارہ چھاپنے سے منع کر دیا تھا۔ وہ اسے دوسرے ناشر کے پاس لے گیا، پھر اس ناول کی اتنی فروخت ہوئی کہ برازیلی ادب کی

Read more

مادری زبانوں میں سندھی زبان کی اہمیت

مادری زبان انسان کی کلیدی پہچان ہوتی ہے۔ بچہ جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو سب سے پہلے اپنی ماں ہی کی آواز سنتا ہے، ماں سے مانوس ہوتا ہے اور جب بولنے لگتا ہے، تو اپنی ماں کی زبان میں ہی بولنا شروع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب کو اپنی مادری زبان سے بے انتہا انسیت ہوتی ہے۔ ہم جیسے معاشروں میں بچوں کو انگریزی زبان میں تعلیم دلوانے کو خواہ مخواہ مجبوری اور ”اسٹیٹس سمبل“

Read more

چیخوف کے ناولٹ ”تین سال“ کا کرداری مطالعہ (قسط 01 )

آنتون پاولاویچ چیخوف کا ناولٹ ”تین سال“ پہلی بار 1895 ء میں Russkaya Mysl رسالہ کے جنوری اور فروری کے شماروں میں شائع ہوا۔ اس کو اردو ادب کی دنیا سے متعارف کروانے والی شخصیت ظ۔ انصاری کی ہے جنہوں نے اسے اردو جامہ پہنایا۔ اس ناولٹ کے مرکزی کردار الکسئی فیودرووچ (لاپتیف) اور یولیا سرگئی ونا ہیں۔ دیگر کردار ان مرکزی کرداروں کی کہانی کو منطقی انجام تک پہنچانے میں جٹے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ

Read more

مرید پور کا پیر اور جرمن چانسلر کی کہانی

مرحوم احمد شاہ پطرس بخاری کے مضمون ’مرید پور کا پیر‘ کو ان کا بہترین فن پارہ نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ اردو مزاح کی بائبل ’پطرس کے مضامین‘ میں کل گیارہ تحریریں ہیں اور کسی ایک تحریر کو بہترین قرار دینا اعتراف بدذوقی کے مترادف ہے۔ یوں ہے کہ اوائل اپریل میں پڑنے والی اماوس کی کسی رات کے شانت آسمان پر جھرمٹ کی صورت گیارہ ستارے ٹنکے ہیں۔ ایسے مختصر زاد راہ کے ساتھ ادب میں ایسا

Read more

زیب سندھی کے افسانوں کا مجموعہ: ڈانسنگ گرل

صاحب کتاب زیب سندھی کا آبائی شہر لاڑکانہ ہے، سندھ کے شہر خیر پور میڑس میں پیدا ہوئے اور مستقل سکونت حیدرآباد سندھ میں ہے۔ سندھ یونیورسٹی سے سندھی ادب میں ماسٹر کیا۔ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ ادب کی دنیا میں سترہ سال کی عمر میں 1974 میں پہلا افسانہ لکھ کر قدم رکھا اور انیس سال کی عمر میں افسانوں کا پہلا مجموعہ

Read more

تبصرہ: شاکا

کہتے ہیں کہ انسانی دماغ اگر اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کر لے تو وہ کون کون سے محیر العقول کارنامے انجام دے سکتا ہے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ تخیل حقیقت سے زیادہ حقیقی بن کر سامنے آتا ہے۔ تخیل کو بیان کرنے کے لیے لفظوں کا سہارا لینا قرنوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قصے سننے سنانے کا رواج اور انسانی تاریخ کا چولی

Read more

ایرانی انقلاب اور دیسی دانشور

ایرانی قوم انقلاب ایران کی سالگرہ ہر سال بڑے دھوم دھام سے مناتی ہے۔ سابقہ برسوں کی طرح اس سال بھی پاکستان میں قائم خانۂ فرہنگ ایران نے لاہور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں 45 ویں سالگرہ کا اہتمام بڑی دھوم دھام سے کیا۔ سول لائنز کالج کے پرنسپل صاحب نے دعوت نامے کو قبولیت بخشی اور بشمول اپنے مجھ سمیت دو تین بندوں کے نام شرکت کے لیے بھیج دیے۔ مگر مقررہ تاریخ کو عین موقع پر پرنسپل

Read more

درمان درد

کہتے ہیں کہ ادب کا مطالعہ آپ کو زندگی کے مسائل کو حل کرنے اور سفر حیات میں درپیش مشکلات سے نمٹنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ کتاب اور ادب کی وابستگی سے پیدا ہونے والے شعور کے نور سے پر پیچ شاہراہ حیات اس قدر روشن ہوتی ہے کہ ہر مشکل آسان ہوتی جاتی ہے۔ ان سب باتوں کو بہت سے دیگر احباب کی طرح میں نے بھی صرف کتابوں میں پڑھ رکھا تھا، بہت سے لوگوں کی مانند میرے

Read more

خود کو مثالی بنائیں

گھر ہو یا سیاست کا میدان، کوئی محفل ہو یا دفتر، وجود کی خوبصورتی انسان کو مثالی بناتی ہے۔ جھوٹ جلسے میں بولا جائے یا گھر میں، جھوٹ ہی ہوتا ہے اور بد زبانی دفتر میں ہو یا سڑک پر وہ بری عادات میں ہی شمار ہوتی ہے۔ لالچ، بے ایمانی، نفرت، کینہ، حسد اور غیبت کے لئے بھی یہی اصول ہیں۔ بچے جب گھر میں ماں، باپ یا کسی اور بڑے کو آئیڈیل مانتے ہیں تو اس کی وجہ

Read more

عابد حسن منٹو کی سوانح: قصہ پون صدی کا

نامور ترقی پسند ادیب، دانشور، ماہر قانون، انسانی حقوق کے علم بردار اور مارکسی راہنما عابد حسن منٹو کی خود نوشت سوانح ”قصہ پون صدی کا“ شائع ہوئی تو بک کارنر جہلم کے روح رواں امر شاہد جی کی کاوش سے ہمیں برطانیہ پہنچ گئی۔ تین سو تینتالیس ( 343 ) صفات اور 8 حصوں میں تقسیم منٹو جی کی اس کتاب کو موضوعات کی مناسبت سے 57 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ان کا خاندان، وکلا

Read more

2022 کی نوبل انعام یافتہ مصنفہ اینی ارنو کی کتاب ”گمشدہ“ کا ایک جائزہ

اینی ارنو ادب کا نوبل انعام جیتنے والی پہلی فرانسیسی مصنفہ ہیں۔ اینی ارنو کو 2022 ء کے نوبل پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اینی کی زیادہ تر تحریریں سوانحی نوعیت کی ہیں لہذا کچھ ناقدین کے مطابق یہ ان کے ذاتی مشاہدے کی طاقت ہے کہ قارئین انھیں غلط طور پر خود اپنی زندگی کا مورخ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق اینی ارنو نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ سوانحی تحریروں کی بجائے افسانے کی

Read more

پیر پگارا بھی ناراض ہو گئے

حضرت پیر سائیں پگارا کی سندھ میں سبی عزت کرتے ہیں، چاہے اس کی سیاست سے اختلاف کریں یا نہ کریں، ان میں سے میں بھی ایک ہوں جو پیر سائیں پگارا کی بہت عزت کرتا ہوں۔ پیر صاحب پگارا کے خاندان میں اس کے دادا پیر صبغت اللہ شاہ (سہوریہ بادشاہ) کی سندھ کے حوالے سے لازوال قربانیاں ہے۔ اس نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی اور وطن اور کفن کا نعرہ لگایا۔ اس کو انگریزوں نے موت کی

Read more

بین المذاہب اور عالمگیر انسانی اقدار

وہ جرگہ میں تنوع پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔ قبائلی جرگہ کو مقامی فیصلوں اور مہمان نوازی کے دائرہ سے نکال کر علم و ادب اور دوستی کے فروغ کا گہوارہ بنانے کا فن کوئی سرمد خان سے سیکھے۔ میرے کالموں میں ان کا اکثر ذکر رہتا ہے کیونکہ ان کے ہر جرگہ میں مجھے بطور خاص اخلاق و کردار اور انسانی اعلی اقدار کے حوالے سے کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کا ضرور موقع ملتا ہے جسے میں اپنے

Read more

بچوں کا بادشاہ احمد عدنان طارق

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ایک پولیس انسپکٹر دو دہائیوں سے مسلسل افسر مہتمم تھانہ کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شاندار ادب بھی تخلیق کر رہا ہو اور 2022 میں یو بی ایل لٹریری ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکا ہو۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں احمد عدنان طارق کی جو چار دہائیوں تک محکمہ پولیس کی خاردار راہوں کے مسافر تو رہے مگر اپنے اصل ٹیلنٹ کو مرنے نہ دیا اور

Read more

طاہر بن جیلون اور ریت کا دروازہ

ریت کا دروازہ مراکشی ادیب طاہر بن جیلون کا شہرہ آفاق ناول ہے جو انہوں نے فرانسیسی زبان میں تحریر کیا۔ مادری زبان عربی ہونے کے باوجود ان کا زیادہ تر کام فرانسیسی زبان میں ہی ہے۔ وہ یکم دسمبر 1944 کو مراکش میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ جامع محمد الاخمص رباط میں فلسفے کے پروفیسر بھرتی ہوئے۔ اسی دور میں ہی انہوں نے سیاسی جریدے سوفلز کے لیے نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اپنے پہلے شعری

Read more

نعمان فاروق کی تخلیقی کائنات

نعمان فاروق کی اردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ انھوں نے ہر نو وارد کی طرح ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا اور کئی خوبصورت اشعار اردو ادب کو دیے۔ پھر تخلیقی نثر کی طرف آ گئے۔ پراسرار کبوتر، پچھل پیری اور اب کفن چور جیسا خوب صورت ناول شائقین ادب کی نذر کیا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں یہ ان کا تیسرا ناول ہے جو بچوں کے لئے لکھا گیا ہے۔ کفن چور کا ”وجدان“ بھی

Read more

ویلنٹائین ڈے، محبت اور سائنس

یادش بخیر، ہمیں پہلی محبت اس وقت ہوئی جب ہم پہلی جماعت کے طالب علم تھے اور دل و جان سے اپنی ہی ہم عمر اور ہم جماعت عفیفہ پر دل و جان سے فدا ہو گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ جذبہ محبت کہلاتا ہے۔ وہ تو بعد میں فلمی گیتوں میں دی گئی علامات (دل کا دھڑکنا یہ بھی چاہت ہے، نیند نہ آنا یہ بھی چاہت ہے ) سے

Read more

”غروب شہر کا وقت“ اسامہ صدیق کا منفرد ناول

پتہ نہیں اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ ہاتھ میں تھامتے ہی رگ و پے میں ایک گہرا دکھ اور یاس سا کیوں اترنے لگتا ہے۔ شاید سینکڑوں سالوں سے بار بار بسنے اور اجڑنے والا یہ نوسٹلجیائی سی کیفیات کا حامل دلبر سا شہر جسم و جان سے روح کی طرح ہی چمٹا ہوا ہے کہ اس کے زوال بارے کوئی بھی بات انی کی طرح کلیجے میں اتر جاتی ہے۔ ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا،

Read more

جے یو آئی کی پارلیمانی سیاست سے ممکنہ دستبرداری کی دھکمی: مولانا فصل الرحمان کے ’غصے‘ کی وجہ کیا؟

بی بی سی نے مذہبی امور کے ماہرین سے بات کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ کیا جے یو آئی (ف) واقعی پارلیمانی سیاست سے دوری اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

Read more

سوانح عمری ”گئے دنوں کی یاد“ تحریر ایم اے قوی

تبصرہ نگار: گوہر تاج لندن میں رہنے والے اکثر لوگ ایک ایسے سر پھرے شخص سے واقف ہیں کہ جو خواہ آندھی ہو یا طوفان، برفباری ہو یا موسلادھار بارش، سالوں ہر ہفتے لندن کے پاکستانی ہائی میشن کے سامنے پرویز مشرف کی فوجی اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف ہاتھ میں پوسٹر اٹھا کے تنہا کھڑا ہوتے، جو ان کا فوجی اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف پر امن احتجاج تھا۔ پوسٹر پہ درج تھا۔ ”پاکستان میں آمریت کا

Read more

ریٹائرڈ جج سردار منیر حسین اور بابائے گوجری رانا فضل حسین کی وفات

عموماً انسان کی شخصیت کو اس کی وفات کے بعد بھلا دیا جاتا ہے، تاہم جس کی تحریریں یا اس کے بارے میں کچھ لکھا گیا شائع ہو چکا ہو، وہ تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کی ایک مایہ ناز شخصیت خواجہ عبدالصمد وانی ( 2001۔ 1935 ) نے ریاست جموں وکشمیر کی متعدد شخصیات کی وفات پہ ان کے بارے میں مضامین وغیرہ تحریر کیے جو ہفت روزہ ’کشیر‘ میں 1966 سے 2001

Read more

جواں ہمت عابد انوار، فلاحی مملکت، پھونک سے چلتی وہیل چیئر

وہیل چیئر میں ہر طرف سے جکڑے گئے مکمل مفلوج جسم مگر مکمل ہوش و حواس میں پہلے سے زیادہ شگفتہ چہرے والے عابد انوار سے گپ شپ جاری تھی۔ اسے پاکستان کی اور کینیڈا اور دنیا کی سیاست اور حالات حاضرہ پر حسب معمول بات کرتے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مکمل صحت مند ہو۔ وہ اپنے خاندان کی، اپنے بچپن کی، اپنی دیکھی ہم دوستوں کی محفلوں اور ہمارے اور اپنے والد کے دوستوں سے وابستہ یادوں

Read more

”ماں“ میکسم گورکی کا عظیم کارنامہ

میکسم گورکی، جن کا اصل نام الیکسی میکسمووچ پیشکوف تھا، نامور روسی مصنف، ڈرامہ نگار اور سیاسی کارکن تھے۔ وہ 28 مارچ 1868 کو روس کے شہر نزنی نو گوروڈ میں پیدا ہوئے اور 18 جون 1936 کو ماسکو، سوویت یونین میں ان کا انتقال ہوا۔ گورکی کا بچپن غربت اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزرا، جس کا اثر ان کے کام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کم عمری میں ہی علم و ادب کی دنیا کی

Read more

اولوغ بیگ – ایک عالم ترک حکمران

اولوغ بیگ 15 ویں صدی کا ایک معروف ماہر فلکیات و طبیعیات، ریاضی دان، سائنسدان اور ترک حکمران تھا۔ اس کا اصل نام مرزا محمد طورگائے بن شاہ رخ سلطان تھا۔ وہ 22 مارچ 1394 کو سلطانیہ شہر، ایران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شاہ رخ سلطان امیر تیمور لنگ کے بیٹے تھے اور وسطی ایشیا کے حکمران تھے۔ ان کی والدہ گوہر شاد تھیں۔ شروع ہی سے ان کے گھر کا ماحول علمی تھا۔ وہ 11 سال کے

Read more