ساری زندگی اس نام نے دکھ دیا۔ یہ نام رکھا کس نے تھا اور کیوں رکھا تھا۔ ذلیل کرنے کے لیے یا پھر دھوکہ دینے کے لیے، یہ بات اسے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ مگر نفرت تھی اسے اپنے آپ سے منسوب اس نام سے۔ جب بھی کسی نے نام پوچھا۔ چندا۔ اس نے حلق سے گولی کی طرح اپنا نام اسے دے مارا مگر اب جوں جوں عمر بڑھتی جا رہی تھی اس نے اپنے نام کی توہین کرنے کا مہذب طریقہ اپنا لیا تھا۔ کسی سوال پوچھنے والے کو اپنا نام بتا کر اسی سانس میں کہتی۔ ہے بھلا کوئی تک۔ یہ منہ اور متھا اور یہ نام۔ پتہ نہیں ماں باپ نے محرم کا چاند دیکھا تھا یا اماوس کا ۔
نہ دنیا میں آنے میں اس کا دوش، نہ معاشرے کے بنائے گئے حسن کے تصورات پر پورا نہ اترنے میں اس کا قصور، اس کے باوجود بھی بدصورت کہلانے کی سزائیں خوب بھگتیں اس نے۔ تین بڑے بھائی بہن اور سب سے چھوٹی چندا۔ سب سے دبتا ہوا رنگ اور نہایت گیا گزرا ناک نقشہ، تو توجہ بھی اسی حساب سے ملی۔ یعنی سب سے کم۔ بچپن میں تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت پانے کی آرزو میں ان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی۔ کسی کے کپڑے استری کرتی اور کسی کے جوتے صاف کرتی۔ بہن بھائیوں کے سارے کام بھاگ بھاگ کر کرتی۔ مگر کسی کو اس سے کبھی کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی۔ آپا تو صاف صاف کہا کرتی تھی کہ کھرچن ہے، ہزاروں میں کوئی ایک بھوکا کھا کر پیٹ بھرتا ہے ورنہ پھنکتی ہے۔ پتہ نہیں کمبخت کس پر چلی گئی۔ ماں بڑبڑاتی۔
Read more