منصورہ احمد: ایک متنازع شخصیت، ایک معتبر شاعرہ (2)

محترمہ ادا جعفری، کشور ناہید، زہرہ نگاہ، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض اور اسی درجے کی چند اور شاعرات کے قلم کی جنبش جب سست روی کا شکار ہو گئی یا یوں کہیے کہ ان کی شاعری منظر عام پر آنا جب کم ہو گئی تو دلداگان شعر و ادب نے شاعرات کے تخلیقی جوہر کی کمی کا شدت سے احساس کیا ایسے میں اچانک متعدد شاعرات سامنے آئیں۔ ان میں ایک نام پروین شاکر کا بھی تھا جبکہ سارہ

Read more

عربی سے طب تک (5)

خواجہ اسلم میرا ہم جماعت تھا۔ نکلتے ہوئے قد آور نکھرے ہوئے چہرے کے ساتھ سمارٹ نوجوان تھا۔ شکل و شباہت سے زیادہ اس کی شخصیت بڑی متوازن اور پرکشش تھی۔ اس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ طاری رہتی تھی۔ ہمارے درمیان بے تکلفی ہی نہیں راز داری بھی تھی۔ ایک دن مجھے کہنے لگا:میرا کیا بنے گا، مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرا سب کچھ ڈوب رہا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ڈیم میں پانی بھرنا شروع ہو

Read more

چندا

ساری زندگی اس نام نے دکھ دیا۔ یہ نام رکھا کس نے تھا اور کیوں رکھا تھا۔ ذلیل کرنے کے لیے یا پھر دھوکہ دینے کے لیے، یہ بات اسے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ مگر نفرت تھی اسے اپنے آپ سے منسوب اس نام سے۔ جب بھی کسی نے نام پوچھا۔ چندا۔ اس نے حلق سے گولی کی طرح اپنا نام اسے دے مارا مگر اب جوں جوں عمر بڑھتی جا رہی تھی اس نے اپنے نام کی توہین کرنے کا مہذب طریقہ اپنا لیا تھا۔ کسی سوال پوچھنے والے کو اپنا نام بتا کر اسی سانس میں کہتی۔ ہے بھلا کوئی تک۔ یہ منہ اور متھا اور یہ نام۔ پتہ نہیں ماں باپ نے محرم کا چاند دیکھا تھا یا اماوس کا ۔

نہ دنیا میں آنے میں اس کا دوش، نہ معاشرے کے بنائے گئے حسن کے تصورات پر پورا نہ اترنے میں اس کا قصور، اس کے باوجود بھی بدصورت کہلانے کی سزائیں خوب بھگتیں اس نے۔ تین بڑے بھائی بہن اور سب سے چھوٹی چندا۔ سب سے دبتا ہوا رنگ اور نہایت گیا گزرا ناک نقشہ، تو توجہ بھی اسی حساب سے ملی۔ یعنی سب سے کم۔ بچپن میں تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت پانے کی آرزو میں ان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی۔ کسی کے کپڑے استری کرتی اور کسی کے جوتے صاف کرتی۔ بہن بھائیوں کے سارے کام بھاگ بھاگ کر کرتی۔ مگر کسی کو اس سے کبھی کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی۔ آپا تو صاف صاف کہا کرتی تھی کہ کھرچن ہے، ہزاروں میں کوئی ایک بھوکا کھا کر پیٹ بھرتا ہے ورنہ پھنکتی ہے۔ پتہ نہیں کمبخت کس پر چلی گئی۔ ماں بڑبڑاتی۔

Read more

پڑھی لکھی زنانی اور اتھری گھوڑی

ماگھ کی پانچ اور انگریزی کی سترہ تاریخ تھی۔ وہ اس تاریخ کو آخری دفعہ مجھے ملی پھر ساون کی بدلی کی طرح کہیں کھو گئی۔ دراصل وہ تھی ہی ایسی جہاں کہیں ہوتی وہاں نہیں ہوتی تھی اور جہاں نہیں ہوتی تھی وہیں ہوتی تھی۔ ایسے لگتا جیسے اس پہ اس کا اپنا اختیار بھی نہ ہو۔ جوانی اس پر اتھری گھوڑی کی طرح بے لگام ہو کر آئی تھی۔ مجھے اتھری گھوڑیاں سدھارنے کا شوق تھا۔ وہ جو

Read more

( 1 ) منصورہ احمد، ایک متنازعہ شخصیت، ایک معتبر شاعرہ

منصورہ احمد علمی اور ادبی حلقوں کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان کی شخصیت کم و بیش تیس پینتیس برس موضوع بحث رہی اور وہ بھی مختلف زاویوں اور حوالوں سے۔ خود اپنی ذاتی حیثیت میں بھی اور احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی کی حیثیت سے بھی۔ حلقۂ ندیم اور حلقۂ فنون اور مخالف دھڑوں کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار حلقوں میں بھی۔ قاسمی صاحب کی گرتی ہوئی صحت کے باعث ”فنون“ کی بہت حد تک ذمہ

Read more

اختر حسین جعفری اور سید فخرالدین بلے

اختر حسین جعفری جدید اردو نظم کے قدآور شاعر تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ جدید اردو نظم کے انتہائی معتبر شاعر ہیں۔ اس لیے کہ وہ جہان ادب میں آج بھی زندہ ہیں۔ آسمان ادب کا ”اختر“ ڈوبا نہیں ٔ بلکہ جھلملا رہا ہے اور خوب جگمگا رہا ہے۔ وہ یقینی طور پر اختر صبح تھے اس لیے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوتے بھی ہمیں ”آخری اجالا“ دے گئے ہیں۔ ”آخری اجالا“ دراصل کلیات

Read more

کیرم بورڈ

آخری بار جب میں نے انہیں دیکھا تھا تو وہ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ اس دن جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ سو رہے تھے یا شاید بے ہوش تھے۔ چہرے کی جھریاں ایک دوسرے کے اوپر سمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سرخ ہونٹ کے ساتھ زبان بھی سرخ سرخ سی ہو رہی تھی۔ سر پر کوئی بال نہیں اور ماتھے کے تل کافی نمایاں تھے۔ دھنسی ہوئی آنکھیں اور چہرہ کسی مرے ہوئے آدمی کا چہرہ

Read more

علم موسیقی اور وارث شاہ ؔ کی ہیر ایک مختصر تحقیقی جائزہ

”ہیر وارث شاہ“ پنجابی زبان کا ایک شاہکار ادبی ورثہ ہے۔ بنیادی طور پہ یہ ایک منظوم داستان یا قصہ ہے جسے سید وارث شاہ نے اس انداز سے تکمیل تک پہنچایا کہ اس سے قبل اور اس کے بعد بھی جن لوگوں نے یہ قصہ لکھا وارث شاہ ان پر بھاری رہا۔ پنجابی ادب میں اگر کسی کو شہرۂ آفاق اور پنجابی زبان کا نمائندہ شاعر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہ وارث شاہ ؔہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش

Read more

بادشاہی الفریڈ اعظم کی: پڑھنا لاطینی، جلانا کلچے، اور ایجاد کرنا لالٹین کا

(1) گول میز والے کنگ آرتھر کے بعد انگلستان میں دوسرا مشہور بادشاہ الفریڈ ہوا ہے۔ اس کی میز کس شکل کی تھی یہ تاریخوں میں مذکور نہیں۔ اسے الفریڈ اعظم بھی کہتے ہیں۔ جس طرح سکندر اعظم کو سکندر اعظم اکبر اعظم کو اکبر اعظم اور جنرل اعظم خاں کو ۔ ۔ ۔ خیر ان کا معاملہ دوسرا ہے۔ سید ہاشمی فرید آبادی مرحوم کو تحقیق کا موقع ملتا تو یہی بتاتے کہ الفریڈ اصل میں الفرید ہے اور

Read more

بے بس لوگ

”ابو ابو مجھے بھی ویسی سائیکل لا دیں نا“ حامد ہر روز کی طرح آج بھی اسلم کی نظر سے بچنے کی کوشش میں تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح گھر سے نکلتے وقت اسلم نے آج بھی اس کا دامن پکڑ لیا تھا۔ حامد اسلم کے اس اصرار سے گھبرانے لگا تھا۔ چارپائی پہ بیٹھے ہوئے اس نے اسلم کو گود میں لیا۔ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے بہلانے کی کوشش کرنے لگا۔ ”بیٹا صاحب

Read more

بت اور بت

بنگلور ائرپورٹ پر تیس سالہ عالیہ نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پہ پہنچ کر پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن اسے صرف طارق کی پشت نظر آ رہی تھی۔ وہ دیکھتی رہی کہ شاید طارق مڑ کر اسے دیکھے بھری آنکھوں سے کہ پتا نہیں اب کب اور کہاں ملیں گے۔ لیکن طارق ایسے ہی کھڑا رہا ایک بت کی طرح۔ ایک بھاری نسوانی آواز نے عالیہ کو چونکا دیا۔ ’میڈم، سامان اور بیگ بیلٹ پہ رکھیں۔ ‘ تھوڑی دیر بعد عالیہ

Read more

حضرت علی مجسٹریٹ اعزازی

دس سالہ بیدار بخت ایک ہاتھ میں اپنا پھٹا سر دوسرے ہاتھ میں سائیکل کا ہینڈل آنکھوں میں آنسو اور زبان پر موٹی موٹی گالیاں لئے پیڈل پر پیڈل مارتا مجسٹریٹ آفس کی طرف رواں دواں تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ آج صبح اس کی ماں بیگم گل اور چاچی زیتون میں بجلی کے بل پر ہونے والی تکرار بڑھتے بڑھتے برتنوں کی گولہ باری میں تبدیل ہو گئی۔ چار بھائیوں کے اس مشترکہ خاندانی نظام میں بیگم گل کو

Read more

تکیہ تارڑ

17 مئی 2022 کی صبح تمام دوست ہمراہ استاد محترم ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ماڈل ٹاؤن پارک پہنچے۔ جہاں پر مستنصر حسین تارڑ معروف اردو ناول اور سفر نامہ نگار سے ملاقات مقررہ وقت پر ہوئی۔ صبح کا وقت، سوچ کا جزیرہ اور خیال کا تسلسل تکیہ تارڑ کی زینت بنا ہوا تھا۔ تکیہ تارڑ کا تجسس کسی دوسری طرف دھیان کرنے نہیں دے رہا تھا۔ تکیہ تارڑ کی ایک جانب یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے نشست کا اہتمام

Read more

علی آکاش: انسانیت اور محبتوں کا سفیر شاعر

شاعری وہ بھی غیرمعمولی، غیر روایتی، منفرد، جدت سے بھرپور، عوام کے احساسات کی عکاس، انسانیت کے جذبات کی ترجمان اور محبتوں اور روشن خیالی کی رنگینیوں کی سفیر شاعری ہر کسی کے ناں بس کی بات ہے اور ناں ہی ہر کسی کے حصے میں آتی ہے۔ علی آکاش ان شعراء میں سے ہے جس کے پاس ایسی شاعری خود چلی آتی ہے۔ علی آکاش الہامی شاعر نہیں جس پر شاعری نازل ہوتی ہو مگر اس انسانی سماج میں

Read more

برطانیہ میں محمود ہاشمی جرنلسٹ ایوارڈز

دنیا بھر میں تارکین وطن کو اپنی شناخت، زبان، کلچر اور ثقافت جیسے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نئے ملک میں آباد ہونے کے بعد وہاں کی زبان کو سمجھنا تو اپنے سروائیول یا بقا کے لیے مجبوری بن جاتا ہے، البتہ نئے ملک کی تہذیب، کلچر، ثقافت اور مذہبی رسم و رواج کو اپنانا بڑا کٹھن اور اور دیر پا عمل ہوتا ہے۔ بعض کمیونٹیز، بالخصوص پڑھے لکھے گھرانوں میں یہ عمل قدرے آسان ہوتا ہے اور ان کے

Read more

پطرس، احباب اور لاہور

پطرس بخاری 1917 ء میں لاہور آئے اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ اس کے بعد یہ جہاں بھی گئے لاہور ان میں سے نہیں نکل سکا۔ پطرس کے جگری یار امتیاز علی تاج لکھتے ہیں کہ پطرس اٹھارہ انیس سال کے تھے جب وہ پشاور سے لاہور آئے اور اس کی ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر اگلے اٹھارہ انیس سال کا کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جب پطرس لاہور میں ہوں اور ان دونوں نے سہ

Read more

مانوس اجنبی دوسری آمد

میرا نثری ڈراما ’بساط‘ اپریل 1987 میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ کتاب میں میری ایک کہانی ’مانوس اجنبی‘ بھی شامل تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح شطرنج کی ایک کتاب سے نمودار ہونے والا کردار مصنف کے لیے یہ ڈراما لکھنے کا محرک اور رہنما بنا۔ کہانی ’مانوس اجنبی‘ 6 اگست 2019 کو ’ہم سب‘ میں بھی شائع ہوئی۔ بساط کے بارے میں میرے دوست جاوید فیض (مرحوم) کی رائے تھی کہ یہ شاعری ہے۔ حنیف

Read more

گنٹر گراس، میلان کنڈیرا اور مساجنی

بیسویں صدی کے آخری نصف نے کئی انقلابات دیکھے مثلاً سامراجی نظام کا خاتمہ، کمیون ازم کا عروج و زوال، خلاء میں سفر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ مگر جس انقلاب نے بقول کسے ہمارے زمانے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ آزادی نسواں ہے۔ آزادی نسواں کی اس تحریک کے زیر اثر خواتین رہنماؤں نے مذہب، فلسفہ اور فن پر تنقیدی نظر ڈالنا شروع کی اور ایسے ہر عقیدے نظریے اور فن پارے کو مسترد کرنے کا

Read more

شری متی خوشونت سنگھ

ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے فرمان ”ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ کو جو مستند نہ مانے، بے بہرہ ہی کہلائے گا۔ یہی مشتاق احمد یوسفی بیان کرتے ہیں کہ میرے جاننے والوں میں ایک صاحب تھے جو مجھے شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے۔ میں اس پہ مخمصے کا شکار تھا۔ بس ایک دن ہمت کی اور پوچھ لیا کہ صاحب آپ مجھے شاہ جی کیوں کہتے ہیں جبکہ میں سید نہیں ہوں۔ بولے حضور

Read more

علی زاہد: معروف جدید اور روشن خیال شاعر

علی زاہد کا سندھی زبان کے مشہور جدید، ترقی پسند روشن خیال اور منفرد شعرا میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے سندھی زبان میں باکمال شاعری کی ہے۔ سندھی زبان کے علاوہ اس نے جو اردو میں شاعری کی ہے وہ بھی منفرد اسلوب اور منفرد انداز بیان کی خصوصیت سے سرشار ہے۔ اس لیے اس کو ہمعصر شعراء میں منفرد شاعر کا مقام حاصل ہے۔ دوسرے سندھی زبان کے شعراء جنہوں نے اردو میں شاعری کی ہے ان کی

Read more

انٹرنیشنل بکر انعام اور بکر انعام

سال 2022 ء کا انٹرنیشنل بکر انعام ہندی ادب کی نامور ادیبہ گیتا نجلی شری کو ناول ”ریت سمادھی“ کے انگریزی ترجمے Tomb of sand کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ ہندی ادب یا اگر یوں کہا جائے کہ برصغیر کی کسی بھی مقامی زبان سے اس مقابلے میں شامل ہونے والی اور انعام جیتنے والی پہلی کتاب ہے۔ ریت سمادھی کا انگریزی ترجمہ ڈیزی راک ویل نے کیا ہے۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل بکر انعام ہر سال کسی بھی

Read more

چچا سام کے نام دسواں خط

اٹھائیس مئی دو ہزار بائیس میانوالی۔ پاکستان ! چچا جان تسلیمات اس سے پہلے کے بجلی چلی جائے، مجھے خط لکھ لینے دیجیے۔ آپ کو کیا خبر کہ اڑتالیس ڈگری میں دوپہر کو جب دو دو گھنٹے بجلی چلی جاتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے، آپ تو اب مریخ کو آباد کرنے کا سوچ رہے ہیں، ادھر ہم زمین پر بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ پچھتر برس پہلے ہمارے دوست اور آپ کے ہردلعزیز بھتیجے سعادت حسن منٹو

Read more

مرد مسلمان اور اقبال

علامہ محمد اقبال اپنی نظموں میں اسلامی نقطہ نظر سے فنی آزادی، فلسفیانہ زیبائی اور معنوی بیداری کو باہم پیوست کر کے مرد مومن میں ہونے والے شعور ازل کے عناصر کی تقطیر کرتے ہیں۔ مرد مسلماں ایک ایسا نظم ہے جس میں ایک سیدھا سا سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک اچھے انسان اور اچھے مسلمان کے درمیاں کیا فرق ہے؟ ہمارے معاشرے نے اپنی پیشرفت کے دوران مختلف اخلاقی اصول پیش کیے ہیں جن کا بنیادی جواز یہ

Read more

سید سلطان احمد اجمیری اور سید فخرالدین بلے

ممتاز مذہبی و روحانی اسکالر اور معروف صحافی و ادیب سید سلطان احمد اجمیری فطرتاً درویش صفت اور فقیرانہ مزاج کی حامل شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اگر انہیں بے حد وسیع المطالعہ اور وسیع المشاہدہ تسلیم کیا جائے تو ان کی شخصیت کے بہت سے پہلووٴں کو سمجھنا قدرے آسان ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ حد درجہ کم گو ہونے کے باوجود مذاہب عالم۔ مذہب اسلام۔ تاریخ اسلام اور تصوف۔ عالمی ادب کے ہی نہیں

Read more

پس آئینہ عکس آب ہوں میں

بھمبر آزاد کشمیر کا ضلعی صدر مقام ہے۔ کبھی بھمبر پنجاب کی ایک اہم ریاست ہوتی تھی جو چار سو سال تک قائم رہی۔ اس ریاست میں بسنے والے لوگ بہت ہی جفاکش اور محنتی تھے۔ موجودہ دور میں بھی یہاں کے لوگ بہت محنتی، بہادر اور تعلیم یافتہ ہیں اور بہت سے اہم سول اور فوجی عہدوں پر فائز ہیں۔ انہی میں ایک ڈاکٹر محبوب کاشمیری بھی ہیں۔ ان سے میری پہلی ملاقات ایک دعوت میں ہوئی تھی جب

Read more

وہ لڑکی کہتی تھی کہ میں بیٹی نہیں بیٹا ہوں

نوے کی دہائی میں پورے کراچی میں شاید وہ واحد لڑکی تھی جو موٹر بائیک اڑائے پھرتی تھی۔ وہ مردانہ شلوار قمیض پہنتی مگر گھنے بالوں کی لمبی چٹیا کمر پر جھولتی تھی۔ معلوم نہیں اس کا رنگ، دھوپ اور دھول نے جھلسایا تھا یا حالات کی بھٹی میں تپ کر تانبا ہوا تھا۔ وہ بات چیت میں مونث کا صیغہ استعمال کرتی تھی مگر رویے میں بالکل مردوں کی طرح تھی سخت گیر، حاکمانہ اور سنگدل۔ مرد بھی اس

Read more

استاد بخاری: وقت رواں کا شاعر

سید احمد شاہ بخاری المعروف استاد بخاری سندھی زبان اور سرائیکی زبان کے بہت بڑے جدید قومی اور عوامی شاعر ہیں۔ استاد بخاری عوامی لب لہجے کے ایسے منفرد شاعر ہیں جو عام اور خاص میں یکساں مقبول ترین شاعر ہیں۔ ان کی سادی شاعری میں خیالات اور فکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شامل ہے۔ استاد بخاری نے اپنی شاعرانہ مہارت سے سندھی زبان اور سرائیکی زبان کے متروک لفظوں کو زندہ کیا ہے اور نئے الفاظ، اصطلاحات، استعارے اور

Read more

عشق ( فکشن، افسانہ یا حقیقت)۔

یہ شمس آباد ہے۔ یہاں نو گلیاں ہیں۔ دائروں کی صورت میں۔ تخلیق کار نے آرٹ کی سائنسی انتہا کر دی یہاں۔ یہ دائرے دراصل ایک روشنی اور حرارت کے دیوتا کے گرد قائم مدار ہیں۔ جسے سورج کہتے ہیں سورج یعنی شمس اسی کے نام پر یہ سارا نظام ہے جسے نظام شمسی کہتے ہیں۔ سنا ہے پہلے یہ تمام ایک گولے کی صورت میں یکجا تھے تخلیق کار نے پھر اس گولے میں جو توانائی بھر رکھی تھی

Read more

شب تاریک اور جگنو

معلوم تاریخ کے ہر دور میں عموماً مگر یورپ میں رہنے ساں یا احیاء العلوم کی تحریک کے بعد سے صرف اس معاشرے نے حقیقی ترقی کی ہے جس نے علم و ہنر کی نئی راہیں تلاشی ہیں۔ ان راہوں کو تلاشنے کا جنون یا تو ہم میں قدرت نے ودیعت کیا ہو تا ہے (جو یقیناً کم لوگوں میں ہوتا ہے) ۔ یا پھر ہمارے اساتذہ ہم میں پیدا کرتے ہیں بھلے وہ ہیلن کیلر کی ٹیچر اینی کی

Read more

خولیو لیامازارایس کا ناول ”پیلی بارش“: بھلا دیے جانے والوں کا نوحہ

جنگلوں اور غاروں میں حیوان ناطق کے دو بڑے دشمن تھے بھوک اور تنہائی، وہ اپنے زور بازو سے بھوک کے عفریت سے تو نبرد آزما ہوتا رہا لیکن تنہائی کا زہر اس کے لیے تریاق ثابت ہوا، جب اس نے آگ دریافت کی اور الاؤ جلا کر اس کے گرد مل کر بیٹھا، جہاں ایک طرف وہ اپنے تخیل کے بل بوتے پر نئے سے نئے کردار تخلیق کرتا رہا وہیں وہ اپنی سماجی اور معاشی زندگی میں بدلاؤ

Read more

شاعرہ ثروت محی الدین: مشرقی خواتین کے لیے رول ماڈل

جب سے ساری دنیا میں کرونا کی وبا پھیلی تھی شمالی امریکہ میں انجانے خوف کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔ بہت سے لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے تھے اور سکول ’کالج‘ دفتر اور ریسٹورنٹ اداس ہو گئے تھے۔ پھر لوگوں نے ویکسین لگوانی شروع کی تو کرونا کے خوف میں قدرے کمی آئی۔ پچھلے دنوں کینیڈا میں کرونا کی پابندیاں کم ہوئیں اور ریسٹورانٹوں کے دروازے کھلے تو از سر نو دوستوں سے ملاقاتیں ہونے لگیں

Read more

دائم اقبال دائم ایک درویش پنجابی شاعر (2)

مولانا مولا بخش کشتہ اپنی کتاب ً پنجابی شاعراں دا تذکرہ ً میں لکھتے ہیں جب دائم کو ابھی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ آئی ہی تھی تو اس نے پڑھائی کی طرف دھیان دینا شروع کر دیا۔ ابھی اس نے اساتذہ سے تھوڑا بہت سبق ہی پڑھا تھا کہ عشق مجازی نے اسے اپنی پٹی پر لگا لیا۔ میاں احمد یار گجراتی کی طرح وہ بھی کسی کے نینوں کی شکار ہو گیا اور پڑھائی چھوڑ دی ( شاہد اپنے

Read more

شوکت شورو: جدید سندھی ادب کے لیجنڈ لکھاری

شوکت حسین شورو اپنے مزاج اور شخصیت میں خاموش سمندر تھے۔ بہت کم اور دھیرج کے ساتھ بولتے تھے۔ مگر جب بولتے تھے تب اس کی باتوں میں موضوع کے لحاظ سے سمندر کی گہرائی اور ساون میں بہتے دریا کی تغیانی ہوتی تھی۔ وہ اپنی روش اور باتوں میں شہد کی مٹھاس رکھتے تھے۔ شوکت شورو سے کوئی نیا ادیب یا شخص ملتا تھا تو شوکت شورو کی خاموش طبع اور کم بولنے کی وجہ سے حیران و پریشان

Read more

رستمِ زبان و بیاں: ایم آر کیانی

جس طرح بقول مرزا نوشہ طرز بیدل میں ریختہ کہنا کسی قیامت سے کم نہیں اسی طرح میرے نزدیک طرز حالی میں غالب کا بیان ایک ایسا معرکہ ہے جو سر ہونا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ مولانا حالی نے ان کی صحبت میں ایک خاص وقت گزارا اور ان کے معمولات کو قریب سے دیکھا۔ پھر جب ان پہ لکھنے بیٹھے تو جو دیکھا اور محسوس کیا اسے ذاتی تعلق کے تعصب سے بالا ہو کر

Read more

ڈاکٹر اسلم انصاری اور سید فخرالدین بلے: داستان رفاقت

پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری کا 30 اپریل 2022 کو ماشا اللہ 83واں یوم ولادت منایا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری عصر حاضر کے ایک ممتاز محقق اور قادر الکلام شاعر ہیں۔ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے اور ڈاکٹر اسلم انصاری کی تعلق داری دوستانہ روابط اور مراسم بلکہ رفاقت کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ پورے وثوق سے ضرور کہہ سکتے ہیں کہ آنکھ کھولنے کے بعد سے

Read more

دائم اقبال دائم ایک درویش پنجابی شاعر (1)

دائم اقبال دائم ایک مستند پنجابی شاعر، قصہ گو، ادیب اور عملی زندگی میں ایک درویش صفت انسان تھے۔ بہت سے لوگ ان کے حلقہ ارادت میں شامل تھے اور ان سے روحانی عقیدت رکھتے تھے۔ وہ ایک عوامی آدمی تھے جن کے سخن میں اس کی جھلک نظر بھی آتی تھی۔ وہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان تھے۔ جس طرح ان کی شاعری کا ایک مخصوص رنگ تھا اس طرح ان کی زندگی کے بھی کچھ مخصوص رنگ

Read more

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا سر سامونڈی اور بنجاری کا درد

سر بنیادی طور پر موسیقی یا سنگیت کے سروں یا سرود سے منسلک ہے مگر سندھی زبان کی کلاسیکی شاعری میں سر موسیقی کے علاوہ شاعری کی موضوعاتی حوالے سے الگ ترتیب کو کہا جاتا ہے۔ سندھی زبان میں سر کسی ایک موضوع پر کی گئی شاعری کو بھی کہا جاتا ہے۔ سندھی کلاسیکی شاعری کے موضوع کے لحاظ سے الگ الگ سر ہوتے ہیں۔ یہ روایت محض سندھی زبان کی کلاسیکی شاعری میں ہی مروج ہے۔ کسی دوسری زبان

Read more

اسحاق سمیجو: اردو کے منفرد جدید شاعر

  اسحاق سمیجو اس وقت جامعہ سندھ جامشورو میں سندھی ادب کے پروفیسر اور سندھی شعبے کے چیئر مین ہیں۔ اس سے پہلے ڈائریکٹر سندھیالوجی کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ کم عمر میں سمیجو نے جہد مسلسل اور وسیع مطالعہ کے ذریعے اپنی علمی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بہترین شاعر اور نقاد بھی ہیں۔ اس نے شاعری کے میدان میں بھی اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے عہد حاضر میں نمایاں مقام

Read more

کس کا اعتبار کروں؟

صغیر کی پیدائش ایک غریب خاندان میں ہوئی۔ صغیر کا خاندان آزادی کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے لاہور آ بسا تھا۔ بھارت میں اس کے دادا کی کباڑ کی دکان تھی۔ صغیر کے دادا ایک شریف النفس انسان تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پاکستان میں آ کر کوئی جائیداد کا تقاضا نہ کیا بلکہ لاہور کے جنرل بس سٹینڈ پر ہاکر بننے کو ترجیح دی۔ بس سٹینڈ کا اپنا ماحول تھا۔ لڑائی جھگڑا روز کا معمول

Read more

پیپل کی چھاؤں میں اگا انگارہ

تاریخ یا مہینہ تو یاد نہیں البتہ دن جمعہ کا تھا۔ میں حسب روایت علی ہسپتال سے نو نمبر کی ویگن پکڑ کر گول باغ پہنچا تھا۔ ویگن جس جگہ رک کر مسافروں کو اتارتی عین اسی جگہ ایم ڈی اے (ملتان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) کی کچرے سے بھری ٹرالی منہ کھولے منتظر ہوتی۔ کبھی کبھی تو ویگن سے اترتے ہوئے پاؤں کسی تھیلے، چھلکے یا استعمال شدہ بنیان پر آ جاتا۔ ان بھبکوں سے محظوظ ہوتا، دامن بچاتا میں عمارت

Read more

”التوائے مرگ“: حوزے ساراماگو کے ناول کا ترجمہ

ہم جب کسی ترجمے پر گفتگو کرنے یا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو پہلے پہل یہ معاملہ درپیش ہوتا ہے کہ ترجمہ اپنے اصل متن کے کس قدر قریب ہے۔ ”التوائے مرگ“ کے بارے میں اس حوالے سے جب میں نے اپنی رائے مرتب کرنے کے لیے حوزے ساراماگو کے ناول Death with Interruptions پر نگاہ کی، تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ کرنا میرے اختیار سے باہر ہے۔ وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی دانست

Read more

سوہنی مہینوال داستان: عورت کی سماجی بغاوت کی علامت

محبت کی لوک داستانوں کا رواج پوری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا میں موجود تھا۔ یہ رومانوی داستانیں سندھ، پنجاب، بلوچستان، ایران، عربستان، ہندستان اور دوسرے خطوں میں رائج تھیں۔ سندھ میں ان رومانوی داستانوں یا پیار کی لوک کہانیوں کو ایک کردار کی نسبت سے نیم تاریخی سمجھا جاتا ہے مگر ان داستانوں میں جن کرداروں کو تاریخی سمجھا جاتا ہے ان کی خود تاریخی صحت ہی درست یا قابل قبول نہیں۔ یہ بحث الگ ہے اور طول پکڑ جائے

Read more

ازل اک تیرگی ہے

نہ جانے مجھے یہ شوق کب سے تھا۔ شاید ہمیشہ سے ہی تھا۔ پتہ نہیں؟ ابا جان کی سرکاری نوکریوں کے نتیجے میں ہونے والی آئے روز کے تبادلوں نے ہی غالباً میرے اندر کے متجسس سیاح کو جنم دیا تھا۔ پتہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہماری فیملی اکثر شہر شہر نگر نگر گھومتی رہتی، کبھی کبھار تو ہمیں وطن عزیز کے ایسے دور دراز کے پسماندہ اور گمشدہ علاقوں میں بھی رہائش اختیار کرنا پڑی ہے جن کا

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی تصنیف: ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے نام دعا عظیمی کا کھلا خط مورخہ گیارہ مئی دو ہزار بائیس از لاہور پیاری طاہرہ جی نازاں و خنداں و فرحاں رہیں ہمیشہ سلام اور دعا! آپ کیسی ہیں؟ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ یاد آیا کہ آج اہم تاریخ ہے۔ ایک بڑے اور عظیم ادیب سعادت حسن منٹو کا یوم پیدائش ہے۔ مجھے آپ کو لکھتے ہوئے منٹو کیوں یاد آ گئے۔ بتائیے کہ آپ نے کراچی میں مئی کا جلتا ہوا

Read more

پاکستان کی عدالتوں میں ناصر کاظمی کا مقدمہ

مرزا غالب کے اس مقدمے کا بہت ذکر ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی پنشن کے حصول کے لیے لڑا۔ جدید زمانے کے شاعر ناصر کاظمی کو بھی ایک مقدمے کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ اپنی زندگی کے آخری گیارہ برس نبرد آزما رہے اور جو ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ نے مزید اکیس برس جھیلا۔ اس نے ہمیں ملک کی تقریباً ہر عدالت دکھائی؛ سیٹلمنٹ کے بعد ہائی کورٹ کے سنگل اور ڈویژن

Read more

خالد سعید: بالشتیوں میں سربفلک

موجودہ سیاسی و سماجی تناظر میں کثرت سے استعمال ہونے والی اصطلاح "بالشتیا” کے خالق پروفیسر خالد سعید 29 مئی کو اس دنیا سے سدھار گئے۔ وہ جب موجود تھے حتیٰ کہ جب وہ صاحب فراش بھی تھے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا کہ دنیا ان کے بغیر کیا ہو گی۔ اس بات کا احساس عین اس صبح کو ہوا جب ان کے جانے کی اطلاع ملی۔ یہ اطلاع گو غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی ناقابل یقین

Read more

محسن نقوی اور سید فخرالدین بلؔے فیملی داستان رفاقت (2)

سید محسن نقوی کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن ان کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہذا بحیثیت ایک شاعر انھوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947 ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے

Read more

خالد سعید: سادھاں دی گولی

(ایک مدھر تحریر جو مدھر ملک نے لکھی ہے۔ یہ ایک مدھر ہستی کی مدھرتا کی حکایت ہے) آج سے تقریباً اکیس برس پہلے میں نے فرسٹ ائر میں داخلہ لیا تو میرا بڑا بھائی ان دنوں بیک وقت ایم۔ اے اردو اور ایل۔ ایل۔ بی کر رہا تھا۔ اس نے مجھے مشورہ دیا کہ شماریات اور ریاضی جیسے واہیات مضامین چھوڑو اور کوئی باذوق مضامین پڑھو۔ ان باذوق مضامین میں ایک مضمون نفسیات بھی طے ہوا۔ انہی دنوں میری

Read more

شاعری

میں کہ ٹھہرا ایک چھوٹا موٹا شاعر (بقول احباب کے چھوٹا کم اور موٹا زیادہ) مگر جب اشعار پہ داد کم ملے یا نہ ملے تو تھوڑا بہت نثر پہ بھی ہاتھ صاف کر لیتا ہوں۔ شاعری ایک ایسا ہنر ہے کہ اس کی پذیرائی کی امید بہت ہی مخصوص طبقے سے کی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے جو صحیح شاعر ہیں وہ ہر جگہ شعر پڑھنے سے اجتناب برتتے ہیں۔ کبھی یہ خوف ہوتا ہے کہ سامعین کو

Read more

محسن نقوی اور سید فخرالدین بلے فیملی: داستانِ رفاقت (1)

پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب جیسے عظیم المرتبت اسکالرز اور ادبیات کے اساتذہ سے فیض پانے والے سید محسن نقوی کا پچھترواں یوم ولادت۔ 2022۔ کے کیلینڈر کے پانچویں مہینے کی پانچ تاریخ کو منایا جا رہا ہے۔ گویا کہ پروفیسر ڈاکٹر اجمل نیازی اور پروفیسر خالد سعید کی طرح اپنے آپ کو فخریہ طور پر پاکستان کا ہم عمر بتانے والوں میں سیدی محسن نقوی کا بھی شمار ہوتا ہے۔ ہمیں ان تمام

Read more

کے سرا سرا ( جو ہو گا سو ہو گا )

  کے سرا سرا Que Sera Sera ”یعنی جو ہو گا سو ہو گا“ ڈورس ڈے کا وہ گانا ہے جس نے 1950 کے عشرے میں کروڑوں لوگوں کے دل جیتے اور اب بھی موسیقی پسند کرنے والوں میں یہ گیت خاصا مقبول ہے۔ اسے الفرڈ ہچ کاک نے اپنی شاہ کار فلم ”دی مین ہو نیو ٹو مچ“ (THE MAN WHO KNEW TOO MUCH) میں شامل کیا اور جسے اداکارہ اور گلو کارہ ڈورس ڈے نے پیش کیا۔ ڈورس

Read more

اک ردائے سایہ فگن

جب ایک ماں پیار سے اپنی بیٹی کے بال سہلاتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کرتی ہے کہ تم میرا فخر ہو، میرا مان ہو، میری سب سے قیمتی متاع ہو، تو وہ اپنی بیٹی کے لیے کائنات کا ایسا روشن معتبر حوالہ بن جاتی ہے، جو بیٹی کے کردار میں پختگی، اعتماد میں مضبوطی اور شخصیت میں کسی مقدس نور کی مانند دمکتا ہے۔ جب ایک ماں اپنے ہاتھ سے بنے، محبت بھرے نوالے اپنے بیٹے کو کھلاتے

Read more

سندھ دیس کی دھرتی پر

محمد بن قاسم اور ذوالفقار علی بھٹو کی تصویریں ساتھ ساتھ لگائی ہوئی تھیں اس نے۔ دونوں تصویروں کے نیچے دو خوبصورت لڑکیوں کی تصویریں تھیں، ماتھے پر بندیا، ہونٹوں پر لالی، کانوں میں بالی، آنکھوں میں کاجل، گالوں پر گلال، ناک میں نتھ، جھکی جھکی نظریں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی کہ یہ ہندو لڑکیوں کی تصویریں ہیں۔ ویسی ہی لڑکیاں جو آج کل کی ہندوستانی فلموں میں ہوتی ہیں۔ لگتا تھا کسی نے ان لڑکیوں کو ماڈل

Read more

کینچلی چڑھا سانپ

نوید کی زندگی میں سب سے بڑا چھناکا تب ہوا جب کوئی اس کی تنہائیوں میں مخل ہو گیا لیکن یہ انجانے میں نہیں بلکہ مدہوشی کے ایک خاص وقفے کے تسلسل میں جانے بوجھے کو انجانے میں گنوانے سے ہوا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ وہ اپنی تنہائی کی یکسانیت سے اکتا کر ایکتا کو اس میں شریک کر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو سگریٹ کے مرغولوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن ایکتا نہ تو سگریٹ

Read more

سورج ٹوٹ سکتا ہے

نہ ہی تو وہ فرانز کافکا کی کہانی کے پشت کے بل پڑے ٹانگیں کلبلاتے ہوئے لال بیگ میں تبدیل ہوا تھا نہ ہی ند دنوں میں اس کے کمر پہ کوہان سا کب نکلا تھا۔ وہ یہ سب جانتا تھا مگر کرتا تو کیا کرتا، اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ انسان کی شکل میں امربیل ہے۔ کیونکہ وہ اپنی ضرورتوں کی فہرست کو خاصا پھیلا لیا کرتا، ان کی تکمیل کی غرض سے جس کا طفیلی ہوتا

Read more

سیماب اکبر آبادی: اردو کا نظریہ ساز شاعر

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں اردو کے کلاسیکی دور کے آخری شاعر سیماب اکبر آبادی کا یہ دلچسپ، پر تاثیر اور سلیس شعر خاص و عام کی زبان پر ہے۔سیماب کا زمانہ اردو شاعری میں نئے رجحانات و امکانات کا زمانہ تھا۔ سیماب اکبرآبادی 1880 میں آگرہ میں پیدا ہوئے، جو اس وقت اکبرآباد کے نام سے مشہور تھا۔اکبر آباد کی اس زمین نے سیماب سے پہلے بھی اردو

Read more

نصیبوں والیاں… اسد محمد خان کے قلم سے

صحت کے سلسلے میں بہت سوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ کچھ کے نہیں بھی ہوتے۔ ممند ریاض کا یہ تھا کہ سویرے جلدی اٹھنے والا بندہ تھا۔ روز وہ میونسپل پارک میں شبنم سے بھیگی گھاس پہ ننگے پاؤں ٹہل ضرور لگاتا تھا۔ کہتا تھا اس سے آنکھوں کی ”روشنیائی“ بہتر ہوتی ہے۔ خبر نہیں اس بہتر روشنی کو وہ گاہکوں کو پہچاننے، ان پہ کڑی نظر رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا یا اس کا مقصد اتنا سادہ

Read more

دیوان سنگھ مفتون

اکبر الٰہ آبادی کا ایک مصرعہ ہے۔ جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو گزشتہ صدی میں بیس تا پچاس کی دہائیوں کے درمیان تقریبا ً  33 سال تک اس کلیۓ پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ ایک شخص نے کچھ ایسی ہلچل مچاۓ رکھی کہ ان  کی مثل کوئی اور مہتاب آسمانِ صحافت پر ایسی دھج سے ایک بڑے عرصہ تک پھر نہ چمکا۔ دیوان سنگھ مفتون کا آبائی تعلق( ضلع )حافظ آباد سے تھا۔آپ بس پرائمری تک ہی تعلیم حاصل

Read more

اُردو اور ہندی کے باکمال شاعر گوپال داس نیرج

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے جس میں انسان کو انسان بنایا جائے صرف یہ اک شعر ہی اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ گوپال داس نیرج ایک انسان دوست شاعر تھے اور ہر قسم کی فرقہ واریت اور منافرت سے بالا تر تھے۔ افسوس کہ اردو اور ہندی کے یہ باکمال شاعر 19 جولائی 2018 کو اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ گو کہ ان کی عمر ترانوے سال تھی وہ نوے سال کی عمر

Read more

محبت، جنگ اور واپسی

بڑھتی ہوئی عمر کے تقاضے میں جب میرے دونوں گھٹنے حد سے زیادہ تکلیف دینے لگے تو میں نے اور میرے بچوں نے متفقہ طور پر یہی فیصلہ کیا کہ انہیں تبدیل کروا لیا جائے۔ پہلے گھٹنے کی دفعہ میں امریکہ کے شہر بالٹی مور میں تھی لہذا وہیں کے مشہور و معروف ہڈیوں کے سرجن سے اپائنٹمنٹ لی اور دل ہی دل میں ہمت باندھی۔ کیونکہ ڈر تو لگ ہی رہا تھا۔ یہ ڈاکٹر سود انڈین تھے۔ بات چیت

Read more

پروفیسر صاحب

پروفیسر خالد سعید بھی چلے گئے. ایک عالم کی رحلت ہوئی. شہر خالی ہوتا چلا جا رہا ہے. ان کے ساتھ ایک نشست کا احوال چند برس پہلے قلم بند کیا تھا جو میری کتاب "ادھوری کہانیاں” میں شامل ہے. دیکھئے کیسی قیمتی شخصیت ہم سے جدا ہوئی ہے۔ ٭٭٭      ٭٭٭ جناب خالد سعید سراپا پروفیسر ہیں ’از موئے سر تا بہ انگشت ہائے پا۔ ہمہ وقت کھلے ہاتھوں سے علم بانٹتا ہوا پروفیسر۔ ان سے مل کر اور ان

Read more

یہ کوئی کتاب نہیں

محمود الحسن کو میں نے ادیب یا صحافی کے بجائے ادب کے ایک پُر شوق اور بے مثال قاری کے طور پر جانا۔ کوئی دس بارہ سال پہلے، اُن سے ملاقات ہوئی، آصف فرّخی نے تعارف کرایا، اور وہ مجھے بھا گئے۔ اس کا روباری دنیا میں ادب سے ایسا عشق! طبیعت میں اتنا ضبط اور ٹھیراﺅ! پھر تو جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور محمود الحسن سے ملاقاتیں یا باتیں ہوتی گئیں، میرے دل میں ان کی قدر بڑھتی

Read more

فیض احمد فیض:عشق بن یہ ادب نہیں آتا

فیض صاحب کے شاعرانہ انداز فکر کی ایک دنیا اسیر ہے۔ ان سے محبت کرنے والوں کے کئی درجے ہیں۔ ایک تو ان کی شاعری کے مداح ہیں۔ ان کے لب و لہجہ کے اسیر، فارسی، عربی و ہندی کی آمیزش سے بنی اردو زبان کے رسیا۔ دوسرے ان کے فکری و فنی رعنائیوں سے سجے رومانوی تصور عشق کے عاشق اور تیسرے فیض کی شاعری میں موجود انسانی آزادی اور سیاسی اور انقلابی شعور کے قصیدہ گو اور ثناخواں۔

Read more

سمرسٹ ماہم کی ایک کہانی : Mr. Know-All

ترجمہ: شاہد اختر پتہ نہیں کیوں مجھے کچھ لوگوں کو دیکھتے ہی ان سے نفرت ہو جاتی ہے۔ بلکہ کچھ سے تو بغیر دیکھے ہی۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے کیبن کا شریک کوئی میکس کلاڈا نام کا شخص ہے تو یہ سن کر ہی مجھے گھن سی آئی۔ اگر کوئی مسٹر سمتھ یا مسٹر براؤن ہوتا تو الگ بات تھی۔ لیکن کلاڈا؟ یہ تو نام ہی سے کوئی چھٹا ہوا بدمعاش لگتا تھا۔ کہیں کا بھی ہو، انگریز

Read more

تفہیم دانائے راز : اقبال شناسی از ڈاکٹر منظور احمد

علامہ محمد اقبال بلاشبہ ایک انقلابی و ارتکازی شاعر، مفکر اور فلسفی تھے۔ آپ کے تمام تر نظریات جس قدر پر مغز اور پر تاثیر ہیں اسی طرح نزاعی بھی ہیں۔ آپ کے نظریات پر مختلف ادوار میں مختلف پہلوؤں پر تنقید کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور تفہیم اقبال کے باب میں اب تک کئی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جہاں ناقدین کی اکثریت اقبال سے اتفاق کرتی اور ان کی رطب السان نظر آتی ہے وہیں

Read more

کفارہ

لڑکوں نے اسے مار مار کر ادھ مرا کر دیا تھا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ ”حرام زادے قائداعظم کو گالی دیتا ہے!“ میں نے اسے پہلی دفعہ قائداعظم کے مزار کے سامنے بری طرح سے پٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں بندر روڈ سے مڑ کر آغا خان اسپتال جا رہا تھا کہ میری نظر ان لوگوں پر پڑی تھی۔ میں جلدی میں تھا مگر بے ساختہ گاڑی روک کر اتر پڑا۔ اس بے دردی سے میں

Read more

علامہ اقبال کی نظم ہمدردی میں مذہبی پیغام

مصنف: ڈینس لائی ہانگ ہوئی اور اصغر بشیر نظم ”ہمدردی“ عصری اردو ادب میں ایک مقبول بحث کی طرف اشارہ کرتی ہے : علامہ اقبال کی بہترین نظم کون سی ہے؟ اگر چہ یہ سوال آسان نہیں ہے، لیکن کچھ اچھی نظمیں اس خطاب کی امیدوار ہیں۔ مثال کے طور پر مسجد قرطبہ فکری نفاست اور شاعرانہ جمالیات کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔ لہٰذا کچھ ادبی نقاد اس نقطہ نظر پر یقین رکھتے ہیں کہ فنی نفاست ادبی جمال

Read more

اپنے ہی ملک میں زباں نابلد

شاید آٹھ برس پہلے ماسکو کے ایک پاکستانی ریستوران میں پاکستان کی کوئی قومی تقریب تھی جس میں ہندی رقص کرنے والی روسی لڑکیوں کا ایک طائفہ اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی خاطر بلایا گیا تھا۔ ان رقاص لڑکیوں کے ساتھ ایک طرار نوجوان خاصا شیرو شکر تھا جس کا نام بعد میں راشد معلوم ہوا تھا اور یہ کہ وہ طب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ جب میں 2019 میں روس سے آ کر اپنی آپ بیتی

Read more

کیا اقبال اور فیض نوبل ادب انعام کے لیئے نامزد ہوئے تھے؟

اس تحریر کا مقصد اقبال اور فیض کے ادبی قد کاٹھ کو بڑھانا یا کم کرنا نہیں ہے اور نہ ہی اس بحث کو طول دینا ہے کہ یہ ادیب نوبل انعام کے حق دار تھے یا نہیں۔ یہاں صرف نوبل ادب انعام کی آرکائیو سے کچھ حقائق پیش کیے جا رہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں رابندر ناتھ ٹیگور اب تک واحد ادیب ہیں جنہیں 1913ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

Read more

اقبال کی انقلابی آرزو مندی

علامہ اقبال عہدِ حاضر کے نامور آفاقی شاعر اور فلسفی تھے۔ ” مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر”  اُن کا وظیفۂ عمل تھا۔ ان کے زمانے کا مشرق مغربی استعمار کا صیدِ زبوں تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے انقلابی سفر کا آغاز سیاسی اور تہذیبی غلامی کے تہ در تہ اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مشرق کی تاریک فضاؤں میں اپنی قندیلِ نوا روشن کر رکھی تھی: اندھیری

Read more

سیج کنارے

ثوبیہ ایک نوجوان ڈاکٹر ہے یا یوں کہئیے کہ ثوبیہ ایک ڈاکٹر تھی۔ خوش مزاج، خوش لباس، شکل سے خوش، ثوبیہ نے اپنے گھر کے قریب ہی کلینک کھولنا تھا۔ اپنے تئیں اس نے جگہ بھی دیکھ رکھی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنے بل بوتے پر کیے جانے والے کام کا لطف ہی اور ہوتا ہے۔ کلینک کے ماتھے ہر اپنا چمکتا ہوا نام لکھوانے کی تمنا کیے ثوبیہ جو کہ ڈاکٹر تھی کی یہ آرزو صرف اس لئے

Read more

بے حیائی کی حد

فاروق احمد نے تو بے حیائی کی حد ہی کردی تھی۔ جوان بیٹے، بہو اور بیٹیوں کے ہوتے ہوئے نکاح ثانی کی خواہش کا اظہار کر کے بڑھاپے میں اپنی اور خاندان کی عزت کا جنازہ ہی نکال دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ مرد کی عزت، لڑکی بالی کی طرح ململ کی چنری نہیں ہوتی کہ کانٹوں بھرے رواجوں سے تار تار ہو جائے، لیکن پھر بھی کچھ حدود و قیود کا خیال تو مردوں کو بھی رکھنا پڑتا

Read more

عربی ادب کا ’’ عہد جاہلیت‘‘ اور جون ایلیا

اردو زبان کے وجود میں آنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہ یہ کیسے وجود میں آئی اور اس زبان کی تخلیق میں کتنی ہی زبانوں کی آمیزش ہے ۔ جہاں تک عربی اور فارسی کی بات ہے تو ان زبانوں کے الفاظ اردو زبان میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود اردو زبان بولنے کا انداز ’’دیسی ‘‘ طرز میں رہا، یہ غالباً اس لیے ہوا کہ اردو زبان خود کو بر صغیر پاک و ہند کی ریاستی زبانوں کے رنگ میں رنگنے سے باز نہیں رکھ سکی اور ایسا ہونا ایک فطری تقاضا بھی تھا ۔

Read more

مختصر ڈرامہ: "ایک تھا سہیل

منظر 1 مقام۔ گھر کا صحن۔ وقت۔ ڈھلتی شام کردار۔ سہیل ( 25۔ 30 ) سال کا نوجوان ڈھلتی شام کا وقت ہے، آسمان پر شفق پھیلی ہے۔ پرندے اڑ رہے ہیں۔ لوئر مڈل گھر کا صحن۔ بیرونی دروازہ کھلتا ہے سہیل بائیک ہاتھ سے دھکیلتا داخل ہوتا ہے۔ بائیک دیوار کے ساتھ کھڑی کرتا ہے۔ بائیک نئی نویلی ہے۔ سہیل ایک خوش شکل اور خوش لباس آدمی ہے۔ سہیل۔ سلام اماں اماں کی آواز۔ وعلیکم سلام میرا بچہ، منہ

Read more

ہماری زبان میں ایک حرف ہے ٹ

ہماری زبان میں ایک حرف ہے ٹ، نہ جانے کیوں ٹ ذہن میں آتے ہی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اسی کے ذریعے سے ہم کسی چیز کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں یعنی ٹائیں ٹائیں فش۔ اسی سے باتیں ٹالی جاتی ہیں اور اسی کے ذریعے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو آپ صرف ٹٹول کر دیکھیں گے تو آپ اس کا پورا ادراک نہیں کر سکتے یعنی ادھورے پن کا احساس رہ

Read more

حسینہ کی سوتن

حسینہ اگر کچھ بہتر حالات میں پرورش پاتی تو شاید اپنے نام کی کچھ لاج رکھ لیتی مگر غربت اور افلاس نے شکل و صورت اور جسم کو وہ اٹھان نہ بھرنے دی جو اسے حسین کہلواتی۔ اس کے چہرے پر صرف آنکھیں ایسی تھیں کہ اگر ان پر غور کیا جاتا تو شاید کچھ تیراک پیدا ہو جاتے۔ جوانی کی منڈیر پھلانگتے ہی ماں باپ نے کھونٹے کی گئیا کھولی اور بشیرے کے تھان پر باندھ دی اب وہ

Read more

سلطنت مغلیہ کی کابینہ کا آخری اجلاس

آج سلطنت مغلیہ کے دور ارطغرل ثانی کی کابینہ کا آخری اجلاس دیوان خاص میں منعقد ہواء۔ جس کی صدارت سلطنت مغلیہ کے بلا شرکت غیرے آخری وزیراعظم ارطغرل ثانی، غازی ال پارلیمان سلطان کپتان خان المعروف استاد جی نے کی۔ اجلاس کے شروع میں وزیر اطلاعات و نشریات باتو خان نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں حکومت کی کارکردگی ہر محکمے میں انتہائی اعلی رہی۔ انہوں نے اپنے محکمے کے اعداد و شمار ثبوت کے طور پر

Read more

بارہواں کھلاڑی کھیلن کو مانگے چاند

ڈیئر پروفیسر، سلام ہمیں علم ہے کہ آپ جواب دینے سے کتراتے ہیں کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ کم سے کم سوال پوچھیں پر ہم بھی کیا کریں کہ یہ تمام سوال تو ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ سوال وہی ہیں پرانے گھسے پٹے۔ نہ ہماری آرزوئیں بدلتی ہیں نہ ہمارے سوال۔ سوالوں کی ان گتھیوں کو کوئی اہل علم ہی سلجھا سکتا ہے، آپ سے بڑھ کر اور کون ہو گا؟ ہم سے پہلی نسلیں بھی یہی سوال

Read more

ڈاکٹر عظمیٰ سلیم۔ با کمال انسان۔ لاجواب استاد

ہم اساتذہ کے معاملے میں شروع سے ہی خوش نصیب رہے ہیں (1) ۔ پرائمری سکولنگ کی ابتدا سے ہی ہمیں بے حد چاہنے والے اور بہت خیال رکھنے والے اساتذہ نصیب ہوئے۔ یہ سلسلہ ہائی سکولنگ تک جاری رہا مگر اس کے بعد ہم باقاعدہ تعلیمی سلسلے کو بوجوہ جاری نہ رکھ سکے اور اس طرح ایف اے سے ایم اے تک اساتذہ کے دست شفقت سے محروم رہے۔ اس طویل محرومی کے بعد 2013 ء میں ایم فل

Read more

کتاب کا المیہ

کچھ دن پہلے اپنے کسی کام سے لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو مال روڈ پر واقع ماورا پبلشرز جا کر خالد شریف کے پاس حاضری دی۔ خوش قسمتی سے مقبول شاعر محبوب ظفر بھی وہاں موجود تھے۔ دونوں شاعر سکردو آ چکے ہیں اور انہیں لانے کا سہرا میر اسلم سحر کے سر ہے۔ کچھ دیر تک سکردو کی خوبصورتی اور مہمان نوازی پر گفتگو رہی اور پھر دور حاضر میں کتاب بینی کے رجحانات کی طرف موضوع کا

Read more

وہ زندہ تھا یا مر چکا تھا

میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور کاغذ قلم نکال کر کچھ لکھنے ہی والا تھا کہ اچانک وہ آن دھمکا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ انتہائی خوف زدہ لگ رہا تھا۔ میں نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”کیا ہوا؟“ اس نے میرے ہاتھ سے قلم اور کاغذ لے کر سائیڈ پر رکھا اور ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔ ”میں بہت پریشان ہوں۔ کوئی مجھے مارنا چاہتا ہے۔“ میں نے پانی کا ایک گلاس اسے

Read more

مسجد قرطبہ اور اقبال

مسجد قرطبہ میں علامہ محمد اقبال انسانی وجودیت کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے اسلامی کے نشیب و فراز پر عشق، ایمان اور فن کی روشنی میں اپنی وجود اور ہونے کا اظہار کرتے میں۔ مسجد قرطبہ کی تاریخ جغرافیہ بے حد تہہ دار ہے جس میں مسلمانوں کی سربلندی اور ثقافت کی زینت کو مغربی ثقافت اور منافقت میں چھپانے کی کوشش کی گی ہے۔ اقبال ایک مسلمان شاعر کے طور پر مغرب کے ثقافتی تشدد کو دیکھ کر دکھ

Read more

غالب کے ناقدین کی نظر میں ان کا مسلک

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ لکھیں شاید مر گیا غالب آشفتہ نوا کہتے ہیں مولانا الطاف حسین حالی نے یادگار غالب میں مرزا کے سفر آخرت کا بیان اس طرح کیا ہے۔ ”مرزا کے جنازے پر جب دلی دروازے کے باہر نماز پڑھی گئی تو راقم بھی موجود تھا اور شہر کے اکثر عمائد اور ممتاز لوگ جیسے نواب ضیاء الدین احمد خان، نواب محمد مصطفے خان، حکیم احسن اللہ خان وغیرہ۔ ہم اور بہت سے اہل سنت اور امامیہ

Read more

پاکستان میں اردو الفاظ کے غلط ہجے اور تلفظ

جب ایک تقریب میں ایک انتہائی پڑھے لکھے شخص کی زبان سے لفظ ”صفت“ میں ”ف“ کو جزم کے ساتھ بولتے سنا اور تسلسل سے سنا تو حیرت ہوئی۔ حالاں کہ ”ف“ کو زبر کے ساتھ پڑھنا درست تھا۔ یعنی صف۔ ت کی بجائے ص۔ فت اہل پنجاب ”زبر“ کے ساتھ بہت جبر کرتے ہیں۔ اسے اکثر مقامات پر زیر اور پیش کی جگہ لے آتے ہیں۔ اس ”گناہ“ میں دیہاتی لوگوں کے علاوہ شہروں میں رہنے والے لوگوں کی

Read more

ہاشم شاہ ایک درویش صفت پنجابی شاعر (1)

سید محمد ہاشم شاہ جسے عام طور پر ہاشم شاہ ( 1735۔ 1843 ) کے نام سے جانا جاتا ہے، ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ کے سب سے بڑے گاؤں جگدیو کلاں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجابی، فارسی، ہندی اور اردو میں لکھا۔ ان کی پنجابی شاعری میں قصہ ( سسی پنوں۔ سوہنی مہینوال۔ ہیر رانجھا اور شیریں فرہاد) ، ڈیوڑھی، سی حرفیاں، مناجات، دیودھن، منجھے اسرار (سی حرفیاں ) اور بارہ ماہ شامل ہیں۔ ہاشم شاہ نے حکمت،

Read more

منکے کی تلاش

ہر کسی کی زندگی میں بہت سے ایسے کردار ہوتے ہیں جن سے ہم دل کی بات کبھی زبانی یا کبھی لکھ کر کرتے ہیں۔ ایسی بات جو ہر کسی سے نہیں کی جا سکتی۔ پروفیسر بھی ایک ایسی ہی شخصیت ہے۔ وہ بہت کم اور مختصر جواب دیتے ہیں مگر بات سن ضرور لیتے ہیں۔ بات کہی نہ گئی، بات سنی نہ گئی یہی تو عام انسانوں کا المیہ ہے۔ ہم نے انہیں بہت سے خطوط لکھے ہیں ان

Read more

قادر الکلام شاعر و مترجم ’آذر‘ نایاب صدیقی بدایونی کی 18 ویں برسی

سندھی ادب، موسیقی خواہ دیگر سماجی علوم کے میدان میں یہ بات کوئی ان ہونی، نئی یا حیران کن نہیں رہی، کہ ایسے تخلیق کاروں نے بھی سندھ کی مانگ سجائی ہے، جن کی مادری زبان سندھی نہیں رہی۔ اگر ہم سر اور سنگیت کی دنیا میں دیکھیں تو ہمیں سندھ میں پیدا ہونے والے گوالیار گھرانے کے ہر فرد سے لے کر (بشمول استاد منظور علی خاں، فتح علی خاں، وحید علی اور رجب علی) ، سینگار علی سلیم

Read more

عورت کا سرطان

”بچہ دانی کے منہ کا کینسر مسلمان اور یہودی عورتوں کو بہت کم ہوتا ہے، پتا ہے کیوں؟“ میرے باس نے سوال کیا تھا اور میرے جواب سے پہلے وہ خود ہی بول پڑا تھا۔ ”اس لئے کہ مسلمان اور یہودی دونوں ختنہ کراتے ہیں اور دونوں ہی مذہب کے ماننے والوں میں جنسی بے راہ روی کم ہے۔ تمہیں تو پتا ہے ناں کہ بچہ دانی کے منہ کا کینسر جو ان عورتوں کو ہوتا ہے۔ تیس سے پینتیس

Read more

نو سال اور نو خط

حسن کوزہ گر وہ نو سال جو تم نے جہاں زاد کی انکھوں کی تابناکی کی حسرت میں دیوانہ بن کر اپنے سوکھے تغاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے گزار دیے۔ میں نے بھی اپنے جہاں زاد کو نو خط لکھے۔ ہر خط میں لکھے ہر لفظ نے میری محبت کی گواہی دینے کو جہاں زاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ نہیں معلوم کہ وہ نو خط اس دنیا کے کس ملک کے کس کونے میں بیٹھ کر پڑھے

Read more

حارث خلیق :حیراں سر بازار

حارث خلیق کی شاعری کی نئی کتاب ”حیراں سر بازار“ نے میری رات کی نیند خراب کر رکھی ہے۔ دن میں پڑھنے کا موقع نہیں ملتا اور رات کو پڑھ کر سویا نہیں جاتا چونکہ مجھے فاقہ زدہ نو سال کا یتیم موچھا استاد سے پٹتا، پرانی مار کے نشان پر دوسری چوٹ کھاتا نظر آتا ہے، میں نے اسے یا اس کے کسی بھائی کو کراچی کے ایک پٹرول پمپ پر تھپڑ کھاتے کبھی دیکھا تھا، اور اب بھی میں

Read more

خواب کی کھڑکی سے جھانکتی لڑکی

بادل گرجا اور اس کے ساتھ ہی بجلی چمکی تھی۔ اچانک ایک احساس نے مجھے چوکنا کر دیا۔ کسی ہیولے کا شائبہ تمام حسیات کو بیدار کرنے کے لیے کافی تھا۔ میں نے کھڑکی کے شیشے پر نگاہیں جما کر پار دیکھنے کی کوشش کی۔ کچھ دکھائی نہ دیا جب کہ چند لمحے پہلے مجھے واضح طور پر کسی وجود کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ پندرہ بیس منٹ پہلے بارش شروع ہوئی تھی اور اب اس کی شدت بڑھتی

Read more

مرزا چپاتی – اشرف صبوحی کے قلم سے

خُدا بخشے مرزا چپاتی کو، نام لیتے ہی صورت آنکھوں کے سامنے آگئی۔ گورا رنگ، بڑی ہوئی ابلی ہوئی آنکھیں، لمبا قد شانوں پر سے ذرا جھکا ہوا۔ چوڑا شفّاف ماتھا۔ تیموری ڈاڑھی، چنگیزی ناک، مغلئی ہاڑ۔ لڑکپن تو قلعے کی درودیوار نے دیکھا ہوگا۔ جوانی دیکھنے والے بھی ٹھنڈا سانس لینے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ڈھلتا وقت اور بڑھاپا ہمارے سامنے گزرا ہے۔ لٹے ہوئے عیش کی ایک تصویر تھے۔ رنگ روغن اترا ہوا محمد شاہی کھلونا تھا جس کی کوئی قیمت نہ رہی تھی۔

کہتے ہیں کہ دلّی کے آخری تاج دارظفر کے بھانجے تھے۔ ضرور ہوں گے۔ پوتڑوں کی شاہ زادگی ٹھیکروں میں دم توڑ رہی تھی، لیکن مزاج میں رنگیلا پن وہی تھا۔ جلی ہوئی رسّی کے سارے بل گن لو۔ جب تک جیے پرانی وضع کو لیے ہوئے جیے۔ مرتے مرتے نہ کبوتر بازی چھوٹی، نہ پتنگ بازی۔ مرغے لڑائیں یا بلبل، تیراکی کا شغل رہا یا شعبدے بازی کا۔ شطرنج کے بڑے ماہر تھے۔ غائب کھیلتے تھے خدا جانے غدر میں یہ کیوں کر بچ گئے اور جیل کے سامنے والے خونی دروازے نے ان کے سر کی بھینٹ کیوں نہ قبول کی؟ انگریزی عمل داری ہوئی۔ بدامنی کاکوئی اندیشہ نہ رہا تو مراحمِ خسروانہ کی لہر اٹھی۔ خاندانِ شاہی کی پرورش کاخیال آیا، پینشنیں مقرر ہوئیں۔ مگر برائے نام۔ ساڑھے تیرہ روپے مرزا چپاتی کے حصے میں آئے۔ اللہ اللہ کیا زمانے کا انقلاب ہے۔ ایک ذرا سے چکر میں تقدیر ہزار قدم پیچھے ہٹ گئی۔

Read more

شہزادی ثریا جہاں بخت

لشکروں نے اس بار جہاں پڑاؤ ڈالا تھا اس میدان کے ایک طرف گھنا جنگل تھا۔ دشمن تمام حدوں کو توڑتا اور رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔ شہر کی فصیل سے کچھ میل دور دستگیر عالم شاہ کے لشکر نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ اس بار مقابلہ چپٹی ناک اور سوجی ہوئی آنکھوں والی مخلوق سے تھا۔ ان کے بارے میں خلق خدا نے عجیب و غریب باتیں مشہور کر رکھی تھیں کہ یہ بہت ظالم

Read more

فیدور دوستوئیوسکی کی ایک کہانی: رشوت

”آگے آگے آ جائیں سب لوگ۔ تاکہ سب کو آواز ٹھیک سے پہنچے۔“ میں اس شخص کو بھر پور تجسس سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے خد و خال عجیب سے تھے۔ پرکشش بھی لیکن مضحکہ خیز بھی۔ اس کی بٹن جیسی حساس آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اسے معلوم ہے کہ وہ بہت سی نگاہوں کا مرکز ہے۔ وہ ایک جھٹکے سے باری باری سامعین کی طرف مڑتا۔ یوں لگتا جیسے کوئی پتلی ناچ رہی ہے۔ کھاتے پیتے گھرانوں

Read more

بائیں بازو والوں نے تاریخ کو پڑھنے میں بار بار غلطی کی

ہمارے دوست محمود الحسن زندگی کی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ دو ٹوک سچ اور دوست نوازی کا ایسا امتزاج مشکل ہے۔ آج محبی ڈاکٹر وسیم رضا گردیزی (گورنمنٹ زمیندارہ کالج گجرات میں صدر شعبہ پنجابی زبان و ادب ہیں اور درویش کے یکے از دوستاں میں شمار ہوتے ہیں) کے حکم کی تعمیل میں ادھر ادھر کی گرد پھانک رہا تھا کہ محمود الحسن کی ایک شفقت ہاتھ آئی۔ فروری 2014۔ آٹھ برس بیت گئے۔ بیت گئے ہیں کئی

Read more

ڈپٹی کمشنر

پاکستان میں اکثر سنجیدہ مباحث کی شہ ضرب عمدہ گورننس کا فقدان ہوتی ہے۔ عمدہ گورننس کے لیے اہم ترین لازمہ تو اس معاشرے ہی کے افراد ہوتے ہیں لیکن ان افراد کو سینت سنبھال کر ایک سسٹم رکھتا ہے۔ یہ سسٹم اداروں کی مدد سے پروان چڑھتا ہے۔ مسلم معاشروں میں بہت طویل عرصے سے زوال کا باعث افراد کا اداروں پر غلبہ ہے۔ یورپ نے یہ راز بہت پہلے جان لیا کہ افراد کو اداروں پر قربان کرنے

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ(9)

تحریر: علی حیدر علوی تصنیف : Laocoon لاؤکون مصنف: گوٹ ہولڈ اپیرم لیسنگ Gotthold Ephraim Lessing ہر عہد میں روشن خیال اور فطرت پرست اذہان کی ہونے والی سمع خراشی نے پسماندہ و غیر فطری نظریات پر سوالات کے ایسے نیزے پھینکے ہیں کہ وہ نظریات تاریک ماضی کا حصہ ہو گئے۔ روشن خیال عہد Enlightenment Age میں جہاں علم کے نام پر الہامی نظریات کی خامیاں اجاگر کی گئیں وہیں ادب کو بھی غیر منطقی اور صنعت تصنع کے

Read more

یعقوب شاہ غرشین کی افسانہ نگاری

  یعقوب شاہ غرشین 1964 ء کو ضلع پشین میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو اور پشتو دونوں میں لکھتے ہیں۔ افسانے، رپورتاژ، اور سفرنامے لکھنے کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی مشق سخن کرتے ہیں۔ زیر نظر تحریر میں موصوف کے افسانوی مجموعے ”بازگیر“ پر ایک اجمالی نظر ڈالی گئی ہے۔ بازیگر میں کل 14 افسانے ہیں۔ اکثر افسانوی کرداروں اور موضوعات کو پاکستانی اور پشتون معاشرے سے مستعار لیا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے جو کچھ دیکھا ہے، وہی

Read more

ایک ممنوعہ موضوع سیکس پر بات

ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ ہم زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مذہبی رہنماؤں نے اپنے عقیدے اور تصورات کچھ اس طریقے سے ہم پر مسلط کیے ہیں کہ ہم اب تک ان سے آزاد نہیں ہوئے۔ ہمارے معاشرے میں سیکس سے متعلق گفتگو کرنا ایک ممنوعہ چیز ہے، ایک ٹیبو ہے۔ ہم نے کبھی سوچا کہ زندگی جس فعل سے وجود میں آتی ہو، وہ ناپاک کیسے ہو سکتا ہے۔

Read more

چلغوزے کا فراموش

جانے یہ لفظ کھڑی بولی (دلی کی بولی) سے آیا یا پڑی بولی (لکھنو کی بولی ) سے، لیکن قدیم اردو میں بھی اس کے استعمال کے شواہد ملتے ہیں۔ کبھی کبھار پھل خریدتے ہوئے آپ نے دو پھل جڑے ہوئے دیکھے ہوں گے ایسے جڑواں پھل کو فراموش کہتے ہیں۔ فراموش سے جڑی ایک دلچسپ رسم ”یاد فراموش یا چناغ“ ہے۔ فریقین میں طے پاتا ہے کہ جب کسی فریق کو جڑواں پھل دیا جائے اور اس سے پہلے

Read more