بوسنیا کی چشم دید کیانی 29
میں گاڑی کی روانگی سے کوئی آدھا گھنٹہ قبل اسٹیشن پر پہنچا۔ گاڑی پلیٹ فارم پر تیار کھڑی تھی۔ یہ زغرب تا بڈاپسٹ چلنے والی ریل گاڑی کی تقریباً ہم شکل و ہم ساخت تھی۔ مجھے جس کیبن میں جگہ ملی وہاں پہلے سے ایک مسافر موجود تھا۔ اُس کا نام زاہد تھا۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور تعلق ایران سے تھا۔ پراگ میں آباد تھا۔ تعلیم بھی وہیں حاصل کی تھی، شادی بھی وہیں رچائی تھی۔ اس کے
Read more














































































