دھوپ کا سایہ

ایمان اور ماہین، دو دوست، دو دنیائیں، اور دو نظریات۔ ایک دوسرے کے لیے وہ تھیں جو دھوپ کے تپتے صحرا میں ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے۔ دونوں نے ایک ہی گلی میں بچپن گزارا، ایک ہی اسکول میں پڑھیں، لیکن زندگی کے بارے میں دونوں کا نقطۂ نظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔ ایمان، حقیقت پسندی کا مجسمہ، زندگی کو اصولوں اور سخت حقیقتوں کے تناظر میں دیکھتی تھی۔ اس کے نزدیک خواب دیکھنا وقت کا زیاں

Read more

گلشن میں ویرانی!

دنیا عجائب گھر ہے۔ اس میں رنگ برنگی حقیقتیں قدرت کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں۔ ہر جگہ اپنے اندر مختلف رنگ، روپ، تجربات، مشاہدات، تصورات، نظریات اور خوبیوں کا جم غفیر رکھتی ہے۔ یوں کہہ لیجیے ہر جگہ کے اپنے آثار و کیفیات ہیں۔ لہذا اس کے درجات، پیمانے، موجودات، حاصلات اور ثمرات فرق فرق نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر دنیا میں کہیں صحرا ہے تو کہیں سرسبز و کھلیان۔ کہیں میدان ہیں تو کہیں پہاڑوں

Read more

لو ہم نے دامن جھاڑ دیا

احفاظ کا حلقۂ احباب بے حد وسیع تھا، اس میں صحافی، شاعر، ادیب، کرکٹر، ٹریڈ یونینسٹ اور سیاست دان سبھی شامل تھے۔ احفاظ سے شادی کے بعد میں ان سب کی بھابھی بن گئی تھی۔ پاکستان کے علاوہ بیرون ملک مقیم ان دوستوں میں سے ایک اشفاق حسین بھی تھے۔ جن کی فیض صاحب سے محبت کا ثبوت کئی کتابوں کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ یعنی اشفاق سخن ور ہی نہیں، فیض اور فراز جیسے سینئر شعرا کا

Read more

گاہ کا موہنا

بظاہر جمعہ کے دن گاہ گاؤں میں کسی شخص کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن گاؤں کے لوگ صبح سے ہی راجہ محمد علی مرحوم کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہو گئے تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد تو پورا گاؤں ہی راجہ محمد علی کی بیٹھک پر امڈ آیا۔ ”ایسے لگتا ہے ہمارے گھر کا کوئی فرد فوت ہو گیا ہے“ ، گاؤں کے سکول کے ہیڈ ماسٹر الطاف حسین نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ 26 دسمبر کو ہندوستان

Read more

چوبیس دسمبر اور میرا مرحوم لختِ جگر

سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے تو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہا بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے سات سال سات مہینے اور دو دن یہی مختصر قیام تھا جو میرے بیٹے عبدالہادی نے اس فانی جہاں میں گزارا، گھر اور سکول میں وہ ایک منفرد بچہ تھا۔ وہ بچہ نہیں وہ ایک بہت بڑا انساں تھا اُسے ہر کسی کا خیال رہتا تھا۔ وہ میرے دوستوں کا

Read more

اُردو میں نسائی ادب کی اہمیت و افادیت

برصغیر کا روایتی معاشرہ ہو یا یورپ کا آزادانہ لبرل ماحول، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ازل سے ہی وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگا رنگی نظر آتی ہے۔ مرد و زن دونوں کا وجود لازم و ملزوم ہے۔ ایک سکے کے دو رخ اور ایک گاڑی کے دو پہیے، جیسے پھول میں خوشبو کا ہونا اور جسم کے لیے روح کا ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح مرد کے لیے عورت کا وجود بھی ضروری

Read more

آئیے ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی

ہمارے خاندان کی ایک شاخ، بہت پہلے جالندھر سے رحیم یار خان کی تحصیل ، صادق آباد منتقل ہوئی۔ مضبوط مذہبی رجحان کے ناطے ایک رشتہ دارد ینی مدرسے کے انچارج بنے۔ ہر سال درس گاہ کے لیے عطیات وصول کرنے ، دورے پر نکلتے تو ہمارے پاس عارف والا شہر آتے ۔ اُن کی آمد پر گھر کا ماحول بدل جاتا ۔ شفیق انسان تھے۔ محبت اور اپنائیت کی مہربان چمک سے آنکھیں روشن رہتیں۔ ایوب خان کی حکومت

Read more

بندگی و الوہیت

بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے : یہی خدا کا قانون ہے۔ خدا جو طاقتور ہے اور جس کے پرتو سے اس خاک کے پتلے میں زندگی کی دمک دکھائی دیتی تھی۔ وہ خاکی جس نے اس دنیا کو سنوارنے کے لیے صدیوں محنت کی۔ یہ اختتام اس کے لیے ایک

Read more

بپسی سدھوا ( 1938۔ 2024 ) ۔ عالمی ادب کی ایک انمول شخصیت

بین الاقوامی انگریزی زبان کی شہرت یافتہ مصنفہ اور ادبی شخصیت بپسی سدھوا 25 دسمبر بروز بدھ کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں وفات پا گئیں۔ وہ 86 برس کی تھیں۔ بپسی سدھوا ایک پاکستانی ناول نگار تھیں جنہوں نے انگریزی زبان میں لکھا اور وہ امریکہ میں مقیم تھیں۔ سدھوا انڈو۔ کینیڈین فلمساز دیپا مہتا کے ساتھ اپنے مشترکہ کام کے لیے مشہور تھیں۔ وہ اپنے پُرجوش ناولوں کے لیے مشہور تھیں، بپسی نے عالمی ادب میں انمول حصہ ڈالا۔ ان

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more

” التباس“ سے التذاذ

التباس عربی لفظ ہے جس سے مراد ایک جیسی کیفیت کے سبب شبہے میں پڑ جانے کے ہیں۔ ”التباس“ معروف شاعر شناور اسحاق کا پہلا شعری مجموعہ ہے، جن سے گجراں والا فخر نسبت رکھتا ہے۔ رنگین سرورق پر ”التباس“ نظام شمسی کے پس منظر میں نمایاں اور پس منظر میں کئی مرتبہ مدہم لکھا آتا ہے۔ فلیپ پر ”یہ 1982 ء کی بات ہے“ کے عنوان سے شاعر نے اپنے دور طالب علمی کی مختصر جھلک دکھائی ہے۔ انھوں

Read more

موسیقی کی مسیحائی

(جہاں الفاظ ناکام ہوجائیں، موسیقی کلام کرتی ہے۔ ہانز کرسچن اینڈرسن) وقت ظالم ہے جو ایک گھر آنگن میں جیون بتانے والے بہن بھائیوں کو بیدردی سے دور پھینک دیتا ہے۔ کوئی امریکہ تو کوئی انگلینڈ تو کوئی پاکستان میں۔ دوری کے یہ داغ بہت سوں کی قسمت کا حصہ ہیں۔ لیکن فاصلے اور وقت کی سفاکی دلوں پہ لکھی انمٹ محبت کے گیتوں کو کیسے مٹا سکتی ہے۔ تین سال قبل لیڈز (انگلینڈ) سے بھابی نے بتایا کہ ان

Read more

یونس ایمرے۔ عشق و محبت کا تُرک شاعر

2019 میں کورونا وائرس کے پھیلتے کچھ اچھا خاصا وقت میسر آیا۔ اگر چہ ہم سے سرکاری نوکری کی وجہ سے ذمہ داری نہیں چھوٹی لیکن پھر بھی قدرے کچھ وقت ناسازگار حالات اور کو وِڈ کے پھیلنے سے بہرحال ملا۔ اس دوران پڑھنے کو کچھ خاص نہیں ملا، البتہ ترکی کے کچھ سیریل دیکھنے کا وقت ملا۔ ان میں ترکی کے عظیم قومی صوفی شاعر اور فلسفی یونس ایمرے کی زندگی، ان کے روحانی سفر اور تصوف کی تعلیمات

Read more

دسمبر کا مہینہ!

عمومی طور پر دسمبر کا مہینہ شاعروں کو بے حد پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعر و شاعری میں دسمبر کا خصوصی ذکر ملتا ہے۔ اس مہینے میں کسی شاعر کو اپنے محبوب کی یاد ستاتی ہے اور کسی کو محبوب کے ساتھ گزرے وقت کی۔ سال کا یہ آخری مہینہ یقیناً خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ہم میں سے بیشتر، سال کے اس آخری مہینے میں کچھ نہ کچھ حساب کتاب ضرور کرتے ہیں۔ گزرے برس پر نگاہ

Read more

تندور

میرے گھر کے سامنے ایک تندور ہے جسے خیبر پختونخوا کے دو خوش مزاج نوجوان مل کر چلاتے ہیں۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے تندور کو لکڑیوں کے ایندھن سے تپایا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کی خوش مزاجی کا یہ عالم ہے کہ فارغ وقت میں محلے کے دیگر لڑکوں کے ساتھ مل کر ٹیپ بال کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔ اس تندور کی وجہ سے اردگرد کے بیسیوں گھروں کو یہ سہولت رہتی ہے کہ صبح دو پہر شام

Read more

محمدرفیع کا 100 واں یوم پیدائش

  عظیم گلوکار محمد رفیع کا 100 واں یوم پیدائش 24 دسمبر 2024 کو ہے۔ محمد رفیع آج ہی کے دن سو سال قبل 1924 کو امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ محمد رفیع کا لاہور سے بھی تعلق رہا ہے جہاں انہوں نے بھاٹی دروازہ کے محلہ چومالہ میں لڑکپن کے دن گزارے تھے۔ محمد رفیع گائیکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے جن کی مدھ بھری آواز اپنے

Read more

چھبیس دسمبر۔ مشہور پاکستانی شعراء پروین شاکر اور منیر نیازی کا یوم وفات

  پروین شاکر کی آج 30 ویں برسی ہے۔ 26 دسمبر 1994 کی صبح کو اسلام آباد میں ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ پروین گاڑی پر دفتر جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔ دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پھسلن کے باعث گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی اور پروین شاکر موقعہ پر ہی زیست کی بازی ہار گئیں۔ پروین شاکر 24 نومبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ پروین کا

Read more

پچیس ہڈیاں توڑنے والے جلاد پاکستانی باپ

دس سال کی عمر میں پچیس بار ہڈیاں ٹوٹ جائیں۔ سکول میں یہ بتانا پڑے کہ پین سے چوٹ لگ گئی تھی گر گئی تھی کیسا محسوس ہوتا ہے۔ ایک دس سال کی بچی کا ذہن کیا سوچتا ہے اس کے دل پہ گزرتی کیا ہے جب اس کی زندگی ایک ترقی یافتہ سماج میں رہتے ہوئے بھی ظلم کی اتھاہ گہرائیوں کو اس لیے چھو لیتی ہے کہ اس کے باپ کا تعلق ایک ایسے سماج سے ہے جو

Read more

معطل آدمی کے خواب

یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا  کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے مٹی

Read more

باورچی خانے میں تلا گیا ناول : نعمت خانہ

اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ میں نے کبھی اُن دونوں پر اتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔ اتنے بڑے بڑے احسان! اف! اتنے بڑے بڑے دھبے۔ ” دو دو قتل۔ ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔ مگر اُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔ میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اور بس، اور

Read more

سیاسی استحکام کے لئے سیاسی آزادی کی حدود کا تعین اور وضاحت ضروری ہے

اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی باتیں چل رہی ہیں جو خوش آئند ہیں لیکن ساتھ ہی سول نافرمانی کی خبریں اور تیاریاں بھی جاری ہیں اس لئے اگر مذاکرات ہوں تو ان کے نتائج کو پائیدار بنانے اور مستقبل کے لئے احتجاج اور مطالبات کا کوئی پیمانہ ترتیب دیتے ہوئے سیاسی حدود کا تعین اور اس کی وضاحت کو بھی ان مذاکرات کا حصہ بنانا ہو گا تاکہ ماضی جیسے غیر مستحکم کرنے والے

Read more

ہمہ یارانِ جامعہ، تلہ گنگ کا اے حمید اور بدلتا سماج – جنریشن زی

دسمبر اس لحاظ سے ثروت مند رہا کہ یکے بعد دیگرے نور احمد جانجھی صاحب بوساطت (محترمی اللہ نواز سموں ) ، تنویر ملک صاحب اور عثمان قاضی صاحب کی ’ہڈ بیتیاں‘ سرکاری قاصدوں کے ہاتھ سے وصول ہوئیں۔ گزشتہ ایک برس سے آس پڑوس والے ”کان بردوش“ ’ڈاکٹر صاحبہ کے نام ایک اور کتاب کا پارسل‘ سے بتدریج آشنا ہو رہے ہیں۔ ”دراز اور تیمو“ کے دور میں یہ بیگانگیٰ شوق! (اُن کی سرد آہیں موسم اور سماعت کو

Read more

مریم نواز کا دورہ چین

ذوالفقار علی بھٹو نے پاک چین دوستی بارے میں تاریخی جملہ کہا تھا کہ ”پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے زیادہ میٹھی اور سمندر سے زیادہ گہری ہے۔“ جس میں نواز شریف نے ”پاک چین دوستی فولاد سے زیادہ مضبوط“ کر دیا جس کے جواب میں چینی وزیر اعظم نے کہا کہ ”اگر چین سے پیار کرتے ہو تو پاکستان سے بھی پیار کرو“ پاکستان 1947 ء میں قائد اعظم اور چین 1949 ء میں ماؤزے

Read more

فلسفہ قوم پرستی کیا ہے؟

  قوم پرستی ایک انتہائی اہم ڈاکٹرائن ہے جس کا مقصد قومی ریاست کی تشکیل کرنا ہے۔ ایک قوم ایک ملک کا نظریہ دراصل قوم پرستی کی اساس ہے۔ قوم پرستی ایک سیاسی، سماجی اور ثقافتی نظریہ ہے جو کسی خاص قوم کے لوگوں کے درمیان اتحاد، شناخت اور خودمختاری کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نظریہ اس تصور پر مبنی ہے کہ قوم، ریاست کی بنیاد ہونی چاہیے اور ہر قوم کو اپنے مفادات، زبان، ثقافت اور خودمختاری

Read more

روح کو سیراب کرنے والا بہتا دریا ذاکر حسین اب نہیں رہا!

میری کیا اوقات کہ استاد ذاکر حسین (میرے لیے ذاکر بھائی!) کے بارے میں کچھ کہوں۔ جو سچ مچ کچھ کہہ سکتے تھے اور سولہ آنے درست وہ ان سے پہلے ہی ہمیں چھوڑ چکے۔ بہترین خراج تحسین پنڈت شیو کمار شرما (سنتور کے بھگوان) ہی پیش کر سکتے تھے۔ ذاکر بھائی نے ان کے ساتھ کم و بیش ساڑھے تین سو کنسرٹ بجائے۔ شیو جی کہتے تھے میں ذاکر کے گھر چلا جایا کرتا تھا۔ ان کی امی سے

Read more

پائے لاگوں سرکار

اُن کے راجھستان میں اور ہمارے سندھ میں بڑوں کے پیر چھونے کا بہت رواج ہے۔ یہ بات اگر نشست و برخاست کی کسی مجبوری کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو دونوں رجواڑے (ریاستوں) میں اس کا زبانی اظہار ضرور کیا جاتا ہے۔ مارواڑی ہاتھ کے اشارے سے ” پائے لاگوں سرکار “کہتے ہیں۔ سندھی چونکہ ویسے بھی بہت محبتیلے اور روّاجی لوگ ہیں وہ بھی ہاتھ جوڑ کر حال احوال کرتے ہیں تو زبان سے یہ ضرور کہتے

Read more

آئینوں کے بازار تک

پاکستان کے تعلیمی نظام میں تین طرح کے سلیبس، مدرسہ میں پڑھایا جانے والا، آکسفورڈ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا سلیبس رائج پذیر ہیں۔ ان اداروں میں دو اداروں کے نظام تعلیم سے مستفید ہونا اور پھر اعتدال پسندی کی زندگی گزارنا بظاہر ناممکنات میں سے ہے اور بہت کم لوگ متوازن رائے قائم کرنے اور بنیاد پرستی میں مبتلا ہونے سے بچ پاتے ہیں۔ انہوں نے 1976 میں ژوب میں ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ

Read more

ابا کے پیٹ پر دو لاتیں

جاوید میرے شوہر کے دفتر میں ہی کام کرتے ہیں وہ دونوں اٹھ گھنٹے جب ساتھ گزارتے ہیں تو دفتری باتوں کے علاوہ بہت ساری ایسی باتیں بھی ہو جاتی ہیں جس میں گھریلو باتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں اور وہ باتیں بھی شیئر کر لیتے ہیں جو کہ شاید ہم کسی سے بھی نہ کریں وجہ یہ ہے کہ جب زیادہ وقت آپ کسی کے ساتھ گزارتے ہیں تو آپ اس کے ساتھ بہت زیادہ فرینک ہو جاتے

Read more

زرد گلاب

اے حمید صاحب اسلام آباد آئے تو میں شام کو انہیں اپنے ایک دوست کے گھر پارٹی میں لے گیا۔ میری ان سے کٔی سالوں کے بعد ملاقات ہو رہی تھی اس لیے کہ جب سے میری ٹرانسفر پنڈی اسلام آباد کردی گیٔ تھی میرا لاہور آنا جانا بہت کم ہو گیا تھا۔ اس شام حمید صاحب اپنے کارڈرائے کے ہلکے براون سوٹ میں تھے، اور ان سے ایوننگ ان پیرس کی خوشبو ارہی تھی۔ پارٹی میرے ایک دوست کے

Read more

محبت اور دوسرے کباڑ

یہی کوئی پانچ برس ہو چلے ہوں گے کہ مجھے ایک عجیب سا ناول ملا تھا ؛ جی، ایسا کہ میں اسے کھولے بغیر کچھ وقت کے لیے دیکھتا رہ گیا تھا۔ جہاں میں اٹکا ہوا تھا وہ ایک نہیں دو مقامات تھے اور دونوں سرورق پر تھے۔ کتاب پر مصنف کا نام رشاد بخاری تھا۔ یہ نام ہمارے ہاں معروف نہیں ؛ خدشہ ہوا، ہو نہ ہو ’ارشاد‘ نام ہو گا ’الف‘ چھپائی میں اُڑ گیا ہو گا۔ اس

Read more

استاد ذاکر حسین کی یاد میں

سان فرانسسکو کے اسپتال میں اپنی سانسوں کی لے کو ہموار کرنے کی کوشش کرتے استاد ذاکر حسین کو کیا اپنی انگلیوں کی وہ درت لے یاد آئی ہوگی جو غیر مرئی آوازوں کو ٹھوس تھرکن میں بدل ڈالتی تھی؟ خود ذاکر حسین نے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا طبلہ ان کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے والد مشہور طبلہ نواز اللہ رکھا خاں نے ان کے

Read more

ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا

کہانی پینتالیس سال قبل کی ہے۔ پیپلز کالونی فیصل آباد میں گھر فروخت کیا تو اس میں لگے فون کو اپنی دکان پہ منتقل کرنے کی درخواست کے ساتھ محکمہ کی اجازت کے مطابق یہ بھی درخواست ڈال دی کہ منتقلی تک کی درمیانی مدت کے لئے فون عارضی طور بند رکھا جائے۔ تین چار ماہ انتظار اور دفتری چکروں کے بعد ایک دن لائن مین آئے اور اور فون کی کیبل فٹ کر فون لگاتے یہ خوش خبری بھی

Read more

نظریہ حیات اور ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی الجھن

پاکستان کی نوجوان نسل آج کل ایک پیچیدہ اخلاقی مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ روایات، مذہب، جدیدیت، ذرائع ابلاغ (میڈیا) ، اور تعلیمی ادارے۔ یہ سب مل کر ایک ایسی اُلجھن پیدا کر رہے ہیں جس میں نوجوانوں کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہر سمت سے مختلف اصول، مختلف اقدار، اور جداگانہ اخلاقی ضابطے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف مذہبی حلقے شریعت اور مسلکی تشریحات پر زور دیتے ہیں، تو دوسری

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 29 : بازگشت

” خوشبو اور بخور دل کو خوش کرتے ہیں، اور دل سے دی گئی نصیحت دوست کی خوشی ہوتی ہے۔ “ امثال 27 : 9 1947 میں پاکستان بننے کے بعد کراچی میں سندھ یونیورسٹی قائم کی گئی، مگر چوں کہ کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اور سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد مقرر کیا گیا تھا، لہٰذا سندھ یونیورسٹی بھی حیدرآباد آ گئی۔ ٹھنڈی سڑک پر جس عالی شان عمارت میں یونیورسٹی کو منتقل کیا گیا اس میں پاکستان بننے سے پہلے

Read more

نظم مرشد کے خالق افکار علوی کا بیان حلفی یا معافی نامہ؟

جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔ جمہوریت کی یہ تعریف امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863 ء کو اپنی تاریخی گیٹس برگ تقریر میں دی تھی۔ یورپ اور امریکہ میں اسی معنی و مفہوم کے ساتھ آج جمہوریت وہاں کا کامیاب ترین سیاسی نظام ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان ایسے ممالک جہاں صدیوں سے بادشاہت اور جاگیرداری کا نظام رائج رہا ہے۔ یہاں پر کبھی جہموریت پنپ نہیں سکی۔ مملکت خداداد میں آمروں

Read more

فورٹی رولز آف لو (چالیس چراغ عشق کے ) ایک موضوعاتی مطالعہ

فورٹی رولز آف لو اگر ایک عام قاری پڑھتا ہے تو اسے یہ وہم لازمی ہوتا ہے کہ اس نے کوئی کلاسیک ادبی شاہکار پڑھ لیا ہے۔ لیکن اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ فورٹی رولز آف لو نے ایلف شفق کو عالم گیر شہرت دی ہے۔ لیکن کوئی کتاب مشہور ہو جائے تو یہ اس کے شاہکار ہونے کا پیمانہ نہیں ہے۔ ناول فلسفہ، تصوف، عشق، روحانیت، شاعری اور اس کی اثر پذیری، قدیم

Read more

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے۔ ایک بھول ہی تھا میرا پیار۔ ویسے تو یہ ایک گانے کے بول ہیں مگر اس کے پہلے بھول پاکستان کی تاریخ میں نہایت ہی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ جملہ صرف ایک طنز نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، لاعلمی، اور تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کا عکاس ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں کو یاد رکھنے اور ان سے سیکھنے کے بجائے انہیں بھلا دینے میں

Read more

ذاتی رنجش اور اعتماد کی کرچیاں (مومل رانو داستان)

ساری بہنوں میں دو بہنیں نمایاں تھیں، ایک مومل اور ایک سومل۔ مومل سب سے خوبصورت تھی، لیکن ذہین بھی بہت تھی، لیکن سومل چالاکی کے معاملے میں سب بہنوں میں نمایاں مقام رکھتی تھی۔ جب مومل کی شادی کرنے کا والدین کو خیال آیا تو انہوں نے مومل کی ایسے شخص کے ساتھ شادی رچانے کا سوچا، جو غیر معمولی ذہانت رکھتا ہو۔ دور دراز مقامات سے بہت سے امراء و بادشاہ مومل کے حسن و جمال کی تعریفیں

Read more

محبت! انسانی وجود کی تکمیل کا احساس ہے

محبت انسان کا صحت مند اور خوشگوار احساس ہے۔ اگر محبت کا درست تصور اور اس سے وابستہ کیفیات کی بنیادی معلومات حاصل نہ ہوں تو یہی خوبصورت احساس تکلیف، درد، کرب، اذیت اور نفسیاتی بیماری ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ویسے ہی ہمارے معاشرے میں محبت کی محدود آنکھ سے تشریح کی گئی ہے۔ جس میں ڈرامائی اور تصوراتی عناصر نمایاں ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں محبت ناکامی، ڈپریشن اور ماتم کی علامت بن گئی۔ پاکستان کے ادب میں

Read more

چگی داڑھی بکری اور جمہوری غزال

یہ بات ہمیشہ حیران کرتی تھی کہ گھر میں دادا اور ان کی سب اولاد قد کاٹھ ، خدوخال اور رنگ روپ میں ہیٹے تھے لیکن دادی کا قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا تھا اور رنگ میدہ شہابی تھا۔ ایک کم عمر بچہ کیسے جانتا کہ دادی ایک یتیم کشمیرن بچی تھی جو حالات کی نامعلوم موجوں پر بہتی مشرقی پنجاب میں لدھیانہ تک آئی تھیں۔ گرمیوں کی شاموں میں چھت پر پانی کا چھڑکاﺅ ہو جاتا تھا۔ دادی

Read more

اداس دسمبر اور راشد سیال

12 دسمبر 2024 کو رضی بھائی کے توسط سے یہ اندوہناک خبر ملی کہ ممتاز مصور، خطاط اور کمپیوٹر گرافکس کے ماہر جناب راشد حسین سیال داغ مفارقت دے گئے۔ میں اس وقت برطانیہ میں موجود ہوں۔ کرسمس کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ انگریز یہ مہینہ جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ بازار میں نکلیں تو دسمبر کا ہر دن عید کا دن معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے لیے یہ مہینہ اداسی کا مہینہ ہے۔ ملتان کے معروف شاعر جناب

Read more

روزمرہ کی نفسیات

معروف مصنف اور ماہر نفسیات ایڈم گرانٹ نے گزشتہ دنوں اپنے فیس بک پیج پر ایک ریسرچ شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ ”ہم اسکرین پر پڑھنے کی نسبت کاغذ پر پڑھنے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔“ 54 کیس اسٹڈیز اور 1,71,000 افراد پر تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوا کہ ہم پرنٹ مواد کو ڈیجیٹل مواد کی نسبت زیادہ گہرائی سے سمجھتے ہیں، بشرطیکہ وہ مواد معلوماتی ہو، کہانی پر مبنی نہ ہو۔ ”کاغذ کا فائدہ ہر عمر کے

Read more

بلوچ دانش سے ایک بھید بھرا مکالمہ

  زندگی میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی سادگی و منکسرالمزاجی پہلی ملاقات میں ہی دل میں گھر کر جاتی ہے۔ جن کے ساتھ گزرا وقت آپ کی زندگی کا اثاثہ اور جن کی شخصیت، ذہانت خوش طبعی اور خوش مزاجی آپ کو زندگی کو دیکھنے، برتنے اور جینے کا ایک نیا سلیقہ و زاویہ دے جاتی ہے۔ جو مشکل حالات کی سختیوں کو بھی مسکرا کر جھیلتے ہیں اور سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں اپنی

Read more

سلمی اعوان کا ناول: تنہا

سقوط ڈھاکہ کو پچاس سال مکمل ہو چکے ہیں۔پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پہ یہی موضوع زیر بحث ہے۔اس موضوع کو لے کے فلمیں اور ڈرامے بنائے جا رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ہر تکلیف، ہر دکھ کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔لیکن یہ ایک ایسازخم ہے جس پہ کھرنڈ نہیں جم سکا۔جس کے لئے کوئی مرہم کارگر ثابت نہیں ہوا۔تکلیف کااحساس پہلے دن کا سا ہے۔ چند دن پہلے اسی موضوع پہ "سلمی اعوان صاحبہ” کے

Read more

کیا سیکس کے دوران کنڈوم اتارنا ریپ کے زمرے میں آ تا ہے؟

گزشتہ دنوں ہم سب ویب سائٹ پر بی بی سی کا ایک مضمون شیئر کیا گیا، جس کے مطابق برطانیہ کی میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ”سٹیلتھنگ قانونی طور پر ریپ کے زمرے میں آ تا ہے تاہم اس جرم پر قانونی کارروائی اس لیے نہیں ہو پاتی کیونکہ لوگوں کو علم ہی نہیں کہ یہ بھی ایک جرم ہے۔“ یاد رہے کہ دوران سیکس اپنے پارٹنر کو بتائے بغیر کنڈوم ہٹانے کو سٹیلتھنگ کہتے ہیں۔ یہ مضمون

Read more

پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان: ہسپانوی ادب کے شاہکار کا اردو ترجمہ

کامیلو ہوزے چیلا کی تصنیف ’دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے‘ ایک ایسی کہانی ہے جو تشدد، تقدیر اور مایوسی کے موضوعات کو دیہی ہسپانوی پس منظر میں پیش کرتی ہے۔ کامیلو ہوزے چیلا، اسپین کے اہم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ناول اس وقت لکھا جب اسپین شدید کشمکش کا شکار تھا۔ 1942 میں شائع ہونے والے اس ناول کا تعلق ہسپانوی خانہ جنگی ( 1936۔ 1939 ) سے ہے، جو اسپین کے معاشرتی تانے بانے پر

Read more

فریحہ نقوی کی غزل کا مختصر جائزہ

برس ہا برس سے اُردو غزل کا سفر ہنوز جاری ہے۔ اُردو غزل کی صنف اپنے اندر ایسے لطیف پیرائے رکھتی ہے کہ انسان چاہ کر بھی اِس صنف سے خود کو بے نیاز نہیں کر سکتا۔ کسی نہ کسی موڑ، گام، لمحے اور کیفیت میں انسان کا من چاہتا ہے کہ اُس کے لب خود بہ خود پھڑک اُٹھیں اور کوئی مصرع موزوں ہو جائے یا کسی کا موزوں کیا ہوا مصرع زبان تلک آ جائے تاکہ دل کی

Read more

ماں کا غم (سانحہ آرمی پبلک اسکول)

  ہمیشہ کی طرح محتشم کو اسکول چھوڑا، گیٹ پر موجود چوکیدار بابا ہم ماں بیٹے کے جلدی جلدی گیٹ اور پھر سیڑھیاں چڑھنے پر مسکراتے رہے۔ میں بار بار محتشم کو یاد دلاتی رہی کہ دیکھو اب دیر ہو رہی ہے، جلدی جلدی تیار ہوا کرو نا اور محتشم ہمیشہ کی طرح اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے، میرے قدموں سے قدم ملانے کی کوشش کر رہا تھا اور پھر میں نے اس کا بیگ اپنے کندھے سے اتار کر

Read more

خطرناک سڑکوں پر بجھتے چراغ

بلوچستان کی سرزمین جہاں محبت کی خوشبو ہر گھر سے اٹھتی ہے آج آنسوؤں اور جدائی کے قصے سنا رہی ہے۔ وندر کی سنگل لین شاہراہ اور لیاری روڈ پر وہ مناظر پیش آئے جنہوں نے دلوں میں درد، محبت میں بے بسی، اور آنکھوں میں خوف بھر دیا۔ یہ حادثات محض گاڑیوں کے ٹکراؤ نہیں بلکہ محبت کے چراغوں کے بجھنے کی دردناک داستان ہیں۔ بہنیں جو ایک دوسرے کے لیے محبت، خدمت، اور قربانی کا مجسمہ تھیں اپنی

Read more

شام میں نئی صبح یا گہری شام

جیو پولیٹکس کی بساط پر نئی چالیں چلنے کی رفتار تیزی پکڑتی جا رہی ہے۔ یوکرائن و روس کی ہنگامہ آرائی اور ٹرمپ کے انتخابات جیتنے کے بعد فال آف سیریا یعنی شام میں بشار الاسد کی پارٹی کا اکسٹھ سالہ اقتدار محض چند دنوں میں بغیر کسی مزاحمت کے ختم ہو جانا اور شام میں نئے حالات کا پیدا ہونا انتقال اقتدار کا عمل تو ہے مگر کیا یہ تمام عمل اتنا ہی سادہ اور شام کے لوگوں کے

Read more

ذکر فلسفے سے بیوفائی کا

فلاسفی کو تمام علوم کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ مذہب، سائنس، ریاضیات، فلکیات، تاریخ نویسی چاہے ادب و فن ہو، ان تمام علوم نے فلسفے کے شکم سے ہی جنم لیا ہے فلسفہ کا علم ایک ایسی کشادہ شاہراہ ہے جس کہ ذریعے انسان ذہانت، دانشمندی اور آگاہی کہ دیس میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل سچ اور حقیقت کی جستجو اور تلاش ہی انسان کو فلسفے کی جانب راغب کرتی ہے۔ انسان نے جب کبھی بھی فلسفے کی عینک

Read more

سقوط ڈھاکہ: جب دیس بٹا دو ٹکڑوں میں

” نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ 16 دسمبر 1971 ء کو پاکستان دولخت ہُوا جس نے پاکستانیوں کے دل لخت لخت کر دیے۔ مسجدوں کا شہر ڈھاکہ ہمارا نہ رہا۔ نا اہلی، کج روی اور عوام سے نا انصافی برتنے کے باعث سقوطِ ڈھاکہ، کا منظر ساری دُنیا نے دیکھا۔ متحدہ پاکستان کا دولخت ہو جانا، تاریخِ پاکستان کا ایک ایسا خوں چکاں سانحہ ہے، جو ہمیشہ لہو کے آنسو رُلاتا رہے گا۔ اس

Read more

ہم کہ ٹھہرے اجنبی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد فیض صاحب کی یہ غزل بچپن میں، میں نے نیرہ نور کی خوبصورت آواز میں سنی تھی اپنے بڑے بھائی طاہر سعید کے کمرے میں، ان دنوں

Read more

عشق کی تقویم اور گوڈیل کا نظریہ حیات بعد الموت

پوسٹ ٹروتھ کے اس ہنگام میں جب کہ معلومات، علم، اور حکمت کے درمیان شناخت کی سرحدیں مٹ رہی ہیں، ہر ذی شعور انسان ایک ان دیکھے وجودی بحران میں مبتلا ہے۔ ترک ناول نگار، الف شفق، کے مطابق بعض اس کا ادراک نہیں کر پا رہے ہیں اور بعض جان بوجھ کر باقی صدیقی کے اس شعر کی جیتی جاگتی مثال بنے ہوئے ہیں : کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو مغربی ایشیا

Read more

پامسٹری کی کرامت

یہ واقعہ آج سے چالیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ کینیڈا میں چند سال گزارنے کے بعد جی میں خیال آیا کہ پاکستان کی سیر کی جائے اور اپنے عزیزوں، اپنے رشتہ داروں، اپنے پیاروں اور اپنے یاروں سے ملاقات کی جائے۔ اس وقت میرے پاس دو پاسپورٹ تھے۔ ایک پاکستانی اور ایک کینیڈین پاسپورٹ لیکن اتنا وقت گزرنے کی وجہ سے میرا پاکستانی پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا تھا۔ اب میرے پاس پاکستان جانے کے دو راستے تھے یا تو

Read more

روح کی ڈھولک پہ شاداں: غلام حسین ساجد

موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اردو غزل ہر عہد میں

Read more

!سستی بجلی بھی مبارک ہو پاکستانیو

جب تاریخ کے دھندلکوں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں ایسے نادر نظارے نظر آتے ہیں جہاں بادشاہوں کے دربار میں ہر حکم کی تعمیل کی جاتی، گویا کوئی مذاکرہ، کوئی مکالمہ، یا خدانخواستہ کوئی سوال پوچھنا گناہِ کبیرہ ہو۔ ہم آج بھی ارض پاک پر انہی معتبر روایات کے وارث ہیں، جہاں ”بڑے بھائی“ کی مہربانیوں کی برکت سے ہم سب نہ صرف نفسِ مطمئنہ سے بہرہ مند ہیں بلکہ ”ارزاں برقی رو“ کی اُس کہکشاں میں داخل ہو چکے

Read more

خواب سے خواب تک (آٹوبائیوگرافک افسانچہ)

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

الفاظ کا صحیح چناؤ

انسانی زندگی میں ان کے استعمال کیے گئے الفاظ اور لب و لہجے کا ایک اہم رول ہوتا ہے۔ انسان کا کردار انسان کے بولے گئے الفاظ کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔ اگر انسانی معاشرے کی بول چال ٹھیک ہے مہذب ہے تو سمجھو کہ یہ معاشرہ ترقی یافتہ ہے۔ کسی بھی انسان میں چھپے ہوئے رازوں کو معلوم کرنے کا بہترین ایکسرے کسی انسان کی بول چال ہے۔ اگر آپ کسی کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں یا کسی سے

Read more

ماضی کی خوش مزاج جیا امیتابھ بچن اتنی چڑچڑی کیسے ہو گئیں؟

ایک زمانہ تھا جب ہندی فلموں کی خوبصورت، بھولی بھالی، دلکش اور باوقار فلمی ہیروئن جیا بچن فلم بینوں کی جان تھی۔ لیکن اب نرم اور دھیمے مزاج کی جیا ایک چڑچڑی اور غصہ ور عورت میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اپنی بد مزاجی اور چڑچڑاہٹ کی وجہ سے وہ لوگوں کی تنقید کا موضوع بن گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو پہ کمنٹس میں انہیں فریسٹریٹڈ، ”گڈی“ کی ہیرؤین سے گھمنڈی اور بد دماغ

Read more

سقوط ڈھاکہ اور تاریخ کا فراموش کردہ سبق

بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے زوال کے بعد منائی جانے والی سقوط ڈھاکہ کی برسی کے موقع پر پاکستان میں بنگلہ دیش کے ساتھ کنفیڈریشن کی نوید دی جا رہی ہے۔ ملک و قوم کے بہت سے بہی خواہ عوام کو یہ خوش خبری دینا چاہتے ہیں کہ اب ڈھاکہ میں ’پاکستان دوست‘ حکومت قائم ہو چکی ہے جو اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ 1971 میں لیڈروں کی غلطیوں اور دشمن ملک سازشوں کی وجہ سے وہ

Read more

مقبرہ بی بی مائی صاحبہ

سابقہ ریاست بہاولپور کے تاریخی شہر خان پور میں تاریخی ورثے کے نام پہ ایک خوبصورت مقبرہ واقع ہے جو شہر کے سب سے قدیم قبرستان جٹکی بستی کے جنوبی سِرے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مقبرے کو ہم گمنام مقبرہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ گمنام اس لیے کہ یہاں کون دفن ہے یہ تو ہم جانتے ہیں لیکن ان کے نام کیا ہیں اس حوالے سے تاریخ بھی خاموش ہے۔ یہ مقبرہ جِسے لوگ مقبرہ بی بی مَائی

Read more

چترال میں خودکشیاں اور پولیس کا ایس پی ڈی پروگرام

ان دنوں صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی چترال جیسے خوبصورت علاقے میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ایک سنگین سماجی مسئلے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں خودکشی کرنے کا یہ مسئلہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے دردناک صدمہ ہے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے چترال پولیس کی جانب سے Suicide Prevention Desk کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو کہ

Read more

ناصر ادیب نے ریما سے معافی کیوں مانگی؟

آج کل معروف فلم ڈائریکٹر، رائٹر، شاعر ناصر ادیب تنقید کی زد میں ہیں، انہوں نے ایک اداکارہ کے بارے میں انتہائی نامناسب گفتگو کی جو آج کل دولت کی ریل پیل کی وجہ سے ملک پاکستان کیا دنیا کی معزز ترین اور خاندانی خاتون بن چکی ہے، ناصر ادیب نے چند روز قبل ایک پوڈ کاسٹ میں پاکستان فلم انڈسٹری کی ماضی کی یادیں بتائیں، ناصر ادیب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، پاکستان کی فلمی دنیا کا بہت

Read more

انسانی تاخت و تاراج اور تہذیبی شکست و ریخت کے بیچ جنگیں اور ان سے جڑی نفسیات

جنگیں بذاتہہ اور بنفسہ ہولناک اور تباہ کن ہوتی ہیں۔ جنگیں اگرچہ نظام عالم کو درست کرنے کے لئے لڑی جانی ہونی ہیں، مگر انسانی تاریخ ایسے ہزاروں وحشتناک جنگوں کا حوالہ فراہم کر سکتی ہے جو انا، ضد، ہٹ دھرمی، مذہبی انتہا پسندی، لوٹ مار، نفرت اور ایسے ہی دیگر بنیادوں پر لڑی گئیں اور انسانیت اور آدمیت کو روندا گیا۔ عہد قدیم میں بادشاہوں اور سلاطین کی جنگیں، آپسی رسہ کشی کی جنگیں، مذہبی جنگیں، دور وسط میں

Read more

ایک انسان دوست ’سالک‘ : ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، آپ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں اور اپنے شعبے میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ ایسے اہم پیشے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ادب کے میدان میں بھی ایک منفرد اور اعلیٰ مقام پر متمکن نظر آتے ہیں۔ آپ ادیب، شاعر، ترجمہ نگار، خود نوشت نگار، ٹک ٹاکر اور کالم نگار ہیں۔ آپ پچیس سے زائد کتابوں کے

Read more

عجیب حادثہ

جی حضور! صرف حادثہ ہی نہیں عجیب حادثہ۔ سن کر عجیب تو لگتا ہے لیکن کیا کریں کچھ حادثے واقعی عجیب ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے ضیاء مذکور کا ایک شعر پڑھا: عجیب حادثہ ہوا عجیب سانحہ ہوا میں زندگی کی شاخ سے ہرا بھرا جدا ہوا یہ الفاظ مرے ذہن میں کندہ ہو کر رہ گئے۔ میں نے اس درد کو محسوس کرنے کی کوشش کی تو مجھ پر بہت ہی انوکھی کیفیت وارد ہوئی اور خیالات کے

Read more

مزدور رہنما غلام دستگیر محبوب

آزادی کے 77 برس گزر جانے کے باوجود پاکستان آج بھی اقتصادی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ برصغیر پر انگریز سامراج کے تسلط کے دوران ایک طرف اس دھرتی اور اس کی مٹی کے غداروں، مخبروں اور وطن دشمنوں کو نوازنے کے لیے وسیع تر جاگیریں الاٹ کی گئیں، تو دوسری طرف سامراجی استحصالی نظام کو دوام بخشنے، آزادی کے متوالوں کو سبق سکھانے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی کا وسیع تو جال بچھایا گیا۔

Read more

چند دن تاریخی روایات کی سرزمین ملتان میں ( 1 )

مجھے نگر نگر گھومنے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ اسی شوق کی تکمیل میں اب تک میں پاکستان کی سب ہی بڑے شہر دیکھ چکا ہوں لیکن ملتان جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اس سرزمین کو دیکھنے کی تڑپ بہت عرصے سے میرے دل میں تھی۔ گزشتہ سال برطانیہ سے آئی ہوئی بیٹی کے ساتھ ملتان سے اس کی ہم جماعت سے ملنے کا پروگرام طے ہو گیا تھا لیکن سموگ اور دھند کی وجہ سے موٹر وے بند

Read more

ایلون مسلک کی بنائی روبوٹ خاتون اور پاکستانی خاتون کے درمیان کیا فرق ہے؟

یہ سوال ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے اپنی فیس بک وال پر شیئر کیا ہے، جس کے جواب میں ”کی بورڈ اصلاح پسند“ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں، سوال کو سمجھنے کی بجائے ٹھٹھے اڑائے جا رہے ہیں۔ معروف بھارتی دانشور جاوید اختر نے ایک بار کہا تھا کہ ”شادی“ تو محض ایک رسم کا نام ہے، اس سے زیادہ رشتے میں دوستی، برابری اور اخلاص کی اہمیت ہوتی ہے، مشرقی روایات میں شادی کا مطلب جبری بندوبست ہوتا

Read more

وکٹوریہ: طبقاتی تفاوت پر تحریر کیا گیا بہترین ادب پارہ

وکٹوریہ کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے

Read more

یونس خاموش کے شعری مجموعہ ”سرد آگ“ کا تجزیہ

یونس خاموش کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ آپ نہ صرف شاعر ہیں بلکہ محقق اور نقاد بھی ہیں۔ یونس خاموش نے اپنا ایم فل کا تحقیقی مقالہ جدید غزل گو شاعر ”نصرت چوہدری“ کے فن اور شخصیت پر لکھا ہے جو ان کی تحقیقی اور تنقیدی سوچ کا ایک ثبوت ہے۔ ”یونس خاموش“ کا شعری مجموعہ ”سرد اگ“ جولائی 2024 میں مکتبہ اسالیب، سرگودھا سے شائع ہوا ہے۔ یونس ”سرد اگ“ میں بڑے سادہ اور خوبصورت طریقے سے یونس خاموش

Read more

گیارہ دسمبر، پہاڑوں کا عالمی دن

آج دنیا بھر میں پہاڑوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پہاڑ نہ صرف جغرافیے کے خد و خال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ تہذیب و ثقافت، کلچر، زبانوں، ادب، پانی اور زندگی کے قیام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہر سال پہاڑوں کا عالمی دن منانے کے لیے میں سال میں کم از کم ایک بار پہاڑوں کی زیارت پہ ضرور نکلتا ہوں۔ کبھی برف پوش پہاڑ، کبھی سرسبز و شاداب پہاڑ، کبھی گنجلک

Read more

موت، محبت اور مزاحمت کی نظمیں

مجھے لاہور کے دانشور اور سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے جو ساری دنیا کے مختلف ممالک کے بیس شاعروں کی ساٹھ نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں کے مجموعے کو پاکستان کی شاعرہ رمشا اشرف نے مرتب کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے دو ہزار سترہ میں لکھاریوں کے بین الاقوامی پروگرام میں خود بھی شرکت کی تھی اور اس اینتھالوجی میں ان کی اپنی معنی خیز نظمیں بھی شامل ہیں۔ اس مجموعے

Read more

سرکریک اور گوادر

گزشتہ کالم میں سیونتھ میری ٹائم سیکورٹی ورک شاپ میں شمولیت کا ذکر کیا تھا ڈائریکٹر میڈیا نیوی علی عرفان میڈیا کے معاملات کو دیکھ رہے تھے جب کہ نیوی وار کالج کے کمانڈنٹ ریئر ایڈمرل اظہر محمود نے یہ سیونتھ میری ٹائم سیکورٹی ورک شاپ کو اس طرح سے ترتیب دیا ہوا تھا کہ ہمارا اگلا پڑاؤ سرکریک تھا۔ سرکریک ایک ایسا معروف علاقہ ہے جو کہ نو آبادیاتی دور کے خاتمہ سے اب تک پاکستان اور انڈیا کے

Read more

صادقہ نصیر کی کتاب روزمرہ کی نفسیات

کتاب ”روزمرہ کی نفسیات“ میں صادقہ نصیر صاحبہ نے انسانی شخصیت، جذبات، رویوں اور نفسیاتی مسائل کو عام فہم اور سائنسی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف نفسیاتی علم پر مبنی ہیں بلکہ معاشرتی حقیقتوں کا آئینہ بھی ہیں۔ زیرِ بحث مضامین، جیسے ”مشاہدۂ باطن“ ، ”اوسط ذہانت کے لوگوں کے عمومی رویے اور خصائل“ ، ”حسد انسانی شخصیت کا منفی پہلو“ اور دیگر، انسانی رویوں کی گہرائی اور ان کے معاشرتی اثرات کو نمایاں کرتے

Read more

فیس بک ناولز اور ادب کی بے توقیری

”تعلیم انسان کو پڑھنا سکھا دیتی ہے، لیکن یہ نہیں سکھاتی کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا۔“ اس کا ثبوت دیکھنا ہو تو فیس بک پر شیئر ہونے والے اردو ناولز پر نظر کریں۔ یہ ایسے ناولز ہیں جن کو ناول کہنا ہی لفظ ناول کی توہین ہے۔ یہی ناولز، ان کے سینز، ان کے کردار انسٹاگرام ریلیز اور یوٹیوب پر آڈیو پلس پیج ویو کے ساتھ اپ لوڈ ہو کر تشہیر پا رہے ہیں۔ آپ ان کے

Read more

کیا آپ اقبال حسن آزاد کو جانتے ہیں؟

میرے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ میں آج کے اہم ادیبوں کو سامنے لانے میں مگن رہتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار نوخیز لکھاریوں کے کام کو بھی ہائی لائیٹ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مگر اس مضمون میں اردو کے ایک اہم افسانہ نگار کا شخصی و ادبی و پروفیشنل تعارف کروانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس سے ادب کے طلباء کو اس ادبی آواز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اقبال حسن آزاد 26 جنوری

Read more

ڈیجیٹل دُنیا اور ہمارے بچے بچیاں

ماہر عمرانیات کرہ ارض پہ انسانی سماج اور معاشرے کے ارتقائی سفر کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، ابتدائی انسانی زندگی غار اور شکار کا دور کہا جاتا ہے، جہاں انسان صرف مرد و عورت کے جوڑوں کی صورت میں زندگی گزارتا تھا، اولاد پیدا ہونے اور افراد بڑھ جانے کے کے بعد باقاعدہ خاندان، قبیلے، گروہ، برادری جیسے ادارے تشکیل پانے لگے اور انسان نے شکار کے ساتھ اناج، پھل، سبزیوں کو بھی بطور خوراک استعمال کرنا شروع

Read more

”کیا یہ واقعی سیاسی جماعت ہے؟“

24 نومبر کی ”فائنل کال“ پی۔ ٹی۔ آئی کی نگاہ میں اس لئے ناکام و نامراد نہیں ٹھہری کہ وہ ڈی۔ چوک پہنچ کر اپنے عزائم کے خاکے میں رنگ نہیں بھر سکی۔ اُس کے نزدیک شکستِ آرزو کا نوحہ یہ ہے کہ حسبِ توقع لاشیں نہیں گریں، حسبِ تشنگی خون نہیں بہا اور حسبِ تسکین غارت گری نہیں ہوئی۔ پارٹی کے اندر ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے اور منہ نوچنے کا تماشا ”لاشوں“ کی تعداد پر لگا ہے۔ ”حسب

Read more

نامور فرانسیسی مصنف ایبے پریووس کا ناول مینن لیسکاٹ

ناول کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم اس کے مصنف کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ ایبے پریووس ( 1697۔ 1763 ) جن کا اصل نام انتوان فرانسو پریووس تھا ہیسڈن فرانس میں پیدا ہوئے۔ وہ فرانس کے نامور فکشن نگار، مورخ اور پادری تھے۔ ان کی زندگی دل چسپ اور غیر روایتی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں یسوعی جماعت میں شمولیت اختیار کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور بعد میں بیڈ کائن راہب بن گئے۔ تاہم

Read more

تعصب کی نفسیات اور سماجی اثرات

تعصب سماجی نفسیات میں زیر بحث آنے والا اہم موضوع ہے۔ جس کو سمجھنے کے لئے کئی پہلو ہیں۔ تعصب یا Prejudice انسانی سماج میں بقا کے لئے استعمال ہونے والا ایسا منفی نفسیاتی احساس ہے جو کسی سماج یا سماج کی کسی اکائی میں فرد اپنی کم مائیگی پر قابو پانے کے لئے ایسے خیالات اور احساسات کو اپنے اندر اجاگر کرتا ہے یا سمو لیتا ہے جس سے اس کو احساس تفاخر ملتا ہے جو نتیجتاً اس کے دماغ

Read more

سہیل پرواز اور ڈھاکہ کے دکھ

سہیل پرواز کا شمار اردو ادب کے نمایاں اور معروف ادیبوں میں ہوتا ہے۔ جن کی اب تک تین کتب ”ڈھاکہ! میں آؤں گا، جو تنہا کر گئی مجھ کو“ اور ”ادھر ڈوبے ادھر نکلے“ سامنے آ چکی ہیں۔ سہیل پرواز آغا جی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ وہ ایک ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں۔ لیکن وہ ایک آرمی افسر کی بجائے ایک ادیب کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ سہیل پرواز کا ناول ڈھاکہ! میں آؤں گا، ایک

Read more

گرداب میں پھنسی ملکی سیاست

میثاق جمہوریت ملکی سیاست کی بلوغت کا آغاز تھا جس نے مقتدرہ کو سیاسی معاملات سے مکمل نہیں تو بہت دور ضرور کر دیا تھا۔ 2008 اور 2013 کے الیکشن بہرصورت مناسب الیکشن تھے۔ اس وقت ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا بھرپور احترام کیا اور طے شدہ دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سیاست کی۔ مقتدرہ نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی اس چال کو پلٹنے کے لیے عمران خان کا

Read more

فیصل آباد، کج روی، آوارگی، لائل پور

گزشتہ دنوں سرکاری فرض کی بجا آوری کے لیے تعلیمی بورڈ، فیصل آباد پہلی دفعہ جانا ہوا۔ جھنگ روڈ، ہوائی اڈے کے پاس شہر کے ایک کونے میں جانا ایسے ہی ہے، جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر۔ دفتر داخل ہوتے ہی بلند و بالا عمارت کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھے بورڈ کے نام میں کج روی دیکھ کر ذہن کو عجیب سا جھٹکا لگا۔ ہر ڈویژن کے تعلیمی بورڈ پر دُرست عبارت ایسے لکھی ہوئی

Read more

سولہ دسمبر 1971۔ سولہ دسمبر 2024: تذلیل، توہین اور گمشدہ شناخت کے 19,359دن

ایک نسلی برادری، جو ”بہاری پاکستانی“ کے نام سے جانی جاتی ہے، بے دردی سے جانچی گئی ہے۔ میں نے اس کمیونٹی کے حوالے سے، اور خاص طور پر غیر بنگالی یا بہاری پاکستانی محصورین کے لیے، اپنی مقدور بھر آواز اٹھانے کی، آگاہی اور ہم دلی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشتر میڈیا کے فورمز ایسی تحریر اور رائے کو رد کر دیتے ہیں یا ان کو جگہ دیتے ہیں جن کے عہدے اور مرتبے رعب اور دبدبے

Read more

دمشق پر باغیوں کا قبضہ

  1984 میں اپنی وفات سے چند ہفتے قبل فیض احمد فیض اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ اتفاق سے وہ جتنے دن یہاں قیام پذیر رہے میری ان سے روزانہ اور طویل ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کی بدولت میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ان کے انتقال کے بعد اکثر یہ سوچتا رہا کہ شاید دنیا سے رخصت ہونے سے قبل وہ اپنے دل میں چھپائے خیالات برملا بیان کردینا چاہ رہے تھے۔ بہرحال اسلام آباد تشریف لانے کے پہلے دن

Read more

گونگے کا خواب: طارق بلوچ صحرائی کی کتاب

  کتب کے مطالعے اور تحریر کے اپنے ذوق کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اب یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ گزشتہ دنوں فیس بک کی میموریز میں ایک پرانی تحریر سامنے آئی، جس میں، میں نے ایک کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔ یہ کتاب معروف مصنف طارق بلوچ صحرائی کی ہے، جس کا نام ”گونگے کا خواب“ ہے۔ یہ کتاب میں نے 2017 میں پڑھی اور اس پر ریویو لکھا تھا۔ اس

Read more

کہانی کے اختتام پر ادبی جھڑپ

سال تھا 1913، جب جارج برنارڈ شاہ کا مشہور ڈرامہ Pygmalion پہلی بار تھیٹر پر پیش کیا گیا۔ یہ کہانی پروفیسر ہنری ہیگنز کی ہے، جو ایک ماہر لسانیات ہیں اور ایک عام پھول بیچنے والی لڑکی، الیزا ڈولیٹل، کو اعلیٰ طبقے کی خاتون بنانے کا چیلنج قبول کرتے ہیں۔ ڈرامے میں زبان، طبقاتی تفریق، اور انسانی عزتِ نفس جیسے گہرے موضوعات کو نہایت ہنر مندی سے پیش کیا گیا۔ شاہ نے اختتام میں دکھایا کہ الیزا اپنی آزادی کا

Read more

چتوڑ جسے چٹورگڑھ بھی کہا جاتا ہے

میری معلومات کے مطابق اس علاقے میں چتوڑ نامی ایک قلعہ بھی موجود ہے جو اپنی وسعت کی بنیاد پر ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں پیار اور محبت کی ایک لوک داستان بھی مشہور ہے۔ حال ہی میں اس موضوع پر پدماوت نامی ایک فلم بھی بنی ہے۔ یہ قلعہ کوٹا سے دو سو کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس علاقے کی تاریخ انتہائی دلچسپ ہے اور اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے۔

Read more

پنجاب کٹہرے میں: کتاب پر تبصرہ

یہ ایک شاندار کتاب ہے جس کا ٹائٹل محاورے کی زبان میں صرف ٹپ آف آئس برگ ہے۔ علم و تاریخ، تجزیہ و زاویہ نظر کا ایک خزانہ ہے۔ آپ کئی دفعہ کتاب رکھ کر سوچنا شروع کر دیں گے اور کئی دفعہ سوچتے سوچتے دوبارہ اٹھائیں گے۔ کئی دفعہ تو آپ کو مصنّف پر شدید غصہ آئے گا لیکن جلد ہی وہ غصہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے سلیبس بنانے والے اور کاسہ لیس تاریخ دانوں کی طرف منتقل

Read more

ڈرنا مبارک ہو پاکستانیو!

پاکستان، جہاں ”میرے عزیز ہم وطنو“ کا دل جمہوری بے چینی اور سیاسی اضطرار کی کیفیت میں کسی بُوٹ کی آہٹ کے مدہم سروں پر دھڑکتا تھا، وہاں آج ہم سب ”بڑے بھائی“ کی شفقت بھری قیادت کے سائے میں امن و آشتی سے جی رہے ہیں۔ اس سکون میں کوئی بے ترتیبی نہیں، کوئی آزادی کا دھوکا نہیں، کوئی اختلاف کا نعرہ نہیں۔ یہ وہ مثالی کیفیت ہے جس کی خواہش تاریخ میں گزرے ہر آمر نے کی مگر

Read more

فلموں کو دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ : اینیمل اور کبیر سنگھ

”فلم وہ نہیں جو لوگوں کی تفریح کا باعث ہو بلکہ فلم وہ ہے جو لوگوں کو تدبر پر مجبور کرے۔“ یہ بات روسی لکھاری میکسم گورکی نے ایک فلم پریمیئر سے واپسی پر کہی۔ ویسے تو اب فلمیں محض تفریحی مقاصد کے لیے بنائی اور دیکھی جاتی ہیں لیکن فلم کے مزید کئی مقاصد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سینما کو میچور یا سنجیدہ شائقین درکار ہیں۔ یہاں سنجیدگی سے مراد

Read more

وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور ہونہار سکالرشپ پروگرام!

مریم نواز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالے کم و بیش 10 ماہ ہو چلے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جب مریم نواز کو وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے نامزد کیا تب صحافتی اور سیاسی حلقوں میں یہ خبر خاص طور پر زیر بحث آئی تھی۔ ناقدین نے اس نامزدگی کو خوب ہدف تنقید بنایا۔ سیاسی مخالفین کی تنقید سے قطع نظر، بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ پنجاب جیسے اہم اور بڑے صوبے کے

Read more

اوسلو میں فرگنر پارک کی سیر

آج میرا یہاں آخری دن تھا۔ کل میں لکسمبرگ واپس جا رہا تھا۔ آج ہم یہاں فرگنر پارک دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ اوسلو کے جنوبی ضلع میں واقع اوسلو کا سب سے بڑا پارک ہے۔ جو 32 ہیکٹر رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہ سیاحوں کے لیے رات دن ہر وقت کھلا رہتا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے کوئی ٹکٹ بھی نہیں ہے۔ اس پارک کی شہرت کی اصل وجہ اس میں موجود گسٹووائج لینڈ سکلپر پارک ہے۔ جہاں گسٹو

Read more

مولانا فضل الرحمن 73 کے آئین کے تناظر میں

قانون سازی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ کھلی ڈھلی بحث و تکرار کے بعد دلائل سے کسی ضابطے کو قوم کے لیے مفید ثابت کر کے ریاستی ”دستور“ کا حصہ بنایا جائے۔ جسے چھپ چھپا کر راتوں رات ہوشیاری، چالاکی، دھونس، دھاندلی، زور، زبردستی یا پھر مکاری کے ساتھ پاس کروانے کی کوشش کی جائے وہ ”ڈاکہ“ تو کہلوا سکتا ہے لیکن کسی مہذب ریاست کا ”دستور“ نہیں ہو سکتا ۔ دنیا بھر کے قانون ساز ادارے دیگر اداروں

Read more

کاہے کو بیاہی بدیس

میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔ تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ اندھیری رات کی کالی چادر اوڑھے پیار کا یہ پہلا اظہار تھا۔ وہ الگ ہوئی تو پہلا جملہ تھا، ”مجھے اماوس کا آسمان بہت پسند ہے۔“ ”اماوس ہی کیوں؟“ ”یہ اندھیرا راز محبت کی پردہ داری کرتا ہے، جذبات کے لیے حجاب بن جاتا ہے۔“ ”کالی ٹھنڈی اماہ

Read more

’پراوین‘ کی لکھی کہانی پر غور کریں

ایک بارپھر آپ سے التجا کر رہا ہوں کہ انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں نے ہمیں خود ستائشی یا دوسروں کی ذلت سے لطف اٹھانے کی جس علت میں مبتلا کررکھا ہے کبھی کبھار اسے بھلا کر عالمی سطح پر ابھرتی نئی گیم پر بھی نگاہ ڈال دیا کریں۔ ”عالمی سطح“ کا ذکر ہو تو ہم جیسا ملک امریکہ میں ہوئی تبدیلیوں پر اپنی بقا کے لئے توجہ دینے کو مجبور ہوتا ہے۔ ہماری بڑھک بازیوں اور قومی حمیت کے

Read more

بوسے عارض گلفام کے

پچھلے برسوں ایک” ایتھے۔ چُمّی۔ اوتھے۔ ٹھا“ قسم کی جسٹس جاوید اقبال کی ایک نیب زدہ ویڈیو ریلیز ہوئی تو ایک شعر ہر قسم کی وردی، بے وردی، انصافی انتظامی بیوروکریسی کے ممبران، یہ کم بخت مردوے سرکاری اہل کار ایسے اللہ لوگ ہیں کہ جیسے سیٹھوں اور سائلین بے بساط سے بے دھڑک رشوت اور بخشش مانگتے ہیں ویسے ہی عفت مآب بی بیوں سے چمیاں بھی مضطر خیر آبادی کی سی معصومیت سے مانگ لیتے ہیں۔ یہ نہیں

Read more

گورکھ دھندا

ثانیہ کو اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنا تھی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ وہ جمال احمد کے لیے اتنی اہم تو نہ تھی کہ تعلق ٹوٹنے سے اسے کوئی فرق پڑتا مگر کیا اتنی غیر اہم تھی کہ اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا، یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ ان کی گفتگو انسانی ذہن کی وسعتوں میں سمانے سے قاصر اعداد و شمار اور علامتوں کے انوکھے تال میل کا روپ ڈھالتی، روشنی کے موتیوں

Read more